|
عوام پوچھتے ہیں کہ پاکستان میں جاری دہشت گردی کب تک جاری رہے گی
12.09.2014, 07:15am , جمہ (GMT+1)
جمیل اشرفی۔لاہور پاکستان
میں پاکستان کا ایک عام شہری ہوں، ووٹر ہوں، ٹیکس دینے والا ہوں لیکن شاید سب سے زیادہ مجبور ہوں اور سب سے کمزور آواز بھی مری ہے جو کوئی نہیں سنتا۔
شاید عالمی اخبار میری آواز سنے اور اسے دوسروں تک پـہنچا سکے کہ میں اس میں شائع خبروں کو اور تبصروں کو سچ اور حق کی آواز سمجھتا ہوں۔
پاکستان میں اور اسکے ارد گرد دہشت گردی تو کئی عشروں سے موجود رہی ہے لیکن آمر مشرف کے زمانے سے اسکا جو جن بوتل سے باہر نکلا اب وہ کسی طرح اندر نہیں جا رہا۔
امریکہ کی جنگ اب ہر طرح سے ہماری جنگ بن گئی ہے اور آگ ہمارے گھر میں لگی ہوئی ہے۔ حکمران قطعی جھوٹ بولتے ہیں۔ملکی معیشت کا برا حال ہے۔امن نام کی کوئی چیز نہیں،بچوں کو سکول بھیجتے ڈر لگتا ہے اور ہم خود کلمہ پڑھ کر گھر سے نکلتے ہیں۔ کاش ان حکمرانوں کے بچوں میں سے کوئی ان دہشت گردوں کا نشانہ بنتا تو ہم ان سے پوچھتے۔
ہم کسی دشہت گرد کے حق میں نہیں لیکن جو کچھ حکومت کر رہی ہے کیا اس سے دہشت گردی رک رہی ہے یا فروغ پا رہی ہے۔
جو دہشت گرد آج جی ایچ کیو پہنچے ہیں وہ کل ایوان صدر،پرائم منسڑ ہاؤس یا پارلیمنٹ نہیں پہنچ سکتے؟
اب امریکہ یہی دلیل دے گا کہ سلامتی کی صورت حال پاکستان کی اتنی کمزور ہے کہ دشیت گرد جی ایچ کیو پہنچ گئے ہیں تو کیا یہ جوہری روز نہیں ہتھیا لیں گے؟
مجھے تو ان سارے واقعات کے پیچھے خود انہی لوگوں کا ہاتھ لگتا ہے براہ راست نہیں لیکن کسی نہ کسی رخ سے ضرور۔
میرا یہ پیغام ہر محب وطن پاکستانی کے لیئے ہے کہ وہ حکمرانوں کی آنکھوں پر پڑی پٹی کو کھولیں۔
|