تھر کا قحط، گداگری اور ہم

آپ روزانہ میڈیا میں تھر میں مٹھی کے سول ہسپتال میں نومود بچے کی ہلاکت کی خبر سنتے ہیں اور خبر کی جزیات سے یہ تاثر لیا جاتا ہے کہ یہ اموات ضلع میں قحط کی وجہ سے ہیں۔ قحط سے مراد کم یابی یا نایابی یا کال ہے تو معذرت تھر میں قحط نہیں مگر قحط سے مراد ہم یہ لیں کہ بازار میں کھانے کو ہے مگر جیب میں خریدنے کو کچھ نہیں تو یقین جاتے یہ قحط ملک کے کئی گھروں میں ہیں ۔ ایسے گھروں کے مکینوں کو ہم غریب کہتے ہیں اور یہ غربت واقعی تھر میں ذیادہ ہے۔
Continue reading تھر کا قحط، گداگری اور ہم

محترم جناب صفدر ہمدانی کا چشم کشا کالم

ہائے اس جدت پسند عہد نے انسان کو کیسا بے حس اور دوسرے سے لاتعلق کر دیا ہے۔ وسعت میں کائناتوں کے برابر یہ انسان صرف اپنی ہی ذات میں سمٹ کر رہ گیا ہے

کاش یہ انسان کُش اور احساس کُش فیس بُک ایجاد ہی نہ ہوتی تو کم از کم ایسی غم کی اطلاع دینے کی روایت برقرار رہتی ۔
پورا کالم پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کیجئے
اسلام آباد سےعزیز بھائی اظہر الحق نسیم تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں Continue reading محترم جناب صفدر ہمدانی کا چشم کشا کالم

معروف بلاگ نگار اور شاعر منظور قاضی کی ‫اہلیہ کا جرمنی میں انتقال

inna

جرمنی کے شہر میونخ میں مقیم منظور قاضی کی اہلیہ کینسر سے جانبر نہ ہو سکیں اور کل رات انتقال کر گئی ۔

انا اللہ وانا الیہ راجعون

منظور قاضی عرصہ پانچ برس سے عالمی اخبار میں بلاگ نگاری سے وابسطہ ہیں ، خوبصورت غزل اور نعت کہنے والے شعرا میں شمار ہوتے تھے اور نیٹ کی ادبی محفلوں کی جان سمجھے جاتے ہیں۔ میری ابھی ان سے سے جرمنی میں فون پر مختصر سی بات ہوئی تھی ۔ صدمے سے دوچار منظور بھائی نے سب سے دعائے مغفرت کے ساتھ ان کے لیئے صبر کی دعا کی گزارش کی ہے۔

مرحومہ کی تدفین کل کسی بھی وقت متوقع ہے ۔

عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ صفدر ھمدانی اور ادارتی عملے کے دیگر ارکان کے علاوہ قلم کاروں اور قارئین نے جناب منظور قاضی سے اظہار تعزیت کیا ہے اور مرحومہ کی مغفرت کی دعا کی ہے۔

فیصلہ آپ خود کریں !

http://www.dailymotion.com/video/x17b2fp_ttp-statement-on-rawalpindi-incident_lifestyle

راولپنڈی سانحہ پر کالعدم تحریکِ طالبان کا بیان جو جلتی پر تیل کا کام کرے گا ۔ سنیئے اور فیصلہ کریں کہ عاشورہ پر جو کچھ ہوا اس کے پیچھے دراصل کیا حقائق ہیں۔ فیصلہ آپ کریں۔

جشنِ آزادی!

ابو! یہ آزادی کیا ہوتی ہے؟
pakistan

بیٹے، اس سوال کا جواب تو خود مجھے آج تک نہیں مل سکا۔
پھر بھی، بتائیں نا۔ آخر آزادی ہے کیا؟
آزادی کہتے ہیں رہائی کو، خود مختاری کو۔
رہائی؟ کیا مطلب؟
ہاں بھئی رہائی۔ جیسے کسی پرندے کو پنجرے سے رہائی ملتی ہے۔
Continue reading جشنِ آزادی!

اندھے بہرے اور گونگے پاکستان میں جمہوری تہذیب ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی

پاکستان ایک ایسا انفرادیت پسند ملک ہے جہاں کے کچھ حکمرانوں اور زیادہ تر باسیوں کو انسانیت پرستی ، امن و سکون اور ترقی سے نفرت ہے ۔ انہوں نے جمہوریت کے معنی لاقانونیت کر رکھے ہیں ۔ جبکہ جمہوریت میں افہام تفہیم اور اختلاف رائے کو مثبت رویئے کا درجہ حاصل ہے ۔ جمہوریت میں ہی ملکوں کی انفرادیت اور ترقی کا راز بھی پوشیدہ ہے ۔ میں نے کئی ملکوں کی تاریخ پڑھی ، کئی تہذیبوں کی جغرافیہ پیمائی بھی کی ، کئی قومی ہیروز کے افکار بھی پڑھے پر مجھے پاکستانی قوم کے انفرادی اور مجموعی رویوں میں قومیت اور تہذیب کے مثبت اشارے نہیں مل سکے ۔
مزید پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے

سب سے خوبصورت تحفہ دعا ہے جو غائبانہ مانگی جائے

مجھے آج آپا عالم آراء کابرقی مکتوب ملا ۔۔ اس میں ایسا کچھ تھا جیسے روشنی سی ہو جائے ۔۔ میں نے سوچا اس سے ہم سب فیض اتھاتے ہیں ۔ آپ لکھتیں ہیں ۔۔

السلام علیکم

ماہ شعبان کی پندرہویں شب آ رہی ہے جس میں اللہ اپنے بندوں کا رزق ، موت و حیات سب کے فیصلے صادر فرما دیتا ہے سال بھر کے لئے، اور اگلا ماہ ہے رمضان المبارک کا جس کی عبادات اور نیکیاں ستر گنا ثواب کی حامل ہوتی ہیں ۔کہتے ہیں کہ اپنے ملنے والوں سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگ لینی چاہئے تا کہ ہم اپنی عبادات کے ثمر حاصل کر سکیں ۔ انشاء اللہ Continue reading سب سے خوبصورت تحفہ دعا ہے جو غائبانہ مانگی جائے

اس سادگی پر کون نہ مرجائے اے خدا!

اطلاع آئی ہے کہ صدرپاکستان جناب آصف علی زرداری نے کراچی کے شہریوں کی تکالیف اور ان کو درپیش مشکلات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ انتیظامیہ کو حکم دیا ہے کہ بلاول ہاؤس کے اطراف سے تمام رکاوٹیں ہٹا دی جائیں اور سڑکیں عام لوگوں کے لیئے کھول دی جائیں اور آئندہ ایسے اقدامات نہ کیے جائیں جس سے عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ صدرِ پاکستان نے اس بات کا بھی برملہ اظہار کیا کہ عوام کو درپیش مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت کو پانچ سال پورے ہوگئے اور ان پانچ برسوں میں کراچی کے عوام اور خصوصاً بلاول ہاؤس کے اطراف رہائشی افراد کا جینا محال ہوگیا تھا ، بلاول ہاؤس کے سامنے کے فلیٹس تقریباً خالی ہوگئے ہیں اور جو بچے ہیں وہ انتہائی اذیت سے دوچار ہیں بلاول ہاؤس کے دائیں اور بائیں اطراف کے بنگلے پہلے ہی کوڑیوں کے مول خرید کر بلاول ہاؤس میں ضم کرلیے گئے تھے اب رہ گئی بات عوام کی مشکلات کو حل کرنے کی خواہش تو یہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ
”اس سادگی پر کون نہ مرجائے اے خدا“۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انفرادی تربیت کی اہمیت

میں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ انفرادی تربیت ہی عالمی امن کی پرورش کر سکتی ہے ۔ میرے دوست احباب اکثر مجھ سے اتفاق نہیں رکھتے ۔ مجھے ان کا بے حد احترام ہے۔ آج مجھ سے میرے بدیسی دوستوں نے بھی میرے دیس کے امن پر بہت ساے سوال کئے اور انہیں بھی میں نے یہی کہا کہ ہم زمیداری سے بھاگنے والے لوگ ہیں ۔ ہم لوگ اپنی بندوق چلانے کے لئے دوسروں کے کندھے استعمال کرنے کے عادی ہو چکے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ اخلاق کا درس سب کو دیں اوراس کے زاتی اخلاق پر کوئی انگلی بھی نہ اٹھائے ۔۔ Continue reading انفرادی تربیت کی اہمیت

کافر کافر کافر کون؟

کافر کافر کی صدائیں سنتے یقینا ہم سب بیزار ہو چکے ہیں۔ جس کو جی چاہتا ہے دین فروش ملا کافر قرار دے کر اسکی گردن زنی کر لیتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں یو کے میں ایک فوجی کو بے جرم و خطا اس لئے مار دیا گیا کہ کہ ایک برٹش فوجی تھا۔ سوچ کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ بھرے بازار میں کس طرح ایک مہذب شہر میں دو درندوں نے انسانی زندگی کے ساتھ کھیل کھیلا۔ اگر اسکا جواب کہیں ہر گندمی رنگ کے مرد و زن اور بچے کو ملنا شروع ہو جائے تو معاشرے کی کیا صورت ہوگی؟؟؟؟ Continue reading کافر کافر کافر کون؟

کوئٹہ پاکستان اور اس کی گندی سیاست کی سولی پر۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم

پاکستان کی آج کی صورت حال ایسی مخدوش ہے کہ سوچ کر بھی جیسے سانس رک رک جاتا ہے، ایک ایسی تاریک گلی جس کا دوسرا کونا بند ہے اور پیچھے جانے کا کوئی راستہ نہیں۔ شہنشاہ وقت کے درباری اقتدار کے نشے میں مدہوش حکمران اعلیٰ کو سب اچھا ہے کی خبریں دے رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ایک بار پھر اکسٹھ ہجری کی کربلا جیسے حالات پیدا ہو رہے ہیں۔ جمہوریت اور عوام دوستی کا دعویٰ کرنے والی حکومت عقل کی اندھی تو کب سے تھی لیکن اب آنکھوں کی بھی اندھی ہے اور چونتیس گھنٹوں سے سڑک پر پڑی ہوئیں ایک سو کے قریب میتیں بھی اب ان ضمیر فروشوں کو نظر نہیں آ رہیں۔ کوئٹہ آگ میں تو کب سے جل رہا تھا اب خون میں بھی نہایا ہوا ہے لیکن سیاست کی غلام گردشوں میں سیاسی جوڑ توڑ اور لانگ مارچ پر نظر ہے ان بے گناہ مارے جانے والوں پر نہیں
باقی پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کیجئے

خواب ادھورے سہی، خواب سہارے تو ہیں!

کوئٹہ میں علمدارروڈ پر بم دھماکوں میں 100 افراد کی ہلاکت پر عالمی اخبار کی نئی کالم نگار سندس آرائیں ، رنجیدہ ہو کر لکھتی ہیں ۔۔۔

متعدد بار بم دھماکوں‌کی خبر نے جیسے ہم سب کو بے حس کر دیا ہو۔ آج خبرنامہ سنتے ھوئے بے بسی سے آنکھوں میں آنسو آگئے، لوگ زندہ لاشیں اور حکمراں‌ان لاشوں‌پہ جشن مناتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہر جملہ مذمت کرنے پہ اور ہر رد عمل لاکھوں‌کی رقم دے کر ختم ہو جاتا ہے۔ ہم روز مر رہے ہیں، بم دھماکے ہی جانیں‌ نہیں لے رہے بلکہ ارد گرد کی ہر چیز اور ماحول بھی ہماری سانسیں تنگ کر رہا ہے۔ لگتا ہے آکسیجن کم ہو رہی ہو، دھوپ کی تپش میں دوزخ‌کی آگ شامل ہو گئی ہو، ہر طرف گہری کھائیاں ہوں اور گرنا ان میں‌مقدر! جیسے ہم پر وقت سے پہلے دجال مسلط ہو گئے ہوں، کربلا جیسی بے بسی کا راج ہو گیا ہو، وقت نے پہیئے موڑ لیے اب دبے قدموں ہم کو پتھروں کے زمانے میں لیے جا رہا ہو، ایسا دکھ چھا گیا ہے جس کا مداوا نہیں سوجھ رہا، ہم سب الژآئمر کے مریض ہو گئے ہوں، موت کے انتظار میں‌سسکنے والے، بے رحم حکمرانوں کے زیرنگرانی، زہنی معذور! Continue reading خواب ادھورے سہی، خواب سہارے تو ہیں!

سرداری کا راز

چین کے مفکر فطرت کو “ تاؤ “ کہتے ہیں اور ان کی ساری عمر اسی فطرت کے اصولوں کے مطابق گزارنے میں گزر جاتی ہے ۔ چینی قوم میں دانائی سر فہرست مانی جاتی ہے ۔ بزرگ چینی کہا کرتے تھے ۔۔
آخر میں جس چیز کو سکیڑنا ہو ، اسے پہلے بڑھانا پڑتا پے
جس چیز کو کمزور کرنا ہو ۔ اسے پہلے مظبوط بنانا ہو گا
جس چیز کو ختم کرنا ہو گا ، اسے پہلے قائم کرنا ہو گا
جو شخص کچھ لینا چاہتا ہے ، اسے پہلے ہاتھ سے کچھ نہ کچھ دینا پڑے گا Continue reading سرداری کا راز

خدا راہ حق کا ساتھ دیجئے ۔۔ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں

yaqeen
آج اس واقعے کو چار ماہ سے زیادہ ہو گئے ہیں اور یہ متا ثرین اپنے پیاروں کی بازیابی کے بارے میں بے حد پریشانی کا شکار ہیں۔

اغوا کرنے والےاتنے تاوان کا مطالبہ کررہے ہیں جو ان کی اجتمائی حیثیت سے بھی کہیں زیادہ ہے۔اور تا وان ادا نہ کرنے کی صورت میں ان بے گناہوں کو قتل کرنے کی ڈیڈ لائین بھی دی ہوئی ہے۔

صدرِ پاکستان ، وزیرِاعظم پاکستان،چیف جسٹس پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف سے گُزارش ہےکہ ان متا ثرین کی مدد کرتے ہوئے ان کے پیاروں کی رہائی کا بندوست کیا جائے۔

منصف ہو تو اب حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے
مر جائیں گے جب لوگ تو انصاف کرو گے

خدا راہ حق کا ساتھ دیجئے ۔۔ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں ۔۔ ہم نے اپنے خدا کے سامنے اپنے وقت کی گواہی دینی ہے ۔ ۔ جزاک اللہ

بیربل اور آج کا وزیر!

سنا ہے کہ بیربل اپنے وقت کا بہترین وزیر تھا اور بادشاہِ وقت کو اس پر پورا بھروسہ ہوتا تھا اور جو کام دوسروں سے نہیں ہوتا تھا وہ بیربل لمحوں میں کر گزرتا تھا اس کے بعد بادشاہوں کو ایسا وزیر میسر نہیں ہوا۔ مگر اس دور میں پاکستان کے بادشاہ کو ایک ایسا وزیر مل گیا جس پر اس وقت کے بادشاہ کو بیربل جیسا اعتماد ہے اس کا ایک واقعہ پڑھ اور سن لیں تو خود سمجھ جائیں گے

loin1

ایک گاوٗں میں شیر آگیا اور قریبی جنگل میں قیام پذیر ہوگیا پھر وہ روز آتا اور ایک بندہ کو کھا جاتا گاوٗں والوں کا خوف سے برا حال تھا کہ نجانے کب ان کی باری آجائے بہرحال بات ملک کے بادشاہ (صدر) تک پہنچی اس نے اپنے نہایت ذہین اور چالاک وزیر کو مشن دے کر روانہ کیا ۔ وزیر 500 مزدور لے کر گاوٗں پہنچ گیا اور گاوٗں میں ایک بہت بڑا لوہے کا پنجرہ بنوایا جب پنجرہ بن کر تیار ہوگیا تو گاوٗں والوں نے اس وزیر کو بہت دعائیں دیں اور سکھ کا سانس لیا کہ اب شیر پکڑا جائے گا،

مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا وزیر نے سب گاوٗں والوں کو اس پنجرے میں بند کردیا کہ اب شیر کسی کو نہیں کھائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمجھ گئے آپ کہ وہ موصوف کون ہیں
جی جناب یہ ہیں رحمان ملک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیدہ دانستہ عوام کو پریشان کرنا ان کا فرض ہے۔
آپ کیا کہتے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

طالبانی نظام کاقانون ۔۔کوئی گل مکئی نہ کھلے ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی

پشاور کے فوجی ہسپتال سی ایم ایچ میں ملالہ یوسفزئی کے دماغ میں داغی گولی کیا اسی طالبانی سوچ کا شاخسانہ نہیں ہے ۔ اسلامی شریعت کے مطابق ایک دوسرے کی عزت جان اور مال کی حفاظت ایک دوسرے کی زمیداری ہوتی ہے ۔ پر تاریخ گواہ ہے کہ طالبانی شریعت یہی کہتی ہے کہ بے گناہ مسلمانوں کاخون بہاؤ ۔۔ عورتوں کی تذلیل کرو ۔۔بچوں کی روحیں قبض کرو ۔۔ دنیا سے خیرا خواہی جیسے سارے جذبوں کو نفرتوں میں بدل دو ۔آج طالبانی پیروکار وہی کر رہے ہیں جو انہیں سبق پڑھائے گئے ہیں

مزید پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کیجئے

“ لو لو سر پاکستان “ کے درجنوں مسلمانوں پر مسلک کے نام پر گولیاں

کتنے افسوس کی بات ہے ایک مسلمان ملک میں کئی مسلمانوں نے رمضان المبارک کے با برکت اور رحمتوں کے مہینے میں “ لو لو سر پاکستان “ کے درجنوں مسلمانوں پر مسلک کے نام پر گولیاں برسائیں ۔۔۔۔۔ یوں لگ رہا ہے جیسے اب ہم مسلمان تو کیا انسان بھی نہیں رہے ۔۔۔۔۔۔۔ آہ آج ہم مسلمانوں سے ہر چرند پرند اور درندے تک معتبر ہیں ۔ آیئے ان مظلوم خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کریں جنہیں اپنے ہی وطن میں شام غریباں گزارنی پڑی ۔۔۔۔۔ اللہ اللہ یہ دل دکھ سے نڈھال ہے ۔۔۔۔۔۔ اور سرکار ، فوج ، عدالت سب خاموش ہیں ۔۔ ۔۔ آئیے دعا کریں “ ہو میرا کام مظلوموں کی حمایت کرنا ۔۔۔ الہی آمین Continue reading “ لو لو سر پاکستان “ کے درجنوں مسلمانوں پر مسلک کے نام پر گولیاں