نومبر کا مہینہ میری زندگی میں بہت سے حوالوں سے اہم ہے اور اسکی شاید ایک بڑی اہمیت تو یہ ہے کہ اس مہینے کی سترہ تاریخ کو میری ولادت ہوئی تھی ۔ اسی مہینے کی پندرہ تاریخ کو میری اہلیہ،ہمسفر اور ساتھی ماہ پارہ سفر متولد ہوئی تھیں اور یہ کیسا اُس اوپر والے کا نظام ہے کہ ایک ہی مہینے میں پیدا ہونے والے دو مختلف لوگوں کو اُس نے حیات کی ڈوری میں باندھ دیا۔
اب یہی نومبر کا مہینہ میرے لیئے اس مناسبت سے بھی اہم ہو گیا ہے کہ اسکی پہلی تاریخ کو ہمارے نئے اخبار‘‘عالمی اخبار ‘‘ کا اجرا ہو رہا ہے۔ یہ صرف ایک اخبار ہی نہیں ہے بلکہ میرے حیات کے اٹھاون برسوں اور پینتیس سال سے زائد کے قلمی سفر کا ثمر ہے۔
میں اپنے دوستوں، ساتھیوں اور ہم سفروں کا شکر گزار تو ہوں ہی لیکن اپنے مخالفین، ناقدین، گالیاں دینے والے اور بعض اوقات دوستی کے لباس میں دشمنی کا مظاہرہ کرنے والوں کے لیئے روز و شب دعا گو ہوں کہ ان کے اس عمل نے مجھ جیسے طالب علم اور بے زر کو ایسی طاقت، قوت، صلاحیت، اہلیت اور تکنیکی فکر دی کہ جس کا پہلے کبھی مجھے شعور ہی نہیں تھا۔
میں اپنی حیات عزیز کے کتنے ہی برس ایک بے معنی تکنیکی مہارت کے نام پر یرغمال بنا رہا اور آج احساس ہو رہا ہے کہ مجھ جیسے استحصال مخالف کا بھی کس کس طرح سے استحصال ہوتا رہا۔ لیکن یہ سب کچھ بے معنی نہیں تھا۔ ہم ناک تک دیکھنے والے اپنے خالق و مالک کی حکمت کے شائبے تک کو بھی پہچان نہیں پاتے۔ جن ناگفتہ، انتہائی تکلیف دہ اور مستقبل کے لیئے چراغ راہ حالات میں یہ عالمی اخبار اور اسکا شعبہ بلاگ تیار ہو کر آپ کے سامنے ہے اور آج یکم نومبر دو ہزار آٹھ کو اس کا اجرا ہو رہا ہے اگر ان حالات کو ایک عام آدمی کی نظر سے دیکھوں تو شاید یہ میری شکست اور تضحیک ہوں لیکن ایک قلم کار، تخلیق کار اور صاحب فکر کی نظر سے دیکھوں تو دھوکہ دینے والوں، پشت میں نہیں بلکہ سینے میں خنجر مارنے والوں، دوسروں کی دن رات کی محنت پر اپنے نام کی تختی لگانے والوں، قلم اور لفظ کی بے حرمتی کرنے والوں کا ممنون احسان ہونا پڑتا ہے کہ وہ سب تو مجھ پر ظاہر ہو ہی گئے لیکن میں نے عمر عزیز کے اس حصے میں ایک بار خود کو دریافت کر لیا۔
مجھ سے زیادہ خوش قسمت کون ہو گا کہ اس مفاد پرست، انسان دشمن اور دوست کُش معاشرے میں مجھ جیسے تہی دست کے ساتھ ایسے اصول پسندوں اور ایمان افروز ساتھیوں کا قافلہ ہے کہ جس میں ستر کے عشرے میں اپنی بصیرت تقسیم کرنے والے آصف جیلانی اور شمس جیلانی بھی ہیں اور امجد شیخ اور سید مصباح جیسے نوجوان بھی۔ اب جو خود پر ایک نظر ڈالتا ہوں تو فخر سے سر تن جاتا ہے اور اگلے لمحے اس خالق کے حضور جھک جاتا ہے جو موت و حیات کے ساتھ ساتھ عزت و ذلت کا بھی مالک ہے۔ وہ کہ جو کبھی کبھی مال دے کر، عزت دیکر، شہرت دیکر، کرسی دیکر اور کوئی عہدہ دیکر بھی اپنے بندے کا امتحان لیتا ہے۔
‘‘عالمی اخبار‘‘ ہم سب ساتھیوں کی شبانہ روز محنت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ ہم نے صحافت کو تجارت نہیں سمجھا اور نہ ہی تجارت کا ذریعہ بنایا اور نہ ہی اسے دشنام طرازی اور لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کے لیئے استعما ل کیا۔ ہمارے نزدیک یہ انبیا کی ریاضت کے مصداق ہے کہ جس سے معاشرے میں اصول اور سچ کا سکہ جاری کیا جاتا ہے۔ یہی صحافت ہے جو عبادت کے مصداق ہے کہ یہ بڑے بڑے جگادریوں کے چہرے سے نقاب اتار دیتی ہے۔ میں خوش بخت ہوں کہ میرے ساتھ اس عالمی اخبار کے سفر میں شامل افراد کی ایک بڑی تعداد صحافت کو پڑھے ہوئے ہے۔
خصوصی رپورٹ یوں تو میں نے کئی لکھی ھیں ۔لیکن آج کی خصوصی رپورٹ لکھتے وقت مجھے بہت کچھ سوچنا پڑ رھا ھے
اُس وقت کو پیچھے مڑ کر دیکھوں جب میں نے ایم اے جرنلزم کیا تھا اور یہ سوچ کر کہ شاید میں کسی ایک کو ھی اپناھم خیال بنا سکوں گو کہ میں نے کوئی دنیا بدلنے کا قصد نہیں کیا تھا بس صرف چند ھم خیال بنانے کا سوچا تھا ۔ ا ب میں یہ بلکل نہیں کہہ سکتا کہ میں اس میں ناکام ھوا ھوں لیکن یقین کریں کامیاب بھی بس اتنا ھی ھوا ھوں جتناکوئی مجھے اپنا ھم خیال کر پایا ھے ۔
گھر سے دفتر تک اور اپنوں سے دوستوں تک ایک لمبا عرصہ ھے جہاں مجھے تنہا کتنے ھی فیصلے اپنے تنہا رہ جانے کے کرنے پڑے ۔۔ میں یہ بھی مانتا ھوں کہ فیصلہ کرنے سے زیادہ مشکل فیصلہ سنانا ھوتا ھے لیکن دوستو آپ اپنی ذات کے لیئے خود ھی فیصلہ سنانے کو کیا کہے گے ۔۔ سزا یا زہنی اذیت یا پھر اپنے اصولوں کی قید بامشقت ۔۔
میں اپنے کسی تجربے کو اس زمرے میں نہیں رکھنا چاھتا لیکن اگر اپنے حالیہ تجربے کو سامنے رکھوں تو امانت ، ایمانداری اور لگن کی سزا اس سے اچھی نہیں ھوسکتی ۔ لیکن پھر سوچتا ھوں کہ میں نے اپنے برسوں کے اس سفر سے بہت کچھ پایا ، جیسے کسی پر بھی آنکھیں بند کر کے یقین نہ کرنا سیکھا ، بھروسے سے پہلے کئی بار سوچنے کا ھنر سیکھا ۔ اور اخباری کام کے تکنیکی امور کو سیکھا اور جو سب سے اھم سرمایہ میں نے پایا وہ اس بےیقینی کی عالم میں بھی دوستوں کی مہربانی اور حوصلہ جو مجھے آگے بڑھنے کو کافی تھا ۔
آج اپنی ٹیم کو دیکھتا ھوں تو تشکر سے اللہ پاک کی بارگاہ میں جھک جاتا ھوں کہ مجھ فقیر کی غیب سے اتنی مدد کی کہ سب احباب صرف ایک محبت اورتعلق کے اپنے اپنے حوالے لیئے میرے ھمراہ ھیں ۔
مجھے وہ دن یاد ھے جب میں اداس تھا اور سب مجھ سے یہی کہہ رھے تھے کہ ھمیں تو معلوم تھا کہ آپ کے ساتھ ضرور ھاتھ ھو گا ۔ امجد شیخ کہنے لگے کہ میں نے کئی سال پہلے آپ کو انتباہ کیا تھا آپ نے میری نہیں سنی، شمس جیلانی بولے میں تو جا چکا تھا آپ مجھے واپس لیکر آئے تھے، نگہت نسیم کہنے لگیں کہ میں نے آپ کے کہنے پر اتنے مہینے ایسے ماحول میں خود کو ریزہ ریزہ کیا، ماہ پارہ بولیں کہ میں نے تین سال قبل تمہیں ان حالات کی پیش گوئی کر دی تھی، اصغر انصاری کہنے لگے کہ میں حیران تھا اور حسین افسر سے کہتا تھا کہ ھمدانی بھائی کس طرح کام کرتے ہیں بلا معاوضہ اور ایسے حالات میں۔
میں نے ان سب کی باتوں کو سنا۔
اور پھر جب وہ سب کچھ ہو گیاکہ جو ہوتا نظر آ رہا تھا تو نگہت نسیم نے کہا کہ بابا اب یہ چیلنج ھے کہ ھم نے اخبار لانا ھی ھے باوجود اس کے یہ کافی مشکل کام ھے لیکن ھم لوگ مل کر کر لیں گے ۔ مجھے جیسے ڈھارس سی ھو گئی ۔ امجد شیخ ایک غیبی مدد کی طرح ساتھ ھو لیا ۔یوں زرقا بھی ساتھ ھو لی اور جیسے جیسے وقت آگے بڑھتا گیا سائٹ جیسے کمالات کی طرف چلتی چلی گئی ۔کہتےھیں نہ کہ جب جنوں ھو کسی کام کا تو وقت کا نہیں پتہ چلتا ۔ ھم نے چوبیس گھنٹوں میں بیس بیس گھنٹے جاگ کر کام کیا اور اگلے دن سب اپنی اپنی ڈیوٹیوں پر بھی گئے ۔
اب سوال یہ کہ پرنٹ میڈیا کی بجائے نیٹ میڈیا کی ضرورت کیوں پیش آئی یہ بات سب پر واضح ھے کہ اس کی کیوں ضرورت پیش آئی ۔ مجھے تو یوں لگتا ھے جیسے گلوبل ویلج میں رھنے کے لیئے ھمیں اس ویلج کی نیشلٹی لینی پڑے گی اور اسی لیئے ھمیں خود کو رجسٹرڈ کرانا چاھیئے اور اس سے اچھا کوئی میڈیا نہیں ھے کہ خود کو اس ویلج میں شامل رکھنے کا تاکہ علم کو آگے بڑھایا جا سکے ۔ اور یوں ھم عالمی اخبار کو وجود میں لے کر آئے اور آج اس اخبار کا اجرا ھے جو ھم سب کی محنت اور ادب دوستی کا منہ بولتا ثبوت ھے ۔
اس ٹیم کا ہر فرد اپنی جگہ پر ایک ستارہ ہے اور انہی ستاروں سے بننی والی کہکشاں کا نام‘‘عالمی اخبار‘‘ ہے
آخر میں بس یہ کہونگا کہ کو ئی بھی حدف مکمل کرنے کے لیئے جہاں جذبے اور لگن کی ضرورت ھے وھاں پر ٹیم ورک کی سب سے زیادہ ضرورت ھوتی ھے اور ٹیم ورک کے لیئے کوئی کسی سے کم نہیں ھوتا ۔ سب کے پاس ھی اللہ پاک کی کوئی نہ کوئی خاص الخاص خوبی ھوتی ھے جو اُسے سب میں ممتاز رکھتی ھے ۔ بس میرے ساتھی بھی ایسی کئی خوبیوں کے مالک ھیں اور میں اپنے انہی ساتھیوں کی دعاؤں کے حصار میں رہنا چاہتا ہوں۔ قلم اور حرف پروردگار کی امانت ہیں اور اس امانت کو تجارت نہیں بنا سکتا۔
اللہ ہم سبکا حامی و ناصر ہو (آمین)