|
وسط ایشیاکی سب سے بڑی مسجد کی تعمیر شروع ہے
04.11.2009, 01:28am , بدھ (GMT+1)
عالمی اخبار ریسرچ یونٹ
تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں خود تاجکستان اور وسط ایشیا کی سب سے بڑی مسجد کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔مسجد دوشنبے کے علاقے سناں میں تعمیر کی جارہی ہے جس میں ایک لاکھ 50ہزار فرزندان اسلام نماز ادا کر سکیں گے ۔
واضح رہے کہ تاجکستان سابق سوویت ریاست ہے اور یہاں ایک طویل عرصے تک کمیونسٹ حکومت رہی ہے تاہم 1991ء میں سوویت یونین کے خاتمے کے ساتھ ہیں تاجکستان سمیت وسطی ایشیاء کی کئی ریاستوں نے آزادی کا اعلان کردیا تھا۔ ان ریاستوں میں زیادہ تر اسلامی ریاستیں ہیں۔
مسجد کا سنگ بنیادرکھنے کی تقریب میں تاجکستان میں متعین مسلمان ممالک کے سفراء اور پوری دنیا سے امام اعظم ابو حنیفہ کی1310ویں سالگرہ کے موقع پر سمپوزیم میں آنے والے مندوبین ، علماء کرام ، مشائخ اور محققین نے شرکت کی ۔تاجک صدر امام علی رحمن نے مسجد کا سنگ بنیاد رکھا ۔مذکورہ مسجد تاجکستان اور وسط ایشیا کی سب سے بڑی مسجد ہو گی ۔
مسجد کی تعمیر کو سرکاری میڈیا پر خاصی کوریج دی گئی۔ اطلاعات کے مطابق مشرق وسطیٰ کے ملک قطر نے تعمیر کے تمام اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مقامی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے اس کی تعمیر پر کروڑوں ڈالر خرچ ہوں ۔
تقریب سے خطاب کے موقع پر تاجک صدر نے کہا کہ مسجد کی تعمیر سے ناصرف لوگوں کو ایک جگہ اکھٹے ہوکر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا موقع ملے گا بلکہ مسلمانوں کے لئے یہ مقام غیر روایتی پلیٹ فارم بھی ثابت ہوگا جہاں وہ ایک دوسرے کے خیالات اور نظریات سے آگاہ ہوسکیں گے۔ صدر کا کہنا تھا کہ مسجد کی تعمیر سے لوگوں میں محبت پروان چڑھے گی اور انتہا پسندی کا قلع قمع ہوگا ۔ مسجد کے صحن میں ایک بڑا پھوارا لگایا جائے گاجو تاجکستان میں بڑی مقدار میں موجود پانی کے ذخائز کی علامت ہوگا۔
اس وقت وسط ایشیاء کی سب سے بڑی مسجد تاجکستان کے پڑوسی ملک ترکمانستان میں واقع ہے جسے وہاں کے ایک آمر صفر مراد نے تعمیر کرایا تھا ۔ کہا جا تا ہے کہ صفر مراد نہ صرف ضدی طبیعت رکھتا تھا بلکہ وہ ایک ایسا آمر حکمراں تھا جس کی اپنی سوچ تھی۔ اس نے مسجد کی تعمیر پر اپنے نظریات تحریر کرائے تھے جو اسلام پسند رجحان رکھنے والوں کی سوچ کے برخلاف تھے اسی وجہ سے ان نظریات کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
تاجک صدر امام علی رحمن ملک بھر میں وسیع و عریض تعمیراتی منصوبوں کے بانی اور دلدادا کہے جاتے ہیں ۔ انہوں نے ملک بھر میں ناجائز مساجد کی تعمیر رکوا کر کچھ نئے منصوبوں کا آغاز کیا ہے ۔ ان منصوبوں میں تاجکستان اور وسط ایشیاء کی سب سے بڑی مسجدکی تعمیر بھی شامل ہے۔
تاجکستان 1990ء تک خانہ جنگی کا شکار رہا ہے ۔ اسلام پسندوں اور آزاد خیال لوگوں کے درمیان خانہ جنگی میں تقریباً50 ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ خانہ جنگی کے نتیجے میں ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ سال رواں کے آغاز پر سیکورٹی ایجنسیز نے عسکریت پسندوں کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑی۔ یقین کیا جاتا ہے کہ عسکریت پسندوں کا تعلق پڑوسی ملک افغانستان میں آباد طالبان سے تھا ۔
بشکریہ۔اے آر وائی نیوز
|