میری اس شب کی کوئی سحر ہو گی کیا؟سرخ خوں کے دیے میرے شہروں کی سڑکوں پہ جلنے لگے رات دن
وہ جو زندہ ہیں آج
انکو کل کی خبر کچھ نہیں
کون جانے کہ جو گھر سے نکلا ہے واپس پلٹ کر وہ گھر آئے گا؟
یا کوئی نامہ بر مرگِ یوسفِ کی تازہ خبر لائے گاسرخ خوں کے دیئے
شہرِ بلقیس سے شہرِ آذر تلک
ایسے روشن ہیں جیسے شبِ وصل میں چاندنی کا حصار
ایسے تازہ ہیں جیسے لہو کی بہار
معتبر کچھ نہیں
ہاں مگر موت کا اعتبار
بھائی کو بھائی کی لاش کا انتظاربہن بالوں کو کھولے ہوئے پیٹتی سرکو بھائی پہ ہوتی نثارسینہ زن بیٹیاں،مائیں دل چیر کر بین کرتی ہوئیں کر رہی ہیں پکارباپ بیٹے کی میت اٹھانے کو ہے بے قرارخون روتی ہوئی خوشبوئے لالہ زارمعتبر کچھ نہیں
ہاں مگر موت کا اعتبار
کوئی بتلاؤ تو
میرے شہروں کو کسی کی نظر کھاگئی
کس کی جنگ ہے جو بچوں کا میرے لہو پی کے تھکتی نہیں
مسجدوں میں بھی اب جان بچتی نہیں
کتنی قبروں کے منہہ روز کھلتے ہیں اور بند ہوتے ہیں
تھک گئے رونے والے عزیزوں کو اتنا کہ روتے نہیں
موت کے منتظر جاگتے ہیں کچھ ایسے کہ سوتے نہیں
کون خود کْش ہیں یہ اور ایما پہ کس کے یہ سب ہورہا ہے بتائے کوئیمیری بینائی خود کْش کے حملے میں ہے کھو گئیمجھکو میرا ہی چہرہ دکھائے کوئیعصرِ حاضر کی اس کربلا میں ہوں میںمجھکو میرا ہی نوحہ سنائے کوئیموت کے سائے میں سانس لینا بھی ان جیسے مشروط ہے
کس کی جنگ کو اب ہم اپنی جنگ کہنے پر ایسے مجبور ہیں
لگ رہا ہے کہ اس شہر میں رہنے والے سبھی
ابنِ سقراط ہیں ابنِ منصور ہیں
کس کے گھر کی ہے یہ آگ ہم نے خود اپنے گھروں میں لگائی ہوئی
کوئی بتلاؤ تو کس جگہ اْگ رہے ہیں یہ خود کْش کہ رْکتے نہیں
کیسا حاکم ہے یہ
حکم کے سامنے جس کے جھکتے نہیں
کون ہے جو خدا کی طرح میرے شہروں کی قسمت کا مالک بنا ہے خود اپنے تئیں
کون ہے جس کی امداد پر ہم نے عزت کو اپنی نچھاور کیاکون فرعون ہے دھڑکنیں دل کی ہیں جسکی مٹھی میں بندکون ہے جس کی امداد پر حکمراں محوِ رقصاں ہیں دیوانہ وارکون ہے جس کی قربت میں ملت فروشوں کا ہے ایک ہجومجس کے بوٹوں کے تلووں کے نیچے ہیں پسنے لگےمیری دھرتی کے بیچارے ماہ ونجومکون ہے جس کی امداد پر خوش ہیں سب حاکمانِ وطنبے ضمیری کی میت کو کاندھوں پہ اپنے اٹھائے ہوئےمرنے والوں کو یہ دے رہے ہیں پیامختم ہونے کو ہے اب صعوبت کا دن اور مصیبت کی شامغیرتیں بِک گئیں
عزتیں لْٹ گئیں
بے ضمیری کے سودے پہ کیسا مبارک سلامت کا ایک شور ہے
کیسا ملت فروشوں کا یہ دور ہے
زورِ بازو پہ اپنے نہیں
غیر کی بزم سے ملنے والی اس ادنیٰ سی خیرات پر
دے رہے ہیں مبارک یہ اب قوم کو
انکو غیرت کے سودے پہ بھی فخر ہے
اور نازاں ہیں عزت کو بازار میں بیچ کر
بے حسی کی یہ کیسی ہوئی انتہا
کہہ رہے ہیں یہ فاقہ زدہ زرد چہروں سے اب برملا
ہو مبارک کہ اب دن بدل جائیں گے
کون جانے کہ اب اس شبِ غم کی کوئی سحر ہو گی کیا؟میرے مرنے کی اسکو خبر ہو گی کیا؟آہ نکلی ہے جو بااثر ہو گی کیا؟میری اس شب کی کوئی سحر ہو گی کیا؟میری اس شب کی کوئی سحر ہو گی کیا؟