پاکستان سے برطانیہ آنے والے خواہشمندوں کی ویزا درخواستوں پر فیصلوں میں غیر معمولی تاخیر اور بعض درخواستوں کے تفصیلی جائزہ کے بغیر انہیں رد کر دینے کے معاملات نے ایک سکینڈل کی صورت اختیار کرلی ہے اور ایسے افراد کی تعداد ہزاروں سے نکل کر لاکھوں تک جا پہنچی ہے جو مہینوں سے اپنی ویزا درخواستوں کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں
سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں وہ طلبہ ہیں جنہوں نے ستمبر میں برطانیہ کے مختلف تعلیمی اداروں میں اپنی کلاسز شروع کرنا تھیں۔
بعض ایسے درخواست گزار بھی ہیں جنہوں نے برطانیہ میں اپنے کسی عزیز، رشتہ دار کی شادی، بیمار پرسی یا انتقال کی خبر ملنے پر اس کی آخری رسومات میں شرکت کرنا تھی لیکن یہ تمام افراد بھی دوسروں کی طرح ابھی تک اپنے ویزا کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ یہاں شادی کی تقریبات ہو چکی ہیں، جو بیماروں کی بیمار پرسی کے لئے آنا چاہتے تھے وہ مر چکے ہیں اور انتقال کی خبر سننے پر جن پیاروں کو دفن کرنے کے لئے ویزا کی درخواستیں دی گئی تھیں انہیں دفن ہوئے بھی کئی ماہ گزر گئے ہیں۔
اسلام آباد سے ویزا سیکشن ابوظہبی منتقل کئے جانے کے بعد برطانیہ میں آباد پاکستانیوں کے خاندان صحیح معنوں میں دو حصوں میں بٹ کر رہ گئے ہیں اور پاکستان سے وزیٹر کی حیثیت سے برطانیہ آ کر کسی بہن بھائی کے غم و خوشی میں شامل ہونا ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔

ویزا درخواستوں پر فیصلوں کی اس غیر معمولی تاخیر کے باعث ان برطانوی حلقہ انتخابات کے اراکین پارلیمنٹ پر بھی کام کا بوجھ بڑھ گیا ہے جن حلقوں میں پاکستانیوں اور کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اس سلسلہ میں بریڈ فورڈ، ہیلی فیکس، شفیلڈ، برمنگھم، ڈربی، نوٹنگھم، والسال، پیٹربرا، لوٹن، سلاؤ اور ایسٹ لندن کے وہ اراکین پارلیمنٹ شدید دباؤ میں ہیں جن کے ووٹر مختلف مواقع پر اپنے عزیز و رشتہ داروں کو پاکستان یا آزاد کشمیر سے وزیٹر کی حیثیت سے بلوانا چاہتے ہیں
ایسے ہی ایک رکن پارلیمنٹ کی سیکرٹری نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جنگ کو بتایا کہ گزشتہ پندرہ ماہ سے ان کا پورا دفتر شدید دباؤ کا شکار ہے اور کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب ان کے حلقہ انتخاب کا کوئی مکین ویزا نہ ملنے پر اپنا احتجاج ریکارڈ نہیں کرواتا۔
اس خاتون کا کہنا ہے کہ وہ ہر شکایت فارن اور کامن ویلتھ آفس تک پہنچا دیتے ہیں جہاں سے ایک رٹا رٹایا جواب موصول ہو جاتا ہے کہ درخواست گزار ہر روز فلاں نمبر پر فون کر کے اپنی درخواست کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتا ہے اور یہ کہ کام کی زیادتی کی وجہ سے درخواست گزاروں کو یہ انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ معاملہ کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ خود صدر پاکستان محترم آصف علی زرداری اور وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے برطانوی وزیر داخلہ کے ساتھ یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے اس کے فوری حل کا مطالبہ کیا گو برطانوی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ نومبر تک ابوطبی سے ویزا سیکشن دوبارہ پاکستان منتقل کر دی جائے گی تاہم ان کے اس اعلان سے ان افراد کی تشویش کم نہیں ہو رہی جن کی ویزا درخواستیں یا تو مسترد کر دی گئی ہیں یا مہینوں گزرنے کے باوجود جن کی درخواستوں پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ ابوطبی کے برطانوی ویزا سیکشن کی ناتجربہ کاری یا کاغذات سے مکمل آگاہی نہ رکھنے کی دو مثالیں ان دو درخواستوں سے بخوبی حاصل کی جا سکتی ہیں جن میں پہلی درخواست سپریم کورٹ کے ایک جج اور دوسری درخواست پاکستانی فوج کے ایک میجر کی ہیں۔

آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے ایک جج برطانیہ میں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے لئے آنا چاہتے تھے یہ جج اس سے قبل بھی دو تین مرتبہ برطانیہ آ چکے ہیں ان کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی گئی کہ ویزا افسر کو شک تھا کہ ہو سکتا ہے کہ سپریم کورٹ کے یہ جج برطانیہ سے واپس ہی نہ آئیں،
اسی طرح پاکستانی فوج کے ایک میجر جنہیں کارگل کے محاذ پر بہادری کا مظاہرہ کرنے پر تمغہ شجاعت ملا کی درخواست اس لئے مسترد کر دی گئی کہ ویزا افسر کا خیال تھا کہ پاکستان آرمی کے اس میجر نے اپنی آمدنی کے بارے میں دستاویزی ثبوت فراہم نہیں کیا جبکہ یہ بھی کہا گیا کہ جو بینک سٹیٹمنٹس فراہم کی گئی ہیں ان میں آنے والی رقومات کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کہاں سے آئی ہیں حالانکہ اس میجر نے اپنی ویج سلپس، بینک سٹیٹ منٹ اور افواج پاکستان کی طرف سے جاری این او سی بھی اپنی درخواست کے ساتھ لگایا۔
آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے جج تو اپنی درخواست مسترد ہونے پر خاموش بیٹھ گئے لیکن پاکستانی میجر نے ہائی کمیشن کے فیصلہ کے خلاف اپیل کر دی جس پر اپیل کورٹ نے پہلی ہی پیشی پر امیگریشن افسر کے فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ ای سی او نے درخواست مسترد کرتے ہوئے وہ تمام دستاویزات نظر انداز کر دیں جو درخواست کے ساتھ لگائی گئی تھیں چنانچہ اپیل کورٹ نے انہیں ویزا جاری کرنے کا فیصلہ دیا۔ اس میجر کی ویزا درخواست گزشتہ برس اگست میں مسترد کی گئی تھی اس سال فروری میں انہیں ویزا دینے کا فیصلہ کیا گیا جس پر انہوں نے مئی میں اپنے پاسپورٹ اسلام آباد کے برٹش ہائی کمیشن کو بھیجے اور آج پانچ ماہ گزر جانے کے باوجود انہیں ان کے پاسپورٹ واپس نہیں ملے۔ اس عرصہ میں انہیں دو مرتبہ افواج پاکستان سے چھٹی لینا پڑی اور دونوں مرتبہ ویزا نہ ملنے کے باعث یہ چھٹی ضائع ہو گئی۔
اپیل کورٹ سے مقدمہ جیتنے کے باوجود ابھی تک ویزا سے محروم یہ کہانی صرف پاکستانی فوج کے ایک میجر کی ہی نہیں ہے اور بھی ایسے سینکڑوں افراد ہیں جنہیں اپیل کورٹ کی واضح ہدایت کے باوجود ابھی تک ویزا نہیں مل سکا۔ اسی طرح کا ایک واقعہ لاہور سے تعلق رکھنے والے پاکستانی فنکاروں اور اداکاروں کے ایک گروپ کو بھی پیش آیا۔ اس دس رکنی گروپ نے برطانیہ میں شو کرنے کے لئے مارچ 2008ء میں آنا تھا تمام فنکاروں کے پاس برطانیہ کا ورک پرمٹ موجود تھا لیکن ویزا آفیسر نے پانچ کو ویزا دیدیا اور پانچ کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں جس پر برطانیہ میں ڈراہ کے پروموٹر کو ہال بنکنگ فیس کی شکل میں ہزاروں پونڈ کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔
 |
| مارشا سنگھ |
اس موقع پر بریڈ فورڈ ویسٹ کے رکن پارلیمنٹ مارشا سنگھ نے مداخلت کرتے ہوئے فارن اور کامن ویلتھ آفس سے درخواست کی کہ مسترد کی گئی درخواستوں پر نظرثانی کی جائے لیکن ان کی یہ درخواست بھی مسترد کر دی گئی چنانچہ پروموٹر نے فیصلہ کے خلاف اپیل کی جس پر اپیل کورٹ نے گزشتہ برس اکتوبر میں پانچوں اپیلیں تسلیم کرتے ہوئے پانچوں فنکاروں کو ویزا حق دینے کا فیصلہ کیا جس پر یوکے بارڈر ایجنسی نے ان پانچوں فنکاروں کو نئے ورک پرمٹ جاری کئے، اسی دوران ان فنکاروں کو اسلام آباد کے برٹش ہائی کمیشن سے خط موصول ہوا کہ وہ ویزا کے لئے اپنے پاسپورٹ بھیجیں جو 26 مئی کو جمع کروا دیئے گئے اور برطانیہ میں جولائی میں شو کرنے کے انتظامات شروع ہو گئے لیکن پانچ ماہ گزر گئے اپیل کورٹ کے فیصلہ کے باوجود نہ ان فنکاروں کو ویزا ملا اور نہ ہی ان کے پاسپورٹ واپس ملے۔ ان میں دو فنکار ایسے بھی ہیں جنہوں نے اگست میں کینیڈا اور امریکہ جانا تھا لیکن پاسپورٹ نہ ہونے کے باعث وہ ایسا بھی نہ کر سکے۔ اسی طرح لندن کے ایک پاکستانی پروموٹر نے اپریل میں ایک گروپ کو بلوانے کا فیصلہ کیا تو ویزا افسر نے گروپ کے دو اہم فنکاروں کی درخواستوں کو التوا میں ڈال دیا جبکہ باقی گروپ ممبرز کو ویزے جاری کر دیئے گئے لیکن گروپ میں سے دو اہم نکلنے کے بعد اس گروپ کے شو کامیاب نہ ہو سکے اور پروموٹر کو ہزاروں پونڈ کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب یہ گروپ برطانیہ کے دورہ کے بعد واپس پاکستان پہنچا تو ان کے وہ دو ساتھی فنکار ابھی تک اپنے ویزا کا انتظار کر رہے تھے۔
پاکستانی فنکاروں کے ساتھ اس غیر یقینی صورتحال کے باعث 2009ء میں برطانیہ آنے والے بہت سے ثقافتی گروپوں نے اپنے پروگرام منسوخ کر دیئے ہیں ایسا ہی ایک افسوسناک واقعہ بریڈ فورڈ مور کے محمود حسین بھٹی کے ساتھ بھی پیش آیا۔ محمود حسین اپنی تمام تر فیملی کے ساتھ ایک طویل عرصہ سے برطانیہ میں آباد ہیں ان کی صرف ایک ہی ہمشیرہ ہیں جو پاکستان میں ہیں۔ گزشتہ اپریل میں محمود حسین کی ضعیف العمر والدہ شدید علالت کے باعث بریڈ فورڈ کے رائل انفرمری میں زیر علاج تھیں جب ان کی علالت طوالت اختیار کر گئی تو ڈاکٹروں نے محمود حسین کو بتایا کہ ان کی والدہ اب چند دنوں کی مہمان ہیں اور یہ کہ وہ اگر خاندان کے کسی رکن کو آخری ملاقات کے لئے بلوانا چاہتے ہیں تو ان کے پاس اس کے لئے صرف دو ہفتے ہیں اس مقصد کے لئے ہسپتال کے ایک معالج نے خط بھی جاری کر دیا۔ محمود کا یہ خیال تھا کہ اگر اس کی اکلوتی بہن اپنی ماں سے آخری ملاقات کے لئے برطانیہ آ جائے تو موت کی صورت میں وہ اپنی والدہ کو یہیں برطانیہ دفن کر دیں گے جہاں ان کا تمام خاندان آباد ہے۔
بریڈ فورڈ کے سابق لارڈ میئر کونسلر غضنفر خالق نے بریڈ فورڈ نارتھ کے رکن پارلیمنٹ ٹیری رونی کے ذریعہ برٹش ہائی کمیشن سے رابطہ کیا، ویزا کی درخواست دی گئی، ڈاکٹروں کی طرف سے تصدیقی خطوط لگائے گئے، رکن پارلیمنٹ کا سفارشی خط لگایا گیا لیکن اس خاتون کو بھی ویزا نہ مل سکا اور نہ چاہتے ہوئے بھی محمود حسین کو اپنی والدہ کی میت پاکستان بھیجنا پڑی۔
محمود حسین خود بہت علیل ہیں اور اس قابل نہیں کہ پاکستان جا کر اپنی والدہ کی قبر پر فاتحہ پڑھ سکیں۔ میرپور کے انیس سالہ ایک طالبعلم کو مانچسٹر یونیورسٹی میں داخلہ ملا، کلاسز ستمبر میں شروع ہو چکی ہیں لیکن ابھی تک اسے یہ علم بھی نہیں کہ اس کا پاسپورٹ کہاں ہے؟۔
لاہور کے عمران بٹ کی کہانی بھی ایسی ہی ہے۔ ویزا درخواستوں میں تاخیری حربوں نے اس سارے معاملہ کو ایک سکینڈل بنا دیا ہے اور عام پاکستانی اور کشمیری صبح شام اس پر احتجاج کرتے ہیں لیکن یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کا احتجاج کوئی قیمت نہیں رکھتا۔