آباد کر کے شہر خموشاں ہر ایک سو
کس کھوج میں ہے تیغ ستم گر لگی ہوئی؟
کیری اور لوگر دونوں نے جو کچھ کیا، جس طرح یہ بل بنایا وہ داد کے مستحق ہیں۔
مت سمجھئے گا کہ میں بل کا حمایتی ہوں، بلکہ میں تو ان کے جذبہ حب الوطنی کو داد دے رہا ہوں۔ ان کا ملک امریکہ ہے، اور اس کےساتھ محبت ایک فطری جذبہ ہے۔ اس کا ثبوت انہوں نے اس بل کی صورت میں دیا۔
اس بل سے پہلے ہی امریکہ نے پاکستان کو اپنی کالونی بنایا ہوا ہے، جب اور جہاں چاہے جا سکتا ہے، آزادانہ نقل و حرت بمع خطرناک ہتھیار ان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں۔ دار الحکومت اسلام آباد سے لیکر سب سے بڑے تجارتی مرکز کراچی تک میں، ہر گھر، ہر دفتر اور ہر ادارہ ان کے لئے اپنے گھر کی بالکونی کی طرح کھلا ہے۔ ان کے کام میں مداخلت کا خیال بھی برتر از گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ سوات سے لے کر وزیرستان اور تمام قبائلی علاقہ جات ڈرون طیاروں کے لئے فارم ہاؤس بنے ہوئے ہیں۔ جب چاہا، جہاں چاہا حملہ کیا، معصوم جانوں کو خاک و خون میں غلطاں کیا اور چلے گئے۔ خراماں خراماں آئے اور خراماں خراماں چلے دئے ۔
پھر اس بل نے تو چار چاند لگا دئیے۔ ان کے تمام سیاہ کارناموں کو اعمال حسنۃ بلکہ کارہائے نمایاں کی سند فراہم کر دی۔ اب جب چاہیں اور جہاں چاہیں، شرائط کی خلاف ورزی کا بہانہ بنا کر حملہ کردیں، جس کو چاہیں اٹھا کر لے جائیں، جس مسجد مدرسے کو چاہیں طلبہ سمیت زمیں بوس کر دیں۔ کوئی آواز نہیں اٹھا سکے گا۔کیوں کہ ہم نے خود سر محضر مہر لگا کر انہیں تمام اختیارات اور سفید و سیاہ کا مالک بنا دیا ہے۔
ضرور ان کے دل میں خیال آیا ہو گا کہ اگر ہم پاکستان کو اتنی امداد دے رہے ہیں۔ امریکہ کا اتنا پیسہ پاکستان جا رہا ہے تو جوابا امریکہ کو بھی کچھ نہ کچھ فائدہ ہونا چاہیے۔ اور یاد رہے کہ وہ لوگ سرمایہ دارانہ نظام کے علمبردار اور مبلغ ہیں، اس لئے بغیر نفع کے وہ کسی کی مدد کریں ’’محال است‘‘ اور ایسی توقع رکھنا ’’جنوں است۔‘‘
کیری لوگر بل جن شرائط کے ساتھ سامنے آیا ہے اس کے ساتھ اسے منظور کرنا ’خاکم بدہن‘ پاکستان کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترادف ہے ۔
لیکن اس بل پر امریکہ یا اس کے اداروں کو مورد الزام ٹھہرانا زیادتی ہو گی۔ کیوں کہ یہ تیر کھانے کے بعد جب آپ کمین گاہ کی جانب دیکھیں گے تو اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گی۔
پاکستان کے ہر میں شہر خموشاں بسا کر اب نہ جانے کس کھوج میں ہے یہ تیغ ستم گر۔۔ کوئٹہ اور کراچی پر حملہ کرنے کے لئے بے تاب ہے۔
لیکن صدر پاکستان کے احترام میں زبانوں کو تالے لگا لیجئے۔ آزای اظہار کا گلا گھونٹ دیجئے۔ اور اس زہر ہلاہل کو قند سمجھ کر پی جائیے ورنہ اس بل کے چرنوں میں آپ بھی قربان ہو سکتے ہیں۔ اور آپ کو بھی بلی کا بکرا بنایا جا سکتا ہے۔
لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں
کس کس کی مہر سے سر محضر لگی ہوئی