17.10.2026, 07:52am , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » زرقا مفتی
 

مسئلہ اپنی بقا کا ہے۔ از زرقا مفتی،لاہور
16.10.2009, 07:45pm , جمہ (GMT+1)

زرقا مفتی۔لاہور
وطنِ عزیز ایک بار پھر دہشت گردی کی زد میں ہے ۔ تازہ حملوں کی لہر میں تسلسل اور انتقامی شدت واضح ہے۔ گزشتہ روز لاہورکو نشانہ بنایا گیا۔ دہشت گردوں نے بیک وقت تین حملے کئے جو ناکام ہو گئے مگر ہماری فول پروف سیکیورٹی کا پول کھل گیا۔ پچھلے پانچ سالوں میں ہمارے ملک میں دو ہزار سے زاید دہشت گردی کے واقعات رونما ہو چکے ہیں مگر ہماری پولیس ، فوج اور دیگر خفیہ ایجنسیاں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو توڑنے میں ناکام رہی ہیں۔ کہنے کو ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی اتحادیوں کے پارٹنر ہیں مگر ہماری ایجینسیاں اب تک وہ طریقہ کار وضع کرنے میں ناکام رہی ہیں جس پر عمل پیرا ہو کر امریکہ یا برطانیہ نے مزید حملوں سے اپنے ممالک کو محفوظ بنایا ہے۔ آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دہشت گردی کے نہیٹ ورک کو سرمایہ کون فراہم کر رہا ہے۔ اکثر آپریشنز میں دہشت گرد ہلاک کر دیے جاتے ہیں۔ زندہ گرفتار ہونے والے اکا دکا افراد سے جو معلومات حاصل ہوتی ہیں ان کو منظرِ عام پر نہیں لایا جاتا۔ دہشت گرد بھاری کرایے پر مکان حاصل کرتے ہیں اور سکون سے اپنی کاروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں ۔عوام کو ہوش آتا ہے تو کاروائی ہونے بعد۔

غیر معمولی حالات کے پیش نظر غیر ملکی کے افراد کے کرائے پر گھر لینے پر پابندی عاید کر دینی چاہیے اور ایسے مالک مکان کے لیے بھی سزا مقرر ہون ی چاہیے جو بلا تصدیق اضافی رقم کے لیے ملک دشمن عناصر کو چھت فراہم کرتے ہیں۔کیونکہ قومی بقا کی جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی ۔

پاکستان میں دہشت گردی کو کبھی افغان جہاد سے منسلک کیا جاتا ہے تو کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے۔ کبھی آئی ایس آئی کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے توکبھی ہماری افغان پالیسی کو۔ لیکن ایک عام فہم توجیح پر غور نہیں کیا جاتا کہ افغانستان سے پاکستان میں آزادانہ نقل و حمل پر کوئی خاص پابندی نہیں ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور نیٹو افواج کی رسد کی آڑ میں کیا کیا ہوتا ہے کسی کو معلوم نہیں۔ امریکیاہلکاروں کوسفری دستویزات کے بغیر ملک میں نقل و حمل کی اجازت ہے۔ ملکی بقا کے لیے ضروری ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر پابندی لگا دی جائے ۔ پاک افغان بارڈر سیل کر دیا جائے اور افغان مہاجرین کو فی الفور ان کے واطن روانہ کر دیا جائے۔

سوات آپریشن کی کامیابی سے عوام کے دلوں میں پاکستانی فوج کی قدر و منزلت میں کئی گنا اضافہ ہوا ۔ آپریشن کی کامیابی سے فوج کے مورال میں بھی اضافہ ہوا۔سو ات آپریشن کے دوران ہی اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ عسکریت پسند اس آپریشن کا بدلہ چکانے کے لیے عسکری قیادت کو نشانہ بنائیں گے۔جی ایچ کیو پر حملے کے فورا بعد تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔اور ملک سے تمام مغربی این جی اوز کے خاتمے اور طالبان کے خلاف آپریشن بن کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم اس حملے میں غیر ملکی عناصر کے ملوث ہونے کو بھی خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا ۔ حملہ ایسے وقت پر ہوا جب عسکری قیادت نے امریکی امداد کے قانون کیری لوگر بل کے خلاف اپنے تحفظات براہِ راست عوام کے سامنے پیش کئے۔حملے کی ٹا ئمنگ سے یہی قیاس کیا جا سکتا ہے کہ عسکری قیادت کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ اُن نادیدہ ہاتھوں کی پہنچ سے دور نہیں جن کا مقصد ہمارے ملک کو غیر مستحکم کرنا ہے۔اور یہ بات ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ بھارت اسرائیل اور امریکہ پاکستان کو غیر مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔

جی ایچ کیو آپریشن کے بعد سیاسی حلقوں نے عسکری قیادت کو مبارکبادیں بھی دیں اور ن لیگ کے حامی دانشوروں نے عسکری قیادت کی اہلیت پر سوالات بھی اُٹھائے کہ اگر جی ایک کیو محفوظ نہیں تو ہماری ایٹمی صلاحیت کیسے محفوظ رہ سکتی ہے۔ نااہل قیادت کو استعفی دے دینا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ میرے علم کے مطابق امریکہ میں  پینٹاگون پر حملے کے بعد اُن کی کسی خفیہ ایجنسی یا فوجی اہلکار کے استعفیٰ کا مطالبہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی نے استعفیٰ دیا۔ بمبئی حملوں کے بعد بھارت میں بھی کسی خفیہ ایجنسی کے عہدیداروں کو برطرف نہیں کیا گیا۔ ہمارے دانشور خود ہی ہمیں کمزور ثابت کرنے پر کیوں تلے ہیں سمجھ سے باہر ہے۔ ہماری فوج کی ایجینسیوں کی مدد سے ہی سری لنکا پچیس سال بعد تامل شدت پسندوں سے چھٹکارا پانے میں کامیاب ہو سکا ہے۔ تو یہاں تو مسئلہ اپنی بقا ہے۔ اپنی بقا کے لیے فوج تو سینہ سپر ہے۔لیکن ہمیں کوئی ایسی قیادت میسر نہیں جو عوام کو یکسو کر سکے۔ جو عوامی امنگوں کی ترجمانی کر سکے جو طوقِ غلامی کو اُتار پھینکے۔ جو مایوسی کے اندھیروں میں امید کا دیا جلا سکے۔صدر زرداری اور ان کی کابینہ امریکہ کی جی حضوری میں مصروف ہیں اور ن لیگ خاموش تماشائی بنی ہے ۔ نواز شریف صاحب دبئی ، سعودی عرب یا لندن میں وقت گزارتے ہیں اور اُن کے بھائی صاحب نان ایشوز کے ایشوز بناتے رہتے ہیں۔ جہاں مسئلہ اپنی بقا کا ہو وہاں ایسی لاتعلقی قومی جرم کہلاتی ہے جو ناقابلِ معافی ہے۔

ہمارے سیاستدان صرف اپنے مفاد کی عینک سے معاملات کو دیکھتے ہیں۔ اندرونی و بیرونی خطرات سے چشم پوشی ان سب کا وطیرہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری قیادت قومی مفاد کی عینک پہن لے ۔ امریکی مفادات سے چشم پوشی اختیار کرے ۔ امریکہ کی جنگ میں ہمارے نقصانات اس امداد سے کہیں زیادہ ہیںجو ہماری خودمختاری کو سلب کر کے مہیا کی جارہی ہے۔ قومی ضمیر کی آواز کو ردکر دیا گیا ہے۔

وقت اور حالات کا تقاضہ ہے کہ ہم امریکی امداد کو ٹھکرا کرشنگھائی تاون جیسی تنظیموں میں شمولیت اختیار کریں ، اپنے لیے تجارتی مفادات حاصل کریں اور توانائی کے شعبے کو ترقی دیں۔

وسطی ایشائی ریاستوں اور عرب ریاستوں سے تجارت کو فروغ دیں۔ بہتر ہوگا کہ ہم ہر قسم کی جنگ سے اجتناب کریں اور امریکہ کو محفوظ راستہ دیا بند کریں ۔ امریکہ کو اگر افغانستان میں جنگ جاری رکھنی ہے تو بھارت سے راستہ مانگ لے یا سابقہ روسی ریاستوں سے مانگ لے ۔

ہمیں کوئی جنگ لڑنی ہے تو جہالت اور غربت کے خلاف لڑیں کیونکہ جہالت اور غربت ہی وہ دو بڑی وجوہات ہیں جو دہشت گردی کے نیٹ ورک کو تازہ دم جنگجو فراہم کرتی ہیں۔ ملک کے پسماندہ علاقوں سے جہالت کا خاتمہ ہماری پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔

دانشوروں سے درخواست ہے کہ ماضی کے واقعات کو بنیاد بنا کر فوج اور ایجنسیوں کی کردار کشی بند کریں۔ کیونکہ یہی فوج ہماری بقا کی جنگ لڑ رہی ہے ۔ اپنی بقا کے لیے یہ جنگ جیتنا لازم ہے ۔سیاستدانوں کا کیا ہے ان میں سے ہر ایک نے اپنا ٹھکانہ بیرونِ ملک بنا رکھا ہے۔ جیسے ہی حالات کوئی سنگین موڑ اختیار کریں گے یہ یک طرفہ ٹکٹ خرید کر پاکستا ن کو الوداع کہہ دیں گے ۔

اپنی بقا کی جنگ میں جہاں ہماری قیادت کی کارکردگی مایوس کن ہے وہیں عوامی ضمیر بیدار ہو رہا ہے اور یہی ایک امید کی کرن ہے جو مایوسی کے اندھیروں میں جگمگا رہی ہے۔ اللہ کرے کہ یہ بیداری ہماری قیادت کا بھی نصیب ہو جائےکیونکہ ہم بیدار نہ ہوئے تو فنا ہو جائیں گے

:دیگر مضامین
(09.10.2009) امریکہ کی ہمدردی ۔ ۔ ۔ ہماری سر دردی۔از؛ زرقا مفتی
(01.10.2009) سچ کے سفر پر عالمی اخبار کے ساتھ ۔ از؛ زرقا مفتی
(09.09.2009) ہنگامہ ہے کیوں برپا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از زرقا مفتی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں