 |
کسی کی بے وجہ تعریف کی عادت نہیں مجھ میں۔۔۔صفدر ھمدانی
|
انٹرویو کرناایک ھنر تو ہے ہی لیکن یہ ہنر ہے بہت مشکل اور وہ یوں کہ انٹرویو لینے والے کو انٹرویو لینے سے پہلے پورا ھوم ورک کرنا پڑتا ھے ۔اور کچھ ایسا نیا پوچھنا پڑتا ھے جو سب کے لیئے حیرت کا باعث بھی ھو تاکہ یادگار سا تاثر رہ جائے ۔ اور مجھے ھر مشکل کام کرنے کا شوق بچپن سے رھا ھے ۔

اپنے کیئے ھوئے کئی یادگار انٹرویوز میں سے ایک انٹرویو جناب صفدر ھمدانی کا بھی تھا جو میں نے تین نومبر 2007 میں 100.9 ایف ایم ریڈیو سڈنی پر پروگرام دوستی کے لیئے لائیو کیا تھا ۔ صفدر صاحب کا یہ انٹرویو اُن کے سڈنی سے جانے کے بعد بھی کئی بار فرمائش پر بھی نشر کیا گیا تھا ۔ اور پھر جب صفدر صاحب دس ماہ کے عرصے میں دوسری بار آسٹریلیا تشریف لائے تو ھر جگہ پر اُسی انٹرویو کا ذکر تھا ۔ اُن کے قیام کے دوران سڈنی کے مقامی اخبارات اُن کا پیچھا کرتے رہے لیکن اپنی انتہائی مصروفیت کی وجہ سے صرف ایک مقامی جریدے‘‘رابطہ‘‘ ھی کو انٹرویو دے سکے اوروہ انٹرویو بھی میں نے ھی لیا تھا ۔ مجھے کبھی وقت ملا تو آپ سب کی خدمت میں وہ انٹرویو بھی پیش کرونگی ۔
آج یکم نومبر ھے اور سال ہے دو ہزار آٹھ۔ چوبیس گھنٹے کے بعد یہ دن تقویم ماہ سال میں ماضی بن جائے گا۔ ایسا ماضی جس کا ایک ایک لمحہ روشن اور تابناک مستقبل کی نوید ہو گا۔ مجھے ہی نہیں ہمارے عالمی اخبار کی ساری ٹیم کو اور ایسے لگ رھا ھے جیسے “عالمی اخبار “ کا اجراء نہیں بلکہ ھم جیسے وطنٍ ثانی میں رہنے والوں کا ظہور ٍ ثانی ھو رھا ھے ۔
اور دوستو اس یاد گار موقع پر جس کی محنتوں اور کوششوں سے یہ سب ھو رھا ھے میں آج آپ سب کو اُس سے ملوانا چاھتی ھوں ۔ اور آپ سب کو ایک یادگار ملاقات کی طرف لیئے چلتی ھوں جو آپ کو مدتوں یاد رھے گی ۔

لوگ اکثر مجھ سے پوچھتے ھیں کہ آپ صفدر ھمدانی کو “بابا“ کیوں کہتی ھیں ۔ تو میں مسکرا دیتی ھوں اورسوچتی ھوں کہ شاید اسی موقع پر بابا فرید نے کہا تھا کہ “ تینوں آکھ نہیں ویکھن والی “ ۔ سچ تو یہ ھے کہ زیادہ تر دیدہ بینا والے لوگ ھی اندھے ھوتے ھیں شائد اُن کی اندر کی آنکھ نہیں کھلی ھوتی جس سے اُن کی اصل انسان سے ملاقات ھو سکے ۔
یہ بات بھی سچ ھے کہ صفدر صاحب کو سمجھنے کے لیئے بہت ھوشیار رھناپڑتا ھے ۔ ایک جملے میں کئی معنوں میں باتیں کرنے والا شخص جب مدٍ مقابل ھو تو عقل و ھوش ٹھکانے پر رکھنے پڑتے ھیں ۔ ایک اور بات بھی خاص ھے کہ ایک صفدر دوسرے صفدر سے بالکل نہیں ملتا

میں نے جب اُن کے گھر پر بات کی تو
ماہ پارہ آپا کا صفدر صرف انہیں کا تھا اور ایک ایسا انسان جو بیک وقت انتہائی مہربان اور مشفق اور ایک وقت میں بے انتہا کڑوا اور سیف لسان تو دوسرے ھی لمحے بہت زودرنج ۔
اُن پر ایسا وقت بھی آتا ہے جب وہ خود کو خود میں سمو لیتے ہیں جیسے دریا سمندر میں بند ہو جائے اور ایسے میں بےتکان بولنے والے صفدر اپنی اسٹڈی میں خود کو بند کر لیتے ہیں ۔ اور اُنکی سب سے اچھی بات یہ ھوتی ھے کہ اپنی زمہ داریاں پوری زمہ داری سے پوری کرتے، سب کا خیال رکھتےلیکن اپنا خیال کسی کو نہیں رکھنے دیتے۔
ذہرہ صفدر اُن کی بے انتہا پیاری بیٹی کو اپنے بابا میں ایک ایسا صفدر ملتا ھے جو احسان مندی میں جھکا رھتا ھے اور جب وہ بے انتہا شکر گزار ھو جاتا ھے تو “ چپ “ ھو جاتا ھے ۔ جو لوگ اُس سے پیار کرتے ھیں انہیں ھر ممکن طریقے سے دور کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ھے اور جب وہ دور ھونے لگتے ھیں تو ایک سیکنڈ اُن کو حیرانگی سے دیکھتا ھے اور پھ

ر ھنس دیتا ھے اور بے نیازی سے کہہ دیتا ھے کہ اُس جینے کا کیا مزا جس میں دشمن نہ ھوں ۔۔ لیکن اُن کے بیٹے
محمد صفدر کہتے ھیں کہ اللہ نہ کرے جو بابا کسی کے خلاف ھو جایئں پھر دیکھیئے کہ کیا ھوتا ھے جب تک اُ س سے انتقام میں اپنی محبت میں مبتلا نہ کر لیں کہیں جانے نہیں دیتے اور پھر جب وہ پاس آجاتا ھے تو خود سزا کے طور پر بےنیازی سے آگے بڑھ جاتے ھیں ۔
دوست کہتے ھیں کہ اُن جیسا صلح جو نہیں دیکھا ۔ مجلسوں سے بھاگنے والے صفدر مجلسوں کی جان ھیں ۔ کہیں وہ دانشور ھے تو کہیں محقق ۔ کہیں براڈ کاسٹر تو کہیں نڈر صحافی ۔۔ مجھے صفدر صاحب کے کئی انٹرویوز کرنے کا اعزاز ملا ھے اور ھر بار ایک نئے صفدر سے ملاقات ھو جاتی ھے ۔ میرے لیئے ھمیشہ یہی معمہ رھا ھے کہ ھر بات کی تصحیح کرنے والے ، میرے تلفظ کو صحیح کرنے والے ، دشمنوں کا محبت سے زکر کرنے والے صفدر مجھ سے ،میری تحریر سے اور میرے صحافیانہ کام سے خوش کیوں نہیں ہوتے ۔شاید اُنہیں میرے ھر کام میں ایک تکمیل کی خواہش رھتی ھے سو میں ھر وقت تنقید کی زد میں رھتی ھوں ۔

میں علم بانٹنے والے صفدر کو گزشتہ کئی دہایئوں سے جانتی ھوں لیکن اپنے اصولی مزاج کی بدولت ھمیشہ بڑے لوگوں سے ملنے سے گریز کی وجہ سے اُن سے بالمشافہ ملاقات دوبار ھوئی ھے ۔ میں گزرے ھوئے ایک ایک لمحے کو اپنی آنکھوں میں اور انگلیوں پر گن سکتی ھوں کہ اُس میں سے ایک لمحہ بھی ایسا نہیں تھاجو بھلایا جا سکے ۔ صفدر مجھے “ این این “ کہتے ھیں ۔میں نے ایک دن کہا کہ یہ کیا نام ھوا -- تو مسکرا کر بولے “ نکمی نسیم “ ۔۔ مجھے اُن کا این این کہنا بہت اچھا لگتا ھے ۔۔ بس یوں لگتا ھے جیسے مجھے سیکھنے کی ، آگے بڑھنے کی کوئی تحریک مل جاتی ھے۔
میں اور آفتاب (
میرےھمسفر ،میرے ساتھی اور دوست جنہیں صفدر اہل کہتے ھیں ) جب بھی کبھی علمی گفتگو کر رھے ھوتے ھیں تو صفدر جہاں کہیں بھی ھوں ساتھ آ کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ ھم دونوں واک پر جاتے ھیں وہاں بھی وہ ھمارے ساتھ ۔ سڈنی کی کوئی

بھی محفل ھو ، کیسی بھی ھو اور کوئی زکر بھی ھوصفدر خود بخود کہیں سے شامل ھو جاتے ہیں اور ساری محفل پر چھا جاتے ہیں ۔ اور وہ یوں کے انکے جانے کے بعد سڈنی کی محفلوں میں اتنے عرصے تک کا انکا ذکر ہوتا رہتا ہے کہ انکے دوبارہ آنے کی نوید مل جاتی ہے۔
اس مرتبہ اگست دوہزار آٹھ میں جب وہ سڈنی آئے تو انکا بیشتر وقت میرے گھر پر گزرا اور انکے اعزاز میں میرے گھر پر ہونے والی محفل مشاعرہ بلا مبالغہ سڈنی کی چند گنی چنی کامیاب تقریبات میں سے ایک تھی۔
اب تو میرے سارے گھر والوں اور تینوں بچوں کے ساتھ بھی رہتے ہیں۔ آمنہ کو پڑھائی کی نصیحت نے وہ جادو کا سا کام کیا ہے کہ سائینس سے دور بھاگنے والی آمنہ اب لائبریری جاتی بھی ہے توصرف سائینس کی کتابیں ڈھونڈنے کے لیئے۔

صفدر کسی دوسرے کی کہی ھو ئی کسی بات کا بھی کریڈٹ خود نہیں لیتے بلکہ ایمانداری سے بشکریہ کر کے جیسے خبر لگاتے ہیں ویسے ھی زکر بھی کرتے ہیں۔۔۔ آپ جس سے چاھے بات کریں ، چاھے ظفر حسین ( مدیر اعلی صدائے وطن ) سے ، یا جاوید حسین سے ، مصباح ھو کہ حسنی بھائی وہ سب ھم کو کسی نئے صفدر کا پتہ دیتے ھیں جو دوسرے صفدرسے نہیں ملتا ۔
سر سے پیر تک اہل بیت کی محبت میں سرشار ، اُن کی محبت اور نسبت پر فخر کرنے والےصفدر منبر پر جب بیٹھتے ہیںً تو رقت طاری کر دیتے ہیں اور جب یہی صفدر منبر سے نیچے اترتے ہیں تو ھم جیسے ھو جاتے ہیں ، وہی ھنسی ھنسی میں ھر کسی کو “میری جان “ کہہ کر مخاطب کرنے والے صفدر سب کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں ۔
میں نہیں جانتی کہ آج ہماری کس صفدر سے ملاقات ھو گی ۔ ایک “سید جن“ سے جو چوبیس گھنٹوں میں بیس گھنٹے کام کرتا ھے یا مہربان مشفق استاد سے جسے جو کچھ آتا ھے وہ سب کچھ مجھ جیسوں کو سکھانا چاھتا ھے یا پھر ایسے کڑوے اور سنگدل صفدر سے جو خفا ھو یا رنجیدہ ، بس جو خاموش ھو تو کو ئی بلوا نہ سکے اور اگر حق کی خاطر بول پڑے تو تخت شاھی کو ٹھوکر مار کر چلا جائے ۔
کہنے کو اُس میں کوئی‘‘بابوں‘‘ والی بات نہیں ملتی اور ھو سکتا ھے کہ سب سچ ھی ھوں لیکن مجھے وہ سر سے پیر تک بابا لگتے ھیں ۔ اُن کا سمندر جیسا دل ھر کسی کے رازوں سے بھرا ھوا ،بظاہر ایک پرسکون سمندر لیکن اندر اندر ھی آتش فشاں ۔
ایک دن سڈنی میں میرے گھر بیٹھے ہوئے یہ عجب سا معجزہ ہوا کہ یہی صفدر میری نظر میں صرف ‘‘بابا ‘‘ رہ گئے تھے۔

ہوا یوں کہ وہ اپنے ایک ایسے دوست کو منانا چاہتے تھے جو کسی غلط فہمی کی وجہ سے ناراض ہو گیا تھا۔مجھے انہوں نے کہا کہ ‘‘ این این تم بات شروع کرو اور پھر میں خود بات کروں گا۔ لیکن اس سارے معاملے کا ڈراپ سین یوں ہوا کہ جب انکے اس عزیز دوست نے انہیں فون پر اُس وقت گالی دی جب ھم دونوں اُنہیں منانا چاھتے تھے اور میں نے جان بوجھ کر ٹیلی فون کے اسپیکرز آن کیئے ھوئے تھے تاکہ مناسب موقع پر وہ گفتگو میں شامل ہو جائیں۔
لیکن جب یہ دوست مغلظات پر اتر آئے تو صفدر خود پر ھونے والی بدسلوکی سنتے رھے اور مجھے اشارے سے منع کر دیا کہ اُن کے دوست کو پتہ نہ چلے کہ انہوں نے سب کچھ اپنے کانوں سے سن لیا ھے ۔ میں نے فون رکھنے کے بعد پوچھا کہ آپ چپ کیوں تھے ۔ خوب سنانا تھا نہ ۔۔ تو بڑی محبت اور شفقت سے کہتے ھیں کہ نہیں این این وہ شرمندہ ھو جاتا اور میں نہیں چاھتا کہ میرا دوست شرمندہ ھوتا یا اُسے ٹھیس لگتی ۔ مجھے اچانک ھی اُن میں چھپا ‘‘بابا‘‘ مل گیا جو اپنے دشمنوں سے اصولی جنگ بھی رکھتا ھے لیکن اُن کی عزتٍ نفس کو مجروح بھی نہیں ھونے دیتا ۔
صفدر میں بابا کب رھنے بسنے آ گیاتھا نہیں جانتی لیکن اتنا ضرور جانتی ھوں کہ کسی کوان میں کچھ ملے یانہ ملے مجھے اُن میں ایک بابا ملتا ھے جو مجھے بہت عزیز ھے اور میں اُسے کسی قیمت پر خفا نہیں دیکھ سکتی اس لیئے ھر وقت ڈانٹ کھاتی ھوں ، بابا سے بات سیکھنے کا جہاں خوف ھوتاھے وہاں بے خوفی بھی ھوتی ھے کہ اُن کی ڈانٹ میں ھتک نہیں ھوتی بلکہ عزت ٍ نفس کا خیال جتنا انہیں رکھتے پایا ھے کسی کو نہیں دیکھا ۔ مجھ سے ھمیشہ گلہ کرتے ھیں کہ میں سخت مزاج ھوں اور سخت لفظ استعمال کرتی ھوں ۔پھر نئے سرے سے مجھ سے میلز لکھواتے ھیں یا بات کرنا سیکھاتے ھیں ۔ مجھ سے کہتے ھیں این این ھر چھوٹی چھوٹی بات کو سیکھا کرو کہ اس میں آنے والے کل کی تیاری چھپی ھوتی ھے ۔

کہتے ھیں کہ علم دوست اور علم بانٹنے والے خود تو ھمیشہ ایک ‘‘پامبڑ‘‘ میں جلتے ھیں اور ھاتھ سینکنے والے ان کی طرف دیکھتے بھی نہیں ۔ صفدر سے بابا تک کے سفر میں شائد ایک نظر ھی کادھوکہ ھو لیکن حقیقت یہ ھے کہ اُس راہ میں منافقت ، جھوٹ ، لالچ اور نام و نمود کی خواہش کے پتھر راستے سے چن کر ایک طرف رکھنے پڑتے ھیں اور ایک ایسی راہ پر چلناپڑتا ھے جہاں دشمنی کے پتھر کھائے جاتے ھیں اور جرمٍ سچ میں بارگاہ ٍفکر میں سنگسار ھونا پڑتا ھے ۔
ھمیشہ اپنے احتجاج اور رائے کو ریکارڈ کروانے والے بابا سے ایک یادگار ملاقات آپ سب کی خدمت میں جو میں نے بحثیت صحافی عالمی اخبار کے اجراء کے لیئے بطور خاص فون پر کی ۔
میں نے سلام دعا کے بعد جب اپنا عندیہ بتایا کہ اُن کا انٹرویو عالمی اخبار کے اجراء پر پہلے انٹرویو کے طور پر لینا ھے تو کچھ دیر خاموش رھے پھر کہنے لگے کہ آسان سوال تم کرتی نہیں اور آسان جواب میں دیتا نہیں ۔
چلو آج آسان سی باتیں کرتے ھیں ۔ میں نے کہا مثلا ؟ ۔ تو ھنستے ھوئے کہنے لگے کہ جیسے میں کب پیدا ھوا؟ ۔ میرا بیچ میں بولنا لازمی تھا۔ خیر یہ تو ساری دنیا کو پتہ ھے تو کہنے لگے این این تم بتا دو مان جاؤں ۔
اب میرا تڑپنا عروج پر تھا ۔ بابا پلیز یہ بہت ضروری ھے ۔

پھر اسی شرارت سے پوچھنے لگے اچھا تمہیں پتہ ھے کہ مجھے ماش کی دال اور شامی کباب پسند ھیں ، برف اور بارش اچھی لگتی ھے ، براڈ کاسٹنگ میری سب سے پہلی اور سب سے بڑی پہچان ھے ۔ مجھ سے خوش آمد نہیں ھوتی اور نہ ھی کسی کی جھوٹی تعریف کر سکتا ھوں ، قہر کا اصول پسند ھوں اور شدت سے جتنا گریز کرتا ھوں اتنا ھی جنون میں رھتا ھوں ۔۔۔ میں نے کہا بابا اگر میں یہ کہوں کہ مجھے سب پتہ ھیں تو ۔۔ پہلے تو بابا چپ ھو گئے پھر کہنے لگے کہ مجھے تم سے ڈرنا چاھیئے ، تمہیں تو سب پتہ ھے ۔۔ ارے اگر آپ کو یہ کہوں کہ سب کو ھی اتناپتہ ھے۔۔
تو کہنے لگے کہ کھلی کتابوں کا یہی رونا ھوتا ھے کہ سب بغیر کسی تگ و دو پڑھ لیتے ھیں اور پھر پڑھ کر ایک طرف رکھ دیتے ھیں ، حالانکہ آسان کتابیں سب سے مشکل ھوتی ھیں ۔اُن کی بات میں بہت سچائی تھی ۔ لیکن دنیا کو کیسے بدلا جا سکتا ھے ، اُس کے رنگ ڈھنگ ھی یہی تھے ، زندہ کی قدر نہ کرنا اور مرے کو پوجنا ۔۔ اس بات کا جتنا دکھ مجھے تھا اُس سے کہیں زیادہ بابا کی آنکھوں میں رھتا تھا ۔ شاید اسی لیئے انہوں نے درویشی اختیار کر لی تھی ، کبھی ٹی وی والوں کافون آتا ھے آرام سے کہہ دیتے ھیں کہ میری تصویر لگا لو اور بول میں گھر سے لونگا ۔ انہیں اسٹیشن تک لے جانا صرف “فیضان عارف “ کا کام ھے جن سے بابا اللہ واسطے کی محبت رکھتے ھیں۔
اچھا بابا سیکھنے کو آپ کیا کہتے ھیں ؟ بڑی محبت سے گویا ھوئے ۔ این این ایک بات یاد رکھو سیکھنے والے نصیب والے ھوتے ھیں ، ھر ایک کے نصیب میں سیکھنا نہیں ھوتا یہ تو توفیق ھے جسے اللہ دے دے ۔
لیکن کیوں بھلا ؟ آخر لوگ کیوں گھبراتے ھیں سیکھنے سے ۔۔ ؟ میں نے مزید کریدا ۔ بابا مجھے بتا رھے تھے کہ جو سیکھے گا وہ غلطیاں بھی کرے گا اور جو غلطیاں کرے گا وہ ڈانٹ بھی کھائے گا ۔۔ اسی لیئے شاید لوگ یہ سمجھتے ھیں کہ اپنے ھی برابر کے آدمی سے جو ڈانٹ ، تنقید سہے گا اُس سے بہتر ھے کہ خود ھی سیکھ لیں ۔
مجھے کہاں چپ رھناتھا تو پوچھ ھی بیٹھی ۔۔
تو اس کا مطلب ھے کہ ھم خود بھی سیکھ سکتے ھیں ۔۔ تو ھنس دیئے ، کہنے لگے ھاں کیوں نہیں سیکھ سکتے ۔۔ پر وہ محدود ھوجائے گا اور محدود سوچ اور پرواز کب تک کی جا سکتی ھے ۔۔۔علم تو صرف بانٹنے سے بڑھتا ھے۔ جسے یہ بات سمجھ آگئی وہی زندہ ھو گیا ۔ کہ سیکھنا اور سیکھانا ایک انوسٹمنٹ ھے آخرت کی جو زندگی اور مرنے کے بعد عزت کی صورت ملتی ھے ۔
بابا آپ نے کیا انوسٹمنٹ کی ھے ؟میرا سوال سن کر بہت پرجوش ھو گئے اور کہنے میری انوسٹمنت میری عزت ھے جو میرے مالک نے مولا کی نسبت میں دی اور ھر حال میں فقر کے ساتھ ساتھ ایسے ساتھی دیئے جو میری ڈر کر نہیں محبت سے عزت کرتے ھیں ۔ یہی انسان پر اللہ پاک کی مہربانی ھوتی ھے کہ لوگ اُس سے ڈر کر نہیں محبت سے عزت کریں ۔
آپ کا حال ھی میں ایک ایسے اخبار سے کہ جسے آپ نے اپنا وقت، اپنا پیسہ اور اپنی تمام صلا حیتیں دیں تو اس سے علیحدہ ھونا کچھ لوگوں کے لیئے اچنبھا رھا لیکن آپ کو خود یہ تجربہ کیسا لگا ؟این این یہی زندگی ھے ، اس کے یہی شیڈز ھیں اور چاشنی بھی ۔ جیسے رات کے بعد صبح آتی ھے بس ایسا ھی ھوا کہ میں کئی برس تاریکی میں رھا اور میرا مولا میری ھمت ، استقلال ، ایمان ، سچ اور صبر کی پرورش کرتا رھا اور پھر آزمائش میں ڈال دیا ۔ لیکن اُس کی محبت مجھ فقیر کے ساتھ ایسی کہ مجھے کہیں اکیلا نہیں کیا ۔ مجھے اپنے انعام کی صورت ایسے لوگوں سے دور کر دیا جو مجھ سے مخلص نہیں تھے اور مجھے وہ ساتھی عطا کر دیئے جن کے ساتھ ھم حق اور انصاف کی آواز اٹھا سکتے ھیں اسی لیئے تو کہتا ہوں کہ یکم نومبر میری روشن صبح ھے ۔
عالمی اخبار نکالتے ھوئے کوئی مشکل تو آئی ھو گی ؟ بابا کی آواز میں خوشی کے ساتھ لہجے میں ایک شناسا سی خوشبوتھی اور باتیں مشکلوں کی ھو رھی تھیں ۔ کہہ رھے تھے کہ ڈومین سے لے کر ھوسٹنگ خریدنے تک کے سارے مراحل بڑی عجیب سرشاری کے تھے ۔ ایک ایک مرحلے پر امجد شیخ جیسے دوست کی رہنمائی میرے ساتھ تھی اور میں خود کو ساری مشکلوں میں بھی پر سکون پاتا تھا ۔ پھر تمھارے ساتھ راتوں کو جاگ جاگ کر سارے کالمز لگانا اور بیچ بیچ میں آنے والے فون اٹینڈ کرنے کے دوران تمھارا سارے کام کو مکمل کر لینا مجھے ابھی ایک احسان مندی کی طرح یاد ھے ۔ سوچتا ھوں کہ یہی میرا اثاثہ ھے جو مجھے میرے مولا نے ایک طرف اپنے گھر والوں کی صورت اور دوسری طرف آصف جیلانی ، شمس جیلانی اور تم جیسے دوستوں کی صورت میں دیا جو ھر روز فون پر نہ صرف میری ڈھارس بندھاتے رھے بلکہ ھر طرح کی معاونت کی پیشکش بھی کرتے رھے ۔ ایسے دوست ھوں تو مشکلیں کب مشکلیں رھتی ھیں ۔
پرانے دوست یاد تو آتے ھوں گے ؟ہاں این این کیوں نہیں ۔۔ کبھی بہت یاد آتے ھیں لیکن اب غور کرتا ھوں تو میرا مولا اس کے لیئے بھی مجھے تیار کر رھا تھا ، بس میں ھی سمجھ نہیں پا رھاتھا اور یہ تیاری تو سات مہینے پہلے ھی ھو چکی تھی ۔ مجھے افسوس صرف اس بات کا ھوتا ھے کہ یہ کب ضروری ھوتا ھے کہ تعلقات ساری عمر ایک جیسے ھی رھیں ۔ اگر آگے چلنے کی توقعات ختم ھو جائیں تو سارے دروازے بند نہیں کرنے چاھیئں ۔ اور کردار کشی تو ھر گز بھی نہیں ۔ بس خاموشی سب سے بہتر ھوتی ھے ۔
اس لیئے آپ ابھی تک خاموش ھیں ؟میں اپنے مولا کا خادم ھوں اور اُن کی تعلیمات یہی ھیں ، میں اُن سے باہر نہیں آؤنگا اور یہی دعا ھوتی ھے کہ اللہ پاک مجھے ھر آزمائیش سے دور رکھے ۔
بابا آپ ھمیشہ کہتے ھیں کہ لوگوں میں کتابیں پڑھنے کا رواج ختم نہیں ھوا بلکہ کم ھو گیا ھے ، کچھ وقت کی کمی اور کچھ انٹر نیٹ کی وجہ سے ۔ آج کل جہاں پرانی اور آج کی نسل دونوں ھی انٹرنیٹ کے خلاف نظر آتے ھیں وھاں آپ سب سے زیادہ حامی ۔ آپ کی وجہ سے اردو وہاں وہاں وباکی صورت پھیل جاتی ھے جہاں آپ ہو کر آ جاتے ہیں۔ میرے علم میں ہے کہ آپ نے ایسے ایسے لوگوں کی کتابیں لکھیں اور انکی اشاعت کا بھی اہتمام کیا کہ جنکی قلم کاری کو انکے گھر والے بھی نہیں مانتے۔ آپ جسکی انگلی پکڑیں وہ ایک دم سب ٹائپ کرنا سیکھ جاتے ھیں اور پھر بیٹھ کر کالمز تک لکھ لیتے ھیں ۔۔
یہ اردو دوستی ھے یا آپ کے اندر جو ایک معلم ھے وہ اپنی زمہ داری سمجھ لیتاھے ۔۔ ؟ویسے تو بابا کے پاس ھر بات کا جواب ھوتا ھے لیکن میری اس بات کا جوان قدرے توقف سے دیا ۔۔ کہنے لگے کہ ھر انسان کو اللہ پاک نے اظہار کی صلاحیتوں کے ساتھ بھیجا ھوتا ھے ، اب یہی دیکھو جو فٹ پاتھ پر بس کے دیر سے آنے پر جھنجھلا رھا ھوتا ھے وہ بھی اپنااظہار ھی تو کر رھا ھوتا ھے ۔ اگر کسی کو میری وجہ سے یہ پتہ لگ جائے کہ وہ لکھ سکتا ھے تو کیا برا ھے ۔۔
لیکن بابا پھر وہ سیکھانے والے کو جو آنکھیں دکھاتا ھے تو وہ ؟ کوئی بات نہیں ۔ اُس کا ھنر اُس کے ساتھ ھے ۔ ھم اُن کے کیئے کے ذمیدارنہیں ، اور نہ ھی ھمیں آس ھونی چاھیئے ۔ مولا علی فرماتے ھیں کہ “جس پر احسان کرو اُس کے شر سے بچو “ سو این این بہتر یہی ھے کہ اپنے دل کو کشادہ رکھو ، صدق ٍدل سے معاف کر دیا کرو اور اپنی نیکیوں کو ان دیکھے دریا میں ڈال دیا کرؤ اور ایک نئی نیکی کی طرف چل پڑا کرو ۔ کسی کی بھی وجہ سے ھمارے سفر نہیں رکنے چاھیئں ۔
دوستو جی تو یہی چاہ رھا تھا کہ میں اپنے بابا سے اور باتیں بھی کرتی اور بہت کچھ اور سنتی ۔ انکی شاعری، نثری تخلیقات اور صوتی دنیا کی باتیں کرتی۔ لیکن مجھے ھمیشہ ھی وقت کم پڑ جاتا ھے ۔ لیجیئے آخر میں بابا نے اجازت کے ساتھ اپنی ٹیم کو مبارکباد دی ھے انہیں کے الفاظ میں پڑھیئے ۔
‘‘ یہ جو عالمی اخبار کی پوری ٹیم ہے یہ میں نے منتخب نہیں کی۔ اس کا ایک ایک فرد میرے مولا و آقا کی دین ہے۔ جب میں نے عالمی اخبار نکالنے کی ٹھانی تو میں بالکل تنہا اور اکیلا تھا۔ پھر پروردگار حرف و صوت نے مجھے قوت دی اور میری ایک ہی آواز پر وہ سارا قافلہ جو اس سے پہلے ایک اور اخبار میں میرے ساتھ تھا میرا ہم سفر ہوا۔ امجد شیخ، نگہت نسیم، زرقا مفتی، آصف جیلانی، شمس جیلانی،غزالہ رشید،مصباح حسین،سلیم سید،عمران چوہدری،حسین افسر، یوسف جمیل،اصغر انصاری، روبینہ فیصل،احسن پریمی،تانیہ رحمان اور وہ سب قارئین جنکی مجھے اعانت و حمایت حاصل رہی۔ جرمنی سے سید اقبال حیدر،طاہر ملک اور منظور قاضی حوصلے کا وہ ٹانک ہیں جو مجھے کبھی کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ایک ہم سفر وہ بھی ہے اس سفر میں جو ہر سفر میں ساتھ تھا،ساتھ رہا ہے اور ساتھ رہے گا۔ میری ساتھی اور اہلیہ ماہ پارہ جنہوں نے کئی برس پہلے مجھے ان لمحات کے بارے میں آگاہ کیا تھا لیکن میں آنکھیں بند کر کے اپنے یقین کو گمان میں بدلتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ ایک پروفیشنل نشریات و صحافت کا نام کہ جسے خبر اور لفظ کی صحت کا بھی اتنا ہی خیال ہے جتنا میرا اور میری صحت کا۔یہ اخبار کسی جماعت کا نہیں۔سب کا ہے۔یہ کسی مذہب و مسلک کا نہیں سب کا ہے۔ اظہار کا ایک ایسا پیلیٹ فارم جس سے ہم ہر وہ بات کر سکتے ہیں جو تہذیب اور انسان دوستی کے دائرے میں ہو۔ اس میں کام کرنے والے سب ساتھی لائق تحسین ہیں کہ وہ اپنا وقت اور اپنی اہلیت و صلاحیت کسی مفاد اور کسی روپے پیسے کی لالچ کے بغیر پروردگار کے نام پر اس کے بندوں کے لیئے استعمال کر رہیں‘‘۔