14.10.2026, 07:57pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

دوستوں کی عید اور آپس کی مبارکبادیں ۔۔از : ڈاکٹر نگہت نسیم
18.07.2015, 01:15am , ہفتہ (GMT+1)

نگہت نسیم ۔ سڈنی


دوستو آج عید کی خوشیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک اعتراف مجھے کرنا ہے ۔۔ اور وہ یہ کہ مجھے خاص موقع کے لیئے لکھنا بہت مشکل لگتا ہے ۔۔دنوں ہفتوں سوچتی رہتی ہوں کہ کہاں سے  لکھنا شروع کروں اور کیسے اتنی جازب تحریر لکھوں کہ اس تحریر کو تہوار کی مناسبت سے  مدتوں یاد رکھا جائے  ۔۔ بس یوں کہہ لیجیئے کہ ہمیشہ ہی سے مجھے میری بے چین طبیعت نے مشکل میں رکھا ہے ۔۔

 خاص موقع رمضان کا ہو یا عید کا یا کوئی اور مجھے وقت سے پہلے ہی خبط سوار ہو جاتا ہے کہ جلد از جلد اس سے متعلقہ  سارے کام ختم کر لیئیے جایئں ۔ اس بارے میں آپ بابا سے پوچھ سکتے ہیں کہ مجھے ان سے بھی کتنی ڈانٹ سننی پڑتی ہے ۔

  مجھے یہ عادت اپنی ماں سے ورثے میں ملی ہے ۔ ہم نے انہیں ہر تہوار کا جوش و خروش سے استقبال کرتے دیکھا ہے ۔۔ عید کے آنے سے پہلے عید کی تیاری اور رمضان سے پہلے روزوں کی تیاری ۔۔ کھجلہ پھینیاں ، پراٹھے بنانے کی ھدایت  ۔۔ ساتھ ابا جی کی لیئے سادہ روٹی بنانے کی تلقین ۔۔ نماز اور قران پڑھنے کی لازمی زمہ داری کے ساتھ حسن سلوک کی ھدایتیں آخر میں الارم والی گھڑیوں کی قسمت کھلنے کی گھڑی اور عید کے لیئے  نئی چادریں اور نئے برتن خریدنے کا شوق بھی مجھے انہیں ملا ہے ۔۔

عید پر کھانوں کی تیاریاں اور رات گئے تک کبابوں اور سویوں کی خوشبو، تحائف ک ایک دوسرے چھپانا ۔۔  دوستوں کو کارڈز بھیجنا ۔۔ گھر کے بڑوں ، امی ابا جی  اور بھایئوں سے 

الگ الگ عیدی وصولنا ۔۔ اور ان کے لیئے مزے مزے کے کھانے بنانا  ۔۔۔۔  آج بھی جیسے  سب میری یادوں کا انمول حصہ ہیں ۔۔

اسی لیئے عید مجھے ہمیشہ ہی مذہبی  روایات اور تہذیب کا منتقل ہو نا لگتی ہے ۔۔ آج میں وہی سب کرتی ہوں جو میری امی جی کیا کرتی تھیں ۔ گو کہ اب ان کی صحت انہیں یہ سب  کرنے کی اب اجازت  نہیں  دیتی ۔۔ لیکن یہ سچ ہے کہ انہوں نے بڑی آسانی سے اپنی زات اور اپنے تجربے ہم سب میں رکھ دئے ہیں ۔

اب میں وہی خوشیاں وہی رکھ رکھاؤ اپنے بچوں میں رکھ رہی ہوں ۔۔ عید کی صورت مذہب اور روایات کی منتقلی جاری ہے ۔۔

ایک دن پہلے ہی سے گھر کو صاف کرنا ۔۔ نئی چادریں بچھانا ۔۔ نئے گلدان سجانا ۔۔ صبح کے ناشتے کے لیئے  کباب ، پڑاٹھے ، پوریاں آلو کا صالن اور سویاں بنانا جانے خودبخود کیسے ہو جاتا ہے ۔ پھر نماز کے بعد۔۔۔۔  سب کا دوپہر تک ڈایئنگ ٹیبل پر ہی بیٹھ  کر باتیں کرتے جا نا عید کا لازمی جزو لگتا ہے ۔۔

 بیچ بیچ میں کبھی فون یا کبھی مہمان بھی ہماری گفتگو کا حصہ ہو جاتے ہیں ۔۔  اپنے گھر اور سسرال میں  ان کے وقت کے حساب سے   فون پر دعا سلام کے عید مبارک سلامت کے شورکے ساتھ ہی عید کا رنگ اور گہرا ہوجاتا ہے ۔۔ بچے عیدی کے لیئے شور مچاتے ہیں تو میں بھی ان کے ساتھ  عیدی کا نعرہ لگا کر ان جیسی ہو جاتی ہوں ۔۔ اور عید مجھے جانے کہاں سے کہا لے جاتی ہے ۔۔ جہاں میں ہوتی ہوں اور میری انمول یادیں ۔۔

یادیں تو سب کی ہی انمول ہوتی ہیں ۔۔ اس لیئے سوچا کہ کیوں نہ سب سے پوچھا جائے  کہ وہ عید کی خوشیاں کیسے مناتے ہیں ۔

مشہور کالم نگار ، کئی کتابوں کے مصنف شمس جیلانی بھائی نے کینیڈا سے عید کی مبارک باد دیتے ہوئےلکھا

بہن نگہت اسلام وعلیکم ورحمہ

آپ ما شا اللہ جس محنت اور لگن سے کام کر رہی ہیں وہ آپ  ہی کا حصہ ہے۔ میری طرف سے دلی مبارکباد قبول فر ما یئے ۔ میں روز بروز سست ہو تا جا رہا ہوں۔ لہذا اس مرتبہ بھی پیچھے رہ گیا۔

اب آپ کے سوال کا جواب کہ عید کیسے منا تا ہوں؟جواب یہ ہے کہ اللہ تعا لیِ کی حمد و ثنا ء سے دن شروع کر تا ہوں کہ اس نے اپنی رحمت کاملہ سے نوازا اور روزے پو رے کرا ئے۔ اس کے بعد مسجد چلا جاتا ہوں نماز ادا کر تا ہوں اورکھڑاہو جاتا ہوں ،اور جب تک ایک ایک شخص سے گلے نہ مل لوں اس وقت تک مو جود رہتا ہوں ۔

وہاں تقریبا ًڈیرھ ہزار کا مجمع ہو تا ہے پھر گھر واپس۔یہاں بچے ، عزیز و اقارب، دوست اور احباب ملنے آتے رہتے ہیں، شغل خورد و نوش چاری رہتا ہے اور یوں دن گزر جاتا ہے۔ اور ہاں سب بچوں بہو، بیٹیوں اور پوتے پو تیوں نیز نواسوں کو عیدی دیتا ہوں۔ وہ کہتے بھی ہیں کہ ہم تو اب بڑے ہو گئے ہیں ۔

 مگر میرا کہنا یہ ہے کہ جب تک میں ہو ں، چپ چاپ عیدی وصولتے رہو ۔ احساس محرومی اگر پو چھنا ہےتو مجھ سے پو چھو کہ میں اس کے لیءے ترستا ہوں کہ کاش میرا بھی کوئی بڑا باقی بچا ہو تا اور مجھے بھی عیدی دیتا۔
میری طرف سے سب کو بہت بہت عید مبارک ۔۔
آپکا بھائی
شمس جیلا نی

مشہور کالم نگار ، افسانہ نگار اور شاعرہ زرقا مفتی لاہور سے لکھتی ہیں  

عید ایک ایسا تہوار ہے جسے مسلمان روایتی جوش و خروش سے منانا پسند کرتےہیں ۔ رمضان کے بعد آنے والی میٹھی عید پر عیدی دینے اور لینے کا رواج بھی قائم ہے۔ رمضان کے آخری عشرے میں افطاریوں کے ساتھ ساتھ عیدیاں بھی تقسیم کی جاتی ہیں۔بچوں کو نقد عید البتہ عید کے روز ہی ملتی ہے۔  عید کے روز سویاں یا شیر خرما ہر گھر میں بنتا ہے۔  ملک میں اب کیک کلچر عام ہو گیا ہے اس لیے کسی کو بھی عید ملنے جاتے وقت کیک یا آئس کریم ہمراہ لے جاتے ہیں۔

میرے بیٹے اور شوہر عید کی نماز میرے سسرال جا کر سب کے ہمراہ ادا کرتے ہیں۔ واپسی پر مجھے لیتے ہیں ۔ میں عید کے روز سب سے پہلے اپنے ابو کو ملنے جاتی ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ ہمیشہ کی طرح میرے منتظر رہتے ہیں ۔ اُن کے لئے پھول لے جاتی ہوں اور فاتحہ کہہ کر اپنی امی سے عید ملنے جاتی ہوں۔

دوپہر کا کھانا سسرال میں سب اکٹھے مل کر کھاتے ہیں ۔ اس کے بعد قریبی عزیزوں اور دوستوں سے عید ملنے جاتے ہیں۔ گھر کو واپسی اکثر رات بارہ بجے کے بعد ہوتی ہے۔ عید کے دوسرے روز سب کا کھانا میرے گھر ہوتا ہے ۔ اس لیے خوب مصروفیت اور رونق رہتی ہے

مشہور کالم نگار اور محقق محترم آغا عبدالحسین بڈگام کشمیر سے لکھتے ہیں

باسمہ تعالی
رویت ھلال شوال کے ساتھ ہی ہمارے علماء کی طرف سے ٹی وی اور ریڈیو سے پیغامات آنے شروع ہوتے ہیں اور مقامی مسجدوں میں بھی رمضان المبارک کو الوداع کہنے کی دعا پڑھی جاتی ہے اور نماز عید فطر کے وقت کا اعلان کیاجاتا ہے ۔

 اعلان سنتے ہی ھر مستطیع مسلمان فطرہ نکالنا شروع کرتا ہے اور آپس میں عید کی مبارکبادی دینے کے ساتھ ساتھ کوئی کوئی فطرہ کی رقم بھی آپس میں دریافت کرتے ہیں ۔ نماز صبح کے بعد خاک تربت کربلا سے افطار کرتے ہیں اور عید کا دسترخوان سجھنا شروع ہوتا ہے جو کہ تقریبا پورے دن کے لئے بچھاکے رہتا ہے ۔

 نماز عید میں شرکت کے بعد ایک دوسرے کے پاس آنا جانا شروع ہوتا ہے اور بچوں کو عیدی دی جاتی ہے ۔

مشہور کالم نگار  عامر کیانی برمنگھم سے لکھتے ہیں

ڈپٹی ایڈیٹر ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کا(ہم عید کیسے مناتے ہیں؟پر چند لائینیں لکھنے کا )مطالبہ بڑھتا چلا جارہا ہے اور میں جن بوجھ کر اس موضوع سے پہلو تہی کررہا تھا کہ عید والے دن میں خود وہ آئینہ دیکھنا چاہتا تھا اور نہ آپ سب کووہ آئینہ دکھانا چاہتاتھا جس میں ہر چہرہ دھندلا نظر آئے اور میری طرح آپ سب کی عید بھی خراب ہو۔ شومئی قسمت کل میسنجر پر ڈاکٹر صاحبہ نے پکڑ لیا ا یک ایڈیٹر اس پر ڈاکٹر ا ور سب سے بڑھ کر بہن حکم دیا کہ کل تک یہ چند لائنیں مل جانی چاہیے۔

فسادِخلق بر گردن ایڈیٹر صاحبہ!

اب آپ سب کی قسمت ! پڑھیے اور سر دھنیے بلکہ اپنے اپنے بال نوچیے!میں چند لائنیں لکھ دیتا ہوں فیصلہ آپ خود کر لیجیئے کہ میں عید کیسے مناتا ہوں؟

میں عید ان لوگوں کے درمیان مناتا ہوں جو ساراسال اور خاص کر رمضان میں خود پیٹ بھر کر بلکہ ٹھونس ٹھونس کر کھاتے ہیں اور ان کے ہم وطن بھوکے سوتے ہیں ۔میں عید ان حکمرانوں کے ساتھ مناتا ہوں جوبقول اپنے مقبولیت کی معراج پر ہیں ان میں سے ایک عوام کو آٹے فاٹے،گھاٹے اور سناٹے کے حوالے کر کے خود یورپ اور امریکہ کے پندرہ روزہ دورے پر روانہ ہوچکے ہیں اور دوسرے خانہ خدا اور روضہ رسول میں خادم حرمیں شریفین کی خدمت میں دست بستہ حاضر ہیں ۔

میں عید ان صحافیوں کے درمیان مناتا ہوں جو جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنے نہیں جاتے بلکہ آٹے اور چینی کے اس بحران کے عین دوران حکمرانوں کے افطار ڈنر اڑانے جاتے اور واپسی پر ان کے قصیدے لکھتے ہیں۔

 میں عید ان جانور نما انسانوں کے درمیان منانے پر مجبور ہوں جنہیں پانچ سال سے کم عمر اور معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے وہ کوکھ بھی یاد نہیں آتی جس سے انہوں نے جنم لیا ہے۔میں عید ان خبروں کے درمیان مناتا ہوں کہ فلسطین میں اسرائیلی کاروائی میں اتنے بچوں سمیت اتنے افراد جاں بحق ہوئے،افغانستان میں بم دھماکے میں اتنے لوگ مارے گئے،پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون طیاروں کے حملوں میں اتنے افراد لقمہ اجل بنے،عراق میں بلیک واٹر(زی) کے درندوں نے اتنے افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا،اسلامی جہموریہ پاکستان میں رمضان کے دوران آٹے کی تگ ودو میں اتنے افراد جاں بحق ہوگئے،بجلی کے سناٹے میں اندھیر نگری چوپٹ راجہ وزیر لوڈشیڈنگ نے لندن میں ساڑھے چار ملین پاونڈ کا گھر خرید لیا۔

اس سب اور اسی طرح کے بہت کچھ(جو آپ عید پر میرے کالم میں پڑھنا چاہیں تو پڑھ سکتے ہیں؟)کے ساتھ بھی اگر آپ عید منانا چاہیں تو آپ کی مرضی اور ہمت ؟ مجھے تو اس طرح کی خبروں اور لوگوں کے جنگل میں عیدمحرم کی طرح منانی پڑتی ہے۔


نادیہ شاہد (میری بھابھی ) نے لندن سے لکھا

   باجی مجھے پتہ تھا کہ آپ پھر کسی نہ کسی بہانے سے مجھے لکھنے تک لے ہی آیئں گی ، آپ توجانتی ہیں ہمارے گھروں کی عید کہ کس جوش و خروش سے مناتے ہیں ۔ رات بھر ھم نہیں سوتے ، کہیں ایک طرف  مہندی لگ رھی ھوتی ھے تو  ایک طرف سویاں تیار ھو رھی ھوتی ھے۔ چاند رات کا بھی اپنا مزہ ھوتا ھے ۔
 
صبح اٹھتے ھی بڑوں کو سلام کرتے ھں اور ان سے ڈھیروں دعاؤں  لیتے ہیں ۔پھر باری باری سب اکھٹے ھو کار مسجدوں کو چلے جاتے ہیں ۔پھر ہم سب ان  کے آنے سے پہلے ہی تیار ھو جاتے  اور ناشتہ  میز پر لگا دیتے ہیں ۔ناشتے سے فارغ ھو کر عیدی لینے اور دینے کا سماں شروع ھو جاتا ھے ۔۔ بس پھر خوب شور ہنگامے کے بعد ھم دوستوں کے گھر مٹھائی لے کر عید ملنے  جاتے ھیں۔
دراصل  عید نام ھی خوشیوں کا ھے۔

اللہ تعالی ھم سب کو ایسی ہزاروں خوشیاں دیکھنا نصیب کرے ،،  آمین۔

مشہور کالم نگار اور کئی مذہبی کتابوں کے مصنف بھائی محمداحمد ترازی  نے کراچی سے لکھا

عید کے دن نماز عید کی ادائیگی کے بعد ہمارا سب سے پہلا کام والدہ اور والد کی خدمت میں حاضر ہونا اور ان سے دعائیں لینا ہوتا ہے ،اس کے بعد دیگر بہن بھائیوں اور گھر والوں سے عید ملتے ہیں اور بڑے ہونے کی وجہ سے انہیں عیدی دیتے ہیں۔

اس کام سے فارغ ہو کر قبرستان جاتے ہیں اور اپنے عزیز و اقارب اور جملہ مومن و مومنات کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں،وہاں سے واپسی پر دوست احباب آجاتے ہیں یا ہم ان کی طرف نکل جاتے ہیں،شام کو بچوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کیلئے نکل جاتے ہیں اور یوں عید کا سارا دن میٹھے کھاتے کھاتے گزر جاتا ہے اور پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب دن ختم ہوگیا ۔

تمام قارئین کو عید مبارک دیتے ہوئے اس دعا کے ساتھ اجازت چاہتے ہیں اللہ کریم سب کو خوش و خرم رکھے آمین ۔



مشہور افسانہ نگار اور شاعرہ شاھین رضوی نے کویت سے لکھا

عزیزی ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ
آداب و تسلیمات
عید کی پیشگی مبارک با د
 
چاہتی ہوں کہ پہلے اپنے قاریئن سے اپنا تعارف  کرادوں ۔۔ دوستو میں بنیادی طور پر افسانہ نگار ھوں۔۔ نظم کو اس کی وسعت اور ندرت کی وجہ سے اظہا ر کے لیے منتخب کیا ھے۔۔ غزل کے دشت و دمن میں خون دل سے چراغاں کرنا پڑتاھے۔۔ جب ھمیشہ مقفعل رھنے والی اور بیرونی دنیا میں کھلنے والی کھڑکی سے باد صبا سرگوشی کرتی ھے تو ھم پر غزل مہربان ھوتی ھے ۔
 
میں گزشتہ 24 سالوں سے کویت میں مقیم ھوں۔۔ زندگی    بس کجھہ دن پہلے مہر با ن ھوئی ھے
 
کا فی عرصہ سے لکھنا چھوڑ دیا تھا۔۔
کمال مشق مقرر کی داد چاھتا ھے
جلیس فکر سے ھوجائے اب شنا سائ
(شاھین رضوی)
 
دراصل 30 دن کی جسما نی اور روحا نی عبا دت کے بعد  عید دراصل روزے داروں کا انعام ھے ۔ سب سے پہلے  عالمی اخبا ر کے   تمام  ريڈرز کو عید مبا رک۔ میں عرصہ دراز سے کو یت  میں مقیم ھوں سچ پوچیھیں تو عید کا لطف توصرف دیس میں ھی ھوتا ھے خاص کر اس عید پر بزرگو ں سے عیدی کی خوبصورت روایت کا لطف، عید کے پکواں۔۔۔ شیر خورمہ۔۔۔۔۔۔    دعائیں  رحمیتں۔۔۔۔۔ برکتیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے پا کستا ن تہواروں پر بہت یا د آتا ھے۔۔ کوشش کرتی ھوں کہ اس دن آ نکھہ نم نہ ھو۔۔۔ مگر یہ بے اختیاری عمل ھے۔۔بہر حال عید کے دن ان کو بھی خوش رکھنے کا اہتما م کرتی ھوں۔۔ جو ھما ری تھوڑی سی توجہ اور مالی امداد سے خوش ھو سکتے ھیں۔۔ میري نظر میں عید سب کو خوش کرنے کا نا م ھے ۔۔۔۔     

ما ں کی صورت کو ترستی ھوئ پیا سی آنکیھں
لمحہ لمحہ یو نہی فرقت میں تڑپتی ھوگی
ما ں کی خو شبو کو ترستی ھوئ ھستی میری
ا پنی افسردہ سی تنہائ سے لپٹی ھوئ روتی ھوگی
ما ں کی ممتا سے بھری نہر فرات
پیا س بچوں کی بجھاتی ھوگی
چا ند ایسے میں افق سے کہیں نکلا ھوگا۔۔۔
دور افلاک کی سیٹرھی سے آترتا ھوا چاند۔
عید کا چا ند جو خوشیوں کا مراسل ھوگا  
چا ند کچھہ دیر کسی بام پر ٹہرا ھوگا
دور پا کیزہ سے ایک خطے میں
خا لی گھر اور درو دیوار کو تکتی مايئں
عید بقرعید پر بچوں کو ترستی ما یئں
گھر کی دھلیز پر بیٹھی ھوئ مضطر مایئں
چن کے لے جا تی ھیں دکھہ درد کے پتھر ما یئں
سکھہ خوشی خیر و محبت کا ھیں پیکر ما یئں
نور و بر کت بھی اور زیست کا زیور ما یئں
ھونگی معمورہ الفت سے منور مایئں
لمحہ کرب سے گزری ھوئ سا ری مایئں
چا ند کچھہ دیر ٹھٹک کر انھیں تکتا ھوگا
پھر ستاروں کے قبیلے سے یہ کہتا ھوگا
ما یئں پردیسوں کی دیس میں روتی ھونگي
عید پر دیس میں کیسے ھوگي
 (شا ھین رضوی)

مشہور کالم نگار بھائی خواجہ اکرام نے نئی دہلی سے لکھا

پیاری بہن ڈاکٹر نسیم نگہت اور
تمام قارئین کو عید کی ڈھیر ساری مبارکبادیاں

عید تو عید ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ خوشی جس طرح بھی منائیں ، زیب دیتا ہے۔لیکن عید کی خوشی در اصل خدا کی وعیدوں سے چھٹکارے کی ہوتی ہے کیونکہ جس نے رمضان کا احترام کیا اور احکامات کی تکمیل کی اسی کے لیے یہ عید ہوتی ہے۔ لیکن اب یہ عید کی خوشی تقریب بنتی جارہی ہے ہم لوگ بھی تقریباًاسی طرح مناتے ہیں ۔

مجھے اپنے بچپن کی عید یاد ہے کہ چاند دیکھنے کا خاص اہتمام ہوتا تھا اور اگر 29 کا چاند نظر آگیا تو یہ خوشی دو بالا ہوجاتی تھی ۔ رات بھر جلوس اور صبح کی نماز کے بعد عید کی تیاریاں ۔نماز سے فارغ ہو کر ہم عمروں کی گروپ میں گاؤں کے گھر گھر جاکر عید کی مبارک باد دینا اور سوئیاں کھانا ۔ یہ سلسلہ عصر تک چلتا تھا اس کے بعد شام کو نعتیہ محفل میں شریک ہونا ۔ اس طرح عید کا دن خوشیاں بانٹنے اور سمیٹنے میں گزر جاتا تھا ۔

لیکن اب ہم میٹرو سیٹیز میں رہنے لگے ہیں ۔ یہاں عید عید جیسی نہیں ہوتی ، بس نماز پڑھ کر گھر آ بیٹھنا ، چند احباب کی آمد سے گھر میں تھوڑی رونق آتی ہے ۔ البتہ وہ طلبہ جو دور دراز سے یہاں تعلیم کےلیے آئے ہیں ، ان کی آمد سے خوشی ہوتی ہےکہ ہم انھیں گھر کی خوشی دینے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں ۔یہاں کا دستور ہے کہ شام کے وقت رفیق کار اپنی اپنی فیملی کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے گھر جاتے ہیں ۔

البتہ غیر مسلم رفیق کار بڑے جوش وخروش سے مبارک باد دینے آتے ہیں اور طرح طرح کی سوئیاں کھا کر تعریف کرتے نہیں تھکتے ۔ اور اب تو ہمارا یہ حال ہے ( شاید ہماری عمر کے لوگوں کا بھی یہی حال ہو) کہ بچوں اور دوستوں کی خوشی سے خوش ہوتے ہیں۔ لیکن ایک بات آخر میں یہ کہتا چلوں کہ ہم اپنے ملک کے دوستوں کو یہ تاثر دینے میں ضرور کامیاب ہوتے ہیں کہ ہمارا تہوار بہت پاکیزہ ہوتا ہے ۔

نزہت نسیم (میری بہن ) نے لندن سے لکھا

  ہم  لوگ کیسے عید مناتے ہیں ؟؟؟ یہ ایکا ا یسا سوال  ہے جس میں میری بہت ساری یادیں چھپی ہوئی  ہیں ۔ چلیئے میں آپ سب کو اپنے ساتھ اپنے گھر لیئے چلتی ہوں تاکہ اس بار ہم سب ایک ساتھ عید منایئں ۔۔   

جب سے میں نے شعور ی طور پر آنکھیں کھولی ہیں ۔ میں نے   اپنے گھر کے مہکتے  ہوئے  آنگن میں اپنے بڑوں کو ہمشہ خوشیوں کو مناتے اور بانٹتے ہوئے  دیکھا ہے ۔۔ یہ سلسلہ جو کے ہماری بی بی  جی (داد ی جی ) سے شروع ہوا تھا  اور اب تک امی ابا جی کی وجہ سے جاری وساری  ہے ۔

 کراچی میں خاندان میں سب سے بڑاگھر ہونے کے ناطے سب چچا چاچی اور جو اس وقت جراچی میں موجود ہوتا تھا سب ہمارے گھر میں جمع ہوکرعید کی خوشویوں کو دوبالا کرتے تھے ،اور اب جب سے یہاں لندن میں شفٹ ہوئے  ہیں بلکل اسی طریقے سے عید کو مناتے ہیں ۔

 ہم سب  بہن بھائی  ابّا جی کے گھر جمع ہوتے ہیں سب مرد حضرت نماز پڑھنے مسجد میں جاتے ہیں اور گھر میں ساری بھابھیاں مل کر مختلف اقسام کے پکوان کا  گھر میں اہتمام کرتیں ہیں ۔ شادئ کے بعد سے میں اپنے ہی گھر میں مہمان ہوتی ہوں اور گھر میں چھوٹی ہونے کا فایدہ اٹھتے ہوئے    کچھ بھی نہ کر کے صرف تیار ہو کر سب کا  انتظارکرتی ہوں ۔

بھابھیاں بھی  تیار ہوکر میرے ساتھ انتظار میں شامل ہو جاتی ہیں ، پھر ابّا جی اور  بھائیوں کی واپسی پی سب گلے ملتے ہیں ایک دوسرے کو مبارک باددیتے ہیں ۔ امی جی اور ابّا جی کے ساتھ مل کر سب ناشتہ کرتے ہیں۔ باجی  نگہت نسیم کو آسٹریلیا  اور باجی  دلشاد نسیم کو لاہور فون کر کے باری باری سب عید کی مبارکباد دیتے ہیں ۔

  بچون  کا ہنگامہ اتنا ہوتا ہے کے کان پڑی آوازنہیں آتی مگر اس دن سب کو  معافی ہوتی ہے پھر امی جی عیدی دینے کا سلسلہ شروع کرتی  ہیں ابّا جی کے  بھی ہم سب پیچھے پڑکے عیدی نکل واتے ہیں پھر بڑے بھائی (شہزاد نسیم  بھائی )کی باری آتی ہے اسی طرح سب سب ایک دوسرے کو کوئی نہ کوئی گفٹ دیتا ہے ۔ پھر مہمانوں کی آمد کا  سلسلہ چل پڑتا او  اسی طریقے سے پورے دن مہمان نوازی چلتی رہتی ہے ۔
  
بھائی منظور قاضی نے جرمنی سے لکھا
 
محترمہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ
سلام ودعا
میں اپنے پیاروں سے بہت دور ہوں سو عید کے دن بھی میں میں زیادہ تر وقت کتابیں پڑھتا ہوں اور نیٹ پر مختلف نیوز پیپرز پڑھتا ہوں اور ساتھ ساتھ خبر سے متعلقہ وڈیوز بھی دیکھتاجاتا ہوں ۔ بس یہ ہے میری عید ۔۔ایک بات جو سب سے اہم ہے وہ ہے میری عالمی اخبار سے دوستی ۔ یہ اخبار میرا بہترین دوست ہے اس کے بغیر میں خود کو بہت تنہا سمجھتا ہوں ۔
دل کی گہرایئوں سے عالمی اخبار سے وابسطہ ہر شخص کو دلی عید مبارک     

پریزیڈنٹ آف فورم آسٹریلیا اینڈ فاؤندر آف بزم ادب کینبرا کے بھائی محمد علی نے کینبرا (آسٹریلیا ) سے لکھا
ڈیر نگہت بہن
سلام

سب سے پہلے تو مبارکباد لیجیئے اپنے خوبصورت مضمون “نسلی تعصب “ پر جو سڈنی کے رسالہ “رابطہ“ کے تازہ شمارے میں چھپا ہے  ۔ عید پر میں پہلے بہت کچھ لکھنا چاھتا تھا لیکن اب کچھ نہیں لکھا جا رہا جب سے سنا اور پرھا ہے کہ کراچی میں راشن کی لائن میں بھگڈر مچ گئی اور سولہ خواتین صرف ایک آٹے کی بوری کے حصول کی خاطر  جان بحق ہو گئیں ۔
کاش پاکستان کے قلمکار ، دانشور اور جرنلسٹ اس بڑھتی ہوئی غربت کا کوئی حل سوچ سکیں ۔ خواہش کرتا ہوں کہ یہ اس مہم کا آغآز عالمی اخبار کے پلیٹ فارم سے ہو ۔

باوجود اس کے میرا دماغ پاکستان کے گرتے ہوئے حالات پر ہی الجھا ہوا ہے لیکن پھر بھی عید کے دن اللہ کریم کا شکر بھی بجا لانا ہے ۔ عمومی طور پر عید کے دن عید کی نماز پڑھنے کے بعد میرے گھرپر پاکستانی اور آسٹریلین دوست آتے ہیں اور میرے ساتھ اس تہوار کو مناتے ہیں ۔
میں اللہ کریم سے دعا کرتا ہوں کہ اسی طرح ایک اور رمضان ہمیں دکھانا اور ہمیں عبادتوں کی توفیق دینا اور جو کی ہیں انہیں قبول فرمائے ۔
آیئے ہم سب مل کر اپنے پاکستانی بہن بھایئوں کے لیئے دعا کرتے ہیں کہ اللہ کریم انہیں اپنے حفظ و اماں میں رکھے ۔۔آمین
نیک تمناؤں کے ساتھ
محمد علی
(پریزیڈنٹ آف فورم آسٹریلیا اینڈ فاؤندر آف بزم ادب کینبرا )

مشہور افسانہ نگار  ،کالم نگار اور شاعر خاورچودھری نے لاہور سے لکھا
ڈاکٹربہنا!
سلام مسنون

حسب حکم عید کی مبارکباد کے ساتھ کچھ حال احوال

فجر کی نمازپڑھنے کے بعدسب سے پہلے قبرستان جاتا ہوں اور وہاں والدہ مرحومہ اوردوسرے رشتہ داروں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کرتا ہوں۔کچھ دیروالدہ کے قبر کے قریب بیٹھ کر دل کا غم ہلکا کرتا ہوں اور اُن کی محبتیں یاد کرکے آنسو بہاتا ہوں۔

گھرآکرہلکاساناشتہ کرتا ہوں اور پھر نماز پڑھنے عیدگاہ چلاجاتا ہوں۔ وہیں پر نماز کے بعددوستوں،رشتہ داروں سے ملاقات ہوجاتی ہے۔واپس گھر لوٹ آتا ہوں۔بہنیں اور دوسرے رشتے دار ملنے کے لیے آتے ہیں ،یوں عید کا پہلا دن گھر پر ہی گزرجاتا ہے۔البتہ دوسرے دن بزرگ ادیبوں سے ملنے جاتا ہوں

۔ایک زمانہ ہوا عیدکے لیے خاص اہتمام نہیں کیا۔ عموماًمیرے لیے نئے کپڑے نہیں سلتے،البتہ بچوں کی خوشی کا خیال رہتا ہے۔گویا میرے لیے عیدکادن بھی عمومی ہوتاہے۔
 لڑکپن میں فلمیں دیکھنے سینماجایا کرتا تھا،دوستوں کے ساتھ کسی پکنک پوائنٹ پر مگراب کہیں نہیں جاتا۔اس بارعید توتیمارداری میں گزرے گی۔

مشہور شاعر ، کالم نگار  ڈاکٹر ارمان نجمی بھائی ممبئی سے لکھتے ہیں

 آ پ نے مجھ سے عید منانے کے بارے میں دریافت کیا ہے تو مختصراً عرض کر دوں کہ میں نے ذاتی طور پر عیدمنا نا اور عید کا رڈ بھیجنا ترک کر دیا ہے۔

بابری مسجد کے انہدا م کے بعدمیرے اندر کو ئی شے ٹوٹ کر رہ گئی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میں دوسرے درجہ کا شہری ہوں۔رمضان کے آخری دنوں سے ہی مجھے ان تمام مقتولین و مہلو کین کا خیال پریشان کرنے لگتا ہے جو مندرجہ با لا سانحات میں جان سے گئے۔

صبح کو عید کی نماز ادا کرنے کے لئے پٹنہ کے میدان جو عید گاہ کی طرح استعمال کی جاتی رہی ہے جا تا ہوں اپنے عزیزوں اوربچوں کے ساتھ۔ لیکن نہ نئے کپڑے بنواتاہوں نہ بہ طور خاص ملنے ملا نے کا اہتمام کرتا ہوں۔نماز کے بعد اپنے بزرگوں کے مزارات پر فاتحہ خوا نی کو حا ضر ہو تا ہوں ۔پیر موہانی کا یہ قبرستان ہماری ہی طرح خستہ حالی کا شکار ہے کہ اس کا نصف حصہ ہمیشہ زیر آب رہتا ہے۔ اور میں کئی مزاروں تک پہنچ نہیں سکتا۔

اپنی قیام گاہ میں واپسی کے بعد اگر کوئی ملنے آ گیا توگلے مل کر اسے عطر پیش کرتا ہوں ۔ لیکن عید کی سچی خوشی مفقود ہو کر رہ گئی ہے۔ اپنی دعا ؤں میں افغانستان ، عراق، فلسطین، شیسان اور زنجیانگ، صومالیہ و کشمیر کے مظلو مین کے ساتھ دنیا بھر کے ستا ئے ہو ئے انسانوں کو یاد رکھتا ہوں جن کی فہرست بہت طویل ہے۔ آخر میں یہ کہ اپنے ذاتی دکھوں کو سیاست کی بساط نہیں بنانا چا ہتا۔ تو یہ ہے میری عید کا ایک اجمالی بیان۔

مشہور افسانہ نگار اور کالم نگار روبینہ فیصل نے کینیڈا سے لکھا

آسٹریلیا سے ڈاکٹر نگہت صاحبہ جو عالمی اخبار کی نائب مدیراعلی بھی ہیں اور بہت پیاری دوست بھی ہیں ،بار بار مجھے عید پرلکھنے کا کہہ رہی ہیں ۔

وہ جاننا چاہتی ہیں کہ ہم لوگ کینڈا میں عید کیسے مناتے ہیں ۔ ہم جیسے متوسط طبقے اور اوسط دماغ رکھنے والے عید منانے کا کیا انوکھا طریقہ رکھتے ہونگے ۔

انوکھا پن تو امراءکے دروازے کی لونڈی اور غریبوں کی قسمت ہے ۔ ہم جیسے لوگ تو اوسط ذہنی صلاحیتوں اور اوسط قسمتوں کے ساتھ بے رنگ اور اکتاہٹ کی حد تک ہموار سی ذندگیاں اور عیدیں گذارتے ہیں اوعام سی طبعی موت مر جاتے ہیں ۔ پاکستان میں ہوں ، کینڈا میں ہوں یا آسٹریلیا میں ۔۔عید یوں بھی منائی جاتی ہے ۔

مشہور شاعر اور کالم نگار  بھائی شاکر قریشی لندن سے لکھتے ہیں  
 
عید کی آمد پہ اک بہت پرانی  کاوش پیش ہے
اب  کے بھی عید آئی
مسرت خوشی میں ڈھل کے
مجھ  کو وہ یاد آیا
پیارا سا کارڈ 'پہلا'
جو میں نے تم کو لکھا
لفظوں کی اک لڑی میں
موتی کی پرو کے !!
جو تم کو اتنا بھایا
کہ
رکھا چھپا چھپا کے !!
وہ تم کو یاد ہو گا
ہاں ضرور یاد ہو گا !!
اتنا فقط  بتا دو
  وہ اب بھی پاس ہے کیا ??

مشہور شاعر، افسانہ نگار اور انشایہ لکھنے والے  بھائی  سید انورظہیر رہبر، برلن  سے لکھتے ہیں
 
برلن میں رمضان آتے  ہی  یہ  دعا شروع ہوجاتی ہےکہ  عید  سنیچر یا اتوار کو ہو ورنہ عام دنوں میں پھر چھٹی کا مسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ عید کے دن کا آغاز نہانے دھونے سے ہوتا ہے۔  پہلے جب ہم بچے تھے تو مجھے یاد ہے ہمارے ابو جان ( مرحوم )(اللہ تعالی انھیں اپنے جوار رحمت میں جگہ مرحمت فرمائے آمبن) تمام چھوٹے بیٹوں کو غسل کراتے جاتے اور بڑی بہنوں کے حوالے کرتے جاتے تھے اور بہنیں سبوں کو تیار کرتیں۔

 ایک تخت پر سفید چاندنی بچھائ جاتی اور اس پر سبوں کے کپڑے سجادیے جاتے تھے۔ اب چونکہ میں خود ہی گھرکا سربراہ ہوں اس لئے مجھے ہی سب سے پہلے نہا دھو کر تیار ہونا پڑتا ہے۔ ہمارے گھر کی ایک روایت اور بھی ہےاور وہ یہ کہ نماز کو جانے سے پہلے ہر کسی کو خشک کھجور یعنی چھوارے کو باریک کاٹ  کہ دودھ میں ڈال کر کھانے کو دیا جاتا تھا، چونکہ ہماری شریک سفر بھی ہمارے
خانوادے کی ہیں اس لئے انھوں نے بھی اس رسم کو جاری رکھا ہواہے۔

اس کے بعد ہم لوگ نماز کے لئے نکلتے ہیں۔ چونکہ ہم برلن سے ذرا باہر رہتے ہیں اس لئے سفر طے ہونے میں پون گھنٹہ تو لگ جاتا ہے۔ اس مرتبہ رمضان کی آمد پر برلن میں ایک نئ  پاکستانی مسجد کا افتتاع بھی ہوا جس کا نام اسلامی کلچر سینٹر رکھا گیا ہے، اس بار انشااللہ وہاں ہی نماز کی ادائیگی ہوگی۔ نماز سے واپسی پر ہم اپنی چھوٹی بہن کے لئے غبارے ضرور لاتے تھے اب اپنی بیٹیوں کے لئے کوئی نہ کوئی تحفہ مٹھائ ہی کی شکل میں کیوں نہ ہو ضرور لیتے ہیں۔

گھر پر سبوں سے عید مل کر گرم گرم سویاں کھائ جاتی ہے۔ پھر ہمارے ایک بڑے بھائ بھی برلن میں اپنی فیملی کے ساتھھ رہتے ہیںسب سے پہلے انھیں سلام کرنے اور عید ملنے جانا ضروری ہوتا ہے۔ یا کبھی وہ خود اپنی فیملی کے ساتھھ ہمارے گھرآجاتے ہیں۔ اس کے بعد ہی بچوں سے پوچھا جاتا ہے کہ اس سال عیدی کا ریٹ کیا چل رہا ہے۔ پھر دوستوں سے عید ملنے جاتے ہیں اور بعد میں بیگم کے ہاتھھ کے مزے مزے کے کھانے کھاتے ہیں۔    ۔۔


مشہور کالم نگار بھائی ظفر اقبال کراچی سے لکھتے ہیں

فجر کے بعدنماز عید کی تیاری اور نماز کے بعد ناشتہ۔بعد ازاں بیگم بچوں کے ہمراہ اپنے والدین کے ہاں جانا ہمارا معمول ہے۔جہاں تمام بہن بھائیوں کا اجتماع ہوتا ہے۔ جب ساس صاحبہ حیات تحیں تو شام کو ان کے ہاں جانا ہوتا تھا۔اب ان کی شفقت نصیب نہیں۔

اگلے روز بیگم کے بھائی ملنے آتے ہیں اور ہم ان کی بہنوں کے ہاں۔کچھ دوستوں کی آمد ہوتی ہے ۔کچھ کے ہاں ہم ملاقات کے لئے چلے جاتے ہیں۔بس یہ ہے کل عید ۔۔۔


مشہور کالم نگار اور نیٹ کے اخبار آگ کے چہف ایڈیٹر بھائی حسین افسر لکھتے ہیں

لکھنو کا ميرا غریب خانہ ایک ٹوٹا پھوٹا لیکن  قدیمي آثار کا پتہ دينے والا ایک  گھونسلا ہے۔ صبح سے شام تک عید کے روز اہل محلہ مجھے مبارکباد دینے آتے ہیں۔ یہ وہ شہر ہیں جہاں ہندو۔مسلم کا اتحاد قابل رشک ہے،عید کے دن بھی محلہ کے اہل ہنود آتے ہیں اور ساتھ میں مٹھائی  ہوتی ہے۔

 گلے لگتے ہیں چھوٹے میرے پیر چھوتے ہیں۔ میں انکو عیدی دیتا ہوں اور دیر تک محفل سجی رہتی ہے۔ سیوئیاں، کباب اور پلاؤ مہمانوں کو کھلایا جاتا ہے جو سبزي خور ہوتے ہيں انکے لئے تکونے،نمک پارے اور شیریني  کا اہتمام ہوتا ہے۔

 ہندو صاحبان شعر و شاعری کے بھي خوب شوقین ہوتے ہيں ،کھ موضوع ، کچھ نا موزوں۔سب ہی طرح کي شعر و شاعری ہم سب کی دلچسپی کا سبب بنتي ہے

 مشہور کالم نگار محمد اعظم عظیم اعظم کراچی سے لکھتے ہیں

ڈاکٹر نگہت صاحبہ!

میں اپنی  43سالہ عید کے روز کی مصروفیات بھول چکا ہوں ۔آج کی عید میرے لئے میری زندگی کی عظیم ترین خوشیاں سمیٹ کر لائی ہے ۔
میں بے اولاد تھا یہ میرے اللہ رب العزت کا مجھ پر کرمِ خاص ہے کہ اِس عید سعید پر اُسنے مجھے شادی کے 16سال بعد ایک بہت پیارا بیٹا اپنے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفی کے صدقے میں عطاکیا ہے جس کا نام میری والدہ نے محمد سمعید اعظم رکھا ہے ۔

 آج میں گزشتہ عیدوں کی مصروفیات کو توبھول چکاہوں اور اِس عید پرمیں آج صبح ہی سے اِسے اپنی گود میں لیئے بیٹھا ہوں یوں آج کی میری عید میری زندگی کی 43سالہ عیدوں کی خوشیوں میں سے ایک عظیم خوشی ہے۔

ویسے اللہ کے فضل سے ہم پانچ بھائی ہیں اور اِن میں سب سے بڑامیں ہوں۔ میرے عید کے دن کی مصروفیات یہ رہی ہیں کہ میں صبح اٹھتاہوں اورنمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد نمازِ عید کی تیاریاں شروع کردیتاہوں۔نماز عید کی ادائیگی کے بعدجب اباحیات تھے تو ابااور اماں سے عیدی وصول کرتے تھے مگر جب سے اباکاانتقال ہواہے تو اب ہم سب بھائی اماں سے عیدی وصول کرتے ہیں ۔

 اِس کے بعد کیوں کہ میں بھائیوں میں سب سے بڑاہوں تو میں اِن میں اور اِن کے بیوی ، بچوں میں عید ی تقسیم کرتاہوں اور اِس کے بعدپھر ہم سب مل کر قبرستان جاتے ہیں۔جہاں والد صاحب کے قبر پر فاتحہ پڑھ کرقبرستان سے آنے کے بعد عید کے دن کے دیگر پروگراموں کی تیاریوں میں لگ جاتے ہیں۔

ابھرتے ہوئے کالم نگار اور عالمی اخبار کے بلاگ کے نگران شعیب صفدر کراچی سے لکھتے ہیں 

ہم عید کیسے مناتے ہیں؟  مشکل جواب ہے! دراصل ہمارے بچپن میں عید کا دن ایک طرح سے آزادی کا دن ہوتا تھا مگراب حالات مختلف ہیں۔ والدہ صبح اُٹھاتی ہیں تو نہانے کے بعد کچھ دیر قرآن کی تلاوت لازمی کرنا ہوتی ہے پھر نمار عید کے لئے مسجد کا رُخ وہاں سے واپسی پر دوست احباب و اہل محلہ سے عید ملتے ملاتے گھر آتے ، پہلے میٹھے پر ہاتھ صاف کرتے تھے اور پھر والد صاحب سے عیدی لی اور گھر سے باہر نکل گئے ۔

دونوں عیدیں اور چودہ اگست سال میں یہ تین دن ایسے ہوتے تھے جس میں ہمیں گھر والوں کی طرف سے خاموش سی اجازت تھی محلے سے باہر جانے کی اور اس لئے یہ دن ہمارے لئے نہایت قیمتی دن ہوتا تھا اور اسے ہم آوارہ گردی اور دوکان سے آئس کریم لے کر کھانے میں خرچ (ضائع) کرتے تھے۔

اب ہم بڑے ہو گئے ہیں دوستوں کا یہ خیال ہےلہذا آب عید کےدن نماز کے بعد گھر  و گلی میں اہل مخلہ سے ملاقات کرتے ہیں ، دوپہر میں ٹی وی دیکھتے ہیں اور شام میں کسی ایک مقام پر محلے کے ہم عمر دوستو ں کے ساتھ اچھی بیٹھک ہوتی ہے۔ عید کا دوسرا دن نہایت اہم رہا ہے اوراس دن کراچی میں رہائش خاندان کے تمام افراد ایک جگہ اکھٹے ہوتے ہیں اور تمام دن ایک ساتھ گزرتا ہے۔ یہ ہے ہماری عید۔

مشہور کالم نگار عارف محمود کسانہ سویڈن سے لکھتے ہیں

بلا شبہ عید ھم مسلمانوں کا ایک بہت بڑا دینی اور ملی تہوار ہے جو رمضان المبارک کے اختتام پر ایک جشنِ مسرت کی حیثیت سے منایا جاتا ہے۔ چونکہ ماہِ رمضان میں قرآنِ حکیم کا نزول ہوا تھا اور اس خوشی میں عید در اصل جشنِ نزولِ قرآن ہے۔ اسی لیے دنیا بھر کے مسلمان اسے جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ پاکستان اور جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں وہاں تو اس دن کے کیا کہنے ہر طرف گہماں گہمی رنگ و نور کا سیلاب ہوتا ہے۔

 اب یہ سب سویڈن میں کیسے ہو سکتا ہے مگر پھر بھی عید تو منانی ہے چاہے وہ ماحول میسر نہ ہو۔ خود بھی یہ دن منانا ہوتا ہے اور بچوں کو بھی بتانا ضروری ہے۔ لیکن اب تو پاکستان میں بھی کا وہ مزا نہیں رہا۔ حالات نے سب کچھ بدل کے رکھ دیا ہے۔ اب تو وہاں بھی لوگ گھروں میں بیٹھے ہماری طرح ہی یہ دن منا تے ہیں۔

البتہ عید کے بڑے بڑے اجتماع ضرور ہوتے ہیں مگر عیدِ آزاں شکوہ ملک و دین عیدِ محکوماں ہجومِ مومنیں یہاں سویڈن میں مختلف تنظیموں کی موجدگی نہایت اہمیت کی حامل ہیں اور یہ عید کے موقع پر عید ملن پارٹیوں کا انعقاد کر کے اس دن کو باہم مل کر منانے کا اہتمام کر کے کمی پوری کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس دفعہ عید چونکہ اتوار یعنی چھٹی کے دن آنے سے مزا آئے گا اور اسی دن شام کو ہماری پاکستانی ایسوسی ایشن مل کر عید منا رہی ہے۔

تمام باتیں بھلا کر خوشی کے اس دن کو خوب مزے سے منانا چاہیے۔ میں تو یہی کروں گا مگر عید کے چاند کو کون سمجھائے کیونکہ
ہلالِ عید ہماری ہنسی اڑاتا ہے۔

بھائی امین ترمذی ( امریکہ ،ڈلس ) تلمیذ فاطمہ (ڈلس)  محمد ادریس (فیصل آباد ) ، بھائی ، بھائی ابو ظفر (دہلی) ،غزالہ رشید (کراچی)  بھائی فیاض امر (سندھ) ، بھائی امتیاز لغاری (حیدرآباد)   ، دلشاد نسیم (لاہور) بھائی اصغر انصاری (ممبئی) ، بھائی آصف جیلانی (لندن ) ،، محترم عارف نقوی بھائی (برلن) سید اقبال حیدر (جرمنی) ، بھائی عباس ملک (سیکسر خوشاب ) ، بھائی امجد شیخ (سویڈن ) ، آپا ڈاکٹر پنہاں (امریکہ) ، بھائی ظفر جعفری (امریکہ)‌ ،بھائی امجد مرزا (لندن) ‌، فریدہ لاکھانی (سڈنی)‌ ، بھائی سلیمان جاذب (دوبئی)‌ ,اشرف حماد بھائی (سرینگر) ،  سیدہ ثناہ شاہ (برمنگھم ) ، سایئں رحمت ناتھن شاہ (سویڈن ) ، محمد عظیم  اعظم  (کراچی) ، بھائی ڈاکٹر شبیر احمد خورشید( کراچی)  ,سیمیں برلاس (لندن) ، بھائی عالم نقوی (ممبئی) ، بھائی ظہور احمد سولنگی (اسلام آباد) اور سائرہ بتول ( لندن ) نے  خاص طور پر نیک خواہشات اور دعاؤں کے تحفے بھیجے ہیں ۔۔ بہت بہت شکریہ ۔۔

بابا (جناب صفدر ہمدانی ) کے بارے میں کیا لکھوں سوائے اس کہ  وہ اس ادارے کے سرپرست اور ہم سب کے لیئے مشعل راہ ہیں ۔۔لندن سے لکھتے ہیں ۔


عید پر مجھے اپنی جنت مکانی ماں جی اور آغا جی بہت یاد آتے ہیں جنکی محبت عید کے دن کی خوشیوں کو حقیقی رنگ دیا کرتی تھی اور  پچاس کے عشرے کے وسط میں پہلے آٹھ آنے اور پھر ایک روپیہ ملنے والی عیدی جیسے ہفتے بھر کے لیئے بہت ہوتی تھی۔

 میرے دو بڑے بھائی اور دو بڑی بہنیں ہیں اور مجھ سے چھوٹی دو بہنیں ہیں ، علیہ اور صفیہ ۔۔ صفیہ سے مجھے بہت پیار ہے ۔ عید کے دن اسے بہت یا دکرتا ہوں اور  فون کا شکرگزار ہوتا ہوں کہ رابطوں کی کوئی سبیل تو ہے  ۔

عید کے حوالے سے بہت کچھ یاد آ جاتا ہے ۔۔ مجھے قتلمے اور فرائڈ فش بہت پسند ہے ۔ عید سے جڑی ایک یاد آپ کو بتاتا چلوں ۔ عید پر ملنے والی عیدی سے میں نے گھر والوں سے چھپ کر محلے کے پکوڑوں والے سےفرایڈ فش خریدی اور اپنے گھر کی چھت پر چلا گیا ۔ اور اندھیرے میں جلدی جلدی کھانے لگا کہ کوئی آ نہ جائے  ۔ اسی دوران ایک بڑ اسا کانٹاحلق میں پھنس گیا پر میں نے کوئی خیال نہ کیا اور سوچا کہ ابھی ٹھیک ہو جاتا ہے کہ ابھی ۔پہلے خوب پانی پیا بھر سوکھی روٹی کھائی  لیکن ایسا کچھ نہ ہوا اور مجھے اپنے بڑے بھائی مجتبی جوآجکل سپریم کورٹ کے وکیل بھی ہیں انہیں بتانا پڑا اور وہ مجھے ہوسپٹل لے کر گئے اور پھر کہیں جاکر اس کانٹے سے نجات ملی  ۔

حلق کا جو حال ہوا سو ہوا  لیکن ا سکے بعد کئی عیدوں تک ایک خفیہ آدمی میری نگرانی پر رھتا تھا کہ کہیں میں پھر فرایڈ فش نہ کھا لوں ۔

آج کل تومیں بس گوشہ نشین ہو گیا ہوں ۔عید کس دن ہو گی کوئی علم نہیں ہوتا۔تین عیدوں پر بھی مسلمان خوش ہوتا ہے اور اسے اللہ کی رحمت کہتا ہے۔اسی لیئے دو برس سے مسجد کی بجائے گھر میں اپنے بیٹے محمد کے ساتھ  عید کی نماز پڑھ لیتا ہوں ۔ مجھ سے زبردستی کسی سے گلے نہیں ملا جاتا ۔

 کہیں جانا کوئی خاص اچھا نہیں لگتا ، بامر مجبوری جاتا ہوں۔ لیکن اس بار عید اپنی بیٹی زہرا اور داماد ندیم کے ساتھ کرونگا کہ یہ ان کی شادی کے بعد  پہلی عید ہے ۔ میری اہلیہ ماہ پارہ نے جس محبت سے تیاریاں کی ہیں اس سے یوں لگ رہا ہے جیسے ہم سب کی بھی یہ پہلی عید ہو۔۔ آپ سب کو عید کی نیک تمناؤں کے ساتھ خوشیوں کی دعایئں ۔۔ عید مبارک

دوستو اس عید کی خصوصی رپورٹ کا اختتام میں بابا ( جناب صفدر ہمدانی ) کے تاثرات اور دعاؤں کے ساتھ ختم کرتی ہوں ۔۔ اور اس دعا کے ساتھ اللہ پاک ہمیں ایسی ھی ہزاروں عیدیں اپنے اہل خانہ اور دوستو کے ساتھ  منانے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔ اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونے کا ہنر اور دلوں میں کشادگی عطا فرمائے  ۔۔آمین

عالمی اخبار کی جانب سے آپ سب کو اور تمام قاریئن کو دلی عید مبارک باد ۔۔


:دیگر مضامین
(17.07.2015) ہماری عیدیں ۔۔۔مظہرِ اِتحاد یا علامتِ اِنتشار؟۔۔۔۔ از ۔۔۔ عزیز بلگامی
(16.07.2015) آج کا انتخاب۔شب قدر کو رمضان کی آخری طاق راتوں میں تلاش کرنا
(15.07.2015) خود شناسی کے لیئے ماہ رمضان سب سے افضل ہے ۔۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(13.07.2015) مخدومۂ دارین سیدہ خدیجۃالکبریٰ (س) تاریخ سازخاتون
(12.07.2015) شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔۔۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(09.07.2015) انیس رمضان شب ضربت سے اکیس رمضان یوم شہادت تک
(07.07.2015) مولائے کائنات ، فاتح خیبر، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کا یوم شہادت
(05.07.2015) رمضان ہی میں بدر میں کامیابی اور رمضان ہی میں فتح مکہ ہوا
(01.07.2015) اظہرالمن الشمس حقیقت کہ سیدنا اویسِ قرنی عشقِ رسالت سے معمور تھے
(29.06.2015) مہوش نور کا مقالہ ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم کے افسانوں کا تجزیاتی مطالعہ
(27.06.2015) اہل فلسطین کے رمضان المبارک کےمعمولات کیا تھے؟یادوں کے جھروکوں سے!
(25.06.2015) کویت میں انجمن تخلیق و تہذیب کویت کی بانی اور صدر شاہین رضوی
(23.06.2015) کویت میں رمضان کی بہار اور عبادت کی پھوہار ۔ از ۔ شاہین اشرف علی
(20.06.2015) استقبال رمضان کے متعلق رحمت للعالمین حضرت محمد(ص ) کا خطبہ
(18.06.2015) شاعرہ فرخندہ رضوی اور مصورہ ناہید اختر چٹھہ کی عالمی اخبار میں شمولیت
(17.06.2015) مرثیہ نگار سید آل رضا دس جون 1896 کو پیدا ہوئے تھے
(16.06.2015) پیرس ادبی فورم کے زیر اہتمام پہلا عالمی مشاعرہ ۔ رپورٹ پیرس ادبی فورم
(13.06.2015)  سیّد شاہِد حُسین رِضوی صاحِب کی رِہائِش گاہ پرجشنِ انوارِ شعبان
(10.06.2015) اسپین کے شہر ویلنشیا میں ایک دوسرے پر ٹماٹر پھینکنے کا سالانہ میلہ
(09.06.2015) آکسفورڈ یونیورسٹی کی تاریخ کی پہلی خاتون وائس چانسلر نامزدہو چکی ہیں



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں