تحریروں کی جہاں یہ خوبصورتی ہوتی ہے کہ سدا زندہ رہتی ہیں وہاں کبھی کبھی سوچوں کے کئی در بھی واہ کرتی جاتی ہیں ۔۔ اورپڑھنے والے کی انگلی پکڑ کر اپنے ساتھ ساتھ لیئے چلتی ہیں ۔۔ میرے ساتھ تویہ ستم بھی ہوتا ہے کہ ان تحریروں کو جب جب پڑھوں تب تب نئے رنگ و روپ کے ساتھ ملتی ہے ۔۔
عالمی اخبار کے اجرا کے دن تین کالمز کا انتخاب کیا گیا تھا ۔۔۔ پہلا کالم لندن سے بھائی آصف جیلانی نے لکھا تھا ۔۔
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے۔ از آصف جیلانی
کالم سے اقتباس
“ پچھلے تیس برس میں جدید ٹیکنولوجی کی بدولت نہ صرف اردو اخبارات میں بلکہ
انگریزی کے اخبارات میں بھی اتنی تیزی سے انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں کہ پچاس سال قبل سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ اتنی برق رفتاری سے طباعت واشاعت کا طریقہ بدل کر رہ جائے گا-
یہ ستم ظریفی ہے کہ اخبارات کی طباعت و اشاعت کے شعبہ میں اس بے پایاں ترقی کے باوجود صحافت کا معیار اس برُی طرح سے گرا ہے کہ پچاس سال قبل کسی کوشبہ بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ صحافت پر ایسا برا وقت آئے گا کہ اسے زوال سے تعبیر کیا جائے گا-
پچاس سال پہلے ، اردو صحافت کے آسمان پر فیض احمد فیض احمد ندیم قاسمی، چراخ حسن حسرت، سید سبط حسن، صوفی غلام مصطفی تبسم،عبدالمجید سالک، حمید نظامی ابرار صدیقی طفیل احمدخان ،ایوب کرمانی، شوکت تھانوی، ظہیر بابر، ابراہیم جلیس، شوکت صدیقی شورش کاشمیری اورطفیل احمد جمالی ایسے ممتاز اہل قلم اور دانشور ایک کہکشاں کی طرح جگمگا رہے تھے- اب اس دور میں اس پائے کے صحافی نظر نہیں آتے، چند گنے چنوں کے علاوہ- آج کے اخبارات کے مدیر یا تو مالکوں کے بیٹے بھتیجے یا بھانجے ہیں یا محض مصلحت کوش بونے ہیں۔۔
آصف بھائی کالم کے آخر میں لکھتے ہیں
عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں آج اردو صحافت میں جو ابتری نظر آتی ہے وہ پورے معاشرے کی ابتری سے جڑی ہوئی ہے اور معاشرہ کے انداز فکر کی پستی صحافت میں بھی سرایت کر گئی ہے- یہ تاویل ان لوگوں کے لئے کسی طور بھی قابل قبول نہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اردو صحافت کو معاشرہ کے رنگ میں رنگنے کے بجائے معاشرہ کی ابتری کو روکنے کی کوشش کرنی چاہئے – معاشرہ کو اس کی ماضی کی اعلی روایات اور اقدار یاد دلانا چاہئے اور عوام اور ان کے رہنماؤں کوروشنی دکھانا چاہئے تاکہ اس دور کی تاریکی میں وہ اپنے مستقبل کی راہ تلاش کر سکیں-
دوسرا کالم وینکوور(کینیڈا) سے بھائی شمس جیلانی نے لکھا تھا ۔۔
زرد صحافت ایک لعنت ہے ۔ از شمس جیلانی
کالم سے اقتباس
مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ جھوٹ سے اجتناب کرے اور عہد کی پاسداری کرے۔
یہ ذمہ داری اِ ہلِ قلم پر سب سے زیادہ عائد ہو تی ہے۔ مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ بد قسمتی سے سب سے زیادہ ہمیں لو گ سنسنی پھیلا نے کے لیئے ،کسی مسلمان کی پگڑی اچھا لنے میں آگے، آگے ہو تے ہیں ۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اگر کو ئی مسلمان نہیں ہے تو اس کی پگڑی اچھالنا جا ئز ہے۔ یہ میں نے اس لیئے لکھا کہ چو نکہ مسلمان ایک خصوصی سلوک کا مستحق ہے دینی بھا ئی ہو نے کی وجہ سے، اس کی جان ،اس کا مال، اس کی عزت اور آبرو قیامت تک کے لیئے دوسرے مسلمان پر حرام کر دی گئی ہے، جو کسی حالت میں بھی مبا ح نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ مرتد ہو جائے یا اڈلٹری کا مر تکب ہو۔
اس کے علاوہ اہلِ قلم پر یو ں بھی زیادہ ذمہ داری عائد ہو تی ہے کہ ویسے تو ہر چیز اللہ تعالیٰ کی امانت ہے لیکن وہ قلم صرف اپنے مخصو ص بندوں کو عطا فر ماتا ہے۔اس صلاحیت کا اطلاق نثر، نظم ا ور تقریر پربھی مساوی ہو تا ہے ۔سورہ الشعرا ء میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے چو نکہ ایک ہی آیت میں شاعری کی تعریف اور مذمت، دو نوں فر مائی ہیں لہذا وہاں دیکھ لیا جائے۔ کہ اچھے اہلِ قلم اور برے اہلم قلم کی اللہ کی نظر میں کیا وقعت ہے ۔ بقول علامہ اقبال عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے ۔
ً
شمس بھائی اپنے کالم کے آخر میں زرد صحافت کو اس جرح سے ابدی روپ دیتے ہیں ۔۔۔
لہذا وہ سب لوگ بلا تخصیص ان لوگوں کے خلاف جو ،زرد صحا فت کے ذمہ دار ہیں اور کسی کی پگڑی اچھال رہے ہیںیا جھوٹ بول رہے فریب اور دھوکہ دہی کے مر تکب ہو رہے ہیں،یا بہتان باندھ رہے ہیں۔ انکامعا شی با ئیکاٹ کر یں ۔ اور جوکوئی ایسے غلط فعل کا مرتکب ہو رہا ہو۔ اس کی کسی طرح کی بھی سر پرستی نہ کریں۔ مثلا ً نہ اس کے ساتھ قلمی تعاون کریں نہ مالی ،تاکہ اسے احساس ہو جائے کہ وہ غلط کر رہا تھا۔اگر ہمارا معاشرہ یہ ذمہ داری پوری نہیںکر تا ہے۔ تو یقین رکھئیے کہ اس کا حشر یہاں اور وہاں دو نوں جگہ ظالموں کے ساتھ ہی ہو گا ؟
تیسرا کالم سڈنی (آسٹریلیا) سے بھائی سید مصباح حسین نے لکھا تھا ۔۔
اردو کی تازہ بستیاں اور قوم لوط کے صحافی۔ از مصباح حسین ۔۔
کالم سے اقتباس
مدینہ العلم کی چوکھٹ سے نسبت کے سبب میرے نزدیک لفظ کو بیکار استعمال کرنا ایک
گناہ ہے اور خالق ِ نطق و بیان کی نعمت کا کفران ہے۔ نطق، قلم اور قرطاس ، خالق نے ہمیں حسنات پھیلانے کو دئیے ہیں ورنہ وہ چاہتا تو بنی نوع انسان کو بھی غیر ناطق حیوانات کی قطار میں کھڑا کر دیتا۔ چونکہ انسان کی تخلیق کا مقصد عبادت ہے، لہذا ہماری تحریر و گفتاربھی اس مقصد سے جدا نہیں ہونی چاہئے۔ اسی لئے صحافت ہو یا اردو ادب، میری توجہ حرمت لفظ اور قلم کی قدر کی طرف مبذول رہتی ہے۔
صحافی اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انکا قلم روز چلتا ہے اور عوام کی ایک کثیر تعداد تک پہنچتا ہے۔ بے لاگ کہنے اور لکھنے کو سب کچھ میسر ہے، اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ مغلظات کہیں یا حسنات کہیں۔ قول سدیدا بولیں یا کذب و افترا پر اپنی کامیابی کے زینے قائم کریں۔ زبانوں کے قبیل میں اردو ایک نو نہال زبان ہے لیکن اگر ترقی کے مدارج دیکھیں تو اردو دنیا کی قدیم زبانوں کی نسبت کہیں کم نہیں ہے۔ نہ اس میں ذخیرہ الفاظ کی کمی ہے نہ انشاء پردازی کی کوئی کمی۔ اردو ادباء اور شعراء نے ایسے ایسے ادب پارے تخلیق کئے ہیں جن کے دیگر زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں اور اس معیاری و تخلیقی ادب سے اقوام عالم مستفید بھی ہو رہی ہیں۔
مصباح بھائی اپنے کالم کے آخر میں لکھتے ہیں
اس کے ساتھ ہمیں ادب و صحافت کی صفوں سے ایسی کالی بھیڑوں کا نکال باہر کرنا ہوگا جو ادب کے نام پر عوام تک بیہودگی پہنچاتے ہیں اور ان کے بلا سبب قد دراز ہوجانے کی رعایت سے لوگوں میں غلظ و غلیظ ذہنیت پروان چڑھنے لگتی ہے۔ اگر نام نہاد نامور لوگ خود ادب کے نام پر زبان کے ساتھ یہ ظلم کریں گے تو اس سے نہ صرف زبان کا معیار کم ہوگا، بلکہ عوامی ذہنیت بھی پسماندگی کا شکار ہونے لگتی ہے، اور یہیں سے قوموں کی زندگی میں نہ رکنے والا زوال آ جاتا ہے۔ جب گناہ کو لکھ کر لطف لیں اور اس کو عام کرتے ہوئے عار محسوس نہ ہو تا کل کو سر عام کرتے ہوئے بھی شرم نہ آئے گی۔ اس کے بعد وہ ہوتا ہے جو قوم لوط کے ساتھ ہوا۔ میں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتا ہوں اس ساعت سے جب ایسے قلمکار اورقوم لوط کے صحافی عوام پر مسلط ہو جائیں اور زبان کے نام پر گناہ و بیہودگی کو ترقی دی جانے لگے۔ آمین۔
دوستو میں نے ان کالمز کو یاد دلانے کی یہ کوشش اس لیئے کی ہے تاکہ ہم ایک بار پھر ان خوبصورت لفظوں میں کشید کی ہوئی حکایتوں میں اپنے چہرے اور اپنے اطراف میں بسنے والے لوگوں کے چہرے بھی پہچان سکیں ۔۔ ۔۔ اور بقول میرے بڑے بھائی شمس جیلانی کے اپنا قبلہ درست کر لیں ۔۔۔