|
ذرا سوچیئے کہ کیا یہی محب اہلبیت کی شان ہے؟
26.09.2009, 01:08am , ہفتہ (GMT+1)
پرویز۔لکھنو۔تنظیم خیبری
لکھنؤ۔ گزشتہ دنوں تنظیم خیبری کا ایک جلسہ میں عالم اسلام کی خدمت میں عیدالفطر کی مبارک باد پیش کی گئی۔مقررین نے شیعہ وقف بورڈ کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ وقف مسجد شاہدرا کی آراضی کا سودا ہو گیا مسجدیں قرق ہیں اور امام باڑہ سبطین آباد کی سہینچیوں پر نا جائز قبضہ ہیں لیکن ہمارے قومی لیڈران خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔
انکی خاموشی سے یہی لگتا ہے کہ اگر یہ کربلا میں ہوتے تو خیام حسینی کے لٹنے پر بھی خاموش تماشائی بنے رہتے ۔کوفے کی عوام کو منمبروں سے برا بھلا کہنے والے پہلے اپنے گرہ بان میں جھانک کر دےکھیں تو انہیں اپنے میں اور کوفے والوں میں کوئی فرق نظر نہیں آئےگا۔ مولا کی محبت کا دم بھر نے والے کوفیوں نے وقت پڑنے پر مولا کا ساتھ چھوڑ دیا وہی آج ہو رہا ہے کہ منمبروں سے مولا کی محبت کا دم بھرنے والے آج حق کی آواز بلند کرتے ڈر رہے ہیں الٹا حق کی آواز بلند کرنے والوں کو سرکار کے ذریعہ نقصان پہنچا کر دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے کیا یہی محب اہلبیت کی شان ہے؟
مقررین نے کہا کہ شیعہ قوم کے کچھ خود ساختہ لیڈران کی انہیں غلط کارگزاریوں کی بنا پر شیعہ عوام میں سرکار کی جانب ناراضگی دن پہ دن برھتی جا رہی ہے لہٰذا سرکار کو چاہئے کہ بجائے ان مکار لیڈران کو خوش کرنے کے کچھ کام شیعہ عوام کی خوش نودی کے لئے کریں تاکہ شیعہ عوام کا سرکار پر اعتماد قائم ہو سکے۔مسلسل شیعہ وقف بورڈ کی بدعنوانیوں کے ثبوت مانگنے کو گمراہ کن بتاتے ہوئے کہا گیا کہ کیا انکے پاس شیعہ کالج کی بدعنوانیوں کے ثبوت ہیں؟جو مسلسل شیعہ کالج کو لیکر بول کر رہے ہیں۔
کیا موجودہ بورڈ نے جتنے بھی متولی ہٹائے ہیں انکے خلاف اسکے پاس یہ بورڈ کے سرپرست کے پاس کوئی ثبوت ہیں اگر ہیں تو عوام کے سامنے پیش کیوں نہیں کئے؟کیا درگاہ حضرت عباس کی انتظامیہ کمیٹی کے خلاف کوئی ثبوت ہیں جو اسکو برخاست کرنے کا فرمان جاری کیا گیا ہے۔ کیا پچھلے بورڈ کی بدعنوانیوں کے کوئی ثبوت تھے جو اسکے خلاف تحریک چلائی گئی تھی۔صرف فرضی شکایات کا سہارا لیکرجسکو دل چاہے ہٹا دیں لیکن شیعہ وقف بورڈ پر ہر جانب سے مخالفت ہونے کے باوجود اس کی پشت پناہی کرنا کہاں تک درست ہے۔ رہی موجودہ بورڈ کی بدعنوانیوں کی بات تو الزاموں کی تحقیقات کرکے ثبوت حاصل کرنا بورڈ کے سرپرست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔لیکن جب سرپرست خود ہی بدعنوانیوں میں ملوث ہوتا ہے تو اسی طرح کی گمراہ کن باتیں کرتا ہے۔
اب ساری حقیقت شیعہ قوم پر عیاں ہو چکی ہے لہٰذا فضول باتیں کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش نا کریں بلکہ اگر دل میں زرا بھی خوف خدا باقی ہے تو اپنی روش کو بدل لیں کہیں ائسا نہ ہو کہ بہت دیر ہو جائے۔
|