ام الاوصیا،شہربانو،سلام اللہ
پیر سید علی عباس شاہ
سجادہ نشین آستانۂ عالیہ کندھانوالہ شریف، ضلع منڈی بہاؤالدین
انا ابن الخیرتین
چو
تھے خلیفۂ رسول اکرم،اما م اہلبیت،سید الساجدین،زین العابدین،سیدنا و
مولانا و مرشدنا،حضرت امام علی ابن الحسین کا فرمان عالیشان ہے
،’’میںدوبرگزیدہ گروہوں کا فرزند ہوں،کیونکہ رسول اکرم نے فرمایا ہے کہ
خداوند عالم نے اپنے بندوں میں سے دو گروہوں کو برگزیدہ کیا ہے۔ایک عرب
میں سے جوقریش ہے اور دوسرا عجم میں سے جو فارس ہے‘‘۔

سیدنا
امام سجّاد، فرزندامام عالیمقام، سیدنا امام حسین شہید کربلا ہیں جوکہ
قریشی الہاشمی تھے اور آپ کی والدۂ ماجدہ ،فارس کے ساسانی حکمرانوں کے
آخری فرمانروا، یزدگردبن شہریار کی صاحبزادی ہیں۔سیدنا امام عالی
مقام،امام حسین فرماتے ہیں،
خیرۃ اللہ من الخلق ابی بعدجدی واناابن الخیرتین
فضۃ قد صیغت من ذھب فانا الفضہ ابن الذہبین
من لہ جد کجدی فی الوریٰ او کابی و انا ابن القمرین
فاطمہ الزھراء امی و ابی قاصم للکفر ببدر و حنین
و لہ فی یوم احد و قصہ شفہ الغل بعض العسکرین
تمام مخلوقات کے درمیان میرے نانا کے بعد میرے پدر گرامی برگزیدہ خدا ہیں،میں دونوںبرگزیدہ ہستیوں کا بیٹاہوں۔
چاندی سونے کے ساتھ آویزاں ہے اور میں دو طلاؤں کا نقرئی صاحبزادہ ہوں۔
کیا دنیا میں کوئی ہے جو میرے نانا کی طرح نانااور میرے والد کی مانند باپ رکھتا ہواور میں دو ماہ تاباں کا فرزند ہوں۔
میری والدہ فاطمہ زھراہیںاور میرے والد،بدرو حنین کے دن کفر کی کمر توڑنے والے ہیں۔
احد کے دن ان کے لئے ایک واقعہ پیش آیا،جس نے سپاہ اسلام میںسے بعض کی پیاس بجھا دی۔
عظمت نساء النبی :
سورۂ
احزاب میں ارشاد ربانی ہے، یَِِا نِسَآئَ الْنَبِیّ لَسْتُنَّ کَاَحَدِِ
مّّنَِ اْلنِّسَاء، اے میرے محبوب کی عورتو!دنیا کی کوئی عورت تمہاری
ہمسری و برابری نہیں کر سکتی۔اللہ رب العزت نے ایک معیار قائم فرما دیا ہے
کہ رسول کریم کے خانوادہ سے وابستہ مخدرات و مستورات ،ہر لحاظ مرتبہ
وفضیلت میںافضل النساء ہیںاور ہر دور میں ہر عظیم عورت سے ان کا مرتبہ اسی
طرح بلند تر ہے جیسے سرور کونین تمام مخلوقات میںازلی وابدی فضیلت و
افضلیت رکھتے ہیں۔امہات المومنین ہوںیاامہات الائمہ یا امہات السادات
،ہرمستورخانوادۂ نبوت کا فرد ہونے کے باعث مقام عظمت وفضیلت رکھتی ہیں۔
شاہ ولی اللہ دہلوی لکھتے ہیں کہ نساء النبی میںقیامت تک آنے والی حضور
پاک کی پوتیاںاور نواسیاں شامل ہیں اور ان کا احترام واجب ہے ۔

ائمہ
اہلبیت اطہار کی امہات ذی وقار نے ان اولیاء اللہ کی پرورش اور تربیت
فرمائی جو اسمائے الٰہی کے مظاہر قرار پائے۔انہی مخدرات کی مقدس گودوں سے
عالم انسانیت نے تاریخ میںنجات و فلاح کے راستوں کو پایااور ائمہ طاہرین
کے ساتھ ولایت کے مضبوط رشتوں کی بنا پر اندھیرے گھروں سے ملکوتی بلندیوں
کی معراج حاصل کی ۔یہ مقدس گودیںوہ کھیتی ہیںجہاں اشجار طیبہ پیدا ہوئے
۔جن کی جڑیںان مخدرات سے وابستہ تھیںاور شاخیںسدرۃالمنتہیٰ تک پہنچی ہوئی
ہیںکیونکہ ہمیشہ پاک مٹی ہی سے پاک درخت یعنی اشجار طیبہ اگ سکتے ہیں۔
حکم امیرالمومنین :
انہی
پاکیزہ مخدرات میںسے ایک مخدومہ سیدہ شہربانو سلام اللہ علیہا ہیںجو
جگرگوشۂ بتول،سیدنا امام حسین کی پہلی زوجۂ مقدسہ ہیں۔آپ صرف سیدنا امام
زین العابدین ہی کی والدہ ماجدہ نہیںبلکہ آپ کی عترت طاہرہ میں آنے والے
نو ائمہ اہلبیت اطہار کی بھی جدہ طاہرہ ہیں۔آپ کے احترام کا امیرالمومنین
سیدنا امام علی ابن ابی طالب نے خصوصی حکم دیتے ہوئے اپنے فرزند دلبند
سیدنا امام حسین سے فرمایا، اِحْتَفِظْ بِہَاوَاحْسنِاَلیْھَا،فَسَتلدلَک
خَیْر اَھْلِ الْاَرْض فِیْ زَمَانہ بَعْدَکْ ، اے میرے نور نظر !ان کی
اچھی دیکھ بھال اور حفاظت کرنا، ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا ،عنقریب یہ
تمہارے لئے بہترین خلائق فرزندپید اکریںگی۔ایک اور جگہ فرمایا، ھی اُمَّ
اْلاوْصِیآئِ الذّرِیۃالطّیبہ، یہ ذریت طیبہ کی ام الاوصیا ء ہیںیعنی ذریت
طیبہ میں سے جو اوصیا ء ہیں یہ ان کی ماں ہیں۔
امتیازات خصوصی :
سیدہ
شہربانو خصوصی امتیازات رکھتی ہیں۔آپ نے خاندان اشراف میں آنکھ کھولی جہاں
کا ماحول اسلامی اقدار سے قطعاً نا آشنا تھا ۔آپ نے اس کے باوجود نجاست
کفر وشرک اور کثافت و آلودگی سے خود کو محفو ظ رکھا۔آپ نے ساسانی سلطنت کے
پایۂ تخت ، خراسان کے شہر مَروْ میں آنکھ کھولی اور آغاز جوانی تک وہیں
زندگی گزاری۔آپ کے دو بھائی اور تین بہنیںتھیں۔بہرام اور فیروز بھائی جبکہ
کیہان بانو اور مروارید ہمشیرگان تھیں۔
اسمائے گرامی:

آپ
کے اسمائے گرامی سترہ ہیںجن میں سے بعض امیر المومنین امام علی اوربعض
سیدنا امام حسین کے عطاکردہ ہیں۔فاطمہ،مریم،ام سلمہ، ام
الاوصیا،شہربانو،سلامہ،شاہ زنان،خولہ،برہ بنت نوشجان،
حرار،شہرناز،خویلہ،سلافہ،شہربان،شہربانویہ،جہان شاہ، غزالہ صلوٰۃاللہ و
سلامہ علیہا۔
شاہ فارس:
صلح حدیبیہ کے بعد پیغمبر اعظم نے جزیرہ
نمائے عرب سے باہر تبلیغ اسلام کی خاطر حکمرانوں اور بادشاہوں کو خطوط
بھیجے اور ان کے اختتام پر محمدرسول اللہ کی مہر مبارک نقش فرمائی۔ان
بادشاہوں میں سے ایک خسروپرویز ،ایران کا بادشاہ بھی تھا۔جب حضور کا خط اس
تک پہنچا تو وہ سخت ناراض ہوا اورغصہ میں آکر آپ کے نامہ مبارک کی بے
ادبی کی اور پارہ پارہ کر دیا۔ا س کی اطلاع سرور کائنات کو ہوئی تو آپ نے
فرمایا، ’’خدا اسی طرح اس کی سلطنت اور حکومت کے بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا
‘‘۔اس واقعہ کے چند ہی روز بعد خسرو پرویز کو اس کے بیٹے شیرویہ نے فی
النا رکردیا۔ سپہ سالاروں میں بادشاہ ایران کی نامزدگی کے مسئلے پر اختلاف
پیدا ہواجس کے نتیجے میں یزدگرد بادشاہی کے لئے منتخب ہو گئے۔
کاشانۂ نبوت:

پینتیس
ہجری میں اسلامی سلطنت کے صوبے خراسان وہمدان میں بغاوت ہوئی جس کی سر
کوبی کے لئے مشرقی اطراف کے گورنر، حضرت حریث بن جعفر جعفی کو روانہ کیا
گیا،جنہوں نے بغاوت کو ختم کیا اور شاہ فارس کی دو صاحبزادیاں ، ا
میرالمومنین حضرت علی کی خدمت عالیہ میںمدینہ منورہ روانہ فرمائیں۔امیر
کائنات نے انہیں پہلے ہی آگاہ فرما دیا تھا کہ وہاں سے تم نے ہماری دو
امانتیں لانی ہیں، جس کے باعث وہ انہیں شایان شان طریقہ سے اور انتہائی
ادب و احترام سے لے کر آئے۔جب ان کے محمل مدینہ منورہ سے گزرے تو ان پر
مدینہ کی عورتوں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔جب یہ عظیم المرتبت خواتین
مدینہ منورہ پہنچیںتو آنحضرت نے سیدہ شہربانو کا عقد سیدنا امام حسین سے
فرما دیا اور حضرت کیہان بانو کوحضرت محمد بن ابی بکر کے نکاح میں دیاجن
سے حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکر متولد ہوئے۔
آپ کی مدینہ آمد کے بارے
میں سیدنا امام محمد باقر فرماتے ہیں،’’جس وقت آپ کو مدینہ لایا گیاتو
مدینہ کی تمام خواتین کے دلوں میںان کے لئے احترام کاجذبہ پیدا ہو گیا ۔ان
دونوں کی متانت، سنجیدگی اور وقار اس قدر تھاکہ جس وقت یہ مسجد میں وارد
ہوئیںتو ان کے چہرے کی نورانیت نے مسجد کو احاطے میں لیا ہوا تھا،پورا
مدینہ ان کے نور سے منور ہو گیا،سارے مدینے کی عورتیں ان کی زیارت کو نکل
آئیں اور ان پر پھول برسائے‘‘۔
پیغمبر اکرم کانکاح پڑھنا:
سیدہ شہر
بانو فرماتی ہیںکہ میں نے ایک رات مکاشفہ میں دیکھا،’’ہمارے محل میںحضور
اکرم اور امام حسین تشریف لائے اور ہمارے پاس بیٹھے۔ان کے ساتھ کچھ اور
مقدس ا ور نورانی لوگ بھی تھے ۔حضور اکرم نے گفتگو شروع فرمائی اورمجھ سے
اپنے نور نظرنواسے ،امام حسین کے لئے خواستگاری کی،اور جس وقت میری خاموشی
کو دیکھااور میری رضامندی کا احساس کیاتو اسی وقت آپ نے ہمارا نکاح
پڑھااور مجھے حضرت اباعبداللہ کی زوجہ کی حیثیت سے منتخب کیا۔ اس کے بعد
مبارک سلامت کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔اس کے بعد مکاشفہ منقطع ہوگیا
لیکن میرے دل میں امام حسین سے اسقدرعشق پیدا ہو چکا تھا کہ سوائے ان کی
فکر ،ان کے بارے میں سوچ کے اور کوئی مسئلہ نظر نہیں آرہا تھااور دن بدن
ان کے دیدار کے شوق میں اپنی زندگی کے ایام گزار رہی تھی،آپ کی محبت میری
روح میںسرایت کرگئی‘‘۔
اس کے کئی دن بعد ہم نے دیکھاکہ ہمارے محل میں
ایک نورکی عماری اتر رہی ہے ۔جب وہ صحن میں اتری تو اس سے ملکۂ عالمین،
مخدومہ ء کونین سیدہ فاطمہ زھرا تشریف لائیںجن کے ساتھ لاتعداد حوران بہشت
تھیں۔انہوں نے ہمیں شفقت مادری کا اعزاز بخشااور اپنے خانوادے کی معرفت
عطا فرما کر تعلیمات عرفان سے نوازا۔اس کے بعد آپ واپس تشریف لے گئیں۔
کافی
دنوں بعد آپ پھر تشریف لائیں اور فرمایا ،’’کل اس شہر پر لشکر عرب کا حملہ
ہو گا جس میں آپ کے والد کو شکست ہو گی، آپ نے گھبرانا نہیں کیونکہ ہماری
طرف سے حریث بن جعفر جعفی ،آپ کی خدمت کے لئے متعین ہے ۔وہ آپ کو ہمارے
گھر اطہر تک پہنچائے گا،آپ بہت جلد میرے نور نظر حسین تک پہنچ
جائیںگی‘‘۔اگلے دن، لشکر عرب نے حملہ کیا اورحریث بن جعفرجعفی ،ہمیں مدینہ
تک لایا۔ مخدومۂ عالمین بھی ہمارے ساتھ رہیں۔

جب
آپ،مدینہ منورہ پہنچیں تو سیدنا امیر المومنین ،مولائے کائنات علی ابن ابی
طالب نے صحابیء رسول حضرت حذیفہ یمانی کو اس امر پر مامور کیا کہ امام
حسین کے عقد مبارک کے مراسم کی ادائیگی کی تیاری کر لیں۔اسطرح سیدہ
شہربانو ،امام حسین کی زوجیت میں آ گئیں۔سیدنا امام حسین اپنی تمام ازواج
مطاہرات سے بیحد لگاؤ رکھتے تھے ۔بڑی مشکلات اور تکالیف میں سیدہ شہربانو
کے پاس چلے جاتے اور گفتگو فرمایاکرتے تھے ۔آپ امام عالیمقام کی رازدار
اور ہمدم دیرینہ تھیں۔
خدمت گزار :
سیدہ طاہرہ شہربانو سلام اللہ
علیہا کی خصوصی خدمت گاری کے لئے امیر کائنات نے جس ہستی کو حکم دیا وہ
شاہ فارس اورمنّااہل البیت کے اعزازیافتہ، افضل ترین صحابیء رسول ،حضرت
سلمان فارسی کی ذات بابرکات ہے۔ایک ملک اور ایک زبان وادب اور ثقافت ہونے
کے باعث سیدہ کی خدمت گاری کا فریضہ اور سعادت اس عظیم المرتبت صحابیء
رسول اعظم کونصیب ہوئی۔
اما م حسین کی ازواج مطہرات :
سیدنا امام
حسین حوصلہ،غیرت،ہمت،اور حمیت کا پیکر تھے ۔عرب کی بہت ساری بلند مرتبہ
خواتین آپ کی کنیزی کی خواہشمند تھیں مگر آپ نے سب سے پہلے جس عا لی
وقارخاتون سے عقد فرمایا،وہ سیدہ شہر بانو ہیں جن سے آپ کے عالیقدر
صاحبزادے سیدنا امام علی ابن الحسین زین العابدین تشریف لائے اور ایک
صاحبزادی سیدہ فاطمہ کبریٰ ،جن کا عقد مبارک میدان کربلا میں سیدنا قاسم
ابن امام حسن مجتبیٰ سے ہواتھا۔
ان کے بعد آپ نے امراء القیس کی دختر
سیدہ رباب سے عقد فرمایاجو عظیم خصائص کی مالکہ تھیںاور فصاحت و بلاغت
میںاعلیٰ مقام رکھتی تھیں۔سیدنا امام حسین ،حضرت رباب کو بہت عزیز رکھتے
تھے ،ان سے آپ کی عظیم المرتبت صاحبزادی سیدہ فاطمہ تشریف لائیں جنہیں اما
م عالی مقام نے سکینۃالحسین ،یعنی حسین کا سکون قرار دیااور یہ لقب مبارک
آپ کے اسم گرامی کی نسبت ذیادہ معروف ہے ۔ انہی مخدرہ، سیدہ رباب سے
سیدنا امام حسین کے صاحبزادے سیدنا علی ابن حسین الاصغر تشریف لائے جو چھ
ماہ کے سن اقدس میں کربلا میں شہید کر دیئے گئے۔
تیسری خاتون جن سے
امام حسین نے شادی کی ،ابی برہ بن مسعودثقفی کی صاحبزادی حضرت ام لیلیٰ
تھیں جوحضرت علی ابن حسین الاکبرکی والدۂ گرامی ہیں۔آپ وقار وعفت،عصمت
وتربیت میں بے مثال خاتون تھیں۔
چوتھا عقد سیدنا امام حسین نے سیدہ ام
اسحاق بنت طلحہ بن عبداللہ سے کیا جو سیدہ فاطمہ صغریٰ کی والدۂ گرامی
تھیں،سیدہ فاطمہ صغریٰ سادات حسنی کی جدہ طاہرہ ہیں۔آپ کی والدۂ گرامی
،بچپن میں ہی انتقال فرما گئیں۔
پانچواں عقد ،سیدنا امام حسین نے سیدہ
قضائیہ سے کیا جو سیدنا جعفر بن حسین کی والدۂ گرامی تھیںجو امام عالی
مقام کی حیات طیبہ ہی میں انتقال فرما گئے۔
آمد زین العابدین :
ابن
خیرتین ،سیدنا امام علی ابن الحسین زین العابدین ،15جمادی الثانی 37ہجری
بمطابق 27 نومبر657 ء ،بروز جمعہ،سیدہ شہر بانو کی آغوش اطہر میں کاشانۂ
امامت ،کوفہ میں جلوہ فرما ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد ایک صاحبزادی سیدہ فاطمہ
الکبریٰ تشریف لائیںجن کا عقد سیدنا امام حسن مجتبیٰ کے صاحبزادے حضرت
قاسم شہید کربلا سے ہوا تھا۔
احترام سیدہ شہربانو :
سیدنا امام زین
العابدین ،آپ کا بے حد احترام فرماتے تھے یہاں تک کہ آپ کے ساتھ ایک
برتن میں کھانا تناول نہ فرماتے اور فرمایا کرتے تھے ،
اخاف ان تسبق
یدی الیٰ ما سبقت الیہ عینھافاکون قد عققتھا ، میں کبھی بھی اپنی مادر
گرامی کے ساتھ ایک برتن میں غذانہیں کھاتا ہوں،مجھے خوف ہے کہ برتن سے کسی
ایسے لقمہ کو نہ اٹھا لوں جسے انہوں نے اٹھانا چاہا ہو۔اسطرح کہیں ان کی
ناراضگی کاسبب نہ بنوں۔
جدۂ مہدی :
سیدہ شہر بانو ،مہدیء برحق کی
بھی جدہ طاہرہ ہیںاور آپ ان کی نسل اقدس سے ہیں۔حضور نبی کریم نے فرمایا،
ھُوَمِنْ وُلْدِی ْوَلَدَہُ یَزْدَجَرْدْبِنْ شَھْرِیَارْ ، مہدی میری نسل
سے اور یزدجرد بن شہریار کی نسل میں سے ہیں۔
صحابیء امیر المومنین ،حضرت ابوالاسود دؤلی کہتے ہیں،
واِناغلاماًبین کسریٰ وھاشم اکرم من نیطت علیہ القائم
ھوالنور ، نوراللہ موضع سرہ و منبع ینبوع الامامۃ عالم
ایک
ایسا صاحبزادہ جو کسریٰ اور ہاشم کے ذریعے دنیا میںآیا ہے ،دنیا کے تمام
برگزیدہ لوگوں سے شریف تر ہے ۔وہ اللہ کا نور ہے ۔اسرار الٰہی کا گنجینہ
ہے اور اصل امامت کا حامل اور عالم ہے ۔
ایک اور شاعر یوں سلام عقیدت پیش کرتے ہیں،
وامہ ذات العلیٰ والمجد
شاہ ذنان بنت یزدجرد
وھوابن شھریار بن کسریٰ
ذوسودلیس یخاف کسریٰ
آپ
کی مادر گرامی،عظمت و بزرگی کی مالک ہیںجو شاہ زنان ہیں اور یزدجرد کی
صاحبزادی ہیں۔جو شہریار کا بیٹااور کسریٰ یعنی نوشیروان کی اولاد میں سے
ہے۔اور جو کسی قوم کا سردار ہوتا ہے وہ کسی سے نہیں ڈرتا۔
عاشورہ اورسیدہ شہر بانو :

سیدہ
شہر بانو ،حق وباطل کے فیصلہ کن معرکۂ کرب و بلا میں اپنے شوہر نامدار
،امام عالیمقام کے ہمراہ تھیںاور پورا دن اہلبیت اطہار کے ساتھ بقائے
اسلام کے آبگینے ریگزار کربلا کے سپرد فرماتی رہیں۔اما م حسین نے وقت رخصت
،مصلحت ایزدی کے تحت آپ سے فرمایااور وصیت کی کہ میری شہادت کے بعد میرا
رہوارمرتجز(ذوالجناح)خیمہ گاہ میں آئے گا۔آپ اس پر سوار ہو کر چلی
جانا۔جہاں امر الٰہی ہو گا ،آپ پہنچ جائیں گی۔
شہادت حسین کے بعد ،آپ
کے حکم پر ذوالجناح خیمہ سادات میں آیااور سیدہ شہربانواس پر سوار
ہوئیں۔آپ کی نوبیاہتاصاحبزادی سیدہ فاطمہ کبریٰ نے درخواست کی ، ’’ امی
جان !مجھے خود سے جدا نہ کریں،اپنے ساتھ لے جائیں‘‘۔یہ سن کر سیدہ
شہربانونے انہیں بھی ذوالجناح پر سوار کیا اور روانہ ہو گئیں۔ذوالجناح ،آپ
دونوں کو لے کر آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا۔بوتراب کی بہوکے لئے ذوالجناح
کے قدموں تلے زمین سمٹ گئی اور کچھ ہی دیر بعد سرزمین ’’رے‘‘پہنچ گئے۔یہاں
پہنچ کر آپ نے اپنی صاحبزادی سے فرمایا، ’’آپ کو یہاں قیام کرنا ہے ،یہاں
آپ کے والد کے چاہنے والے محب رہتے ہیں۔ نیز یزدجرد کے قبیلہ کے لوگ بھی
سکونت پذیر ہیں۔وہ آپ کی خدمت اور دیکھ بھال کریں گے۔میرے لئے یہاں قیام
مناسب نہیں۔میں آپ کے والد کی وصیت پر عمل کروں گی اور امر الٰہی جہاں
پہنچائے گا، جاؤں گی‘‘۔
اس کے بعد آپ ذوالجناح پر سوار ہوئیں اور شہر
رے کے قریب ایک غار میں پہنچیں اور دنیا کی نگاہوں سے پردہ فرما کر اپنے
سرتاج، سیدالشھداء کی بارگاہ عالیہ میں حاضر ہو گئیں۔

امین
آباد،طہران کے شمالی کوہستان کے دامن میں ایک چٹان پر وہ غار اور اس سے
متصل سیدہ شہربانو کی زیارت گا ہ مرجع خلائق ہے ،جس پر نقش ہے،
ھٰذامقبرہ ام المومنین و خیرالخواتین سیدہ شہر بانویہ قدس اللہ سرھا
سیدہ فاطمہ کبریٰ المعروف بی بی زبیدہ:
ٍ
آپ کی صاحبزادی اور زوجۂ سیدنا قاسم ابن الحسن ،سیدہ فاطمہ کبریٰ میدان
رے میںتنہا رہ گئیں۔ رودبار میں ایک خاتون رابعہ رہتی تھیں جو صحابیء رسول
حضرت عمار یاسر کی اولاد میں سے تھیں۔ انہوں نے جب یہ سنا کہ سیدالشھداء
کی ایک صاحبزادی رے پہنچی ہیں تو ان کی خدمت میں حاضر ہو کر دیکھ بھال
کرنے لگیں۔آپ کی خدمت کے دوران ہی ایک صاحبزادے متولد ہوئے جن کا اسم
گرامی، بیادسیدنا قاسم ابن الحسن ، قاسم ثانی رکھا گیا۔ ملک شاہ غازی بن
یزدجرد ،قاسم ثانی کو قلعہ شمیران لے گیااور انتہائی احترام سے پیش آیا۔
دشمنان
اہلبیت کے شر سے محفو ظ رکھنے کے لئے شہزادیء حسین کا اسم گرامی بی بی
زبیدہ معروف کیا گیااور آج تک طہران کی ایک مرکزی زیارت بی بی زبیدہ کے
نام سے مرجع خلائق ہے جو درحقیقت سیدہ فاطمہ کبریٰ جگرگوشۂ سیدہ شہربانو
اورسیدنا حسین کی نورانی و ملکوتی بارگاہ ہے۔
زمانے میں عطاؤں کا قبیلہ ہیں شہر بانوخدا کی سب رضاؤں کا وسیلہ ہیں شہر بانومحمد مصطفی آئے تھے جن کی خواستگاری کو نبی کی آل اطہر کی کفیلہ ہیں شہر بانوسسر ہیںحیدر کرّار ،زھرا ساس ہیں جن کی نبوت کے گھرانے کی جمیلہ ہیں شہربانو علی ابن الحسین اے زین العابدین کی مادر سخی شبّیر کی ہمسر، عقیلہ ہیں شہربانو علی عبّاس جو قسمت تیری سب سے یگانہ ہےیقینا اجرِ اعظم کی وکیلہ ہیں شہر بانو