|
کہتے تو ہیں بھلے کی وہ لیکن بری طرح۔سید مصباح حسین
12.10.2009, 01:03am , سوموار (GMT+1)
سید مصباح حسین۔سڈنی
سڈنی سے عالمی اخبار کے بیورو چیف اور معروف کالم نگار و دانشور سید مصباح حسین نے جی ایچ کیو سانحے پر دوسرا تجزیہ ارسال کیا ہے۔پہلا کالموں کی فہرست میں ہے جبکہ دوسرے تجزیے کو میں نے اسکی افادیت کی وجہ سے ‘‘ایڈیٹر کا انتخاب‘‘ میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صفدر ھمٰدانی۔ چیف ایڈیٹر عالمی اخبار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھئیے موقع تو ایسا نہیں ہے کیونکہ قوم بری طرح سے زخم خوردہ ہے، لیکن کیا کریں کہ سچ کہے بناء بنتی بھی نہیں۔ بات سچ بھی ہے، مضحکہ خیز بھی اور حالات کی ستم ظریفی کا ایک شاخسانہ بھی۔ وہ یوں کہ کل ہی فیصلہ ہوا تھا کہ اب وزیرستان کا فوجی آپریشن کر ہی دیا جائے۔ لیکن اصل میں اب اتنی زحمت اٹھانے کی چنداں ضرورت نہیں رہی، وہ اس لئے کہ اب یہ جنگ جی ایچ کیو میں بھی لڑی جا سکتی ہے۔ کیا ضرورت ہے اتنے بڑے مصارف اٹھا کر سینکڑوں دستوں کو وزیرستان میں بھیج کر مروانے کی۔ آٹھ دس لوگ تو آرام سے گھر بیٹھے شہید کئے کرائے جا سکتے ہیں۔ پھر یہی نہیں، بلکہ آٹھ دس شہادتوں کے ساتھ دہشت گردوں کا ایک قبیل بھی ختم ہوجاتا ہے، اور آپریشن کا کامیابی کا سہرا بھی بآسانی پہنا جا سکتا ہے۔
حیرت ہے کہ آج تو بچے بھی سمجھتے ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے کون کون ممکنہ طور پر ہو سکتا ہے اور عزائم کیا ہونگے، لیکن ہمارے وزیر داخلہ نے اپنے ابا اور سب کے چچا سام سے شکایت کر بھیجی ہے کہ بزرگو دیکھو یہ ہندوستان پھر تنگ کر رہا ہے، اسے منع کرو۔ سوچا جائے تو بات ٹھیک ہی کی ہے اُن موصوف نے، کہ اب ہم خود تو روکنے سے رہے، اس لئے اب بڑوں کو ہی بلانا ہوگا۔ ہم جب خود ہی غیر محفوظ ہیں تو ہمارے ہاتھ میں پڑا نیوکلیائی کھلونا کہاں محفوظ ہوگا۔ پوری سرکاری مشینری بڑی دیدہ دلیری اور بے شرمی سے فرما رہی ہے کہ یہ سیکورٹی بریچ نہیں، بلکہ معقول سیکیورٹی ہی کے سبب ہم نے اس دہشت گردانہ کاروائی کو ناکام بنا دیا ہے۔ ما شاء اللہ۔ اگر یہ ناکامہ ہے تو کامیابی کیا ہونی تھی؟ سیاسیات کی زبان میں دہشت گردی کہتے ہی اس محدود پیمانے کی کاروائی کو ہیں جس میں محدود ٹارگٹ کو زد پہنچا کر کام تمام ہو جاتا ہے اور سرگوشیاں کئی روز اور کئی حلقوں میں باقی رہ جاتی ہیں۔ یہ دہشت گرد اگر ممکن ہوتا تو ضرور جنرل کیانی کو مغوی بنانے کی بھی سعی کرتے، لیکن جو کچھ انہوں نے کر دکھایا ہے وہ بھی کامیابی ہی ہے۔ میں خدانخواستہ ان بد معاشوں کی حمایت نہیں کر رہا، لیکن کم از کم مجھے اتنی سمجھ ضرور ہے کہ پاک فوج جان بوجھ کر یا اپنی نا اہیل کے سبب بری طرح ناکام ہوئی تھی۔
یہ دہشت گردانہ کاروائی ناکام کہلاتی اگر ان دہشت گردوں کو جی ایچ کیو کی پہلی چیک پوسٹ پر ہی زندہ یا کم از کم مردہ حالت میں روک لیا جاتا۔ ناکامی کی جڑیں تو انٹیلیجنس کی ناکارہ کار کردگی کے سبب بہت پہلے ہی محسوس کی جانی چاہئیں، نا کہ اس کامیابی کہا جائے۔ کامیابی کی کم از کم شرط یہ تھی کہ جب دہشت گرد جی ایچ کیو میں داخل ہوگئے تو پھر ان پر حملہ آسمان سے ہوتا نہ مکہ زمین سے۔ یہ لوگ تو ہماری نفسیات سے اتنے آگاہ تھے کہ ایک چوکی پر حملے کے بعد انہیں معلوم تھا کہ یہ لوگ دوسری چوکی چھوڑ کر ادھر بھاگیں گے۔ انگریزی میں اسے ہرڈ سائیکولوجی کہتے ہیں، اردو میں لکھوں گا اچھا نہیں لگے گا۔
جنگ احد میں نبی کریم (ص) نے یہی فرمایا تھا کہ کوئی سپاہی اپنی اپنی چوکی نہ چھوڑے، لیکن چھوڑنے والوں نے چھوڑ دی۔ مسلمان اس دن سے بھاگنے میں مصروف ہے اور مشرکین مکہ کے جا نشین اسی نفسیات کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بطور پاکستان مجھے پاکستانی فوج کا احترام بھی ہے اور اسکی سابقہ روایات سے امیدیں بھی وابستہ ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے حقائق کچھ اور ہی ہیں۔ گو کہ میں ٦٥ اور ٧١ کی جنگوں کے مشتہر نتائج سے بھی یکسر متفق نہیں ہوں، لیکن پھر بھی داستانیں سنانے کو بھلی تھیں۔ کم از کم مجھے نہیں معلوم کی سن ٦٥ کی جنگ میں کوئی بریگیڈئیر کے درجے کاافسر شہید ہوا ہو۔ در اصل یونٹ کمانڈر ہونے کے ناطے کرنل بھی بہت کم خود فیلڈ میں جاتے ہیں اور بریگیڈئیر جو دنیا کے اکثر ممالک میں جنرل ہی ہوتا ہے، وہ جنگ میں بھی محفوظ مقام پر ہوتا ہے تا کہ قیادت کی سلامتی افواج کے حوصلے بلند رکھ سکے۔ بریگیڈئیر کو فوج کی زبان میں ون سٹار جنرل کہا جاتا ہے۔ کل کے آپریشن میں پاک فوج کا ایک ون سٹار جنرل اس لئے شہید ہوا کہ باہر اندھا دھند فائرنگ ہو رہی تھی۔ شہید ہونے والا تو شہید ہو گیا، لیکن کیا ہمیں اس سے اب سبق بھی نہیں لینا چاہیئے؟
میں نے پہلے بھی عرض کیا ہے اور پھر یہ کہ رہا ہوں کہ یہ واقعہ فوج کی عدم تیاری، انٹیلیجنس میں خیانت، اور غلط طریقہ کار کے سبب اس طرح کے بھیانک نتائج پر جا رکا ہے۔ جنرل کیانی کے لئے انتہائی فکر کا موقع ہے اور انہیں جنرل پاشا کے ساتھ مل کر دھونڈنا ہوگا کہ کہاں گڑ بڑ ہوئی۔ فوج کو کس طرح سے اس واقعہ پر رد عمل کرنا چاہئیے تھا ۔ جس حکمت عملی کا اظہار کل کیا گیا ہے، یہ تو ہمارے جوان کسی بھی اعلیٰ قیادت کے بغیر بھی دکھا سکتے تھے۔ لفٹین سے لیکر جرنیل تک کے جم غفیر کی کیا ضرورت تھی اگر لڑائی یہی ہونا تھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ ایس ایس جی نے بہت اچھا آپریشن کیا، لیکن اس کی نوبت ہی کیوں آئی؟ کیا جی ایچ کیو کی برجیوں پر اور فضا پر کوئی حفاظتی دستہ ماءمور نہ تھا؟ اگر نہیں ہے تو اب بھی وقت ہے کہ جی ایچ کیو کو آئندہ کے لئے نا قابل تسخیر بنا لیا جائے۔
دفاع کی زبان میں ایک اصطلاح ہے جسے سنٹر آف گریوٹی کہا جاتا ہے، جس اگر دشمن تسخیر کر لے تو جنگ کا اختتامی نقطہ( کلمی نیٹنگ پوائینٹ) فوری آجاتا ہے۔ گو کہ پاکستان کے لئے دستآویزی طور پر سنٹر آف گریوٹی کی حیثیت جی ایچ کیو کو حاصل نہیں ہے، لیکن پھر بھی جی ایچ کیو کی تسخیر سے تمام فوج اور عوام کا مورال (ہمت و حوصلہ) دم توڑتا نظر آتا ہے۔ بلکہ شاید جی ایچ کیو تو سنٹر آف گریوٹی سے بھی زیادہ مضبوط مقام سمجھا جاتا ہے، جس کی سالمیت کے سبب برباد ہوئے سنٹر آف گریوٹی کو باردیگر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے فوجی قیادت کے مرکز کو تو بہر حال محفوظ اور نا قابل تسخیر ہونا چاہیئے تھا۔
اس وقت قوم جب اس حادثے کے پس پردہ عوامل ہاتھوں کی تلاش میں ہے، مجھے اس کی فکر نہیں ہے کہ یہ ہمارے لئے کوئی چھپا ہاتھ نہیں ہے۔ مجھے فکر ہے تو فوج کی منہ بولتی عدم اہلیت پر، جس کے سبب گزشتہ چند سالوں میں کئی اعلیٰ فوجی افسران اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔ بار بار جمہوریت کا بستر گول کر کے ایوان صدر فتح کرنے والی فوج کو شمشیر و سناں کے سبق بھل گئے ہیں۔ سابقہ صدر و جنرل کی طاؤس و رباب کی محفلیں اب کس سے ڈھکی چھپی ہیں۔ جہاں بڑے یہی کچھ کر رہے ہوں، وہاں چھوٹے تو انہی نقش ہائے قدم پر چلتے ہیں۔ ان حالات میں فوجی قیادت کو اپنے تنظیمی حالت سدھارنے کی طرف غور کرنا چاہئے اور ایسے عملی اقدامات کی ضرورت ہے جہاں فوج کو جدید تربیت کے ساتھ تن آسانی سے بچایا جا سکے۔ اب مسئلہ جمہوریت یاپاکستان کی بقاء کا نہیں رہا، بلکہ خود فوج کے اپنے وجود کا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ ہماری فوج خود کو راشن دشمن ہونے کے تصور سے بچا لے۔ ہمہ وقت بیرونی امداد کی ضرورت اور جدید اسلحے کی کمی کا رونا ہماری عادت بن چکی ہے۔ لیکن کیا کریں کہ جسمانی ورزش اور عقل کے لئے نہ کیری لوگر کی طرف سے کسی حمایت کی ضرورت ہے اور نہ کسی امدای سنڈیکیٹ کے اجلاس پر نظریں جمانے کی کوئی وجہ ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہماری عقلوں نے اتنا بھی نہ سوچا کہ فوج کے مرکز پر اچانک حملہ ہو تو اسکا کیا رد عمل ہونا چاہیئے؟ پیشگی سوچ اور مناسب حکمت عملی سے سب کچھ ممکن تھا۔
جنرل صاحب اگر یہ سطور آپ تک پہنچیں تو مجھے کہنے دیجئیے کہ آج آپ محفوظ ہیں نہ باقی مانندہ پاکستان۔ ہمارا ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے نہ ہمارے ایٹمی اساسے۔ ہمیں آپ کے شانوں اور قابلیت پر پورا پورا اعتماد ہے۔ آپ کی ذرا سی توجہ سے یہ ملک آج بھی ناقابل تسخیر بن سکتا ہے۔ خدا را حفاظت سے اٹھے اس اعتبار کو بحال کر دیں۔ آپ کے ادارے پر قوم کو آج بھی ناز ہے، اس ناز کا مان رکھ لیں۔ دنیا آپ کے اسلحے خانوں اور عقل کے مبتداؤں پر گیرے ڈالنا چاہتی ہے۔ آج آپ نے نا پسندیدگی اکا ظہار کیا تو انجام دیکھ لیا۔ اب کے پیشگی خیمہ بندی کر رکھئیے، خدارا کہیں یہ نہ ہو کہ کل آپ ہی بیرونی مملک سے کہ رہے ہوں کہ اس اسلحے کی حفاظت کا بند بست کردو۔
میرے الفاظ شاید سخت ہونگے اور برے بھی لگیں گے، لیکن پاک فوج کے ساتھ انتہائی محبت اور ہمدردی کے سبب ایسا لکھنے پر مجبور ہوں۔۔۔۔وہ کیا ہے کہ کہتے تو ہیں بھلے کی وہ، لیکن بری طرح۔
|