
برطانیہ میں اردو کے خدمت گزار رالف رسل کا انتقال گذشتہ سال 14ستمبر 2008کو ہوا تھا۔ ان کی موت سے جو خلا پیدا ہوا، اسے ہو سکتا ہے کہ بر صغیر میں اتنی شدت سے محسوس نہ کیا جا رہا ہو لیکن برطانیہ میں تو اس خلا کو پُر کرنے والا کوئی ہے ہی نہیں۔ ان کے بعد بس ایک سناٹا ہے۔
رالف رسل نے نصف صدی تک اردو کی جو گراں مایہ خدمات انجام دیں، اس کی قدر و قیمت کا احتساب ابھی نہیں کیا جا سکا ہے، کیونکہ گزشتہ ایک برس میں ان پر کچھ تعزیتی اور تاثراتی مضامین تو ضرور شائع ہوئے ہیں لیکن ان کی خدمات کا بھر پور جائزہ اب تک نہیں لیا جا سکا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بر طانیہ میں رہ کر انہوں نے اردو زبان کی جو خدمات انجام دیں اس کا اردو علاقوں میں بیٹھ کر تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی راہ میں کیا دشواریاں تھیں اور انہوں نے اس سنگلاخ راستے کو کس طرح عبور کیا۔
رالف رسل کی کتابوں کی تعداد ایک درجن سے زائد ہے۔ لیکن کتابوں سے بڑھ کر انہوں نے اردو کی خدمت کا جو زمینی کام کیا وہ زیادہ اہم اور معتبر ہے۔ وہاں کے اسکولوں میں اردو تعلیم کی کوئی سہولت نہیں تھی۔ سنہ 1975ءکے قریب رالف رسل نے کچھ ہم خیال لوگوں کی مدد سے قلیل رقم جمع کی۔ اس سلسلے میں بنک آف کامرس نے بھی ان کی مدد کی اس رقم سے رسل نے 27سے 28 کاؤنٹی اسکولوں میں اردو کلاسوں کا آغاز کیا۔ اس کے علاوہ جہاں جہاں پانچ سات بچے جمع ہو سکتے ہوں وہاں بھی اردو تعلیم کا انتظام کیا۔ ان کلاسیز کے لیے رسل نے خود اردو کا نیا نصاب مرتب کیا اور تدریس کے طریقہٴ کار کی بھی نشاندہی کی۔ ان کے بتائے ہوئے طریقہ تدریس اور اردو کے نئے نصاب کو بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ سنہ 1980ء کی ابتدا میں ان کی دو کتابیں اردو نصاب اور طریقہ تدریس کے تعلق سے شائع ہو کر منظر عام پر آئیں۔ اس کے بعد دوسری کتاب سنہ 1982ء میں شائع ہوئیں۔

چھوٹی عمر کے بچوں کو اردو تعلیم کی طرف راغب کر کے تعلیم کی سہولت بھی فراہم کرنا ایک ایسا کام ہے جس کی افادیت کو بہت کم لوگ سمجھ پاتے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ کسی یونیورسٹی میں شعبہ اردو کی تاسیس ایک بڑا کام ہے جہاں سے اردو کے عالم اور دانشور پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن ایسے ملک میں جہاں ایک مخصوص زبان کے بولنے والے قلیل ترین اقلیت میں ہوں اس زبان کی تعلیم کا انتظام ہائی اسکول سے نیچے کے درجوں میں نہ ہو تو اس زبان کے جاننے والے بڑی تعداد میں نہیں پیدا کیے جا سکتے اور اردو ہی نہیں کوئی بھی زبان صرف گنے چنے دانشوروں کی موجودگی سے زندہ نہیں رہ سکتی۔ یہی گراں قدر کام رالف رسل نے کاؤنٹی اسکولوں میں اردو زبان کو رائج کروا کر کیا تھا۔ یہ بڑا اور دورس کام تھا جس کی اہمیت کو محسوس کر کے اردو دنیا نے رالف رسل کو برطانیہ کے بابائے اردو کا اعزازی نام دیا تھا۔
رالف رسل 21مئی سنہ 1918کو برطانیہ کے ایک چھوٹے سے قصبے ہومرٹن (Homerton) میں پیدا ہوئے تھے۔ رالف رسل سنہ 16 برس کی عمر میں کمیونسٹ پارٹی کے مقامی حلقے کے رکن بن گئے۔ کیمبرج سے بی اے کرنے کے بعد سنہ 1940ءمیں انہیں فوج میں جبری بھرتی ہونا پڑا اور جنوری سنہ 1942میں انہیں ہندوستان بھیجا گیا۔ یہاں آکر بھی کمیونسٹ تحریک سے ان کی وابستگی کم نہیں ہوئی اور وہ نظریاتی طور پر کمیونسٹ تھے اس لیے انہوں نے کمیونسٹوں کے ساتھ مل کر فاشسزم کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی۔ لیکن ہندوستان آنے سے ان کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ انہوں نے اپنے آپ کو اردو سے وابستہ کیا۔
رالف رسل کی شخصیت کے دو عناصر بہت نمایاں ہیں ایک تو اردو زبان اور اردو ادب سے ان کی وابستگی۔ دوسرے کمیونزم۔ یہ دونوں عناصر آخر وقت تک ان کی زندگی کے ساتھ رہے۔ کمیونسٹ پارٹی سے ان کا تعلق اس وقت شروع ہوا تھا جب وہ محض 16سال کے تھے۔ حالانکہ سنہ 1946کے بعد کمیونسٹ تحریک میں بحران اور سویت یونین کی مسماری کے باوجود وہ کمیونسٹ رہے۔ کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ میں انسانی اقدار کاحامل ہوں۔ جس کی بناء پر میں کمیونسٹ بنا تھا۔ اردو سے ان کی وابستگی سنہ 1940ء میں شروع ہوئی۔ جب دوسری عالمگیر جنگ کے دوران وہ کیمبرج یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے اور انہیں فوج میں جبری بھرتی کے بعد ہندوستان بھیجا گیا تھا۔ جہاں انہیں اردو سے گہرا شغف پیدا ہوا اور جب یہ شغف پیدا ہو گیا تو اسے انہوں نے حرز جاں بنائے رکھا۔ ایک انٹر ویو میں رالف رسل نے بتایا تھا:
”ساڑھے چار سال ہندوستان میں رہنے کے بعد جب میں انگلستان واپس آیا توچاہتا تھا کہ کوئی ایسی ملازمت ڈھونڈوں جس میں اردو کا علم بڑھانے کا موقع ملے۔ چنانچہ میں نے لندن یونیورسٹی سے باقاعدہ اردو کا بی۔ اے آنرز کا کورس کیا اور اسی کے ساتھ سنسکرت بھی پڑھی۔ اس کے بعد سنہ 1949میں لندن یونیورسٹی کے اسکول آف اورینٹل اینڈ افریکن اسٹڈیز میں اردو کا لکچرر مقرر ہوا۔ “
ساٹھ کی دہائی میں رالف رسل کا تعارف خورشید الاسلام سے ہوا، دونوں کے مزاجوں میں اس قدر ہم آہنگی تھی کہ ان دونوں نے مل کر کئی کتابیں لکھیں۔
رسل اور خورشید الاسلام کی اردو زبان کے بارے میں پہلی کتاب مغل دور کے تین شاعر Three Mughal Poets تھی جو سنہ 1968ء میں منظر عام پر آئی۔ یہ کتاب بہت مشہور ہوئی اس میں میر تقی میر، سودا اور میر حسن کو موضوع بنایا گیا ہے۔
رالف رسل غالب کے بہت بڑے مداح تھے اور انہیں اردو کا ہی نہیں عالمی ادب کا ایک بڑا شاعر مانتے تھے۔ مغربی ممالک میں غالب کو متعارف کرانے میں بھی ان کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ان کی چھ کتابیں غالب کے فکر وفن پر ہیں، جنہیں غالبیات میں ایک اہم اضافہ مانا جاتا ہے۔ ان میں سب سے اہم کتاب ’غالب، زندگی اور خطوط‘ ہے جو انھوں نے خورشید الاسلام کے ساتھ مل کر لکھی تھی۔
رالف رسل نے اپنی خود نوشت سوانح عمری تین جلدوں میں لکھی تھی۔ تیسری جلد انہوں نے مرتب کر لی تھی لیکن ان کی زندگی میں اس کی اشاعت نہیں ہو سکی۔
ان کی طویل خود نوشت کا اردو ترجمہ ڈاکٹر ارجمند آرا نے نہایت محنت اوردقت نظری سے ”جوئندہ یا بندہ“ کے عنوان سے کیا ہے جو بھارت اور پاکستان دونوں جگہ شائع ہو چکی ہے۔ اپنی سوانح میں رالف رسل نے ساری باتیں بہت کھل کر لکھی ہیں اور یہ خود نوشت اپنے آپ میں بہت ہی اہمیت کی حامل ہے۔
بشکریہ۔وائس آف امریکہ