16.10.2026, 08:54am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

عالمی اخبار کے اجرا پر پہلا اداریہ اور انٹرویو ۔از؛نگہت نسیم
30.10.2010, 11:00pm , ہفتہ (GMT+1)

ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی



عالمی اخبار کے اجرا پر پہلا اداریہ جو بعد میں فکرو نظر میں بدل گیا

یکم نومبر دوھزار آٹھ میں بھی مجھے عالمی اخبار کاپہلا اداریہ لکھتے وقت یہی  محسوس ھو رھا ھے جیسے یہ وہی اردو کا اخبار ھے جو دنیائے اردو میں  27 مارچ 1823 میں “ جام جہاں نما “ کے نام سے سب سے پہلے نکلا تھا ۔ یا پھر جیسے  “ دھلی اردو اخبار “  کے نام سے مولانا محمد حسین کے والد محمد باقر کی زیر ادارت  1836 میں شائع ھوا ھو ۔ اٍسی طرح مجھے لاھور کا پہلا اردو اخبار “ کوہ نور “ بھی یاد آرہا ھے  جو 14 جنوری 1850 میں شائع ھوا تھا ۔

کہتے ھیں کہ دو اخباروں کو جو چیز ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ھے وہ اُس کا ادارتی صفحہ ھوتا ھے ۔ مجھے “لاسٹر مارک “ کی لکھی ایک بہت ھی خوبصورت بات یاد آرھی ھے ۔ لکھتے  ھیں کہ “ جو آپ دیکھتے ہیں وہ خبر ہے ، جو آپ جانتے ہیں وہ پس منظر ہے اور جو آپ سوچتے ھیں وہ رائے ہے “ ۔

اور یوں موثر رائے سے مرصع اخبار کا اداریہ کہلاتا ھے  جو عمومی طور پر ایک رائے عامہ بناتا ھے جو سب کے سامنے  ایک اھم مسئلے کے نشاندھی ھوتی ھے اور پھر یہی اداریہ سارے حقائق کو سامنے رکھتے ھوئےھے  غور و فکر کی دعوت دیتا ھے ۔ شاید اسی لیئے ھی “نپولین “ نے کہا تھا کہ “ میں سو سنگینوں کی نسبت ایک اخبار سے زیادہ ڈرتا ھوں “ ۔

اور ایسے ھی کسی موقع پر قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ “ صحافت ایک عظیم طاقت ھے ۔ یہ فائدہ بھی پہنچا سکتی ھے اور نقصان بھی ۔ اگر یہ صحیح طرح سے چلائی جائے تو یہ رائے عامہ کی راہنمائی اور ھدایت کا فرض انجام دے سکتی ھے “

 بس ایسا ھی ایک اخبار نکالنے کی خواہش بابا (جناب صفدر ھمدانی) نے ھمیشہ کی اور ذکر کرتے رھے جس سے صاف ستھری سچی اور بے لاگ صحافت  واقعی ملکی انتظامیہ کا چوتھا ستون کہلا سکے ۔

اور آخر آج وہ دن آ ھی گیا کہ جب ھم سب مل کر ایک ایسے اخبار کی بنیاد رکھ چکے ھیں جس کا نام “ عالمی اخبار “ ھے جس کی قابل احترام ٹیم  اپنے پڑھنے والوں سے صاف ستھری صحافت  کی کوشش کا وعدہ کرتی  ھے ۔اس ٹیم میں ہمارے بزرگ کینڈا سے شمس جیلانی،لندن سے نہایت سینئر اور قابل احترام صحافی،مبصر اور براڈکاسٹر آصف جیلانی کے ساتھ ساتھ متعدد ایسے نوجوان ساتھی بھی شامل ہیں جنکو ایسے سینئر احباب سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔

 آخر میں اس دعا کے ساتھ اجازت چاھتی ھوں کہ  اللہ پاک ھمیں نوک سناں پر بھی صرف سچ اور حق کہنے اور لکھنے کی توفیق عطا فرمائے 
(آمین ) ۔
ڈاکٹر نگہت نسیم۔سڈنی

عالمی اخبار کا پہلا انٹرویو بابا( جناب صفدر ہمدانی ) کا تھا ۔۔ جو میرے لیئے چند یادگار انٹرویوز میں سے ایک تھا  ۔۔ 


یکم نومبر میری روشن صبح ہے
01.11.2008, 12:01am , ہفتہ (GMT)

نگہت نسیم۔سڈنی
بابا سے کیئے گئے چند سوال اور جواب ۔۔۔

اچھا بابا سیکھنے کو آپ کیا کہتے ھیں ؟

بڑی محبت سے گویا ھوئے ۔ این این ایک بات یاد رکھو سیکھنے والے نصیب والے ھوتے ھیں ، ھر ایک کے نصیب میں سیکھنا نہیں ھوتا یہ تو توفیق ھے جسے اللہ دے دے ۔

لیکن کیوں بھلا ؟ آخر لوگ کیوں گھبراتے ھیں سیکھنے سے ۔۔ ؟ میں نے مزید کریدا ۔ بابا مجھے بتا رھے تھے کہ جو سیکھے گا وہ غلطیاں بھی کرے گا اور جو غلطیاں کرے گا وہ ڈانٹ بھی کھائے گا ۔۔ اسی لیئے شاید لوگ یہ سمجھتے ھیں کہ اپنے ھی برابر کے آدمی سے جو ڈانٹ ، تنقید سہے گا اُس سے بہتر ھے کہ خود ھی سیکھ لیں ۔

 مجھے کہاں چپ رھناتھا تو پوچھ ھی  بیٹھی ۔۔ تو اس کا مطلب ھے کہ ھم خود بھی سیکھ سکتے ھیں ۔۔ تو ھنس دیئے ، کہنے لگے ھاں کیوں نہیں سیکھ سکتے ۔۔ پر وہ محدود ھوجائے گا اور محدود سوچ اور پرواز کب تک کی جا سکتی ھے ۔۔۔علم تو صرف بانٹنے سے بڑھتا ھے۔ جسے یہ بات سمجھ آگئی وہی زندہ ھو گیا ۔ کہ سیکھنا اور سیکھانا ایک انوسٹمنٹ ھے آخرت کی جو زندگی اور مرنے کے بعد عزت کی صورت ملتی ھے ۔

بابا آپ نے کیا انوسٹمنٹ  کی ھے ؟

میرا سوال سن کر بہت پرجوش ھو گئے اور کہنے  میری انوسٹمنت میری عزت ھے جو میرے مالک نے مولا کی نسبت میں دی اور ھر حال میں فقر کے ساتھ ساتھ ایسے ساتھی دیئے جو میری ڈر کر نہیں محبت سے عزت کرتے ھیں ۔ یہی انسان پر اللہ پاک کی مہربانی ھوتی ھے کہ لوگ اُس سے ڈر کر نہیں  محبت سے عزت کریں ۔
  یہ اردو دوستی ھے یا آپ کے اندر جو ایک معلم ھے وہ اپنی زمہ داری سمجھ لیتاھے ۔۔ ؟

ویسے تو بابا کے پاس ھر بات کا جواب ھوتا ھے لیکن میری  اس بات کا جوان قدرے توقف سے دیا ۔۔ کہنے لگے کہ ھر انسان کو اللہ پاک نے اظہار کی صلاحیتوں کے ساتھ بھیجا ھوتا ھے ، اب یہی دیکھو جو فٹ پاتھ پر بس کے دیر سے آنے پر جھنجھلا رھا ھوتا ھے وہ بھی اپنااظہار ھی تو کر رھا ھوتا ھے ۔ اگر کسی کو میری وجہ سے یہ پتہ لگ جائے کہ وہ لکھ سکتا ھے تو کیا برا ھے ۔۔

لیکن بابا پھر وہ سیکھانے والے کو جو آنکھیں دکھاتا ھے تو وہ ؟

 کوئی بات نہیں ۔ اُس کا ھنر اُس کے ساتھ  ھے ۔ ھم اُن کے کیئے کے ذمیدارنہیں ، اور نہ ھی ھمیں آس ھونی چاھیئے ۔ مولا علی فرماتے ھیں کہ “جس پر احسان کرو اُس کے شر سے بچو “  سو این این بہتر یہی ھے کہ اپنے دل کو کشادہ رکھو ، صدق ٍدل سے معاف کر دیا کرو اور اپنی نیکیوں کو ان دیکھے دریا میں ڈال دیا کرؤ اور ایک نئی نیکی کی طرف چل پڑا کرو ۔ کسی کی بھی وجہ سے ھمارے سفر نہیں رکنے چاھیئں
 
  انٹرویو کے آخر میں سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔۔

یہ اخبار کسی جماعت کا نہیں۔سب کا ہے۔یہ کسی مذہب و مسلک کا نہیں سب کا ہے۔ اظہار کا ایک ایسا پیلیٹ فارم جس سے ہم ہر وہ بات کر سکتے ہیں جو تہذیب اور انسان دوستی کے دائرے میں ہو۔ اس میں کام کرنے والے سب ساتھی لائق تحسین ہیں کہ وہ اپنا وقت اور اپنی اہلیت و صلاحیت کسی مفاد اور کسی روپے پیسے کی لالچ کے بغیر پروردگار کے نام پر اس کے بندوں کے لیئے استعمال کر رہیں‘‘ 
 

:دیگر مضامین
(30.10.2010) عالمی اخبار کے بلاگ نگار اور ان کی کاوشوں کی تفصیل ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(29.10.2010) کتنے ملکوں کے لوگ عالمی اخبار کا مطالعہ کرتے ہیں۔از؛ڈاکٹر نگہت نسیم
(27.10.2010) ایک جہاز جو کار بھی ہے اور ایک کار جو جہاز بھی ہے
(25.10.2010) معروف ادیب،شاعر ،محقق اشفاق حسین سے پروفیسر پروازی کی گفتگو
(22.10.2010) عالمی اخبار کے لیئے منفرد لہجے کے شاعر سجاد حیدر کی ریکارڈ کروائی غزلیں
(21.10.2010) کہیں کراچی میں خون پانی سے زیادہ سستا۔ شاعر و آواز،صفدر ھمٰدانی
(20.10.2010) آج تک یہ علم نہ ہو سکا کہ اس کو ''حلوہ کدو'' کس لیئے کہتے ہیں
(19.10.2010) کارلز روہے میں پاکستان جرمن ایسوسی ایشن کی تقریب
(18.10.2010) پاکستانی شہری قرآن پاک کا 60 من وزنی نسخہ تیار کر رہا ہے
(16.10.2010) عالمی اخبار نے چلی کے کان کنوں کی واپسی لمحہ با لمحہ پیش کی
(12.10.2010) لندن میں آصف رضا نے غزل گائیکی کا شاندار مظاہرہ کیا
(05.10.2010) علامہ شاہ احمد نورانی کی ساتویں برسی کے موقع پر
(05.10.2010) نناوے اسماء اللہ الحسنیٰ کی مدد سے لکھی گئی دعابصری صورت میں
(03.10.2010) تقریب رونمائی’’فلسفہ مابعد جدیدیت: تنقیدی مطالعہ‘‘ ۔
(02.10.2010) سُنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔
(29.09.2010) پاکستان میں شرح خواندگی میں اضافے کے بجائے کمی
(26.09.2010) بابری مسجد کی ملکیت کے مقدمے کا فیصلہ جو موخر ہوا تو کیسے؟
(25.09.2010) چراغ دستِ ہنر آفریں پہ رہتے ہیں۔ محسن احسان مرحوم
(23.09.2010) ایودھیا فیصلہ: سماج میں مکمل صبر و تحمل کی ضرورت ہے
(22.09.2010) کولمبیا میں منشیات فروشوں کی مدد کرنے کے الزام میں طوطا گرفتار



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں