امریکہ سے ہماری دوستی کو لگ بھک ساٹھ برس ہونے کو آئے ہیں۔ اس دوستی میں ہم نے کیا کچھ نہیں کھویا یہ ہم ہی ہیں جو بلا شرط امریکہ سے عہدِ وفا نبھاتے آ رہے ہیں ۔ جبکہ ضرورت کے وقت امریکہ ہمیشہ ہی طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لیتا رہا ہے۔ یہ ہم ہی تھے جنہوں نے افغانستان سے روس کو نکالنے میں امریکہ کی مدد کی ۔امریکہ نے جب دہشت گردی کے خلاف مبینہ جنگ شروع کی تو ہم اس کے اتحادی بن گئے ۔
ہماری زمین افغانستان میں طالبان کے خلاف استعمال ہوتی رہی اور اب ہماری ہی فوج اپنے شہریوں کے خلاف صف آرا ہے۔ ہمارا قصور یا ہماری غلطی یہ ہے کہ ہم نے امریکہ کی جنگ کو اپنی جنگ قرار دے دیا۔ ہمارے صدر صاحب نے فرمایا کہ بھارت ہمارا دشمن نہیں ہمیں اصل خطرہ طالبان یا اسلامی عسکریت پسندوں سے ہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے امریکہ کی ہمدردی خریدنا چاہی ہو گی مگر اُنہیں معلوم نہ تھا کہ اُن کے اس بیان سے امریکہ اپنی جنگ کا بوجھ با آسانی ہمارے ناتواں کاندھوں پر منتقل کر دے گا۔امریکہ کی ساجھے داری میں ہماری جنت نظیر وادی ءسوات جنگ کے شعلوں میں جھلس کر ویران ہو گئی ہے۔
بلوچستان میں علیحدگی پسند عناصر کو سر اُٹھانے کا موقع مل گیاہے۔کتنے ہی ہم وطن لاپتہ ہوگئے ہیں ۔ہمارا دارالحکومت اسلام آباد غیر ملکیوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے اور پورا ملک خودکش دھماکوں کی زد میں ہے۔ اتنے نقصانات کے بدلے میں ہمیں ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ کی مشروط امریکی امداد مل رہی ہے۔ یہ رقم براہ راست حکومت کو نہیں دی جائے گی بلکہ این جی اوز کے ذریعے سماجی بھلائی کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی اور ہر سال اس رقم کے خرچ کا حساب پیش کیا جائے گا۔
امریکی امداد کا حصول کوئی آسان کام نہیں اس کے لیے مختلف شعبہ جات میں حکومتی کارکردگی کو جانچا جاتا ہے ۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے امریکہ میں لابسٹ فرموں کی خدمات حاسل کی جاتی ہیں ۔ امداد کے حصول میں مرکزی کردار امریکہ میں پاکستانی سفیر کا ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے حسین حقانی صاحب پاکستان سے زیادہ امریکہ کے ہمدرد واقع ہوئے ہیں ۔ کیری لوگر بل کی شرائط پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ شرائط حسین حقانی صاحب سے مستعار لی گئی ہیں ۔ وہ اپنے لیکچرز اور مقالہ جات میں پاکستانی فوج اور حکومت کے ناقد رہے ہیں اور امریکہ کو یہ مشورہ دیتے رہے ہیں کہ پاکستان میں مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے امداد کو ایک لیور کی طرح استعمال کیا جائے۔
اُن کی کتاب
Pakistan: Between mosque and military
پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ وہ مغرب کی اسلام کے خلاف جنگ کے حامی ہیں اور پاکستان سے زیادہ امریکی موقف کے حمایتی ہیں۔ ان کی امریکہ میں بحیثیت سفیر تقرری پر بہت شور اُٹھا تھا کہ وہ ایک موقع پرست شخص ہیں جو امریکہ میں کئی
neocon
اداروں سے وابستہ ہیں۔ ان حب الوطنی پر بھی سوال اُٹھائے گئے تھے۔ تاہم حکومتی حلقے اُن کی کارکردگی سے مطمئن ہیں ۔ حکومت تو کیری لوگر بل کی اہانت آمیز شرائط سے بھی مطمئن ہے ۔ حکومتی موقف کی تائید کرنے والے دانشوروں کا کہنا ہے کہ امداد دینے والا ملک اپنی شرائط پیش کرنے میں حق بجانب ہے۔
ان سب دانشوروں سے کچھ سوالات ہیں
۔ ہم امریکی امداد کے محتاج کیوں ہیں؟ اس امداد کے آنے سے پاکستان میں کون سی دودھ کی نہریں بہنے لگیں گی؟
۔ اس امداد کو کتنے سود کے ساتھ لوٹانا ہو گا؟
۔ امداد کے نام سے دئیے جانے والے قرض کے بدلے ہمیں کیا کیا گروی رکھنا ہو گا؟
۔ اس امداد کے بدلے عوام پر کون کون سے ٹیکس لگائے جائیں گے؟ اور اگر امدادی قرضوں کی واپسی ٹیکس لگا کر ہی ہونی ہے تو بہتر ہے کہ امداد لینے کی بجائے ٹیکس ہی لگا دیا جائے۔
کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ قرضے ہڑپ کرنے والوں سے وصولیاں کی جائیں۔ ٹیکس چوروں اور بجلی چوروں کے خلاف مہم چلائی جائے۔ اورنام نہاد امداد کے بدلے اپنی خودمختاری گروی نہ رکھی جائے
حکومت کے عہدیداران دن رات یہی کلمہ پڑھتے نظر آتے ہیں کہ امریکہ ہمارا ہمدرد ہے۔
امریکہ ہمارا ہمدرد ہے تو سستی بجلی کے حصول کے لیے پن بجلی کے کسی پراجیکٹ کے لیے بلا سود مدد فراہم کرے۔
امریکہ ہمارا ہمدرد ہے تو شمالی علاقوں میں اپنے سفارت خانے کے زیرِ انتظام سکول اور ہسپتال قائم کردے۔
امریکہ ہمارا ہمدرد ہے تو افغانستان کے بارڈر سے پاکستان میں بھارتی اور اسرائیلی جاسوسوں اور دہشت گردوں کی در اندازی بند کروائے۔
امریکہ ہمارا ہمدرد ہے تو ہمارے بیس سال پرانے قرضے سود سمیت معاف کر دے
امریکہ ہمارا ہمدرد ہے تو امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر راغب کرے۔
امریکہ ہمارا ہمدرد ہے تو پاکستانی برآمدات کی حوصلہ افزائی کرے
امریکہ ہمارا ہمدرد ہے تو تھر سے کوئلہ نکالنے کے لیے بلا شرط تکنیکی معاونت کرے۔
مگر سچ تو یہ ہے کہ امریکہ کی ہمدردی ہمارے لیے سردردی سے زیادہ کچھ نہیں۔ میڈیا میں ہر طرف اس طوق غلامی کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے۔ مگر لگتا ہے کہ اس احتجاج کی حیثیت بعد از مرگ واویلا سے زیادہ نہیں۔ صفِ اول کے سیاستدان اس معاملے پر خاموش ہیں نواز شریف صاحب جن کے میں قوم کا درد بھرا ہوا ہے وہ اپنی بیوی کی تیمار داری پر مامور ہیں ۔ انہیں قائد اعظم ثانی کہلانے کا شوق ہے شاید انہوں قائد کی سوانح عمری نہیں پڑھی جنہوں نے اپنی قوم کے لیے زندگی مختص کر دی ان کی ازدواجی زندگی اُن کی سیاسی مصروفیات کی بھینٹ چڑھ گئی۔
ان کے بھائی بھی خاموش ہیں ایک چوہدری نثار ہیں جنہوں نے اسمبلی میں جوشِ خطابت کا مظاہرہ کیا۔ حکومت نے اپنی روایت پر قایم رہتے ہوئے عوامی جذبات کے برعکس اس بل کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی قاف لیگ سے از سرِ نو روابط بڑھانے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ تاکہ اسمبلی میں مطلوبہ حمایت حاصل کی سکے۔پاکستان کی فوج نے اس بل پر اپنے اعتراضات حکومت اور عوام کے گوش گزار کر دئیے ہیں ۔
جس پر جنابِ صدر غضبناک ہو گئے ہیں اور جنرل اشفاق کیانی کی ملازمت سے برخواستگی پر غور کر رہے ہیں۔۔ امریکی امداد کے ساتھ ملحقہ شرائط سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ ایک بار پھر سیاسی حکومت اور فوج کے درمیان خطرناک تصادم ہو سکتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ وطن پرست قوتوں کے مجتمع ہونے کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے۔ ہمیں اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ امریکہ دُنیا سے دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ نہیں چاہتا ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف مبینہ جنگ کی آڑ میں اپنی دہشت بٹھانا چاہتا ہے ۔ اس کی چھیڑی ہوئی ہ جنگ کثیر المقاصد ہے اور اس کا اصل مقصد دُنیا میں موجود قدرتی وسائل پر اجارہ داری حاصل کرنا ہے۔
امریکہ اس جنگ پر سالانہ تین ارب ڈالر کی کثیر سرمایہ کاری کر رہا ہے ۔ امریکہ دُنیا کا سب سے بڑا سرمایہ کار ہے وہ اتنی کثیر رقم بلاجواز تو خرچ نہیں کر رہا ۔ امریکی دانشور وں سرمایہ کاری شروع کرنے سے پہلے ہی اس کو سود سمیت وصول کرنے کے طریقے بھی وضع کئے ہونگے۔افغانستان اور پاکستان کے صوبے بلوچستان میں موجود معدنی وسائل ہی اُس کا اصل ہدف ہیں
۔ہمارے بے بصر رہنما بھی یہ بات جتنی جلدی سمجھ لیں اچھا ہے ۔ پاکستان کی بقا ہی میں اُن کی بقا مضمر ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اپنے شہروں کی چابیاں اغیار کے حوالے کرنے والوں کے مقدر میں ذلت کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔