ایک طرف تو پاکستان میں چینی نہیں مل رہی ہے لیکن دوسری طرف صدر پاکستان روز روز چین کا دورہ کررہے ہیں۔ ہمیں اْمید تھی کہ وہ اس بار اپنے ساتھ چین سے ضرور چینی کی کئی بوریاں ساتھ لا ئیں گے لیکن وزیر اطلاعات نے یہ کہکر ساری اْمیدوں پر پانی پھیر دیا کہ " عوام چینی کا استعمال کم کرئیں " ۔ ہائے بچاری عوام !!! جب چینی اْسے مل ہی نہیں رہی ہے تو پھر وہ چینی کا استعمال کیسے کم کرے ۔ ۔۔۔ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا۔۔۔۔
چینی نہ ملنے پر یہ بحث بھی عوام میں زور پکڑ رہی ہے کہ آخر شکر کو "چینی " کا نام کس نے دیا۔ ہمارے کچھ دانشور، جی جناب پاکستانی دانشوروں کا خیال ہے کہ شروع شروع کے صاحبِ اقتدار نے چین سے پاکستان کی دوستی سے متاثر ہو کر" شکر " کو چینی کہنا شروع کردیا تھا۔
اگر یہ بات کچھ لمحے کے لئے سچ مان لی جائے تو عوام کا یہ سوال ہر گز بے جا نہیں ہے کہ اگر چین پاکستان کا سب سے اچھا دوست ہے تو پھر پاکستان سے چینی غائب کیوں ہے ۔ لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو پاکستان میں " چینی " اب بھی بہت ہیں ۔ بس کیا کیا جائے وہ چینی اب اتنی فر فر اردو بولتے ہیں کہ اندازاہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ پاکستانی ہیں یا شکر او معاف کیجے گا پاکستانی ہیں یا چینی ۔۔۔ اور چینیوں کی موجودگی کے باوجود "چینی " کا نہ ملنا بھی حیرت انگیز ہی ہے ۔ ۔۔۔۔
ایک تو یہ سروے کرنے والے لوگ کوئی چیز چھوڑتے ہی نہیں بس ہر چیز کا سروے کرتے رہتے ہیں ۔ حا لیہ ایک سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ذیباطیس کی بیماری بہت بڑھ رہی ہے ۔ اب اس ذیباطیس کی بیماری سے چینی کا تو بڑا عمل دخل ہے ۔ شاید یہ حکومت اپنے عوام کو صحت مند دیکھنا چاہتی ہے اور اسی لیے جان بوجھ کر چینی کو مارکیٹ سے غائب کروا دیا ۔ آخر عوام کو صحت مند رکھنا بھی تو حکومت کی ذمہ داریوں میں ہی شمار کیا جاتا ہے ۔
اگر ایسا ہے تو پھر تو میں واری جاؤں اپنی حکومت پر کہ اْنھیں عوام کی صحت کا کتنا خیال ہے ۔ ورنہ عوام اگر خدا نہ خوانستہ ذیباطیس کی بیماری میں مبتلا ہوتی رہے گی تو پھر ایک دن ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کہ اس بیماری کے باعث چینی کو استعمال کرنے والے ہی نہ ہوں اور چینی کا ملک میں اتنا ڈھیر لگ چکا ہو کہ چینی چین والوں کو دینی پڑ جائے ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن چینی اتنی زیادہ ہوجائے کہ عوام کے استعمال کرنے کے باوجود بچی رہے ۔۔۔
یہ ایک خواب ہے جو آپ کے ساتھ ساتھ میں بھی کئی عرصوں سے دیکھ رہا ہوں ۔۔۔۔ عوام تو بچارے پیدا ہی ہوئے ہیں صرف خواب دیکھنے کے لئے۔۔۔۔ کبھی آٹا ملنے کا خواب ، کبھی چینی ملنے کا خواب ، کبھی صاف پانی ملنے کا خواب تو کبھی بجلی ملنے کا خواب۔۔۔۔۔۔ اور ہمارے کرتا دھرتا عوام کو خواب دیکھانے کا وہ ہنر جانتے ہیں کہ بچارے عوام جاگتے سوتے ، اٹھتے بیٹھتے سہانے خواب دیکھتے رہتے ہیں ۔۔۔۔ ایک ایسا خواب ، جو خواب تو ہوتا ہے لیکن تعبیر اْسکی جانے کہاں کھوئی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔
اب مجھے لگ رہا ہے کہ میری ان باتوں پر چینی کی کمی کا اثر ہو رہا ہے اور میرا لہجہ بھی نمکین ہوتا جارہا ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ کڑوا ہو اور اسکو میٹھا کرنے کے لیے پھر چینی کی مزید ضرورت پڑے اور مجھ پر الزام لگ جائے کہ اب ان " کڑووں " کو نگلنے کی ہی وجہ سے دراصل چینی کا بحران آیا ہے ۔۔ میں اپنے قلم کی تحریر کو سمیٹ لوں اور دعا کرؤں کہ " شیر و شکر " ہونے والے یہ صاحبِ اقتدار عوام کو بھی کچھ میٹھا کردئیں ۔۔۔۔۔۔