ٌٌٌبابائے ہندکو مختار علی نیئر جہدِ مسلسل اور حق و صداقت کاعملی نمونہ تھے
باطل کے سامنے ہمیشہ آواز حق بلند کر کے انہوں نے معراج انسانیت کا عکس پیش کیا ۔آخونزادہ مجاہد علی اکبر
پشاور۔برصغیر کے ممتاز شاعر ،ادیب ،محقق،دانشور،بابائے ہندکو اور سلطان الذاکرین آخونزادہ مختار علی نیئر( تمغہ امتیاز) مرحوم کی یاد میں ایک مجلس ترحیم ۱۵ اکتوبر۲۰۰۹ء کو امام بارگاہ آغا سید علی جان الحسینی المعروف تہہ خانہ والی زیارت میں منعقد ہوئی جس میں کثیر تعداد میں شعراء و اُدبا سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
مجلس ترحیم سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز ذاکر اہلبیت آخونزادہ مجاہد علی اکبر نے مرحوم کی ملی ، مذہبی ،علمی ،ادبی ،سیاسی ا ور سماجی زندگی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی زندگی جہدِ مسلسل اور حق وصداقت کا عملی نمونہ تھی جس پر کاربند رہ کر مختار علی نیئر نے وہ روشن مثالین رقم کی جنکا تصور بھی آجکل کے مادی دور میںکسی ناممکنات سے کم نہیں اور اس راہ میں کسی بڑی سے بڑی قربانی کو بھی خاطر میں لائے بغیر اُنہوں نے ہر باطل کے سامنے ہمیشہ ببانگِ دہل آواز حق بلند کر کے ثابت کیا کہ آفاقی اصولوں پر عمل پیرا ہونا ہی انسانیت کی معراج ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی حیات فانی میں بھی ہر شعبہ زندگی میں عزت ووقاراور احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور حیات جاویدانی میں بھی وہ اپنے اسی نمونہ زندگی کی بدولت ہمیشہ لوگوں کے دِلو ں میں زندہ و جاوید رہیں گے۔
بعد ازاں متولی امام بارگاہ آغاسید امجد علی شاہ الحسینی نے آخونزادہ مختار علی نیئر کیلئے بلندی درجات کی دعا فرمائی جبکہ مجلس ترحیم میں آخونزادہ زاہد علی عسکر،فیاض علی کیانی،قاسم علی،ایس اے سخی،سردار امداد حسین قزلباش،محمود علی آخونزادہ اور سردار اشتیاق حسین نے منظوم کلام ،نوحہ خوانی اور مرثیہ خوانی کے ذریعے مرحوم کے مذہبی و علمی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ۔