تا رکینِ وطن، اس صدی کا المیہ ،،مجھے میرے گھر میں رہنے دو

آج صبح سی بی سی نیوز میں ایک دلخراش مووی د یکھی،، بہت ننھا سا ایک خوش پوش بچّہ ساحل ِ سمندر پر اوندھا پڑا ہے اور سمندر کی لہریں بے نیازی سے سے اس کے اوپر سے گزر رہی ہیں اور پھر کچھ حکومتی مدد گار آتے ہیں اور اس فرشتے کی ننھے سے جسد کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا لے جاتے ہیں
یہ شام سے براستہ سمندر یورپ جانے والے ایک خاندان کا بچّہ ہے جو سمندر ہی میں اجل کا شکار ہو گیا ،،دنیا کے سامنے آج ایک سوال ہے
کیا میں اپنے گھر میں نہیں رہ سکتا تھا؟
زائرہ بجّو
مسی ساگا
کینیڈا

ائے رشکِ جناں زینبِ علیا سلام اللہ علیہا

ائے رشکِ جناں زینبِ علیا
بنتِ نبی وہمشیر حسین

کاشانہ نبی میں تمھیں آنا ہو مبارک
چمنستانِ عبا میں تمھیں آنا ہو مبارک
اسمِ زینب عرش ِ بریں سے آنا ہو مبارک
ساتھ آئ ہے اللہ کی سوغاتِ مبار ک
اللہ نے بھیجا ہے تمھیں کیا مرتبہ اعلٰی
نام لوح ازل سے کیاتجویز تمھارا
لائے جبرئیل ہیں یہ کاشانہ نبی میں
اور شاداں ہے ہر ایک کاشانہ نبی میں
اسمِ زینب مسمّیٰ ہے مددگار علی
اسمِ زینب مسمّیٰ ہے مددگارِ حسین

جنابِ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا یوم ولادت کل عالم کے مومنین کو مبارک ہو

آج پاکستان کےآنگن میں سوگ ہے

دلدوز خبر ہے ،جاں سوز خبر ہے
آج پاکستان کے آنگن میں سوگ ہے
زخمی پھولوں کی جاںبری کے لئے
ہر گروپ کےخون کی فوری ضرورت ہے
جو پھول غنچے جاں سے گزر گئے ہیں
انہیں کاندھا دینا ہے ،
اور ان کے ماں باپ کو
گلے لگا کے دلاسا بھی تم کو دینا ہے Continue reading آج پاکستان کےآنگن میں سوگ ہے

مرثیہ گوئی عہدِ قدیم سے عہدِ جدید تک

بعد از رہائ اسیرانِ کربلا کے آغازِ مجالس حسین (علیہ السّلام،، میں گریہ و بکاء کے لئے ایک صنف مرثیہ گوئ لازم قرار پائ اور شعراء نے ہر دور میں اس صنف شاعری کو ایک اعزاز جانا لیکن حقیقت یہ ہے برّ صغیر میں مرثیہ گوئی میں اردو ادب کےآسمان پر ایک درخشاں نام میر انیس کا ہے ،میر انیس کے والد مرزا دبیر بھی مرثیہ گو شاعر تھے لیکن اللہ نے میر انیس کو یہ ایک خصوصی اکرام عطا کیا کہ وہ اپنے والد سے کہیں بلند مرتبہ پائے کے شاعرِ کربلا مانے گئے،اسی طرح میر خلیق اور جوش ملیح آبادی نے بھی مرثیہ گوئ میں واقعات ِکربلا کو بہت موثّر انداز فکر میں پیش کیا اس دور کے بعداس دورِحاضر کے مرثیہ گو شعراء میں ایک بلند مرتبہ درویش صفت شاعراور بلاشبہ میر انیس کے جان نشین استاد سبطِ جعفر کو مانا جائے گا ،استاد سبط جعفر کی اضافی خوبیوں میں بے شمار خوبیاں تھیں وہ بیک وقت محقّق،بھی تھے سوز خواں بھی تھے منصفی کی کرسی بھی اللہ نے اعزاز میں دی تھی اور ساتھ میں کالج کی تدریسی زمّہ داریاں بھی نباہتے تھے ،صد ہزار افسوس کہ زمانے کے دہشت گردوں نے ہم سے سبطِ جعفر جیسا انمول ایک قیمتی سرمایہ چھین لیا اور آج کے اسی جدید دور میں اگر ہم دیکھتے ہیں تو ہم کو مرثیہ گوئ کی صنف میں بہت سے شعراء کے درمیان ایک جیّد نام بانئ عالمی اخبار محترم جناب صفدر ہمٰدانی کا نظر آتا ہے ،میں جناب صفدر ہمدانی کی حزنیہ شاعری کی ایک امتیازی خصوصیت یہ سمجھتی ہوں کہ یہ رہتے تو اسی دنیا میں ہیں لیکن ان کے افکار کی پرواز کربلا کے دشت کے آسمانوں پر ہی رہتی ہے اور ان کےقلم کی پرکاری کربلا کے دلدوز سانحات کو شاعری کے آنسوؤں میں پروتی رہتی ہے Continue reading مرثیہ گوئی عہدِ قدیم سے عہدِ جدید تک

عیدِ غدیرتاریخِ اسلام کا ایک بابِ زرّیں

عیدِ غدیرتاریخِ اسلام کا ایک دائمی بابِ زرّیں
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ولائے علی علیہ السّلام کا اعلان ہونے کے بعد جب مولائے کائنات خیمے میں تشریف لے گئے تو سب سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ علیہا لسّلام کو خیمے میں جا کر مبارک باد دی
غدیرکے دن عید منانا اسی حجۃ الوداع والے سال اور اسی غدیر کے بیابان میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا خطبہ تمام ہونے کے بعدسے ہی شروع ہوگیا تھا۔ Continue reading عیدِ غدیرتاریخِ اسلام کا ایک بابِ زرّیں

شہنشاہ وفا عبّاس علمدار وآ فتاب اما مت امام حسین علیہ السّلام کی ولادت باسعادت کل عالمین کے مومنین کو مبارک ہو

میری جانب سے تمام مومنین کو اس دنیائے رنگ و بو میں شہید اعظم بفرمان قران ابن محمّد (‌صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم (امام حسین علیہ السّلام کی ظاہری آمد مبارک ہواور شہنشاہ وفا عبّا س علمدار فلک کے افق پر یہ ما ہ مبارک یعنی شعبان المعظم کا چاند گلشن نبوّت کے شہ پاروں کی ولادت مسعود کی مسرّت و کامرانی کی نوید لے کرطلوع ہوتا ہے اس مہینے میں گلستان نبوّت میں حسین (علیہ السّلام نام کا ایک ایساعطر بیز پھول کھلا کہ جس کی خوشبوئے ایمان وحرّیت نے انسانوں کے قلوب کواس طرح گرمایا کہ جو آج بھی آپ کا نام نامی لے کر مر جانے کو عین سعادت قراردیتے ہیں
آج اسلام اگرزندہ و پائندہ ہے تو آ پ کی عظیم قربانی کے طفیل ،،اگر عزّت کی زندگی کا کوئ مفہوم ہے تو آپ امام عالی مقام علیہ اسّلام کی عطربیز حرّیت کی بدولت ،،
اور چار شعبان شہنشاہ وفا عبّا س علمدار کی ولادت باسعادت کی مبارک باد پیش کرتی ہوں پانچ شعبان کربلا کے سارباں کے نام جو بعد از کربلا ،پاسبان دین محمّدصلّی اللہ علیہ واٰ لہ وسلّم قرار پائے سید
السّا جدین امام چہارّم امام زین العابدین کا یوم ولادت مبارک ہو

آ ئیے رسم و رواج کی بات کریں

ابن بطوطہ ایشیائے کوچک کے علاقے سےگزرتے ہوئے جب ایک شہر میں پہنچا تو اس نے کچھ گھروں کے دروازوں پر کہیں ٹوپیاں تو کہیں چھتریا ں دیکھین اس نے مقامی لوگوں سے استفسار کیا کہ ان ٹوپیوں اور چھتریوں کے آویزاں ہونے کا سبب کیا ہے تو مقامی لوگوں نے اسے بتا یا کہ یہاں کا دستور ہے کہ شادی سے پہلے لڑکی ایک یا کئ مردوں سے منسوب رہی ہو ،
اس لئے جب اس شہر میں کسی لڑکی کا کوئ طلب گار آتا ہے توگھر مین قیام سے پہلے وہ اپنی نشانی ٹوپی یا اور کوئ شے دروازے پر آویزاں کر دیتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ابھی لڑکی کا کوئ اور طلبگار گھر مین داخل نا ہو،اس نرالے دستور کی مذید تفصیلات یوں بتائ گئیں کہ جس لڑکی کے جتنے زیادہ مردوں سے تعلّقات قائم رہے ہوں گے اس کا شوہر اتنا ہی خوش قسمت مانا جائے گا اور لڑکی اپنے ہونے والے دولہا کی نظر میں باعث تکریم ہو گی
اور جب وہ اجنبی نوجوان ایک رات یا کئ راتیں لڑکی ساتھ گزار کر واپس جانے لگتا ہے تب اپنی کوئ قیمتی شے لڑکی کو تحفے میں دے کر رخصت ہوتا ہے اور پھر دروازے پر اویزاں اپنی نشانی اتار کر ساتھ لے جاتا ہے اس کے جانے کے بعد لڑکی اور اس کے گھر والے گھر سے باہر ہلّا گلّا کر کے موج مستی کرتے ہیں
اگر آپ کے پاس بھی رسم ورواج کی کوئ تحریر ہے تو شئر کیجئے

اجلا میا ں

وہ میرے گھر میلے کپڑے دھونے آئ تھی اور میرا اجلا میاں چرا لے گئ

انیلہ کی جاب ایک نیوز ایجنسی میں رپورٹر کی تھی اس نے شہر کے ایک ریسٹورنٹ کے کچن کی لائیو رپورٹ تیّار کر کے نیوز ایجنسی کو بھیجی ،،ریسٹورینٹ کے مالک نے اس رپورٹنگ کے لئے اسے خود بلایا تھا تاکہ عوام میں اس کے ریسٹورینٹ کے مذیدارکھانوں کی اوراچھّی سروس کی پبلسٹی ہو سکے Continue reading اجلا میا ں

حبّ اہلبیت میں ایک یکتائے روزگار مستانہ ء فرزانہ بہلول دانا

تاریخ ایک ایسی زندہ حقیقت ہوتی ہےجس کو وقت کا کوئ بھی نمرود لاکھ کوشش کے باوجود مٹا نہیں سکتا ہے اور سچ اور حق کی راہ میں مر مٹنے والوں کے نقوش پرودگار عالم کی جانب سے تاریخ کے سینے پر امر ہو جانے ہیں Continue reading حبّ اہلبیت میں ایک یکتائے روزگار مستانہ ء فرزانہ بہلول دانا

حکوت سندھ اور تما قانون نافذ کرنے والے ادروں کا شکریہ کہ یوم عاشور بہخیریت گزرا

ویسے تو اسوقت میرا پیارا وطن پاکستان پورے کا پورا ہی صیہونی ایجنٹوں کی دہشت گردانہ کارّوائیو ں کا مسکن بن چکا ہے لیکن میرے شہر کراچی میں ان ایک بہت مظبوط نیٹ ورک موجود ہے گلی گلی ان کے ایجنٹ پوری بے خوفی سے ٹارگٹ کلنگ کرتے ہیں اور آسانی سے فرار ہو جاتے ہیں Continue reading حکوت سندھ اور تما قانون نافذ کرنے والے ادروں کا شکریہ کہ یوم عاشور بہخیریت گزرا

غدیر خم کی ہے شیریں شراب کیا کہنا

میری جانب سے تمام عالم اسلام کے مومنوں کو عید غدیر مبارک ہو

عید غدیر کا مختصر تعارف
اللہ تعالٰی نے ہمارے دین کی تکمیل کا اعلا ن غدیر کے میدان میں اس پیغام جلی کے ساتھ کیا کہ اے رسول (صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم )جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دیجئے اور اگر آپ نے ایسا نا کیا تو گویا آپ نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا ،اور اللہ آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھّے گا ،بے شک اللہ کافروں کی رہنمائ نہیں کرتا ،
اس پیغام جلی کو لے کرحضرت جبرئِیل امیں عرش بریں سے فرش زمیں پر آئے تھے اور اس دن بموجب حکم ربّانی حضرت جبرئیل امیں تاج خلافت لے کرتشریف لائے تھے اور اس تاج خلافت کو حضرت محمّد مصطفٰے رسول اللہ صلٰی اللہ علیہ واِلہ وسلّم نے خطبہ ء حجۃ الوداع کے موقع پر ایک لاکھ چوالیس ہزار حاجیوں کے مجمع عام میں مولائے کائنات کے سر مبارک پر یہ کہ کر سجایا کہ جو حاضر ہیں وہ جان لیں جو غیر حاضر ہیں ان کو بتا دیا جائے کہ آج کے دن سے جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں
یہ دن عید غدیر اپنے مقامِ ولائت غدیر کی مناسبت عید غدیر کہا جاتا ہے
اس دن کی فضیلتوں میں ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ اس دن جو کوئ مومن اپنے برادر مومن کو ایک درہم بھی عید ی دے گا اگلی عید غدیر تک وہ ما ل وزر سے مالا مال رہے گا

سیّدہ زا ئرہ عابدی

ا مام غزالی رحمتہ اللہ علیہ
دنیائے اسلام نے اپنے ارتقائ سفر میں ہی کیسے کیسے مایہء ناز و صد افتخار افراد اہل دنیا کو دیئے کہ آج سینکڑوں برس گزر جانے کے بعد بھی وہ اہل دنیا کے فکری آسمان پر ماہ تابا ں بن کے جگمگا رہے ہیں ،سینکڑوں سا ل کے ماہ وسال کا کوئ موسم ان کی نیک نام شہرت کے اوپر خاک ڈال کرنہیں گزر سکا ،
یہ تو دستور دنیا ہے اور دنیا غیر اہم لوگو ں کو بڑی جلدی بھول جاتی ہے لیکن معلوم یہ ہوا کہ صاحبان علم کو خدا بھول جانے کے لئےدنیا میں نہیں بھیجتا ہے
ان عارفان حکمت ورفعت میں ایک جیّدنام امام غزالی کا ہے امام غزالی کا اصل نام زین العابدین ابو حامد محمّد بن محمّد بن محمّد بن احمد الغزالی تھا جو 450ہجری مطابق 1058 ء میں ایران کے مشہور شہر تہران میں ایک انتہائ مفلس محنت کش کے یہاں پیدا ہوئے
اور بہت جلد اپنے والد کے سائہ عاطفت سے محروم ہو گئے Continue reading سیّدہ زا ئرہ عابدی

تنظیم انجمن تخلیق و تہذیب کے زیر اہتمام کوئت میں یادگارمشاعرہ

کوئت میں مقیم کراچی کی باسی شاہین رضوی نے اردو ادب کی نئی تنظیم انجمن تخلیق و تہذیب کی بنا ڈالی اور فوراً ہی ایک عظیم الشّان مشاعرے کا اہتمام کر ڈالا یہ ایک نئ تنظیم کے لئے یقیناً ایک معرکہ رہا ہو گا میں اس خوبصورت اور یادگار محفل مشاعرہ کے انعقاد کے موقع پر شاہین رضوی کو لندن سے تشریف لانے والے مہمان خصوصی صفدر بھیّا کو اور تمھارا ساتھ دینے والی ٹیم کو تہ دل سے مبارکباد پیش کرتی ہوں
اردو ادب کی یہ خدمت عالی تمھیں اور ان تمام شرکاء کو مبارک ہو جو اس مشاعرے کی زینت بنے
مجھے امّید ہے کہ انشاللہ اردو ادب کی ترویج و ترقّی میں یہ انجمن بہت جلد عالمی اردو ادب کے شائقین میں تناور درخت بن کر کھڑی ہو گی

آ ئیے آج شکر خدا بجا لائیں

بسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم ۃ
قران کریم میں پروردگارعالم کا ارشاد ہئے ائے آل داؤد ہمارا شکر ادا کیا کروکہ ہمارے شکر گزار بندے بہت قلیل ہیں ،
اس ارشاد ربّانی کی روشنی میں جب میں نے اپنا محاسبہ کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میں بھی اس مالک کل جہاں کی بہت ناشکر گزار بندی ہوں اس لئے میں اس کی شکر گزاری کے لئے اس کے حضور حاضر ہوئ ہوں آپ سب بھی میرے حق میں دعا کیجئے گا کہ وہ میری اس قلیل عبادت کو قبول فرمائے آمین
ائے اللہ میں تیری شکر گزار ہوں کہ تو نے مجھے اشرف المخلوقات کے گروہ میں پیدا کیا
ائے اللہ میں تیری شکر گزار ہوں کہ تو نے مجھے سننے کے لئے سماعت دیکھنے کے لئے بصارت سمجھنے لئے عقل کی نعمت عطا کی
ائے اللہ میں تیری شکر گزار ہوں کہ تو نے مجھے بہترین والدین عطا کئے جنہوں نے مجھے قرطاس و قلم کی زیب و زینت سے آگہی حاصل کرنے کا سلیقہ سکھایا
قارئین اس سے آگے مجھے بتائیں گے تو میں اپنی شکر گزاری کی مناجات کو آگے بڑھاؤں گی انشاللہ

ہم نے جو دیکھے خواب سہانے

خوابو ں کی حقیقت کیا ہئے ،خواب انسان کب دیکھتا ہئے،خواب کیوں نظر آتے ہیں انسان کی اصل زندگی پر خواب کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ ہم کو یہ بھی کہتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ تمھیں تو دن میں بھی خواب دیکھنے کی عادت ہے۔ دراصل ہوتا یہ ہے کہ حالت نیند میں ہمارے ظاہری حواس سو جاتے ہیں جبکہ لاشعور پوری چوکسی سے جاگ جاتا ہئے اور ہم کو زمان و مکاں کی قید سے آزاد کر کے ماوراء زمان ومکاں کی سیر کرواتا ہے ۔ Continue reading ہم نے جو دیکھے خواب سہانے