15.10.2026, 10:02am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

وطن کے سب غریبوں کے لیئے یہ عید وحشت ہے
24.09.2009, 10:53am , جعمرات (GMT+1)

نگہت نسیم ۔ سڈنی
السلام و علیکم دوستو

جناب صفدر ھمدانی کی نظم “ وطن کے سب غریبوں کے لیئے یہ عید وحشت ہے .“ کی وڈیو کل عالمی اخبار اور یو ٹیوب پر بیک وقت لگائی گئی ۔۔ اس نظم اور اس کی وڈیو پر بیش بہا قہمتی آرا ابھی تک مل رہی ہیں ۔ ان میں سے   کئی تبصرے انتہائی قابل توجہ ہیں ۔۔ انہیں آپ کی خدمت میں لے کر حاظر ہوئی ہوں ۔۔۔

ماریہ علی جنہوں نے اپنی کالم نگاری کا آغاز عالمی اخبار کے پلیٹ فارم سے  کیاہے ۔ آجکل عید کے سلسلے میں پاکستان گئی ہوئی ہیں ۔۔ وہی سے لکھتی ہیں ۔۔

ہمدانی صاحب
السلام علیکم

 آپ ہمیشہ کچھ ایسا کر دیتے ہیں کے میری اندر سے روح کانپ جاتی ہے ۔ جن احساسات کا اظہار آپ نے اپنی نظم میں کیا ہے میں ان سے کافی وقت سے بھاگ رہی ہوں کیونکہ میں یہ سب کچھ جب سے آئی ہوں کئی جگہ محسوس کر رہی ہوں اور میری عید کے تین میں سے 2 دن ایسے ہی لوگوں کے ساتھ گزرے ہیں ۔ نا جانے کیوں ہم اپنے بنائے ہوئے خول میں ہی رہنا کیوں پسند کرتے ہیں ۔اگر کسی غریب کی مدد بھی کرتے ہیں تو کوشش یہی ہوتی ہے کے پورے ملک کے میڈیا کو اس کی خبر ہو کے ہم نے غریبوں کا بھلا کیا ہے ۔

عید کے دن میں نے پاکستانی وزیر اعظم صاحب کی اہلیہ کو ٹی وی پر دیکھا وہ کسی یتیم خانہ کے بچوں کے ساتھ عید منا رہی تھیں اور بلکل وہی روائتی پبلیسٹی کی بھوک کئی ٹی وی چینلز کے کیمرے فوٹو گرافرز ۔اس شان سے وہ بچوں کے ساتھ اپنا وقت گزار رہی تھیں کے انکی ایک ایک ہل جل تک کیمرے کی آنکھ صاف دکھا رہی تھی ۔

اسی طرح ہمارے چیف جسٹس صاحب جیل گئیے قیدیوں سے عید ملنے تو انکی بھی کوریج بہت بھرپور انداز میں چینلز پر دکھائی گئی
یہ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے لئیے یتیم بچے اورقیدی بھی چھانٹ کر سامنے لائے جاتے ہیں کے ٹی وی اور اخبارات میں اچھی اچھی کوریج آئے اور انکی اور پبلییٹی ہو۔

کس شان سے یہ لوگ سرکاری فنڈز کو اپنی نمائیش پر خرچ کرتے ہیں شاباش ہے ان لوگوں کی بے غیرتی پر ۔پاکستان کے مال کو اپنے باپ کا مال سمجھ کر جس بے دردی سے یہ لوگ برباد کر رہے ہیں اسکا اندازہ انکے ٹھاٹ باٹ دیکھ کر ہوتا ہے۔

۔مگرشمس جیلانی صاحب کی ایک بات اپنی جگہ سو فیصد درست ہے کے جیسی عوام ہوگی اس پر حاکم بھی ایسے ہی آئیں گے ۔اس میں کافی حد تک ہماری عوام کا بھی قصور ہے ۔مگر عوام تو بے چاری مجبور مرتی کیا نا کرتی کسی کو تو لانا ہے نا اقتدار میں ۔ چاہے وہ نواز شریف ہوں یا زرداری یا پھر بلیک بیوٹی الطاف سب کے سب غاصبوں کے سردار اور نسل در نسل چور ہیں۔سب کے سب غریبوں کے خون پسینے کی کمائی اور انکے حق پر ڈاکا مار کر حج عمرہ کر کے خود کو شرفا اور سچا مسلمان پروف کرنے میں لگے رہتے ہیں اور غریب ایک وقت کی روٹی کو ترستا ہے ۔

دنیا سے بھیک انہی غریبوں کے نام پر مانگ کران غریبوں کو ایک روپیہ تک نہیں دیتے مگرانکو دنیا کے سامنے بھکاری بنا دیا ہے اور اس پیسےسے اپنےاکاونٹس بھرتے ہیں یہ بےغیرت سیاستدان۔

کتنی بے بسی ہے ان غریبوں کی کے فقیر بن کے بھی بھیک ان تک نہیں پہنچتی مگر ان بے غیرتوں کی عیاشیاں عروج پر پہنچ جاتی ہیں
میرے بس میں ہو تو سب سے پہلے ان سب سیاستدانوں کو سر عام پھانسی لگواوں مگر بات پھر وہیں آ جائے گی کے پھانسی کا حکم دینے والی عدالتیں ان کے ٹکڑوں پر پلتی ہیں ۔ یہاں انصاف کے ٹھیکیدار بھی چوروں کے سردار ہیں تو کہاں کا انصاف اور کیسا انصاف؟
پا کستان اس وقت ایسے چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں قانون اور اصول صرف غریب کو سزا دینے کے لئیے بنتے ہیں ۔

کچھ دن پہلے جیو ٹی وی پر ایک قیدی کے بارے میں بتا رہے تھے جو کے 1978 سے قید ہے اور اب تو اسکے کیس کی فائل بھی کہیں کھو گئی تھی اور وہ بے چارہ جیل میں‌ پڑا بنا سزا کے سزا کاٹ رہا ہے۔مطلب اندھیر نگری کی انتہا دیکھیں پاور فل انسان کو چاہے عمر قید ہو جائے وہ کچھ ہی عرصہ میں باہر آ جاتا ہے ۔ ہمارے موجودہ صدر جو کے دیگر کسسز کے علاوہ میر مرتضی قتل کیس میں نامزد ہیں اور انکے خلاف بہت سے ثبوت موجود ہیں اوراس وقت کی پوری اتظامیہ کی ٹیم جو کے آج بھی اہم عہدوں پر فائز ہے وہ بھی اس کیس میں نامزد تھی یہ سب انہی عدالتوں سے بری بھی ہو گئے اور ان میں سے ایک صدر پاکستان اور باقی اہم عہدوں پر فائز ہیں مگر غریب ؟
غریب کا تو کوئی پرسان حال ہی نہیں ہے ۔

عیدوالی رات کو یہاں پاکستان کی ایک بہت مشہور NGO کے رہنما جو کے نجی دعوت میں غلطی سے میرے ہاتھ چڑھ گئےماشااللہ انکے ٹھاٹ باٹ دیکھ کر میں حیران تھی ۔ان سے میں نے کافی سوالات کئیے کے آپ کا اسکے علاوہ کیا بزنس ہے تو انہوں نے کہا ہم عوام کے خادم ہیں غریبوں کے لئیے کام کرتے ہیں ماشااللہ وہ اپنے خرچوں پر قابو پالیں تو شاید 50 گھروں کا راشن ڈلوا سکتے ہیں مگر انکو اپنے رکھ رکھاو اور ملنے جلنے والوں کے سامنے اپنے نام کا بھرم بھی رکھنا تھا تو انکو دیکھ کے ہی لگ رہا تھا کے انکے اخراجات کس عروج پر ہونگے خیر ان سے باتوں باتوں میں میری ان سے قیدیوں کے ٹاپک پر بات ہو رہی تھی تو بقول انکے آج بھی جیلوں میں ایسے بہت سے قیدی ہیں جو کے بہت ہی معمولی کیسسز میں چند ہزار روپیوں کی ضمانت نا ہونے کی وجہ سے جیلوں میں پڑے جانوروں سے بد تر ذندگی گزار رہے ہیں مگر انکا کوئی پرسان حال نہیں ۔اور ایک یہ ہیں نسل در نسل چور سیاستدان ان کے خلاف کچھ ثابت بھی ہو جائے تو چند ماہ میں با عزت بری ہو جاتے ہیں۔

ہمدانی صاحب موجودہ حالات جو کے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہوں ان پر کہنے کو بہت کچھ ہے مگر بس یہ سوچ کر رک جاتی ہوں کے کیا فائدہ ؟

ہم سب کے سب بھینس کے آگے بین بجانے کی مانند یہاں لکھتے ہیں ۔بس سکون یہ ہوتا ہے کے اپنے دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں ۔
آج کی اپوزیشن جو کے سابقہ حکمران رہ چکی ہے وہ بھی چور ۔موجودہ حکمران تو اعلی درجے کے چور ہیں ۔عدلیہ بے چاری خود معصوم ان چوروں سے اپنے حصہ کی طلبگار دکھائی دیتی ہے ہمارے اس طرح ڈھول پیٹنے سے کوئی فائدہ نہیں اس سب سے ان پر کوئی اثر نہیں ہونا ۔بس مجبوری یہی ہے لکھنے کی کے جب برداشت سے باہر ہو جاتا ہے تو آپ کی محبت اور شفقت کے سائے تلے یہاں عالمی اخبار پر آ کر اپنے دل کی بھڑاس نکال لیتی ہوں ورنہ سب کی طرح میں بھی یہ بہت اچھی طرح جانتی ہوں کے اس سب سے حاصل نا حصول محنت بے فضول کی سی صورتحال ہے۔

خیر بے حد معزرت کچھ زیادہ ہی لکھ گئی اب اجازت پھر جب اندر سے بہت بھر جاونگی تو پھر کچھ لکھ کے معزر بھی کر کے اپنی بھڑاس نکال لونگی امید ہے آپ سب کو ناگوار نہیں گزرے گا؟
آپ سب کی دعاوں کی محتاج
ماریہ علی

دوسرا تبصرہ عبدالمناف بھائی کا جرمنی سے ہے ۔۔لکھتے ہیں
السلام  علیکم و عید مبارک

محاورہ تو یہی ہے کہ “سچ کڑوا ہوتا ہے”

لیکن ہمدانی صاحب نے یہ کیسا سچ کہہ ڈالا جس سے دِل نہیں بھر رہا ؟

عرض ہے کہ سچ کڑوا ضرور ہوتا ہوگا لیکن صرف ان کے لیے جن کے منہ پر طمانچہ کی طرح لگا ہے، جن کے دل پتھر اور ضمیر مردہ ہو چکے ہیں-

لیکن جن کے مسائل کو بیان کیا گیا ہے، جن کے دل کی آواز کو زبان پر لایا گیا ہے، جو خود مظلوم ہیں اور ان کے دل مظلوموں اور مستضعفین کے لیے ہی دھڑکتے ہیں، جن کے ضمیرزندہ ہیں، جو انسان ہیں، ان کے لیے تو ایسا سچ زخموں پر مرہم ہے، ایک گھونٹ ٹھنڈا پانی ہے، ایک دِلامہ ہے، حمایت ہے۔

اسی لیے تو دل نہیں بھر رہا-
 
بہن ماریہ علی صاحبہ !
آپ کی ساری باتیں درست ہیں میں صرف ایک نکتہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ اور دوسرے قارئین یہاں صرف اپنے دل کی بھڑاس نہیں نکال رہے، بلکہ وہ کرتے ہیں جو کر سکتے ہیں۔

اگر ہمارے کہے سے ملک کے حالات نہیں بدلتے، یا ہم میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں کہ ملک کی سیاست بلکہ سارے نظام کو بدل سکے تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ اس پر کچھ کہے بھی نہ-

حدیثِ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے کہ ظلم کو ہاتھ سے روکو اور اگر ہاتھ سے نہیں روک سکتے تو زبان سے روکو اور اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم دل میں اسے ضرور بُرا جانو-

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ کی طرف لے جایا جا رہا تھا تو ایک چڑیا اپنی چونچ میں پانی کا ایک قطرہ کے کر جاتی اورا س آگ پر پھینک کر آتی، اس کا یہ لگاتار عمل دیکھ کر جب کسی نے اس کا فائدہ پوچھا تو اس چـڑیا نے یہی کہا کہ “جب میں خدا کے حضور جوابدہ ہوں گی تو عرض کروں گی کہ میں نے وہ کردیا جو کر سکتی تھی”-

یعنی ہمیں اپنا فرض پہچان کر اسے پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیز اور نتائج اللہ تعالٰی پر چھوڑ دینے چاہیں۔ ہم سے قیامت والے دن یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنے ملک کا نظام کیوں نہیں بدلا ؟؟؟ بلکہ سوال یہ ہوگا کہ جو ہم کر سکتے تھے وہ کیا کہ نہیں۔

اب مثال کے طور پر بابا کی یہ نظم سن کر لاکھوں ہزاروں نہ سہی شاید چند لوگوں کے احساست ہی جاگ جائیں، کیا معلوم کہ ان چند میں کوئی ایسا بھی ہو جو انہی الفاظ سے متا ثر ہو کر کوئی ایسا مؤثر قدم اُٹھائے جو واقعی کسی تبدیلی کا سبب بن جائے-

شاید آپ ہی کی لکھی باتیں تو ردِ عمل میں کسی کا ضمیر جاگ جائے، کچھ اور نہ سہی کوئی اپنے ملک کی حکومت اور اس کے آقاؤں کو اچھا سمجھنا ہی چھوڑ دے وغیرہ۔

میں بھی کسی معجزہ کو منتظر نہیں لیکن ظلم کے خلاف کم از کم آواز بلند کرنے کو واجب مانتا ہوں-

آخر میں نزہت نسیم (لندن) کی اس بات پر آمین کہتے ہوئے آپ سب سے اجازت چاہونگی ۔۔نزہت لکھتی ہیں ۔۔

اب ان تمام باتوں کیا جواب ہو ..لیکن حقیقیت سے نظر بھی نہیں چرائی جاسکتی …. اپنے رب سے یہ دل سے دعا ہے پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے اور یہ بھی کہتی ہوں کہ اللہ پاک تو ہی پاکستان کی حفاظت کی ذمہ دادری لے لے ہم تو ہار گئے ۔۔۔
۔۔۔

دوستو کیا واقعی ہم ہار گئے ہیں ۔۔۔

:دیگر مضامین
(24.09.2009) بچوں کی ایک انوکھی بیماری آٹزم ۔از ڈاکٹر نذیر مشتاق
(24.09.2009) آپ تو یہ کہتے ہیں کہ اوسامہ امریکی ایجنٹ تھا
(24.09.2009) وطن کے سب غریبوں کے لیئے یہ عید وحشت ہے . صفدر ہمدانی
(23.09.2009) عین الیقین یا علم الیقین۔از امین ترمذی۔ ڈیلس
(22.09.2009) عراق سے امریکی انخلا:مواقع اور چیلنجز
(22.09.2009) جمہوریت کے گھوڑے کے لیئے صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے
(22.09.2009) موسیقی روح کی غذا ہے اس سے کس کو انکار ہو سکتا ہے
(21.09.2009) پاکستان کے غریب عوام کے لیئے عید کا خاص تحفہ
(20.09.2009) ایسا خوف کہ کوئی مصافحہ کرے تو اغوا کا ڈر لگے
(20.09.2009) حرم مکہ میں عید الفطر کی نماز کی تکبیریں
(18.09.2009) یوم القدس کے موقع ہر یہ سوئے ہوئے عرب کاش اتنا ہی سوچیں
(17.09.2009) روز قدس ظلم ستیزی کی آفاقی صدا۔از: آغا سید عبدالحسین بڈگامی
(16.09.2009) انشائیہ: چینی اور چین از: سید انور ظہیر رہبر
(15.09.2009) جارج ڈبلیو بش کو جوتے مارنے والا عراقی صحافی رہا ہو گیا
(15.09.2009) ارے بھئی ڈاک کا ٹکٹ بیس کروڑ روپے کا۔حیرت ہے
(14.09.2009) پاکستان میں خواندگی کا مسلہ ایک عفریت،از طیبہ عاطف
(13.09.2009) میزبان ایک ہی ہے لیکن مہمان بدلتے ہیں
(09.09.2009) آٹے کا تھیلا اپنی قیمت سن کر خود بے ہوش ہو گیا
(08.09.2009) علامہ اقبال کی روح سے ایک بار پھرمعذرت کے ساتھ
(07.09.2009)  برطانیہ کے شہزادوں کے فون بھی محفوظ نہیں۔



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں