14.10.2026, 08:41pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اور باب تحریر ہوا
25.03.2008, 12:24am , منگل (GMT+1)

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اور باب تحریر ہوا



یوسف رضا گیلانی کو 264 اور انکے مسلم لیگ ق کے حریف سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی کو 42 ووٹ ملے۔ اپنی پہلی تقریر میں یوسف علی گیلانی نے کہا کہ میرا پہلا کام قومی اسمبلی سے یہ قرار داد منظور کروانا ہے کہ اقوام متحدہ بے نظیر کے قتل کی تحقیقات کرے۔انہوں نے گرفتار شدہ ججوں کی قوری رہائی کا بھی حکم دیا۔
پاکستان میں 18فروری کے انتخابات کے نتائج کے تناظر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چوتھے اور ملک کے 24 ویں وزیراعظم کا انتخاب آج 24 مارچ بروز پیر ہو گیا ہے اور یوسف رضا گیلانی 264 ووٹ لے کر پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہو گئے ہیں۔

یوسف رضا گیلانی کو  264 اور انکے مسلم لیگ ق کے حریف سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی کو  42 ووٹ ملے۔

اعلان کے بعد پورا ایوان بہت دیر تک ‘‘گو مشرف گو‘‘ کے نعروں سے گونجتا رہا اور اسی دوران قائد ایوان کے طور پر یوسف رضا گیلانی نے اپنی افتتاحی تقریر شروع کی۔

انہوں نے کہا کہ میں سب سے پہلے بلاول بھٹو،اسفند یار ولی،نواز شریف،مولانا فضل الرحمٰن  اور ایم کیو ایم کا دیگر جمیعتوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنکی وجہ سے بے نظیر بھٹو کا جمہوریت کا مشن پورا ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ لمحہ کسی نے ہمیں خیرات میں نہیں دیا اس کے پیچھے بے پناہ قربانیاں ہیں۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کو مل کر اس قوم اور ملک کو مصائب سے نکالنا ہو گا اور مجھے یقین ہے کہ ہم سب مل کر اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گے۔
ہمیں اگر ملک کو کامیاب کرنا ہے تو آئین کی پاسداری اور پارلیمان کی برتری ضروری ہے اور ہم عدلیہ اور صحافت کے ساتھ تمام اداروں کو مضبوط بنائیں گے۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ میں پاکستان کے عوام کا ممنون ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے گا اور مجھے پورا یقین ہے کہ ہم اس ملک کے مسائل کو کم کر سکیں گے کیونکہ ہم عوام کے ترجمان ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے پورے ایوان کے تعاون کی ضروت ہے اور ہمیں ملکی ترقی اور استحکام کے لیئے مل کر کام کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا پہلا کام قومی اسمبلی سے یہ قرار داد منظور کروانا ہے کہ اقوام متحدہ بے نظیر کے قتل کی تحقیقات کرے اور ذوالفقار علی بھٹو کے قتل پر قوم سے معافی مانگی جائے۔

انہوں نے گرفتار شدہ تمام ججوں کی فوری رہائی کا حکم دیا۔

سید یوسف رضا گیلانی کی تقریر کے بعد ایوان میں حذب مخالف کے قائد چوہدری پرویز الہی نے نئے وزیراعظم مو مبارکباد پیش کی اور سیاست میں انکے لمبے سفر کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ مجھے یقین ہے نئے وزیر اعظم مثبت کاموں میں ہمیں اپنے ساتھ پائیں گے اور ملکی مفاد کے کاموں میں ہم انکی حمایت کریں گے۔

چوہدری پرویز الہی نے کہ ہمیں یقین ہے کہ نئی حکومت پاکستان کے غریب عوام کے لیئے کام کرے گی اور بیروزگاری میں کمی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ تعلیم کے شعبے میں خاص طور پر توجہ دی جائے اور ہم انکے وہ وعدے یاد دلاتے رہیں گے جنکی بنباد پر انتخاب لڑا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سیاسی انتقام سے بھی پرہیز کرے۔

انکے بعد مخدوم امین فہیم نے اپنی تقریر میں ایوان کی عزت و حرمت کی بات کی اور کہا کہ اس ایوان کو غیر جانبدار طور پر چلانے کی ذمیداری سپیکر ہے اور جمہوریت نظم و ضبط کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ مخدوم امین فہیم نے کہا کہ کسی طالع آزما کو ایک بار پھر شب خون مارنے کا موقع نہیں دینا چاہیئے۔

مخدوم امین فہیم کی تقریر کے بعد اسمبلی کا اجلاس مغرب کی نماز کے لیئے ملتوی کر دیا گیا

نماز مغرب پندرہ منٹ کے وقفے کے بعد قومی اجلاس کا دوبارہ شروع ہوا تو مسلم لیگ ن کی طرف سے چوہدری نثار نے یوسف رضا گیلانی کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ وہ اس سرزمین کے بیٹے ہیں اور انہیں کسی نے باہر سے ہم پر مسلط نہیں کیا۔انہوں نے آئین کی پاسداری اور عدلیہ کی آزادی کے ساتھ ججوں کی بحالی پر بھی زور دیا۔

چوہدری نثار کے بعد قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے نئے وزیر اعظم کو مبارکباد دی اور حکومت سے اپنے تعاون کی بات کی اور کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے فرسودہ نظام کو تبدیل کر کے عوام کی حاکمیت قائم کی جائے۔

انکے بعد نیشنل عوامی پارٹی کے قائد اسفند یار ولی نے اپنے خطاب میں نئے وزیر اعظم کو مبارکباد دی اور توقع ظاہر کی کہ اب ملک میں جمہوریت کا پودا پروان چڑھے گا۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قربانیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ان قربانیوں کے بعد اب ہمیں اقتدار نہیں اختیار حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی طرح سیاسی قیدیوں کو بھی رہا کیا جائے۔اسفند یار ولی نے کہا کہ ہمیں اپنے ہاں کے لوگوں سے بات کرنی چاہیئے کیونکہ سیاسی مسلے کا حل فوجی اقدامات سے نہییں نکل سکتا اس لیئے بلوچستان اور فاٹا کے بزرگوں سے بات کرنا پڑے گی اور سیاسی اور اقتصادی خود مختاری دینا ہو گی۔

اسفند یار ولی کے بعد جمعیت علمائے اسلام ف کے قائد مولانا فضل الرحمٰن نے بھی نو منتخب وزیر اعظم کو نیا منصب سنبھالنے اور قائد ایوان کا کردار سنبھالنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ اس موقع پر ہمیں افہام و تفہیم کا مظاہرہ کرنا ہو گا

ان تقاریر کے بعد سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس غیر معینہ عرصے تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔

قبائلی علاقوں کے اراکین قومی اسمبلی،ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعتوں کے علاوہ مسلم لیگ ف کے دو ارکان رینا کماری اور جہانگیر ترین نے بھی یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیئے۔

ملکی سیاسی تاریخ میں پہلی بار مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی اتحادی حکومت تشکیل پائے گی۔

آج کے اجلاس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے کی

اجلاس کے شروع میں انہوں نے کاروائی کا طریق کار بتایا۔کاروائی سے قبل انہوں نے امیدواروں کے نام پڑھے اور پانچ منٹ کے لیئے گھنٹیاں بجائی گئیں۔

مسلم لیگ ق کی کشمالہ طارق گھنٹیاں بجنے کے بعد ایوان میں داخل ہونے لگیں تو انہیں اندر آنے سے سپیکر نے منع کر دیا۔

وزارت عظمیٰ کیلئے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز سمیت اتحادی جماعتوں کے مشترکہ امیدوار مخدوم سید یوسف رضا گیلانی اور مسلم لیگ ق کی طرف سے چوہدری پرویز الہی مد مقابل تھے۔

قائدِ ایوان یعنی وزیراعظم کا انتخاب کھلی رائے شماری سے ہو گا۔قومی اسمبلی میں کل اراکین کی تعداد 342 ہے اور کسی بھی کامیاب امیدوار کو 172اراکین کی حمایت حاصل ضروری تھی۔

منتخب وزیراعظم اپنی کابینہ کے ہمراہ 25 مارچ منگل کی صبح 11بجے ایوان صدر میں حلف اٹھائیں گے اور صدر پرویز مشرف ان سے حلف لیں گے۔اب یہ بھی علم ہوا ہے کہ وزیراعظم اکیلے یہ حلف لیں گے اور ممکن ہے کہ اس تقریب میں آصف زرداری اور میاں نواز شریف بھی شامل نہ ہوں۔ حلف کے بعد وزیر اعظم اعتماد کا ووٹ لیں گے اور پھر اپنی کابینہ تشکیل دیں گے جو اپنا حلف لے گی۔

درایں اثنا قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کی طرح وزارت داخلہ نے اس مرتبہ اس مرتبہ بھی 24مارچ کے اجلاس کے لیئے سیکیورٹی کے پہلے والے انتظامات کیئے ہیں اور پارلیمنٹ ہاؤس شاہراہ دستور اور اس سے ملحقہ علاقے کو ہائی سیکورٹی زون قرار دے دیا گیا ہے۔

قیام پاکستان سے نئے وزیراعظم تک پاکستان مسلم لیگ سے 11، پاکستان پیپلز پارٹی سے 4، اسلامی جمہوری اتحاد کے 3، عوامی لیگ 1، ریپبلکن پارٹی 1 اور 4نگران وزراء اعظم رہے ہیں۔

بظاہر یہ بات یقینی ہے کہ آج یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم منتخب ہوجائیں گے اور ایسی صورت میں وہ ملک کے ایسے دوسرے منتخب وزیراعظم ہونگے جو اس سے قبل قومی اسمبلی کے سپیکر کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

اس سے قبل پیپلز پارٹی کے ہی ایک سابق سپیکر قومی اسمبلی ملک معراج خالد ملک کے نگران وزیراعظم بھی رہے۔

تفصیلات کے مطابق اس سے قبل پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو بھی 14 اپریل 1972ء سے 12 اپریل 1972ء تک اس عہدہ پر فائز رہے تاہم ان کا عہدہ اسمبلی کے صدر کا تھا۔

وہ گیارہ ماہ اور 28 دن اس عہدے پر فائز رہے۔ ان کے بعد دوبار سپیکر رہنے والے ملک معراج خالد نگران وزیراعظم کے طور پر 5 نومبر 1996ء سے 17 فروری 1997ء تک خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ 1973ء کے آئین کے بعد سید یوسف رضا گیلانی کو یہ اعزاز حاصل ہو گا کہ وہ پہلے سپیکر ہونگے جو منتخب وزیراعظم ہونگے۔

 وہ 19 اکتوبر 1993ء سے 16 فروری 1997ء تک سپیکر رہے۔ ان کی مدت تین سال تین ماہ اور 29 دن رہی ہے۔

 پاکستان میں وزرائے اعظم کی تاریخ کے مطابق پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان 14 اگست 1947ء سے 16 اکتوبر 1951ء تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ ان کا تعلق پاکستان مسلم لیگ سے تھا۔

مسلم لیگ کے خواجہ ناظم الدین ملک کے دوسرے وزیراعظم رہے، وہ اس عہدہ پر 17 اکتوبر 1951ء سے 17 اپریل 1953ء تک فائز رہے۔

 پاکستان کے تیسرے وزیراعظم محمد علی بوگرہ کا تعلق بھی پاکستان مسلم لیگ سے تھا، وہ اس عہدہ پر 17 اپریل 1953ء سے 12 اگست 1955ء تک فائز رہے۔

پاکستان مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے چودھری محمد علی پاکستان کے چوتھے وزیراعظم تھے، وہ اس عہدے پر 12 اگست 1955ء سے 12 ستمبر 1956ء تک فائز رہے۔

عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والے ملک کے پانچویں وزیراعظم حسین شہید سہروردی اس عہدہ پر 12 ستمبر 1956ء سے 17 اکتوبر 1957ء تک فائز رہے۔

مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے اسماعیل ابراہیم چندری گر 17 اکتوبر 1957ء سے 16 دسمبر 1957ء تک ملک کے وزیراعظم رہے۔

ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے فیروز خان نون 16 دسمبر 1957ء سے 7 اکتوبر 1958ء تک ملک کے 7 ویں وزیراعظم رہے۔مسلم لیگ کے نور الامین 7 اکتوبر 1971ء سے 20 دسمبر 1971ء تک وزیراعظم و نائب صدر رہے۔ ان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے عام انتخابات کے نتیجہ میں معرض وجود میں آنی والی قومی اسمبلی میں قائد ایوان بنے، وہ ملک کے نویں وزیراعظم تھے۔ ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔

 پاکستان مسلم لیگ کے محمد خان جونیجو 1985ء کے عام انتخابات کے بعد ملک کے دسویں وزیراعظم بنے، وہ اس عہدہ پر 24 مارچ 1985ء سے 29 مئی 1988ء تک فائز رہے۔

1988ء میں پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم کے طور پر بے نظیر بھٹو نے حلف لیا، وہ ملک کی گیارھویں اور پیپلز پارٹی کی دوسری وزیراعظم تھیں، وہ اس عہدے پر 2 دسمبر 1988 سے 16 اگست 1990ء تک فائز رہیں۔

ان کے بعد غلام مصطفیٰ جتوئی نے پہلے نگران وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ وہ پاکستان کے بارھویں وزیراعظم تھے، وہ اس عہدے پر 6 اگست 1990ء سے 6 نومبر 1990ء تک فائز رہے۔

 ان کے بعد مسلم لیگ کے میاں محمد نواز شریف اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے 6 نومبر 1990ء سے 18 اپریل 1993ء تک ملک کے تیرھویں وزیراعظم رہے۔

ان کی حکومت ختم ہوئی تو بلخ شیر مزاری نے 18 اپریل 1993ء سے 26 مئی 1993ء تک نگران وزیراعظم کے طور پر چارج سنبھالا۔ عدلیہ کی طرف سے نواز شریف حکومت کی بحالی پر نواز شریف دوبارہ 26 مئی 1993ء سے 18 جولائی 1993ء تک وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے۔

معین قریشی نے نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے بعد تیسرے نگران اور پاکستان کے 16 ویں وزیراعظم کے طور پر 18 جولائی 1993ء سے 19 اکتوبر 1993ء تک کام کیا۔

 بے نظیر بھٹو دوسری بار جبکہ پیپلز پارٹی کے تیسرے وزیراعظم اور ملک کے 17 ویں وزیراعظم کے طور پر 19 اکتوبر 1993ء سے 5 نومبر 1996ء تک ملک کی وزیراعظم رہیں۔

ان کی حکومت ختم کی گئی تو معراج خالد 5 نومبر 1996ء سے 17 فروری 1997ء تک ملک کے نگران وزیراعظم رہے۔

عام انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ کے میاں محمد نواز شریف نے پاکستان کے 19 ویں وزیراعظم کے طور پر 17 فروری 1997ء کو یہ عہدہ سنبھالا اور وہ 12 اکتوبر 1999ء تک اس عہدہ پر رہے۔

پاکستان مسلم لیگ کے ظفر اﷲ جمالی 20 ویں وزیراعظم بنے۔ وہ اس عہدے پر 21 نومبر 2002ء سے 26 جون 2004ء تک فائز رہے۔

 پاکستان کے 21 ویں وزیراعظم ہونے کا اعزاز چودھری شجاعت حسین نے حاصل کیا، وہ اس عہدے پر 30 جون 2004ء سے 20 اگست 2004ء تک فائز رہے۔

چودھری شجاعت حسین کے بعد شوکت عزیز 20 اگست 2004ء سے 15 نومبر 2007ء تک پاکستان کے 22 ویں وزیراعظم رہے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مدت پوری کرنے والی قومی اسمبلی برخاست ہونے پر محمد میاں سومرو پاکستان کے 23 ویں وزیراعظم کے طور پر 16 نومبر سے اس عہدے پر نگران وزیراعظم کے طور پر فائز رہے

 جبکہ آج 24مارچ 2008 پیر کے روزکو پاکستان کے 24 ویں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی قومی اسمبلی میں منتخب ہو گئے ہیں۔

:دیگر مضامین
(18.03.2008) امام حسن عسکری کے حالات زندگی
(10.02.2008)  سڈنی میں ایک خوبصورت موسیقی کی شام
(22.01.2008) لکھنؤ عزاداری کا تاریخی مرکز
(04.01.2008) فرینکفرٹ میں جشن عید غدیر
(24.12.2007) ڈاکٹر نگہت نسیم کا‘‘مٹی کا سفر‘‘
(16.12.2007) وینس ٹی وی لندن کا مشاعرہ
(12.12.2007) برلن میں اردو ادب کی ایک تقریب
(01.01.1970) کہکشاں۔ علی سردار جعفری کی ایک کامیاب ادبی وڈیو سیریز
(01.01.1970) خدا کے پیارے نبی کے چچا ، امیر حمزہ امیر حمزہ۔از۔پیر سید علی عباس شاہ



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں