
عالمی اخبار کے اجرا پر پہلا اداریہ جو بعد میں فکرو نظر میں بدل گیا
یکم نومبر دوھزار آٹھ میں بھی مجھے عالمی اخبار کاپہلا اداریہ لکھتے وقت یہی محسوس ھو رھا ھے جیسے یہ وہی اردو کا اخبار ھے جو دنیائے اردو میں 27 مارچ 1823 میں “ جام جہاں نما “ کے نام سے سب سے پہلے نکلا تھا ۔ یا پھر جیسے “ دھلی اردو اخبار “ کے نام سے مولانا محمد حسین کے والد محمد باقر کی زیر ادارت 1836 میں شائع ھوا ھو ۔ اٍسی طرح مجھے لاھور کا پہلا اردو اخبار “ کوہ نور “ بھی یاد آرہا ھے جو 14 جنوری 1850 میں شائع ھوا تھا ۔
کہتے ھیں کہ دو اخباروں کو جو چیز ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ھے وہ اُس کا ادارتی صفحہ ھوتا ھے ۔ مجھے “لاسٹر مارک “ کی لکھی ایک بہت ھی خوبصورت بات یاد آرھی ھے ۔ لکھتے ھیں کہ “ جو آپ دیکھتے ہیں وہ خبر ہے ، جو آپ جانتے ہیں وہ پس منظر ہے اور جو آپ سوچتے ھیں وہ رائے ہے “ ۔
اور یوں موثر رائے سے مرصع اخبار کا اداریہ کہلاتا ھے جو عمومی طور پر ایک رائے عامہ بناتا ھے جو سب کے سامنے ایک اھم مسئلے کے نشاندھی ھوتی ھے اور پھر یہی اداریہ سارے حقائق کو سامنے رکھتے ھوئےھے غور و فکر کی دعوت دیتا ھے ۔ شاید اسی لیئے ھی “نپولین “ نے کہا تھا کہ “ میں سو سنگینوں کی نسبت ایک اخبار سے زیادہ ڈرتا ھوں “ ۔
اور ایسے ھی کسی موقع پر قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ “ صحافت ایک عظیم طاقت ھے ۔ یہ فائدہ بھی پہنچا سکتی ھے اور نقصان بھی ۔ اگر یہ صحیح طرح سے چلائی جائے تو یہ رائے عامہ کی راہنمائی اور ھدایت کا فرض انجام دے سکتی ھے “
بس ایسا ھی ایک اخبار نکالنے کی خواہش بابا (جناب صفدر ھمدانی) نے ھمیشہ کی اور ذکر کرتے رھے جس سے صاف ستھری سچی اور بے لاگ صحافت واقعی ملکی انتظامیہ کا چوتھا ستون کہلا سکے ۔
اور آخر آج وہ دن آ ھی گیا کہ جب ھم سب مل کر ایک ایسے اخبار کی بنیاد رکھ چکے ھیں جس کا نام “ عالمی اخبار “ ھے جس کی قابل احترام ٹیم اپنے پڑھنے والوں سے صاف ستھری صحافت کی کوشش کا وعدہ کرتی ھے ۔اس ٹیم میں ہمارے بزرگ کینڈا سے شمس جیلانی،لندن سے نہایت سینئر اور قابل احترام صحافی،مبصر اور براڈکاسٹر آصف جیلانی کے ساتھ ساتھ متعدد ایسے نوجوان ساتھی بھی شامل ہیں جنکو ایسے سینئر احباب سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔
آخر میں اس دعا کے ساتھ اجازت چاھتی ھوں کہ اللہ پاک ھمیں نوک سناں پر بھی صرف سچ اور حق کہنے اور لکھنے کی توفیق عطا فرمائے
(آمین ) ۔
ڈاکٹر نگہت نسیم۔سڈنی
عالمی اخبار کا پہلا انٹرویو بابا( جناب صفدر ہمدانی ) کا تھا ۔۔ جو میرے لیئے چند یادگار انٹرویوز میں سے ایک تھا ۔۔

یکم نومبر میری روشن صبح ہے
01.11.2008, 12:01am , ہفتہ (GMT)
نگہت نسیم۔سڈنی
بابا سے کیئے گئے چند سوال اور جواب ۔۔۔
اچھا بابا سیکھنے کو آپ کیا کہتے ھیں ؟
بڑی محبت سے گویا ھوئے ۔ این این ایک بات یاد رکھو سیکھنے والے نصیب والے ھوتے ھیں ، ھر ایک کے نصیب میں سیکھنا نہیں ھوتا یہ تو توفیق ھے جسے اللہ دے دے ۔
لیکن کیوں بھلا ؟ آخر لوگ کیوں گھبراتے ھیں سیکھنے سے ۔۔ ؟ میں نے مزید کریدا ۔ بابا مجھے بتا رھے تھے کہ جو سیکھے گا وہ غلطیاں بھی کرے گا اور جو غلطیاں کرے گا وہ ڈانٹ بھی کھائے گا ۔۔ اسی لیئے شاید لوگ یہ سمجھتے ھیں کہ اپنے ھی برابر کے آدمی سے جو ڈانٹ ، تنقید سہے گا اُس سے بہتر ھے کہ خود ھی سیکھ لیں ۔
مجھے کہاں چپ رھناتھا تو پوچھ ھی بیٹھی ۔۔ تو اس کا مطلب ھے کہ ھم خود بھی سیکھ سکتے ھیں ۔۔ تو ھنس دیئے ، کہنے لگے ھاں کیوں نہیں سیکھ سکتے ۔۔ پر وہ محدود ھوجائے گا اور محدود سوچ اور پرواز کب تک کی جا سکتی ھے ۔۔۔علم تو صرف بانٹنے سے بڑھتا ھے۔ جسے یہ بات سمجھ آگئی وہی زندہ ھو گیا ۔ کہ سیکھنا اور سیکھانا ایک انوسٹمنٹ ھے آخرت کی جو زندگی اور مرنے کے بعد عزت کی صورت ملتی ھے ۔
بابا آپ نے کیا انوسٹمنٹ کی ھے ؟
میرا سوال سن کر بہت پرجوش ھو گئے اور کہنے میری انوسٹمنت میری عزت ھے جو میرے مالک نے مولا کی نسبت میں دی اور ھر حال میں فقر کے ساتھ ساتھ ایسے ساتھی دیئے جو میری ڈر کر نہیں محبت سے عزت کرتے ھیں ۔ یہی انسان پر اللہ پاک کی مہربانی ھوتی ھے کہ لوگ اُس سے ڈر کر نہیں محبت سے عزت کریں ۔
یہ اردو دوستی ھے یا آپ کے اندر جو ایک معلم ھے وہ اپنی زمہ داری سمجھ لیتاھے ۔۔ ؟
ویسے تو بابا کے پاس ھر بات کا جواب ھوتا ھے لیکن میری اس بات کا جوان قدرے توقف سے دیا ۔۔ کہنے لگے کہ ھر انسان کو اللہ پاک نے اظہار کی صلاحیتوں کے ساتھ بھیجا ھوتا ھے ، اب یہی دیکھو جو فٹ پاتھ پر بس کے دیر سے آنے پر جھنجھلا رھا ھوتا ھے وہ بھی اپنااظہار ھی تو کر رھا ھوتا ھے ۔ اگر کسی کو میری وجہ سے یہ پتہ لگ جائے کہ وہ لکھ سکتا ھے تو کیا برا ھے ۔۔
لیکن بابا پھر وہ سیکھانے والے کو جو آنکھیں دکھاتا ھے تو وہ ؟
کوئی بات نہیں ۔ اُس کا ھنر اُس کے ساتھ ھے ۔ ھم اُن کے کیئے کے ذمیدارنہیں ، اور نہ ھی ھمیں آس ھونی چاھیئے ۔ مولا علی فرماتے ھیں کہ “جس پر احسان کرو اُس کے شر سے بچو “ سو این این بہتر یہی ھے کہ اپنے دل کو کشادہ رکھو ، صدق ٍدل سے معاف کر دیا کرو اور اپنی نیکیوں کو ان دیکھے دریا میں ڈال دیا کرؤ اور ایک نئی نیکی کی طرف چل پڑا کرو ۔ کسی کی بھی وجہ سے ھمارے سفر نہیں رکنے چاھیئں
انٹرویو کے آخر میں سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔۔
یہ اخبار کسی جماعت کا نہیں۔سب کا ہے۔یہ کسی مذہب و مسلک کا نہیں سب کا ہے۔ اظہار کا ایک ایسا پیلیٹ فارم جس سے ہم ہر وہ بات کر سکتے ہیں جو تہذیب اور انسان دوستی کے دائرے میں ہو۔ اس میں کام کرنے والے سب ساتھی لائق تحسین ہیں کہ وہ اپنا وقت اور اپنی اہلیت و صلاحیت کسی مفاد اور کسی روپے پیسے کی لالچ کے بغیر پروردگار کے نام پر اس کے بندوں کے لیئے استعمال کر رہیں‘‘