
عالمی اخبار کے ایک برس کا ادبی سفرنامہ جسے زرقا مفتی نے بڑی لگن سے سنوارا
کچھ غزلیں اور نظمیں
دکھ مری آنکھوں میں اشکوں کو سجانے آئے
01.11.2008, 12:52am , ہفتہ (GMT)

سائرہ بتول۔لندن
دکھ مری آنکھوں میں اشکوں کو سجانے آئے
دل میں بھڑکی ہوئی اک آگ بجھانےآئے
مجھکو حسرت ہے کبھی کوئی سہانا سپنا
میری آنکھوں سے مری نیند چرانےآئے
میں نے آواز اُٹھائی تو مرے سب ساتھی
مجھکو دنیاکے رواجوں سےڈرانے آئے
میرے دشمن سے کہو صبر ہے میراث مری
اب جو آئے تو نیا زخم لگانے آئے
وہ گھڑی خواب سی لگتی ہے کہ جب تیرے قدم
میری دہلیز کی قسمت کو جگانے آئے
مجھکو کافی ہے بتول اک یہی احساں اُسکا
وہ مری قبر پہ جو شمع جلانے آئے
قلم کو نیزے میں ڈھال رکھنا
02.11.2008, 07:56am , اتوار (GMT)
شعیب تنویر

مرا مقدر ملال رکھنا
مگر تم اپنا خیال رکھنا
ہمارا چہرہ ہے زرد چہرہ
تم اپنا چہرہ گلال رکھنا
وفا کا جب بھی نصاب لکھو
ہماری اُس میں مثال رکھنا
عداوتوں سے پڑے گا پالا
محبتوں کو سنبھال رکھنا
لبوں پہ بے شک شکایتیں ہوں
مگر دلوں میں نہ بال رکھنا
وطن کی مٹی پکارتی ہے
وطن سے رشتہ بحال رکھنا
کہاں سے سیکھا ہے ابنِ آدم
لہو کے دریا اُچھال رکھنا
شعیب اب کے وہ رن پڑا ہے
قلم کو نیزے میں ڈھال رکھنا
تم بھی اب جو شامل ہو دوستوں کی سازش میں
34-11-09, 10:11pm , منگل (GMT)
صفدر ھمٰدانی۔لندن

بھیگتا رہا شب بھر چاہتوں کی بارش میں
مات کھائی ہے ہم نے جیتنے کی خواہش میں
جسکے بعد ہر رُخ سے ہر قدم اندھیرا ہو
کتنی دیر لگتی ہے ایسی ایک لرزش میں
یہ یقین ہے میرا ڈوب کر میں ابھروں گا
جتنا چاہو ڈالو اب جیسی آزمائش میں
صندلی بدن اسکا پیراہن سے عاری ہے
اسکو لطف آتا ہے جسم کی نمائش میں
حد سے بڑھ کے عزت بھی ڈھونگ لگنے لگتی ہے
نفرتوں کی دنیا ہے اسقدر ستائش میں
تم سے کیا گلہ صفدر تم سے کیا شکایت اب
تم بھی اب جو شامل ہو دوستوں کی سازش میں
اے خُدا تو نے کہا تھا ۔از ۔زرقا مفتی
21.01.2009, 03:48am , بدھ (GMT)

اے خُدا تو نے کہا تھا
تاقیامت سرکشوں کو
بے اماں کرتا رہے گا
یہ وہ سر کش ہیں جنہیں تو نے چنا تھا
کہ جو اپنی بر تری کے زعم میں
پیغمبروں کو قتل کر دیتے تھے
جو تیری رضا پر راضی نہ تھے
اے خدا تو جانتا ہے
ارضِ اقدس پر نئے فرعون
مظلوموں کےخوں سے
اک نئی تاریخ لکھنے میں مگن ہیں
بستیاں تھیں کل جہاں اب مقبرے ہیں
پھول سے نازک
فرشتوں جیسے بچے مر رہے ہیں
اے خدا تیرا کہا ہے
ظلم کی رسی دراز ہو گی
مگر مہلت تمام ہوگی
ترا کہنا بجا ہے
پر غزہ کے باسیوں پر
وقت مشکل ہے بڑا
تو ہی بتا اب
صبر کب تک یہ کریں
یوں بے گناہ مرتے رہیں
اے خدا سچ کر دکھا اپنا کہا تُو۔۔۔۔۔۔
میرے چاند سے چاند چھین لیا ھے
09.02.2009, 02:43am , سوموار (GMT)
ڈاکٹر نگہت نسیم

غربت سے بھوک ھمیشہ جڑی رھی ھے ۔ اُس کی تکلیف ، درد اور دکھ کا احساس وھی کر سکتے ھیں جنہوں نے کبھی فاقے دیکھے ھو ، بھوک کاٹی ھو یا پھر کبھی محسوس ھی کی ھو ۔ اٍس خبر نے تو جیسے میری روح ھی کو تڑپا کر رکھ دیا تھا کہ پوری دنیا میں 1.2 بلین انسان بھوکے رھتے ھیں ۔ جن میں 9 ملین انسان ھر سال بھوک سے مرجاتے ھیں اور اٍن مرنے والوں میں 5 ملین بچے ھوتے ھیں ۔ اُسی بھوک اور فاقے کو محسوس کرتے ھوئے ایک نظم آپ سب اھل ھنر کی نظر
بیٹے دیکھ تو آسمان کا چاند کیسا دکھتا ھے
تُو کیا جانے یہ میرے چاند جیسا دکھتا ھے
میری ماں کی مسکان میرے لیئے انمول ھے
اُس کی مدھر ھنسی دنیا کے لیئے بے مول ھے
وہ جھوٹ نہیں بولتی کبھی
پر آج کہہ گئی ھےابھی ابھی
بھولی ھے ! میرا بابا اکثر یہ کہتا ھے
دنیادار نہیں تیری ماں بابا کہتا ھے
بارہ برس کی عمر اور میں کیا کیا سوچتا ھوں
آسمان کو تکتے تکتے یونہی کھو جاتا ھوں
ماں یہ جو آسمان پہ روشن چاند ھے نا
وہ مجھ جیسا نہیں میری بھولی ماں
چاند تو روٹی جیسا ھے
دودھ کی کٹوری جیسا ھے
پچیس پیسے جیسا ھے
چاند تو تم جیسا ھے
بلکل کسی سچ جیسا ھے
دنیا کی ضرورت جیسا ھے
کاش جس بڑھیا کی بات تم بتایا کرتی ھو
پوچھوں کبھی کیوں چرخہ تم کاتا کرتی ھو
تم نے ھی روٹی کبھی کاتی ھوتی
رب نے بارش میں برسائی ھوتی
چالباز دنیا کو بات کبھی یہ سمجھائی ھوتی
سازش جہاں بوئی ھے وہاں روٹی لگائی ھوتی
ماں یہ جوچاند ھے نا
مجھے خوابوں سے بھرا ایک غبارا لگتا ھے
تمھاری آنکھ میں ٹھرا ایک آنسو لگتا ھے
سب سنتاھوں تیری خاموشی سے
کیوں کہہ دیتی ھوھر بار بابا سے
“ بُرا ھو اٍس نگوڑی بھوک کا
میرے چاند سے چاند چھین لیا ھے
کہانیوں میں ایک بہترین انتخاب
قصور کے کھسے
14.03.2009, 12:01am , ہفتہ (GMT)
روبینہ فیصل

دو لش پش کرتی عورتیں اور ان کا بناﺅ سنگھار ،ایک میری خالہ اور ایک میں ۔وہ عورتیں میری خالہ کے ساتھ تھیں ، مگر میں ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی ۔ آج مجھے سیالکوٹ سے لاہور آئے دوسرا دن تھا ۔میں جب بھی لاہور آتی یہاں کی خوبصورتی مجھے بہت بھاتی اور یہاں کی وحشت مجھے کہیں کا نہ چھوڑتی ، نہ جانے کیا تھا اس شہر کی ہواﺅں میں کہ کہیں اڑ جانے کو جی چاہنے لگتا ۔
جوانی کے شروع کے دن اور لاہور شہر ۔۔ ان دو کا امتزاج کسی بھی ذی روح کو پاگل کردینے کے لئے بہت ہے ۔ یہاں آکر سڑک کے بیچوں بیچ کھڑے ہوکر ،ہر آتے جاتے شخص کو اپنی طرف متوجہ کرنے کو جی چاہتا ۔ کبھی جی میں آتا اتنی اونچی ہنسوں کہ موٹر سائکلوں والے مڑ کر مجھے دیکھیں اور گاڑیوں والے شیشے نیچے کر لیں اور اونچی سے کہتے جائیں ،کیا خوبصورت کھنک ہے ۔۔ کبھی جی چاہتا کہ بس یونہی مر جاﺅں ۔۔ اس شہر میں آکر جی بھر کر جینے کی اور کبھی ایک دم سے مرجانے کی تمنا ہوتی ۔ نہ جانے کیا تھا اس شہر کی ہواﺅں میں ۔۔ مجھے تو خود پر ترس آنے لگتا ۔۔
۔
میں ،میری خالہ اور وہ دو لش پش کرتی ہوئیں عورتیں اور بس کی بے تحاشا بھیڑ ۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔ اور اٹھارہ سال کی عمر ہو تو سمجھ ویسے بھی کم آتا ہے ۔مجھے سیالکوٹ سے آئے دوسرا دن تھا ، لاہور کے لاہور کالج میں داخلہ فارمز جمع کروا کر آئی ہی تھی کہ خالہ نے کہا ۔۔چلو ذرا قصور تک جانا ہے ۔۔ اور میں نے بڑے بودے طریقے سے پوچھا تھا ۔۔کیا قصور اتنا ہی نزدیک ہے کہ یونہی اٹھ کر لوگ چلے جاتے ہیں ۔۔ خالہ بولی ہاہا ۔۔ کیسی کم عقل لڑکی ہے ۔۔ بدھو یہ تو قصور دھرا ہوا ہے ۔ادھر لاہور قصور لاہور بس میں بیٹھے ، ادھر لاہور سے قصور اور قصور سے لاہور آپہنچے ۔۔ پھر بڑی تشویش بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولیں ۔۔ چلا ،پھرا کرو ۔۔ تمھیں تو زمانے کا کچھ پتہ نہیں ۔اور میں نے دل ہی دل میں ان کے بھول پن پر مسکرانا ضروری سمجھا کیونکہ میں تو اپنے آپ کو بہت پھنے خان سمجھتی تھی ۔۔
ان دنوںغالب کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا ۔۔ اور غالب پڑھ پڑھ کر سمجھتی تھی مجھے سب پتہ ہے اور مجھ سے زیادہ کسی کو پتہ نہیں ۔اور جس نے غالب پڑھ لیا اسے کسی اور چیز کا کیا پتہ کرنا ۔۔ اس لئے میں خالہ کی بات پر دل میں ہی طنزا ہنس پڑی ۔۔اب خالہ سے کیا کوئی بات کرے ۔۔ یہ بڑی عمر کی عورتیں باتیں خوب کرتی ہیں ۔ ساری عمر کا جسے تجربہ کہتی ہیں ،وہ ان کی اپنی حماقتوں کی کتاب ہوتی ہے جسے ہمہ وقت اٹھائے رکھتی ہیں اور اس پر
ستم یہ کہ بڑے ناز سے اٹھائے پھرتی ہیں ۔اور دوسروں کو دکھا نے سے ذرا بھی نہیں چوکتیں ،بلکہ فخر کرتی ہیں۔توبہ !
بس اب میں ،خالہ اور اس کی دو سہیلی نما عورتوں میں گھری بیٹھی تھی ، مجھے تینوں نے اپنے درمیاں کس کر بٹھا رکھا تھا ، کسی لڑکے کا ہاتھ نہ چھو جائے ، کوئی بزرگ یونہی نہ ٹکرا جائے ، اور میں ان کی احتیاط سے مزیدپریشان بیٹھی تھی ۔ یوں لگ رہا تھا نہ جانے کونسے محاذ پر جارہی ہوں ؟ویسے اب مجھے محاذ کی کچھ کچھ سمجھ آرہی تھی ۔۔یہ جو لش پش کرتی عورتیں تھیں ۔۔ یہ اپنے بھائی کے لئے لڑکی دیکھنے جارہی تھیں ۔ اور چونکہ خالہ نے انہیں یہ رشتہ بتایا تھا اس لئے وہ اسے بھی ٹوکن کے طور پر ساتھ لئے جارہی تھیں ۔اور میں شائد خالہ کی حوصلہ افزائی کے لئے ساتھ گھسیٹی گئی تھی ، مگر مجھے کہا یہی گیا تھا کہ ۔۔آﺅ تمھیں قصور کی سیر کروا لیں ۔۔ جہاں کے کھسے بڑے مشہور ہیں اور جہاں بابا بلھے شاہ جی کا مزار ہے ۔ اور یوں میری سیاحت کی حس کو استعمال کرکے رشتہ دیکھنے والوں کے اس قافلے میں شامل کر لیا گیا تھا ۔
کیونکہ میری خالہ جانتی تھی کہ مجھے بھیڑ بکریوں کی اس منڈی سے شدید گھن آتی ہے ، اپنی مرضی سے کوءبولے ،چلے ، ناچے ،گائے ۔۔ رشتہ دیکھنے کے نام پر جو سرکس کے مطالبے لڑکیوں سے کئے جاتے ہیں ، میں اٹھارہ سال کی عمر میں بھی ان سے بغاوت کر چکی تھی ۔۔ اور یہ بات پورے خاندان میں سب کو پتہ تھی ، اسی لئے خالہ نے مجھے سیر سپاٹے کے نام پر الو بنا کر گھر سے اس لاہور قصور لاہور کی بس پر آبٹھایا تھا۔
ایک لش لش کرتی عورت جس نے تیز سبز رنگ کا سوٹ پہن رکھا تھا اور جب سورج کی روشنی اس پر پڑتی تو مجھے احساس ہوتا جیسے سبزے میں آگ لگ گئی ہو ۔۔ ان کے چہروں پر خوبصورتی نہیں تھی ، خدوخال تو بہت تیکھے تھے ، شاعری کی زبان میں موزوں ۔۔ مگر خوبصورتی کہاں تھی ۔۔وہ شائد ان کے اندر چاٹ گئے تھے ۔ اندر کا روکھا پن بہت بے ڈھب طریقے سے آنکھوں سے ۔،چہرے سے ڈھلک رہا تھا ۔وہ عورت بولی ۔اتنی گرمی میں اتنی دور جارہے ہیں آگے دیکھو کیا دیکھنے کو ملتا ہے ۔
میری خالہ نے جھٹ سے اپنا پلو جھاڑا ، اپنے کندھوں سے بوجھ پھینکتے ہوئے بولیں ۔۔ بھئی میں تو لڑکی کے بھائی سے ملی ہوئی ہوں ، میرے ساتھ ہی کالج میں پڑھاتا ہے ، وہ تو بڑا ہینڈ سم ہے میری شادی نہ ہوئی ہوتی اوراس کی بھی نہ ہوئی ہوتی تو میں تو اسے کہیں نہ جانے دیتی ۔۔
اور اس بات پر سب نے مل کر قہقہ لگایا ،اور بس میں کھڑے سب لوگ ان کی طرف متوجہ ہوگئے اور میں نے انجان بنتے ہوئے جلدی سے منہ کھڑکی کی طرف کر لیا ، اور باہر کے نظاروں میں یوں کھو گئی جیسے ان بڑی عمر کی عورتوں کی کوئی بات مجھ تک نہیں پہنچی ، جیسے بس میں کھڑے ،پسینے کی بو چھوڑتے آدمیوں کی قہقہے کو گھورتی آنکھیں مجھے نظر نہیں آئیں ۔قہقہے اور گھوری دونوں سے میں نے نظر چرائی اور سڑک کے کنارے کنارے چلتی ایک بھینس کو بہت رشک سے دیکھا ۔۔ کیسی آزاد فضا میں گھوم رہی تھی ، اور بس کے اندر تو سگریٹ کے دھوئیں اور نظروں کی تپش سے گھٹن بڑھتی جارہی تھی ۔
بس سے اترتے ہی پھیپھڑوں میں سانس بھری ۔۔ اور میں نے پہلی دفعہ سوچا اتنی گھٹن میں تو زندگی کا سارا جوش مر جاتا ہے ۔۔ کیونکہ پورے سفر میں میں سخت کوفت میں مبتلا ایک دفعہ بھی نہ ہنس سکی ، نہ بول سکی اور نہ ہی لوگوں کو متوجہ کرنے کا جنون میرے اندر جاگا ۔۔ نہ مرنے کی خواہش ابھری اور نہ ہی ہوا کی تازگی محسوس ہوئی ۔۔ کوفت نے اندر سے اتنا بھر دیا کہ بوڑھا ہی کر دیا ۔۔ اب مجھے سمجھ آئی روز ایسی بسوں میں سفر کرنے والے پل بھر میں بوڑھے کیوں ہوجاتے ہیں ۔۔گھٹن انہیں برباد کر کے رکھ چھوڑتی ہے ، کسی جوگا نہیں چھوڑتی تو وہ کیا کریں ،سو وہ بوڑھے ہوجاتے ہیں ۔
بس سے اترتے ہی سب نے شکر ادا کیا ۔۔ تانگے والے کو اس ہینڈسم پروفیسر کا نام بتایا جو میری خالہ کے کالج میں پڑھاتا تھا اور جو اگر شادی شدہ نہ ہوتا تو میری خالہ نے اسے جانے نہیں دینا تھا ۔چھوٹے شہروں کا ایک مزہ یہ بھی کہ نام بتاﺅ ۔۔ یا کام بتاﺅ ۔۔یعنی مطلوبہ پتے پر پہنچنے کے لئے اس کے باسی کانام بمعہ اسکے کام کے یعنی پیشے کے ۔۔ تانگے والے رکشے والے پل بھر میں پہنچا دیتے ہیں ۔بلکہ پہنچاتے پہنچاتے ۔۔اس کے آباﺅاجداد کی پیدائش سے لے کر مرنے تک کا سب احوال گوش گذار کر دیتے ہیں ۔ اور یوں راستے میں پروفیسر تقی کے پورے گھرانے کے مردوں سے ہم واقف ہوگئے تھے ۔
ہم چار خواتین ، جن میں سے میری عمر فقط اٹھارہ سال تھی ، اور وہ دوعورتیں جو اپنے( طلاق یافتہ ایک بچے کے باپ )۔بھائی کے لئے رشتہ دیکھنے آئی تھیں ،نے جب اس گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا جہاں اندر کہیں وہ لڑکی شرمائی بیٹھی تھی ، تو نہ جانے کیوں میں اپنی اس ناپختہ عمر میں ہلکا سا لرز گئی ۔۔ میں کس چیز کا حصہ بننے جارہی تھی ، جو کل میرے ساتھ بھی ہونا ہے اور میں بھی یونہی بہت ساری نظروں کے نشانے پر ہونگے ، کوئی دیکھے گا ، کوئی دیکھنے کے قابل بھی نہیں سمجھے گا ۔۔ جو میری آنکھ ،کان ، ناک سب کو جانچیں گے ۔ بہانے سے میری آواز سنیں گے ، نظروں میں میرے اعضاءکی پیمائش کر یں گے ، اور مجھے چلا کر میرے قد کو ناپیں گے اور لنگڑے نہ ہونے کی تسلی کریں گے ۔ وہ تو دور کی بات ہے میں اسی مہم جوئی کا حصہ بننے جارہی تھی ۔۔
خیالوں کے انہی جزیروں میں بھٹکتے ہوئے ، مجھے پتہ ہی نہیں چلا کب دروازہ کھلا اور کس نے کھولا ، ہم اندر کیسے پہنچے ، کرسیوں پر کیسے بیٹھے اور ہمارے آگے شربت کے گلاس کب آگئے ۔ میں اس کمرے میں اس وقت آکھڑی ہوئی جب میری خالہ کی ایک سہیلی بڑی پاٹ دار آواز میں کہہ رہی تھی ہم شربت نہیں پئیں گے ، بس ذرا لڑکی دکھا دیں ۔بہت جلدی ہے ۔ بہت کام چھوڑ کر ، مشکل سے وقت نکال کر اس کام کے لئے یہاں پہنچے ہیں ۔۔ بہن جی ذرا جلدی کر دیں ۔۔ اور لڑکی کی ماں پر میری نظر پڑی ،میں نے شرمندگی سے جلدی سے نظر جھکا لی ، جیسے سارا گناہ میرا ہو ۔۔
جیسے یہاں تک آنے کا ، نخوت سے ناک سکوڑ کر چھوٹے سے گھر کو دیکھنے کا ، شربت کے گلاس کو تکبر سے پیچھے دھکیلنے کا ،اور لڑکی کو جلدی جلدی دیکھنے کا ارادہ ۔۔۔جیسے یہ سب گناہ میں نے کئے ہوں اور ان سب کی میں اکیلی ذمہ دار ہو ں ۔میں نے اس وہم سے ڈر کر جلدی سے ہاتھ بڑھایا اور شربت کا گلاس غٹا غٹ چڑھا لیا اور اپنے تئیں کچھ گناہ کا بوجھ کم کر لیا ۔۔۔ خالہ کہہ رہی تھی گھر اچھا نہیں نکلا ، مگر مجھے یقین ہے کہ لڑکی بہت پیاری ہوگی ۔ اس کا بھائی تو اتنا پیارا ہے ۔ہم نے کونسا لڑکی ادھر بیاہنی ہے جو گھر کو دیکھیں ، ہم نے تو یہاں سے لڑکی لے جانی ہے ۔ اور ان سجی سنوری عورتوں میں تھوڑی سی اطمینان کی لہر دوڑی ۔اور اندر سے شائد وہ چاہ بھی یہی رہیں تھی ،اپنے طلاق یافتہ بھائی کے لئے غریب گھر کی پیاری سی لڑکی ۔جو ان کی خدمت بھی کرے اور دب کر بھی رہے ۔مجھے یہ سب کبھی بھی پتہ نہ چلتا ،اگر بس میں سفر کے دوران وہ کھلم کھلا اپنی اس نیت کا اظہار بار بار نہ کرتیں ۔
مگرلڑکی کے داخل ہوتے ہی کمرے میں موت کا سناٹا چھا گیا ۔۔ خوبصورتی اور بدصورتی تو دور کی بات ، لڑکی کے چہرے پر ابنارملیٹی کی بڑی واضح چھاپ تھی ۔اس کے نقوش مسخ تھے اوراس کا سر قدرے چھوٹا تھا ۔ اور وہ نارمل لڑکی ہی نہیں تھی ۔۔ اور میں نے جلدی سے خوفزدہ ہوکر ان عورتوں کی طرف دیکھا جو بس کی تھکاوٹ ، موسم کی تپش اور گھر کی غربت سے پہلے ہی نالاں بیٹھی تھیں ۔۔۔
میں اندر ہی اندر کانپنے لگی ۔۔۔ اور وہ سب سکتے میں بیٹھی رہیں ۔۔ سکتہ اس وقت ٹوٹا جب وہ لڑکی اپنی ماں کے ساتھ کمرے سے نکل گئی اور وہ عورتیں غصے سے میری خالہ کو دیکھنے لگیں ۔۔ اور میری خالہ مجرم سی بن کر بیٹھ گئی ۔ اور اپنی صفائی کچھ یوں دینے لگی : مجھے کیا پتہ تھا ۔۔ دیکھو لوگ کیسے دھوکا دیتے ہیں ، تقی کو تو مجھے تھوڑا سا بتا دینا چاہیئے تھا کہ لڑکی ابنارمل ہے ، ارے یہ کوئی کردار کی بدصورتی تھوڑی ہے جو چھپائی جاسکے ، یہ تو چہرے کی سامنے دھری بدصورتی ہے ۔۔ ارے کیا یہ لوگوں کو پاگل سمجھتے ہیں ۔۔
اور دوسری عورت جس نے اتنی گرمی میں بھی تیز گلابی رنگ پہن رکھا تھا تنک کر بولی ۔۔ ارے یہ لوگ سمجھے ہونگے کہ ہمارے بھائی کی دوسری شادی ہے تو سب ناقص مال چل جائے گا ۔۔ ارے سوچا بھی نہیں ہمارا بھائی اتنا پیارا ۔۔ اتنا پڑھا لکھا ۔۔ ارے شرم ہی نہیں لوگوں میں ۔
خالہ ہاں میں ہاں ملاتے بولی ارے میں تو تقی کی بڑی عزت کرتی تھی ۔۔ دل سے ہی اتر گیا وہ بھی ۔ کیسے گھنے لوگ ہوتے ہیں ۔
میں نے ہلکے سے خالہ سے کہا ، خالہ آہستہ بولیں وہ سن نہ لیں ۔۔ خالہ نے غصے سے میرا ہاتھ پیچھے جھٹکتے ہوئے ۔۔ہائے ہائے سن لیں ۔۔۔ آج گاڑی خراب ہوگئی ادھر آنے سے پہلے ۔۔ ہمیں تو اسی بد شگونی کو سمجھ جانا چاہیئے تھا ۔۔ ارے اتنی گرمی میں بس میں دھکے کھاتے پہنچے ۔اور کیا دیکھا ، ایمان سے متلی ہورہی ہے ۔
سبز کپڑوں والی عورت اپنے قیمتی رومال سے میک اپ سے بھرے چہرے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے بولی ۔۔ارے اس سے اچھا تو بلھے شاہ کے مزار پر حاضری کے لئے یہ کشٹ کر لیتے ۔اتنی خجل خواری اس پاگل کے لئے ۔
میں نے روہانسی ہوکر کہا ۔۔۔خالہ آہستہ بولیں وہ سن نہ لے ۔۔ خالہ اس سے بھی تیز آواز میں ارے سن لے پاگل ہے ۔سن بھی لے گی تو سمجھ تھوڑی ہی اسے آئے گی ۔ اور تمھیں کس بات کی پریشانی ہے ۔ ہمارے ساتھ تھوڑی زیادتی ہوئی ہے ۔
گلابی کپڑوں والی خالہ کی سہیلی بڑی ناراضگی سے خالہ کو دیکھتے ہوئے بولی رخسانہ اس سے اچھا تو تم ہمیں جوتوں کی دکان پر لے جاتی ۔ ارے سنا ہے قصور کے کھسے بہت خوبصورت ہوتے ہیں ۔
سبز کپڑوں والی بڑی مدہم سی آواز میں بولی ۔۔ اس لڑکی سے اچھے تو قصور شہر کے کھسے ہیں ۔
اورمیں نے اللہ سے چپکے سے کہا ۔۔ اس لڑکی نے بس یہ نہ سنا ہو ۔۔۔
چلو چلو اور وہ تینوں یوں بھاگیں ۔۔ میں ان کے پیچھے لپکی ۔گھر والوں میں سے کوئی بھی ہمارے پاس ابھی نہیں تھا ، سب باورچی خانے میں بھاگم دوڑ میں ہمارے لئے کھانے کا انتظام کر رہے تھے ، ان تینوںکو بیرونی دروازے کی طرف بھاگتے دیکھ کر اس لڑکی کی ماں جلدی سے باہر آئی ۔ گلابی اور سبز کپڑوں والی دونوں عورتیں دروازے پر لگے ٹاٹ کے پردے سے باہر تھیں ، میری خالہ مروت میں کچھ ٹھٹکی ، کچھ جھجکیں ، اور ٹاٹ کے پردے کو ہاتھ میں تھامے تھامے بولی بس بہت وقت ہوگیا ہے ۔ ہم آپ کو فون کر دیں گے ۔
ماں جلدی سے بولی ہمارا نمبر تو لے لیں ۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا زمین پر لیٹ جائے اور ان کے آگے ہاتھ جوڑ دے اور بس انہیں جانے نہ دے ۔مگر وہ دونوں عورتیں گل میں جا کھڑی ہوئیں ۔۔ اور خالہ کا آدھا بدن گھر میں اور آدھا ٹاٹ کے پردے سے ہوتا ہوا باہر گلی میں ۔۔
میں نے اپنی طرف سے رک کر ، سمجھ کر اور ان کا دل رکھنے کو کہ کہیں وہ سمجھ ہی نہ جائیں ۔۔ کہیں وہ ہماری دوڑ سے ٹوٹ ہی نہ جائیں ۔۔ جتنا میں اس ٹوٹنے کو روک سکتی تھی ،ا پنی طرف سے میں نے ہاتھ پاﺅں مارے ۔اور کسی ڈوبتے کو تنکے جیسا سہارا دینے کی کوشش کی اور وہیں کھڑے ہوکر بڑے سکون سے کہا ،آنٹی مجھے نمبر دے دیں ۔ اور میں نے خالہ کی طرف نہیں دیکھا ، کیوں کہ میں جانتی تھی کہ وہ مجھے شعلہ بار نگاہوں سے گھور رہی ہے ،اور جلدی بھاگنے کا اشارہ دے رہی ہیں ۔۔ مگر اس وقت مجھے یہ مقصود تھا کہ میں اس بدبخت گھر میں یہ احساس نہ آنے دوں کہ یہ عورتیں ،جو ان کی بیٹی کو دیکھنے آئی تھیں ، سر پر پاﺅں رکھ کر بھاگی ہیں تو ا سکا کارن ان کی بیٹی کی بے تحاشا بدصورتی ہے ، ابنارمیلٹی ہے ۔ میں لڑکی کے آگے نارمل تاثر دینے کی کوشش میں ، لڑکی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ، اس سے اس کا فون نمبر مانگ رہی تھی ۔ میں اس وقت اٹھارہ سال کی تھی مگر میرے کندھے اس لڑکی کو دکھ سے بچانے کے بوجھ میں ایسے جھک گئے جیسے میں اٹھاون برس کی ہوں ۔۔۔
اور اس نے مسکراتے ہوئے فون نمبر میرے ہاتھ پر رکھ دیا ،جو اس کی ماں نے اسے تھمایا مجھے دینے کے واسطے ۔۔۔ ا سکی ماں اور میں دونوں یہ کوشش کر رہے تھے کہ لڑکی کو یہ نہ پتہ چلے کہ کمرے سے لے ٹاٹ کے پردے تک ایک دم اس کے چہرے کے لئے اتنی نفرت بھر گئی تھی، کہ لوگوں کا سانس گھٹنے لگا تھا اور اسی لئے وہ پردے کے دوسری طرف تازہ ہوا اپنے اندر اتار رہے ہیں ۔۔۔ اور اس نے مسکراتے ہوئے فون نمبر کی چٹ میرے ہاتھ پر دھر دی اور میں نے شکر کیا کہ ا سنے کچھ نہیں سنا ، کچھ نہیں سمجھا اور کچھ نہیں دیکھا ۔اور میں نے اس سے ہاتھ ملایا ۔۔ اور حتی الامکان نارمل رہتے ہوئے اسے خدا خافظ کہا ۔۔۔ اور جاتے جاتے پھر اس کی ماں کو کسی اٹھاون سال کی عورت کی طرح یقین دلایا کہ ۔۔۔ہم فون ضرور کریں گے ۔۔
۔اورا س لڑکی نے جس کا نام بھی کسی نے نہیں پوچھا تھا ، میرے پاس آتے اور پھر سے مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولی۔۔ہاں فون کرنا ۔۔ اور مجھے یہ ضرور بتانا کہ کیا قصور شہر کے کھسے مجھ سے زیادہ اچھے ہیں ؟ اور میرے ہاتھ سے چٹ چھوٹ گئی اور اس نے اپنی ماں کی طرف مسکرا کر دیکھا اور پھر میرے لئے ٹاٹ کا پردہ اٹھا دیا ۔ میں فون نمبر اٹھانے جھکنے ہی والی تھی کہ اس نے اس چٹ پر اپنا پاﺅں رکھا اور اسے مسل دیا ۔۔۔ اور ایسا کرتے ہوئے اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی ۔ اور میرا پورا بدن کانپ اٹھا ۔۔۔۔
شکنیں
06.12.2008, 03:04pm , ہفتہ (GMT)
انور ظہیر رہبر

"سنی!! تم بغیر استری کی شرٹ مت پہنا کرو"۔ آج نیلا نےیہ بات کلاس میں مجھ سے کہی تو مجھے یوں لگا جیسے وہ میرا مذاق اڑارہی ہے۔ میں نے اسکے جواب میں خاموشی اختیار کرلی- میں سوچنے لگا کہ یورپ میں زندگی گزارنا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ پڑھائ کے ساتھ ساتھ کام کرنا اور دونوں چیزوں کو یکساں وقت دینا کتنا مشکل ہے ۔ پھر ایسے میں بھلا آدمی کپڑوں کا کیا خیال کرے گا۔ استری کرنا کپڑوں میں اتنا ضروری تو نہیں۔ ہاں پاکستان میں تھا تو بغیر استری کیے کپڑے پہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔ مگر
یہاں کہاں ۔ سارا کام خود کرنا۔ " ارے کیا تم ناراض ہوگئے؟" نیلا نے مجھے خاموش دیکھ کر دوبارہ سوال کیا ۔ " نہیں مجھے ناراض ہونے کی عادت ہی نہیں ہے"۔ " پھر تم کیا سوچ رہے ہو، میں نے تو یہ سب کچھ اس لئے کہا تھا کہ تمہیں یاد ہوگا پرسوں ہمارے ٹیچر نے بھی تمہیں کہا تھ ا" ۔ نیلا کا بھی تعلق ایشیا کے ایک غریب ملک برما سے تھا اور وہ مسلمان بھی تھی۔ اردو بھی بول لیتی تھی ۔
اس لئے وہ اپنا فرض سمجھتی تھی یہ ساری باتیں بتانا ۔ " ہاں ۔ ہاں " میں نے کہا ۔ " ٹیچر نے معذرت بھی تو کرلی تھی ۔ بہرحال چھوڑو، تمہیں میری قمیض کی شکنیں نظر آگئیں لیکن میرے اندر کی شکنیں نظر نہ آئیں "۔ " کیا کیا؟ سنی میں کچھ سمجھی نہی ؟ " ۔ اسے اردو اتنی اچھی آتی بھی نہ تھی ۔ اکثر گھنٹوں گھنٹوں فون پر مختلف لفظوں کا مطلب پوچھا کرتی تھی ۔ اپنی اردو ٹھیک کررہی تھی ۔ " نیلا ! وقفے میں بات کریں گے" ۔ میں نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور ٹیچر کی طرف متوجہ ہوگیا ۔ وقفے میں اس نے پھر بات چھیڑی ۔ " بتاؤ کیا کہ رہے تھے"۔ میں نے بولنا شروع کیا ۔ " نیلا ! میں بڑی مسافت طے کرکے یہاں تک پہنچاہ ہوں ۔
اپنی تعلیمی پیاس بجھانے کے لئےنہ جانے کہاں کہاں پھرا ہوں ۔ اپنے وطن کے ہر ایک شہر میں چاہا، کوشش کی لیکن داخلہ ہی نہ ہوا ، کیوں کہ کوئ بڑی سورس نا تھی، اور اب ہاں اب ساری محبتوں، ساری چاہتوں کی قربانی دے کر دیار غیر میں آبیٹھا ہوں ۔ اب صرف ہاں اب صرف وہی منزل میرے سامنے ہے جسکی روشنی میں نے بچپن میں دیکھی تھی "۔
میرے جواب کو سنکر اس نے ایک لمبی سانس لی۔ " ہاں تم ٹھیک کہتے ہو ، خوب تمھارے خیلات اچھے ہیں ۔ میں نے صرف اس لئے کہا تھا سنی کہ یہ یورپ والے ہمیں کمتر سمجھتے ہیں اور ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ہم ان سے کسی طرح کم نہیں ہیں" ۔ "تمہارا کہنا بھی ٹھیک ہے " ۔ میں نے جوابا کہا اور اپنا بیگ اٹھا کر آج جلدی گھر چلا آیا ۔
دوستو ۔۔! ظہیر بھائی کی ا س کہانی کے ساتھ ہی مجھے بھی بیگ اٹھاکر گھر جانایاد آگیا ۔۔ کہ میں یہ سب کچھ ہوسپٹل میں بیٹھی ہوئی لکھ رہی تھی ۔۔ اچھا ۔۔ اب میں گھر جا رہی ہوں ۔۔ مجھے دعاؤں میں یا درکھئے گا ۔۔۔ !