2010 ,September 07
اک خبر ہے آج شادمانی کی

سیدمصباح حسین ، بتاریخ  July 24, 2010

اس خوش خبری میں اپنے ساتھیوں کو شریک کرتے ہوئے آج میرا سر فخر سے بلند ہے۔۔۔
۔۔۔۔
اور دل شادمانی سے سر شار ہے۔ شاید آغا جانی کے لئے میڈیا ایوارڈ کی نامزدگی کوئی اہم بات نہ ہو اور ان جیسے لوگوں کے لئے ہوتی بھی نہیں، تبھی تو انہوں نے یہ بات مجھ تک کو نہیں پہنچائی۔ لیکن ہمارے لئے یہ بات اس لئے بھی خوشی کا باعث ہے کہ آج بھی دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو حق داروں کو بہر کیف یاد تو کر لیتے ہیں۔
اس گھڑی میں ہم سب آغا جانی کو ہدیہ تبریک اور پوری عالمی اخبار برادری کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔


34 تبصرے برائے “اک خبر ہے آج شادمانی کی”

  1. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    July 24, 2010 بوقت 11:19 am

    میرے بہت ہی عزیز سید مصباح حسین۔ ”ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے”۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھائی یہ تو آپکی اور ڈاکٹر نگہت کی سازش ہے جو اس خبر کو مشتہر کر دیا ورنہ میں تو اسے اس دور میں عام ایوارڈوں کی دوڑ میں شامل رسوائی کا باعث سمجھ رہا تھا۔ اس دور میں ہر وہ شخس جو کوئی کام نہیں کرتا تعلقات عامہ کے زور پر ”علمی۔ادبی،صحافتی” خدمات پر ایسا ایسا ایوارڈ پاتا ہے کہ الامان۔ میں ہمیشہ بہت خوش رہا کہ اس دوڑ میں شامل ہی نہیں ہوا کہ میرا ایوارڈ اور اعزاز تو آپ لوگ ہپیں جو میرے ساتھ مل کر اس عالمی اخبار کے علم کو بلند رکھے ہوئے ہیں۔ اگر یہ کوئی اعزاز کی بات ہے تو پھر یہ اعزاز میرا اکیلا نہیں۔ عالمی اخبار کی حد تو آپ سب بھی میرے ساتھ شریک ہیں۔
    میں نے اپنی زندگی میں اپنی صاف گوئی کے ہاتھوں بہت کم دوست بنائے ہیں اور جب منتظمین نے کہ جنہیں میں جانتا تک نہیں مجھے اس امر کی اطلاع دی تو میں بلا تامل انہیں شکریہ کہنے کی بجائے یہی کہا کہ ”بھائیو میں تو کام کرتا ہوں اور عملی کام کرتا ہوں پھر بھلا مجھے کیوں اس کے لیئے نامزد بھی کیا گیا”۔ خیر آپ لوگ خوش ہیں تو میں بھی خوش ہوں کہ یہ سارا سفر مشترکہ ہے نا۔ ورنہ میں تو اس والد گرامی کی اولاد ہوں کہ میرے مرحوم والد مصطفیٰ علی ھمدانی کو 1965 کی جنگ کے بعد ایوب خان نے جب تمغہ دینے کا اعلان کی تو انہوں نے یہ کہہ کر لینے سے معذرت کر لی تھی کہ یہ میری ڈیوٹی تھی اور میں نے صرف اپنی ڈیوٹی کی ہے

    صفدر وہ میرے کام پہ انعام دے اگر
    سمجھو کہ کام میں کہیں کوتاہی رہ گئی۔

  2. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    July 24, 2010 بوقت 11:22 am

    مصباح بھائی میں بتا نہیں سکتی کہ میں کس قدر خوش ہوں .. بابا نے نہ کبھی کسی سے کسی اعزاز کی تمنا کی ہے اور نہ کبھی چاہا کہ کوئی انہیں سراہے بھی .. بس انہیں ایک ہی لگن ہوتی ہے کہ انہیں اپنے مشن کو آگے بڑھانا ہے .. اور اس مشن کی تفصیل اتنی زیادہ ہے کہ شاید تکمیل کے لئے کئی جنم چاہیئے ہوں لیکن بابا کے وقت میں اللہ پاک نے اپنے حبیب کے صدقے اور اپنے حبیب کے حبیب مولا علی علیہ السلام کے صدقے اتنی برکت عطا کی ہے کہ ان کے چوبیس گھنٹے، چوبیس مہینوں کے برابر لگتے ہیں … میں وہ خوش نصیب ہوں جس نے بابا کو نہ صرف قریب سے دیکھا ہے بلکہ سب سے زیادہ ان سے سیکھا ہے .. میں نے ان کو خاموشی میں بھی علمی ریاض کرتے پایا ہے … ان پر مولا پاک کا اتنا کرم ہے کہ ان کی شان میں سو کے سو بند ایک ہی کیفیت میں کہہ دیتے ہیں ..اور ایک سکینڈ کو بھی ان سے دور نہیں ہوتے .. میں وہ خوش نصیب ہوں جس نے علم کے اس روشن چراخ تلےلفظوں کی ترتیب سیکھی اور کچھ کہنے کا ہنر پایا …….

    بابا میں شاید بتا نہ پاؤں کہ اس خبر کے بعد میری خوشی میں کیا کیفیت ہے . اس عہد بے بصر میں جب کسی سفارش کے بغیر کوئی سانس تک نہ لے سکتا ہو وہاں آپ نے ثابت کیا کہ مجھے دیکھو .. میں ہوں ان لوگوں کی ہمت جن کی کوئی سفارش نہیں ہوتی .. اور وہ آپ ہی جیسے ہوتے ہیں جنہیں مولا پاک چن لیتے ہیں ایک ایسے اعزاز کے لئے جسے “فخر” کہتے ہیں .. بابا آپ میرا سرمایہ حیات ہی نہیں بلکہ میری عزت اور میرافخر بھی ہیں … رب العزت آپ کو ہمیشہ چاند ستاروں میں رکھے اور آپ ہم سب کا مان اور فخر یونہی بڑھاتے رہیں …

  3. ڈاکٹر خواجہ اکرام نے کہا ہے:
    July 24, 2010 بوقت 1:10 pm

    اللہ کا کرم ہے ۔ خدا ہم سب کو مبارک کرے
    واقعی یہ بڑی بات ہے ہم سب کو اس کا جشن منانا چاہیئے ۔ یہ سچ ہے صفدر صاحب نے درست فرمایا کہ اس طرح کے ایوارڈ رسوائی کا سبب ہیں ۔ لیکن یہ ان کے لیے ہے جو نا اہل ہیں ۔ سچائی تو یہ ہےکہ حق بہ حق دار رسید
    جناب صفدر صاحب کو مبارک اور ہم سب عالمی اخبار کے اہل کارواں کو مبارک، یہ عالمی اخبار کے لیے فخر کی بات ہے۔جس میں ہم سب شامل ہیں

  4. امین ترمذی نے کہا ہے:
    July 24, 2010 بوقت 1:41 pm

    تمام رفقاء و اہل قلمِ عالمی اخبار اس خبر پر انتہائی مسرت و طمانیت کا اظہار کرتے ہیں کہ ہمارے اس ادبی سفر کے میر کارواں جناب صفدر ہمدانی صاحب کی اس انتھک کوشش کی کہیں شنوائی و پذیرائی ہوئی اور ایک انتہائی پُر تکلف تقریب میں انہیں میڈیا ایوارڈکے لئے نامزد کیا گیا جس کے وہ یقیناَ مستحق تھے لیکن آج کے دور میں مستحقین بھی اپنی پہچان میں کامیاب نہیں ہوپاتے لیکں صفدر صاحب کی کاوش و لگن اتنی مستحکم تھی کہ غُل تو بہت یاروں نے مچایا پر گئے اکثر مان انہیں۔ ہم اس موقع پر نہ صرف انہیں اور ان کے اہل خانہ کوبلکہ تمام رفقاء عالمی اخبار کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے بے حد پُر امید ہیں کہ یہ نامزدگی صفدر صاحب کی میڈیا کی عالمی دنیا میں پہچان کی پہلی سیڑھی ثابت ہوگا اور ہم مستقبل قریب میں ایسی خوش آئند خبریں سنتے اور سناتے رہیں گے انشااللہ
    اس کے ساتھ ہی ہم صفدر صاحب کے فرزندِ ارجمند اور عالمی اخبار کے شعبہء انگریزی کے مدیر محمد صفدر صاحب کو بھی ان کی گریجویشن پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے لئے دعا گو ہیں کہ اس سفر زندگی میں کامیابی و کامرانی ہمیشہ ان کی ہم سفر ہو آمین ثم آمین دعا گو آپ سب کی محبتوں کا امین

  5. ارشاد عرشی ملک نے کہا ہے:
    July 24, 2010 بوقت 2:35 pm

    محترم صفدر ہمدانی صاحب
    السلام علیکم
    یو ٹیوب کا لنک دیکھا۔
    میڈیا ایوارڈ کے لئے نامزد ہونے پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد قبول فرمائیے۔
    اللہ تعالیٰ آپ کو اور عالمی اخبار کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔
    اسی طرح اندھیروں میں چراغ جلاتے رہیں۔
    اور ڈاکٹر نگہت کا بھی بہت شکریہ جنہوں نے یہ خوشی کی خبر ہمارے ساتھ شئیر کی۔
    سچ ہے کہ خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے اور غم بانٹنے سے کم ہو جاتا ہے۔
    آپ کے لئے ہمیشہ دعا گو
    عرشی ملک

  6. جاوید اقبال کیانی نے کہا ہے:
    July 24, 2010 بوقت 2:57 pm

    جناب صفدر ہمدانی صاحب،
    مرشد بہت بہت مبارک ہو۔ آپکی یہ نامزدگی مریدوں کے لئے بڑے مان کی بات ہے۔اللہ کرے کسی دن یہ ایوارڈ آپکو وصول کرتے ہوئے بھی دیکھیں، آمین۔
    ڈاکٹر نگہت صاحبہ اور جناب مصباح صاحب کا شکریہ، اور انہیں خصوصی مبارک باد ، جنھوں نے شادمانی کی یہ خبر ہم تک پہنچائی۔
    عالمی اخبار کے تمام قارئین کو بھی مبارک ۔

  7. شاھین رضوی نے کہا ہے:
    July 24, 2010 بوقت 3:28 pm

    جناب سید مصباح حسین صاحب ۔ اللہ پاک آ پ سب کو سلامت رکھے۔ بہت خوشی ۔فرحت و مسرت و شادمانی کی اس خبر کو سنا کر آپ نے ھر طرف چراغاں سا کردیا۔۔ میڈیا ایوارڈ کی نامزدگی نے ایک بار پھر یہ بات ثابت کردی کہ سچ بات کہنے والوں کو اللہ کی طرف سے انعام ضرور ملتاھے ۔محترم صفدررضا صاحب آپ کو اپنے بہت پیارے بیٹے محمد صفدر رضا کی وارک یونیورسٹی سے اعلی نمبروں سے گریجویشن کی بھی مبارک باد

    واہ جی دل خوش ھوگیا۔ آج ھی پاکستان سے واپس آئ ھوں ۔ اور اتنی اچھی خوش خبریاں سن رھی ھوں ۔ میں مٹھائ کا مطالبہ ابھی اس لیے نیہں کررھی ھوں کہ ابھی ھم سب اپنی بہت پیاری بہن اور عزیز دوست ڈاکٹر نگہت نسیم کی کامیابیوں کے لیے دعاگو ھیں ،اللہ کرے تم زندگی کے ھر امتحان میں امتیازی اور انتہائ اعلی نمبروں سے کامیابی حاصل کرتی رھو۔ ۔ایک بار پھر آپ سب کو مبارک باد۔

  8. محمداحمدترازی کراچی نے کہا ہے:
    July 24, 2010 بوقت 3:30 pm

    الحمد للہ
    یہ واقعی یہ بڑی بات ہے
    ہم
    جناب صفدر ہمدانی صاحب
    اور
    عالمی اخبار
    کے
    تمام
    اہل کارواں
    کو مبارک پیش کرتے ہیں
    یہ
    عالمی اخبار
    کے لیے انتہائی
    فخر کی بات ہے
    رب کریم
    آپ کو
    اور
    عالمی اخبار
    کو
    دن دگنی
    رات چوگنی
    ترقی عطا
    فرمائے۔
    آمین

  9. ڈاکٹر خواجہ اکرام نے کہا ہے:
    July 24, 2010 بوقت 3:33 pm

    جاوید صاحب ہم تو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ نام و نمود سے دور رہنے والے کا نام آنا ہی ایوارڈ کے مترادف ہے اس لیے اب ہمیں یہ کہنے کی ضروت نہیں کہ للہ کرے کسی دن یہ ایوارڈ آپکو وصول کرتے ہوئے بھی دیکھیں،
    یہ بات میں دل کی گہرائیوں سے کہہ رہا ہوں

  10. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    July 24, 2010 بوقت 3:42 pm

    شاہین میری شہزادی تمہارا اس خوشی میں شامل ہو جانا اس خوشی کو اور بھی بڑھا گیا ہے .. شکر مالک کا کہ خیر سے واپس اپنے گھر پہنچ گئی ہو .. تمہارے فون نے ڈھیروں خون بڑھا دیا تھا .. اللہ پاک تمہیں ہر مشکل سے دور رکھے جو ہم سب کا حوصلہ بڑھاتی رہتی ہو .. خدا جانے اللہ پاک نے تمہیں کب اور کس مٹی سے تخلیق کیا تھا .. یقینا بہت ہی خاص وقت کسی نایاب مٹی سے .. ورنہ ایسے تحفے ہم زمین والوں کو کم کم ہی نصیب ہیں … جگ جگ جیو میری بہن …

  11. ”ماہَ کا مل“ نے کہا ہے:
    July 24, 2010 بوقت 5:11 pm

    محترم صفدر ہمدانی صاحب
    السلام علیکم
    میڈیا ایوارڈ کے لئے نامزد ہونے پر بہت مبا رک ھو اللہ تعالیٰ آپ کو ایسے ہی کامیابیوں سے ہمکنار کرتا رہے ”امین“ اور آپ اپنے تمام کارکنوں کے ساتھھ ترقی کی منازل طے کرتے ھوے آگے بڑھیں ”یہ دو قدم پہ آسمان بڑھے چلو بڑھے چلو رکے نہ آپکا کارواں بڑھے چلو“

  12. عبدالمناف نے کہا ہے:
    July 24, 2010 بوقت 6:43 pm

    بہن نگہت صاحبہ و مصباح شاہ صاحب !
    یہ تو آپ نے ہم پر احسان کیا جو یہ خبر لگا دی-

    خدا جانے کتنے افراد تھے جن کے ناموں میں سے یہ چند نام ایوارڈ کے حقدار سمجھے گئے- یہ لوگ جو نامزد ہوئے یہ اس شعبہ کے لاتعداد دیگر افراد میں سب سے آگے ہیں، بازی لے گئے ہیں، میں برادر محترم خواجہ اکرام صاحب کی بات دہراؤں گا کہ
    “ہمیں یہ کہنے کی ضروت نہیں کہ للہ کرے کسی دن یہ ایوارڈ آپ کو وصول کرتے ہوئے بھی دیکھیں”
    یہ حضرات (اور خاتون بھی) یہ مقابلہ جیت چکے ہیں اور یہی وہ بات ہے جس پر آج ہمارا سر بقول مصباح شاہ صاحب کے فخر سے اونچا ہے-

    بہن عرشی صاحبہ کا یہ جملہ کتنا خوبصورت ہے کہ ” خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے اور غم بانٹنے سے گھٹتا ہے”

    ایک اختلاف بھی ہے مجھ کو اور وہ ہے بہن شاہین رضوی صاحبہ کی اس بات سے کہ :
    “میں مٹھائ کا مطالبہ ابھی اس لیے نہیں کررھی ھوں کہ ابھی ھم سب اپنی بہت پیاری بہن اور عزیز دوست ڈاکٹر نگہت نسیم کی کامیابیوں کے لیے دعاگو ھیں”

    میرا اعتراض یہ ہے کہ بہن نگہت صاحبہ کی کامیابی کی مٹھائی تو بعد میں سہی، اس کا اس موقع کی مٹھائی سے کیا تعلق ہے؟
    اور اصل وجہ آپ کے مطالبہ نہ کرنے کی، میری کمزور یاداشت کے مطابق، یہ ہے کہ آپ کے ذمہ بھی ابھی مٹھائی کھلانی رہتی ہے، پہلے وہ کھلائیں گی پھر مطالبہ کریں گی نا-

    میں بھی آپ سب خواتین و حضرات کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں-
    آغا ہمدانی صاحب کو مبارک باد پیش کی تو وہ کہیں گے کہ

    صفد ر و ہ میرے کام پہ ا نعام د ے ا گر
    سمجھو کہ کام میں کہیں کوتاہی رہ گئی

    اس لیے مبارک باد کی بجائے دوہری مٹھائی کا مطالبہ پیش کرتا ہوں (اپنی نامزدگی اور صاحبزادہ محمد صفدر کی ڈگری کی)

  13. عالم آ را نے کہا ہے:
    July 24, 2010 بوقت 7:42 pm

    اسلام علیکم ساتھیو
    سب سے پہلے دل کی گہرائیوں سے جناب صفدر ہمدانی بھائی کو مبارک باد
    بات بالکل یقینی ہے کہ اگلی سیڑھی دور نہیں ۔اور جلد ہی ہم آپ کو وہاں کھڑا بھی دیکھ لینگے ۔
    پیاری بہن نگہت امتحان کے دباؤ میں بھی سب کو باخبر رکھنا تنہارا ہی خاصہ ہے ۔بہت بہت شکریہ اور کامیابی کی دعا ۔
    اللہ ہم سب کو سچائی اور حق پر قائم رکھے
    عالم آرا
    وینکور

  14. آصف احمد بھٹی۔کویت نے کہا ہے:
    July 25, 2010 بوقت 5:45 am

    السلام علیکم
    محترم صفدر ہمدانی صاحب ،
    آپ کا استدلال اپنی جگہ مگر پھر بھی ہماری طرف سے بہت بہت مبارک ہو۔ آپکی یہ نامزدگی ہم سب کے لئے بڑے مان کی بات ہے۔اور جیسا کے جاوید کیانی بھائی نے بھی کہ ہے کہ اللہ کرے کسی دن یہ ایوارڈ آپکو وصول کرتے ہوئے بھی دیکھیں، آمین۔
    ڈاکٹر نگہت صاحبہ اور جناب مصباح صاحب اور عالمی اخبار کے باقی تمام مخلص کارکنان کو بھی بہت بہت مبارک اور ساتھ ہی شکریہ بلکہ بہت بہت شکریہ، اور اُنہیں تمام احباب کوخصوصی مبارک باد ، جو اِس محفل کا حصہ ہیں اور کسی طرح بھی صپ کی شخصیت کا حصہ ہیں اور اُن کا بھی جنہوں نے شادمانی کی یہ خبر ہم تک پہنچائی اور عالمی اخبار کے تمام قارئین کو بھی مبارک ۔
    آصف احمد بھٹی

  15. شعیب صفدر نے کہا ہے:
    July 25, 2010 بوقت 7:37 am

    بہت بہت مبارک ہو جناب!! نام کا نامزد ہونا ایک اعزاز ہے!

  16. ظہور احمد نے کہا ہے:
    July 25, 2010 بوقت 9:29 am

    آداب عرض
    محترم همداني بھائي آج هميں بھی اس خبر کا پتہ لگا۔ بڑی خوشی ہوئی۔ میڈیا کے حوالے سے آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ باقی جہاں تک ایوارڈ کی نامزدگی کی بات ہے تو یقینا یہ آپ کی خدمات کا اعتراف ہے۔ ہم تو آپ کے عالمی اخبار سے پہلے کے عاشق ہیں۔ وہ بی بی سی ، ہمارا ریڈیو فورم اور ریڈیو سائٹ۔
    مبارکباد قبول فرمائیں۔

  17. شاھین رضوی نے کہا ہے:
    July 25, 2010 بوقت 11:43 am

    میرے بہت عزيز بھائ عبدالمناف۔ اللہ پاک آپ کو ھمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ اور ھم ھمیشہ اچھی اور دل کو شاد کرے والی سارے اچھے دوستوں کی کامیابیوں پر یونہی خوشی خوشی مٹھائ تقیسم کرتے رھیں۔ میں اپنا وعدہ بالکل نیہں بھولی ھوں آپکی مٹھائ تو پکی ھے اور آپ تو یورپ میں رھتے ھیں آپ لوگوں کے لیے کویت کے ویزے کابھی کوئ پرابلم نیہں ھوگا، آ پ بھی وعدہ کریں کہ جب بھی پاکستان گئۓ تو کویت میں اپنی اس بہن کے گھر آکر اس کو نور اور برکت سےمنورکرینگے ، اور ھم آپ کو آپکی پسند کی مٹھائ خود بناکر کھلائنگے ۔مٹھائ کھلانے سے خوشی کا لطف دوبالا ھوجاتاھے۔۔ چلیں ھم سب مل کر اپنی بہت عزیز اور بہت محنتی ۔مخلص بہن ڈاکٹر نگہت نسیم کی کامیابیوں کے لیے دعا کرتے ھیں اور عالمی اخبار کی اس خوبصورت فیملی کے ھر فرد کے لےلیے دعايئں اور ایک بار پھر سب دوستوں کو مبارک باد۔ اور میرے لیے دعاۓ خیر کرنے والے دوستوں کا بھی بہت شکریہ ۔

    واقعی عرشی آپا کی اس بات میں کتنی مٹھاس اورخوبصورتی ھے

    ” خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے اور غم بانٹنے سے گھٹتا ہے”

    عرشی آپا سلامت رھیں اور خوش رھیں ۔

  18. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    July 25, 2010 بوقت 12:08 pm

    اسوقت تک انتظار کیجئے
    ……………………………….
    اے اندر باہر سے پیارے لوگو
    آپ سب سے کیسے کہوں
    یہ کوئی ایسا بڑا کارنامہ نہیں ہوا
    جس پرآپ سب کے چہرے خوشی سے تمتما رہے ہیں
    لفظوں کی برسات ہے
    محبتوں کی کہکشاں دھمال ڈال رہی ہے
    چاہت کیسے کیسے لباس پہن کر رقص میں ہے
    اے اندر باہر سے پیارے لوگو
    یہ تو صرف اور صرف آپکی الفت،محبت اور چاہت کی طاقت ہے
    جو اسکو کوئی بہت بڑا اعزاز سمجھ رہی ہے
    اس مکر وفریب اور دھوکے کی دنیا میں
    آپ سب تو نامزدگی پر نازاں ہیں
    اور میں
    اللہ کے حضور سر بسجود ہوں کہ مجھے یہ ایوارڈ ملا نہیں
    ورنہ اعزازات کے بارے میں مجھے اپنا حالیہ کالم
    خود ہی پڑھنا پڑتا
    اب جی چاہتا ہے کہ آپ سبکو ایک بار ”چیخ” کر کہوں
    بہت بہت شکریہ
    لیکن یہ شکریہ تو بہت ہی چھوٹا سا لفظ ہے
    شکریہ تو میں اسے بھی کہتا ہوں جو مجھے ”پتھر” مار کر گزر جاتا ہے
    شکریہ تو میں اسے بھی کہتا ہوں جو مجھے ”جعلی ادیب ،شاعر اور صحافی کہتا ہے
    شکریہ تو انکو بھی کہا ہے جو اس سچ کے سفر میں بہت جلد تھک کر ساتھ چھوڑ گئے
    اب ایسے میں سچ کہو کیا یہ ”شکریہ” بہت چھوٹا لفظ نہیں
    آپ اندر بار سے پیارے لوگوں کے لیئے
    تو چلیں آپکی بلامفاد اور بے پایاں محبتوں کی تحسین کے لیئے
    اسوقت تک انتظار
    جب تک میں کوئی نیا لفظ ایجاد نہ کر لوں
    جو آپ سب کے شایانِ شان ہو
    سو
    اسوقت تک انتظار کیجئے

  19. ahmad نے کہا ہے:
    July 25, 2010 بوقت 2:42 pm

    السلام علیکم بہت بہت مبارک ہو

  20. سیدمصباح حسین نے کہا ہے:
    July 25, 2010 بوقت 2:53 pm

    حق بات کہنا اور سمجھنا سکھا دیا
    باتوں کو طرز خیر سے کہنا سکھا دیا

    صفدر تمہارے ساتھ نے یہ حوصلہ دیا
    طوفاں کے سامنے دیا رکھنا سکھا دیا

  21. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    July 25, 2010 بوقت 3:27 pm

    واہ واہ مصباح بھائی .. کیا کہنے .. سبحان اللہ ..

  22. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    July 25, 2010 بوقت 4:37 pm

    عزیزم مصباح…… بے جان بولتا ہے مسیحا کے ہاتھ میں…..
    میاں ہم ایسے نہیں ہیں جیسے آپکو نظر آتے ہیں. یہ تو تن کا چولا پہنا ہے ہوا ہے لیکن من کی میل تو صرف اپنی آنکھیں ہی دیکھتی ہیں. ہم تو خود ابھی حق بات نہیں کہہ سکے آپکو کیا سکھائیں گے. بس یہ سوچتے ہیں کہ اگر ذروں میں اتنی طاقت ہے تو منبع نور کیا ہو گا. اگر قلم کی اتنی قوت ہے تو باعثِ خلقِ قلم کیا ہو گا. ہاں ایک بات سچ ہے کہ اللہ پاک نے اس سفر میں عمل تقطیر کے بعد جو ساتھی میرے ہم سفر منتخب کیئے ہیں مجھے ان پر ناز کرنا چاہیئے اور مجھے ناز ہے.
    مولا آپ سب کو اپنی خاص امان میں رکھیں. جزاک اللہ

  23. شمس جیلانی نے کہا ہے:
    July 25, 2010 بوقت 6:18 pm

    صفدر بھا ئی بہت بہت مبارکب ہو۔ دیکھا ! پہلے آپ میری بات مانتے نہیں تھے جبکہ میں ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ ہم جیسے آپ کے قدر شناس اوربھی ہیں ۔ معافی چا ہتا ہوں کہ مبارکباد دینے میں دیر ہو گئی، خوشی اتنی زیادہ تھی کہ مبارکباد دینے کے لیئے الفاظ ڈھونتا رہا۔ کیونکہ یہ انہو نی بات تھی کہ سچوں کے میر کارواں کو انعام دیا جا یا؟ ورنہ تو بقول محسن بھو پالی مرحوم کے یہاں جاہلوں کو جہل کا انعام دیا جاتا ہے۔
    پچھلے دنوں نیو یارک میں ایک صا حب سے ملا قات ہو ئی وہ مشرف کے رشتے داروں کے رشے دار تھے؟ انہوں نے ایک ایسے شاعر کا نام لیکر بڑے فخر سے مجھے بتایا کہ میں ان کا بھائی ہوں جن کو صدارتی اعزاز سے نوازا گیا۔ جبکہ یہ نام میں نے پہلے کبھی نہیں سنا تھا اور مجھے یقین ہے کہ آپ نے بھی نہیں سنا ہو گا ؟ چلیئے ناموں میں کیا رکھا ۔ مگر مجھے ان کا یہ انکشاف حیران کر گیا کے ان کو حکومت سے ان کی خدمات کے سلسلہ میں نوا زا گیا ہے۔ جبکہ آپ کی اور آپ کے خاندان کی اردو کے سلسلہ میں اتنی خدمات ہیں کہ یہ اعزاز آپ کو بہت پہلے مل جانا چا ہیئے تھا۔ چلیئے اب ملاتو تاخیر سے سہی۔ مگر دیار ِ غیر میں ملا چونکہ یہاں غلط بخشی نہیں ہوتی ہے لہذا کو ئی ہنسے گا نہیں ۔ اس کو اللہ کی عطا سمجھ کر قبول فرما لیجئے۔
    مجھے اس پر ایک لطیفہ یا د آگیا کہ ایک فقیر خواجہ صا حب کے مزار کے باہر سدا لگا رہا تھا کہ “ دلوا خواجہ “ ایک انگریز سیاح بھی وہاں آپہونچا “ اس نے ہنس کر کہا کہ اس مٹی کے ڈھیر سے کیا مانگ رہا “ مجھ سے مانگ میں دونگا ۔ اس نے اپنا رخ اس کی طرف کرلیا ۔ تو اس نے اس کے پھیلے ہو ئے ہاتھ پر ایک بڑا سا نوٹ رکھدیا ۔ اس نے مزارکی طرف دیکھا اور کہا “واہ خوجہ واہ ! تو نے خوب ۔۔۔۔۔ سے دلوایاہے ۔ انتہائی خلوص کے ساتھ اس موقعہ پر یہ قطہ پیش ِ خدمت ہے۔
    برا ہے دور یہ ، گو ہر شناس کم بھی ہیں
    سمندروں میں مگر آتے زیرو بم بھی ہیں
    خدا دلا ئے ہے جن سے انہیں دکھا دے ہے
    کہ سنگ ریزوں میں پنہاں جام ِجم بھی ہیں

  24. محمّد علی خان نے کہا ہے:
    July 25, 2010 بوقت 7:18 pm

    نفسا نفسی کے اس اندھیرے دور کی بھٹکتی مخلوق کو علم و ادب کی نوری روشنی میں کامیابی کی منزل کا پتہ بتانے والے اللہ کے فرشتہ صفت پوشیدہ بندے صرف روحانی آنکھ سے ہی نظر آسکتے ہیں ۔ غرور و تکبر، تعریف و توصیف اور خود نمائی سے خوفزدہ، پوشیدہ طرز محنت سے انسانی بھلائی اور اللہ کی خوشنودی کا حصول ہی ان اللہ والوں کا نصب العین ہے۔ اور یہ نیک بندے ۔۔۔۔۔ حل جزاء اللاحسان الّا الاحسان ۔۔۔۔۔۔ پر کامل یقین رکھتے ہوئے اللہ کی رضا میں راضی رہ کر روز اس فانی دنیا میں ہی محشر کی سرخروئی کا ایڈوانس ٹکٹ حاصل کرلیتے ہیں ۔
    ان ہی اللہ والوں میں شامل ایک قابل احترام اللہ کے بندے محترم آغا صفدر ھمٰدانی صاحب کو میڈیا ایوارڈ کیلئے نامزد کیے جانے اور انکے صاحبزادے محترم محمّد صفدر صاحب کی گریجویشن کے پرمسرّت موقع پر ہم قلبی خلوص کے ساتہ مبارکباد پیش کرتے ہیں، امید ہے قبول فرما کر ہمیں مشکور ہونے کا موقع مرحمت فرمائیں گے ۔

  25. عبدالمناف نے کہا ہے:
    July 25, 2010 بوقت 8:26 pm

    محترمہ بہن شاہین رضوی صاحبہ !
    مٹھائی ذرا زیادہ کھالی جائے تو جی بھر جاتا ہے، کچھ اور کھالی جائے تو بیماری کا خدشہ ہوتا ہے، لیکن
    آپ کی پیاری باتیں اتنی میٹھی ہیں، پھر بھی جتنا سُنیں جتنا پڑھیں اشتہا بڑھتی چلی جاتی ہے، آپ کی دعوت کا شکریہ، اب ہمیں مٹھائی کی قطعاً کوئی طلب نہیں آپ کی یہ پیار بھری باتیں ہی اتنی میٹھی ہیں کہ اب یہی پڑھ سن کر طبیعیت شاد ہے، اللہ کریم آپ کو مع اہلِ خانہ سلامت رکھے-

    آغا ہمدانی صاحب ! آپ سے بھی دوہری مٹھائی والا مطالبہ واپس لیا جاتا ہے، مجھے احساس ہو گیا کہ میں نے بہت کم ظرف دکھائی، اگر صفدر ہمدانی صاحب سے مانگنا ہو تو کوئی بڑی چیز مانگنی چاہیے، جو شخص مولا حسین علیہ السلام کی ذاتِ مقدس کی بابت مرثیے کہہ کر چھپوا کر دنیا میں سب کو تقسیم کرتا ہو، جو باب الحوائج مولا اباالفضل علیہ السلام کے معجزات دنیا بھر میں نشر کرتا ہو اس سے مٹھائی کا تقاضہ اپنے آپ پر زیادتی ہے-

    مجھے آپ سے جس چیز کی واقعی ضرورت ہے وہ آپ کے قلم کی روانی ہے، مجھے اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو ترتیب دینے کے لیے آپ کی ہدایات و راہنمائی چاہیے، مصباح شاہ صاحب کے کہے کے مطابق ہمیں بھی

    طوفاں کے سامنے دیا رکھنا سکھا دیجیے

    آپ سے اس کے علاوہ خدا معلوم کیا کیا چاہیے جو اگر آپ کے قلم کے معجزات ملتے رہے تو خود بخود ہم تک منتقل ہوتے جائیں گے، یعنی

    آپ سے بس یہ التماس ہے کہ آپ کا قلم رکنے نہ پائے، علم و ادب کے اس جہاز پر سیاحت کا پروانہ ہی میری آپ سے درخواست ہے-

  26. عبدالمناف نے کہا ہے:
    July 25, 2010 بوقت 8:28 pm

    ahmad بھائی سے اس سے قبل ملاقات نہیں ہوئی
    ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ
    اب ملاقاتیں ہوتی رہیں گی
    انشاء اللہ

  27. جاوید اقبال کیانی نے کہا ہے:
    July 26, 2010 بوقت 2:52 am

    محترم شمس جیلانی صاحب،

    ’’ آپ کی اور آپ کے خاندان کی اردو کے سلسلہ میں اتنی خدمات ہیں کہ یہ اعزاز آپ کو بہت پہلے مل جانا چا ہیئے تھا ‘‘
    حضور ، اردو کی خدمت بھی کوئی خدمت ہے کہ جس کے لئے سرکار ایوارڈ بانٹتی پھرے ؟ ایوارڈ لینے کے لئے قصیدہ گو ہونا ضروری ہے اور ہمدانی صاحب اس فن سے ناآشنا ہیں ۔ لیکن جنھیں قدرت خود ہی اپنے روشن ستاروں میں شامل کردے انہیں کسی دنیاوی ایوارڈ کی کیا پرواہ ۔

    جناب صفدر ہمدانی صاحب،
    مرشد آپ کو بیٹے صفدر کی گریجوئیشن کی بھی مبارک ہو ، یہی تو آپ کا اصلی ایوارڈ ہے۔

    محترمہ شاہین رضوی صاحبہ ،
    ’ ویلکم بیک ‘ ، کیا آپ کا یہ سرکاری دورہ تھا جو اتنا مختصر تھا ؟ ویسے اللہ نہ کرے کسی کو سرکاری دورہ پڑے کیونکہ آجکل سرکار کو جو دورے پڑ رہے ہیں وہ سرکار ہی جانتی ہے ، لیکن ہم نے تو آپکی غیر حاضری کا ایک ایک دن گن کے گذارا۔

  28. زوار قمر عابدی-جدہ - سعودی عرب نے کہا ہے:
    July 26, 2010 بوقت 4:04 pm

    قبلہ مُحترم آغا صفدر ھمدانی ،( عاشق کو اہلِبیت کے بیشک ولی کہو)
    سدا سلامت اور خوش و خُرم رہیں ، آغا یقیں کریں انہائی کوشی ہوئی ، آپ کی اس ایوارڈ کی نام زدگی پر ، آپ نے بلکل سہی کہا کہ ،، عزیزم مصباح…… بے جان بولتا ہے مسیحا کے ہاتھ میں…..
    میاں ہم ایسے نہیں ہیں جیسے آپکو نظر آتے ہیں،، آغا جی ،، ہیرے کی قیمت جوہری ہی جانتا ہے ،،

    فنکار آدمی کی بجائےآدمیت اور ذہین کی بجائے ذہنیت کا قائل ہوتا ہے ، اور سچ ہر حال میں سچ ہےخواہ وہ صدیوں پہلے ذُبانِ میثمِ تمار کی زُبان پر ہو یا آج کے صفدر ھمدانی کی زُبان و قلم پر ، اور اِس طرح کا سچا فنکار عام اِنسان سے کہیں قد آور شخصیت کا حامل ہوتا ہےاور صفدربائی آپ کا یہ فن تو عطائے مُحمد وآلِ مُحمد ہے کیوں کہ وہ اپنی ذات میں ایک کائینات ہے ، جو ذندگی کے تپتے ہوے صحرا میں اپنے اندر کرب آمیزسچ کی کرنیں گھولنے کا مُتمنی رہتا ہے، اور یہ آپ کے سچ کا انعام ہے ،

    آج ہمارا زمانہ مادیت گُزیدہ ہے ، مادی ترقی، مادی خوش حالی، سہولتیں، آسائیشوں کی بہم رسانی، ہر کہ دمہ کا مُنتہائے بن کر رہ گئی ہے مگر پرور دیگارِ علم نے اپنے فیص سے صفدر بھائی کے دل کو اپنی محبوب ہستیوں کیلے اور اُنکے قلم کو اُنکی مدحت کیلے مخصوص کر دیا

    میں گُزر آیا ہوں اِس عُمر میں جِن راہوں سے
    اور نچوڑا ہے عرق صبح مسا آھوں سے
    تجربہ عمر کا ساری میں بتا دوں صفدر
    اِس فقیری میں بھی بہتر ھوں شہنشاھوں سے

    صفدر بھائی ، آپ کا یہ اعزاز ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے ، میں نے ان 9 سالوں میں آپ سے بُہت کُچھ سیکھا ہے، آپ کا یہ اعزاز ہم سب کہ لیے باعثِ فخر ہے ، خُدا وندے عالم آپکو دُنیا و آخرت میں ایسے ہی سے اعزازات سے نوازتا رہے

    مُحتاجِ دُعا ،، زوار قمر عابدی

  29. سائرہ بتول نے کہا ہے:
    July 27, 2010 بوقت 12:03 am

    محترم صفدر بھائی

    بہت خوشی ہوئی.اللہ آپ کو سلامت رکھے
    آمین

  30. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    July 27, 2010 بوقت 12:24 am

    آپ سب خواتین و حضرات کا نام بنام شکریہ،نوازش،ممنون احسان ہوں

  31. روبینہ فیصل نے کہا ہے:
    July 27, 2010 بوقت 4:50 am

    صفدر ر بابا ۔۔بہت مبارک ہو ۔۔۔۔۔۔۔آپکا اصل ایوارڈ آپ کی سچائی اور آپکی منفرد فطرت ہے ، جو خدا نے آپکو نواز کر بھیجی ہےآپ جیسا کبھی کوئی دیکھا نہیں ۔۔۔۔۔۔اللہ آپکو اس عادت میں مستحکم رکھے ۔۔۔۔۔۔ہمیں سچ سننے کا موقع ملتے رہے۔

  32. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    July 27, 2010 بوقت 12:27 pm

    روبینہ فیصل کا تو سب سے زیادہ شکریہ کہ ابھی تک سفر سپین کی تھکن بھی نہیں اتری اور وہ تشریف لائیں بلاگ میں۔ روبینہ جی ان ایوارڈوں میں سوائے رسوائی کے کیا رکھا ہے؟ آپ تو جس سفر سے آئی ہیں وہاں کیسے کیسے ایوارڈ یافتہ دیکھکر آئی ہوں گی اور اگلی تمام حیات ایوارڈ لینے سے شاید توبہ بھی کر لی ہو۔ میرے بہت قربی احباب اور گھر والے کہتے ہیں کہ مجھے دشمن پالنے اور بنانے کا شوق ہے۔آپ بتائیں میں تو آپکا نمک بھی کھا کر آیا ہوں،آپ نے اور آپ کے شوہرِ فیصل مزاج نے مجھے میری اوقات سے زیادہ عزت بھی دی ہے۔کیا میں واقعی دشمن بنانے والا آدمی ہوں؟ ہاں اگر سچ کہنے میں دشمنوں میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ تو ”خریف” کی فصل ہے جو ”ربیع” سے زیادہ اچھی ہوتی ہے

  33. روبینہ فیصل نے کہا ہے:
    July 27, 2010 بوقت 5:53 pm

    بابا صفدر اگر اس بات سے کوئی پڑتا ہے میں جو یہ کہہ دوں کی مجھے آپ پر فخر ہے تو بئ جا نہ ہوگا ۔ اسی لئے سپین کی تھکان والا آپکا طنز اگنور کر دیتی ہوں ۔۔۔۔گو کہ آپ نہیں جانتے کہ تھکان واقعی میں ہی بہت ذیادہ تھی۔وہ جس بھی چیز کی تھی یہ الگ ایک وسیع و عریض موضوع ہے اور میں پہلے بھی آپکو بتا چکی ہوں کہ میں بہت چھوٹی ہوں ۔۔۔اگر ساری دنیا آپکی دشمن ہے اور صرف ایک بھی سچا بندہ یا بندی آپکی دوست ہے تو آپ کو مطئمن رہنا چاہیئے ۔۔ یقین کریں اس میں کوئی مبالغہ نہیں ۔۔ہم سب آپکو بہت پیار اور عزت دیتے ہیں ۔ بس یہی ہے کہانی ۔

  34. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    July 27, 2010 بوقت 6:01 pm

    لو جی کہانی شروع.ہاہاہاہاہا.دیکھا نا ہو گئی نا غلط فہمی. میری سچی اور حقیقی بات بھی طنز لگی. نہیں قطعی نہیں، ورنہ” جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے” والا کالم میں نے آپ کے قیام سپین کے دوران ہی لکھا تھا.
    دوسری بات یہ کہ آپ قطعی چھوٹی نہیں بلکہ بہت سے بونوں سے بہت قدآور ہیں اور آپ جانتی ہیں کہ میں بے جا تعریف تو کرتا ہی نہیں اس لیئے جو شعر کہتا ہوں اُس پر عمل بھی کرتا ہوں
    مری ناکامیوں کو مجھ کو یہ باعث نظر آیا
    کسی کی بے وجہ تعریف کی عادت نہیں مجھ میں
    مولا علی کا قول ہے کہ غریب وہ نہیں جسکے پاس مال و دولت نہیں بلکہ وہ ہے جسکا ایک بھی سچا دوست نہیں اور میں تو ان معانی میں شہنشاہ ہوں کہ میرے تین چار ایسے دوست اور ایسی دوست ہیں.
    کاش ساری دنیا میری دشمن ہو جاتی مگر ایسا کوئی وصف مجھ میں ہے ہی نہیں.
    آپ تو بہت پیاری شخصیت کی مالک ہیں اور یہ اندازہ آپکی میزبانی کے دوران کر چکا ہوں


مضامین (آر ایس ایس) اور تبصرے (آر ایس ایس).
 عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل: رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں