آج امت مسلمہ کا شیرازہء ملی منتشر اور افکار پراگندہ ہو چکے ہیں۔ ادباء، شعراء اور اہل علم کا جم غفیر ہونے کے باوجود ہمارا نام ہمارے ہی سامنے اقوام عالم کی فہرست سے مٹایا جا رہا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ آئیے آج ذرا اس پر تھوڑی بحث کرتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ اقوام عالم کے عروج و زوال میں جس چیز کا سب سے زیادہ ہاتھ ہوتا ہے وہ انکا شعوری سفر ہے جس میں انہیں ایک طرف اپنی ذات کا اعتبار حاصل ہوتا ہے تو دوسری طرف ملی مقاصد کا تعین ہوتا ہے۔ ان ہر دو عناصر کے مابین قوم کی زندگی کا سفر متعین ہوتا ہے، جس کے لئے بہترین راہ اور راہرو کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس اعتبار ذات( سیلف ریلائزیزشن) کو آج کی سیاسی زبان میں نیشنل سٹرینتھ ( قومی قوت) اور ملی مقاصد کو نیشنل ابجیکٹووز (منزل) کا نام دیا جاتا ہے جبکہ راہ اور راہرو کو (مینز) اسباب گنا جاتا ہے۔ شعور، تفکر، تدبر اور تجزیات کے بناء خیال پریشان ہو کر رہ جاتے ہیں اور غلط اسباب کے چناؤ کی وجہ سے قوت منتشر اور ضائع ہو کر رہ جاتی ہے اور منزل گم ہو جاتی ہے۔ ایسے حالات کی ایک تصویر آج ہمارا پاکستان ہے۔
فکر و دانش کے بغیر تمام حیلے ناکام ہو جاتے ہیں اور سیاست یا سائینس کچھ بھی کام نہیں آتا۔ قوم کے فکر و دانش کی تطہیر، ارتقاء اور ترویج کا کام صاحبان علم کا ہے جو مختلف خیالات کو فکر کی شکل دیتے ہیں اور افکار کو نظریات کا روپ انہی سے ملتا ہے۔
فکر اور دانش در اصل شعور اور تحت الشعور کے ذریعے محصول محرکات کے نتائج میں اپنا سفر طے کرتے ہیں۔ ایک تصویر مختلف آنکھوں میں اپنا مختلف پرتو چھوڑتی ہے تو اسی طرح ایک سماجی، معاشی، مذھبی، ملی، یا دیگر عوامل کی تحریک ہر ذہن پر اپنا مختلف نقش چھوڑتی ہے۔ اگر لوگوں کا ایک گروہ کسی ایک تحریک سے ایک ہی قسم کے جذبات و رد عمل کا اظہار کرے تو یہ مظہر ہے کہ اس گروہ کے مقاصد و منتہائے عقلی ایک سے ہیں۔ اسی احساس سے گروہ قوم اور اقوام ملت کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ حادثات اپنا اثر اچانک پیدا کرتے ہیں اور ایک مدت پر اپنا رنگ کھو دیتے ہیں۔۔۔۔اسی لئے حادثات کی بناء پر اگر لوگوں کے ایک گروہ کی سوچ میں یکسانیت نظر آ بھی جائے تو وہ قوم کا رنگ نہیں دھار سکتے۔
قوم ہونے کے لئے ضروری پہلے افراد کے مقاصد ایک سے ہوں۔ پھر ان مقاصد کے حصول کے لئے سوچ کی ایک ہی راجدھانی میں سبھی سفر کریں۔ سوچ فکر و دانش کے نئے نئے راہ کھولے، پھر انہیں شعور کی کسوٹی پر پرکھا جائے اور بہترین فیصلے کو اپنا کر من حیث القوم اس پر عمل پیرا ہوں تا کہ مشترکہ مقاصد حاصل کئے جا سکیں۔ قومیں حادثات کے سبب پیدا ہوتی ہیں اور نہ ہی مرتی ہیں۔ قوموں کی تشکیل میں جن عناصر کا زیادہ عمل دخل ہوتا ہے ان میں جغرافیائی صورتحال، معیشت، اسباب ِ روزگار، سیاسی زاویہ ہائے نگاہ، میل جول کے رجحانات، دشمن کا خوف اور سب سے بڑھ کر مذاہب ہیں ۔ ان تمام عناصر کو یکجا کر کے ایک فکر کی صورت عطا کرنا در حقیقت ادیب اور دانشور کا کام ہے۔
ایک شاعر اور ادیب قوم کے اندر قدرت کا وہ عطیہ ہوتا ہے جو ہر مرئی و غیر مرئی حقیقت کا درک بھی کرتا ہے اور تجزیات کی صورت میں نسخہ ہائے عمل تجویز کرتا ہے۔ اکثر شاعر اور ادیب غیر ارادی طور پر دوسرے کے درد کو اپنا کرب بنا کر محسوس کرتے ہیں، پھر اپنے شعور و وجدان کو بھی کسی لمحے گھائل و شکستہ نہیں ہونے دیتے۔ جب کرب و نشاط کے عالم میں وجدان زندہ ہو تو تبھی حقائق کا ادراک ہوتا ہے اور ایسی ہی صورت میں بہترین راہ عمل کا تعین ممکن ہوتا ہے۔
اقوام عالم کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ جن قوموں نے اہل قلم کی توقیر نہ کی ان کا ذکر اخبار عالم سے محو ہوجاتا ہے۔ زندہ قومیں اپنے حلقہء علم و ادب اور زبان کی ترقی و ترویج کے لئے کوشاں رہتی ہیں کہ فکر و دانش کا خیمہ کہیں خود رو جڑی بوٹیوں کا جنگل نہ بن جائے جہاں جاتے ہوئے انسان تو کیا پالتو جانور بھی وحشت کھاتے ہیں۔
پاکستانی ہونے کے ناطے اور مسلمان ہونے کے ناطے، دونوں صورتوں میں ہمارے پاس اغراض و مقاصد کا ایک بیش بہا خزانہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ لیکن اہل علم کے ساتھ جو رویہ سیاسی حلقوں نے روا رکھا ہے، اس کے سبب یا تو ان لوگوں کی زندگیاں زندان میں در گور ہو گئیں یا پھر اپنی چپ ان کو کھا گئی۔ قبلہ شمس جیلانی صاحب نے کیا خوب فرمایا کہ ہم نے باب العلم کو چھوڑ دیاہے۔
امام علی (ع) سے لیکر امام حسن عسکری تک ان کے دس وصی آئے اور تاریخ گواہ ہے کہ ان کو قتل کیا گیا پسِ زندان مسموم کیا گیا یا ان کو خوف و ہراس کی میں چپ کھاگئی۔ یہ رویہ صرف اس سلسلہ ء نورانی تک ہی محدود نہیں، بلکہ اہل حق کسی بھی مذھب کے اور چاہے کسی بھی خطے کے، ان کے ساتھ عمومی سلوک یہی رہتا ہے۔ زہر سقراط کو بھی پینا پڑا تھا۔ ذرا سے سچ کی قیمت میں جسونت سنگھ اور ایل کے ایڈوانی کی زندگی بھر کی ریاضتیں لا یعنی ہو جاتی ہیں اور دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ محض تماشائی بنے رہ جاتے ہیں۔۔۔۔ لیکن مسلمان اس معاملے میں کچھ زیادہ ہی کم ظرف نکلا کہ ہر بار محسن کو پہچان کر مارتا ہے۔
اس سب پر مستزاد پاکستان کا مادر پدر آزاد میڈیا ہے جو کبھی محض درباری نقیب بن کر جھوٹ بولتا تھا۔ اب جو آزادی ملی تو ہر ایک کا قبلہ ہی الگ ہے۔ سو طرح کی قبلہ گاہوں میں، پاکستان نما حرم کا کہیں بھی ذکر نہیں ملتا۔ کوئی حقوق انسانی کے حوالے سے اس ملک کی تذلیل کر رہا ہے اور کوئی فوج کی مسلسل کردار کشی سے۔ کوئی جھوٹے شعراء کو ترقی کے زینے طے کروا رہا ہے تو کوئی نا بلد صحافیوں کی فوج کے سر پر طوطی بجا رہا ہے۔
میں حیران ہوتا ہوں جب بی بی سی اور سی این این جیسے چینلوں کے پروگرام اور پاکستانی پروگرامز میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ ہمارے یہاں کے نادان یہ بھول جاتے ہیں کہ بیرونی چینلز تو اپنے مخصوص مقاصد کے تحت پاکستان کی برائی کرتے ہیں، یہ ہمارے بھائی بندے سچ کے نام پر اور اپنی نمود و نمائیش کی خواہش میں نجانے کیا کچھ کر رہے ہیں۔ بلکہ سچ کہوں تو یہی لگتا ہے کہ یہ سب دوکانیں ایک ہی قصائی کی ہیں جہاں گوشت گاہکوں کی طبیعت کے مطابق بیچا جاتا ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ یہ سب ٹھکانے اب شکاریوں کے قبضے میں ہیں اور ہل علم و ہنر سے صد فیصد خالی ہیں۔ ایسی صورت میں العوام کالانعام اگر بھیڑ چال چلنے کی بجائے بکھر جائیں تو شاید یہ بھی ان کے اب تک زندہ ہونے کی ہی علامت ہے۔
فکر و دانش کی اساس کے لئے ہمیں سب سے پہلے اسی نسخہ ء عمل کی طرف رجوع کرنا ہوگا جو امت مسلمہ کو ضابطہء حیات عطا کرتا ہے یعنی قرآن الکریم اور سنت رسول (ص) ۔ گوکہ سنت کو تو ہم نے چودہ سو برس میں خوب پامال کر دیا اور روش مصطفوی کو باب العلم کی بجائے فیلان عقیدہ سے پوچھتے رہتے ہیں، لیکن الحمد للہ کہ کتاب اللہ ابد الآباد تمام شکوک سے بالا تر ہے۔
قرآن تدبر کے لئے دل کے ساتھ ساتھ عقل کے استعمال کی بھی مسلسل تاکید کرتا ہے۔ قرآن عقل سے محرکات کے حصول اور ان کے تجزئیے کی دعوت دیتا ہے تو دل میں ان اصولوں کو جانشین کر کے بٹھا لینے کا سبق بھی دیتا ہے۔ بلکہ قرآن الکریم ہمیں دل کی کسوٹی پر بات تولنے کا حکم بھی دیتا ہے۔ میں اس حوالہ سے قرآنی حوالہ جات ڈھونڈ رہا تھا تو کم از کم 218 حوالہ جات دیکھ کر میں خود بھی رک گیا۔گو سائینس تمام عقلی امور کا منبع محض دماغ کو ہی جانتی ہے لیکن حقیقت میں تعقل کے حوالہ سے جہاں تک قلب یا فواد کی بات ہے تو ان کا تعلق احساسات انسانی سے مسلسل ہے جسکا اظہار دل کی دھڑکن کی صورت میں نشاط و خوف کی حالت میں ہوتا بھی رہتا ہے۔
یہ میری ذاتی سوچ ہے جو ممکن ہے کہ غلط بھی ہو کہ دماغ کسی بھی معاملہ پر آراء تجویز کر کے فواد کے حوالہ کر دیتا ہے۔ جس میں بسا اوقات دماغ اپنی طرف سے حفاظتی سفارشات (ریکومینڈیشنز) بھی ارسال کر دیتا ہے تا کہ ممکنہ نتائج کے پیش نظر مناسب فیصلہ اپنایا جا سکے۔ یہ بعینہ ایسے ہی ہے جیسے تعاملاتی تحقیق (آپریشنز ریسرچ) میں ہم ممکنات(پروبے بیلٹیز) اور تغیرات(ویری ایبلز) کے تناظر میں ایک مفروضے سے ممکنہ نظرئیے تک اور نظرئیے سے اصول تکپہنچنے کی سعی کرتے ہیں۔
فیصلے اپناتے وقت، بسا اوقات ہم تذبذب کا شکار بھی ہوجاتے ہیں جہاں مفاد و نقصان کے امکانات برابر ہوں۔ اسی طرح جب فواد بھی کسی حقیقت کا ادراک نہیں کر پاتا تو وہ بھی ایک ایسی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے جسے شک کہتے ہیں۔ شک کی کیفیت میں دل یا تو بات کو بالکل ہی رد کر دیتا ہے یا پھر دماغ کی طرف واپسی رجوع کرتا ہے تاکہ مزید شواہد و معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔
دل در اصل محسوسات کا مرکز ہے۔ چاہے دل کی دھڑکن اور گھٹن و نشاط دماغ کے چھوڑے ہوئے غدودی مادوں (ہارمونز) کے تابع ہی کیوں نہ ہو، لیکن ان محسوسات کا ادراک و اظہار قلب ہی سے ہوتا ہے۔ جیسے آنکھ دیکھنے کے لئے دماغ کے بناء نا تمام ہے اور اکیلا دماغ آنکھ کے بغیر یہ کام نہیں کر سکتا، اسی طرح دماغ فہم و تدبر کے لئے فواد (قلب) کے بغیر ادھورا ہے۔ گویا دونوں لازم و ملزوم ہیں۔
در اصل جیسا کہ سائینس میں جسم کے انضباط (کنٹرول) کا کام دماغ کے پاس ہے، ایسے ہی صاحبان عرفان کی یہ بات بھی درست ہے کہ روح کے انضباط کا کام دل کے پاس ہے۔ بلکہ اگر مزید غور کروں تو دل بھی نفس کو ضابطہ دیتا ہے نہ کہ روح کو۔ روح ہمارے انضباط سے قدرے ماورا مخلوق ہے جو نہ مکمل مقید ہے اور نہ ہی کلی مختار۔۔۔۔خیر یہ ایک الگ موضوع ہے۔ دل کے نفس پر انضباط (کنٹرول) کی مشق کا نام ہی مراقبہ ہے۔ بلکہ اگر عربی ابدھان یا قاموس (ڈکشنری) دیکھی جائے تو کنٹرول کے ایک لغوی معانی مراقبہ بھی ہیں۔
دل جب نفس پر مکمل کنٹرول پا لیتا ہے تو اس غیر مرئی مخلوق کی حرکات و سکنات ہمارے دل (فواد) کے تابع ہو جاتی ہیں۔ اب جب فواد اسقدر قوت پا لیتا ہے تو نفس کو ہر اس جگہ میں لیجانے پر قادر ہو جاتا ہے جہاں وہ چاہے۔ ایسی صورت میں کبھی نفس بارگاہِ مصطفوی (ص) میں بھی ہو سکتا ہے اور کبھی کسی ارذل مقام پر بھی۔ مراقبہ کے ساتھ اگر تزکیہ ء نفس نہ کیا جائے تو کنٹرول کے با وجود نفس کو بارگاہ ہائے قدسیہ میں حضور کی اجازت نہیں ملتی۔ اسی لئے بدھ، ہندو، اور دیگر مذاھب کے روحانیون مراقبوں کے بعد سیر ارضی جیسے مدعا تو پالیتے ہیں جس میں وہ غیر مرئی امور کا مشاہدہ تک کر لیتے ہیں، لیکن مقاماتِ مقدسہ تک نہ رسائی پا سکتے ہیں اور نہ ان کا عرفان ان کو نصیب ہوتا ہے۔
بات اپنے بنیادی سوال سے بہت دور جا چکی ہے۔ جس کے لئے معذرت خواہ ہوں، لیکن بہر کیف یہ گفتگو اصلِ موضوع سے مربوط بھی ہے۔ جہاں تک امت مسلمہ میں مفکرین و مدبرین کی کمی کا ناطہ ہے تو در اصل ایسا نہیں ہے۔ الحمد للہ ہمارے یہاں ڈاکٹر اقبال، الظاف حسین حالی، حسرت موہانی ڈاکٹر علی شریعتی، امام خمینی، حکیم محمد سعید، اشفاق احمد، احمد ندیم قاسمی سمیت کئی قابل قدر نام موجود ہیں جو قوم کو مسلسل سبق پڑھاتے رہے۔ اب اس دور میں بھی ہمارے پاس اہل دانش و حکمت کا ایک ایسا قبیل موجود ہے، جنکی ہم آج توقیر کو تیار نہیں، لیکن کل انہی کے گیت گائیں گے۔
یہ سچ ہے کہ اللہ کی زمین کبھی اہل حق سے خالی نہیں رہتی۔ ہمیں تو بس صرف انہیں تلاش کرنا ہے۔ اگر زمیں نمائندگان خدا اور انکے جا نشینوں سے خالی ہو تو یہ کب کی اجڑ گئی ہوتی۔ لولاک لما خلقت الافلاک کی حدیث یہی تو بتاتی ہے کہ اگر احمد مرسل نہ ہوتے تو افلاک ہی خلق نہ ہوتے۔ اب احمد مرسل (ص) ظاہری نظر سے اوجھل ضرور ہیں، پرکوئی تو ہے جو لحمک لحمی اور دمک دمی کے مصداق وجود کائینات کا اب بھی ضامن ہے۔سلسلہ ء نبوت و رسالت ختم ہو گیا، لیکن کیا خدا نے ہدایت دینا بھی بند کر دی؟ یہ تو اسکے عدل کے خلاف ہے اور جو عادل نہیں، وہ ظالم ہے اور ظالم ہونا عیب ہے اور عیب دار سبحان نہیں ہو سکتا، جبکہ خدا تو سبحان ہے۔ لہذا یقینی طور پر نظام ہدایت اب بھی قائم ہے۔ کوئی وصی ء مصطفی (ص) سے ہدایت لے رہا ہے اور کوئی ان کے جا نشینوں سے۔
کہیں یہ کام بلھے شاہ کر رہا ہے اور کہیں لعل شہباز قلندر۔ دھرتی کے ہر کونہ میں اہل علم و حکمت کا کم از کم ایک فرد موجود رہتا ہے جو اوصیائے رسول سے لیکر فیضان ہدایت جاری رکھتے ہیں اور یوں روشنی بادلوں کی اوٹ سے ابھی اپنا فیض دئیے جا رہی ہے۔
بطور امت مسلمہ ہمیں اپنے اندر اقدار کو بلند کرنا ہوگا۔ خالص اور کھوٹ کو الگ کرنا ہوگا۔ سچے امام، سچے پیشوا، سچے ملا، سچے مفکر، سچے ادیب، سچے صحافی اور سچے صوفی کو کھوجنا ہوگا۔ ہم نے نا قدر شناسی کے سبب ان اہل حق کو پس پشت ڈال رکھا ہے جو آج بھی ہماری بقاء کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود یہ اہل حق گوشہ نشینی میں بھی اپنا کار حق جاری رکھتے ہیں، کوئی اکتساب فیض کرے یا نہ کرے۔ قوم جعلسازوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کر اپنا وقار اور مقام کھو چکی ہے۔ منبر پر بندر ناچ رہے ہیں اور مسجد سے گویوں کی آواز آ رہی ہے۔ جھوٹ کو داد دی جا رہی ہے اور سچ کو نظر دشنام کیا جا رہے۔
ایسے میں آج کا حق باھو مسجد اور منبر سے بہت دور جا چھپا ہے۔ شاہ لطیف بھٹ شاہ میں نہیں ملے گا۔ آج سچل سر مست شیو کر کے، صبح سائیکل پر دفتر جاتا ہے اور کسی گیٹ پر چوبدار کا کام کر تا ہے اور آنے جانے والوں کو اپنے معصوم چہرے کی خاموشی میں درس سبق و استقامت دیتا ہے۔ آج مبلغ جین پہن کر ہمارے مابین ہی کہیں گھومتا ہے اور اپنی گفتار و رفتار سے صدائے لاالہ الا اللہ دل سے دل تک پہنچاتا ہے ۔
آج کا ملنگ بابا ہوائی جہاز میں سفر کرتا ہے اور اپنے کردار و عمل سے علی حق کا نعرہ دیوار جاں پر لکھ جاتا ہے۔ آج کا عالم انٹر نیٹ پر چیٹ کر کے نوجوانوں سے براہ راست سوال کر کے ضمیر جھنجوڑتا ہے۔۔۔۔یا پھر سارا دن مزدوری کر کے رات کو اپنے مالک کا حقیقی شکر ادا کر کے سوجاتا ہے۔ اسکا یک تشکر اسکی بستی کے لئے امان کا پروانہ بن جاتا ہے کہ وَاذْ تَاذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لاَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ ( سورہ ابراھیم آیت ٧) کہ اگر شکر کرو گے تو ہم نعمتیں بڑھا دیں گے اور اگر نا شکری کرو گے تو پھر جان لو کہ ہمارا عذاب بھی شدید ترین ہے۔
مسجد و منبر تو اب مقبوضہ ٹھکانے ہیں اور خانقاہیں ہرس حرص و ہوا کی آمجگاہیں ہیں۔ اسی لئے تو اقبال علیہ الرحمہ نے صاحبان خانقاہ کو باہر نکل کر اسوہء حسینی (ع) پر چلنے کی ترغیب دی تھی۔ اب ہمیں ان جگہوں کو چھوڑ کر آج کے حقیقی اہل علم و ادب کو تلاش کرنا ہوگا۔ تاکہ ہمارا منتشر کاروان اکٹھا ہو کر زندگی کی صحیح شاہراہ پر گامزن ہو سکے۔
میں مبارکباد بھی دیتا ہوں اور داد تحسین بھی اس عالمی اخبار اور اسکی ادارتی ٹیم کو کہ جو شمع حق جلانے کی انفرادی کوشش میں ہمہ تن مصروف ہیں اور گوشہ ء عقل کو جھٹکا دیتے رہتے ہیں کہ اس قوم پر کوما ہی طاری نہ ہو جائے۔