
پشاور ۔صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمد غنی نے معروف شاعر ادیب ،محقق اور تاریخ دان آخونزادہ مختار علی نیئر( تمغہ امتیاز) کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادبی حلقے ایک جرات مند، فرص شناس ،محب وطن شاعر ،ادیب ، محقق اور سماجی و سیاسی رہنما سے محروم ہو گئے ہیں۔
اپنے ایک بیان میںاُنہوں نے کہا کہ مرحوم نے اپنی علمی اور ادبی خدمات سے صوبہ سرحد کا نام دنیا بھر میںروشن کیا اور دنیا بھر میں اپنے ملک اور صوبے کی پہچان تھے۔اپنے بیان میں انہون مرحوم کے صاحبزادہ آخونزادہ زاہد علی عسکر اور آخونزادہ مجاہد علی اکبر سے تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت کی دعا کی اور اُن کو اُنکے اہل خانہ کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی دعا کی۔
درین اثنا وزیر اعلیٰ سرحد امیر حیدر ہوتی نے بھی بابا ئے ہندکو آخونزادہ مختار علی نیئر کی وفات کو صوبہ سرحد کی ادبی حلقوں کیلئے نہ پُر ہونے والا خلاء قرار دیا اور مرحوم کے صاحبزادوں آخونزادہ زاہد علی عسکر اور آخونزادہ مجاہد علی اکبرکے نام تعزیتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ مختار علی نیئر صوبہ سرحد کامثالی اثاثہ تھے اور انہوں نے علمی ادبی ، تحیقی اور سماجی و سیاسی خدمات انجام دیںہیں وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ مختار علی نیئر کی وفات ادبی ،صحافتی اور سماجی و سیاسی حلقوں میں کیلئے عظیم نقصان ہے
انہوں نے مرحوم کی مغفرت کے ساتھ ساتھ اور سوگوار خاندان کیلئے صبر و اسقامت سے یہ صدمہ برداشت کرنے کی دعا کی۔صدر آصف علی زرداری کے مشیر برائے قبائلی علاقہ جات مرزا محمد جہادی نے بھی مشہور و معروف شاعر و ادیب اور ذاکر اہلبیت آخونزادہ مختار علی نیئر کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ،
مرحوم کے صاحبزادوںسے خصوصی ملاقات میں انہوں نے مرحوم کی مذہبی ، سماجی اور سیاسی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ مرحوم اپنے افکار کے باعث پاک باز سیاسی و مذہبی رہنما اور علمی ادبی شخصیت تھے جنہوں نے قلم کی حرمت اور زبان کی تقدس کو ہمیشہ مقدم رکھتے ہوئے قوم وملت کی رہنمائی فرمائی
انہوں نے مرحوم کی بلندی درجات کی دعا کے ساتھ ساتھ مرحوم کے خاندان کے ساتھ اس غم میں خود کو شریک قرار دیتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تبارک وتعالیٰ سوگوار خاندان یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔