دکھ مری آنکھوں میں اشکوں کو سجانے آئے
دل میں بھڑکی ہوئی اک آگ بجھانےآئے
مجھکو حسرت ہے کبھی کوئی سہانا سپنا
میری آنکھوں سے مری نیند چرانےآئے
میں نے آواز اُٹھائی تو مرے سب ساتھی
مجھکو دنیاکے رواجوں سےڈرانے آئے
میرے دشمن سے کہو صبر ہے میراث مری
اب جو آئے تو نیا زخم لگانے آئے
وہ گھڑی خواب سی لگتی ہے کہ جب تیرے قدم
میری دہلیز کی قسمت کو جگانے آئے
مجھکو کافی ہے بتول اک یہی احساں اُسکا
وہ مری قبر پہ جو شمع جلانے آئے