الحمداللہ ۔۔۔ عالمی اخبار کی نائب مدیرہ اور ہماری پیاری بہن ،دوست ڈاکٹر نگہت نسیم کے ابا جی آج ہوسپیٹل سے گھر چلے گئے ہیں جو کافی دن سے لاہور کے شیخ زاہد ہوسپیٹل میں زیر علاج تھے ۔بہت سن کر دل خوش ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔  نگہت آپی اور سب اہل خانہ کو ابا جی کی صحت یابی کی بہت بہت مبارک ہو دُعا ہے اللہ پاک ابا جی کو صحت یابی کے ساتھ لمبی عمر عطا کرے آمین۔۔۔۔۔۔۔  دُعا گو ۔۔۔ نوشی عقیل17352098_1866610050246608_8317499745691740271_n

سڈنی میں آج شدید گرمی

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں آج بے حد گرمی ہے درجہ حرارت 45 سنٹی ڈگری ریکارڈ کیا گیا وھاں کے  انسان توانسان پرن دے ،جانور سب پریشان ہیں اور اپنے رب سے گرمی کم کرنے کے منتظر ہیں اور اپنے رب سے اُمید کرتےہیں کہ جلد ہی رب  کریم ٹھنڈی ہواوُں کا رخ ان کی طرف کرے گا اور بارش کے ٹھنڈے مہکتے قطرے گرمی سے تپتی زمین پر برسائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری بہت پیاری بہن ،دوست عالمی اخبار کی نائب مدیرہ  ڈاکٹر نگہت نسیم بھی سڈنی میں گرمی  سے پریشان ہیں آئیں سب مل کر دعا کرتے ہیں کہ رب کریم جلد کرمی کا زور کم کرے اپنا رحم کرے اپنا کرم  کرے آمین۔۔۔۔۔۔۔  پریشان زدہ لوگوں کی پریشانی دورکرے ۔۔آمین

نوشی عقیل

بانو قدسیہ کی وفات۔ داستان سرائے کے داستان گو گئے

عظیم راہیٹر بانو قدسیہ لاہور کے ہوسپیٹل میں دس دن بیمار رہنے کے بعد 4/2/2017 کو ہم سے جدا ہو گئیں اور آج دوپہر کو لاہور کے قبرستان میں ان کو سپرد خاک کر دیا گیا بانو قدسیہ آج اپنے اشفاق احمد سے جا ملیں ۔بہت اچھی انسان اور راہیٹر تھیں۔ بانو آپا ہم آپ کو کبھی نہیں بھولیں گئے آپ ہماری تاریغ کا حصہ ہیں آپ کی اردو ادب اور پنجابی ادب میں خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔۔۔اللہ پاک آپ کی مغفرت کرے اور آپ کو جنت الفردوس میں جگہ دے آمین

ابو جہل زندہ ھے ؟

ابوجہل زندہ ہے؟ سیدہ رافیعہ گیلانی

اب علم و حکمت کا کیا کام
کیونکہ ملک میں تو اسلام ھے
بس تم انسانیت کا قتل عام کرو
بلا تامل مساجد کو ویران کرو
بلا خوف رشوت و سود کا کاروبار کرو
پیار کرنا ہے تو بد عنوانی سے پیار کرو
کیونکہ ملک میں تو اسلام ھے
سنو۔ جس جس سے دل راضی نھیں تیرا
اس کو پھر کیوں ھے زندہ چھوڑا
سچے عاشق رسول بھی تم ھو
شریعت کے حقدار بھی تم ھو
سچ تو یہ کہ اسلام کے ٹھیکیدار بھی تم ھو
کیوںکہ ملک میں تو اسلام ھے
اللہ کے احکام کو، رسول ص کے فرمان کو
بے فکر ہو کر بھلا دو
بلا خوف انسانیت کی بھر پور تزلیل کرو
اور بحث مباحثے طویل کرو
جو اچھا نہ لگے اسے کافر قرار دے دو
جسکی عبات گاہ چاہو اُسے اگ لگا دو
کیونکہ ملک میں تو اسلام ھے

بلاگ ممبرز متحرک ہو جائیں ۔۔ اب کام کا وقت آ گیا

عالمی اخبار کے بلاگ دوستوں کو نوید ہو کافی آرام ہو چکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب کام کا وقت آ گیا ۔۔۔۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ دو ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد عالمی اخبار کی نئی ویب سائٹ‌ منظر مشہود پر آ گئی ہے ۔ویب سائٹ‌کی تیاری اور اسے آن لائن ہونے تک کی تمام روداد میں جلد ہی تفصیلی لکھونگی ۔ لیکن اس وقت آپ تمام دوستوں سے درخواست کرنی ہے کہ پہلے کی طرح ایک بار پھر عالمی اخبار کے بلاگ کو فعال بنایا جائے ، اور ہم سب اپنی فکری اور علمی گفتگو سے ایک دوسرے کے علم میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ سوچ بچار کی نئی راہیں‌کھولیں‌۔

اب ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ہم اپنے مزید دوسرے احباب کو بھی بلاگ پر مدعو کریں اور اپنی سوچ اور فکر کی روشنی تقسیم کریں ۔عالمی اخبار کے ادارتی ادارے نے نوشی عقیل کو بلاد کی ماڈریٹر کے طور پر زمیداری دی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی نئی زمیداری کو خوش اسلوبی سے سر انجام دے گی ۔۔۔ انشاللہ ۔۔

دعاگو
ڈاکٹر نگہت نسیم

عالمی اخبار جلد ہی نئے انداز اور نئے جدید روپ میں

small_150ver
آن لائن صحافت کی دنیا کا ایک بے لاگ اور صحافت کے غیر تجارتی اصولوں کی بنیاد پر لگ بھگ نو سال سے جاری ۔۔۔ عالمی اخبار۔۔۔ اگلے چند ہی روز بعد ایک نئے انداز اور نئے جدید روپ میں اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے گا

عالمی اخبار کی نئی ویب سائٹ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اول تو یہ خط نستعلیق میں ہو گی اور دوسرے اسے ٹیکنالوجی کے جدید ترین تقاضوں سے ہم اہنگ کیا گیا ہے۔

عالمی خبروں کے علاوہ پاکستان، علاقائی، براعظمی، تازہ ترین، سائینس، صحت، ادب، دین، کھیل، ملتی میڈیا اور متعدد دیگر اہم شعبوں کے علاوہ ایک حصہ انگریزی خبروں اور رپورٹس کے لیئے مختص ہے

اس نئی ویب سائٹ کی تیاری میں دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ لگا ہے اور اسے تیار کرنے میں انٹر نیٹ سیکیورٹی اور ویب ڈیزائننگ میں مہارت رکھنے والےسلمان مرچنٹ اور مارکیٹنگ اور ویب سلوشنز کے ندیم زیدی کا بے لوث تعاون اور ہر قدم پر انکے مفید مشورے بھی شامل رہے ہیں

ادارہ عالمی اخبار جناب سلمان مرچنٹ اور ندیم زیدی کا ممنون ہے اور عالمی اخبار کے ادارتی بورڈ نے ان دونوں کرم فرما

ندیم زیدی اور سلمان مرچنٹ
حضرات کو ٹیکنالوجی اور ویب ڈیزائننگ کے شعبوں کے سربراہ کے طور پر عالمی اخبار کے ادارتی بورڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جسکا باقاعدہ اعلان بھی جلد ہی کر دیاجائے گا

پاکستان میں ویب ڈیزائننگ اور ڈیٹا بیس کے نام پر جو عطائی لوگ کام کر رہے ہیں اس نئے سفر میں انکے ہونے والے تجربات بھی ایک الگ داستان ہے جسے مناسب وقت پر تفصیل سے بیان کریں گے۔ یہ نام نہاد ادارے بیرونی ممالک کے لوگوں کو جتنا مالی، ذہنی اور وقت کا نقصان پہنچا سکتے ہیں پہنچاتے ہیں۔

عالمی اخبار کی نئی ویب سائٹ میں بلاگ کے شعبے کو ایک بار پھر سے فعال بنایا جا رہا ہے

ہمارے لاکھوں قارئین اس بات کے شاہد ہیں کہ ہم گزشتہ کئی برس سے کسی مالی منفعت یا تجارتی اغراض کے بغیر ایک پیسے کے اشتہار کے بنا عالمی اخبار کو چلاتے آ رہے ہیں اور ہمارے تمام ساتھیوں کی انتھک محنت اور غیر مفاداتی رویے کی وجہ سے آج عالمی اخبار کو آن لائن اردو اخبارات کی دنیا میں ایک اہم مقام حاصل ہے

ہمیں یقین ہے کہ قارئین کو عالمی اخبار کی نئی صورت اور جدید انداز پسندآئے گا اور ہم آپکی آراء کے منتظر رہیں گے

نعت

نعت

مری شان کعبہ، مری جاں مدینہ
وہاں پر مرا دل، وہاں پر سفینہ

خدا کا کرم ہے یہ درسِ محمد
سکھا ہمیں زندگی کا قرینہ

مزہ پھر بھی آیا ہے جنت کا مجھکو
جُھلستی ہوئ دھوپ شہرِ مدینہ

کروڑوں دُرود و سلام اُن کے اوپر
جنہوں نے سکھایا مجھے مر کے جینا

گنہ گار تھا ، ہے یہ ظرفِ محمد
بلایا ظفر کو بھی شہرِ مدینہ

TOP 100 PERSONALITIES OF THE WORLD

TOP 100 PERSONALITIES OF THE WORLD

by Michael H. Hart

A Ranking of the Most Influential Persons in History

1. Muhammad (P.B.U.H)
2. Isaac Newton
3. Jesus Christ
4. Buddha
5. Confucius
6. St.Paul
7. Ts’ai Lun
8. Johann Gutenberg
9. Christoper Columbus
10. Albert Einetein
11. Louis Pasteur
12. Galileo Galilei
13. Aristotle
14. Euclid
15. Moses
16. Charles Darwin
17. Shih Huang Ti
18. Augustus Caesar
19. Nicolaus Copernicus
20. Antoine Laurent Lavoisier
21. Constantine the Great
22. James Watt
23. Michael Faraday
24. James Clerk Maxwell
25. Martin Luther
26. George Washington
27. Karl Marx
28. Orville and Wilbur Wright
29. Genghis Kahn
30. Adam Smith
31. Edward de Vere
32. John Dalton
33. Alexander the Great
34. Napoleon Bonaparte
35. Thomas Edison
36. Antony van Leeuwenhoek
37. William T.G. Morton
38. Guglielmo Marconi
39. Adolf Hitler
40. Plato
41. Oliver Cromwell
42. Alexander Graham Bell
43. Alexander Fleming
44. John Locke
45. Ludwig van Beethoven
46. Werner Heisenberg
47. Louis Daguerre
48. Simon Bolivar
49. Rene Descartes
50. Michelangelo
51. Pope Urban II
52. ‘Umar ibn al-Khattab’
53. Asoka
54. St. Augustine
55. William Harvey
56. Ernest Rutherford
57. John Calvin
58. Gregor Mendel
59. Max Planck
60. Joseph Lister
61. Nikolaus August Otto
62. Francisco Pizarro
63. Hernando Cortes
64. Thomas Jefferson
65. Queen Isabella I
66. Joseph Stalin
67. Julius Caesar
68. William the Conqueror
69. Sigmund Freud
70. Edward Jenner
71. Wilhelm Conrad Roentgen
72. Johann Sebastian Bach
73. Lao Tzu 74. Voltaire
75. Johannes Kepler
76. Enrico Fermi
77. Leonhard Euler
78. Jean-Jacques Rousseau
79. Nicoli Machiavelli
80. Thomas Malthus
81. John F. Kennedy
82. Gregory Pincus
83. Mani
84. Lenin
85. Sui Wen Ti
86. Vasco da Gama
87. Cyrus the Great
88. Peter the Great
89. Mao Zedong
90. Francis Bacon
91. Henry Ford
92. Mencius
93. Zoroaster
94. Queen Elizabeth I
95. Mikhail Gorbachev
96. Menes
97. Charlemagne
98. Homer
99. Justinian I
100. Mahavira

امید کی کرن

A lucky Pakistan

امید کی ایک کرن

مندرجہء ذیل مضمون میرے بھانجے نیاز مرتضٰی کا ہے جو ڈان میں چھپا ہے۔ یہ مضمون میرے لئے حوصلہ افزا ہے۔ نیاز نے برکلے سے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد کئ سال اقوامِ متحدہ کے ساتھ تیسری دنیا میں کام کیا ہے۔ نیاز تیسری دنیا کی سیاست اور معاشیات کا ماہر ہے۔

Dr. Niaz Murtaza
Luck means that factors beyond one’s control supplement one’s efforts and merits to produce higher achievements. Highlighting heart-warming stories about sacrifices and perseverance, official narratives ignore luck’s role in national histories. However, academics must present complete truths. Though not necessarily the dominant factor, luck helped improve the Pakistan movement’s prospects and subsequent economic performance. We first consider the former.

The prospects of partition movements firstly depend on presenting strong claims about being a separate nation. The ideal nation is a large group of people having: i) a long common ethnic, racial or religious identity, ii) concentration and overwhelming majority in a large geographical area since long, iii) minimal internal racial, ethnic or religious differences and little such commonalities with neighbors. Japan scores highly on this definition. My Pakistani heart shouts that so did pre-1947 Indian Muslims. My academician’s head quietly assigns them low-to-moderate scores on criteria two and three. Ironically, even such scores still earn Pakistani nationhood reasonable ranking among third-world states since few of them house highly cohesive nations. Furthermore, national cohesion in present-day Pakistan has increased over 70 years, something Yugoslavia and USSR could not achieve in similar time.

Secondly, high nationhood scores are insufficient motivators or criteria for secession. Numerous nations with higher scores never pursue independence. Those that do so usually base it on unusually severe and prolonged mistreatment by dominant groups; most still fail. The Pakistan movement was an unusual pre-emptive one, based on fears of future domination rather than prolonged past mistreatment. It probably is the only preemptive separation movement to ever succeed. Thirdly, separation movements often succeed after many decades (Eritreans and South Sudanese); some remain unsuccessful even then (Kurds and Palestinians). Pakistan is among a few which got separation within years of demanding it. Ironically, Bangladesh did even better on this count.

Fourthly, separatists often suffer enormous one-sided brutalities, including heavy artillery and aerial attacks, in pursuing independence. Indian Muslims did not suffer one-sided casualties in asymmetrical war; rather casualties which were suffered by both sides in riots and which mostly occurred needlessly after independence’s approval. Given these four points, the Pakistan movement, despite incurring high losses in riots, seems highly lucky compared with the failure of many independence movements which possess higher nationhood scores and have suffered decades of one-sided brutalities. Conservatives may attribute this comparatively easier success to not luck but divine support for the Islamic fortress!

Present-day Pakistan was among pre-1947 India’s most backward regions. The British and Indians doubted its economic viability. Even Jinnah lamented his moth-eaten, truncated Pakistan. This truncation emerged from Muslim’s low score on the second nationhood criterion. However, luck blessed Pakistan even after independence economically. Pakistan surprisingly outperformed better-endowed India on poverty, overall growth rates and per capita income for nearly fifty years, partially due to favorable opportunities provided by the Korean, Cold and two Afghan wars and the ME bonanza.

Mohajirs benefited the most from this. Indian Muslims have the lowest average incomes among Indian religious groups. However, their migrated kin in Karachi have the highest average incomes among Pakistani ethnic groups despite their initial uprooting and subsequent reverse discrimination experiences. America is the land of immigrants. Not even there do post-WW2 immigrants enjoy such predominance. But natives have likely done better too. Present-day Pakistan is probably more industrialized than it would be within undivided India. Much of Indian industry is still south-based. Pakistani elites–industrialists, traders, bureaucrats, professionals, landlords, generals and mullahs—have certainly benefited highly from partition. Even the masses have probably done slightly better since absolute poverty is lower in Pakistan despite India’s comprehensive land reforms. Thus, partition has paid-off economically till now.

Two caveats apply to my “luck” thesis. First, luck helped Pakistan economically only, not politically. Its political performance was always poorer than India’s. Secondly, luck dividends ultimately subside and endowments primarily determine long-term performance. Thus, India now outperforms Pakistan overall even economically. Pakistan’s recent security and political turmoil has undermined its economic edge.

Nevertheless, both my Pakistani heart and academician’s head agree fully that Pakistan’s worst travails are probably behind it and that its future will gradually become better than its past. However, they agree to disagree on the pace of this transformation, with the former expecting and demanding overnight results and the latter robotically producing calculations suggesting a longer timeframe.

Is this article unpatriotic? It clearly challenges cherished conservative national myths. Yet, it is underpinned by the reality that nation-building, the common goal of both, is better facilitated by the truth propagated by liberals rather than the incredulous fairly-tales concocted by conservatives.

The writer is a political and development economist. murtazaniaz@yahoo.com

تا رکینِ وطن، اس صدی کا المیہ ،،مجھے میرے گھر میں رہنے دو

آج صبح سی بی سی نیوز میں ایک دلخراش مووی د یکھی،، بہت ننھا سا ایک خوش پوش بچّہ ساحل ِ سمندر پر اوندھا پڑا ہے اور سمندر کی لہریں بے نیازی سے سے اس کے اوپر سے گزر رہی ہیں اور پھر کچھ حکومتی مدد گار آتے ہیں اور اس فرشتے کی ننھے سے جسد کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا لے جاتے ہیں
یہ شام سے براستہ سمندر یورپ جانے والے ایک خاندان کا بچّہ ہے جو سمندر ہی میں اجل کا شکار ہو گیا ،،دنیا کے سامنے آج ایک سوال ہے
کیا میں اپنے گھر میں نہیں رہ سکتا تھا؟
زائرہ بجّو
مسی ساگا
کینیڈا

ہم کہاں ہیں

ایرانی، تُرک یا عرب اپنی ایرانی، تُرک یا عرب تاریخ پر فخر کرتے ہیں۔ جبکہ ہم بجائے تاریخِ پاکستان کے مسلمانوں کی تاریخ پر فخر کرتے ہیں۔ اس پر عربوں کا جواب ہوتا ہے کہ یہ تو ہماری تاریخ ہے تُم کدھر سے آگئے؟ ہم پاکستانی ہونے پر فخر نہیں کرتے ؟ ہمارے پاس پنجابی، سندھی، بلوچ، پختون، سرائیکی، کشمیری، اُردو کلچر تو ہے لیکن پاکستانی کلچر کیا ہے ، یہ بڑا مشکل سوال ہے۔ اس کا جواب شاید آپ کے پاس ہو۔

مسلمانوں میں مفاہمت

جسقدر سعودی عرب ماضی میں پاکستان کی مالی مدد کرتا رہا ہے اس کے پیشِ نظر پاکستان کو اس بات کا اختیار نہیں ہے کہ وہ اسوقت جبکہ سعودی بادشاہت دباؤ میں ہے اس کی مدد نہ کرے۔ اپنے محسن کی مدد کرنا یقیناً ہمارا فرض ہے۔ لیکن اتحادِ بینالمسلمین کی ہمیں سخت ضرورت ہے۔ ترکی اور پاکستان اس وقت اس پوزیشن میں ہیں کہ یہ دونوں طاقتور ممالک اس وقت ملکر سعودی عرب اور ایران کے مابین ایک متحرک اور پُر عزم ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کروائیں۔ سعودی عرب کو سب سے بڑا ڈر اپنے آئل کا ہے۔ انکی آئل فیلڈز جنوبی عراق سے جُڑی ہوئ ہیں جہاں کے عوام سعودی بادشاہوں سے خوش نہیں ہیں۔ ان پر سعودی بادشاہوں نے ہمیشہ ظلم ہی کیا ہے۔ تُرک بھی ان بادشاہوں سے نالاں رہے ہیں کیونکہ انہوں نے انگریزوں سے ملکر خلافتِ عثمانیہ کو ختم کروادیا اورخود بادشاہ بن بیٹھے۔ بہرکیف ترکوں نے اس وقت بڑا دل کرکے اتحادِ بینالمسلمین کا بیڑہ اُٹھایا ہے۔ پاکستان مسلمانوں کا سب سے زیادہ طاقتور ملک ہے۔ ترکی اور پاکستان اسوقت ملکر ایران اور سعودی عرب کو گلے ملواسکتے ہیں۔ یہ مسلمانوں پر سب سے بڑا احسان ہوگا ۔ ایرن کو یہ یقین دہانی کروانے کی ضرورت ہے کہ وہ ان بادشاہتوں میں کوئ ماخلت نہیں کریگا ۔ جبکہ سعودی بادشاہوں کو بھی دوسرے مسالک میں مداخلت سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔

ائے رشکِ جناں زینبِ علیا سلام اللہ علیہا

ائے رشکِ جناں زینبِ علیا
بنتِ نبی وہمشیر حسین

کاشانہ نبی میں تمھیں آنا ہو مبارک
چمنستانِ عبا میں تمھیں آنا ہو مبارک
اسمِ زینب عرش ِ بریں سے آنا ہو مبارک
ساتھ آئ ہے اللہ کی سوغاتِ مبار ک
اللہ نے بھیجا ہے تمھیں کیا مرتبہ اعلٰی
نام لوح ازل سے کیاتجویز تمھارا
لائے جبرئیل ہیں یہ کاشانہ نبی میں
اور شاداں ہے ہر ایک کاشانہ نبی میں
اسمِ زینب مسمّیٰ ہے مددگار علی
اسمِ زینب مسمّیٰ ہے مددگارِ حسین

جنابِ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا یوم ولادت کل عالم کے مومنین کو مبارک ہو

کھیل،سیاست یا عدم دلچسپی

کرکٹ ورلڈ کپ ہورہا ہے اور کھیل میں ہار بھی ہوتی ہے اور جیت بھی۔ لیکن کھیل میں لڑنا یا نہ لڑنا کھلاڑی اور ٹیم کے ہاتھ میں ہوتا ہے عرب امارات میں کچھ ہی عرصہ قبل پاکستانی ٹیم نے ٹیسٹ میچز میں جس طرح نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کو شکست سے دوچار کیا تھا ، جس طرح پاکستانی بلّے بازوں نے سنچریوں کا انبار لگایا تھا اُسکے بعد یہ اُمید ہوئ تھی کہ اس مرتبہ پاکستان شاید ولڈ چیمپین بن جائے۔ لیکن ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستانی ٹیم نے جس بے دلی سے کھیلنے کا مظاہرہ کیا ہے اُسکی مثال نہیں ملتی۔ Continue reading کھیل،سیاست یا عدم دلچسپی