پاک ڈچ نیشنل فورم کایادگار مشاعرہ
سید اعجاز سیفی۔دی ہیگ
نیدر
لینڈ کے شہر ‘‘دی ہیگ‘‘میں رہنے والے پاکستانیوں نے وطن عزیز کا مثبت تشخص
اجاگر کرنے اور اپنی تہذیب و ثقافت سے مقامی افراد کو روشناس کروانے کے
ساتھ ساتھ اپنی نئی نسل کو بنیاد سے وابستہ رکھنے کے لیئے نومبر دو ہزار
چھ میں پاک ڈچ نیشنل فورم کا قیام عمل میں لایا۔
اس
غیر سیاسی تنظیم کے بنیادی مقاصد میں سے اہم ترین مقاصد ‘‘پاکستانی
کیمونٹی کی سماجی،ثقافتی،علمی اورادبی ضروریات کو پورا کرنا،مسلکی
گروہی،علاقائی اور لسانی وابستگیوں سے بلند ہو کر کیمونٹی کی خدمت
کرنا،کثیر الثقافتی معاشرے میں اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے آگے
بڑھنا،خواتین کو فعال طور پر متحرک کرنا اور بین المذاہبی مکالمے اور
اتحاد پر زور دینا ہے‘‘۔
اپنے قیام کے بعد سے یہ تنظیم اب تک اپنے
مقاصد کو آگے بڑھانے میں کافی حد تک کامیاب رہی ہے اور اسکا سہرا مقامی
افراد،نیدر لینڈ میں مقیم پاکستانیوں اور تنظیم کی فعال انتظامیہ کے سر
جاتا ہے جنہوں نے بہت تھوڑے سے وقت میں اپنا مقام بنایا ہے اورفقط دو سال
کے قلیل عرصے میں اسے ہالینڈ میں پاکستانیوں کی قابل فخر تنظیم کے طور پر
جانا جاتا ہے۔

‘‘پاک
ڈچ نیشنل فورم‘‘ تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے پاکستانی
بچوں کو اعزازات سے نوازنے کے علاوہ کیمونٹی کی فکری اور شعوری سطح بلند
کروانے کے لیئے بھی کامیاب تقاریب کا اہتمام کر چکی ہے۔
اس بار عید
میلاد النبی اور 23 مارچ کے حوالے سے 29مارچ ہفتے کے روز ‘‘دی ہیگ‘‘ کے
ایک مقامی ہال میں تنظیم نے‘‘بین ال یورپی‘‘ نعتیہ اور غزلیہ مشاعرے کا
اہتمام میں کیا جس میں خواتین وحضرات اور خاص طور پر نوجوانوں کی ایک بڑی
تعداد نے شرکت کر کے اس مشاعرے کو یادگار اور کامیاب بنایا۔

مشاعرے
کی باقاعدہ ابتدا تلاوت کلام پاک سے ہوئی جس کے بعد ‘‘پاک ڈچ نیشنل فورم‘‘
کے سیکرٹری سید اعجاز سیفی نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور شعرا کو اسٹیج
پر مدعو کیا
انہوں نے مشاعرے کی نظامت کے لیئے جرمنی سے آئے ہوئے
عالمی شہرت کے حامل شاعر اقبال حیدر کو دعوت دی جنہوں نے اپنے مخصوص انداز
میں مشاعرے کی نظامت کر کے اس مزید خوبصورت اور یادگار بنایا۔
اس
مشاعرے کی صدارت شاعر ،ادیب،محقق اور براڈکاسٹر صفدر ھمٰدانی نے کی جبکہ
مقامی شعرا میں عادل شاکر،احسان سہگل اور غزالہ ملک کے علاوہ یورپ بھر سے
جن شعرا نے اس کامیاب اور یادگار مشاعرے میں شرکت کر کے اپنا کلام پیش کیا
انکے اسمائے گرامی یہ ہیں۔بلجیم
سے عمران ثاقب،ناروے سے سلیم زیدی،جرمنی فرینکفرٹ سے عطا الرحمٰن،پیرس سے
اسد رضوی،جرمنی ہیمبرگ سے طاہرہ رباب، جرمنی فرینکفرٹ سے سید اقبال حیدر،
جرمنی برلن سے عارف نقوی اور لندن سے عبیدہ سید،فیضان عارف اور صفدر
ھمٰدانی۔
اس
بین الیورپی مشاعرے کے مہمان خصوصی نیدرلینڈ میں پاکستانی سفارتخانے کے
فرسٹ سیکرٹری خالد مجید تھے جنہوں نے ایسی تقریبات کے انعقاد کو کیمونٹی
کے لیئے نیک فال قرار دیا اور اس کے انعقاد پر تنظیم کو مبارکباد پیش کی۔
مشاعرے
کے پہلے دور میں ختمی مرتبت،رحمت کُل عالم اور رسول آخر حضرت محمد صلی الہ
و علیہ وآلہ وسلم کے حضور نعت خوانوں اور شعرا نے ھدیہ نعت پیش کیا جسکے
بعد دوسرے دور میں مہمان شعرا نے اپنی غزلیں اور نظمیں پیش کیں جن پر
حاضرین نے دل کھول کر داد دی۔

مشاعرے
کے صدر صفدر ھمدانی نے اس یادگار اور کامیاب مشاعرے پر‘‘پاک ڈچ نیشنل
فورم‘‘کے منتظمین کو مبارکباد دی اور اس امر پر مسرت کا اظہار کیا کہ
ہالینڈ کی سر زمین پر پہلی مرتبہ اس طرح کا یادگار مشاعرہ ہوا ہے جس میں
اول تو اتنی بڑی تعداد میں سامعین نے اور خاص طور پر خواتین سامعین نے
شرکت کی اور تین گھٹنے سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے اس مشاعرے کی
کامیابی کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس تمام عرصے میں کوئی سامع بھی محفل
کو چھوڑ کر نہیں گیا۔ انہوں نے کہا کہ مشاعرہ ہماری ادبی تہذیب کا ایک
ایسا اہم ستون ہے جس کے ذریعے بڑی سے بڑی بات کا ابلاغ بہت آسانی سے سامع
تک ہو جاتا ہے۔

مشاعرے
کے اختتام پر ‘‘پاک ڈچ نیشنل فورم‘‘کی جانب سے تنظیم کے صدر جناب احمد
نواز فردوسی نے حاضرین اور شعرا کا شکریہ ادا کیا جس کے بعد
جناب محمد فصیح شمسی نے شعرا میں یادگاری شیلڈ پیش کیں اور اختتام پر مہمانوں کی تواضع کی گئی۔

اس
تقریب کی کامیابی میں بلاشبہ میں‘‘پاک ڈچ نیشنل فورم‘‘ کے صدر جناب احمد
نواز فردوسی،نائب صدر جمیل احمد شیروانی،جائنٹ سیکرٹری انور علی
کاش،سیکرٹری امور مالیات سید یامین شاہ،ایڈیشنل سیکرٹری جاوید ایوب
،سیکرٹری جنرل سید اعجاز سیفی اور تنظیم کے دیگر فعال کارکنوں کی تین ماہ
کی محنت شامل تھی۔

اس
سے قبل 19 اگست 2007 بروز اتوار شہر کی بلدیہ کے ایک قدیم خوبصورت ہال میں
اسی‘‘پاک ڈچ نیشنل فورم‘‘ کے زیر اہتمام پاکستان کے ساٹھویں یومِ آزادی کے
حوالے سے ایک نہایت خوبصورت تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس کی صدارت
نیدر لینڈ میں پاکستان کے سفیر جناب سبطِ یحیٰی نقوی نےکی تھی اور خصوصی
مقررین کے طور پر لندن سے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار آصف جیلانی،انکی
افسانہ نویس اور شاعرہ اہلیہ محسنہ جیلانی، شاعر ،ادیب،محقق اور براڈکاسٹر
صفدر ھمٰدانی اور بلجیم سے تجزیاتی صحافت کے ایک بڑے نام مجاہد حسین
مدیر‘‘ماہنامہ مستقبل‘‘ اور ایک غیر سرکاری تنظیم کی سربراہ محترمہ صابرہ
بانونے شرکت کی تھی۔
