|
کیا جمہوریت اب امریکہ کی ترجیح نہیں رہی ہے؟
28.09.2009, 01:13am , سوموار (GMT+1)
انوار بوکھارز
کیا امریکی صدر براک اوبامہ کی انتظامیہ مشرقِ وسطٰی میں انسانی حقوق اور سیاسی اصلاحات کے لئے کم مدد فراہم کررہی ہے یا جمہوریت کے فروغ کے لئے محض اس کے لہجے میں تھوڑا فرق آیا ہے؟
حال ہی میں شائع ہونے والی بہت سی رپورٹس اور سروے کے نتائج یہ بتاتے ہیں کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں یہ عمومی تاثر پایا جا رہا ہے کہ ان کی حکومت خود کو مشرقِ وسطٰی میں جمہوریت کے فروغ کی کوششوں سے علیحدہ کر رہی ہے۔ "کمنٹری میگزین" کے مضمون "جمہوریت کو خیرباد" میں امریکن اینٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کے ریذیڈنٹ سکالر جوشوآ موراوچک نے " خارجہ پالیسی کے ایجنڈے سے انسانی حقوق اور جمہوریت" کو خارج کرنے پر امریکی انتظامیہ پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔
"دی نیویارک ٹائمز" ، "دی واشنگٹن پوسٹ" اور "فنانشل ٹائمز" میں بھی ایسی کئی مثالیں پیش کی گئی ہیں جن سے لگتا کہ امریکی حکومت اصولوں یا نظریات کو فروغ دینے کی بجائے اس لگے بندھے سیاسی رواج کی طرف رُخ کر رہی ہے جس میں ساری توجہ صرف اقتدار کو قائم رکھنے پر صَرف ہوتی ہے۔
مثال کے طور پر وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالنے سے پہلے ہیلری کلنٹن نے نئی خارجہ پالیسی کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی بنیاد تین "ڈ" پر رکھی گئی ہے یعنی ڈیفینس، ڈپلومیسی اور ڈویلپمنٹ۔ ڈیموکریسی کا کہیں کوئی ذکر نہیں تھا اور اس کمی کو سب نے محسوس کیا۔
اس طرح کی مثالوں کی بنا پر اوبامہ انتظامیہ کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے کہ وہ عرب دنیا میں وقتی فوائد حاصل کرنے کے لئے مطلق العنان حکومتوں کے ساتھ اتحاد کر رہی ہے اور جمہوری اصلاحات اور بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کو پسِ پُشت ڈال رہی ہے۔
تاہم امریکی انتظامیہ پر اس طرح کی چھاپ لگانا شاید صورتحال کو سطحی طور پر دیکھنے اور اس کی ترجیحات کا گہری نظر سے جائزہ نہ لینے کا نتیجہ ہے۔
جمہوریت کا فروغ اب بھی اوبامہ انتظامیہ کی اہم ترجیح ہے اور اس کا سب سے واضح ثبوت اس کے بجٹ برائے مالی سال 2010 میں موجود ہے جس میں صدر اوبامہ نے مشرقِ وسطٰی اور شمالی افریقہ (مِینا) کے لئے جتنی رقم مختص کرنے کی تجویز دی ہے وہ ان کے پیشرو کی طرف سے ایک سال پہلے مختص کئے گئے بجٹ سے کافی زیادہ ہے۔
مشرقِ وسطٰی میں جمہوریت کے منصوبے کے تحت جمہوریت اور اسلوبِ حکمرانی کے پروگراموں کے لئے مختص کی گئی رقم صدر جارج ڈبلیو بُش کی طرف سے 2009 کے مالی بجٹ میں ان پروگراموں کے لئے رکھی گئی رقم سے دو گنا زیادہ ہے۔
یہ تو طے ہے کہ اس اضافی امداد کا بیشتر حصّہ ان علاقوں کو جائے گا جو تنازعات کا شکار ہیں۔ ان میں افغانستان، پاکستان اور عراق شامل ہیں۔ باقی فنڈز 'مِینا' پر خرچ ہوں گے اور ان میں درجے اور اہمیت دونوں حوالوں سے قابلِ قدر اضافہ کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر مراکش میں قانون کی بالادستی، سیاسی مسابقت اور انسانی حقوق کے پروگراموں کے لئے جو فنڈز مانگے گئے ہیں وہ پہلے کی نسبت کافی زیادہ ہیں۔ سِول سوسایٹی کے لئے فنڈز میں اندازاً 67 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یمن کے لئے فنڈز میں مالی سال 2009 کے مقابلے میں تین گنا اضافہ کیا گیا ہے۔
اوبامہ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ فنڈز کے بہاؤ کا رُخ سِول سوسایٹی سے موڑ کر اقتصادی ترقی اور قانون کی بالادستی کے پروگراموں کی طرف کر دیا جائے۔ اس رجحان کی سب سے واضح مثالیں مصر اور اردن ہیں۔ انتطامیہ کا خیال ہے کہ اس کے پیشرو نے اہم وسائل کو ضروری ترقیاتی پروگراموں کی بجائے اسلوبِ حکمرانی کے فضول پروگراموں کی طرف موڑ دیا تھا۔
مثال کے طور پر سیاسی اصلاحات پر ایسے گورنروں کی کانفرنسوں کو سپانسر کرنے کے لئے جو کسی بلاشرکتِ غیرے حکمران کو جوابدہ ہوں یا اس کے تعینات کردہ ہوں، انفرا سٹرکچر کی ترقی، صحتِ عامہ اور زراعت سے متعلق پروگراموں کو ختم یا مختصر کرنے سے جمہوریت کو فروغ دینے کے مقصد کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
اس دعوے کی تائید کہ اوبامہ انتظامیہ جمہوریت کے فروغ کی ایسی حکمت عملی اپنانے کے حق میں ہے جس میں اقتصادی ترقی اور سیاسی اصلاح کو اعزازی اہداف کی حیثیت حاصل ہے، ملینیئم چیلنج اکاؤنٹ (ایم سی اے) سے بھی ہوتی ہے۔ ایم سی اے ایک ترقیاتی فنڈ ہے جو بُش انتظامیہ نے تخلیق کیا تھا اور اسے امریکی حکومت کی طرف سے ترقیاتی امداد میں اسلوبِ حکمرانی کو فوقیت دینے کے اندازِ فکر کو رائج کرنے کی پہلی کوشش قرار دیا جاتا ہے۔ ایم سی اے کے توسّط سے دیئے جانے والے فنڈز میں معاونت کا درجہ امداد لینے والے ملک کے اسلوبِ حکمرانی اور اداروں کے معیار کے ساتھ منسلک ہے۔
نئی امریکی انتظامیہ اس وقت جس طریقۂ کار پر عمل کر رہی ہے وہ سادہ لوحی پر مبنی ان الزامات کو غلط ثابت کرتا ہے کہ اوبامہ انسانی حقوق اور جمہوریت کو لگی بندھی سیاست کی خاطر نظر انداز کر رہے ہیں۔ انہوں نے بار ہا سیاسی اصلاحات، انسانی حقوق اور اچھے اسلوبِ حکمرانی کی اہمیت کے بارے میں بات کی ہے۔
اپنے افتتاحی خطاب میں اوبمہ نے مطلق العنان حکمرانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا، "جو لوگ کرپشن اور دھوکہ دہی کے ذریعے اور مخالفین کو خاموش کراکے اقتدار کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں وہ جان لیں کہ وہ تاریخ کی غلط طرف موجود ہیں۔" قاہرہ اور آکرہ میں کی گئی حالیہ تقریروں سے اس پیغام کو مزید تقویت ملی ہے۔
چنانچہ اس وقت جس معاملے میں انہیں فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ نہیں کہ جمہوریت کو فروغ دینے کا کام جاری رکھا جائے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اسے کس طرح جاری رکھا جائے۔ اس سوال کا جواب 2010 کے امریکی بجٹ کی پہلی درخواست میں مل سکتا ہے جس میں صدر نے واضح طور پر قانون کی بالادستی اور اسلوبِ حکمرانی کے پروگراموں میں مدد فراہم کرنے کی بات ہے جس کا ثبوت اس طرح کی سرگرمیوں کے لئے مختص فنڈز میں خاطر خواہ اضافے سے ملتا ہے۔
ماضی میں فراہم کی گئی ترقیاتی معاونت کا ریکارڈ بھی ہمارے سامنے ہے: جب تک کوئی حکومت دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے والی، شفاف، قانون کا احترام کرنےوالی اور اپنی کئے کی جوابدہ نہ ہو، بڑی سے بڑی امداد بھی وسیع تر اور پائیدار ترقیاتی پیش رفت میں مددگار ثابت نہیں ہو سکتی۔
سول سوسایٹی کے پروگراموں میں مدد دینا امریکی انتظامیہ کی دوسری سب سے بڑی ترجیح ہے جس کا اظہار مشرقِ وسطٰی پارٹنرشپ کی سرگرمی (ایم ای پی آئی) کے لئے مختص فنڈز میں اضافے سے ہوتا ہے۔ اس سرگرمی کے تحت مقامی سول سوسایٹی اداروں اور تبدیلی لانے کا موجب بننے والے دیگر عناصر کو مالی امداد دی جاتی ہے۔
اوبامہ کو یقین ہے، جس کا اظہار انہوں نے حلف اٹھانے سے پہلے "دی واشنگٹن پوسٹ" کے ساتھ ایک انٹرویو میں بھی کیا تھا، کہ اندازِ فکر ایسا ہونا چاہیے جس میں شکل سے زیادہ ماہیّت پر توجہ دی جائے۔ یہ اندازِ فکر وقت سے پہلے انتخابات اور بلند وبانگ دعووں کے رجحانات کی حوصلہ شکنی کرتا اور اس کی بجائے سلیقے سے بنی ہوئی ایسی پالیسی پر زور دیتا ہے جس میں اقتصادی ترقی اور ان اداروں کو مضبوط بنانے پر توجہ دی گئی ہو جن سے جمہوری معاشرے کو پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے۔
دوسرے لفظوں میں انتخابات یقیناً اہمیت رکھتے ہیں لیکن جیسا کہ ہیلری کلنٹن نے اپنی وزارت کی توثیق کے لئے ہونے والی سماعت میں کہا تھا کہ اگر مضبوط قانون ساز ادارے، آزاد عدلیہ، آزاد ذرائع ابلاغ، متحرک سول سوسایٹی، ایماندار پولیس فورس، مذہبی آزادی اور قانون کی بالا دستی نہ ہوتو یہ اکثر ناکام ہو جاتے ہیں۔
یہ سٹریٹجی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے بشرطیکہ اسے اعلٰی سطحی سفارتی مدد کا سہارا حاصل ہو اور معاونت کے درجات کو احتساب اور کارکردگی کی بنیاد پر قائم اصولوں سے مشروط کیا جائے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*ڈاکٹر انوار بوکھارز ولبر فورس یونیورسٹی اوہائیو کے سینڑ فار ڈیفینس اینڈ سیکورٹی پالیسی کے ڈائریکٹر اور بروکنگز دوحہ مرکز کے وزِٹنگ فیلو ہیں۔ یہ مضمون مسلم دنیا میں مغربی پالیسیوں کے تجزیے پر مشتمل سیریز کا حصّہ ہے جسے کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز) کے لئے تحریرکیا گیا ہے۔
|