
عالمی اخبار کے مستقل کالم نگار،دینی موضوعات کے مستند لکھاری اور معروف محقق جناب احمد ترازی کے برادر نسبتی ''سالے'' 28 سالہ شاکر علی کو کراچی میں چند روز قبل جو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے اور رہائی کے لیئے تاوان کا مطالبہ کیا تھا اب اطلاعات ملی ہیں اغوا کنندگان نے پچاس لاکھ روپے سے تاوان کم کر کے ڈھائی لاکھ وصول کیا اور اب شاکر علی واپس بخیریت گھر واپس آ گئے ہیں
پاکستان میں روز بروز امن عامہ کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور اغوا،ڈکیتی اور ایسے ہی دیگر جرائم کے باعث عام شہریوں کی زندگی وبال جان بن کر رہ گئی ہے اور احمد ترازی اور انکے خاندان کو اس سارے عمل میں جن مصائب سے گزرنا پڑا ہے اس داستان سے عالمی اخبار جلد ہی پردہ اٹھائے گا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ترازی صاحب کو اس اغوا کی رپورٹ کروانے کے لیئے چار تھانوں میں چکر لگانے پڑے لیکن رپورٹ اس لیئے درج نہیں ہو سکی کہ یہ طے نہیں ہو سکا کہ یہ علاقہ کسی تھانے کی حدود میں ہے۔ کاش سندھ کے گورنر،وزیر اعلیٰ،وزیر داخلہ اور پولیس کے سربراہ ایسے حادثے سے خود گزریں تو حالات کا علم ہو۔
اس دوران احمد ترازی کی اہلیہ شدید پریشان رہیں اور بھائی کے اغوا کے غم میں نہایت علیل ہو گئیں ۔ اغوا کرنے والوں نے رہائی کے بدلے پچاس لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا جو اس متوسط طبقے کے گھرانے کے لیئے ناممکن سا کام تھا ۔
شاکر علی کی چھوٹی چھوٹی تین بچیاں ہیں
اغوا کے بعد تفصیلات کے مطابق مغوی کا ایک مرتبہ فون اس کی بیوی کے پاس آیا جس میں اس نے بتایا کہ مجھے یہ لوگ اٹھا کر لے آئے ہیں اور میں کہاں ہوں کچھ معلوم نہیں۔ انہوں نے بہت مارا ہے اور پیسے مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی بیوی سے مزید کہا کہ تم اپنا اور بچوں کا خیال رکھنا۔
اس کے بعد سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور اس کا فون مسلسل بند جارہا ہے ،اغوا کرنے والوں نے بھی کوئی فون نہیں کیا اور اس کے بعد نہ کوئی رابطہ ہوا ہے
عالمی اخبار کی انتظامیہ صوبے کے وزیر اعلیٰ، وزیر داخلہ اور پولیس کے سربراہ سے اپیل کی تھی کہ وہ ایک صاحب علم جناب احمد ترازی اور ان کے گھر والوں کی اس موقع پر مدد کریں اور مغوی کی بازیابی کی کوشش کریں۔مگر شاید انتظامیہ اندھی،گونگی اور بہری ہے۔
ہم اپنے تمام قارئین کے ممنون ہیں کہ انہوں نے ہماری درخواست پر جناب احمد ترازی کے سالے کی باحفاظت بازیابی کے لیئے رمضان المبارک کی متبرک راتوں میں خاص دعا ئیں کی ہیں۔