16.10.2026, 11:59am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » زرقا مفتی
 

سچ کے سفر پر عالمی اخبار کے ساتھ ۔ از؛ زرقا مفتی
01.11.2009, 02:00am , اتوار (GMT+1)

زرقا مفتی ۔لاہور

بہت سے لوگوں کی طرح میں بھی کمپیوٹر کی محبت میں گرفتار تھی۔ کتابوں کے بعد یہ میری دوسری محبت تھی جس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ کوئی دن ایسا نہ جاتا تھا کہ میں انٹرنیٹ کی کھڑکی کھول کر دُنیا کی سیر کو نہ نکلی ہوں ، کسی روز اگر ہمارے آئی ایس پی کا مزاج برہم ہوتا تو مجھے کسی کل چین نہ پڑتا تھا۔ نیٹ کی دُنیا کی کئی ادبی محفلوں میں میراآنا جانا رہتا تھا۔آپ بھی سوچیں گے کہ میرا مسئلہ کیا ہے ؟

 بس اپنے سر پھرے دماغ کو مصروف رکھنا ۔ ہر محب وطن پاکستانی کی طرح ملکی حالات و واقعات پر کڑھنا اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنا بھی میرا محبوب مشغلہ ہے ۔ اسی تنقیدی مزاج کے تحت میں نے کالم نگاری بھی شروع کر دی ۔ کچھ کاغذی اخباروں کے بعد ایک برقی اخبار میں بھی لکھنے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر نگہت نسیم اور جناب صفدر ہمدانی صاحب سے میری ملاقات وہیں ہوئی ۔

 اب روزانہ برقی اخبار کی زیارت بھی میرے معمولات میں شامل تھی سو عید کے دن زیارت کرنے پہنچی تو برقی اخبار نے سلیمانی ٹوپی اوڑھ رکھی تھی ۔ کئی بار کی کوشش سے بھی جب میں زیارت میں ناکام رہی تو گھبرا کر نگہت جی کو خط لکھا ۔

میں کچھ ایسی خاص تجربہ کار تو نہیں مگر ایک دو سائٹس بنا کر سمجھتی تھی کہ میںبھی کسی ویب ماسٹر سے کم نہیں ۔ اس لیے اخبار کی سائٹ بنانے میں اپنے مفت مشورے دیتی رہی۔ نگہت جی اور جناب صفدر ہمدانی صاحب کی باہم مشاورت سے امجد شیخ صاحب بڑی تندہی سے سائٹ بناتے رہے میرے ایک دو قیمتی مشورے بھی ضر ور اُن کے کام آئے ہو نگے۔ بلاگ کی دو تین شکلیں میں نے بنائیں ، بگاڑیں اور پھر بنائیں ۔

خیر بفضلِ خدا یکم نومبر کو عالمی اخبار انٹر نیٹ کی دُنیا میں نمودار ہو گیا۔

مجھ پر بھروسہ کرتے ہوئے جناب ہمدانی صاحب نے ادبی صفحہ کا نگراں بنا دیا ۔ میری بھلی عادت ہے کہ اپنے کام سے کام رکھتی ہوں ۔ اس لیے اپنے کام میں لگ گئی۔ نگہت جی اور ہمدانی صاحب کی تائید و امداد ہمیشہ میرے شاملِ حال رہتی ہے ۔ ہم بہت فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ نئے لکھنے والوں کی نگارشات بلا تخصیص شائع کرتے رہے ہیں۔ پاکستان میں بجلی کی آنکھ مچولی اکثر ہمارے کام خراب کرنے پر تلی رہتی ہے مگر ہم بھی اپنی دُھن کے پکے ہیں ۔
 
نگہت جی اور ہمدانی صاحب اخبار کو اپڈیٹ کرنے کا کام بڑی تندہی سے انجام دیتے ہیں ۔ اکثر سوچتی ہوں کہ یہ دونوں نہ جانے سوتے بھی ہیں یا نہیں ۔نگہت کے اہلِ خانہ بھی یقینا ہمارے شکریے کے مستحق ہیں کہ کیونکہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ نگہت اُن کے حصے کا وقت بھی اخبار کو دیتی ہیں۔

نگہت ایک ہسپتال میں ملازمت بھی کرتی ہیں اور اُن کے ڈیسک پر موجود کمپیوٹر کی کھڑکی میں بھی اخبار ہمہ وقت موجود رہتا ہے۔ نگہت اپنا وقت کیسے بانٹتی ہیں معلوم نہیں اگر اُردو میں پنجابی کو گوارا کریں تو ضرور اُن کے پاس کوئی گیدڑ سنگھی ہے۔اخبار کو اپڈیٹ کرنے کے علاوہ وہ اسے مختلف ادبی حلقوں میں متعارف بھی کرواتی رہتی ہیں۔ میری نگہت سے آدھی ملاقات ہوتی رہتی ہے پوری ملاقات کی خواہش ہے مگر فاصلے ہیں درمیان ۔۔۔

جناب صفدر ہمدانی صاحب سے غائبانہ تعارف تھا اور ہر پاکستانی کی طرح اُنکی اہلیہ ماہ پارہ صفدر کو پہچانتی تھی۔ پہلی بار اخبار کے اجراءکے سلسلے میں فون پر بات ہوئی ۔ اپنی صاحبزادی کی شادی کے لیے وہ پاکستان آئے تو غریب خانے کو بھی رونق بخشی۔مختصر سی ملاقات میں جناب صفدر ہمدانی اور ان کی اہلیہ سے مل کر ایک مصرع ذہن میں آیا ۔۔
ابھی اگلی شرافت کے نمونے پائے جاتے ہیں

سچ کے سفر پر یوں بھی عام آدمی کا چلنا محال ہوتا ہے ۔ کاغذی اخباروں کی صحافت میں گروہ بندی واضح نظر آتی ہے ۔تجزیہ نگار یا دانشور بھی سیاستدانوں کی طرح اپنے مفاد کے لیے ہمدردی اور موقف بدلتے نظر آتے ہیں۔ عالمی اخبار کا مفاد صرف سچ سے وابستہ ہے ۔
اخبار کے ساتھیوں میں ڈاکٹر شمس جیلانی صاحب کا نام بہت معتبر ہے ۔ وہ پہلے دن سے عالمی اخبار کے ساتھ ہیں اور باقاعدگی سے اخبار کے گوشوں کو اپنی بصیرت افروز نگارشات سے نوازتے رہتے ہیں ۔ بہت شفیق اور اعلیٰ اخلاق کے حامل ہیں ۔

اخبار کے ساتھ ملحقہ بلاگ کی محفل بھی خوب ہے ۔ اس محفل کو ہم کسی دانشور کے تکیہ سے تشبیہ دیں تو کچھ بے جا نہ ہو گا۔ اس تکیہ پر انسانی زندگی اور معاشرے کے ہر پہلو پر بے لاگ گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اختلافِ رائے اور اپنا موقف پیش کرنے کی کھلی آزادی ہے۔ جناب ہمدانی صاحب، نگہت جی ، مصباح بھائی ، مناف بھائی اور قاضی صاحب بلاگ کو متحرک رکھتے ہیں ۔ میں بھی کبھی کبھار اپنی بساط کے مطابق کسی بحث میں کود پڑتی ہوں ۔ فیاض امر صاحب بھی انوکھے موضوعات لے کر آتے ہیں۔ پنہاں جی کم کم آتی ہیں لیکن اُن کی آمد سے ہم ہمیشہ فیضیاب ہوتے ہیں۔
 
اگر ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو فی زمانہ کوئی بھی اخبار یا نیوز چینل تجزیہ نگاروں کی تحاریر یا گفتگو کے بل پر مقبول نظر آتا ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمیں بہت سے اچھے تجزیہ نگاروں کا بلامفاد تعاون حاصل ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ عالمی اخبار سچ کے سفر پر یوں ہی رواں دواں رہے ۔آمین


:دیگر مضامین
(26.10.2009) ایک ہی لاحقہ ہے جو ایک مقناطیس ہے۔از۔زرقا مفتی
(16.10.2009) مسئلہ اپنی بقا کا ہے۔ از زرقا مفتی،لاہور
(09.10.2009) امریکہ کی ہمدردی ۔ ۔ ۔ ہماری سر دردی۔از؛ زرقا مفتی
(01.10.2009) سچ کے سفر پر عالمی اخبار کے ساتھ ۔ از؛ زرقا مفتی
(09.09.2009) ہنگامہ ہے کیوں برپا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از زرقا مفتی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں