تینوں بلاگز اکتیس اکتوبر دو ہزار آٹھ میں لکھے گئے تھے اور یکم نومبر کو تبصروں کے لیئےشائع ہوئے تھے ۔
اگرچہ تانیہ رحمان اور عمران چوھدری اب عالمی اخبار سے منسلک نہیں ہیں لیکن صحافتی دیانت داری کا تقاضا یہی ہے کہ ریکارڈ کی درستگی کے لیئے حقائق کو مسخ نہ کیا جائے ۔۔ ۔۔
پہلا بلاگ بیلجیم سے بھائی عمران چودھری نے لکھا تھا ۔۔
“بسمِ اللہ الرحمٰن الرحیم”
اکتیس اکتوبر دو ھزار آٹھ میں عالمی اخبار کے لیئے پہلا بلاگ لکھنے کی ابتدا کرتا ہوں خالقِ کاینات کے با برکت نام سے جو دِلوں کو پاک بھی رکھتا ہے اور بعض حالات میں مہریں بھی لگا دیتا ہے۔
زندگی کو زندگی کی طرح گذارنے کے کیلئے ایک کچھ اصول و ضوابط طے کرنے ضروری ہوتےہیں، کُچھ دائرے اپنے گرد اور کُچھ حصار اپنی سوچوں کے گرد کھینچنے ضروری ہوتے ہی، نہیں تو لا محدود خواہشات انسان کو انسان نہیں رہنے دیتیں۔
ہر انسان اپنی زندگی میں مختلف مقامات پار اور مختلف حالات میں چھوٹے چھوٹے ہدف بناتا رہتا ہے۔ جن میں سے کُچھ پورے ہو جاتے ہیں اور کچھ نہیں، اور پھر زندگی کو اس کے کمال تک پہنچانے کیلئے کوئی نہ کوئی ایسے جاودانی ہدف کا تعین کرنا ضروری ہوتا ہے جو انسان کے ارادوں اور عمل کو متزلزل نہیں ہونے دیتا۔ قوتِ ارادی میں اضافہ کرتا ہے، اور اس ہدف تک پہنچنے کیلئے اگر ایک راستہ بند ہو جاتا ہے تو دوسرا راستہ اس سے بہتر انداز میں یا زیادہ بہتر راستہ سامنے آ جاتا ہے۔
لیکن راستہ مِل جانے کا مطلب یہ نہیں لینا چاھیئے کہ حرکت روک دی جائے راستہ ہدف کی طرف راہنمائی کرتا ہے لے کر نہیں جاتا۔ چلنا خود ہی پڑتا ہے۔ اور پھر چلاے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ، راہنمائی ہو گئی ہے، زیادہ بہتر راستہ نظر آ گیا ہے، اب چلنا باقی ہے۔ انشاء اللہ ساری ٹیم مل کر اس اخبار کو جو کہ کوئی چھوٹا ہدف نہیں ہے اپنی محنت اور لگن سے اس کمال تک پہنچا دے گی جِس کا تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔ پھر ساری انتظامیہ کو مبارک اور اس خواہش کی تکمیل پر خُدا کا شکر کرنے کی درخواست ۔
خدا حافظ۔
اس بلاگ پر سب سے اچھا اور برجستہ تبصرہ کچھ یوں تھا ۔۔
5 تبصرے برائے “بسمِ اللہ الرحمٰن الرحیم”
صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
October 31, 2008 بوقت 2:25 pm ایڈٹ
عمران صاحب۔ یہ مجھ جیسے طالب علم کا ایمان ہے کہ سچ اور حق کے قافلے میں ایک فرد بھی اپنی مرضی سے شامل نہیں ہوتا۔ ایسی جماعتوں کا انتخاب خود پروردگار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ خود اپنے فکر آشنا بندوں کو لالچی اور مفاد پرست لوگوں سے الگ کر دیتے ہیں۔ ہم سب دوست ایک دوسرے کے لیئے سہارا ہیں اور مل کر چکیں گے تو سب ایک دوسرے سے کچھ نہ کچھ سیکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ جیسے دوستوں کی ہمراہی میں ہی رکھے۔ آمین
دوسرا بلاگ لندن سے تانیہ رحمان کا تھا ۔۔۔
اب بھی کچھ باقی بچا ھے۔
تانیہ رحمان ، بتاریخ October 31, 2008
دوستوں آپ سب کو بہت بہت مبارک ھو عالمی اخبار شروع ھو چکا ۔ جو جناب محترم صفدر ھمدانی اور محترمہ ڈاکٹر نگہت صاحبہ کی شب و ورز محنت کا
نتیجہ آج ھم سب کے سامنے ھے ۔ اپنی خوبصورتی اور نیاپن لے کر،یہاں مجھے مثال ایک خوبصورت دلہن کی دینی پڑہ رہی ھے، جس کو دیکھ کر لوگ خوشی بھی محسوس کرتے ھیں ۔ اور حسد بھی ۔بس ھمارا کام دوسروں سے پیار اور محبت کا ھے۔ ھمیں حسد سے کوئی کام نہیں ، جلنے والے جلا کریں خدا ھمارے ساتھ ھے۔ اور دوستو آپ سب کوخوش آمدید بلاگ کی اس خوبصورت محفل میں ۔ جس سے ھم کچھ مدت دور رہے۔ لیکن یہ دوری اچھائی کے لیے ھی ھو گی ۔اللہ ھم سب کو سچا اور کھرا لکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
پہلا بلاگ آپ سب کی نظر ۔
ابھی کچھ بچا ھے باقی؟
اور اس وقت اس بلاگ پر سب سے مثبت تبصرہ کچھ یوں لکھا گیا تھا
عمران چوہدری نے کہا ہے:
October 31, 2008 بوقت 9:39 am ایڈٹ
پہلے ہی دن تلوار نکال لی ہے تانیہ صاحبہ آپنے اچھا ہے، در اصل یہ سب مال عوام کا ہے اور عوام نے ہی تو چنا ہے، انکو، عوام کے پاو کوئی اور چوایس ہے جو نہیں، اگر آپ سے کہا جائے کل آپ شیر کا لقمہ بننا چاہیں گی یا بھیڑیے کا تو آپ بھی انہی میں سے کسی کو چنیں گی۔ ووٹ دینے سے یا الیکشن کرانے سے جمہوریت نہیں آجاتی، نظام کو بدلنا پڑے گا۔
تیسرا بلاگ سڈنی سے ڈاکٹر نگہت نسیم لکھا تھا ۔۔
آج یکم نومبر عالمی اخبار کے اجرا کا دن ہے
نگھت نسیم ، بتاریخ October 31, 2008
آج یکم نومبر “عالمی اخبار “ کے اجراء کا دن ہے اور میرا جی تو یہ چاہ رہا ہے کہ پوری دنیا میں دہائی ڈال دوں کہ سنو سنو عالمی اخبار آگیاہے ۔ پھر
سوچتی ھوں اور آرزردہ بھی ھو جاتی ھوں کہ اور کئی سفروں کی طرح اس کامیابی کے سفر میًں بھی بہت سے نئے تجربے ہوئے ، کئی دوست خفا ھوئے ، کئی نئے دوست بنے ، کئی لوگ جن پر تکیہ تھاانہوں نے طوفانی ہواؤں کا سا سلوک کیا، کئی دوستو نے پلٹ کر بھی نہ پوچھا کہ ھم کیا کر رہے ہیں اور کئی لوگوں نے جہاں بلا مشروط اپنے ہونے کو ہمارے ساتھ یقینی بنایا تو وہی کئی لوگ جنہیں ہم اپناسمجھ رہے تھے انہیں ہماری پالیساں غلط بھی لگی اور ساتھ چھوڑ گئے۔ ۔۔
اس سارے سفر میں صرف اور صرف سابقہ تجربوں نے ہمارا ساتھ دیا اور پچھلا سیکھا ہوا ایک ایک لفظ کام آیا ۔ جہاں گھر والوں سے لے کر دفتری احباب تک سبھی کم توجہی کی بنا پر متاثرین میں سے رہے ۔ وہی ھماری اپنی ذھنی اور جسمانی صحت بھی خراب ہو گئی ۔۔۔ یعنی ایک ڈاکٹر بھی دو دن ہسپتال کی نظر رہا اور ابھی بھی ڈاکٹروں کے ہاتھوں یرغمال بناہوا ہے ۔۔یہ ایک الگ کہانی ہے جو کسی اور وقت لکھونگی ۔
دوستو! مسلسل چار ھفتوں کی شب بیداری نے یہی بتایا کہ شب بیداری ایک جدوجہد کی طرح ہوتی ھے جو جاگنے والوں کو ایسی منزل کی جانب لے چلتی ہے جہاں کامیابی کے کئی ایسے انکشافات اُس پر منکشف ہوتے ہیں کہ رویئے اور لہجوں کے دکھ بھی ماند پڑنے لگتے ھیں ۔اپنی محنتوں کا ثمر جب آنکھوں میں چمک کی طرح اترتا ھے تو پھر تشکر اور خوشی بارش کی طرح دل کے آنگن میں برسنے لگتی ہے ۔
میں آج ایسی ہی خوشی سے سرشار ہوں اور جی چاہ رہا ھے کہ پورے جہاں میں منادی کرا دوں اور دنیا کی ہر گلی میں نقارے کے ساتھ یہی آواز ہو کہ دیکھو حق اور سچ کی آواز اٹھاتا ، بے لاگ صحافت کی شمع جلاتا ، ہم سب کا عالمی اخبار آ گیا ۔
دوستو آپ سب کو اپنی محنتوں اور عزم کا یہ ثمر مبارک ہو جو اللہ پاک نے بڑی محبت سے ہمیں اپنے رسول اور آل رسول کی محبت کے صدقے عطا کیا ہے ۔ دعا کرتی ھوں کہ اللہ پاک ہمیں اس شمع کی روشنی میں ایک دوسرے سے سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
اس بلاگ پر سب سے مثبت تبصرہ منظور بھائی کا جرمنی سے ملا تھا ۔۔ لکھتے ہیں
میں عالمی اخبار ویب سائٹ کے ارباب انتظام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اتنے اچھے بلاگ کو پھر سے زندہ کردیا اور ہم سب کی دوبارہ عید کردی۔
خدا کا شکر ہے کہ عالمی اخبار ویب سائٹ کی ابتدا بہت ہی اچھی ہورہی ہے اور صفدر ہمدانی صاحب اور نگہت نسیم صاحبہ اور امجد شیخ صاحب اپنی دن رات کی کوششوں سے اس ویب سایٹ کو بہتر سے بہتر بنا رہے ہیں۔
عالمی اخبار ویب سائٹ پایندہ تابندہ باد۔ شاد باد منزل مراد: امین ثمہ امین یا رب العالمین
منظور قاضی ۔ از جرمنی
اور دوسرا تبصرہ لاہور (پاکستان) سے زرقا مفتی کا تھا جو مجھے اب بھی یاد ہے جس میں خوشیوں کا ایک الگ رنگ ابھی تک نہ صرف دیکھائی دیتا ہے بلکہ محسوس بھی کیا جا سکتا ہے ۔۔ لکھتی ہیں ۔۔
تانیہ جی اور دیگر اہلِ بزم
تسلیمات
میری طرف سے بھی عالمی اخبار کے اجرا پر دلی مبارکباد قبول کیجئے
امید ہے یہ اخبار انٹر نیٹ کی دُنیا جلد ہی اپنا ایک ممتاز مقام پیدا کر لے گا
نگہت جی ہم نے تو کیک کھا لیا ہے
تھوڑا آپ کے لئے بچا ہے اور ایک کھیر کا پیالہ بھی فرج میں رکھا ہے
آئیے اور منہ میٹھا کر لیجئے
والسلام
زرقا
دوستو آج بھی خوشیوں کا دن ہے ۔۔ پھول ۔ مٹھائی ۔۔ کیک ۔۔۔ کارڈ ۔۔ یہ سب ۔۔مبارکبادیں ۔۔ بھلا خوشیوں کا بھی کوئی رنگ ہوا ہے ۔۔!