خادمین حرمین شریفین یا خائن الحرمین شریفین ؟

حج کے انتظامات کے سلسلے میں گذشتہ تین دہائیوں میں سعودیوں کی ناقص کاردگی رہی ہے ۔ سعودی حج کے انتظامات کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں کچھ حوادث کی طرف نگاہ کرتے ہیں اور جائزہ لیتے ہیں کہ کتنے کامیاب انتظامات کیئے جاتے رہے ہیں ماضی میں حجاج کرام کے لیئے ۔
۱۹۷۸ میں سعودی سیکیوریٹی دستوں کے ہاتھوں ۲۷۵ افراد کی شہادت اور ۴۰۲ کا زخمی ہو نا ،۱۹۹۰ میں مسجد الحرام کی طرف جانے والی سرنگ میں بھیڑ کی وجہ سے ۱۴۲۶ حاجیوں کا مارا جانا ، ۱۹۹۴ میں بھیڑ کی وجہ سے جمرات کے پل پر ۲۷۰ افراد کی موت ، ۱۹۹۷ میں منی میں خیموں میں آگ لگ جانے کی وجہ ے ۳۴۰ افراد کی موت اور ۱۵۰۰ کا زخمی ہونا ،۱۹۹۸ میں کنکریاں مارتے وقت اژدہام کی وجہ سے ۱۸۰ افراد کا مارا جانا ، ۲۰۰۴ میں رمی جمرات ہی کے موقعے پر ۲۵۱ افراد کی موت اور ۲۴۴ کا زخمی ہونا ،اور مکہ میں ہوٹل کے گرنے سے ۷۶ آدمیوں کا مارا جانا ،اور اسی طرح اسی سال رمی جمرات کے موقعے پر ۳۶۳ افراد کی موت حج کے موسم میں ۔
سال ۱۹۷۸ سے اب تک مکہ اور مدینے میں ۳۲۸۸ سے زیادہ حاجی مذکورہ بالا حوادث کے نتیجے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں اور ان حادثات میں ۲۳۸۴ افراد زخمی ہوئے ہیں ، دنیا میں کہیں بھی ہر سال منعقد ہونے والے پروگراموں میں اتنی تعداد میں لوگوں کے مارے جانے کی مثال نہیں ملتی ۔
حج کے زمانے میں حاجیوں کی موت کے یہ دل دہلا دینے والے اعداد و شمار ایسی حالت میں ہیں کہ جب سعودی حکام کی حکومت کا ایک ستون ان کا خادم حرمین شریفین ہونا ہے ،اور حج کے پروگراموں کے مذہبی ٹورازم سے وہ سالانہ کئی ارب ڈالر کمانے کے علاوہ سر زمین حجاز کی اس جیوکلچرل پوزیشن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اسلامی قوموں کے سربراہوں کے درمیان اپنے لیے اعتبار کسب کرتے ہیں اور یہاں تک کہ خود کو جہان اسلام کا رہبر مانتے ہیں ۔1846885