
ٹیلی فون پر اسحا ق ساجد نے جب مجھے یہ اطلاع دی کہ خالد یوسف فوت ہو گئے ہیں تو مجھے یو ں لگا جیسے وہ کہہ رہے ہوں سرور تم فوت ہو گئے ہو۔ اور میں نہایت اچھنبے سے کہہ رہا ہوں کہ ارے ایسا کیوں کہہ رہے ہو، میں تو ابھی زندہ ہوں ابھی تو مجھے اردو کی خدمت میں بہت آگے جا نا ہے ابھی اسقدر کام ادھورا پڑا ہے ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ خالدیوسف سارے کام ادھورے چھوڑ کر چلے گئے۔
لیکن جب مختلف ای میلز،اور اخبارات کے ذریعہ بار بار یہی پیغام ملا کہ خالد یوسف کا انتقال ہو گیا ہے تو پھر دل پر پتھر رکھ کر ماننا ہی پڑا کہ واقعی خالد یوسف اب ہم میں نہیں رہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اردو رسالوں، پرواز، ساحل اور صدا کے صفحات پر اب کون اس خوبصورتی سے کہانیوں پر تبصرے لکھا کر ے گا ، کون نئے لکھنے والوں کی غزلوں پر نہایت غیر جانبدارانہ تعریف اور تنقید کر ے گا۔ کون پرانے لکھنے والوں کی غلطیوں کی نشاندہی کر یگا۔
میں خالد یو سف سے کبھی نہیں ملا۔ مگر ان کی تحریروں کا ہمیشہ بغور مطالعہ کر تا رہا۔ اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ میری ان سے نہ جانے کب سے جان پہچان ہے۔دراصل یہی ایک اچھے ادیب کی پہچان ہے کہ لوگ اسے اس کی تحریروں کے ذریعہ پہچانتے ہوں۔ میں اور میری طرح اور بہت سارے قاری جو خالد یوسف کو صرف ان کی تحریروں کے ذریعہ ہی پہچانتے ہیں، ان کے لئے ان کا ایک مختصر سا تعارف۔

خالد یوسف تلہر ، ضلع شاہجہاں پور یوپی انڈیا میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم کے بعد اعلی تعلیم گورنمنٹ کالج حیدرآباد (سندھ) میں حاصل کی اور سندھ یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ پھر ایل ایل بی کیا اور مقابلے کا امتحان بھی پا س کیا۔ آپ پہلے سندھ یونیورسٹی میں لکچرر لگے اور بعد میں محکمہ انکم ٹیکس میں اعلی عہدوں پر فائز ہوئے۔ وہ سن 1976 سے1982 تک بطورِ سفارت کار ، سفارت خانہ پاکستان لند میں بھی کام کر تے رہے۔
اردو ادب کی دنیا میں خالد یوسف کا نام ایک کہنہ مشق شاعر ، ادیب اور ناقد کی حیثیت سے باقی رہے گا۔
ڈاکٹر قمر رئیس لکھتے ہیں کہ ’’ خالد یوسف کی غزلوں میں ایک کج کلا ہی مجاہد کا بانکپن اور مغنی کی دل نوازی چونکا تی ہے ‘‘۔
محسن بھو پالی نے ان کی شاعری پر یوں اظہارِ خیال کیا ہے۔ ’’ خالد کی مشقِ سخن کم و بیش چالیس سال برسوں پر محیط ہے‘‘۔
انوار احمد زئی کے خیال میں ’’ خالد یو سف نے اپنی زندگی کا مقصد شاعری کے بتِ طناز کو رام کر نا بنا لیا۔ اور وہ کہتے ہیں کہ وقت نے ، تنہائی نے، ارتکاز نے، تجربے، مشاہدے اور مطالعے نے مل جل کر خالد کی شاعری کو محض شاعری کی راہ سے بہت آگے لے جا کر چانکا دینے والی اچھی شاعری کی منزل کی نوید دی ہے۔
ریحانہ روحی لکھتی ہیں کہ ’’ ان کی ہر تحریر میں ان کا عہد گفتگو کر تا ہے۔ ان کی ہر نظم میں اس تیسری دنیا کا کوئی ایک سلگتا ہو ا موضوع توجہ اپنی طرف مبذول کر لیتا ہے۔
خالد یوسف کس کمال کے شاعر تھے، ان کی غزلوں کا کیا انداز تھا ۔ ان کی نظموں کے تیور کیا تھے یا ان کے نثر کی قوتِ گویا ئی کیا تھی اس کا اندازہ اس مضمون کے ذریعہ ممکن نہیں۔ ان باتو ں کے ادراک کے لئے ضروری ہے کہ خالد یوسف کی کتا بوں کا مطالعہ کیاجائے۔
خالد یوسف شعر و ادب کی دنیا میں ایک کثیر اثاثہ ، آٹھ مجموعے کی شکل میں چھوڑ گئے ہیں اور ا نکو یاد کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے ان کی کتابیں خرید کر پڑھی جائے۔
ان کی ان تمام تحریروں جو کہ مجموعے کی صورت میں جلد بند ہیں کے علاوہ خالد یوسف نے تنقید وںکا ایک اور بہت ہی عظیم اثاثہ بھی اپنے پیچھے چھوڑا ہے۔ جس سے استفادہ حاصل کر کے اردو شاعری میں عبور حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان کی بے لاگ تنقید، دو ٹوک اصلاح ، اوزان اور تراکیب کی درستگی ان کے کلاسیکی شاعری پر عبور کا منھ بولتا ثبوت ہیں اور رموز وعلائم سے آگاہی کا پتہ دیتے ہیں۔
آ ئیے ان کے چند تبصرے جو مختلف رسالوں کی زینت بنے ، پڑھتے ہیں:
سرور غزالی کے مختصر افسانے عراقی اور اندھا دشمن خرد افروز ہیں۔
آصف الرحمن کا افسانہ ، ایک عمدہ نفسیاتی کہانی ہے۔ ڈاکٹر عمران مشتاق کا افسانہ کھلی کھڑکی دلچسپ بھی ہے اور افسانے کی فنی کسوٹی پر بھی پوری اترتا ہے۔
صفات علوی صاحب کا بیحد عالمانہ مضمون ’’افسانہ‘‘ اس صنف ادب کے حوالے سے سوچ کے نئے دریچے وا کر رہا ہے۔ ۔۔۔۔ کی نظم ’’بچپن‘‘ خوبصورت ہے مگر آخری بند میں ایطا کا عیب ہے۔ ۔۔۔۔۔ کی نظم ’’ آہ احمد ندیم قاسمی‘‘ کے مقطع میں ہے کہ کر نا اور رہنا ہم قافیہ نہیںہیں۔ اس کے علاہ لفظ ’’دہر‘‘ کا تلفظ بھی غلط استعمال ہو اہے۔ کہ بیچ کا ’’ہ‘‘ ساکن ہو نا چاہئیے، یعنی بوزن شہر۔ ۔۔۔۔۔۔کی نظم ’’ دعا‘‘ بد دعا کا ایک دلآویز انداز ہے۔ ۔۔۔بعض غزلیں اسقام سے پر ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔نظم اچھی ہے البتہ آخری مصرع میں روایت چونکہ جمع ہے اس لئے لفظ بدلیں ہو نا چاہیئے۔ ۔۔۔۔آخری دو اشعار محل نظر ہیں۔ لفظ صبح مصرعے کو ساقط الوزن کر دیتا ہے۔ اور یہ اس طرح بہتر ہوگا۔۔۔۔۔۔۔ ’’ تو تم کا استعمال اور تکرار صوتی تنافر پیدا کر تا ہے۔ اور اس طرح بہتر ہوگا۔ (اعتراض کے خدشے کے پیش نظر بعض نام اور شعر خذ ف کر دیئے گئے ہیں )
ان تمام تنقید میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ خالد یو سف اپنی بات کو دلیل کے ساتھ ثابت کر رہے ہیں اور متبادل مصرعے بھی لکھ رہے ہیں۔ان کے تنقید و تبصرے سے صاف ظاہر ہے کہ وہ اپنی علمی قابلیت جھاڑ نے کے لئے تنقید نہیں کر تے بلکہ ان کا مقصد نوآزمودہ شاعروں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ اس دلجوئی سے اصلا ح کر نا کہ وہ مایوسی اور ناامیدی کا شکا ر بھی نہ ہوں اور فن سے آگا ہ بھی ہو جائیں۔ وہ بلا تفریق نو و کہنہ مشق بے لا گ تنقید و اصلا ح کے عادی تھے۔ اپنے ہم عصروں کی اصلاح کو عیب نہیں جانتے تھے۔
خالد یوسف مختلف رسالوں میں باقاعدگی کے ساتھ تنقید و اصلاح کے خطوط ارسال کر تے تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ رسالے کی تمام تحریر کا نہایت باریک بینی سے مطالعہ کر تے تھے اور ضروری اصلاح کی اہمیت کا بر ملا اظہار کر دیتے تھے۔ساتھ وہ اپنی پسندیدگی کا بھی کھل کر اظہار کر دیتے تھے۔ ان کے ہر خط میں یہ ضرور موجود ہو تا تھا کہ’’ غزلوں کے مندرجہ ذیل اشعار خصوصیت سے لائق ستائش ہیں‘‘۔
خالد یوسف کی بے وقت موت اردو ادب کا ایک نا قابلِ تلافی نقصان ہے۔ اردو کا دامن ایک بہت بڑے نقاد سے خالی ہو گیا ہے۔ ایک ایسا قابل نقاد جس نے بے لاگ تنقید کو اپنا شعار بنایا اور تنقید کے ساتھ ساتھ اصلاح کے دامن کو بھی تنگ نہ رکھا۔ جس نے تعریف اور حوصلہ افزائی میں بھی کبھی کسرِ نفسی سے کا م نہیں لیا۔ راقم الحروف نے خالد یوسف کی تنقید اور اصلاح کو ایک کتابی صورت میں جمع کر نا شروع کر دیا ہے اور بہت جلد اسے منظر عام پر لائیگا۔
خالد یوسف جیسی ادبی شخصیت کے بارے میں وہ خود ہی کہہ گئے ہیں
ہر دور میں کچھ اہلِ قلم زندہ رہیں گے
یقینا انہوں نے یہ بات اپنے لئے نہیں لکھی ہو گی لیکن انکا شمار ہر دور میں زندہ رہنے والے اہلِ قلم میں ہی ہو تا ہے۔