15.10.2026, 04:34pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

یہ تمھارا اور ہمارا عالمی اخبار ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
28.10.2009, 01:01am , بدھ (GMT+1)

ڈاکٹر نگہت نسیم۔سڈنی


عالمی اخبار ایک ادارے کا نام ہے جہاں فکر کی نشو و نما کے لیئے  ایک دوسرے سے سیکھنے کا شوق سب کو تسبیح کے دانوں کی طرح ایک دوسرے سے ناصرف قریب رکھتا ہے بلکہ خیال کی ڈوری میں پروئے بھی رکھتا ہے ۔ اس ایک سال کے عرصے میں عالمی اخبار کی کامیابی کا سفر کیسا رہا وہ قاریئن کے سامنے ہی ہے لیکن اس خوبصوت اخبار کو ہم آپ تک کبھی پہنچا نہ پاتے جو ہمارے ساتھ ہمارے دوستوں کا ساتھ نہ ہوتا ۔۔۔۔ آیئے آپ بھی ان سے سے ملیں ۔۔ اور ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر ان احباب کا اور ان کے اہل خانہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جن کی بلامفاد مساعی پر عالمی اخبار تاحیات نازاں رہے گا ۔۔ 

صفدر ھمٰدانی۔''مدیر اعلیٰ''۔عالمی اخبار


     معروف شاعر،ادیب،صحافی،مرثیہ نگار،محقق اور براڈکاسٹر صفدر ھمٰدانی لاہور کے ایک علمی اور ادبی گھرانے میں 17 نومبر 1950 میں پیدا ہوئے۔ ایف سی کالج سے گریجوایشن کے بعد جامعہ پنجاب سے صحافت میں ایم اے کیا اور 1973 میں ریڈیو پاکستان سے بطور پروڈیوسروابستہ ہوگئے.

    صفدر ھمٰدانی نے  ریڈیو پاکستان میںاپنی ملازمت  کے دوران ریڈیو کی اکیڈیمی کے علاوہ ریڈیو ہالینڈ اور تین برس سے زائد عرصے تک ریڈیو جاپان میں بھی خدمات سرانجام دیں .انکی غزلوں کا پہلا مجوعہ' کفن پہ تحریریں' 1974 میں لاہور میں شائع ہوا تھا اور بعد ازاں مختلف تصانیف کی اشاعت کے بعد 2003 میں انکی کتابیں 'فرات کے آنسو'(مرثیوں کا مجموعہ) نورِ کربلا(عزائی شاعری پہ تحقیق) اور'' فخر ہمایوں''(معروف صحافی کی زندگی) ' اور'معجزئہ قلم'(رباعیات ،قطعات و قصائد کا مجموعہ) فروری 2004 میں شائع ہوا جبکہ انکی تالیف اور تدوین''کلیات حسین''  حسن عباس زیدی مرحوم کی شاعری کی کلیات 2005 میں طبع ہوئی۔ اگست 2006 میں انکا پہلا سفر نامہ'' تہران اور گر عالمِ مشرق کا جنیوا''  شائع ہوا. 2007 میں مرثیے کی دو کتابیں شائع ہوئیں جن میں سے ایک''زینت ہستی'' ماں کے موضوع پر لکھا ہوا مرثیہ ہے جبکہ دوسری ''عطائے رضا'' کے نام سے امام رضا علیہ السلام کا مرثیہ ہے۔ '' رو رہا ہے آسماں'' مرثیوں کاایک اور مجموعہ اورغزلوں کے مجموعے'' بادل۔چاند اور میں '' اور'' گونگی آنکھیں'' زیر ترتیب ہے۔

    مرثیہ نو تصنیف پڑھنے کے سلسلے میں وہ برطانیہ کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران،جاپان، پاکستان(کراچی،لاہور،ملتان،مظفر گڑھ،اسلام آباد)،نیدرلینڈ،ہیگ ،ایمسٹرڈیم ،جرمنی،فرانس،ناروے،ڈنمارک ،یونان،دبئی،ترکی، بلجیم،امریکہ (میامی،ہیوسٹن،فلوریڈا)شام اور آسٹریلیاکے مختلف شہروں کا سفر کر چکے ہیں ۔۔

    آپ سب جانتے ہیں کہ بابا برگد کے درخت کی طرح سایہ دار ہیں ۔ جن کی چھاؤں میں ہر کوئی بیٹھ کر سکون حاصل کرتا ہے اور بابا ہر آنے والے کو  زاد راہ کے طور پر قلم پکڑا دیتے ہیں ۔۔ پھر وہ مسافر جانے اور اس کا نصیب جانے کہ وہ اس قلم کا کتناحق ادا کرتا ہے ۔۔  بابا جن جن ملکوں کادورہ کرتے ہیں وہاں وہاں اردو کی کئی نئی کونپلیں کھل اٹھتی ہیں ۔۔ اور ثمر بار ہو جاتی ہیں ۔۔ بابا کے ہاتھ میں شفا ہے جس کے سر پر رکھ دیتے ہیں اسے منزل مل جاتی ہے ۔۔

بابا کی اہلیہ ماہ پارہ صفدر جنہیں میں آپا کہتی ہوں ان کا علم و ادب اور نشریات کی دنیا میں ایک منفرد مقام ہے ۔ اس اعزاز کے ساتھ ساتھ وہ بے انتہا نفیس خاتون ہیں۔ میری ان سے پہلی ملاقات انہیً کے گھر پر اسی سال اپریل میں ہوئی تھی جن دنوں میں ان کی بیٹی ذہرا کے ولیمہ پراور اپنی کتاب “مٹی کا سفر “ کی تقریب رونمائی کے لیئے  لندن گئی ہوئی تھی  ۔۔ آپا کی مہمان نوازی کے مجھ سمیت  سب ہی متعرف ہیں ۔۔ آپا سے ہر ملاقات یادگار رہی ۔۔ بیٹا محمد بہت محبت سے ملا اور بیٹی زہرا کی محبت دیکھئے کہ وہ اپنے ولیمے سے ایک روز پہلے ہم سب سے ملنے وہاں آئی ہوئی تھی اور اپنے مہندی لگے ہاتھوں سے کبھی برتن سجا رہی تھی توکبھی برتن دھو رہی تھی ۔۔ بابا اور آپا کی محبت اور تربیت گھرکے مکینوں میں بول رہی تھی  ۔۔ اور اب تو ان کے داماد ندیم بھی مکینوں میں شامل ہے  جوکہ خود اس خاندان میں انتہائی خوشگوار اضافہ ہے ۔۔۔  اللہ پاک بابا کے گھر کو اپنے حفظ و اماں میں رکھے اور نظر بد سے بچائے ۔۔آمین

ڈاکٹر نگہت نسیم۔''نائب مدیر اعلیٰ''۔عالمی اخبار

میں خوش نصیب ہوں جب میں ٹیم میں شامل ہوئی تو بابا نے میرا تعارف کچھ یوں لکھا تھا ۔۔ ان کا لکھا ہوا میرے لیئے سند ہے ۔۔

  آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مقیم ڈاکٹر نگہت نسیم پیشے کے اعتبارسے ماہر نفسیات ہیں اور اردو ادب اور صحافت پر بھی دسترس رکھتی ہیں۔
وہ بنیادی طور پر ایک افسانہ نگار ہیں اور انکے افسانوں کے دو مجموعے''گرد بادِ حیات'' اور ''مٹی کا سفر'' شائع ہو چکے ہیں لیکن نظم نگاری میں انکا منفرد اور بے باک انداز اظہار انہیں عہد حاضر کے نظم نگاروں میں ممیز کرتا ہے۔ڈاکٹر نگہت نسیم میرا جی کے بعد نظم کو غزل کے مقابلے میں اسکا کھویا ہوا وقار واپس دلوانے میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

 انہیں اس امر کا ادراک ہے کہ انکا مزاج غزل گوئی کا نہیں اس لیئے انہوں نے غزل کے مصرعے زبردستی جوڑنے کی بجائے حقیقی اور خالص نظم لکھنے پر ہی خود کومرکوز رکھا ہے۔انکے افسانے پاکستان کے اکثر جریدوں میں برسوں سے شائع ہو رہے ہیں۔نگہت نسیم سڈنی میں ایک عرصہ سے ریڈیوایف ایم 100.9 کی اردو سروس کے پروگرام “ ریڈیو دوستی “ کی میزبان ھیں ۔ اٍس کے ساتھ ساتھ ملٹی کلچر آرٹس کی جانب سے ٹی وی ایس پر پیش کیا جانے والا پروگرام “ دیسی ٹی وی “ میں بھی میزبانی کرتی ھیں ۔

یقین جانئے جب سے عالمی اخبار کی ادارت سنبھالی ہے تب سے ریڈیو اور ٹی وی کے پروگرام نہیں کر پاتی ۔۔جس کا مجھے کبھی افسوس نہیں ہوا کیونکہ میرے شوق اور بھی ہیں ۔۔ جیسے  مجھے  افسانہ ، کالم ، شاعری ۔۔ تحقیقی مضامین ۔۔ بس کچھ بھی ہو ۔۔  لکھنا بہت اچھا لگتا ہے ۔۔ خوبصورت لفظوں میں چھپے منفرد خیال میری کمزوری ہیں ۔۔ جہاں کہیں رکھے مل جاتے ہیں ۔۔ دنوں خوش رہتی ہوں ۔۔
 
 میرے گھر والے میری ان خوشیوں میں برابر کے شریک رہتے ہیں ۔۔ یوں کبھی کبھی ان کے حصے کا بھی  بہت سارا وقت  انہی کہانیوں اور اخبار  کی نظر ہو جاتا ہے ۔۔ مجھے جانے کیوں اپنے رفیق سفر آفتاب اور بیٹوں  منیب ، نجیب اور بیٹی آمنہ سے ہمیشہ ہی قلبی وسعت کی امید رہتی ہے ۔۔ یقینا میری غیر حاضری کو مجھے دل ہی دل میں ضرور ہی درگزر کردیتے ہونگے ۔۔۔اللہ پاک میرے گھر میری چھت کو سلامت رکھے ۔۔ اور اپنے حبیب کے صدقے ہم سب کو ہمیشہ خوشیوں میں رکھے ۔۔آمین
۔

آصف جیلانی۔''معاون مدیر اعلی اور مدیر۔سیاسی امور''۔عالمی اخبار


معروف اور سرکردہ صحافی،ادیب ، مبصر، نقاد ،تجزیہ نگار،براڈکاسٹراور کالم نگار آصف جیلانی کی صحافتی زندگی لگ بھگ پچاس برس پر محیط ہے۔

آصف جیلانی نے اپنا صحافتی سفر روزنامہ امروز کراچی سے 1953میں شروع کیا- اس زمانہ میں مدیر اعلی فیض احمد فیض اور مدیر احمد ندیم قاسمی تھے- 1959 میں وہ روزنامہ جنگ کراچی کے دلی میں نامہ نگار مقرر کئے گئے

 پاکستان کے اردو اخبارات میں وہ پہلے کل وقتی نامہ نگار تھے جو بیرون ملک تعینات کئے گئے- 1965 میں ہندوستان اور پاکستان کی جنگ کے دوران انہیں دلی کی تہاڑ جیل میں نظر بند رکھا گیا-

قیدیوں کے تبادلے میں رہائی کے بعد انہیں لندن میں ادارہ جنگ کے اخبارات کا نامہ نگار مقرر کیا گیا اور جب لندن سے روزنامہ جنگ کا اجرا ہوا تو انہیں 1973 میں مدیر مقرر کیا گیا- 1983 میں وہ جنگ لندن سے ترک تعلق کر کے بی بی سی اردو سروس کے عملہ میں شامل ہوگئے اور 1994 تک اس نشریاتی ادارہ سے کل وقتی طور پر وابستہ رہے-

اس دوران انہوں نے چار بڑی سیریز کیں- یورپ کے ایشیائ – بر صغیر کے بڑے بڑے شہروں کے مسایل پر شہر بے کراں کے عنوان سے سیریز- وسط ایشیا کی نو آزاد جمہوریاوں کا سفر نامہ –وسط ایشیا – نئی آزادی نئے چیلنج – ان پوگراموں پر مبنی کتاب بھی شایع ہوئی ہے- 1994 میں بر صغیر کے دیہاتوں میں تبدیلیوں کے بارے میں ان کے پروگراموں کا سلسلہ –گاوں گاوں بدلتی دنیا کے عنوان سے نشر ہوا-

آصف جیلانی بھائی کے کالم انتہائی فکر انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ  تجزیاتی ہوتے ہیں اور ۔۔ مجھ جیسے ظفل مکتب ان سے سیکھتے ہیں ۔۔ میں جب چار اپریل دو ھزار نو کو لندن گئی تھی تو بابا نے میرے اعزاز میں ایک عشائیہ دیاتھا ۔۔ وہاں پہلی بار آصف بھائی اور اور ان کی اہلیہ محسنی جیلانی (اردو افسانے کا ایک بڑا نام )  سے ملاقات ہوئی تھی ۔۔ دیکھنے میں  مدبر سے آصف بھائی  انتہائی شگفتہ مزاج اور ہنسنے  مسکرانے والے انسان ہیں ۔۔ ان کے سوالوں میں ایک صحافیانہ کھوج ہوتی ہے اور ان کی سب سے اہم خصوصیت ان کی  یاداشت بلا کی تیز ہے ۔۔ اور جبکہ میری یاداشت مایوس کن حد تک خراب ہے ۔۔ جسکی بنا پر مجھے اکثر شرمندگی اور کوفت سے دوچار رہنا پڑتا ہے ۔۔ آصف بھائی کوئی گر ہمیں بھی بتادیجئے  ۔۔ کوئی ہنر ہمیں بھی سیکھا دیجیئے ۔۔

شمس جیلانی۔''بیورو چیف،کینیڈااور مدیر دینی امور''۔عالمی اخبار

 اردو زبان کو بیرونی ممالک میں زندہ رکھنے کے لیئےادیبوں،شاعروں اور محققین  نے علم و ادب اور تحقیق و جستجو کی جو شمع روشن کر رکھی ہے اس کے ذریعے وہ دراصل ایک ایسا جہاد کر رہے ہیں جو جہاد بالقلم ہونے کے ناطے جہاد بالسیف سے بہت افضل ہے اور  شمس جیلانی اس فہرست میں صف اول کے لکھاریوں میں شامل ہیں اور لکھنے والوں کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنی عمر کی دھونس جمانے کی بجائے اپنے مطالعے اور اپنی تحریر سے دل میں گھر کرتے ہیں۔

اسلامی موضوعات پر انکی تحریریں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں اور اسی طرح انکی شاعری میں بھی مسلم امہ کے لیے ایک تڑپ موجود ہے

عالمی اخبار میں انکی شرکت اور قلمی تعاون ہم سب کے لیئے باعث عزت اور باعث رہنمائی ہے۔

شمس جیلانی صاحب کی شائع شدہ کتب میں ‘‘ سورہ فاتحہ اور اس کے تقاضے،اسلام اور حقوق العباد،قصے مخلصین کے،حضرت امداد اللہ مہاجر مکی اور ہفت مسائل،صدا بہ صحرا،گمان معتبر،اتم ہے انسان، بنیادیات ذیابیطس اور تازہ کتاب سیرت النبی صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم،روشنی حرا سے شامل ہیں۔

شمس بھائی سے میں ایک بار بھی نہیں ملی ہوں لیکن یوں لگتا ہے جیسے  اللہ پاک نے انہیں صرف میرے بڑے بھائی ہونے کے لیئے ہی دنیا میں بھیجا ہے ۔۔ میں نے ان سے اپنے دین سے محبت اور ا سکے بارے میں لکھنا سیکھا ہے ۔۔ مجھے یہ کہنے اور ماننے میں فخر ہو رہا ہے کہ میں انہیں اپنے لیئے ایک ایسی ڈکشنری سمجھتی ہوں جس سے مجھے اپنے ہر سوال کاجواب مل جاتا ہے ۔۔ میری زندگی کہ کئی خواہشوں میں سے ایک خواہش شمس بھائی سے ملنے کی بھی ہے ۔۔

زرقا مفتی۔''مدیر ادبی دنیا و تکنیکی امور''۔عالمی اخبار

زرقا مفتی پاکستان کے شہر دل ''لاہور'' میں مقیم ہیں اور اعلیٰ ادبی ذوق کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ ہیں۔
معاشیات میں ماسٹرز ، بین الاقوامی تعلقات اور کمپیوٹر سائنس میں پوسٹ گریجویشن کر رکھی ہے۔کچھ عرصہ ایک کنسلٹینسی پر سسٹم اینالسٹ کی حیثیت سے کام کیا لیکن ۔پھر خود کو گھر داری کے محاذ پر ہی محدود کر لیا لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے علمی اور ادبی سرگرمیوں کو خیر باد کہہ دیا بلکہ امور خانہ داری کے بعد جو انکا ذاتہ وقت بچا اسے انہوں نے اپنے ادبی اور تخلیقی ذوق کی تسکین کے لیئے استعمال کیا۔

بقول خود زرقا مفتی کے کہ ''پڑھنے لکھنے کا شوق شروع سے ہے۔ ادب سے ایک قاری کی حیثیت سے تعلق بہت پُرانا ہے۔ زمانہءطالبعلمی سے ہی لکھنے کا شوق تھا ۔ ادھر اُدھر لکھ کر چھپا کر رکھ لیتی تھی۔ اپنی خاموش طبیعت کے باعث یہ سب کسی سے شئیر نہ کیا۔ کمپیوٹر سے دلچسپی تھی اس لئے انٹر نیٹ کی ادبی دُنیا میں قدم رکھا۔ پچھلے کچھ برسوں سے مختلف ادبی فورمز پر لکھتی آ رہی ہوںشاعری کے علاوہ کہانیاں بھی لکھتی ہوں۔ اس کے علاوہ ملکی حالت پر کالم لکھنے کا سلسلہ کچھ عرصے سے جاری ہے۔

 اُردو انجمن کے کچھ صفحات ڈیزائن کئے اس کے بعد امجد اسلام امجد صاحب کی سایٹ ڈیزائن کی''۔

زرقا مفتی ہمہ جہت شخصیت کی مالک ہیں اور ''عالمی اخبار'' کے عملے میں انکی ''مدیر ادبی دنیا و تکنیکی امور'' کی حیثیت میں شمولیت بے شک اخبار کے ادبی ذوق اور معیار کو بلند کرے گی۔
ادارہ''عالمی اخبار'' خاص طور پر زرقا مفتی کا ممنون ہے کہ انہوں نے ہمارے اس قافلے میں نہ صرف شرکت کی حامی بھری بلکہ اپنے تکنیکی اور تخلیقی تعاون سے ہمیں احسان مند کیا۔

عالمی اخبار کا بلاگ سیکشن تنہا انہیں کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اسکے علاوہ ''عالمی اخبار'' کی تمام تکنیکی تیاری میں محترم امجد شیخ کے ہمراہ انکی مساعی قابل تعریف ہیں ۔ زرقا مفتی سے مجھے بہت محبت ہے ۔۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے میرے پاکستان آنے کا ایک جواز زرقا سے ملاقات بھی ہے ۔۔ انتہائی مدبر ۔۔ زیرک اور خوبصورت افسانے  ،کالم اور شاعری کرنے والی زرقا کے بغیر عالمی اخبار سجتا نہیں ہے ۔۔

اصغر انصاری۔''بیورو چیف،بھارت'۔عالمی اخبار

اصغر انصاری بھارت کی صحافتی دنیا کا ایک مستند نام ہے جنہوں نے صحافت میں شرافت کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے کامیابی کی وہ منزلیں طے کی ہیں جن کو ایک عام صحافی اپنے لیئے نشان منزل بنا سکتا ہے۔

اصغر انصاری اتر پردیش کے ضلع بجنور کے گاؤں فضل پور کے ایک نہایت معمولی تاجر گھرانے میں 1962 میں پیدا ہوئے ہے، انجینرنگ کی تعلیم حاصل کی سافٹ ویئر انجیرنگ میں مہارت حاصل ہے ، اسٹریٹجک ٹیکنالوجی گروپ کے نام سے سافٹویر اور یسع ٹریڈنگ پرائیویٹ لیمیٹد نام کمپنی کے ڈریعہ ٹریڈنگ کرتے ہیں لیکن سافٹ ویر اور ٹریڈنگ سے زیادہ اردو صحافت میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔1994میں ہندوستان کی پہلی اردو ویب سائٹ۔۔’’ اردو نیٹ‘] کا اجراء کیا لیکن تاجرانہ مصروفیات کی بناء پر اس ویب سائٹ کو زیادہ وقت نہ دیا جا سکا۔2004میں ہندوستان کی پہلی آزاد اردو نیوز ایجنسی (یو این این) یو نائیٹیڈ نیوز نیٹ ورک کا قیام عمل میں آیا ۔

یو این این ہندوستان میں اردو صحافت میں ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہوئی اور آج یو این این ہندوستان کی سب سے بڑی اور مکمل طور پر آزاد اردو نیوز ایجنسی ہے اور ہندوستان میں 121روز ناموں اور 278ہفتہ روزہ اخبارات کو خبریں فراہم کرنے والا ادارہ ہے ۔اصغر انصاری خود سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ہندوستانی سیاست ، اقلیتی ا امور ، عالم اسلام اور کشمیر کے امور کے ماہر مانے جاتے ہیں ۔ آپ کے کالم دو سو سے زائد اخبارات میں ہر ہفتہ شائع ہوتے رہتے ہیں

۔یو این این کی کامیابی کے بعد اصغر انصاری نے اردو نیٹ کے نام سے دہلی سے روز نامہ اردو اخبار کی اشاعت شروع کی ہے ۔اس اخبار کے پٹنہ ۔ سرینگر، اور ممبئی میں ایڈیشن بہت جلد منظر عام پر آنے والے ہیں ۔اس کے علاوہ آپ ہندوستان میں آن لائن جرنل ازم کے بانیوں میں سے ہیں، سن 2001 میں آن لائن جرنلسٹس ایسوسی اینسن(OLJA.ORG) کا قیام عمل میں آیا تو آپ اس کے نائب صدر مقرر ہوئے ، آپ کی کوششوں سے حکومت ہند نے آن لائن جرنل ازم کو تسلیم کرتے ہوئے آن لائن جرنلسٹوں کو ایکریڈیت کرنے کا فیصلہ کیا،

اصغر بھائی سے فون پر کئی دفعہ بات ہو چکی ہے ۔۔ اتنے شفیق اتنے مہرباں کہ حیران ہو جاتی ہوں ۔۔بڑی پابندی سے بھارت کے کالم نگاروں کے کالم بھجواتے ہیں اور خبروں کی ترسیل جاری رکھتے ہیں کہ ان کی ہمراہی پر نا زہونے لگتا ہے ۔۔  آج کل گردوں کے عارضے کی وجہ سے علیل ہیں ۔۔ آپ سب سے دعائے صحت کی اپیل ہے ۔۔۔اصغر بھائی بس جلدی سے اچھے ہو جایئے ۔۔۔

سید مصباح حسین ''بیورو چیف آسٹریلیا''اور ترجمان عالمی اخبار

سید مصباح حسین جھنگ کے علمی اور ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور انکے برادر بزرگ نجم سبطین حسنی اپنے والد کی علمی میراث کے حقیقی علمبردار اور ادبی و علمی حلقوں میں اپنی پہچان کے مالک ہیں۔

  مصباح نے  پنجاب یونیورسٹی سے جرنلزم میں بی اے کیا اور پاکستان کےمقامی اخبارت میں رپورٹنگ اور مضمون نگاری کرنے لگا۔ بعد میں   قائد اعظم یونیورسٹی سے ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹدیز میں 1998میں ماسٹرز کیا۔

ڈان ، پاکستان ٹائمز  اورروزنامہ پاکستان اسلام آباد میں مضمون نگاری کی اور اب 2003سے آسٹریلیا میں ہیں جہاں  اردو پوسٹ آسٹریلیا کے نام سے ایک اخبار شروع کیا اور صدائے وطن کے عملے میں بھی رہے۔

مصباح بھائی کو میں ان کے  بڑے بھائی سبطین حسنی کے توسط سے ملی ۔۔ حسنی بھائی کی شاعری کی میں برسوں سے مداح ہوں اور سڈنی کے کتنے ہی مشاعرے ان کی وجہ سے یادگار ہوئے ۔۔ اسی گھر سے ایک اور چراغ جلا اور وہ ہے  سید مصباح حسین جو عالمی اخبار کے مستقل  کالم نگار ہیں ۔۔ان کی فصاحت ، بلاغت اور کلام کی جرات سے کسی کو انکار نہیں ۔۔  بس زرا کم دیکھائی دیتے ہیں لیکن عالمی اخبار پر شیر کی نظر رکھتے ہیں ۔۔ اس لیئے ہمیں ان کے ہوتے ہوئے کبھی اندورنی اور بیرونی خلفشار کا سامنا نہیں کرنا پڑا  ۔۔ انہوں نے کئی بار ہماری شکست کو فتح میں بدلا ہے ۔۔ان سے اکثر ہی فون پر بات رہتی ہے ۔۔ بے انتہا ملنسار سے مصباح بھائی کی اہلیہ آمنہ بے انتہا خوش اخلاق اور محبت کرنے والی خاتون ہیں ۔۔۔۔  اللہ پاک  ان کے اہل خانہ کو اپنے حفظ و اماں میں رکھے ۔۔آمین ۔

امجد شیخ۔''مدیر تکنیکی امور و ویب ماسٹر'' عالمی اخبار


امجد شیخ ‘‘عالمی اخبار‘‘ کے سفر میں ‘‘مدیر تکنیکی امور اور ویب ماسٹر‘‘ کے طور پر شامل ہیں اور اس ویب سائٹ کو جنگی بنیادوں پر کام کر آپ قارئین تک پہنچانے میں امجد شیخ نے لاہور کی زرقا مفتی کے ساتھ مل کر کسی مالی منفعت اور لالچ کے بغیر نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔

یورپ کے شہر سویڈن میں مقیم امجد شیخ  کا تعلق پاکستان کے شہر راولپنڈی کے تجارتی گھرانے سے ہے۔ انہوں نے 1971 میں قدیم راولپنڈی میں جنم لیا، شروع سے ہی کتاب سے ایسی محبت ہوئی جس میں آج تک کوئی کمی نہیں ہوئی۔

 میٹرک کے بعد آپ نے گورنمنٹ کالج اصغر مال میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جہاں جناب ماجد صدیقی  کی زیرِ پرستی شاعری کی
سجمھ بوجھ حاصل ہوئی، اور جناب انور مسعود اور مرحوم ضمیر جعفری جیسےبزرگوں  کی صحبت نے اس شوق کو جلا بخشی۔

ان کی اردو میں زاتی ویب سائیٹ 1994سے کام کر رہی ہے۔ جسےانہوں نے اردو زبان کے پہلے ٹروٹائپ فونٹ، عمیر اول میں بنایا تھا۔ کچھ خانگی مجبوریوں کے باعث امجد کو سویڈن آنا پڑا، جہاں سے انہوں نے پہلے اردو لائف کا اجرا کیا۔ جس میں خالصتااردو ادب کی ترقی پر توجہ دی۔ فلیش کے ذریعے ایک پلگ ان ڈیولپ کیا جو اردو ٹیکسٹ کو دکھا سکے۔ اردو ادب کی مشہور صنف مشاعرہ کی ریکاڑڈنگز کو2001 میں آڈیو اور اب 2006 سے ویڈیو میں پیش کیا۔

جب بی بی سی نے اپنی سائٹ اردو میں شروع کی تو اردو نسخ ایشا ٹائپ منظرِ عام پر آیا۔  بی بی سی والے خود بھی ایشا سافٹ والوں کا لکھا پروگرام تحریر کے لیئے استعمال کرتے تھے۔ امجد نے بہت محنت کے بعد اس کا ویب ورژن ڈیولپ کیا جو اردو پیڈ۔کوم پر اب بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ اردو کی واحد سائٹ تھی جہاں سب سےپہلے اردو لکھنے یا اسے ای میل کرنے کی سہولت فراہم کی گئی۔ امجد کہتے ہیں کہ یہ جو آج جگہ جگہ ویب بیسڈ اردو رائڑرز دستیاب ہیں ان سب کا باوا آدام دراصل اردو پیڈ ہی ہے۔

“آج کل امجد بھائی  ایک سویڈش فرم میں بطور آرٹ ڈائرکٹر تعینات ہیں جہاں وہ ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا کے میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہےہیں۔ اور ظاہر ان کے پاس فن ہو اور اردو میں کسی حوالے سے اظہار نہ ہو تویہ ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے زاتی طور پر احمد فراز پر ایک خصوصی دستاویزی فلم " لفظ کو پھول بنانا تو کرشمہ ہے فراز" کے نام سے بنائی تھی جسے آپ سب نے بہت پسند کیا تھا ۔۔

محمد ادریس ۔ مدیر ۔ شعبہ کھیل

محمد ادریس ریڈیو پاکستان پشاور میں پہلے ڈیوٹی آفیسر فوراً بعد پروگرام پروڈیوسر کی حیثیت سے کام کیا اس کے بعد1964ء سے 1966ء تک ریڈیو پاکستان کراچی میں پروگرام پرپروڈیوسر رہے۔

آپ  1966ء مارچ سے فیصل آباد میں مرحوم حکیم سعید کے ادارے’’ہمدرد‘‘ سے منسلک ہیں اور’’ہمدرد‘‘ کے تقسیم کار کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

کرکٹ کی اردو کمنٹری کرنے والے اہم ترین ناموں میں انکا شمار ہوتا ہے اور اسی مناسبت سے 1976ء سے اب تک ریڈیو اور T.Vپر اُردو میں کرکٹ کمنٹری کر رہے ہیں۔

 روزنامہ ’’شیلٹر‘‘ کے سپورٹس کے صفحہ کے انچارج ہیں۔ کرکٹ سے متعلق ریڈیو پاکستان سے ان کے تبصرے اور جائزے نشر ہوتے رہتے ہیں۔ قومی اخباروں میں کرکٹ کے حوالہ سے ’’کالم‘‘ لکھنا معمول ہے۔ ادیبوں، فنکاروں اور صاحبِ علم سے کچھ حاصل کرنا عادت ہے۔۔

میں ادریس صاحب کو عرصہ بیس برس سے جانتی ہوں جب میں پنجاب میڈیکل کالج میں پڑھنے فیصل آباد آئی تھی ۔۔ ادریس صاحب میں ہمہ وقت ایک بڑا بھائی ۔۔ ایک باپ ۔۔ ایک مہربان استاد ۔۔ اک سایہ دار سرپرست بیک وقت سانس لیتا ہے ۔۔ میرے ماموں خالد مسعود جو ادریس صاحب کے یار غار بھی ہیں ان کے لیئے کہتے ہیں کہ مصبیت انسان کو ڈھونڈتی ہے لیکن ادریس مصبیت کو ڈھونڈتا ہے اور گلی گلی پوچھتا ہے کہ ہے کوئی ضرورتمند ۔۔ ہے کوئی مشکل میں ۔۔۔ان کی انسان دوستی اس دنیا کی نہیں لگتی ۔۔ برسوں سڈنی کے ریڈیو ایف ایم  پر میرے ساتھ کھیلوں کی خبریں براہ راست فیصل آباد سے کرتے رہے ۔

 میری پہلی کتاب “گرد با دحیات “ ادریس صاحب کے زکر کے  بغیر ادھوری ہے ۔۔ میری غیر موجودگی میں بھی  نگہت نسیم کو پاکستان میں زندہ رکھنے میں ادریس صاحب  کی وہ شفقت ہے جس کے لیئے میری ہر سانس سے ان کے لیئے درازی عمر کی دعا نکلتی ہیں ۔۔۔میری کتاب “مٹی کا سفر“ پر   “شہزاد احمد “ نے جب تبصرہ کیا تو مجھ سے زیادہ انہیں خوشی تھی اور مرے کانوں میں ان کی آواز ابھی بھی گونج رہی ہے ۔۔ وہ کہہ رہے تھے  کہ “ جانے کیا جادو ہے نگہت آپ کے پاس کہ شہزاد احمد جیسا کسیلا آدمی بھی ریڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے تعریف کر رہا تھا “۔۔ میں نے کہا کہ میرا جادو میرے راہبروں میں ہے ۔۔میرے سرپرستوں میں ہے جن کی دعایئں اور محبتیں مجھے مرنے کے بعد بھی زندہ رکھیں گی  ۔۔۔

غزالہ رشید‘‘مدیر بچوں کاادب‘‘ عالمی اخبار
کراچی سے لکھتی ہیں
‘‘اپنے آپ سے باتیں کرنا آسان ہے لیکن اپنے بارے میں بتانا خاصا مشکل ہے، ویسے بھی سننے، کہنے کے دن تیزی سے بیت رہے ہیں۔ نگہت نسیم کا اصرار پھر سے ماضی کی طرف بلاتا ہے اور سفر کی روداد کہتے ہوئے کچھ یاد کیا۔ ۔۔کچھ بھول گئے کہ مصداق پہلے لکھنا آیا اور پھر شاید بولنا۔

نونہال، تعلیم و تربیت یہ سب ابو کی مہربانی تھی کیونکہ امی اور ابو کو پڑھنے کا بے حد شوق تھا۔ ادبی ماحول ورثے میںاور پھر جہیز میں بھی ملا۔ تجوری میں سنبھال کے نہیں رکھا، استعمال میں رکھا تاکہ زنگ نہ لگے۔

ایم اے آنرز سوشیالوجی (عمرانیات) میں کیا۔ آنرز میں فرسٹ کلاس 3rd پوزیشن تھی۔ لیکن لکھنے پڑھنے کے شوق کی وجہ سے ملازمت جاکے خود ہی چاند گروپ آف پبلیکیشن میں کرڈالی۔ اور بہت خوش تھے۔ گھر والوں کے اصرار کے باوجود سی ایس ایس کرنے سے گھبراتے رہے۔ کیونکہ اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا شوق تھا خاصا مردانہ شوق تھا، وقت دور کھڑا مسکرارہا تھا۔

یوں سمجھئے کہ قلم کو رفتار ملی اور اتنا کچھ لکھا کہ سنبھالا بھی نہیں۔ دوستوں کی محبتیں ہمیشہ سنبھالیں اسی لیے شاید آج پھر آپ اور اپنا پن میرے ساتھ ہے۔ شادی کے چھ سات سال بعد حسن بن نسیم زندگی میں آئے اور مامتا کے جذبے نے سر ابھارا اور اْسی سال سے بچوں کی کہانی کی آمد ہونے لگی کیونکہ اردو میرے خون میں شامل ہے۔ اور اس کی محبت میرا ورثہ، میرا جنون۔

کچھ کام آکسفورڈ پریس یونیورسٹی کے ساتھ کیا۔ عشبہ پبلیکیشن کے ساتھ کافی عرصہ نصابی کتب پر کام کیا۔ اور پھرماہنامہ دوشیزہ کے ساتھ وابستہ ہوگئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ریڈیو پر بچوں کی کہانی اور بزرگوں کے لیے کالم لکھے پڑھے۔

اخلاقیات میرا پسندیدہ موضوع ہے، ریڈیو کی آوازیں اور دوستوں کی محبتیں ہیں جو میرے قلم کو رواں رکھے ہوئے ہیں، یہ کتابی جملہ قطعی نہیں ہے بلکہ ایک مصرعے پر آپ سے رخصت لیتی ہوں ۔

‘‘میں کیوں نہ ایک ہی قطرے سے سیر ہوجاؤں۔‘‘

غزالہ رشید۔کراچی

غزالہ میری ان دوستوں میں سے ایک ہے جن کے سامنے میں نے لکھنا شروع کیا ۔۔ اپنی غلطیوں کو درست کیا ۔۔ اور اس جدوجہد میں ہم رکابی میسر آئی ۔۔ ہماری بہت ساری یادیں مشترکہ ہیں جن پر جب بھی ہم اکٹھے ہوں خوب ہنستے ہیں ۔۔ غزالہ کو میرے افسانوں کی پروف ریڈنگ میں جو عرق ریزی کرنی پڑی ہے اس کا حال اب میں جان پائی ہوں جب میں اسی مرحلے سے روز گزرتی ہوں ۔۔ نگہت نسیم کو زندہ رکھنے میں غزالہ رشید کا نام بلا شبہ سر فہرست ہے ۔۔ عالمی اخبار میں بچوں کا صفحہ خاص غزالہ ہی کا خاصہ ہے کہ جو اتنی دور بیٹھ کر اپنی بے پناہ  مصروفیت میں سے وقت نکال کر ترتیب دیتی ہیں ۔۔آج کل “دوشہزہ ڈایئجسٹ “ کی مدیرہ خصوصی ہیں ۔۔

روبینہ فیصل ‘‘بیورو چیف ٹورنٹو‘‘ عالمی اخبار
 
روبینہ فیصل نئے لکھنے والوں کی اُس کھیپ سے تعلق رکھتی ہیں جنہوں نے اردو ادب میں تخلیق کاری کو تجارت کے لیئے نہیں  بلکہ ایک فکر اور نظریے کے لیئے اپنایا ہے اور یہ فکر سچ کی تشہیر اور سچ کی تصویر کشی ہے۔

روبینہ فیصل صاحبہ نے اپنا تعارف اس طرح لکھا ہے

میں نے لائلپور پاکستان سے ہائی سکول تک تعلیم حاصل کی ۔۔ کوہ نورگرلز سکول ۔ اب نجانے کس حال میں ہوگا ۔ گورنمنٹ کالج فار گرلز سے ایف ایس سی پری میڈیکل کیا ۔۔ میڈیسن اور ڈاکٹری سے کوئی دلچسپی نہیں تھی انسانوں کے جسم کو ٹھیک کرنے کی بجائے انسانوں کے دماغ پڑھنے کا شوق تھا ، نفسیات کے مضمون  میں بہت دلچسپی تھی ،مگر والدہ کو ان مضامین کی پڑھائی وقت کا ضیاع لگتا تھا لہذا لاہور گرلز کالج میں انگلش لٹریچر اور نفسیات میں نام میرٹ لسٹ میں آیا رہا مگر فیس کلرک کے آفس تک نہ پہنچ پائی ۔ بغیر کسی دلچسپی کے ہیلی کالج آف کامرس سے بی کام کیا ۔

 کینڈا کے ابتدائی دن میرے منتظر ہیں کہ میں ان پر قلم اٹھاؤں اور بے شک ان تجربات پر ایک کتاب میرے اوپر میرا ہی ادھار ہے ۔،مجھے لکھنے کی طرف دھکیلنے والے( فیصل کی حوصلہ افزائی کے بعد) ڈاکٹر خالد سہیل ہیں جن سے پہلے دن سے آج تک اصولی اور نظریاتی اختلاف بہت رہا ہے مگر اس میں کوئی شک نہیں میرا پہلا کچا کچا افسانہ سن کر ڈاکٹر صاحب نے نہ صرف میری حوصلہ افزائی کی بلکہ ایک ادبی نشست میں مجھے بڑے بڑے تجربہ کار افسانہ نگاروں کے سامنے افسانہ پیش کرنے کا موقع دیا ۔

کالم نگاری کا باقاعدہ آغاز یہاں کینڈا سے مقامی طور پر چھپنے والے ایک اردو اخبار سے کیا تھا ۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ کالم نگاری میں دلچسپی بڑھتی گئی اور میں لکھتی گئی ۔

اس سے میرا افسانہ بہت متاثر ہوا  کیونکہ جب دماغ کا غبار ایک کالم میں نکلنا شروع ہوا تو افسانہ لکھنے کی نوبت کم کم آنے لگی ۔بہت سی چیزیں ہیں جنہوں نے میری پہچان بننا تھا ، مگر راستے میں کھوسی گئی ہیں اسی لئے تعارف مکمل نہیں ہوا ۔ کب ہوگا ؟ ہوگا بھی یا نہیں ؟ یہ وقت بتائے گا ۔

اہم تحقیقی دستاویزی فلمز بنانا ، اور پاکستان کے بچوں کے لئے بہت سا سوشل کام کرنا ۔ یہ بھی ادھورے کام ہیں ، میری آنکھوں کے جاگتے خواب ہیں ۔۔ ابھی سفر بہت دور کا ہے اور میں نے اس لمبے سفر کا آغاز ہی کیا ہے ۔

عالمی اخبار جو ایک مختلف نوعیت کا میرے مزاج سے ہم آہنگ ویب اخبار لگتا ہے ۔ڈاکٹر نگہت نسیم اور محترم صفدر ہمدانی صاحب جنہیں میں نے دیکھا نہیں ، جن سے میں ملی نہیں ۔۔ انہوں نے ایک فون کال سے مجھے اپنا بنا لیا ہے ۔۔ کیا اب بھی اتنے مخلص اور سادہ بیان لوگ دنیا میں ہیں یا یہ میرا ایک وہم ہے ؟ جو ایک بھی شخص حق سچ کا علم بلند کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوں ۔ اگر صفدر ہمدانی اور نگہت نسیم نے یہ ٹھانی ہے کہ وہ لوگوں کو ایک سچا اخبار اور خوبصورت تحریریں دیں گے ۔۔ تو میں یہاں کینڈا میں بیٹھ کر ان کے سچ میں اپنا حصہ ڈالتی رہوں گی ۔

روبینہ سے کئی بار فون پر بات ہو چکی ہے ۔۔ انتہائی ملنسار سے آواز والی روبینہ کے لکھنے کا انداز مجھے بہت پسند ہے ۔۔ اتنی سادگی سے دل کی سچایئاں سب کے سامنے رکھ دیتی ہیں جیسے وہ ہم سب کے دلوں ہی کی آواز ہو ۔۔ ان کے کالم میں افسانوی رنگ بہت نمایاں ملتا ہے جو ان کے لکھنے کا خاص حوالہ بن جاتا ہے اور قاری کو ایک سحر میں باندھے رکھتا ہے ۔۔ مجھے ان کے افسانے اور کالمز کا بے حد انتظار رہتا ہے ۔۔ روبینہ فیصل عالمی اخبار کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں ۔۔

چو دھری احسن پریمی ''بیورو چیف پاکستان''۔عالمی اخبار

چو دھری محمد احسن پریمی صحافت اور اردو اہل قلم کی دنیا میں " احسن پر یمی" کے نام سے جانے جاتے ہیں اور  پاکستان میں غازیوں اور شہیدوں کی سرزمین گجرات کے ایک نواحی گائوں لو رائے میں ایک زمیندار و علمی گھرانے " رائے چودھری "میں 04-06-1968 کوپیدا ہوئے۔

   چودھری احسن پر یمی نے ابتدائی تعلیم تا گریجویشن گجرات سے جبکہ ایم اے ، ایم فل جرنلزم و میڈیا مینجمنٹ و پا لیسی، کالجز آف پروفیشنل سٹڈیز لا ہورسے کیا۔1990 میں فارغ التحصیل ہونے کے بعد بین الاقوامی ادارے کے جریدہ " ورلڈ پریس سروے" میں بطور چیف ایڈیٹر کام کیا۔1994تا1998تک مختلف قومی اخبارات میں فیچر نگاری کی اور ا سلام آباد میں قا ئد اعظم انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل افیئرز میں بحثیت ڈائر یکٹر پرو گرام فرائض انجام دیے۔1998تا 2003 تک دی نیوز فیچر سروس میں بطور فیچر ایڈیٹر کا کیا اور 2003ءتامئی2007 تک سینڈیکیٹ فیچرز انٹر نیشل میں ا سلام آباد سے بطور بیورو چیف منسلک رہے۔2007 تا حال بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس سروس"اے پی ایس" کے چیف ایڈیٹر ہونے کے علاوہ  راولپنڈی اور اسلام آباد سے اردو اور انگریزی زبانوں میں شائع ہونیوالے ہفتہ وار اخبار "انسانی ترقی" کے بھی چیف ایڈیٹر و پبلشر ہیں۔
چودھری احسن پریمی کے قو می اخبارات میں شائع شدہ کالموں کی تعداد دس ہزار سے بھی زیادہ ہے۔چودھری احسن پریمی کئی ایک ملکی و غیر ملکی صحا فتی تنظیموں کے عہدیدار بھی ہیں۔

احسن بھائی سے جب فون پر بات ہو انہیں مصروف ہی پاتی ہوں ۔۔ پھ ربھی بڑی تسلی اور دھیان سے بات نہ سرف سنتے ہیں بلکہ تسلی و تشفی بھی ہمراہ کر دیتے ہیں ۔۔ ان کے ابتدائی دنوں کے بلاگ انتہائی شاندار اور یاد گا ر ہیں ۔۔ مجھے کبھی کبھی ان کی مصروفیت ایک آنکھ نہیں بھاتی ۔۔ عالمی اخبار سے دور جو کر دیتی ہے ۔۔۔ انہوں نے کل پھر ایک نئی امید کے ساتھ مجھے اپنی شمولیت کی یقین دہانی کروائی ہے ۔۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان کی خبروں کی ترسیل سے ان کہ جگہ پر ہو جاتی ہے ۔۔ نہیں احسن بھائی ۔۔ ہر گز نہیں ۔۔ آپ کی باقائدہ شمولیت کا انتظار رھے گا ۔۔

خاور چوہدری ''نائب بیورو چیف پاکستان''۔عالمی اخبار

خاورچودھری1972ء کو تاریخی شہر حضرو میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم شہر کے سرکاری اسکول سے حاصل کی۔ جب آٹھویں درجے میں تھے تب سے لکھنا شروع کیا اور پھر ملک کے معروف ڈائجسٹوں میں چھپنے کا بھی سلسلہ شروع ہو گیا۔شروع میں مختصر مضامین ،کہانیاں اورغزلیں لکھیں ازاں بعدنعتیں کہیں۔1993ء میں ان کا نعتیہ مجموعہ” شمع فروزاں“ کے نام سے شائع ہوا۔وہ نعت،غزل،دوہا،نظم،ہائیکواور ”واکا “میں طبع آزمائی کرنے کے علاوہ افسانہ اور ناولٹ بھی لکھتے ہیں۔

 انھوں نے2004 میں راولپنڈی سے روزنامہ” تعلم“ کا اجراء کیاتواس کے ساتھ ہی ”تیسرارُخ“ کو واپس ہفت روزہ میں تبدیل کردیا۔ 2000ء میں انھوں نے کالم نویسی کا بھی آغاز کردیاتھا۔ان کے کالم” جنگ،نوائے وقت،خبریں، اوصاف، اذکار، ہمدرداوراساس وغیرہ میں چھپتے رہے۔ مئی2005ء سے انھوں نے روزنامہ” اسلام“ کے ساتھ با معاوضہ کالم نگار کی حیثیت سے وابستگی اختیاکر لی۔مہینے میں کم ازکم بیس کالم شائع ہونے لگے۔ یہ سلسلہ اَب بھی جاری ہے۔

خاورچودھری کی ادبی تحریریں ملک کے نامور ادبی رسالوں” سخن وَر، تجدیدنو،بیاض،شعروسخن،قرطاس،نیرنگ خیال اور تضمین وغیرہ میں چھپتی رہتی ہیں۔ان کا ایک طویل ناولٹ 1996ء میں شائع ہو چکا ہے۔

 حال ہی میں معروف افسانہ نگار سیدن نصرت بخاری نے ان مضامین اور تاثرات کو یک جا کرکے ”حدیثِ دیگراں“ کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس سے قبل انڈیا سے شائع ہونے والے آن لائن ادبی رسالے ”سمت“ نے ان کے حوالے سے خصوصی گوشہ بھی شائع کیا اور اپنے اداریے میں انھیں” ورسٹائل جینیئس“ کا خطاب بھی دیا۔

خاور بھائی میرے بڑے لاڈلے سے بھائی ہیں ۔۔ اکثر فون پر بات ہو جاتی ہے ۔۔ ادبی دنیا میں ایک مقام رکھنے والے خاور بھائی مجھے صرف اپنے بھائی ہی دکھتے ہیں ۔۔ اس لیئے بڑے دلار سے کالم اور افسانوں کی فرمائش ایسے وقت بھی کر دیتی ہوں جب وہ مصروفیت کی بلندیوں پر ہوتے ہیں ۔۔ لیکن مجال ہ خاور بھائی نے کبھی کہا ہو کہ یہ ممکن نہیں ۔۔ خاور بھائی زندہ با د

فریدہ لاکھانی‘‘مدیرملٹی کلچر‘‘ عالمی اخبار

فریدہ لآ کھا نی  سڈنی کے فکری حلقوں میں  ایک پہچان رکھتا ہے اور ان کا ہونا محفل کی شان بڑھاتا ہے ۔ بنیادی طور پر خود گجراتی ہیں لیکن اردو ادب میں شاعری ، کالم نگاری اور فکری مضامین فریدہ کی پہچان ہیں ۔ آپ میں سے سب نے ضرور ہی ان کے کالم عالمی اخبار میں پڑھیں ہونگے ۔۔ عالمی اخبار کی مستقل کالم نگار ہیں ۔ فریدہ کی علم دوستی اور علم کی خدمت کی میں ہمیشہ سے معترف رہی ہوں ۔۔ کراچی یونیورسٹی سے جرنلزم میں ماسٹر کیا ، کئی اخبارات اور ادبی جرائد کی ایڈیٹر رہ چکی ہیں ۔وہ مترجم کے طور پر بھی کام کرتی ہیں اور سڈنی کے عدالتی مقدمات کے تراجم میں کامیابی حاصل کر چکی ہیں۔ بھی ہیں 

فریدہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے آسٹریلیا کے قومی ترانے کا اردو میں ترجمہ کیا اور وہ شاعرات اور شاعروں میں ترجمہ کرنے والی پہلی پاکستانی ہیں ۔۔ان کا حال ہی میں ایک شعری مجموعہ “پیمانہ ہستی“ کے نام سے منظر عام پر آیا ہے ۔ فریدہ نے پاکستان کی نمایئندگی اور اردو کے فروغ کے لیئے کئی عالمی مشاعروں میں شرکت کی ہوئی ہے ۔۔

فریدہ بہت محبت ، قدر کرنے والی انتہائی ملنسار دوست ہے ۔۔عالمی اخبار کو فخر ہے کہ ہمارے بے حد اصرار پر اپنی بے پناہ مصروفیتوں میں سے بھی ہمارے لیئے وقت نکال لائی ہیں ۔۔اور ملٹی کلچر کے شعبے کی مدیر کی حثیت سے عالمی اخبار کے کارواں میں شامل ہوئی ہیں ۔

 منظور قا ضی جرمنی سے ہمارے وہ ساتھی ہیں جن کے ساتھ ہونے پر عالمی اخبار کو فخر ہے جو صرف اردو کی محبت میں ہمارے ساتھ دن رات کی کاوشوں میں ہمہ وقت شامل رہتے ہیں ۔عالمی اخبار کے بلاگ سیکشن میں شاعری کے جتنے بھی بلاگ ہیں وہ نوے فیصد منظور بھائی کی اردو محبت کا منہ  بولتا ثبوت ہیں ۔۔ وہ خود بھی شاعری کرتے ہیں اور بہت خوبصورت غزلیں کہتے ہیں ۔۔ دیکھئے کتنی محبت سے عالمی اخبار کے لیئے لکھتے ہیں ۔۔

ہم کو اپنی جاں سے پیارا عالمی اخبار ہے
مونس و ہمدم ہمارا عالمی اخبار ہے

دستِ صفدر کا سنوارا عالمی اخبار ہے
چشم نگہت کا ستارا عالمی اخبار ہے

شیخ امجد کا نکھارا عالمی اخبار ہے
زرقا مفتی کا دلارا عالمی اخبار ہے

بزمِ اردو کا سہارا عالمی اخبار ہے
امنِ عالم کا ادارا عالمی اخبار ہے

بحرِ اردو کا کنارا عالمی اخبار ہے
یہ تمھارا اور ہمارا عالمی اخبار ہے

منظور بھائی بے انتہا سادہ مزاج اور کشادہ دل پرخلوص انسان ہیں ۔۔ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور پرانے لکھنے والوں کو دل کھول کر داد دینا صرف منظور بھائی کا ہی ھنر و کمال ہے  ۔۔ بلاگ سیکشن میں سب سے زیادہ مقبول اور احترام سے دیکھی جانے والی شخصیت اگر کچھ دنوں کے لیئے بھی رخصت پر چلی جائے تو ہر شخص متفکر ہو جاتا ہے ۔۔ اب حال یہ ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی جایئں ہم سب کو ایک بار نہیں کئی بار بتا کر جاتے ہیں اور جہاں بھی جایئں وہاں سے بھی رابطہ رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔۔

بھائی اقبال حیدر ( فرینکفرٹ ،جرمنی ) کے نام سے کون واقف نہیں ۔۔ اول روز سے ان کی شمولیت پر عالمی اخبار کو فخر ہے ۔۔


ان کے قلم کی بے باکی اور سچائی کے ان کے دشمن بھی معترف ہیں ۔۔ مجھے اب تک ان کا کوئی بھی لکھا ہوا کالم یاد نہیں جس نے تہلکہ نہ مچایا ہو ۔۔


ہو سکے تو زرا ان کا “عمران خان “ پر لکھا ہوا کالم دیکھئے جس پر سال بھر سے روزانہ ہی کوئی تبصرہ کر دیتا ہے ۔۔۔

اردو افسانے کا ایک معتبر اور بہت بڑا نام ۔۔ ترقی اردو کا حوالہ محترم بھائی عارف نقوی (برلن)  اپنی محبتوں اور شفقتوں کا اظہار کرتے رہتے ہیں ۔۔ میری پہلی شاعری کی زیر طبع کتاب “اور سفید جھیل ھنس پڑتی ہے“  پر انہوں نے ہی تبصرہ لکھا ہے ۔۔ ان سے جب بھی بات ہوتی جیسے علم و ادب کے خزانوں کے منہ کھل جاتے ہیں ۔۔ ایک ایک بات حفظ کرنے کو جی چاہتا ہے ۔۔

ہمیشہ ہی اپنی مصروفیت میں سے وقت نکال کر عالمی اخبار کو اپنی تخلیقات بھیجتے رہتے ہیں ۔۔

بھائی  انور ظیہر رہبر( برلن ) ۔۔ ہمیشہ ہی ہمارے ساتھ رہے ۔۔ حوصلہ بھی دیتے رہے اور اپنی تخلیقی شمولیت سے عالمی اخبار کا وقار اور عزت بھی بڑھاتے رہے ۔۔
جاوید زیدی (ھیوسٹن ) اور سلیم سید (ھیوسٹن ) سے خبروں کی ترسیل جاری رکھتے ہیں ۔۔

بھائی حسین افسر (لکھنو)  سے میرا رابطہ جی میل پر تقریبا روز رہتا ہے ۔۔ مجھے ان کی اخبار “آگ “ کا ہر صفحہ یاد ہوتا ہے اور انہیں عالمی اخبار کا ۔۔ جب بھی کوئی نئی خبر آتی ہے ۔۔ بھائی سب سے پہلے ہمیں بتاتے ہیں اور بعد میں اپنے اخبار میں لگاتے ہیں ۔۔ بقول بابا کے حسین افسر عالمی اخبار کو جہیز میں ملے ہیں ۔۔ بابا حسین بھائی کے بہت ناز اٹھاتے ہیں ۔۔ میں کہہ کہہ کر مر جاتی ہوں تب بھی کوئی کالم لکھ کر نہیں دیتے لیکن حسین بھائی کی ایک آواز پر اسی وقت لکھ کر بھیج دیتے ہیں ۔۔۔ حسین بھائی حالانکہ لکھنو میں رھتے ہیں لیکن بنگال کے لگتے ہیں ۔۔۔ بنگال کا جادو جو مشہور ہے ۔۔

 ڈاکٹر پنہاں (امریکہ) شاعری میں اساتذہ کا مقام  رکھنے والی میری آپا بہت ہی مخلص اور حوصلہ بڑھانے والی شخصیت کا نام ہے ۔۔ وہ ھمیشہ کہا کرتی ہیں “ تعریف سب کے سامنے اور تنقید کے لیئے تخلیہ بہت ضروری ہے “ ۔۔ ہم ان سے بہت کچھ سیکھتے ہیں ۔۔

Mohammed Safdar. Editor English Section

Mohammed Safdar introduces himself like this........I'm currently in my 3rd year of studying Economics, Politics and International Studies at the University of Warwick.
 Despite the fact that I'm not studying Journalism, I'm concious of the world around me, and the way in which worldy affairs are mediated to the populace, and as a result, I've always been interested in writing. Encouraged by academically motivated parents, writing has been a gift passed on to me, and one which I enjoy .using to speak about current affairs.

محمد صفدر (بابا کے فرزند )  جسے بابا پیا رسے موہی یا موہا کہہ کرپکارتے ہیں ۔۔ پہلی ہی بار اتنی محبت سے ملا کہ لگا جیسے پہلے سے ملاقات ہو ۔۔ فون پر اکثر بات ہو جاتی ہے ۔۔ بابا ہی کی طرح بظاہر سنجیدہ نظر آنے والا لیکن کچھ نہ کچھ ایسے کہہ جاتا ہے کہ سامنے والا مسکرا کر رہ جاتا ہے ۔۔ انتہائی زمہ دار سا محمد بابا کا بڑا لاڈلا اور گہرا دوست ہے ۔۔ عالمی اخبار کے انگریزی سیکشن کو  اپنی پڑھائی کے ساتھ مکمل زمہ داری سے اپ ڈیٹ کرنا یقینانئی نسل کے لیئے ایک روشن مثال ہے ۔۔۔

دوستو ۔۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کو عالمی اخبار کے پرانے رفقاء سے مل کر خوشی ہوئی ہو گی  ۔۔ اور میری ہی طرح آپ کو بھی ایک بار ان سب سے ملنے کی خواہش بھی جاگی ہو گی ۔۔ آیئے مل کر دعا کرتے ہیں ۔۔ اور ان سب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں ۔۔

 


:دیگر مضامین
(27.10.2009) کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں کشمیری یوم سیاہ منارہے ہیں
(27.10.2009) وسیم اکرم کی اہلیہ کو لاہور میں سپرد خاک کر دیا
(27.10.2009) عالمی اخبار کے ایک برس کا ادبی سفرنامہ ۔از؛ نگہت نسیم
(26.10.2009) عراق میں ہولناک بم دھماکے
(24.10.2009) پاکستان کے قبائلی علاقےجنوبی وزیرستان میں فوجی کاروائی جاری ہے
(23.10.2009) پشاور حیات آباد اور کامرہ ایروناٹیکل کمپلیکس پر حملے
(23.10.2009) دہشت گردوں کی تلاش کے لیئے بھی کتے ہی کام آ رہے ہیں
(23.10.2009) عالمی اخبار کے ایک برس کے سفر کے ابتدائی تین بلاگ۔از؛نگہت نسیم
(22.10.2009) جگجیت سنگھ بھی ایک الگ انتہا کی بات کر رہے ہیں
(22.10.2009) عالمی اخبار کے ایک برس کے سفر کی پہلے تین کالمز ۔از؛ نگہت نسیم
(22.10.2009) نئ دھلی بین الاقوامی حج کانفرنس۔از؛ آغا سید عبدالحسین بڈگامی
(21.10.2009) اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں دہشت گردی کی کاروائی
(21.10.2009) عالمی اخبار کے ایک برس کے سفر کی کچھ حسین یادیں ۔از؛نگہت نسیم
(21.10.2009) ضلعی ناظم کے ساتھ گھر میں یہی سلوک ہوتا ہے یقینی بات ہے
(20.10.2009) اردو اور ہندکو کے معروف شاعر،ادیب اور محقق مختار علی نیئر
(20.10.2009) معصومۂ قم سلام اللہ علیہا کا یوم ولادت
(19.10.2009) جنوبی وزیرستان میں فوجی کاروائی
(19.10.2009) اے میری ارض پاک ہم تجھ سے بہت شرمندہ ہیں!
(18.10.2009) مختار علی نیئر کے انتقال پر تعزیتی پیغامات-2
(18.10.2009) مختار علی نیئر کے انتقال پر تعزیتی پیغامات-1



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں