
ڈاکٹر نگہت نسیم کے گھر پر ایک خوبصورت اور یادگار محفلٍ موسیقی جس میں سڈنی کی معروف مقامی گلوکارہ رفعت فاطمہ بیتا نے شرکت کی
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں گیارہ اکتوبر اتوار کے روز عالمی اخبار کی نائب مدیر اعلی ڈاکٹر نگہت نسیم کے گھر پر ایک خوبصورت اور یادگار محفلٍ موسیقی کا انقعاد ہوا جو انہوں نے اور ان کے شوہر محمد آفتاب نے اپنے قریبی دوست ندیم احمد خان اور ان کی اہلیہ سیما ندیم کے اعزاز میں منقعد کی تھی ۔
اس محفل میں سڈنی کی معروف مقامی گلوکارہ رفعت فاطمہ بیتا نے محفل کو اپنی گائیکی سے مسحور کیا اور ان کے ساتھ طبلے پر محد زاہد نے سنگت کی ۔

محفلٍ موسیقی ندیم احمد خان اور ان کی اہلیہ سیما ندیم کی وطن واپسی کے حوالے سے منعقد کی گئی تھی، جس کی میزبانی ڈاکٹر نگہت نسیم اور محمد آفتاب نے کی ۔
پروگرام کے دوران لوگ موسیقی کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر نگہت نسیم کی شعر و شاعری اور احباب کی ہنستی مسکراتی باتوں سے بھی لطف اندوز ھوتے رہے ۔
پروگرام کا پہلا حصہ غزلوں پر مشمل تھا جسے گلوکارہ رفعت فاطمہ بیتا نے بڑی مہارت سے ہارمونیم پرگایا اور طبلے پر ان کا ساتھ بڑی مہارت سے محمد زاہد نے دیا ۔

بیتا اور محمد زاہد دونوں کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے ۔ بیتاکی گایئگی رونا لیلی کی یاد تازہ کر دیتی ہے ۔ انہوں نے فن موسیقی سات برس کی عمر سے اپنے والد سے سیکھی تھی ۔ سڈنی کی مصروفیت کے باوجود بھی وہ کئی گھنٹے روزانہ ریاض کرتی ہیں ۔
انہیں کلاسیکل گانے میں خاص مہارت حاصل ہے ۔ انہوں نے ایک بجھن گاکر ساری محفل سے داد لی جس میں انہوں نے کمال فن سے سارے راگ شامل کئے تھے ۔
دوسرا حصہ شروع ہونے سے پہلے ڈاکٹر نگہت نسیم نے اپنے دوستوں کاشکریہ ادا کرتے ہوئے ندیم احمد خان اور

سیما ندیم سے اپنی محبت کا اظہار کیا ۔
اس کے بعد باری باری تمام دوستوں نے بھی جن میں
وقار علی اور ان کی اہلیہ فرحیہ وقار ، پاکستان ایسیوسی ایشن کے جرنل سکریرٹری محمد انصاف خان اور ان کی اہلیہ پروین انصاف ، محبوب عالم ، وسیم الحق اور ان کی اہلیہ شبانہ وسیم ، یٰسین علی خان اور ان کی ایلیہ شاہدہ یٰسین کے علاوہ انجم ھٰدی اور ان اہلیہ شہناز ھٰدی نے بھی ندیم احمد خان اور سیما ندیم کے ساتھ گزرے یادگار دنوں کا ژکر کیا اور انکی کامیابی کی دعا کرتے ہوئے انہیں دوبارہ سڈنی آنے کی دعوت دی ۔

یہ یادگار محفل رات سات بجے سے لے کر بارہ بجے تک جاری رھی ۔ جس کے بعد ایک پرتکلف عشایئہ کا بھی اہتمام تھا ۔عشائیہ کے بعد بھی رات گئے تک سب دوست احباب ایک دوسرے سے باتوں میں مشغول رہے ۔
موسیقی کے شائقین تمام دوستوں نے اس محفل کو ایک کامیاب محفل قرار دیا جسکی وجہ سے جہاں ایک طرف یہ دوستوں سے مل بیٹھنے کا بہانہ تھا تو وہاں دوسری طرف سڈنی میں مقیم گلوکاروں کی حوصلہ افزائی بھی تھی ۔