ہر بار سوچتا ہوں کہ اس بار عید بھی مناؤں گا اور عید پر کالم بھی لکھوں گا ۔ ہر بار ارادہ نیکی کی نیت کی طرح ہو کر رہ جاتا ہے جو بڑی آسانی سے پورے جوش و خروش کے
ساتھ باندھا جاتا ہے لیکن نیکی کی مسلسل نیت باندھے رکھنے جیسا مشکل ترین کام بن کر رہ جاتا ہے ۔ سو میرا یہ ارادہ کہ عید پر کالم لکھوں بوجہ کئی وجوہات کے کبھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا ۔
اس کالم کا سارا کریڈٹ بھائی حسین افسرکو جاتا ہے جو نجانے کیوں بیٹھے بٹھائے تہذیب و تمدن کے امین لکھنؤ جیسے مرم خیز شہر سے ایسی فرمائش کر دیتے ہیں کہ مجھ جیسا بندہ بھی حیرانگی کے ساتھ کہہ اٹھتا ہے کہ میرے بھائی آپ کوایسی فرمایئشوں کے علاوہ کوئی اور کام نہیں ہے کیا ۔
لیکن کیا کریں جب محبت نباہنا ہی ٹھہرا تو کیا بہانہ ہو ۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ محبت نباہنااور وہ بھی حسب موقع اور ایسے حالات میں جب زہن متفکر اور بکھرا بکھرا سا ہو واقعی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔
حسین افسر بھی بس ایسے ہی افسر ہیں جیسا میں ھمہ دانی ہوں اور ہمارے ان بھائی کاتعلق ایسے قبیل سے ہے جو صرف محبت ہی کرنا نہیں جانتے بلکہ اسے نباہنا بھی جانتے ہیں ، اور ان کی یہی عادت ہمیشہ میری اسیری کی وجہ رہی ہے اور یہ کالم انہی کی وجہ سے ایسے وقت میں لکھ رہا ہوں جب میں بند آنکھوں سے بھی دنیا کےنقشے پر مسلمانوں میں پھیلی بےچینی اور بےسکونی محسوس کر سکتا ہوں ۔
بات ہو رہی تھی کہ عید الفطر پر کہ کچھ لکھ دوں ۔ ہر دفعہ یہی سوچتا ہوں کہ اس بار پاکستان سے باہر کیا ہو رہا ہے اس پر لکھوں گا۔ اب یہ سوچ رہا ہوں کہ کہ پاکستان کے باہر کیا لکھوں ؟ کیا یہ لکھوں کہ دنیا بھر میں عید کس روز ہو گی یا یہ لکھوں سب احباب اپنے اپنے وطن ثانی میں عید کیسے منائیں گے ؟ ۔ لیکن کیاکروں ہر بار کی طرح نظریں پاکستان پر ٹک جاتی ہیں ۔ بارہا یہ بھی سوچتا ہوں کہ کبھی اگرجو پاکستان کے حالات اچھے ہو گئے تویار دوستو کی طرح میں بھی پھر کس موضوع پر لکھا کروں گا ۔
لیجیئے باوجود کوشش کہ اس عید کے موضوع کومیں پاکستان لے کر آگیا ہوں ۔ یہ بات اب کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ دنیا میں جتنے بھی مسلمان رہتے ہیں بلا تفریق کہ کس ملک میں رہتے ہیں وہ تین عیدوں میں سے ایک عید مناتے ہیں ۔ایک وہ عید جو مسلمان سعودی عرب اور ایران کے ساتھ کرتے ہیں ۔ ایک عید جو یورپ ،آسٹریلیا اور دوسرے خطوں میں منائی جاتی ہے اور تیسری عید وہ جو خالصتا صرف اور صرف پاکستان میں منائی جاتی ہے ۔
پاکستان میں منائی جانے والی عید کی دوخاص باتیں ہیں ۔ پہلی بات یہ پاکستان میں منائی جانے والی عید زیادہ تردنیا کے کسی اور خطے کے ساتھ مل کرنہیں مانئی جاتی اور دوسری بات یہ کہ پاکستان میں رہنے والے لوگ بھی ایک دوسرے کے ساتھ ایک دن پر متفق ہو کرعید نہیں مناتے ۔
عید پر نا اتفاقی عید کے چاند سے شروع ہوجاتی ہے جس پر اخبار کے ایڈیٹر کی طرح کوئی مولوی ایک دوسرے سے متفق ہونا ضروری نہیں سمجھتا ۔ جانے کیسے پاکستان کے سارے صوبوں میں صوبہ سرحد کا چاند ھمیشہ ایک دن پہلے نکل آتا ہے ۔کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے جیسے اگر سارے پاکستانی مل کر ایک کام کریں گے تو وہ ایک غلط کام کی طرح باعث تعزیر ھو جائےگا ۔ یکجہتی کی سزا سے بچنے کی خاطر پاکستانی قوم کہیں کسی سر زمین پر بھی کوئی کام مل کر نہیں کرتی ۔
پرانے وقتوں کی پرانی باتیں کہ بزرگ احباب کہا کرتے تھے کہ عید تو بچوں کی ہوتی ہے ۔ نئے وقتوں کی نئی باتیں عید اب بچوں کی بجائے بوڑھے بڑوں کی ہونے لگی ہے ۔ جن میں سرفہرست پاکستان کے حکمرانوں کی عید آتی ہے ۔ یوں تو ان کی کئی برسوں سے آزاد عدلیہ سے اقربا پروری میں ہر رات شب برات اور ہر دن عید کا دن ہے ۔ لیکن جب سارے خاص و عام عید منا رہے ہوں تو پولیس و رینجرز کو کھلا چھوڑنے سے ان کی عید میں مزید چار چاند لگ جاتے ہیں ۔
عید پر ایک اور رسم ہوتی ہے “عیدی “ لینے اور دینے کی ۔ امسال تو پاکستانی حکمران عید سے پہلے ہی “ امریکن عیدی “ وصول کرنے میں لگے رہے ۔ کہیں عوام کے خون کی عیدی سوات اور دیر سے لے رھے ہیں توکہیں اس کے پسینے کی عیدی ہر شہریوں سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی صورت میں وصول رہے ہیں۔ پاکستانی حکمرانوں کی اتنی مصروفیت کبھی دیکھی نہ سنی کہ دن رات کے اس محنت مسلسل نے انہیں تھکا سا ڈالا ہے ۔ اس لیئے انہیں جب موقع ملتا ہے "عیدی عیدی " یعنی امداد امداد کی دہائی ڈال دیتے ہیں
۔ اب انہیں کیاپتہ کہ امریکہ ماہانہ چار بلین ڈالر عراق کے مسلمانوں کو جان نثار کرنے کے عوض عیدی دیتا ہے ۔ ایسے میں امریکہ اور امریکہ نوازملک اگر افغانستان کی عیدی کے ساتھ پاکستان کی عیدی بھی مقرر کرنے میں ھمیشہ دیرکر دیں توپاکستان کو ھر گز بدگمان نہیں ہونا چاھئے ۔ ویسے پاکستانی حکمرانوں کی یہ بات بھی درست ہے کہ عیدی دینے میں دیر کرنا بھائی چارے کے کسی بھی دینی اصولوں کے سرا سر خلاف ہے ۔
آپ سب جانتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات کا محور ہمیشہ اخوت اور بھائی چارہ رہا ہے ۔ اخلاق کا یہ معیار رکھا گیا کہ جو اپنے لیئے پسند کرو وہی اپنے بھائی کے لیئے چاہو ۔ پاکستان مسلمانوں کا وہ واحد ملک ہے جہاں پر اخوت کے نام پر اپنی ہی قوم سے سے آٹا چینی چھپایا جاتا ہے اور بھائی چارے کے نام پر بھائیوں کو سرعام جیلوں میں بند کیا جاتا ہے اور انہیں ناکردہ جرم کی سزائیں دی جاتی ہیں ۔ عید کے پرمسرت موقع پران کی بجائے اپنے ہی جیسے بھائی بندوں کو رہا کیا جاتا ہے اور مساوات کا خیال رکھتے ہوئے انہیں لوٹ مار چوری چکاری کے پورے مواقع دئے جاتے ہیں تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں سب کے شریک رہیں ۔
ان سب حالات کے باوجود بھی پاکستانی قوم بڑی جیدار ہے جو جھوٹ ، مکر و فریب ،خود نمائی ، دکھاوا ، دھوکہ دہی ، لوٹ مار ، قتل و غارت ،مہنگائی جیسے حالات میں بھی عید کے دن ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہوئے ،گلے ملتے ہوئے سب رنج وغم بھلا کر بڑے جوش اور ولولے سے ایک دوسرے کو ہنستے مسکراتے ہوئے کہتی ہے “عید مبارک“ !
اور میں دور کھڑا سوچتا رہ جاتا ہوں کہ ایک دفعہ مولائے کائینات حضرت علی علیہ السلام کی بارگاہ ناز میں ایک شخص عید کے دن حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ سوکھی روٹی کھا رہے ہیں۔ اس نے عرض کیا حضور ! آج عید کا دن ہے، اور آپ سوکھی روٹی تناول فرما رہے ہیں، تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا آج ان کیلئے عید ہے جن کے روزے قبول ہوئے اور جن کی کوششیں نتیجہ لانے والی ثابت ہوئیں اور جن کے گناہ بخش دئیے گئے۔
مولائے متقیان کے اس ارشاد مبارک کے بعد مضمحل ہو کر کبھی اپنی بے بسی کی طرف دیکھتا ہوں تو کبھی مسلمانوں کی بے حسی کا سوچتا ہوں کہ اسلام میں اس عید الفطر کو روزہ دار کا انعام کہا گیا ہے اور جب ا اپنے ارد گرد نظر دوڑاتا ہوں اور دیکھتا ہوں تو یہ عید سب سے زیادہ اہتمام سے وہ مناتے ہیں جنہوں نے ایک بھی روزہ نہیں رکھا ہوتایا اس کے اصل پیغام تک سے واقف نہیں ہوتے ۔۔
ایسے میں دوستو کونسی عید اور کہاں کی عید ۔