15.10.2026, 02:14pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

عالمی اخبار ایک معیار کانام ہے ۔از ؛ڈاکٹر نگہت نسیم
30.10.2009, 01:02am , جمہ (GMT+1)

ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی

کہنے کو ایک برس یا 365 دن جیسے ایک طویل مدت کی طرح لگتا ہے ۔۔ لیکن گزرتا وقت جیسے ایک  پل کی طرح کسی کہانی جیسا ہو جاتا ہے ۔ میں پیچھے پلٹ کر دیکھتی ہوں تو آنکھوں میں وہ وقت جیسے ابھی بھی ٹھہرا ہوا ہے  ۔۔ یہی دن تھے ۔ جب رات دن اپنا فرق بھلا بیٹھے تھے ۔۔ بابا (جناب صفدر ہمدانی ) کی بھائی امجد شیخ (ویب ماسٹر عالمی اخبار ) سے فون پر طویل بحثیں کہ عالمی اخبار کے سرورق سے لے کر اندورنی صفحات تک کی تزئین اور ترتیب زیر بحث رہتی اور پھر میں بھی ان کی گفتگو میں شامل ہو جاتی ۔۔ اور ان دنوں جب ہم بلاگ کے صفحے کی ابتدائی تیاریوں میں تھے تو زرقا مفتی بھی شامل ہو گیئں ۔۔

یوں ہم چار افراد دنیا کے نقشے پر یوں تو مختلف سمتوں اور جگہوں یعنی لندن ، سویڈن، پاکستان اور آسٹریلیا میں رہتے تھے لیکن ہمارے مقصد ۔۔ہماری منزل نے ہم کوجیسے ایک گھر کے افراد کے طور پر اکٹھا کر رکھا تھا ۔۔ اور اس گھر کا نام عالمی اخبار ہے ۔۔

ادارتی بورڈ سے لے کر پالیسی تک کے مراحل قطعا آسان نہ تھے ۔۔ اور وہ یوں کےبابا کے اصول انتہائی سخت اور سب کے لیئے یکساں تھے ۔۔ وہ اکثر کہتے ہیں کہ اگر میں کسی کو اس کی محنت کا معاوضہ نہیں دے سکتاتو کم از کم انہیں ایک ادارہ تو دے سکتا ہوں ۔۔ جس کی نسبت پر وہ فخر کر سکیں ۔۔

یہ فخر والی بات ہمیشہ ہی مجھے اعلی معیار کی طرف کھینچے جاتی ہے ۔۔ اور معیار کی بات سے مجھے یاد آیا مرحوم احمد ندیم قاسمی صاحب جنہوں نے میری پہلی کتاب “گرد باد حیات “ پر اپنا تبصرہ لکھا تھا ۔ ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیئے میں ان سے ملنےسترہ فروری  دو ہزار پانچ میں  انکے آفس گئی ۔۔ وہ ان دنوں علیل تھے ۔۔ لیکن میری درخواست پر ان کی پرشفقت طبعیت نے انہیں آفس آنے پر مجبور کر ہی دیا ۔۔ اسی آفس میں ایک گھنٹہ بعد مرحوم احمد فراز بھی تشریف لے آئے تھے ۔۔ پھر باتوں کے ساتھ چائے اور بسکٹ کا دور ۔۔ سب کچھ جیسے کل کی بات لگتا ہے ۔

میں نے احمد ندیم قاسمی صاحب سے پوچھا کہ معیاری ادب کیسے لکھا جاتا ہے ۔۔ کہنے لگے کہ اپنے لکھے کو ایک دو مہینے کے لیئے فیکٹری میں رکھ دیا کرو ۔۔ اور روز اسے پڑھا کرو ۔۔ جو جہاں سے لگے کہ اسے ایسے لکھنا چاھئے ویسے ویسے بدلتی جایا کرو ۔۔ پھر کہنے لگے کہ ہم میں کرشن چندر پچیس بار ایک ہی کہانی کو ری رائٹ کیا کرتے تھے ۔۔ اور منٹو صرف ایک بار ہی لکھا کرتے تھے اور پریس میں بھیج دیا کرتے تھے ۔۔ میں نے پوچھا “اور آپ “ تومحبت سے کہنے لگے کہ میں ان جیسا کہاں ہوں بیٹی ۔۔ میں تو صرف پانچ بار ہی اپنی کسی کہانی کو ری رائٹ کر پاتا ہوں ۔۔

میں سوچتی ہوں کہ معیار یہی تو ہے جس میں ادب کے سرپرست  خود کو اس عمر میں بھی خود احتسابی کی بھٹی میں جھونکے رہتے ہیں ۔۔اور میں خود کو اس معیار سے کتنا دور پاتی ہوں یہ ایک الگ کہانی ہے ۔۔ لیکن میں نے جب بھی کسی نئے لکھنے والے کو یہ گر بتانے کی کوشش کی تووہ ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ “ ہم سے اتنی محنت نہیں ہوتی “ ۔۔ اور ستم یہ بھی ہے کہ یہی محنت سے جی چرانے والے لوگ خود کو “ مشہور افسانہ نگار ، معروف کالم نگار “ لکھتے ہوئے زرا نہیں چونکتے ۔۔۔ تو مجھ جیسے جانے کتنے ہی لوگ جو معیار کے غم میں دن رات مبتلا رہتے ہیں وہ ان جیسی خود رو جھاڑیوں سے کتنا الجھتے ہونگے ۔۔

معیار ہی کی بات بابا صفدر ھمٰدانی بھی کرتے ہیں ۔۔ عالمی اخبار ایک معیار کانام ہے ۔۔ اس کے ساتھ جو منسلک ہیں وہ خود کو ایک ادارے کے ساتھ منسلک سمجھیں ۔۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ایک عام سی خبر کو خاص بنانے کے لیئے صرف معیار ہی تو ہوتا ہے ۔۔ جو لکھنے والے کی قابلیت کا اظہار کرتا ہے ۔۔ بابا عالمی اخبار کے سرپرست اعلی ہیں ۔۔ اور انہوں نے ہم سب کو ایک خاندان میں رہنے کا احساس دیا ہے ۔

۔
 ہر ایک کو اس کی زمہ داری کے ساتھ آزادی رائے کا اظہار کا پورا موقع دیا گیا ہے ۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ معیار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور بنیادی طور پر یہی  وجہ ہے کہ آج عالمی اخبار دنیا کا دوسرا بہترین نیٹ کا اردو اخبار مانا جاتا ہے ۔۔۔ اور اس کے اعلی معیار کی باتیں بڑے بڑے مالی وسائل سے چلنے والے اخبارات والے بھی کرتے ہیں ۔۔ اور تو اور کئی بار ہماری خبریں بھی اپنی اخبار پر عالمی اخبار کے بعد ہی لگا پاتے ہیں ۔۔ جبکہ ہمارے پاس وسائل کے نام پر ایک  اشتہار  بھی نہیں ہے ۔۔

میں چونکہ اس ادارت میں بابا کی نائب کے طور پر انکی موجودگی اور غیر موجودگی میں ان جیسا ہی  عالمی اخبار کو چلانے کی زمہ داری رکھتی ہوں تو مجھے سب سے زیادہ ان سے اگر سیکھنے کا موقع ملتا ہے تو ان کے اصولوں اور معیار پر پور انہ اترنے پر ان کی خفگی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جو مجھ جیسے شاگرد کے لیئے کسی بھی طرح سے کسی اعزاز سے کم نہیں ۔۔ کئی بار کئی خبروں کو کئی کئی بار لکھنا پڑا ۔۔ اور پھر بھی معیار کے لیئے روز ایک نئے سرے سے ایک نئی جنگ کرنی پڑتی ہے ۔۔ لیکن اب یہ جنگ میرے مزاج کا بھی حصہ بن چکی ہے ۔۔

لیکن میری بدمزاجی بھی کسی طور پر کم نہیں ۔۔ لیکن بابا کے سامنے میں ہمت نہیں کرتی کہ میں انہیں اپنا سرپرست مانتی ہوں ۔۔ وہ میرے روحانی باپ ہیں جنہوں نے مجھے ایک شاعرہ ہونے کے ناطے دریافت کیا ۔۔ مجھے صحافت سکھائی اور میرے اندر زہر سے بھری ایک کالم نگار بھی دنیا کو دی ۔۔ اورمیں نے صرف ایک سال کے کم عرصے میں پچیس برس کا کام کر ڈالا ۔۔ مجھے وقت کی تقسیم بابا ہی نے سیکھائی ہے ۔۔ میں نے ان سے ملنے کے بعد اپنی زندگی کا کوئی لمحہ شائد ہی ضائع کیا ہو ۔۔ اگر میرا قلم نہیں چل رہا تو میرا زہن مجھے آوازیں دیتا ہے ۔۔۔

آج میں آپ کو اسی قلندر ۔۔ اسی مرد مومن اور حق گو سے ملواتی ہوں جو حق کی پاسداری نہ صرف سکھانے والے ہیں  بلکہ خود بھی اسی کی منہ بولتی تصویر ہیں  ۔۔ بابا صفدر ھمٰدانی کی شخصیت کے کئی رخ ہیں ۔۔ ان سے جتنا ملتے جایئے ۔۔ وہ اتنے ہی تہہ دار ہوتے جاتے ہیں ۔۔ مجھے ان میں سب سے زیادہ جو روپ پسند ہے وہ ان کا ہلکے پھلکے مزاحیہ انداز میں زندگی کی حقیقتوں کو ایسے بیان کرنا جیسے یہ ابھی ابھی معرض وجود میں آئی ہوں ۔۔ ان کی دور رس نگاہیں ان زمانوں کا بھی احاطہ کرتی ہیں جن کا ہمیں ابھی ادراک بھی نہیں ہوا ہوتا ۔۔

میں نے بابا میں ایک سچا عاشق علی پایا ۔۔ ایک ایسا عاشق جو دوسروں کو بھی عشق سکھا دے ۔۔ میں نے جب بھی انہیں اہل بیت کا زکر کرتے سنا انہیں اشکبار ہی پایا ۔۔ اور ان کی اہل بیت سے  اس والہانہ محبت نے مجھے مسلکی فرقہ واریت سے  جہاں بہت بلند کر دیا وہاں انہوں نے مجھے اپنے دین اور مسلک پر فخر کرنا سیکھایا اور میرے دل میں اتنی گنجایئش بھر دی کہ میں اب بڑے تحمل سے دوسروں کا نقطہ نظر سن لیتی ہوں اور بڑے وقار سے انہیں اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کرنے کی کوشش کرنے لگتی ہوں ۔۔ یہ سب مجھے بابا نے سیکھایا ہے ۔۔ کہہ کر نہیں ۔۔ بتا کر نہیں ۔۔ صرف اپنے عمل سے ۔۔

وہ ایک جیتی جاگتی ۔۔ چلتی پھرتی تبیلغ کی عملی تصویر  ہیں ۔۔۔

سوال ۔۔ بابا آپ کو عالمی اخبار کی پہلی سالگرہ بہت مبارک ہو ۔۔ کیسا لگ رہا ہے ۔۔

بابا ۔۔ صرف مجھے بھلا یہ مبارکباد کیوں؟ آپ سب کو بھی عالمی اخبار کی پہلی سالگرہ بہت بہت مبارک ہو۔ اصل میں اس مبارک باد کے صحیح حقدار وہ لوگ ہیں جن کے تعاون سے عالمی اخبار آج اردو نیٹ کا دوسرا بڑااخبار ہے جس کی روزانہ ہٹس ساٹھ سے ستر ہزار کے برابر ہیں ۔ کبھی کسی نے خوابوں کو جوان ہوتے دیکھا ہے؟ ہاں میں نے دیکھا ہے۔مجھے آج کا دن یوں لگ رہا ہے جیسے میرا خواب ایک برس کا ہو گیا ہو ۔۔

سوال ۔۔ آپ عالمی اخبار کا خواب کیوں دیکھا تھا آپ نے ۔۔

بابا ۔۔ عالمی اخبار کا خواب میں کبھی نہ دیکھتا جو مجھے اپنے نام نہاد دوستوں میں دشمن نہ ملتے ۔۔ یہ تو اپنے اصولوں اور تربیت کو بچا لایا تھا سو جو میں نے آٹھ سال تک بغیر کسی مفاد کے اپنا تجربہ اور علم ایک ایسے نیٹ کے اخبار القمر کو دیئے تھے جس کو ایک ادبی سائٹ کے نام سے کچھ لوگ جانتے تھے لیکن اخباری سائٹ کے طور پر اسکی کوئی شناخت نہیں تھی۔۔میں نے ایک نئے پیسے کے بغیر اسکے لیئے جو کچھ کیا وہ میرے مولا نے مجھے وہی آٹھ گنا کر کے لوٹا دئے ۔۔ این این صاحبہ کبھی کا بھی سیکھا ہوا کبھی رایئگاں نہیں جاتا بلکہ میں کہتا ہوں ایک لمحے کا بھی سیکھنا کسی نئے لمحے کی تیاری ہوتی ہے ۔۔ سو سیکھا کرو جہاں سے بھی سیکھ سکو ۔۔ یہ اللہ سبحان تعالی کی حجت ہوتی ہے جو وہ تمام کرتا ہے کہ وہ کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ مشکل نہیں ڈالتا ۔۔۔ اور نہ ہی بغیر بتائے ۔۔ وہ تو ہم لوگ ہی نادان ہوتے ہیں جو وقت پر سمجھ نہیں پاتے اور دھوکہ کھا بیٹھے ہیں ۔ بس جب اس طرف سے ایسا دھوکہ ملا کہ میرے بھائی نما لوگ بھی میرے ہی دشمن ہو گئے تو میں نے آپ جیسے بلامفاد ساتھیوں کے ساتھ مل کر بے سروسامانی میں اس عالمی اخبار کی بنیاد رکھی جو اب الحمد اللہ ایک پیشہ وارانہ اخباری ادارہ ہے اور دن میں تین سے چار بار شائع ہونے والے اخبار میں کیا کچھ نہیں ہے یہاں تک کہ اب ملٹی میڈیا بھی شامل ہے۔

سوال ۔۔۔ بابا آج کل ہر کوئی نیا اخبار نکال رہا ہے ۔۔ نئے نئے لوگ ایک ایک صفحے کے بلاگز کے ساتھ دوڑ میں شامل ہو رہے ہیں ۔۔ آپ کیا کہتے ہیں اس دوڑ کو ۔۔

بابا ۔۔ دیکھئے خبروں والا اخبار نکالنا ایک قہر کی کمنٹمنٹ ہے جسے نباہنا کچھ آسان نہیں ۔۔ ہر وقت الرٹ چوکس رہنا پڑتا ہے ۔۔ کبھی کبھی نہیں بلکہ نوے فیصدفیملی کا وقت بھی اخبار کو چلا جاتا ہے ۔ دنیا میں جہاں بھی جاؤ ‘‘اپ لوڈ‘‘ کا سامان ساتھ لے کے جاؤ۔۔جس کے گھر جاؤ سلام علیک کے بعد پہلا سوال کمپیوٹر کا کرؤ۔ پھر بغیر معاوضے کے ہر کوئی یہ کمنٹمنٹ نہیں نباہ پاتا ۔۔ سو عالمی اخبار کے ایک برس کے سفر میں کئی لوگ ہیں جو اس سخت کوشی کا ساتھ نہیں دے پائے اور واپس چلے گئے ۔۔ بحرحال کمنٹمنت تو خسارے کا سودا ہوا کرتا ہے ۔۔ جو مجھ جیسے لوگ ہی شوق سے کرتے ہیں ۔۔ سو میرے ساتھ جہاں خسارے کا سودا کرنے والے ہیں وہی مجھے خسارہ دینے والے بھی ہیں ۔۔

آج کل جس کو دہ تین لفظ لکھنے آتے ہیں وہ اپنی مسجد علیحدہ کر لیتا ہے ۔۔ عالمی اخبار میں بھی کئی لوگ ایسے بھی آئے جنہیں ہم نے سکھایا پھر وہی ہمارے پرنسپل بن کر ہمیں سیکھانے لگے ۔۔ میں خوش ہوں کہ کسی نہ کسی حوالے سے ہم ان کی یاداشتوں میں محفوظ ہیں ۔۔ ویسے بھی احسانمندی خاندانی لوگوں کی وراثت ہوا کرتی ہے ۔۔

میں زاتی طور پر کسی کے کام پر کبھی اعتراض نہیں کرتا لیکن اس بات پر بہت رنجیدہ اور دکھی ہوتا ہوں جب کوئی پروفیشنل کے دائرے سے باہر ہوتا ہے ۔۔ ہمارے ادارے کی ھمیشہ سے پالیسی رہی ہے کہ جس کی خبر جہاں سے لیں اس ادارے یا اخبار کے نام کے ساتھ بشکریہ لکھ کر لگائے ۔۔ ہاں کئی اداروں اور ایجینسیوں سے ہمارے معاہدے ہیں ۔۔ پر جو لوگ ہماری خبریں اپنے اخبارات پر لگاتے ہیں وہ لوگ کم ہی ہیں جوعالمی اخبار کا حوالہ لکھتے ہیں ۔۔۔ رہی بات بلاگز کی تو میں اسے نیٹ کا ہایئڈ پارک سمجھتا ہوں ۔۔ جو مرضی لکھئے ۔۔کسی کو کیا فرق پڑتا ہے لیکن ہاں اگر اچھالکھا جائے تو اس کی جگہ خود ہی بنتی جاتی ہے ۔۔ لیکن صرف ایک صفحے کا بلاگ بنا لینے سے خود کو ادب کے افق کا ستارہ سمجھ لینا ۔۔ یا مشہور کالم نگار یا افسانہ نگار لکھ لینا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے ۔۔

دنیا میں اپنا مقام  ایک صفحے پر لفظوں کی قے کرنے سے  نہیں بلکہ محنت اور مطالعہ سے بنائے جاتے ہیں ۔۔ اس کے لیئے  مجاہدے کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔ سیکھنے کے لیئے بہت بڑا دل چاہئے ہوتا ہے این این ۔۔ جس میں اتنی کشادگی ہو جو تحمل اور برداشت سے نظریات کے اختلافات کی  کٹھن راہوں سے گزر سکے ۔۔ سیکھنا ہر ایک کے بس کاروگ نہیں  ۔۔یہ بات صرف میں جانتا ہوں یا آپ کہ ہمارے ادارتی بورڈ میں کتنے لوگ ہیں اور حقیقت میں کتنے لوگ معاون ہیں۔ یا پھر گزشتہ ایک برس میں ہم نے کتنے ہی افراد کو سکھانے کے لیئے ان کے نام پر خود خبریں لکھ کر دیں تا کہ انکی حوصلہ افزائی ہو لیکن شاید عزت بھی تو عطیہ پروردگار ہے۔ ان میں سے کچھ لوگوں کے انڈے کی بجائے مرغی کھانے کو ترجیح دی۔ بس یہ اپنے اپنے مقدر کی بات ہے۔

سوال ۔۔ ایک برس میں کبھی کسی خبر کے حوالے سے کسی تنقید کا سامنا ہوا ہو ۔۔

بابا ۔۔ اس ایک برس میں صرف ایک بار ہمیں اپنی لگائی ہوئی خبر پر معذرت کرنی پڑی تھی  ۔۔ اور وہ خبر تھی احمد فراز کی موت کی خبر جو سب سے پہلے ہم نے لگائی تھی ۔۔ لیکن چونکہ وہ خبر ہمیں شگاگو سے بڑی مصدقہ جگہ سے ملی تھی اس لیئے مزید تفتیش نہیں کی تھی  ۔۔ لیکن اگر آپ کو یاد ہو تو وہ خبر ہمارے ساتھ ساتھ تمام اخبارات اور ٹی وی میڈیا پر آئی تھی اور ہم سب کے ساتھ انہوں نے بھی معزرت کی تھی ۔۔ ورنہ ہماری خبریں بہت بڑے اخبارات جوں کی توں لگاتے ہیں ۔۔شاید عام آدمی تو اس بات کو محسوس نہ کرے لیکن پیشہ ور صحافی اس بات کا کھل کر ہم سے اظہار کرتے ہیں کہ عالمی اخبار پر متعدد خبریں بڑے بڑے نام نہاد عالمی نشریاتی اور طباعتی اداروں سے پہلے شائع ہوتی ہیں۔ یہ صحافتی معجزہ ہے کہ خالی ہاتھ اور خالی جیب فقیر کو اللہ تعالیٰ نے اتنی عزت دی ہے کہ اسکے اپنے ہی جاننے والے اسکے باعث حسد سے دشمنی پر بھی اتر آئے ہیں۔لیکن میں نے اپنا وقت ایسی فروعات میں ضائع کرنے کی بجائے اپنے کام میں صرف کیا ہے اور یہ طے ہے کہ جو وقت کی قدر نہیں کرتا وت اسکی قدر نہیں کیا کرتا۔

سوال ۔۔ شروع کے دنوں میں عالمی اخبار کو بہت سارے لوگوں کے غیر مناسب رویوں کا بھی شکار ہونا پڑا ۔۔ اس میں انتہائی تدبر کے ساتھ اخباری پالیسی بھی بنانی پڑتی ہے ۔۔ یہ کیا ہر اخبار کو ہی اس قسم کے معملات سے دوچار ہونا پڑتا ہے یا پھرعالمی اخبار ہی کو ان مشکلات سے گزرنا پڑا ۔۔

بابا ۔۔۔ این این  جو بھی ہماری طرح اپنے نظریات اور اصولوں کو بچا لاتا ہے اسے ایسی ہی جنگ لڑنی پڑتی ہے ۔۔ مجھے ہمیشہ ہی اپنے خالق و مالک پر بھروسہ رہا ہے ۔۔سو جیت تو بہتر لوگو ں کی ہی ہوتی ہے ۔۔ یعنی حق کی ۔۔اور حق کا قبلہ میرا کربلا کی طرف ہے جہاں سے مجھے طاقت اور قوت ملتی ہے وقت کے ہر ایک یزید کے ساتھ پنجہ آزمائی کی۔
 مجھے اس سفر  میں جیسی جیسی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے مجھے اور فولاد صفت بنا دیا۔تکالیف کا بیان کیا کرنا کہ یہ تو سانس کی ترتیب بناتی ہیں لیکن یہ کہے بنا نہیں رہ سکتا کہ اس سفر میں جہاں تکلیف ملیں وہاں پر خلاق لوح و قلم نے ایسے دوست بھی عطا کیئے جن پر میں آنکھیں کھول کر بھروسہ کرتا ہوں ۔۔ مجھے ان کی قابلیت اور علمی وسعت پر فخر ہے ۔۔ میری نسبت ایسے لوگوں سے ہے جو مجھے عزت دیتے ہیں اور مجھ سے صرف دعایئں لیتے ہیں ۔۔ عالمی اخبار کی پالیسی بے داغ صاٍف ستھری صحافت  ہے ۔۔ جہاں نہ قلم بیچا جاتا ہے اور نہ ضمیر ۔۔اس راہ کا جو بھی مسافر ہوا وہ بظاہرخسارے میں ہی رہتا ہے اور اسے ایسی ہی مشکلوں سے روز گزرنا پڑتا ہے ۔۔ سو گزرتے ہیں اور گزرتے رہیں گے ۔۔

سوال ۔۔ عالمی اخبار ایک ادارہ ہے جس کی نسبت پر سب فخر کرتے ہیں ۔۔ اس کا کریڈٹ کس کو دیتے ہیں ۔۔

بابا ۔۔ اس ادارے کی بنیاد اور عمارت رکھنے میں میری تمنا ۔۔ میری خواہش کو اگر اذن خداوندی نہ ملتا تو مجھے شمس جیلانی ، آصف جیلانی ، امجد شیخ  ،زرقا مفتی ، مصباح حسین ، منظور قاضی اور ڈاکٹر صاحبہ آپ جیسے رفقاء کہاں سے ملتے ۔۔ اگر یہ سب میرے پاس ہوتے اور میرے اہل خانہ کا تعاون نہ ہوتا تو میں یہ زمہ داری کیسے نباہ پاتا ۔۔ سو میں فردا فردا سب کاجہاں قرضدار ہوں وہاں سب کا احسانمند بھی ہوں جن کی وجہ سے میں اپنی ہی زندگی میں اپنے خواب کی تعبیر پا سکا ہوں ۔

 عالمی اخبار کے اس ایک سال نے مجھے زندگی کے وہ تجربات دیئے جو شاید کسی اور نے پچاس سال میں کیئے ہوں۔ مجھے ایک بے لوث اور بلا مفاد ٹیم کی قیادت کا شرف ملا، اہل علم احباب سے سیکھنے کو ملا، طلب علم کے خواہش مندوں کو سکھانے کا موقع عطا ہوا، دوستی کی پردے میں چھپے حاسدوں،مطلب پرستوں اور دشمنوں کی پہچان ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ہر قدم پر مجھے شیطان اور اسکے چیلوں کے شر سے محفوظ رکھا

۔
مجھے یہاں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے عالمی اخبار کر ہزارہا قارئین کا شکریہ ادا کرنا ہے وہ اس مسابقت کے دور میں ہم پر اعتماد کرتے ہیں۔ اپنے ایک ایک کالم نگار اور تجزیہ نگار کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ جو اپنی تخلیقات کسی معاوضے کے بغیر یہاں شائع کرواتے ہیں۔ اور عالمی اخبار کے بلاگ میں شامل بلاگرز کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ وہ اپنی فکر کو دوسرے احباب کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔
عالمی اخبار اب ایک اخبار ہی نہیں بلکہ ایک ایسی فیملی ہے جس میں ہر عمر،ہر مسلک،ہر سوچ و فکر اور ہر صنف کا انسان موجود ہے اور سب کا نظریہ ایک اور قبلہ ایک ہے۔

سوال ۔۔۔ ایسی کوئی خواہش جو اب تک پوری نہ ہوئی ہو ۔۔

بابا ۔۔ یوں تومیں ان خوش نصیبوں میں سے ہوں جن کی ہر خواہش کا خیال مولا خود رکھتے ہیں اور میں اپنی زندگی کوبھرپور اور مکمل پاتا ہوں ۔۔ پر ایک خواہش ہےاین این  اور مجھے یقین ہے کہ مجھ بے زر کی یہ خواہش بھی اب بہت جلد پوری ہو گی ۔۔ اور وہ خواہش  یہ کہ  میں ایک ادبی ایوارڈ شروع کرؤں اپنے والد اپنے  آغا جی کے نام کا جو ہر سال صحافت اور نشریات کی دنیا میں اس کو جائے جو اس کا صحیح حقدار ہو ۔۔ اور انشاللہ  اس کا اجرا عالمی اخبار کے ادارے سے اس کی دوسری  سالگرہ کے موقع پر  ہو گا تاکہ سب اس میں حصہ لے سکیں  ۔۔

سوال ۔۔۔ عالمی اخبار کے قارئین کے نام تحفہ محبت ۔۔

بابا ۔۔۔
قارئینِ عالمی اخبار کو
ہو فقیرِ شہرِ لندن کا سلام
آپ کے دم سے ہے قائم بزم یہ
آپ نے بخشا ہے ہم کو یہ مقام
یہ خبر اخبار بھی ہے اک جہاد
ظالموں سے ہے مسلسل انتقام
دوستوں کا دل سے میں ممنون ہوں
جنکی الفت سے ملا ہم کو دوام
ساتھیوں پر فخر ہے صفدر مجھے
مجھ پہ واجب انکا اب ہے احترام

دوستو آپ سب سے اجازت لینے کے ساتھ ساتھ میں اللہ پاک سے دعا کرتی ہوں کہ وہ  ہم سب پر اپنے فضل و کرم کی بہار یونہی رکھے ۔۔اور ہم ہر سال عالمی اخبار کی سالگرہ بابا کی سرپرستی میں یونہی مناتے رہیں ۔۔ آمین

 


:دیگر مضامین
(29.10.2009) عالمی اخبار کے پہلا برس کےسفر کے ابتدائی تین بلاگ۔از؛نگہت نسیم
(29.10.2009) پشاور میں ہولناک دھماکے۔چند تصاویر
(29.10.2009) عالمی اخبار میری شناخت اور میری پہچان ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(28.10.2009) یہ تمھارا اور ہمارا عالمی اخبار ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(27.10.2009) کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں کشمیری یوم سیاہ منارہے ہیں
(27.10.2009) وسیم اکرم کی اہلیہ کو لاہور میں سپرد خاک کر دیا
(27.10.2009) عالمی اخبار کے ایک برس کا ادبی سفرنامہ ۔از؛ نگہت نسیم
(26.10.2009) عراق میں ہولناک بم دھماکے
(24.10.2009) پاکستان کے قبائلی علاقےجنوبی وزیرستان میں فوجی کاروائی جاری ہے
(23.10.2009) پشاور حیات آباد اور کامرہ ایروناٹیکل کمپلیکس پر حملے
(23.10.2009) دہشت گردوں کی تلاش کے لیئے بھی کتے ہی کام آ رہے ہیں
(23.10.2009) عالمی اخبار کے ایک برس کے سفر کے ابتدائی تین بلاگ۔از؛نگہت نسیم
(22.10.2009) جگجیت سنگھ بھی ایک الگ انتہا کی بات کر رہے ہیں
(22.10.2009) عالمی اخبار کے ایک برس کے سفر کی پہلے تین کالمز ۔از؛ نگہت نسیم
(22.10.2009) نئ دھلی بین الاقوامی حج کانفرنس۔از؛ آغا سید عبدالحسین بڈگامی
(21.10.2009) اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں دہشت گردی کی کاروائی
(21.10.2009) عالمی اخبار کے ایک برس کے سفر کی کچھ حسین یادیں ۔از؛نگہت نسیم
(21.10.2009) ضلعی ناظم کے ساتھ گھر میں یہی سلوک ہوتا ہے یقینی بات ہے
(20.10.2009) اردو اور ہندکو کے معروف شاعر،ادیب اور محقق مختار علی نیئر
(20.10.2009) معصومۂ قم سلام اللہ علیہا کا یوم ولادت



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں