15.10.2026, 02:14pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

عالمی اخبار میری شناخت اور میری پہچان ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
29.10.2009, 01:00am , جعمرات (GMT+1)

ڈاکٹر نگہت نسیم۔سڈنی

جی چاہا رہا ہے کہ ایک ایک ساتھی کا نام لکھوں جنہوں نے ہمارا حوصلہ بڑھایا ۔۔ ہمیں یہ احساس دلایا کہ ہم اس بات کا یقین کر لیں کہ وہ لوگ جو ہمارے ساتھ چلنا نہیں چاھتے ۔۔انہیں اب دعاؤں کے ساتھ رخصت کر دینا چایئے ۔۔ بابا (جناب صفدر ہمدانی ) ہمیشہ ہی کہا کرتے ہیں کہ کرنے والا کبھی نہ کرنے والے کے برابر نہیں ہو سکتا ۔۔


یہی احساس اس وقت اور شدت اختیار کر جاتا ہے جب نئے ساتھی جن میں سے کئی نام  ایسے ھیں جن کا علم و ادب میں ایک معتبر حوالہ ہے اور کئی دوست اپنا نام و مقام  بنا رہے ہیں اور کئی ایسے ہیں جو ایسا مقام اپنے لیئے بنانا چاھتے ہیں ۔۔ ہمارے نئے رفقاء میں جو بات سب سے زیادہ اہم ہے وہ ان کی علم دوستی اور ان کی طالب علمانہ سوچ ہے جو انہیں اس پلیٹ فارم سے جوڑے رکھتی ہے ۔۔ عالمی اخبار ان کی کی رفاقت پر نازاں ہے اور ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے ۔۔

ہمارا حال تو یہ ہے کہ جب بھی کوئی نیا ساتھی ہم  سے آن ملتا ہے اس وقت بلکل ویسی ہی خوشی ہوتی جیسے یہ کل کی ہی بات ہو  ۔۔ ابھی  ہم نے اخبارکا اجرا بھی نہیں کیا تھا بلکہ ٹیسٹنگ کے طور پر جب  خبریں اور مضامین آن لائن لگاتے تھے توکبھی بابا مجھے فون پر کہتے کہ این این زرا کنٹرول پینل تو کھول کر دیکھو ۔۔ اور کبھی میں ان سے ایسی ہی فرمائش کرتی اور پھر ہم روز ایک نیا ملک اپنے پینل میں بڑھتادیکھتے تو لگتا جیسے پورے ملک نے ہماری کاوش کو سراہا ہو ۔۔

 اسی طرح کی خوشی ہمیں آج بھی ہوتی ہے جب کوئی نیا دوست کسی بھی حوالے سے ہم سے آن ملتا ہے  ۔۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ اپنے ملک کا نمایئدہ ہو گیا ہو۔۔یا جیسے کسی نئے ملک نے ہمیں دریافت کر لیا ہو ۔۔ ہر انسان اپنی تہذیب  ،زبان اور مذہب کا سفیر ہی تو ہوتا ہے
آیئے میں آپ کو اپنے نئے دوستوں سے ملواؤں جن کی کاوشوں سے عالمی اخبار کبھی انکار نہیں کر سکتا ۔۔

سائیں رحمت علی ۔سیوڈن سے لکھتے ہیں

میں جب کسی اخبار میں کالم یا تبصرہ پڑھتا تھا تو خون جوش مارتا تھا کہ میں‌ بھی لکھوں- اسی غم و غصہ میں‌ جنگ اور نوائے وقت کو خط لکھے- پھر خبریں کو بھی لکھا اور ایکسپریس کو بھی مگر جواب نہ دارد- ایک مرتبہ چودھری جاوید صاحب کو بھی خط لکھا مگر ان کے بڑے کانوں پہ جوں تک نہ رینگی- بحرحال شاہوں کے قصیدہ خواں ہونا ایک الگ ہی عنوان ہے- پاکستانی میڈیا بھی ایسے ہی قلمقاروں کے مضمون چھاپتا ہے جو سٹیبلشمینٹ کے لکھاری ہوں- ہم جیسوں کو کون پوچھتا ہے جن کی زبان پر ہمیشہ حق موجود کا نعرہ رہتا ہے- ہم سے چاپلوسی اور خوشامد ہوتی نہیں اور نہ ہی ہمیں اسلام آباد یا کسی اور شہر میں‌ پلاٹ‌ کی ضرورت ہے- نہ ہی ہمیں کسی بادشاہ کے وفد میں‌ شامل ہونے کا شوق ہے- نہ ہی مجھے کسی وزیر اعظم یا صدر کی قصیدہ خوانی کا شوق ہے- میں‌ تو محمد(ص) و آل محمد کا ثنا خوان ہوں- اس کے بعد مجھے کسی شی کی تمنا بھی نہیں‌-

لکھنے کا مقصد یہ تھا عالمی اخبار ہم جیسے فقیروں کا اخبار ہے- اس اخبار کی وجہ سے میری بھی عالمی سطح پر پہچان ہو گئی ہے- اس اخبار نے مجھے زندگی بخشی ہے اور میں‌ اس اخبار کے ساتھ وابستہ رہ کر زندہ رہنا چاہتا ہوں-

میں‌ سمجھتا ہوں کہ عالمی اخبار دنیا کا واحد اخبار ہے جہاں‌ پر تمام مکاتب فکر اور مختلف سیاسی نظریات کے لوگ ہمہ وقت اکٹھے رہتے ہیں- یہ میری خوش قسمتی ہے میں‌ اپنے آپ کو صفدر صاحب، ڈاکٹر نگہت اور شمس جیلانی صاحب کے درمیان پاتا ہوں- دوسری طرف منظور قاضی صاحب اور سید مصباح‌ صاحب جسی ادبی شخصیات کے ساتھ سلام دعا ہے ۔ ایک طرف برادرم مناف صاحب دعائیں دیتے ہوئے نظر آتے ہیں- زرقا مفتی جیسی بہنیں اپنے قلم سے کلیاں برساتی نظر آتی ہیں- ثنا اور ماریہ نت نئے عنوان کے ساتھ بھائیوں کی ہم رقاب ہیں- فیاض امر اور ظہور سولنگی صاحب کے الفاظ میں‌ شاہ صاحب، سچل سرمست ، بابا فرید اور بلھے شاہ صاحب جیسے عظیم لوگوں کی محبت جھلکتی ہے-

جھوٹی اور سستی مشہوری وقتی ہوتی ہے دیر پا نہیں ہوتی ۔۔

عالمی اخبار اہل ضمیر کا اخبار ہے- میں‌اپنی زندگی کی خاطر آپ سب کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں-
عالمی اخبار میری شناخت اور میری پہچان ہے


جگ جگ جیئں ویر جی ۔۔آپ نے کتنی قیمتی بات کہی ہے کہ  جھوٹی اور سستی مشہوری وقتی ہوتی ہے دیر پا نہیں ہوتی ۔۔

 سائرہ بتول لندن سے لکھتی ہیں ۔۔
واہ صفدر بھائی

کیا خوب لکھا ہے۔
آپ کے قلم سے نکلا ایک ایک لفظ اس عہدِ کج مدار و بے بصر کی وہ برہنہ حقیقت ہے جس کو جانتے ہوئے بھی ہم چشم پوشی سے کام لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ جیسے درویش صفت قلمکاروں کو سلامت رکھے جو نہ صرف قلم کی حرمت کا پاس رکھتے ہیں ،بلکہ قرطاس و قلم سے انصاف کرتے ہوےء حق و صدا قت کا علم بھی بلند رکھتے ہیں۔آمین۔

جی سائرہ جی ۔ ہماری دن رات یہی کوشش ہوتی ہے کہ حق و صداقت کی صدایئں عالمی اخبار سے سے سب سے پہلے بلند ہوں ۔۔ اور جس میں آپ کی آواز بھی شامل ہو ۔۔

 ماریہ علی ڈنمارک سے لکھتی ہیں

السلام علیکم

کسی بھی اعتبار سے میں آپ سب کی صف میں شامل ہونے کی اہل ہی نہیں اسکے باوجود ہمدانی صاحب اور نگہت آپا کی سرپرستی میں میری یہاں ایک پہچان بنی ۔مجھے لکھنے کا موقع فراہم کیا گیا ۔ میرے الٹے سیدھے لکھے کو یہاں اعلی ظرفی سے شائع کیا گیا ۔یہ سب میرے لئیے بہت اہمیت رکھتا ہے ۔

مجھے آج بھی یاد ہے جب میں نے پہلی دفعہ ہمدانی صاحب کو میل پر ریکویسٹ کی تھی کے مجھے بھی لکھنے کا شوق ہے ۔کیا آپ مجھے موقع فراہم کریں گے کےمیں آپ کے اس اخبار پر کچھ لکھ کے بھیج سکوں تو ہمدانی صاحب نے بہت ہی شفقت سے میری ہمت افزائی فرمائی اور مجھے نگھت آپا سے رابطہ کرنے کو کہا ۔ اور اردو فونٹ لکھنا سیکھنے کو کہا ۔اور میری لکھی ہوئی تحریر نگہت آپا نے اصلاح کر کے شائع بھی کی ۔

میں آج بھی اگر کچھ بھی الٹا سیدھا لکھ کے نگہت آپا کو میل کرتی ہوں تو ساتھ میں‌یہ ضرور لکھتی ہوں کے آپا اپنی چھوٹی بہن سمجھ کر اسکی جس حد تک ہو سکے اصلاح ضرور فرمائئے گا ۔ اور نگہت آپا آج بھی میری اصلاح کا حق رکھتے ہوئے بہت ہی شفقت سے میرے لکھے کو شائع کرتی ہیں۔

سائیں آپ ۔ہمدانی صاحب ۔ نگہت آپا ۔جیلانی صاحب جیسے لوگ کس شناخت کے محتاج ہیں ؟اگر اصل میں دیکھا جائے تو میں ایک گمنام لڑکی ۔نا میری اسطرح کی کوئی پہچان نا میری کوئی سفارش نا ہی میرا کوئی معیار لکھنے کا ۔اسکے باوجود ہمدانی صاحب جیسے لوگوں نے میرے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھ کر کھلے دل سے کہا کے آپ لکھیں ہم آپکا ساتھ دیں گے ۔ تو اس سے بڑی بات اور کیا ہو سکتی ہے ؟
عالمی اخبار میں آنے سے پہلے نا تو میں نے کبھی کچھ لکھا نا کبھی اس طرف سوچا کے میں کچھ لکھوں اور وہ شائع ہو ۔

آج میں فخرسے یہ بات کہتی ہوں کے مجھ جیسی گمنام لڑکی کی پہچان عالمی اخبار ہے ۔اس عالمی اخبار پر کسی قسم کی کوئی خوشامد نہیں چلتی ۔یہاں ہر ایک کو اپنی رائے آزادی کے ساتھ کہنے کا حق حاصل ہے ۔ یہاں کی انتظامیہ نا تو کمرشل ہے اور نا ہی اپنو کو نوازتی ہے ۔سب کے ساتھ یکساں سلوک ۔یکساں محبت ہے۔

اس عالمی اخبار پر آنے سے مجھے میری سوچوں کو ایک نئی راہ ملی ۔مجھے اس عالمی اخبار پر ہمدانی صاحب ۔نگھت آپا ۔قاضی صاحب ۔ مصباح بھائی اور آپ جیسے لوگ ملے جو ہر ہر لمحہ میری ہر اچھی بری بات کو برداشت کرتے ہیں اور اپنی بہن اور بیٹی کی طرح میری رہنمائی کرتے ہیں

میری نظر میں عالمی اخبار ایک ایسا ادارہ ہے جو کے آزادی صحافت سے لے کر صحافت کی تربیت تک ایک خانوادہ کی طرح ہم سب کو اپنے ساتھ لے کر چل رہا ہے اور ہم ہمیشہ اس کے ساتھ فخریہ طور پر رہیں گے انشااللہ ۔۔

میری دل سے یہی دعا ہے پروردگار عالم معصومین (ع) کے صدقے میں عالمی اخبار اور اس میں ہر آنے والے انسان کو ہمیشہ ایک خانوادے کی طرح جوڑے رکھے اور عالمی اخبار کی انتظامیہ کو مزید ہمت عطا کرے کے یہ انتظامیہ ہمیشہ اس اخبار کو اس سےذیادہ اچھی طرح چلاتی رہے آمین۔

ماریہ علی عزم کی ایک ایسی زندہ مثال ہے جو فی زمانہ  ملنی مشکل ہے ۔۔ جس تیزی اور لگن سے ماریہ نے اردو نہ صرف سیکھی ہے بلکہ کالم تک لکھ ڈالے ہیں  وہ ان کی علم دوستی اور روشن مستقبل کی ضمانت ہیں ۔۔ ہم سب دوست ان کی فکری اور شعوری بیداری کی بے حد مداح ہیں اور ان کی شمولیت ہمارے لیئے حوصلے کا باعث ہے ۔۔ ڈھیروں دعایئں ۔۔ 

راجہ اکرام الحق اسلام آباد سے لکھتے ہیں

سلام مسنون
عالمی اخبار کی پوری ٹیم کو دلی مبارکباد جو اتنی محنت اور لگن کے ساتھ اس بے سروسامانی کے عالم میں آغاز سے گھبرائے اور انجام سے ڈرے بغیر ہمہ تن مصروف عمل ہیں۔
ایک دو دن میں عالمی اخبار اور اس کے بلاگ کی ورق گردانی سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں‌ کہ جس ادارے یا اخبار کے پاس ڈاکٹر صاحبہ جیسے افراد ہیں اسے پودے سے تناور درخت بننے میں نہ تو دیر لگ سکتی ہے اور نہ مشکلات اس کا راستہ روک سکتی ہیں۔۔ باقی ٹیم کا اخلاص اور محنت بھی قابل رشک ہے۔

لیکن میرا چونکہ ابھی تک صرف ڈاکٹر صاحبہ سے ہی رابطہ ہوا ہے اس لئے ان کے بارے میں مجھے وثوق ہے۔ جس پیار اور اخلاص سے وہ بات کرتی ہیں کوئی ظالم بھی انکار کی جرات نہیں کر سکتا۔ اللہ ان کی صلاحیتوں ، علم، عمل، رزق اور وقت کے ساتھ ساتھ عمر میں بھی برکت عطا فرمائے۔آمین

باقی جہاں تک ’’ شعبے پر دسترس‘‘ اور ’’خوبصورت کالم نگاری‘‘ کا ذکر ہے تو میں رسما نہیں بلکہ حقیقتا کہوں گا کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں ۔ عربی زبان کا ایک مقولہ ہے کہ ’’صاحب الدار ادری بما فیہ‘‘ گھر کا مالک اپنے گھر کے اندر کے حالات سے زیادہ واقف ہوتا ہے۔۔ تو میں کتنے پانی میں ہوں اس کا مجھے اندازہ ہے

اللہ ہمیں ساری صلاحتیں راہ حق میں صرف کرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین

بھائی راجہ گو کہ ہمارے نئے ساتھی ہیں لیکن ادب کی دنیا کے لیئے ان کا نام نیا نہیں ہے ۔۔  انہوں نے Comparetive Relgion Studies میں اسلام آباد یونیورسٹی سے ماسڑکیا ہے اور اپنے شعبے پر دسترس ان کا ہنر خاص ہے ۔۔ خوبصورت کالم نگار ہیں یعنی ترسیل علم اور حصول علم جیسی عبادتوں میں انتہائی عاجزی سے ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں ۔۔ ان کا عالمی اخبار کے کاروان میں شریک ہونا ہم سب کے لیئے باعث افتخار ہے ۔۔

تلمیذ فا طمہ برنی ڈیلس ،امریکہ سے لکھتی ہیں ۔۔

میں اس با ت بہت کھلے دل سے اعتراف کرتی ہوں کہ اخبا ر کسی فر دِ واحد یا گروہ کی ملکیت نہیں ہے بلکہ ہر لکنے والے کو بلا تخیص مو قع دیتا ہے اور اختلافا ت کو بھی شا ئع کر تا ہے ۔

تلمیذ سے میری فون پر بات ہو چکی ہے ۔۔ ان کی ایک خاص بات ہے کہ وہ بہت ہی اچھی سننے والی ہے ۔۔ بڑے سکون اور تحمل سے سامنے والی کی پرتکان لمبی گفتگو سنتی رہیں گی اور ساتھ ساتھ  میٹھے لہجے میں “ہوں “ بھی کہتی جائے گی کہ بات کرنے والے کو گھڑی دیکھنی بھی بھول جاتی ہے ۔۔۔یہی تلمیذ جب لکھتی ہے تو اپنی بے لاگ رائے سے حیران کرتی چلی جاتی ہیں ۔۔ لگی لپٹی کے بغیر کہنا تلمیذ کی پہچان ہے ۔۔

عبدالمناف ( برلن ) سے نہ صرف بلاگ لکھتے ہیں بلکہ تبصرے بھی کالم نما کرتے ہیں ۔۔ کبھی کالم لکھنے کا کہوں تو ایک دم مصروف ہو جاتے ہیں ۔۔

کہتے ہیں کہ میں نے کبھی اس زاویہ سے سوچا ہی نہ تھا، لیکن  اب مجھے احساس ہوا کہ میں بہت خوش قسمت ہوں جو مجھے بھی اتنی ادبی شخصیات کی ہم نشینی نصیب ہو رہی ہے، مجھے اس موقع کو غنیمت جاننا چاہیے، اس سے استفادہ حاصل کرنا چاہیے اور مشکور ہونا چاہیے۔

اگر چہ اس اخبار سے ہم سب مستفید ہو رہے ہیں لیکن میں نے کبھی یہ بھی نہ سوچا کہ اس کو چلانے والے اسے کیسے چلا رہے ہیں ؟ ان میں سے ہر ایک روزانہ اس اخبار پر اپنا کتنا وقت صرف کرتا ہے؟ جو وہ اپنے گھروالوں یا دوست و اقارب کے ساتھ کہیں اور گزار سکتا تھا، محظوظ ہو سکتا تھا ؟ (مجھے تو دن میں ایک دفعہ صرف نظر رسانی ہی کرنے یا یہ چند الفاظ لکھنے کے لیے کافی اہتمام سے وقت نکالنا پڑتا ہے)۔ کیا اس کو ایثار نہیں کہتے جو یہ منتظمین کر رہے ہیں؟؟

پھر میں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ یہ سارا کام مفت میں ہوجاتا ہے یا اس کا کوئی خرچہ وغیرہ بھی ہوتا ہے (پنجابی ضرب المثل ہے کہ “مفت میں تو کوئی دھکہ بھی نہیں دیتا”) یہ کون اپنے گھر کے بجٹ میں سے رقم نکال کر ہمارے لیےخرچ کر رہا ہے ؟ کیا اس کا خاندان نہیں؟ یا اس کا دل نہیں چاہتا کہ وہ اس رقم سے اپنے بچوں کے لیے کوئی چیز خریدے؟

مجھے اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ کہ اس اخبار کے منتظمین یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہیں ؟ میں تو مفت میں مستفید ہو ہی رہا ہوں(ہینگ لگی نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا ہے)، اُنہیں کیا مِلتا ہے اپنا اتنا وقت، سرمایہ، اعصاب اور توانائی وغیرہ صرف کرکے اور وہ بھی مہینے میں ایک دو دفعہ نہیں بلکہ ہر روز بلا تعطیل۔

میں جناب صفدر ہمدانی صاحب، محترمہ بہن نکہت صاحبہ اور عملہ کے دیگر حضرات سے درخواست کروں گا کہ ہمیں اس رُخ سے بھی انیا یہ اخبار متعارف کروائیں، شاید میں بھی ۔ ۔ ۔ بقول شخصے ؛ کھوٹا سکہ بھی تو کبھی کام آتا ہے-

مناف بھائی اس موقعہ پر بابا اکثر کہا کرتے ہیں یہ اخبار صرف میری وجہ سے نہیں بلکہ آپ سب کی وجہ سے چل رہا ہے۔ہاں یہ ممکن ہے کہ میں آپ سب سے زیادہ کام کرتا ہوں یا پھر ڈاکٹر نگہت صاحبہ اپنے کئی کئی گھنٹے اس اخبار کو دیتی ہیں لیکن اس سب کے باوجود اس اخبار کی ریڑھ کی ھڈی آپ جیسے احسان مند لوگ ہیں۔

میں نے ہمیشہ زندگی میں دوسروں کو آگے بڑھا کر راحت محسوس کی ہے ۔

اس سفر میں بے وفا اور احسان فراموش لوگ بھی ملے ہیں لیکن ایسے لوگ تعداد میں بہت کم ہیں۔ تعداد میں زیادہ آپ جیسے ہیں۔ بس آپ سب سلامت رہیں۔ مجھے تو یہ بھی خوشی ہے کہ جو بھی ہم کوچھوڑ کر گیا ہے اس نے جیسا کیسا بھی ہے نام کمایا ہے کہ اس نے یہ نام یہیں سے حاصل کیا تھا۔

اللہ نے عالمی اخبار پر اپنا کرم خاص رکھا ہے کہ جس کی اس اخبار کو ضرورت نہیں وہ خود بخود ہی نکل جاتا ہے۔ یہاں کوئی اقربا پروری نہیں۔بس ایک ہی معیار ہے کہ۔۔۔۔۔لکھیئے اور خوب لکھیئے۔ میں نے بھی کسی سے سیکھا تھا اور صدقہ جاریہ یہی ہے کہ میں بھی کسی کو سکھاؤں، بس یہی کرتا ہوں۔ اور  سچ پوچھیں تو اسمیں بھی کمال آپ جیسے سیکھنے والوں کا ہے۔ آپ سب سلامت رہیں ۔۔

بھائی امین ترمذی ( امریکہ ،ڈلس ) کے نام سے کون واقف نہیں ۔۔ ریڈیو کی معروف آواز ۔۔ ہمارے مستقل بلاگ نگار اور تحقیقی مضامین لکھنے پر دسترس رکھنے والے امین بھائی اپنے اصولوں کے بے حد پابند ہیں ۔۔ کئی بار ان سے فون پر بات ہوئی اور ہر بار کچھ نہ کچھ سیکھنے کو مل جاتا ہے ۔۔

بھائی سید اقبال حیدر (جرمنی ) ، سید عاصم خوارزمی (پاکستان) ، نادیہ شاہد (لندن ) ، نزہت نسیم (لندن ) بھائی احسن پریمی (لاہور ) بھائی ابو ظفر (دہلی) ۔ محترم آغاسید عبدالحسین بڈگامی صاحب (کشمیر) ، بھائی عارف کسانہ (سویڈن ) ،بھائی ارمان نجمی(ممبئی) ، بھائی امتیاز لغاری (حیدرآباد) ۔ بھائی عباس ملک (سیکسر خوشاب ) ،بھائی امجد مرزا (لندن) ‌، بھائی ظفر جعفری (امریکہ)‌، بھائی سلیمان جاذب (دوبئی)‌ ,اشرف حماد بھائی (سرینگر)  ۔محمد عظیم  اعظم  (کراچی) ، بھائی ڈاکٹر شبیر احمد خورشید( کراچی) ، بھائی عامر کیانی (سویڈن ) ,سیمیں برلاس (لندن) ۔حسام میمن (سندھ) ۔ ڈاکٹر فاطمہ جعفری (کراچی) ، عاطف توقیر (ریڈیو جرمنی ) اعجاز آزر (فرانس) ، شاکر قریشی (لندن) سارا عاصم (لندن ) عائشہ جاوید(لندن )  ،محمد عاصم (لندن ) ،وحید اختر واحد (پاکستان) ،جنگ باز خان ( کیلگری ،کینیڈا) ، بھائی طاہر ملک (جرمنی ) روبینہ فیصل (کینیڈا) اور اسحاق ساجد (جرمنی )  سے عالمی اخبار میں گاہے گاہے اپنا فکری حصہ ڈالتے رہتے ہیں ۔۔

بھائی ظہور احمد سولنگی (اسلام آباد) ھمیشہ ہمارے تیکنکی طور پر سیکھنے کا کچھ نہ کچھ اہتمام کرتے رہتے ہیں ۔۔ ہم نے ان سے اردو اور فارسی فونٹ اور ترجمہ کیسے کریں کے ساتھ ساتھ سکائپ ڈاؤن لوڈ کرنا سیکھا ۔۔ یہی خوبی ہمارے دوستوں میں ہے کہ وہ اپنا ہنرو کمال ایک دوسرے میں کشادگی سے بانٹتے رھتے ہیں ۔۔ جیتے رھئے بھائی ۔۔

عشرت معین سیما جو انوار ظہیر بھائی کی اہلیہ بھی ہیں ۔۔ خوبصورت فکر مند افسانہ نگار اور شاعرہ ہیں یعنی اپنی زات میں ایک سرمایہ ہیں ۔۔ علم و ادب کا یہ گھرانہ اول روز سے ہمارے ساتھ  ایک حوصلے کی طرح ہیں ۔۔ میری سیما سے فون پر جب بات ہوتی ہے تو میرا اصرار انہیں کچھ دیر کو عالمی اخبار کا پابند کر دیتا ہے پھر وہ کسی مصروفیت میں کھو جاتی ہیں ۔۔ لیکن ایک بات عجیب ہے سیما میں کہ وہ کسی خوشی غمی کے موقع پر کبھی ساتھ نباہنا نہیں بھولتی ۔۔ ہمیشہ کسی پری کی طرح آ جاتی ہیں اور دکھ سکھ میں شریک ہو جاتی ہیں ۔۔ اسی طرح سے اس بار جب وہ بیمار ہوئی تو ہم سب بہت بے چین ہو گئے تھے ۔۔ اللہ پاک آپ کو آپ کے اہل خانہ کو ہر مشکل سے دور رکھے ۔۔ آمین ۔۔

سعیدہ نثار (وینکوور )  پاکستان کے شہر کوئٹہ کی پیدائش ہیں اور نفسیات میں ایم ایس سی انہوں نے جامعہ پنجاب سے کی تھی اور پھر پی ایچ ڈی کے بعد برسوں اپنے والدین کے ساتھ ایران میں مقہم رہیں اور وہیں پروفیسر کے طور پر خدمات سر انجام دیں. برسوں پہلے ایران سے کینڈا کے شہر وینکور آ کر مقیم ہو گئیں.

جی وینکور جو ہم سب کے محترم شمس جیلانی صاحب کا بھی شہر ہے. سعیدہ کے سب بہن بھائی ابھی بھی ایران میں ہی ہیں اور انکی والدہ ایرانی نژاد تھیں تو مجھ فقیر کی ممانی بھی تھیں اور سعیدہ کے والد مرحوم نثار میرے ماموں تھے. کوئٹہ شہر کا پہلا سینما گھر”راحت سینما” انہی نثار صاحب کی ملکیت تھی ۔۔

سیعدہ نثار کو میں آپا کہتی ہوں اور وہ مجھے پیار سے کبھی بیٹی اور کبھی نگہت کہہ کر پکارتی ہیں ۔۔ آپا سر تا پا صرف محبت ہیں ۔۔ سچ ہیں ۔۔ کبھی شکایت نہیں کرتی ۔۔ کبھی گلہ نہیں کرتی ۔۔ بس مجھے تو وہ اس جہاں کی کبھی لگی ہی نہیں ۔۔“  ہم “ سے جب بات شروع کرتی ہیں تو زمین آسمان جیسے ان کے سامع ھو جاتے ہیں ۔۔اللہ آپ کو خوشیوں میں رکھے ۔۔ آمین ۔۔

شاہین رضوی (کویت) ۔۔ مشہور افسانہ نگار ، کالم نگار ، شاعرہ ۔۔ آپ لکھتی ہیں
بہت محترم ومکرم جناب صفدر ھمدانی صاحب۔ وعدہ رھا کہ اب عالمی اخبار کے نے جس عزت و محبت سے میراخیر مقدم کیا ھے ۔میری آنکیھں نم ھوگيں۔۔ یہ اکثر نم رھتی ھیں۔۔
دیکھنا ضبط کے لمحات میں آنکیھں میری
پھر ھے درپیش سمندر کا سفر لگتاھے
اللہ پاک آپکی توقیر و تنویر ۔صحت رزق۔ اور خوشیوںمیں مسلسل اضافہ فرماۓ آمین ثم امین۔
میرا ایمان ھے جب ھم کسی کو دل کی گہرایوں سے دعا دیتے ھیں۔۔ تو ھماری اپنی دعا بھی قبول ھوتی ھے۔جب ھم دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرکے اس کے صدباب کی کوشش کرتے ھیں۔تو ھمارے اپنے ھمیشہ ھرے رھنے والے زخم بھی بھرنے لگتے ھیں۔۔مشرقی روایات کی امین حساس دل کی مالک ڈاکٹر نگہت نیسم آ پکی محبت کی مقروض ھوں۔ مجھے عالمی اخبار کی فیملی میں شامل کرنے کا شکریہ۔۔

 شاہین رضوی  کا کو ئی رخ دیکھئے شاہین پوری آن و بان کے ساتھ ملتی ہیں ۔۔ ان کا حال ہی میں ہمیں ساتھ نصیب ہو اہے جس پر عالمی اخبار خوشی سے جھوم جاتا ہے ۔۔ صرف ایک سال کی قلیل مدت میں ایسے لوگوں کا ہمارے پلیٹ فارم پر جمع ہونا بلاشبہ اس کی کامیابی ہے ۔۔

ڈاکٹر خواجہ اکرام (نیو دہلی) سے لکھتے ہیں ۔۔

عالمی اخبار کی روح رواں ڈاکٹر نسیم صاحبہ اور ان کے دم سے چمکتا دمکتا عالمی اخبار اور اس کے تما م مستند قلمکار وں کو  بہت بہت مبارکبادیاں۔
نسیم صاحبہ کہ یہ عادت بہت اچھی کہ اپنے قارئین کو لکھنے پر اُکساتی رہی ہیں ۔ آپ کا قلم یا آپ کی انگلیاں (کی بورڈ‌) حرکت میں آجاتی ہیں ۔اس بہانے لوگوں کے جذبات ، خیالات ، احساسات اور افکار کی نیرنگیان عالمی اخبار کو نئی زینب و زینت عطا کر جاتی ہیں ۔نسیم صاحبہ آپ کی اس ادا کو خدا سلامت رکھے ۔

اکرام بھائی آپ بہت اچھے ہیں ۔۔ مجھے اس وقت بہت خوشی ہوتی ہے جب میں فرمایئش کر کے لکھواتی ہوں ۔۔ سلامت رہیں جو اتنی عزت مجھے دیتے ہیں ۔۔ عالمی اخبار کے روح رواں آپ سب ہیں ۔۔ آپ سب کے بغیر میں اور عالمی اخبار سب ادھورے ہیں ۔۔ اللہ پاک ہماری خوشیوں کے چراغ جلائے رکھے ۔۔آمین

 سیدہ ثناء فاطمہ شاہ (لندن ) مزہبی بلاگ اور شاعری کے بلاگ لگانے کے لیئے بہت ہی مشہور و معروف ہیں ۔۔ آج کل اہلبیت ٹی وی کی وجہ سے مصروف ہیں اس لیئے عالمی اخبار سے رخصت پر ہیں ۔۔ ان کا مشہور ترین بلاگ سب کو مدتوں یا درہے گا ۔۔ وہ کچھ یوں تھا
رشتہ۔ ۔ ۔
دوستی کا۔ ۔
محبت کا۔ ۔
ضرورت کا۔ ۔
خواہش کا۔ ۔
جنون کا۔ ۔
عشق کا۔ ۔
یا وہ رشتہ جو آسمان کا زمین سے ھے
بارش کا صحرا سے ھے
حقیقت کا خوابوں سے ھے
دن کا رات سے ھے
یہ کبھی ایک دوسرے سے مل نھیں پاتے
لیکن ایک دوسرے کے بغیر ادھورے بھی ھیں۔
کیا رشتے آسمان پہ بنتے ھیں؟
کبھی کبھی دنیا کے خوبصورت رشتے دنیا کے بد صورت ترین رشتے بن جاتے ھیں
رشتے آسمانوں پر بنتے ھیں۔ ہیں نا ؟
اگر رشتے آسمانوں پہ بنتے ھیں تو یہ رشتے ٹوٹتے کیوں ھیں ؟؟؟

ثناہ جہاں رہو خوش رہو آباد رہو ۔۔ اللہ پاک ہمیشہ کامیابیوں سے ہمکنار کرے ۔۔ آمین

 شعیب صفدر کافی عرصے سے بلاگ سے منسلک  ہیں ۔۔ پروفیشن کے حساب سے وکیل ہیں جس کی وجہ سے ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں اور اسی میں کچھ وقت عالمی اخبار کے لیئے بھی بچا لاتے ہیں ۔۔ ہمیں گوکہ ان سے کم نگاہی کے گلے بہت ہیں لیکن ان کی مساعی قابل توجہ بھی ہے ۔۔


ان کا ماننا ہےکہ ہماری کامیابیوں کا ہر سرا پاکستان  کے وجود کے مرہون منت ہے خواں وہ کامیابیاں اس ملک سے باہر ہی کیوں نہ ملی ہوں۔
بے شک شعیب کی بات سو فیصد درست ہے کہ ہماری پہچان پاکستان ہے ۔۔ اور ہر کامیابی اسی کے دم سے ہے ۔۔ 

 فریدہ لکھانی (سڈنی ،آسٹریلیا)   نے گذشتہ بارہ برسوں سے اپنی دوست ہونے کا اعزاز اس کم علم کو دے رکھا ہے ۔ سڈنی کے فکری حلقوں میں ان کا نام ایک پہچان رکھتا ہے اور ان کا ہونا محفل کی شان بڑھاتا ہے ۔ بنیادی طور پر خود گجراتی ہیں لیکن ادب اردو میں کرتی ہیں ( مسکراہٹ کے لیئے لکھا) ۔۔ یعنی اردو ادب میں شاعری ، کالم نگاری اور فکری مضامین فریدہ کی پہچان ہیں ۔ آپ میں سے سب نے ضرور ہی ان کے کالم عالمی اخبار میں پڑھیں ہونگے ۔۔ عالمی اخبار کی مستقل کالم نگار ہیں ۔ 

فریدہ کی علم دوستی اور علم کی خدمت کی میں ہمیشہ سے معترف رہی ہوں ۔۔ کراچی یونیورسٹی سے جرنلزم میں ماسٹر کیا ، کئی اخبارات اور ادبی جرائد کی ایڈیٹر رہ چکی ہیں ۔

فریدہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے آسٹریلیا کے قومی ترانے کا اردو میں ترجمہ کیا اور وہ شاعرات اور شاعروں میں ترجمہ کرنے والی پہلی پاکستانی ہیں ۔۔ان کا حال ہی میں ایک شعری مجموعہ “پیمانہ ہستی“ کے نام سے منظر عام پر آیا ہے ۔ فریدہ نے پاکستان کی نمایئندگی اور اردو کے فروغ کے لیئے کئی عالمی مشاعروں میں شرکت کی ہوئی ہے ۔۔

فریدہ بہت محبت ، قدر کرنے والی انتہائی ملنسار دوست ہے ۔۔اپنے اشعار ، کتابیں اور مشاعروں کی وڈیوز مجھ سے ہمیشہ شیئر کرتی ہیں ۔۔ اور ہر سال تین بار کارڈ بھیجنا نہیں بھولتی چاہے اس وقت وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو ۔۔ ایک عیدین پر کارڈ اور ایک میری سالگرہ کا کارڈ ۔۔۔ مجھے یہ فخر ہے کہ وہ میری دوست ہے اور میرے اصرار پر اپنی بے پناہ مصروفیتوں میں سے بھی ہمارے لیئے وقت نکال لائی ہیں ۔۔
خوش آمدید دوست ۔۔آپ کا آناہماری خوشی اور حوصلہ بڑھا گیا ۔۔۔ سلامت رہیں ۔۔

آخر میں اپنے بھائی فیاض امر (سندھ)  کا زکر کرونگی جو بھائی ظہور سولنگی کی دریافت ہیں ۔۔ بلا کا مضمون لکھتے ہیں اور شاعری کرتے ہیں ۔۔ ایک عرصہ تک کراچی ایف ایم  ریڈیو  پر اپنی آواز کا جادو جگاتے رہے ہیں ۔۔ حال ہی میں ایک طویل علالت (برین سرجری)  کے بعد دوبارہ ہم سب میں موجود ہیں ۔۔ عالمی اخبار کے بلاگ کی محفل میں ان کا لکھا ہوا پہلا بلاگ خاص طور حیران کن تھا اور کچھ یوں تھا کہ “وہ آئے اور چھا گئے “ ۔۔ لکھتے ہیں ۔۔

"کچھ باتیں جاننے کے لیے ہوتی ہیں، اور کچھ ماننے کے لیے!
جہاں جانا جاتا ہے وہاں سوال نہ کریں تو جاننا فضول ہے۔
اور جہان مانا جاتا ہے، وہاں سوال نہیں کیا کرتے.... کہ یہ کیوں ہے  یا وہ کیوں نہیں ہے!
بس مان لیا نا! یہی بڑی بات ہے. پھر جان خود بخود عطا ہو تی جاتی ہے.
جو لوگ سب جاننا چاہتے ہیں وہ کچھ بھی جانے بغیر چلے جاتے ہیں.
اور جن لوگوں نے بس مان لیا ان کو نہ صرف ایمان مل گیا بلکہ  آج ان کے ناموں پر یونیورسٹیاں قائم ہیں."
یہ باتیں تھیں جو وہ فقیر بابا اکثر کیا کرتا تھا.
اور میرا اس سے جھگڑا ہوتا رہتا تھا.
کہ کہاں ہے خدا؟
ہے بھی یا نہیں؟
لیکن وہ کہتا تھا، "بابا مان لو، جان بعد میں عطا ھوگی..."
لیکن میں رکنے والا کہاں تھا؟ بابا کو بار بار یہی سوال کرتا. کہ آپ کہتے ہیں کہ سورج زمیں کے اطراف چکر کاٹتا ہے، لیکن ھم تو سائنس میں یہ نہیں پڑھتے! اصل میں تو زمیں سورج کا طواف کرتی ہے! پر بابا کہتا کہ "بیٹا! ایسا نہیں ہے..... بس جو قرآن پاک میں کہا گیا ہے وہ ہی صحیح ہے..... آج نہیں تو کل، لیکن سائنس بھی یہی کہے گی."
لیکن میری وہ ہی بچکانہ حرکت.. بہت تنگ کیا اسے! اور جب ایک دن اسے تپا کہ رکھ دیا تب بولا: "آپ اپنے باپ کا نام تو بتادیں؟" میں نے بتادیا. تب وہ بولا: "اوئے کبھی اپنی ماں سے پوچھا کہ یہی ھے یا کوئی اور؟ اگر یہی ہے تو کیوں؟ جب ایک عورت نے جو تمہاری ماں ہے، اس نے جو کہا وہ مان لیا، بغیر جانے تو یہ لاکھوں رسول کروڑہا اولیاءاللہ کہہ رہے ھیں کہ "وہ" ہے تو اس پر یہ جاننے کا بھوت کیوں؟....
یہاں بھی تو ثبوت مانگو نا؟"
اور میری بولتی بند ھوگئی ۔۔

ایسے ہی لاتعداد تحریروں کے خالق ہم سب میں جب تک موجود ہیں ۔۔ مشعل راہ ہیں ۔۔۔ ایک حوصلہ ہیں ۔۔۔ اللہ پاک آپ سب کو اپنے حفظ و اماں میں رکھے ۔۔۔ اور اپنی محبتوں میں رکھے ۔۔ آمین ۔۔


:دیگر مضامین
(28.10.2009) یہ تمھارا اور ہمارا عالمی اخبار ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(27.10.2009) کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں کشمیری یوم سیاہ منارہے ہیں
(27.10.2009) وسیم اکرم کی اہلیہ کو لاہور میں سپرد خاک کر دیا
(27.10.2009) عالمی اخبار کے ایک برس کا ادبی سفرنامہ ۔از؛ نگہت نسیم
(26.10.2009) عراق میں ہولناک بم دھماکے
(24.10.2009) پاکستان کے قبائلی علاقےجنوبی وزیرستان میں فوجی کاروائی جاری ہے
(23.10.2009) پشاور حیات آباد اور کامرہ ایروناٹیکل کمپلیکس پر حملے
(23.10.2009) دہشت گردوں کی تلاش کے لیئے بھی کتے ہی کام آ رہے ہیں
(23.10.2009) عالمی اخبار کے ایک برس کے سفر کے ابتدائی تین بلاگ۔از؛نگہت نسیم
(22.10.2009) جگجیت سنگھ بھی ایک الگ انتہا کی بات کر رہے ہیں
(22.10.2009) نئ دھلی بین الاقوامی حج کانفرنس۔از؛ آغا سید عبدالحسین بڈگامی
(22.10.2009) عالمی اخبار کے ایک برس کے سفر کی پہلے تین کالمز ۔از؛ نگہت نسیم
(21.10.2009) اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں دہشت گردی کی کاروائی
(21.10.2009) عالمی اخبار کے ایک برس کے سفر کی کچھ حسین یادیں ۔از؛نگہت نسیم
(21.10.2009) ضلعی ناظم کے ساتھ گھر میں یہی سلوک ہوتا ہے یقینی بات ہے
(20.10.2009) اردو اور ہندکو کے معروف شاعر،ادیب اور محقق مختار علی نیئر
(20.10.2009) معصومۂ قم سلام اللہ علیہا کا یوم ولادت
(19.10.2009) جنوبی وزیرستان میں فوجی کاروائی
(19.10.2009) اے میری ارض پاک ہم تجھ سے بہت شرمندہ ہیں!
(18.10.2009) مختار علی نیئر کے انتقال پر تعزیتی پیغامات-2



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں