فلم اور ٹی وی کے معروف اداکار سید کمال کراچی یکم اکتوبر جمعرات کی صبح میں انتقال کرگئے۔ان کی عمر پچہتر سال تھی۔کمال کو پاکستان کے پہلےمزاحیہ اداکار کے طور پر بھی جانا جاتا ہے
وہ طویل عرصے سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے اور دل کے آخری دورے نے انکی جان لے لی۔انہوں نے لواحقین میں بیوہ، تین بیٹیاں اور ایک بیٹا سوگوار چھوڑے ہیں۔
فنون لطیفہ اور فلمی دنیا کے متعدد افراد نے انکی رحلت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
انہوں نے سویرا، سہاگن، آشیانہ، جوکر، دال میں کالا، باپو، اپنا پرایا، ایاز، مراد سمیت کوئی دو درجن فلموں میں کام کیا۔ انیس سو اڑسٹھ میں فلم ’بہن بھائی‘ میں انہیں نگار ایورڈ سے نوازا گیا۔
پاکستان میں ساٹھ اور ستر کے عشرے کے کامیاب اداکار سید کمال بھارت کے شہر میرٹھ میں پیدا ہوئے تقسیم کے بعد انیس سو ستاون میں پاکستان آگئے جہاں 1958 میں انہوں اپنی پہلی فلم ’ٹھنڈی سڑک‘ بنائی۔
اداکار کمال پاکستانی فلموں کی پہچان تھے اورانہوں نے اپنے دور میں لاتعداد مشہور فلموں میں کام کیا جس کے باعث ان کے کام کو پاکستان سمیت دیگر ملکوں میں سراہا گیا۔

انکی شکل ھارتی اداکار راج کپور سے کافی مشابہ تھی اس لیے انہیں پاکستان کا راج کپور بھی کہا جاتا تھا۔انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ بھارت میں لوگ اکثر دھوکا کھا جاتے اور ایک مرتبہ جب وہ ممبئی میں تھے تو لوگ ان کے ارد گرد یہ سمجھ کر جمع ہو گئے کہ وہ راج کپور ہیں۔
کمال نے سیاست میں بھی حصہ لیا اور انیس سو پچاسی میں اسوقت کے آمر مطلق جنرل ضیاء الحق کے غیر جماعتی انتخابات میں بھی حصہ لیا مگر کامیاب نہیں ہوسکے جس کے بعد انہوں نے فلم ’سیاست‘ بنائی جو فلاپ ہوگئی۔
انہوں نے فلم کی بڑی سکرین کے بعد ٹی وی کی چھوٹی سکرین پر بھی کام کیا۔ انہوں نے پی ٹی وی کراچی سینٹر سے ’کمال کا شو‘ کے نام سے ایک پروگرام کی میزبانی کی ۔