2014 ,April 19
محسن نقوی کی شاعری اور سلیم جعفری کے مشاعرے

منظور قاضی ، بتاریخ  August 15, 2010

عالمی اخبار کے قائین کو یہ معلوم کرکے خوشی ہوگی کہ جناب ظفر قابل (فرزند قابل اجمیری مرحوم ) نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ وہ میرے ساتھ بھرپور تعاون کرینگے اگر میں محسن نقوی ، شکیب جلالی ، باقی صدیقی تنویر سپرا اور سلیم جعفری سے متعلق کوئی بلاگ شروع کروں :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ظفر قابل صاحب نے مجھے آج اپنے اس خط سے یاد کیا :

محترم منظور قاضی صاحب
السالم علیکم
امید ہے خیریت سے ہوں گے اور اپنا دورہ اسپین بخیر و خوبی گذار کر واپس آ چکے ہوں گے
بلاگ مین اضافہ اس لئے نہیں ہو سکا کہ مجھے کچھ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیت تھی اور پھر فورا سندہ میں سیلاب کی تباہ کاری شروع ہو گئی کچھ دوستوں کے ساتھ سکھر کا پروگرام بنا اور ہم اب تک دو بار سکھر ہو آئے ہیں جو کچھ ممکن ہو سکتا تھا ممکنہ کوشش کی لیکن بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔
آپ نے بلاگ میں میری بہت عزت افزائی فرمائی ہے جس کا بندہ قطعی حق دار نہیں ہے ہاں کچھ بلاگ ان حق داروں کے ضرور لکھے جانے چاہیں جو واقعی حق دار ہیں محسن نقوی مرحوم کا نام تو لیا جا چکا ہے اور بھی ایسے لوگ ہیں جیسے شکیب جلالی باقی صدیقی تنویر سپرا اور بہت سے نام ہیں ایک نام سلیم جعفری کا بھی ہے جو شاعر یا ادیب نہیں تھے مگر ساری زندگی اردو کی خدمت میں گزار دی ۔
آپ جہاں سے چاہے ابتدا کریں میرا بھرپور تعاون آپ کے ساتھ ہو گا آپ جیسے بے لوث لوگوں کو دیکھ کر یقین آتا ہے کہ ہماری زبان کبھی نہین ختم ہو گی۔
آپ کی دعائوں کا طلب گار
ظفر قابل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ظفر قابل صاحب تو جانتے ہیں کہ میں جرمنی میں میونخ کے ایک قریبی گاوں میں رہتا ہوں جس میں نہ کوئی اردو کی لایبریری ہے اور نہ کوئی اردو کا ماحول ہے ۔ میرے پاس ان عظیم ہستیوں پر ڈھنگ سے لکھنے کے لیے کوئی مواد موجود نہیں ہے ۔ اگر میں ویکی پیڈیا اور گوگل سے کام لوں تو شائد کوئی قابلِ مطالعہ بات لکھ سکوں :
فی الوقت میں محسن نقوی اور سلیم جعفری جیسے اردو کے سرپرستوں کے نام سے یہ بلاگ شروع کررہا ہوں ۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ محسن بھوپالی کے بلاگ میں محسن نقوی کی غزل “ آوارگی“ شایع ہوچکی ہے ۔ ( میں اسے غلطی سے محسن بھوپالی کی غزل سمجھ بیٹھا تھا مگر جناب صفدر ھمدانی صاحب نے میری تصحیح کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ محسن نقوی کی غزل ہے ) ۔
۔
مییری ظفر قابل صاحب سے اور ان تمام حضرات و خواتین سے درخواست ہے کہ وہ محسن نقوی کے کلام اور اسکی زندگی اور اسکی شاعری کے محرکات پر تذکرہ کریں ۔ اور اسکا کلام اس بلاگ میں شامل کریں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری یہ بھی درخواست ہے کہ اردو شاعری کے عاشق اور متحدہ امارات میں مشاعرے مننعقد کرنے والے انسان جناب سلیم جعفری مرحوم کی ادبی خدمات کے بارے میں بھی ظفر قابل صاحب اور وہ تمام افراد جنھوں نے دوبئی کے مشاعروں میںشرکت کی یا ان مشاعروں کے ویڈیو پروگراموں کو دیکھا وہ سلیم جعفری مرحوم کی زندگی اور اسکی ادبی خدمات پر بھی کچھ نہ کچھ تحریر کریں۔
میرے پاس سلیم جعفری کے مشاعروں کے کافی ویڈیو کیسیٹ موجود ہیں جنھیںمیں بار بار دیکھا کرتا ہوں اور سلیم جعفری کے لیے دعائے مغفرت کیا کرتا ہوں ان ویڈیو پروگراموں میں سلیم جعفری نے ہندوستان اورپاکستان کے مشہور شعرا کا انکی زندگی ہی میں جشن منا یا تھا۔ اور مشاعروں کی نظامت بڑے ہی ماہرانہ انداز میں کی تھی ۔ جشن مجروح، جشن خمار، جشن فراز ، جشن عالی ، جشن ایلیا وغیرہ وغیرہ یادگا ر قسم کے مشاعرے تھے جن کی مثال اب ملنا مشکل ہے ۔
حق مغفرت کرے بڑا آزاد مرد تھا۔

مییری اس سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی مگر مشاعروں میں اسکی نظامت کے انداز سے میں بے حد متاثر تھا ۔ ، افسوس کہ اسکی زندگی نے اسکی وفا نہ کی اور وہ جوانی ہی میں اس دنیا سے کوچ کرگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے ظفر قابل صاحب کی تحریر میں سلیم جعفری کا نام دیکھکر ایک خوشگوار حیرت ہوئی ۔ ( ایک برسبیل تذکرہ بات: سلیم جعفری کے ایک پروگرام میں میرے اورنگ آباد کے جاننے والے اسد جعفری بھی موجود تھے ، پتہ نہیں اب وہ کہاں پر ہیں اور کیسے ہیں ؟) ۔
۔ بہرکیف :
میں اس بلاگ کو جناب ظفر قابل صاحب کی اور تمام قارئین کی اعانت کی امید میں شروع کردیا ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر ظفر قابل صاحب چاہیں تو وہ عالمی اخبار کی انتظامیہ سے عالمی اخبار میں خود اپنے بلاگ لکھنے کی اجازت بھی لےسکتے ہیں ۔
بقول آتش
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزارہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہے
۔۔۔۔۔
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے


38 تبصرے برائے “محسن نقوی کی شاعری اور سلیم جعفری کے مشاعرے”

  1. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 16, 2010 بوقت 6:31 pm

    جہاں تک سلیم جعفری کا تعلق ہے ، اس کا سب سے بڑا ادبی کارنامہ اردو کے مردہ جسم میں مشاعروں کی روح پھونک دینا تھا ۔ اس نے ہندوستان و پاکستان کے مشہور و معروف شعرا اور شاعرات کو دوبئی بلا کر عالمی مشاعروں کی بنیاد ڈالی اور ان مشاعروں کی نظامت بھی انتہائی پر اثر انداز میں کی۔ اس کی نظامت کی مثال دنیا میں بہت کم ملے گی۔

    جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ہوں ، اس نے خمار بارہ بنکوی ، مجروح سلطان پوری ، جون ایلیا اور احمد فراز کے علاوہ پیر زادہ قاسم اور کیفی اعظمی جیسے شعرا کو دوبئی بلاکر ان کا جشن منایا اور یاد گار قسم کے مشاعروں کا بندو بست کیا۔

    افسوس کہ وہ 1997 میں کسی مہلک بیماری کے باعث قبل از وقت فوت ہوگیا ۔ اللہ اسے کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔ آمین

    اب دیکھتے ہیں کہ ظفر قابل صاحب سلیم جعفری مرحوم کے بارے میں کیا لکھتے ہیں۔

    ظفر قابل صاحب محسن نقوی مرحوم کے بارے میں بھی لکھ سکتے ہیں۔

    وہ ان دنوں سیلاب زدگان کی مدد اور خدمت کررہے ہیں اس لیے ان کو میں انکے اپنے حال پر چھوڑتا ہوں ۔
    اگر کوئی قاری ان دو ہستیوں کے بارے میں کچھ لکھنا چاہے تو یہ بلاگ حاضر ہے۔

  2. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 16, 2010 بوقت 7:02 pm

    محسن نقوی کی غزل :

    وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے
    وہ بھی جڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے

    سب کے ہونٹوں پہ مرے بعد ہیں باتین میری !
    میرے دشمن مرے لفظوں کے بھکاری نکلے

    ایک جنازہ اٹھا مقتل سے عجب شان کے ساتھ
    جیسے سج کر کسی فاتح کی سواری نکلے

    بہتے اشکوں سے شعاعوں کی سبیلیں پھوٹیں
    چبھتے زخموں سے فنِ نقش نگاری نکلے

    ہم کو ہر دور کی گردش نے سلامی دی ہے
    ہم وہ پتھر ہیں جو ہر دور میں بھاری نکلے

    عکس کوئی ہو خد و خال تمھارے دیکھوں
    بزم کوئی ہو مگر بات تمھاری نکلے

    اپنے دشمن سے میں بے وجہ خفا تھا محسن
    میرے قاتل تو مرے اپنے حواری نکلے

  3. زوار قمر عابدی -جدہ - سعودی عرب نے کہا ہے:
    August 17, 2010 بوقت 1:16 am

    اے مرے کبرہا——!
    اے انوکھے سخی!
    اے مرے کبریا!!
    میرے ادراک کی سرحدوں سے پرے
    میرے وجدان کی سلطنت سے ادھر
    تیری پہچان کا اولین مرحلہ!

    میری مٹی کے سب ذائقوں سے جدا!!
    تیری چاہت کی خوشبو کا پہلا سفر!!
    میری منزل ؟
    تیری رہگزر کی خبر!
    میرا حاصل ؟
    تیری آگہی کی عطا!!
    میرے لفظوں کی سانسیں
    ترا معجزہ!
    میرے حرفوں کی نبضیں
    ترے لطف کا بے کراں سلسہ!
    میرے اشکوں کی چاندی
    ترا آئینہ!
    میری سوچوں کی سطریں
    تری جستجو کی مسافت میں گم راستوں کا پتہ!
    میں مسافر ترا——-( خود سے نا آشنا)
    ظلمتوں کے گھنے جنگلوں میں گھرا
    خود پہ اوڑھے ہوئے کربِ وہم و گماں کی سلگتی ردا
    ناشناسائیوں کے پرانے مرض،
    گمرہی کے طلسمات میں مبتلا
    سورجوں سے بھری کہکشاں کے تلے
    ڈھونڈتا پھر رہا ہوں ترا نقشِ پا——!!
    اے انوکھے سخی!
    اے مرے کبریا!!

    کب تلک گمرہی کے طلسمات میں؟
    ظلمتِ ذات میں
    ناشناسائیوں سے اٹی رات میں
    دل بھٹکتا رہے
    بھر کے دامانِ صد چاک میں بے اماں حسرتوں کا لہو
    بے ثمر خواہشیں
    رائیگاں جستجو!!

    اے انو کھے سخی!
    اے مرے کبریا!!
    کوئی رستہ دکھا
    خود پہ کھل جاؤں میں
    مجھ پہ افشا ہو “تو”
    اے مرے کبریا!!
    کبریا‘ اب مجھے
    لوحِ ارض و سما کے سبھی ناتراشیدہ ‘ پوشیدہ
    حرفوں میں لپٹے ہوئے

    اسم پڑھنا سکھا
    اے انوکھے سخی!
    اے مرے کبریا!
    میں مسافر ترا

    ————————————-

    ——— الہام کی رم جھم ———

    الہام کی رم جھم کہیں بخشش کی گھٹا ہے
    یہ دل کا نگرہے کہ مدینے کی فضا ہے

    سانسوں میں مہکتی ہیں مناجات کی کلیاں
    کلیوں کے کٹوروں پہ تیرا نام لکھا ہے

    آیات کی جھرمٹ میں تیرے نام کی مسند
    لفظوں کی انگوٹھی میں نگینہ سا جڑا ہے

    اب کو ن حدِ حسن طلب سوچ سکے گا
    کونین کی وسعت تو تہہ دستِ دعا ہے

    ہے تیری کسسک میں بھی دمک حشر کے دن کی
    وہ یوں کہ میرا قریہ جاں گونج اُٹھا ہے

    خورشید تیری راہ میں بھٹکتا ہوا جگنو
    مہتاب تیرا ریزہ نقشِ کف پا ہے

    ولیل تیرے سایہ گیسو کا تراشا
    ولعصر تیری نیم نگاہی کی ادا ہے

    لمحوں میں سمٹ کر بھی تیرا درد ہے تازہ
    صدیوں میں بھی بکھر کر تیرا عشق نیا ہے

    یا تیرے خدوخال سے خیرہ مہ و انجم
    یا دھوپ نے سایہ تیرا خود اُوڑھ لیا ہے

    یا رات نے پہنی ہے ملاحت تیری تن پر
    یا دن تیرے اندازِ صباحت پہ گیا ہے

    رگ رگ نے سمیٹی ہے تیرے نام کی فریاد
    جب جب بھی پریشان مجھے دنیا نے کیا ہے

    خالق نے قسم کھائی ہے اُس شہر اماں کی
    جس شہر کی گلیوں نے تجھے ورد کیا ہے

    اِک بار تیرا نقشِ قدم چوم لیا تھا
    اب تک یہ فلک شکر کے سجدے میں جھکا ہے

    دل میں ہو تیری یاد تو طوفاں بھی کنارہ
    حاصل ہو تیرا لطف تو صرصر بھی صبا ہے

    غیروں پہ بھی الطاف تیرے سب سے الگ تھے
    اپنوں پہ بھی نوازش کا انداز جدا ہے

    ہر سمت تیرے لطف و عنایت کی بارش
    ہر سو تیرا دامانِ کرم پھیل گیا ہے

    ہے موجِ صبا یا تیرے سانسوں کی بھکارن
    ہے موسم گل یا تیری خیراتِ قبا ہے

    سورج کو اُبھرنے نہیں دیتا تیرا حبشی
    بے زر کو ابوزر تیری بخشش نے کیا ہے

    ثقلین کی قسمت تیری دہلیز کا صدقہ
    عالم کا مقدر تیرے ہاھتوں پہ لکھا ہے

    اُترے کا کہاں تک کوئی آیات کی تہہ میں
    قرآن تیری خاطر ابھی مصروفِ ثنا ہے

    اب اور بیاں کیا ہوکسی سے تیری مدحت
    یہ کم تو نہیں ہے کہ تو محبوبِِ خدا ہے

    اے گنبدِ خضرا کے مکین میری مدد کر
    یا پھر یہ بتا کون میرا تیرے سوا ہے

    بخشش تیری آٓنکھوں کی طرف دیکھ رہی ہے
    محسن تیرے دربار میں چپ چاپ کھڑا ہے

    —————————————–
    مُحسن نقوی کی چند غزلیں

    میں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسماں کا ہے
    کہ ٹوٹ کر بھی میرا حوصلہ چٹان کا ہے

    برا نہ مان میرے حرف زہر زہر سے ہیں
    میں کیا کروں کہ یہی ذائقہ زباں کا ہے

    ہر ایک گھر میں مسلط ہے دل کی ویرانی
    تمام شہر پہ سایہ میرے مکان کا ہے

    بچھڑتے وقت سے اب تک میں یوں نہیں رویا
    وہ کہہ گیا تھا کہ وقت امتحان کا ہے

    مسافروں کی خبر ہے نہ دکھ ہے کشتی کا
    ہوا کو جتنا بھی غم ہے وہ بادباں کا ہے

    وہ برگٍ زرد کی صورت ہوا میں اڑتا ہے
    وہ ایک ورق بھی میری اپنی داستاں کا ہے

    یہ اور بات کہ عدالت ہے بے خبر ورنہ
    تمام شہر میں چرچہ مرے بیاں کا ہے

    اثر دکھا نہ سکا اس کے دل میں اشک میرا
    یہ تیر بھی کسی ٹوٹی ہوی کمان کا ہے

    بچھڑ بھی جاے مگر مجھ سے بے خبر بھی رہے
    یہ حوصلہ ہی کہاں مرے بدگماں کا ہے

    قفس تو خیر مقدر میں تھا مگر محسن
    ہوا میں شور اب تک مری اڑان کا ہے۔۔
    ————————————-

    سایہء گل سے بہر طور جدا ہو جانا
    راس آیا نہ مجھے موجِ صبا ہو جانا

    اپنا ہی جسم مجھے تیشہء فرہاد لگا
    میں نے چاہا تھا پہاڑوں کی صدا ہو جانا

    موسمِ گل کے تقاضوں سے بغاوت ٹھہرا
    قفسِ غنچہ سے خوشبو کا رہا ہو جانا

    قصرِ آواز میں اک حشر جگا دیتا ہے
    اس حسیں شخص کا تصویر نما ہو جانا

    راہ کی گرد سہی ، مائلِ پرواز تو ہوں
    مجھ کو آتا ہے ترا “بندِ قبا” ہو جانا

    زندگی تیرے تبسم کی وضاحت تو نہیں؟
    موجِ طوفاں کا ابھرتے ہی فنا ہو جانا

    کیوں نہ اس زخم کو میں پھول سے تعبیر کروں
    جس کو آتا ہو ترا “بندِ قبا” ہو جانا

    اشکِ کم گو تجھے لفظوں کی قبا گر نہ ملے
    میری پلکوں کی زباں سے ادا ہو جانا

    قتل گاہوں کی طرح سرخ ہے رستوں کی جبیں
    اک قیامت تھا مرا آبلہ پا ہو جانا

    پہلے دیکھو تو سہی اپنے کرم کی وسعت
    پھر بڑے شوق سے تم میرے خدا ہو جانا

    بے طلب درد کی دولت سے نوازو مجھ کو
    دل کی توہین ہے مرہونِ دعا ہو جانا

    میری آنکھوں کے سمندر میں اترنے والے
    کون جانے تری قسمت میں ہے کیا ہو جانا
    !
    کتنے خوبیدہ خوابوں کو جگائے محسن!
    جاگتی آنکھ کا پتھرایا ہوا ہو جانا

    ————————————

    بہار کیا، اب خزاں بھی مجھ کو گلے لگائے تو کچھ نہ پائے
    میں برگِ صحرا ہوں ، یوں بھی مجھ کو ہَوا اُڑائے تو کچھ نہ پائے

    میں پستیوں میں پڑا ہوا ہوں، زمیں کے ملبوس میں جڑا ہوں
    مثالِ نقشِ قدم پڑا ہوں، کوئی مٹائے، توکچھ نہ پائے

    تمام رسمیں ہی توڑ دی ہیں، کہ میں نے آنکھیں ہی پھوڑ دی ہیں
    زمانہ اب مجھ کو آئینہ بھی، مرا دکھائے تو کچھ نہ پائے

    عجیب خواہش ہے میرے دل میں، کبھی تو میری صدا کو سن کر
    نظر جھکائے تو خوف کھائے، نظر اُٹھائے تو کچھ نہ پائے

    میں اپنی بے مائیگی چھپا کر، کواڑ اپنے کھلے رکھوں گا
    کہ میرے گھر میں اداس موسم کی شام آئے تو کچھ نہ پائے

    تو آشنا ہے نہ اجنبی ہے، ترا مرا پیار سرسری ہے
    مگر یہ کیا رسمِ دوستی ہے، تو روٹھ جائے تو کچھ نہ پائے؟

    اُسے گنوا کر پھر اس کو پانے کا شوق دل میں تو یوں ہے محسن
    کہ جیسے پانی پہ دائرہ سا، کوئی بنائے تو کچھ نہ پائے

    —————————————–

    ترکِ محبت کر بیٹھے ہم، ضبط محبت اور بھی ہے
    ایک قیامت بیت چکی ہے، ایک قیامت اور بھی ہے

    ہم نے اُسی کے درد سے اپنے سانس کا رشتہ جوڑ لیا
    ورنہ شہر میں زندہ رہنے کی اِک صورت اور بھی ہے

    ڈوبتا سوُرج دیکھ کے خوش ہو رہنا کس کو راس آیا
    دن کا دکھ سہہ جانے والو، رات کی وحشت اور بھی ہے

    صرف رتوں کے ساتھ بدلتے رہنے پر موقوف نہیں
    اُس میں بچوں جیسی ضِد کرنے کی عادت اور بھی ہے

    صدیوں بعد اُسے پھر دیکھا، دل نے پھر محسوس کیا
    اور بھی گہری چوٹ لگی ہے، درد میں شدّت اور بھی ہے

    میری بھیگتی پلکوں پر جب اُس نے دونوں ہاتھ رکھے
    پھر یہ بھید کھُلا اِن اشکوں کی کچھ قیمت اور بھی ہے

    اُس کو گنوا کر محسن اُس کے درد کا قرض چکانا ہے
    ایک اذّیت ماند پڑی ہے ایک اذّیت اور بھی ہے

    —————————————–

    چلو چھوڑو!
    محبت جھوٹ ہے
    عہدٍ وفا شغل ہے بےکار لوگوں کا
    طلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے
    خلش دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہے
    چلو چھوڑو
    کب تک میں اندھیروں کی دھمک میں سانسوں کی ضربوں پہ
    چاہت کے بنا رکھ کر سفر کرتا رہوں گا
    مجھے احساس ہی کب تھا
    کہ تم بھی موسم کے ساتھ پیرہن کے رنگ بدلو گے
    چلو چھوڑو
    میرا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے
    تم اپنے خل و خلود کو آئینے میں پھر بکھرنے دو
    تم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے ایک نیا موسم اتار دو
    میرے بکھرے خوابوں کو مرنے دو
    پھر نیا مکتوب لکھو
    پھر نئے موسم، نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑو
    میرے ماضی کی چاہت رائیگان سمجھو
    میری یادوں کے کچے رابطے توڑو
    چلو چھوڑو
    محبت جھوٹی ہے
    عہدٍ وفا شغل ہے بیکار لوگوں کا
    —————————————–
    قتل چھپتے تھے کبھي سنگ کي ديوار کے بيچ
    اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بيچ

    اپني پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر
    سر سلامت نہيں رہتے يہاں دستار کے بيچ

    سرخياں امن کي تلقين ميں مصروف رہيں
    حرف بارود اگلتے رہے اخبار کے بيچ

    کاش اس خواب کي تعبير کي مہلت نہ ملے
    شعلے اگتے نظر آۓ مجھے گلزار کے بيچ

    ڈھلتے سورج کي تمازت نے بکھر کر ديکھا
    سر کشيدہ مرا سايا صف اشجا ر کے بيچ

    رزق، ملبوس ، مکان، سانس، مرض، قرض، دوا
    منقسم ہو گيا انساں انہي افکار کے بيچ

    ديکھے جاتے نہ تھے آنسو مرے جس سے محسن
    آج ہنستے ہوۓ ديکھا اسے اغيار کے بيچ

    —————————————–

    ھم سے مت پوچھو راستے گھر کے
    ھم مسافر ہيں زندگي بھر کے

    کون سورج کي آنکھ سے دن بھر
    زخم گنتا ہے شب کي چادر کے

    صلح کر لي يہ سوچ کر ميں نے
    ميرے دشمن نہ تھے برابر کے

    خود سے خيمے جلا ديۓ ميں نے
    حوصلے ديکھنا تھے لشکر کے

    يہ ستارے يہ ٹوٹتے موتي
    عکس ہيں ميرے ديدہ تر کے

    گر جنوں مصلحت نہ اپناۓ
    سارے رشتے ہيں پتھر کے

    ——————————————

    ہوا کا لمس جو اپنے کواڑ کھولتا ہے
    تو دير تک مرے گھر کا سکوت بولتا ہے

    ہم ايسے خاک نشيں کب لبھا سکيں گے اسے
    وہ اپنا عکس بھي ميزان زر ميں تولتا ہے

    جو ہو سکے تو يہي رات اوڑھ لے تن پر
    بجھا چراغ اندھرے ميں کيوں ٹٹولتا ہے؟

    اسي سے مانگ لو خيرات اس کے خوابوں کي
    وہ جاگتي ہوئی آنکھوں ميں نيند کھولتا ہے

    سنا ہے زلزلہ آتا ہے عرش پر محسن
    کہ بے گناہ لہو جب سناں پہ بولتا ہے

    ———————————————
    چہرے پڑھتا، آنکھيں لکھتا رہتا ہوں
    ميں بھي کيسي باتيں لکھتا رہتا ہوں؟

    سارے جسم درختوں جيسے لگتے ہيں
    اور بانہوں کو شاخيں لکھتا رہتا ہوں

    مجھ کو خط لکھنے کے تيور بھول گۓ
    آڑي ترچھي سطريں لکھتا رہتا ہوں

    تيرے ہجر ميں اور مجھے کيا کرنا ہے؟
    تيرے نام کتابيں لکھتا رہتا ہوں

    تيري زلف کے ساۓ دھيان ميں رہتے ہيں
    ميں صبحوں کي شاميں لکھتا رہتا ہوں

    اپنے پيار کي پھول مہکتي راہوں ميں
    لوگوں کي ديواريں لکھتا رہتا ہوں

    تجھ سے مل کر سارے دکھ دہراؤں گا
    ہجر کي ساري باتيں لکھتا رہتا ہوں

    سوکھے پھول، کتابيں، زخم جدائی کے
    تيري سب سوغاتيں لکھتا رہتا ہوں

    اس کي بھيگي پلکيں ہستي رہتي ہيں
    محسن جب تک غزليں لکھتا رہتا ہوں

    ———————————————-
    اتني مدت بعد ملے ہو
    کن سوچوں ميں گم پھرتے ہو

    اتنے خائف کيوں رہتے ہو؟
    ہر آہٹ سے ڈر جا تے ہو

    تيز ہوا نے مجھ سے پوچھا
    ريت پہ کيا لکھتے رہتے ہو؟

    کاش کوئی ہم سے بھي پوچھے
    رات گۓ تک کيوں جاگے ہو؟

    ميں دريا سے بھي ڈرتا ہوں
    تم دريا سے بھي گہرے ہو

    کون سي بات ہے تم ميں ايسي
    اتنے اچھے کيوں لگتے ہو؟

    پچھے مڑ کر کيوں ديکھتا تھا
    پتھر بن کر کيا تکتے ہو

    جاؤ جيت کا جشن مناؤ
    ميں جھوٹا ہوں، تم سچے ہو

    اپنے شہر کے سب لوگوں سے
    ميري خاطر کيوں الجھے ہو؟

    کہنے کو رہتے ہو دل ميں
    پھر بھي کتنے دور کھڑے ہو

    ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے
    اپني کہو اب تم کيسے ہو؟

    محسن تم بدنام بہت ھو
    جيسے ہو، پھر بھي اچھے ہو

    ————————————————-
    ہجوم شہر سے ہٹ کر، حدود شہر کے بعد
    وہ مسکرا کے ملے بھي تو کون ديکھتا ہے؟

    جس آنکھ ميں کوئي چہرہ نہ کوئي عکس طلب
    وہ آنکھ جل کے بجھے بھي تو کون ديکھتا ہے؟

    ہجوم درد ميں کيا مسکرايۓ کہ يہاں
    خزاں ميں پھول کھلے بھي تو کون ديکھتا ہے؟

    ملے بغير جو مجھ سے بچھڑ گيا محسن
    وہ راستے ميں رکے بھي تو کون ديکھتا ھے؟

    ————————————————-

    محبتوں میں اذّیت شناس کتنی تھیں!
    بچھڑتے وقت وہ آنکھیں اُداس کتنی تھیں!

    فلک سے جن میں اُترتے ہیں قافلے غم کے
    مری طرح وہ شبیں اُس کو راس کتنی تھیں

    غلاف جن کی لحد پر چڑھائے جاتے ہیں
    وہ ہستیاں بھی کبھی بے لباس کتنی تھیں؟

    بچھڑ کے تجھ سے کسی طور دِل بہل نہ سکا
    نِشانیاں بھی تری میرے پاس کتنی تھیں!

    اُتر کے دل میں بھی آنکھیں اُداس لوگوں کی
    اسیرِ وہم و رہینِ ہراس کتنی تھیں!

    وہ صورتیں جو نکھرتی تھیں میرے اشکوں سے
    بچھڑ کے پھر نہ ملیں ناسپاس کتنی تھیں

    جو اُس کو دیکھتے رہنے میں کٹ گئیں محسن
    وہ ساعتیں بھی محیطِ حواس کتنی تھیں
    —————————————
    چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کي لکير تھي
    قاتل کے ہاتھ ميں تو حنا کي لکير تھي

    خوش ہوں کہ وقت قتل مرا رنگ سرخ تھا
    ميرے لبوں پہ حرف دعا کي لکير تھي

    ميں کارواں کي راہ سمجھتا رہا جسے
    صحرا کي ريت پر وہ ہوا کي لکير تھي

    سورج کو جس نے شب کے اندھيروں ميں گم کيا
    موج شفق نہ تھي وہ قضا کي لکير تھي

    گزرا ہے سب کو دشت سے شايد وہ پردہ دار
    ہر نقش پا کے ساتھ ردا کي لکير تھي

    کل اس کا خط ملا کہ صحيفہ وفا کا تھا
    محسن ہر ايک سطر حيا کي لکير تھي

    ————————————————
    آہٹ سي ہوئي تھي نہ کوئي برگ ہلا تھا
    ميں خود ہي سر منزل شب چيخ پڑا

    لمحوں کي فصيليں بھي مرے گرد کھڑي تھيں
    ميں پھر بھي تجھے شہر ميں آوارہ لگا تھا

    تونے جو پکارا ہے تو بول اٹھا ہوں، ورنہ
    ميں فکر کي دہليز پہ چپ چاپ کھڑا تھا

    پھيلي تھيں بھرے شہر ميں تنہائي کي باتيں
    شايد کوئي ديوار کے پيچھے بھي کھڑا تھا

    اب اس کے سوا ياد نہيں جشن ملاقات
    اک ماتمي جگنو مري پلکوں پہ سجا تھا

    يا بارش سنگ اب کے مسلسل نہ ہوئي تھي
    يا پھر ميں ترے شہر کي راہ بھول گيا تھا

    ويران نہ ہو اس درجہ کوئي موسم گل بھي
    کہتے ہيں کسي شاخ پہ اک پھول کھلا تھا

    اک تو کہ گريزاں ہي رھا مجھ سے بہر طور
    اک ميں کہ ترے نقش قدم چوم رہا تھا

    ديکھا نہ کسي نے بھي مري سمت پلٹ کر
    محسن ميں بکھرتے ہوۓ شيشوں کي صدا تھا

    ——————————————–
    ہر ايک زخم کا چہرہ گلا جيسا ہے
    مگر يہ جاگتا منظر بھي خواب جييسا ہے

    يہ تلخ تلخ سا لہجہ، يہ تيز تيز سي بات
    مزاج يار کا عالم شراب جيسا ہے

    مرا سخن بھي چمن در چمن شفق کي پھوار
    ترا بدن بھي مہکتے گلاب جيسا ہے

    بڑا طويل، نہايت حسيں، بہت مبہم
    مرا سوال تمہارے جواب جيسا ہے

    تو زندگي کےحقائق کي تہہ ميں يوں نہ اتر
    کہ اس ندي کا بہاؤ چناب جيسا ہے

    تري نظر ہي نہيں حرف آشنا ورنہ
    ہر ايک چہرہ يہاں پر کتاب جيسا ہے

    چمک اٹھے تو سمندر، بجھے تو ريت کي لہر
    مرے خيال کا دريا سراب جيسا ہے

    ترے قريب بھي رہ کر نہ پا سکوں تجھ کو
    ترے خيال کا جلوہ حباب جيسا ہے

    ———————————————-
    ختم ہونے کو ھے سفر شاید
    پھر ملیں گے ، کبھی شاید

    پھر ملا اذن آبلہ پائی
    ِِپھر بھٹکنا ہے در بدر شاید

    اب کے شب آنکھ میں اتر آئی
    اب نہ دیکھیں گے ھم سحر شاید

    شھر میں روشنی کا میلہ ھے
    جل گیا پھر کسی کا گھر شاید

    ————————————–

    محسن نقوی کا آخری دو شعر، جو انہوں نے فائر لگنے کے بعد ایمبولینس میں کہا تھا۔

    لے زندگی کا خُمس علی کے غُلام سے
    اے موت! آ ضرور مگر احترام سے

    عاشق ہوں گر ذرا بھی اذیت ہوئی مجھے
    شکوہ کروں گا تیرا، میں اپنے امام سے

  4. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 17, 2010 بوقت 10:48 am

    محترمہ عشرت قمر عابدی صاحبہ نے محسن نقوی شہید کے کلام کو اس بلاگ میں شایع کرکے اس بلاگ کی افادیت میں جو اضافہ کیا ہےاور اس بلاگ پر اور اسکے پڑھنےوالوں پر جو احسان کیا ہے اس پر یہ بلاگ جتنا ناز کرے کم ہے۔
    محترم زوار قمر عابدی صاحب نے محسن نقوی مرحوم کے کلام کو قندِ مکرر کی طرح شایع کیا؛
    جزاک اللہ ، سبحان اللہ ، ماشا اللہ ، مرحبا

    ۔۔۔۔۔۔
    میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ محسن نقوی شہید کا کلام اس میں شا مل ہوچکا ہے۔ اب اگر اس بلاگ میں محسن نقوی مرحوم کی سوانح عمری اور اسکی شاعری کے محرکات پر بھی کوئی قاری روشنی ڈالے تو میں یہ سمجھونگا کہ یہ بلاگ ایک تاریخی حیثیت اختیار کرجاے گا۔
    ۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  5. زوار قمر عابدی -جدہ - سعودی عرب نے کہا ہے:
    August 17, 2010 بوقت 1:31 pm

    مُحترم منظور قاضی ،

    گُزارش ہے کہ یہ دونوں تبصرے میں نے ہی ارسال لیے ہیں پہلا عشرت قمر عابدی کہ نام والا جو کہ میں ( نام درکار ہے ) کی جگہ پر سے پہلے سے موجود نام تدیل کرنا بول گیا تھا، میری انتطامیہ سے گُزارش ہے کہ اس تبصرے کو زوار قمر عابدی کے نام سے شائع کیا جائے دوسرے نام سےحدف کر دیا جائے شُکریہ

  6. زوار قمر عابدی -جدہ - سعودی عرب نے کہا ہے:
    August 17, 2010 بوقت 2:32 pm

    بچھڑ کے مجھ سے کبھی تُو نے یہ بھی سوچا ہے
    اَدھورا چاند بھی کتنا اُداس لگتا ہے

    یہ ختم وصل کا لمحہ ہے رائیگاں نہ سمجھ
    کہ اِس کے بعد وہی دُوریوں کا صحرا ہے

    کچھ اور دیر نہ جھڑنا اُداسیوں کے شجر
    کسے خبر تیرے سائے میں کون بیٹھا ہے؟

    یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اُس کو
    وہ روٹھ کر بھی مجھے مُسکرا کے ملتا ہے

    میں کس طرح تجھے دیکھوں نظر جھجکتی ہے
    تیرا بدن ہے کہ یہ آئینوں کا دریا ہے؟

    کچھ اِس قدر بھی تو آساں نہیں ہے عشق تیرا
    یہ زہر دل میں اُتر کر ہی راس آتا ہے

    میں تجھ کو پا کے بھی کھویا ہُوا سا رہتا ہُوں
    کبھی کبھی تو مجھے تُو نے ٹھیک سمجھا ہے

    مجھے خبر ہے کہ کیا ہے جدائیوں کا عذاب
    کہ میں نے شاخ سے گُل کو بجھڑتے دیکھا ہے

    میں مُسکرا بھی پڑا ہُوں تو کیوں خفا ہیں یہ لوگ
    کہ پھول ٹوٹی ہُوئی قبر پر بھی کِھلتا ہے

    اُسے گنوا کے مَیں زندہ ہُوں اِس طرح محسن
    کہ جیسے تیز ہَوا میں چراغ جلتا ہے

    ——————————————-

    یہ راکھ راکھ رتیں اپنی رات کی قسمت
    تم اپنی نیند بچھاؤ تم اپنے خواب چنو
    بکھرتی ڈوبتی نبضوں پہ دھیان کیا دینا
    تم اپنےدل میں دھڑکتے ہوئے حروف سنو

    تمہارے شہر کی گلیوں میں سیل رنگ بخیر
    تمہارے نقش قدم پھول پھول کھلتےر ہیں
    وہ رہگزر جہاں تم لمحہ بھر ٹھہر کے چلو
    وہاں پہ ابر جھکیں آسمان ملتے رہیں

    نہیں ضروری کہ ہر اجنبی کی بات سنو
    ہر اک صدا پہ دھڑکنا بھی دل پہ فرض نہیں
    سکوتِ حلقہء زنجیرِ در بھی کیوں ٹوٹے
    صبا کا ساتھ نبھانا جنوں پہ قرض نہیں

    ہم ایسے لوگ بہت ہیں جو سوچتے ہی نہیں
    کہ عمر کیسے کٹی کس کے ساتھ بیت گئ
    ہماری تشنہ لبی کا مزاج کیا جانے ؟
    کہ فصل بخشش موج فرات بیت گئ

    یہ ایک پل تھا جسے تم نے نوچ ڈالا تھا
    وہ اک صدی تھی جو بے التفات بیت گئ
    ہماری آنکھ لہو ہے تمہیں خبر ہو گی
    چراغ خود سے بجھا ہے کہ رات بیت گئی

    ——————————————–

    قتل چھپتے تھے کبھی سنگ دیوار کے بیچ
    اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ

    اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر
    سر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے بیچ

    سرخیاں امن کی تلقین میں مصروف رھیں
    حرف بارود اگلتے رھے اخبار کے بیچ

    کاش اس خواب کی تعبیر کی مہلت نہ ملے
    شعلے اگتے نظر آئے مجھے گلزار کے بیچ

    ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھا
    سر کشیدہ مرا سایہ صف اشجار کے بیچ

    رزق ملبوس مکاں سانس مرض قرض دوا
    منقسم ھو گیا ھے نساں انہی افکار کے بیچ

    دیکھے جاتے نہ تھے آنسو مرے جس سے محسن
    آج ہنستے ھوئے دیکھا اسے اغیا ر کے بیچ

    —————————————

    عذاب دید میں‌آنکھیں لہو لہو کرکے
    میں شرمسار ھوا تیری جستجو کرکے

    سنا ھے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ھے
    چلیں گے ھم بھی مگر پیرہن رفو کرکے

    یہ کس نے ھم سے لہو کا خراج پھر مانگا
    ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کرکے

    اجاڑ رت کو گلابی بنائے رکھتی ھے
    ھماری آنکھ تری دید سے وضو کرکے

    کوئی تو حبس ہوا سے یہ پوچھتا محسن
    ملا ھے کیا اسے کلیوں کو بے نمو کرکے

    ———————————————

    شامل میرا دشمن صف یاراں میں ‌رھے گا
    یہ تیر بھی پیوست رگ جاں میں ‌رھے گا

    اک رسم جنوں اپنے مقدر میں ‌ رھے گی
    اک چاک سدا اپنے گریباں میں ‌رھے گا

    اک اشک ھے آنکھوں میں‌سو چمکے کا کہاں‌تک
    یہ چاند زد شام غریباں میں رھے گا

    مین تجھ سے بچھڑ کر بھی کہاں تجھ سے جداھوں
    تو خواب صف دیدہ گریاں میں ‌رھے گا

    رگوں کی کوئی رت تری خوشبو نہیں ‌لائی
    یہ داغ بھی دامان بہاراں میں ‌رھے گا

    اب کے گزر جائیں گے سب وصل کے لمحے
    مصروف کوئی وعدہ وپیماں میں ‌رھے گا

    وہ حرف جنوں کہ نہ سکوں گا جو کہوں بھی
    اک راز کی صورت دل امکاں میں رھے گا

    محسن میں‌حوادث کی ہواؤں میں‌گھرا ھوں
    کیا نقش قدم دشت و بیاباں میں ‌رھے گا

    —————————————-

    زمانے بھر نگاہوں میں ‌جو خدا سا لگے
    وہ اجنبی ھے مگر مجھ کو آشنا سا لگے

    نجانے کب مری دنیا میں ‌مسکرائے گا
    وہ ایک شخص کہ خوابوں میں بھی خفا سا لگے

    عجیب چیز ھے یارو یہ منزلوں کی ہوس
    کہ راہزن بھی مسافر کو رہنما سا لگے

    دل تباہ! ترا مشورہ ھے کیا کہ مجھے
    وہ پھول رنگ ستارہ بھی بے وفا سا لگے

    ہوئی ھے جس سے منور ہر ایک آنکھ کی جھیل
    وہ چاند آج بھی محسن کو کم نما سا لگے

    —————————————

    کب تک تو اونچی آواز میں بولے گا
    تیری خاطر کون دریچہ کھولے گا

    اپنے آنسو اپنی آنکھ میں ‌رھنے دے
    ریت پہ کب تک ہیرے موتی رولے گا

    آؤ شہر کی روشنیاں ہی دیکھ آئیں
    کون ہماری خالی جیب ٹٹولے گا

    لاکھ مرے ہونٹوں پر چپ کی مہریں ھوں
    میرے اندر کا فنکار تو بولے گا

    دیکھ وہ اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے
    اپنا سارا زہر تجھی میں گھولے گا

    اے سوداگر چاہت کی جاگیروں کے
    کس میزان میں‌تو اس جنس کو تولے گا

    محسن اس کی نرم طبیعت کہتی ھے
    پل دو پل وہ میرے ساتھ بھی ہو لے گا

    ———————————–

    سجا کے سر پہ ستاروں کے تاج رکھتا ھے
    زمیں پہ بھی وہ فلک کا مزاج رکھتا ھے

    سنورنے والے سدا آئینے کو ڈھونڈتے ھیں
    بچھڑ کے بھی وہ مری احتیاج رکھتا ھے

    صبا خرام خزاں پیرہن بہار بدن
    وہ موسموں کا عجب امتزاج رکھتا ھے

    ہم اس کے حسن کو تسخیر کرکے دیکھیں‌گے
    جبیں پہ کون شکن کا خراج رکھتا ھے

    چرا کے آنکھ میں‌کچھ خواب رکھ لیے محسن
    کسان جیسے بچا کے اناج رکھتا ھے

    ——————————-

    لہو سے دل کبھی چہرے اجالنے کے لئے
    میں جی رہا ہوں اندھیروں کو ٹالنے کےلئے

    اتر پڑے ہیں پرندوں کے غول ساحل پر
    سفر کا بوجھ سمندر میں ڈالنے کےلئے

    سخن لباس پہ ٹھہرا تو جوگیوں نے کہا
    کہ آستیں ہے فقط سانپ پالنے کےلئے

    میں سوچتا ہوں کبھی میں بھی کوہکن ہوتا
    ترے وجود کو پتھر میں ڈھالنے کے لئے

    کسے خبر کہ شبوں کا وجود لازم ہے
    فضا میں چاند ستارے اچھالنے کےلئے

    بہا رہی تھی وہ سیلاب میں جہیز اپنا
    بدن کی ڈوبتی کشتی سنبھالنے کےلئے

    وہ ماہتاب صفت’ آئینہ جبیں محسن
    گلے ملا بھی تو مطلب نکالنے کےلئے

    ———————————–

    رُوٹھا تو شہرِ خواب کو غارت بھی کر گیا
    پھر مسکرا کے تازہ شرارت بھی کر گیا

    شاید اُسے عزیز تھیں آنکھیں میری بہت
    وہ میرے نام اپنی بصارت بھی کر گیا

    مُنہ زور آندھیوں کی ہتھیلی پہ اِک چراغ
    پیدا میرے لہو میں حرارت بھی کر گیا

    بوسیدہ بادبان کا ٹکڑا ہوا کے ساتھ
    طوفاں میں کشتیوں کی سفارت بھی کر گیا

    دِل کا نگر اُجاڑنے والا ہنر شناس!
    تعمیر حوصلوں کی عمارت بھی کر گیا

    سب اہلِ شہر جس پہ اُٹھاتے تھے اُنگلیاں
    وہ شہر بھر کو وجہِ زیارت بھی کر گیا!

    محسن یہ دِل کہ اُس سے بچھڑتا نہ تھا کبھی
    آج اُس کو بھولنے کی جسارت بھی کر گیا

    ————————————-

    ذکر شبِ فراق سے وحشت اسے بھی تھی
    میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی

    مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
    رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی

    اس رات دیر تک وہ رہا محوِ گفتگو
    مصروف میں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی

    مجھ سے بچھڑ کے شہر میں‌ گل مل گیا وہ شخص
    حالانکہ شہر بھر سے عداوت اسے بھی تھی

    وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا
    ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی

    سنتا تھا وہ بھی سب سے پرانی کہانیاں
    شاید رفاقتوں کی ضرورت اسے بھی تھی

    تنہا ہوا سفر میں تو مجھ پر کھلا یہ بھید
    سائے سے پیار دھوپ سے نفرت اسے بھی تھی

    محسن میں اس سے کہہ نہ سکا یوں بھی حالِ دل
    درپیش ایک تازہ مصیبت اسے بھی تھی

    ————————————–

    کچھ اس ادا سے میرے یار سر کشیدہ ہوئے
    کہ فتح پا کے بھی قاتل علم دریدہ ہوئے

    عجیب طور سے ڈوبا ہے ڈوبنے والا
    کہ ساحلوں کے بگولے بھی آبدیدہ ہوئے

    جو اپنے سائے کی قامت سے خوف کھاتےہیں
    ہمارے بعد وہی لوگ برگزیدہ ہوئے

    میں چپ رہا تو اٹھیں‌مجھ پہ انگلیاں کیا کیا
    زباں ملی تو مرے حرف ناشنیدہ ہوئے

    ہماری لاش سے گزرے تو بے خبر گزرے
    وہ جن کے نام پہ ہم لوگ سربریدہ ہوئے

    جنھیں غرور تھا اپنی ستمگری پہ بہت
    ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی ستم رسیدہ ہوئے

    عصائے حق ہے میسر نہ تختِ دل محسن
    ہم ایسے لوگ بھی کس سن میں سن رسیدہ ہوئے

    —————————————

    جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ھر رستہ سنسان ھوا
    اپنا کیا ھے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ھوا

    یہ دل یہ آسیب کی نگری مسکن سوچوں وہموں کا
    سوچ رھا ھوں اس نگری میں تو کب سے مہمان ھوا

    صحرا کی منہ زور ہوائیں اوروں سے منسوب ھوئیں
    مفت میں ھم آوارہ ٹھہرے مفت میں گھر ویران ھوا

    اتنی دیر میں اجڑے دل پر کتنے محشر بیت گئے
    جتنی دیر میں تجھ کو پا کر کھونے کا امکان ھوا

    یوں بھی کم آمیز تھا محسن وہ اس شہر کےلوگوں میں
    لیکن میرے سامنے آ کر اور بھی کچھ انجان ھوا

    ——————————————-

    کس نے سنگِ خامشی پھینکا بھرے بازار پر؟
    اک سکوتِ مرگ طاری ہے در و دیوار پر

    تو نے اپنی زلف کے سائے میں افسانے کہے
    مجھ کو زنجیریں ملی ہیں جراءتِ اظہار پر

    شاخِ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے
    جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر

    سنگ دل احباب کے دامن میں رسوائی کے پھول
    میں نے دیکھا ہے نیا منظر فرازِ دار پر

    اب کوئی تہمت بھی وجہِ کربِ رسوائی نہیں
    زندگی اک عمر سے چپ ہے ترے اصرار پر

    میں سرِ مقتل حدیثِ زندگی کہتا رہا
    انگلیاں اٹھتی رہیں محسن مرے کردار پر

    —————————————–

    اک دیا دل میں جلانا بھی بجھا بھی دینا
    یاد کرنا بھی اسے روز بھلا بھی دینا

    خط بھی لکھنا اسے مایوس بھی رھنا اس سے
    جرم کرنا بھی مگر خود کو سزا بھی دینا

    مجھ کو رسموں کا تکلف بھی گوارہ لیکن
    جی میں‌آئے تو یہ دیوار گرا بھی دینا

    کیا کہوں یہ مری چاہت ھے کہ نفرت اس کی
    نام لکھنا بھی مرا لکھ کے مٹا بھی دینا

    صورت نقش قدم دشت میں رھنا محسن
    اپنے ھونے سے نہ ھونے کا پتہ بھی دینا

    ————————————–

    عذاب دید میں ‌آنکھیں لہو لہو کرکے
    میں شرمسار ھوا تیری جستجو کرکے

    سنا ھے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ھے
    چلیں گے ھم بھی مگر پیرہن رفو کرکے

    یہ کس نے ھم سے لہو کا خراج پھر مانگا
    ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کرکے

    اجاڑ رت کو گلابی بنائے رکھتی ھے
    ھماری آنکھ تری دید سے وضو کرکے

    کوئی تو حبس ہوا سے یہ پوچھتا محسن
    ملا ھے کیا اسے کلیوں کو بے نمو کرکے

    —————————————

    تعزیرِ اہتمامِ چمن کون دے گیا
    مجھ کو گلاب جیسا کفن کون دے گیا

    دیکھے جو خدّوخال تو سوچا ہے بارِہا
    صحرا کی چاندنی کو بدن کون دے گیا

    میری جبیں کی ساری لکیریں تیری عطا
    لیکن تِری قبا کو شکن کون دے گیا

    تیرے ہنر میں خلقتِ خوشبو سہی مگر
    کانٹوں کو عمر بھر کی چبھن کون دے گیا

    جنگل سے پوچھتی ہے ہواؤں کی برہمی
    جگنو کو تیرگی میں کرن کون دے گیا

    کس نے بسائے آنکھ میں اشکوں کے قافلے
    بے گھر مسافروں کو وطن کون دے گیا

    تجھ سے تو ہر پَل کی مسافت کا ساتھ تھا
    میرے بدن کو اتنی تھکن کون دے گیا

    توڑا ہے کس نے نوکِ سناں پر سکوتِ صبر
    لب بستگی کو تابِ سخن کون دے گیا

    محسن وہ کائناتِ غزل ہے اُسے بھی دیکھ
    مجھ سے نہ پوچھ مجھ کو یہ فن کون دے گیا

    —————————————-

    بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ھے
    ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ھے

    یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو
    وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ھے

    میں تجھ کو پا کے بھی کھویا ھوا سا رھتا ھوں
    کبھی کبھی تو مجھے تو نے ٹھیک سمجھا ھے

    کچھ اس قدر بھی تو آساں نہیں ھے عشق ترا
    یہ زہر دل میں اتر کر ہی راس آتا ھے

    اسے گنوا کے میں زندہ ھوں اس طرح محسن
    کہ جیسے تیز ھوا میں چراغ جلتا ھے

    ————————————–

    وفا میں اب یہ ہنر اختیار کرنا ھے
    وہ سچ کہے نہ کہے اعتبار کرنا ھے

    یہ تجھ کو جاگتے رھنے کا شوق کب سے ھوا
    مجھے تو خیر ترا انتظار کرنا ھے

    وہ مسکرا کے وسوسوں میں‌ڈال گیا
    خیال تھا کہ اسے شرمسار کرنا ھے

    ترے فراق میں دن کس طرح کٹیں اپنے
    کہ شغل شب تو ستارے شمار کرنا ھے

    خدا خیر یہ کوئی ضد کہ شوق ھے محسن
    خود اپنی جاں کے دشمن سے پیار کرنا ھے

    ——————————–

  7. سیدمصباح حسین نے کہا ہے:
    August 17, 2010 بوقت 3:30 pm

    محترم زوار بھائی۔ حسب حکم دوسرا تبصرہ حذف کردیا گیا ہے۔
    —–
    قبلہ قاضی صاحب سلام مسنون۔
    میں خود محسن شہید پر بلاگ بھی لکھنا چاہتا تھا اوراب بھی ان زندگی و شاعری پر کچھ لکھوں گا۔ تاہم میں اس کام کو رمضان المبارک کے بعد تک مؤخر رکھ رہا ہوں تا کہ ان دنوں زیادہ تر توجہ ہم لوگ احادیث، نعات اور آیات و ادعیہ کے ذکر میں گزار سکیں۔ محسن شہید کے ساتھ ہمارا خانگی تعلق بھی تھا اور اب ان کے بیٹے جناب عقیل عباس المعروف عقیل محسن کے ساتھ بھی ہے۔برادر بزرگ ما جناب نجم سبطین حسنی، اور محسن کی قربت انکے جاننے والے جانتے ہیں۔ سو اس حوالے سے چند یادیں ضرور رقم کروں گا، کچھ عقیل کی زبانی حاصل کروں گا، کچھ محسن کے رفقاء اور کچھ اپنے مصادر کی بنیاد پر۔۔۔ اسی طرح آغا جانی بھی محسن کے قریبی دوست تھے اور یقینا ہم انکی یادوں سے بھی مستفید ہونگے، تاہم اگر اس بلاگ میں ممکن نہ بھی ہوا تو بھی انشاء اللہ بعد رمضان یہ سب ضرور پیش کریں گے۔ امید ہے کہ آپ اس تساہل کو معاف فرما دیں گے۔

  8. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 17, 2010 بوقت 6:59 pm

    میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں محسن نقوی مرحوم کی شاعری سے پوری طرح واقف نہ تھا۔ میں غیر اردو ماحول میں اس طرح کھوگیا ہوں کہ مجھے اردو کے اعلی پایہ کے شعرا کے کلام اور انکی زندگی کے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں۔۔
    جب بھی کوئی دل کو متاثر کرنے والا شعر پڑھتا ہوں تو جستجو لگ جاتی ہے کہ اس شعر کے خالق کے بارے میں جان سکوں اور اس کی شاعری کے محرکات کو سمجھ سکوں۔
    محسن نقوی مرحوم جیسا عظیم ترین شاعر میری ہی غفلت کے باعث میری نگاہوں سے دور رہا ۔ اب اسکا کلام زوار قمر عابدی صاحب کے تبصروں میں پڑھنا شروع کیا ہوں تو اس کے ہر ہرشعر پر سبحان اللہ ، ماشااللہ ۔ جزاک اللہ اور مرحبا کہنا پڑرہا ہے۔
    ایسا عظیم شاعر اردو کی تاریخ میں ( میرے خیال )میں کم ہی پیدا ہوا۔ ۔ اسکی شہادت نے قبل از وقت دنیائے اردو کو ایک عظیم نعمت سے محروم کردیا ۔
    میں زوار قمر عابدی کے تبصروں میں محسن نقوی مرحوم کے کلام کو بار بار پڑھ رہا ہوں اور اسکے اظہارِ بیاں کا قائل ہوگیا ہوں ۔
    اور پھر غالب کے اس شعر کو تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ لکھنے پر مجبور ہوں کہ :
    ہیں اور بھی اردو کے سخنور بہت اچھے
    کہتےہیں کہ محسن کا ہے اندازِ بیاں اور
    ۔۔
    میں زوار قمر عابدی صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اتنی توجہ کے ساتھ محسن نقوی مرحوم کے اشعار اپنے تبصروں میں عطا کیے اور اس بلاگ کو ایک یادگار بلاگ بنادیا۔
    امید کہ زوار قمر عابدی صاحب اسی طرح اس بلاگ کی سرپرستی کرتے رہینگے۔ یہ دراصل محسن نقوی مرحوم کا اور سلیم جعفری مرحوم کو بلاگ ہے (میں تو صرف ایک کم علم انسان ہوں جسے اللہ اس نیک کام کے لیے استعمال کررہا ہے)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا شکریہ کہ انہوںنے محسن نقوی مرحوم کی زندگی اور اسکی شاعری پر لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا۔
    مجھے علم تھا کہ محسن بھوپالی کےبلاگ میں محسن نقوی مرحوم پر ایک نیا بلاگ شروع کرنے کی بات ہوئی تھی ۔ اور میں اس کا منتظر تھا کہ رمضان کے شروع ہونے سے پہلے ہی یہ نیک کام شروع ہوجائے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔ میں بھی اس معاملہ میں کوئی توجہ دے نہ سکا مگر جیسا کہ میں اس بلاگ کے شروع میں عرض کرچکا ہوں کہ ظفر قابل صاحب کی تحریر نےمجھےجھنجھوڑ دیا اور میں نے شرمندگی کے احساس کے ساتھ اپنی کم علمی کے باوجود صرف اور صرف قارئین کے تعاون کی امید میں اس بلاگ کو شروع کردیا۔
    خدا کا شکر ہے کہ رمضان کی ذمہ داریوں کے باوجود جناب زوار قمر عابدی صاحب نے اس بلاگ میں محسن نقوی مرحوم کے کلام سے ایک نئے روح بھر دی ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جناب مصباح حسین جیلانی صاحب کا ارادہ ضرور مقدس ہے کہ وہ رمضان کے بعد اس بلاگ میں حصہ لینگے اور محسن نقوی مرحوم کی زندگی اور اسکی شاعری پر تبصرے عطا کرینگے ۔ ہم سب کو انکےتبصروں کا شدت سے انتظار رہے گا ۔

    ( شائد رمضان کے بعد سید مصباح حسین جیلانی صاحب اس بلاگ کو کئی ایک بلاگوں کے اندر دب جانے سےبچانے کے لیے اس کو پھر سے عالمی اخبار کے صفح اول میں جگہ دینگے ۔ورنہ یہ بلاگ تو سب کی نظروں سےاوجھل ہوجائے گا )
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں تو میرے تما م بلاگوں کو ایسی باتوں سے پاک رکھنا چاہتا ہوں جن سے روزہ مکروہ ہونے کا خدشہ ہو۔

    میرے خیال میں محسن نقوی مرحوم کی شاعری اور سلیم جعفری مرحوم کے مشاعروں پر لکھنا اور عرشی صاحبہ کی نظم “ کوکھ میں قتل “ جیسے بلاگ لکھنا بھی میری نظر میں روزہ بہلانے کا ایک ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے ۔۔۔ ( ویسے اللہ کی عبادت اور رسول ( صلعم ) کی مدحت اور مودت تمام کاموں پر مقدم ضرور ہے )
    ۔۔۔۔۔۔
    بہر کیف:
    اللہ سے معافی کی درخواست کے ساتھ
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  9. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 17, 2010 بوقت 7:12 pm

    جناب زوار قمر عابدی صاحب سے عرض ہے کہ وہ محسن نقوی مرحوم کے ان دو اشعار کی کمپوزنگ پر نظر ثانی کرکے یہ بتائین کہ ان میں کوئی کمپوزنگ کی تصحیح کی گنجائش ہے یا نہیں :

    وہ مسکرا کے وسوسوں میں‌ڈال گیا
    خیال تھا کہ اسے شرمسار کرنا ھے

    خدا خیر یہ کوئی ضد کہ شوق ھے محسن
    خود اپنی جاں کے دشمن سے پیار کرنا ھے

  10. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 17, 2010 بوقت 7:21 pm

    محسن نقوی مرحوم نےجو نعت صلعم ( بعنوان الہام کی رم جھم لکھی ہے )اسے پڑھکر دل کو بے حد سکون ملا ۔

    اس کے اس شعر کے دوسرےمصرعہ کی کمپوزنگ پر زوار قمر عابدی صاحب کی نظر ثانی فرماسکتے ہیں؛اور اگر اسکی کمپوزنگ سے وہ مطمئن ہیں تو پھر کسی تصحیح کی ضرورت نہیں ۔

    غیروں پہ بھی الطاف تیرے سب سے الگ تھے
    اپنوں پہ بھی نوازش کا انداز جدا ہے

  11. عالم آ را نے کہا ہے:
    August 17, 2010 بوقت 9:17 pm

    اسلام علیکم منظور قاضی بھائی
    بہت خوبصورت بلاگ شروع کیا ،اور بہت ہی خوبصورت کلام پڑھنے کو ملا ۔
    میرا خیال ہے کہ یہ حق ہے اُن لوگوں کا ہم پر جو یہ جہاں چھوڑ چکے کہ اُن کو یاد رکھیں ،اور اُن کی کاوشوں کو گاہے بہ گاہے پیش کرتے رہیں ۔کہ یہ یاد کرنے کا بہت خوبصورت طریقہ ہے ۔
    اللہ آپ کو خوش رکھے ۔اور ہم آپ کی کوششوں سے فیضیاب ہوتے رہیں ۔
    عالم آرا
    وینکور

  12. زوار قمر عابدی -جدہ - سعودی عرب نے کہا ہے:
    August 17, 2010 بوقت 10:04 pm

    کبھی جو عہدِ وفا میری جاں تیرے میرے درمیان ٹوٹے
    میں چاہتا ہوں کہ اس سے پہلے زمیں پہ یہ آسمان ٹوٹے

    تیری جدائی میں حوصلوں کی شکست دل پر عذاب ٹھہری
    کہ جیسے منہ زور زلزلوں کی دھمک سے کوئی چٹان ٹوٹے

    اسے یقیں تھا کہ اسکو مرنا ہے پھر بھی خواہش تھی اسکے دل میں
    کہ تیر چلنے سے پیشتر ہی دستِ دشمناں میں کمان ٹوٹے

    سبھی دلیلیں سنبھال کربھی مرے وکیلو یہ سوچ لینا
    وہیں پہ میری شکست ہو گی جہاں پہ میرا بیان ٹوٹا

    فنا کے ٹیلے پہ خیمئہ جاں ہوا کے جھونکے سے یوں گرا ہے
    کہ جیسے بدقسمتی سے بُزدل شکاریوں کی مچان ٹوٹے

    وہ سنگ ہے تو گرے بھی دل پر وہ آئینہ ہے تو چبھ ہی جائے
    کہیں تو میرا یقین بکھرے، کہیں تو میرا گمان ٹوٹے

    اجاڑ بَن کی اداس رُت میں غزل تو محسن نے چھیڑ دی ہے
    کسے خبر ہے کہ کس کے معصوم دل پہ اب کے یہ تان ٹوٹے

    ————————————————–
    چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کی لکیر تھی
    قاتل کے ہاتھ میں تو حنا کی لکیر تھی

    خوش ہوں کہ وقتِ قتل میرا رنگ سرخ تھا
    میرے لبوں پہ حرفِ دعا کی لکیر تھی

    میں کارواں کی راہ سمجھتا رہا جسے
    صحرا کی ریت پر وہ ہوا کی لکیر تھی

    سورج کو جس نے شب کے اندھیروں میں گم کیا
    موجِ شفق نہ تھی وہ قضا کی لکیر تھی

    گزرا ہے شب کو دشت سے شاید وہ پردہ دار
    ہر نقشِ پا کے ساتھ رِدا کی لکیر تھی

    کل اس کا خط ملا کہ صحیفہ وفا کا تھا
    محسن ہر ایک سطر حیا کی لکیر تھی

    ————————————

    درِ قفس سے پرے جب صبا گزرتی ہے
    کسے خبر کہ اسیروں پہ کیا گزرتی ہے

    تعلقات ابھی اس قدر نہ ٹوٹے تھے
    کہ تیری یاد بھی دل سے خفا گزرتی ہے

    وہ اب ملے بھی تو ملتا ہے اس طرح جیسے
    بجھے چراغ کو چھو کر ہوا گزرتی ہے

    فقیر کب کے گئے جنگلوں کی سمت مگر
    گلی سے آج بھی ان کی صدا گزرتی ہے

    یہ اہلِ ہجر کی بستی ہے احتیاط سے چل
    مصیبتوں کی یہاں انتہا گزرتی ہے

    بھنور سے بچ تو گئیں کشتیاں مگر اب کے
    دلوں کی خیر کہ موجِ بلا گزرتی ہے

    نہ پوچھ اپنی انا کی بغاوتیں محسن
    درِ قبول سے بچ کر دعا گزرتی ہے

    ———————————-

    عذابِ دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
    میں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے

    سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے
    چلیں گے ہم بھی مگر پیراہن رفو کر کے

    مسافتِ شبِ ہجراں کے بعد بھید کھلا
    ہوا دُکھی ہے چراغوں کی آبرو کر کے

    زمیں کی پیاس اُسی کے لہو کو چاٹ گئی
    وہ خوش ہوا تھا سمندر کو آبجو کر کے

    یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
    ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے

    اجاڑ رُت کو گلابی بنائے رکھتی ہے
    ہماری آنکھ تیری دید سے وضو کر کے

    کوئی تو حبسِ ہوا سے یہ پوچھتا محسن
    ملا ہے کیا اسے کلیوں کو بے نمو کر کے

    —————————————-

    ٹھہر جاؤ کہ حیرانی تو جائے
    تمہاری شکل پہچانی تو جائے

    شبِ غم تو ہی مہماں بن کے آ جا
    ہمارے دل کی ویرانی تو جائے

    زرا کھل کر بھی رو لینے دو ہم کو
    کہ دل کی آگ تک پانی تو جائے

    بلا سے توڑ ڈالوں آئینوں کو
    کسی صورت یہ حیرانی تو جائے
    —————————-

    وہ اجنبی اجنبی سے چہرے وہ خواب خیمے رواں دواں سے
    بسے ہوئے ہیں ابھی نظر میں سبھی منظر دھواں دھواں سے

    یہ عکسِ داغِ شکستِ پیماں، وہ رنگِ زخمِ خلوصِ یاراں
    میں غمگساروں میں سوچتا ہوں کہ بات چھیڑوں کہاں کہاں سے

    یہ سنگریزے عداوتوں کے، وہ آبگینے سخاوتوں کے
    دلِ مسافر قبول کر لے، ملا ہے جو کچھ جہاں جہاں سے

    بچھڑنے والے بچھڑ چلا تھا تو نسبتیں بھی گنوا کے جاتا
    تیرے لئے شہر بھر میں اب بھی میں زخم کھاؤں زباں زباں سے

    میری محبت کے واہموں سے پرے تھا تیرا وجود ورنہ
    جہاں جہاں تیرا عکس ٹھہرا میں ہو کے آیا وہاں وہاں سے

    تو ہم نفس ہے نہ ہم سفر ہے، کسے خبر ہے کہ تو کدھر ہے
    میں دستکیں دے کے پوچھ بیٹھا، مکیں مکیں سے مکاں مکاں سے

    ابھی محبت کا اسمِ اعظم لبوں پہ رہنے دے جانِ محسن
    ابھی ہے چاہت نئی نئی سی، ابھی ہیں جذبے جواں جواں سے

    —————————————————

    وہ اجنبی اجنبی سے چہرے وہ خواب خیمے رواں دواں سے
    بسے ہوئے ہیں ابھی نظر میں سبھی منظر دھواں دھواں سے

    یہ عکسِ داغِ شکستِ پیماں، وہ رنگِ زخمِ خلوصِ یاراں
    میں غمگساروں میں سوچتا ہوں کہ بات چھیڑوں کہاں کہاں سے

    یہ سنگریزے عداوتوں کے، وہ آبگینے سخاوتوں کے
    دلِ مسافر قبول کر لے، ملا ہے جو کچھ جہاں جہاں سے

    بچھڑنے والے بچھڑ چلا تھا تو نسبتیں بھی گنوا کے جاتا
    تیرے لئے شہر بھر میں اب بھی میں زخم کھاؤں زباں زباں سے

    میری محبت کے واہموں سے پرے تھا تیرا وجود ورنہ
    جہاں جہاں تیرا عکس ٹھہرا میں ہو کے آیا وہاں وہاں سے

    تو ہم نفس ہے نہ ہم سفر ہے، کسے خبر ہے کہ تو کدھر ہے
    میں دستکیں دے کے پوچھ بیٹھا، مکیں مکیں سے مکاں مکاں سے

    ابھی محبت کا اسمِ اعظم لبوں پہ رہنے دے جانِ محسن
    ابھی ہے چاہت نئی نئی سی، ابھی ہیں جذبے جواں جواں سے

    —————————————————

    زمانے بھر کی آنکھوں میں جو خدا سا لگے
    وہ اجنبی ہے مگر مجھ کو آشنا سا لگے

    نہ جانے کب میری دنیا میں مسکرائے گا
    وہ ایک شخص جو خوابوں میں بھی خفا سا لگے

    عجیب چیز ہے یہ یارو کہ منزلوں کی ہوس
    کہ راہزن بھی مسافر کو راہنما سا لگے

    دلِ تباہ تیرا مشورہ کیا ہے کہ مجھے
    وہ پھول رنگ ستارا بھی بے وفا سا لگے

    ہوئی ہے جس سے منور ہر ایک آنکھ کی جھیل
    وہ چاند آج بھی محسِن کو کم نُما سا لگے

    ———————————–

    خود کو اس دل میں بسانے کی اجازت دے دو
    مجھ کو تم اپنا بنانے کی اجازت دے دو

    تم میری زندگی کا اک حسِیں لمحہ ہو
    پھولوں سے خود کو سجانے کی اجازت دے دو

    میں کتنا چاہتا ہوں کس طرح بتاؤں تجھ کو
    مجھے یہ آج بتانے کی اجازت دے دو

    تمہاری رات سی زلفوں میں چاند سا چہرہ
    مجھے یہ شام سجانے کی اجازت دے دو

    مجھے تم قید کر لو اپنے عشق میں جانم
    یہ جاں تم پہ لُٹانے کی اجازت دے دو

    نہیں ہے شوق محسِن کو بھولنے کا مگر
    مجھے یہ دنیا بھلانے کی اجازت دے دو

    —————————————-

    فنکار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا
    بجھتا ہوا دِیا نہ مقابل ہوا کے لا

    دریا کا انتقام ڈبو نہ دے گھر تیرا
    ساحل سے روز روز نہ کنکر اٹھا کے لا

    ساماں وفا کا باندھ مگر سوچ سوچ کر
    اس ابتدأ میں یوں نہ سخت انتہا کے لا

    تھوڑی سی اور موج میں آ، اے ہوائے گل
    تھوڑی سی اس کے جسم کی خوشبو چرا کے لا

    محسن اب اس کا نام ہے سب کی زبان پر
    کس نے کہا اس کو غزل میں سجا کے لا

    ———————————-

    شام کے سر پر آنچل دیکھا
    ہم نے جلتا جنگل دیکھا

    اپنی آنکھ میں آنسو پائے
    اُن کی آنکھ میں کاجَل دیکھا

    پھول نظر میں رقصاں رقصاں
    جانے کِس کا آنچل دیکھا

    من کے بَن میں خاک اُڑتی تھی
    آج وہاں پر جل تھَل دیکھا

    جب بھی دیکھا ہے محسن کو
    تیرے پیار میں پاگل دیکھا
    —————————-

  13. زوار قمر عابدی -جدہ - سعودی عرب نے کہا ہے:
    August 17, 2010 بوقت 10:13 pm

    مُحترم منظور قاضی صاحب

    آپ کا بُہت شُکریہ کہ آپ نے ان کمپوزنگ کی غلطیوں کی نشاندہی تمام اشعار کی تصیح کے بعد حاضر ہیں ، ان اشعار کو اس طررح پڑھا جائے۔ شُکریہ

    وہ مسکرا کےنئے وسوسوں میں‌ڈال گیا
    خیال تھا کہ اسے شرمسار کرنا ھے

    خدا خبر یہ کوئی ضد کہ شوق ھے محسن
    خود اپنی جاں کے دشمن سے پیار کرنا ھے

    ——————————-

    غیروں پہ بھی الطاف تیرے سب سے الگ تھے
    اپنوں پہ بھی نوازش کا بھی انداز جدا ہے
    —————————-
    مُحتاجِ دُعا زوار قمر عابدی

  14. زوار قمر عابدی -جدہ - سعودی عرب نے کہا ہے:
    August 17, 2010 بوقت 11:16 pm

    ——– قَریہء اِدراک ———

    الہام کی رم جھم کہیں بخشش کی گھٹا ہے
    یہ دل کا نگرہے کہ مدینے کی فضا ہے

    سانسوں میں مہکتی ہیں مناجات کی کلیاں
    کلیوں کے کٹوروں پہ تیرا نام لکھا ہے

    گلیوں میں اُترتی ہیں ملائک کی قطاریں
    احساس کی بستی میں عجب ضشن بپا ہے

    ہے قریہء ادراک منور تِرے دم سے
    ہر ساعتِ خوش بخت جہاں نغمہ سُرا ہے

    سُن کے گا مِرا ماجرا تو ی کہ اُزل سے
    پیغام بَرِدیدہ و دِل موجِ صبا ہے

    ہیں نز تِری بارگہِ نازمیں افکار –!
    تو مرکزِ دلدارئ اربابِ وفا ہے

    اعصاب پہ حاوی ہے سدا ہیبتِ اِقراء
    جبریلِ مُودت کو یہ دل غارِ حرا ہے

    آیات کی جھرمٹ میں تیرے نام کی مسند
    لفظوں کی انگوٹھی میں نگینہ سا جڑا ہے

    اب کو ن حدِ حسن طلب سوچ سکے گا
    کونین کی وسعت تو تہہ دستِ دعا ہے

    ہے تیری کسسک میں بھی دمک حشر کے دن کی
    وہ یوں کہ میرا قریہ جاں گونج اُٹھا ہے

    خورشید تیری راہ میں بھٹکتا ہوا جگنو
    مہتاب تیرا ریزہ نقشِ کف پا ہے

    یٰسین تِرے اسمِ گرامی کا ضمیمہ
    ہے نون تِری مدح ، قلم تیری ثناء ہے

    ولیل تیرے سایہ گیسو کا تراشا
    ولعصر تیری نیم نگاہی کی ادا ہے

    فاقوں سے خمیدہ ہے سدا قامتِ درباں
    ٹُھوکر میں مگر سلسلئہ ارض و سما ہے

    لمحوں میں سمٹ کر بھی تیرا درد ہے تازہ
    صدیوں میں بھی بکھر کر تیرا عشق نیا ہے

    تلمیح شبِ قدر تِرا عکسِ تبُسم
    نوروز ،، تِرا حُسنِ گریبانِ قبا ہے

    ہر صُب تِرے رقِ فلک ناز کا پر تُو
    ہر شام تِرے دوشِ مُعلٰی کی ردا ہے

    تارے تِرے رہوار کے قدموں کے شرارے
    گردُوں تِرا دریُوزہ گرِ آبلہ پُا ہے

    یا تیرے خدوخال سے خیرہ مہ و انجم
    یا دھوپ نے سایہ تیرا خود اُوڑھ لیا ہے

    یا رات نے پہنی ہے ملاحت تیری تن پر
    یا دن تیرے اندازِ صباحت پہ گیا ہے

    دیکھوں تو تِرے در کی غُلامی میں ہے شایی
    سوچوں تو تِرا شوق مُجھے ظلِ ھُما ہے

    رگ رگ نے سمیٹی ہے تیرے نام کی فریاد
    جب جب بھی پریشان مجھے دنیا نے کیا ہے

    خالق نے قسم کھائی ہے اُس شہر اماں کی
    جس شہر کی گلیوں نے تجھے ورد کیا ہے

    اِک بار تیرا نقشِ قدم چوم لیا تھا
    اب تک یہ فلک شکر کے سجدے میں جھکا ہے

    دل میں ہو تیری یاد تو طوفاں بھی کنارہ
    حاصل ہو تیرا لطف تو صرصر بھی صبا ہے

    غیروں پہ بھی الطاف تیرے سب سے الگ تھے
    اپنوں پہ نوازش کا بھی انداز جدا ہے

    یہ قوسِ قزح ہے کہ سرِ صفحئہ آفاق
    برسات کی رُت میں تِرا محرابِ دُعا ہے

    ہر سمت تیرے لطف و عنایت کی بارش
    ہر سو تیرا دامانِ کرم پھیل گیا ہے

    ہے موجِ صبا یا تیرے سانسوں کی بھکارن
    ہے موسم گل یا تیری خیراتِ قبا ہے

    سورج کو اُبھرنے نہیں دیتا تیرا حبشی
    بے زر کو ابوزر تیری بخشش نے کیا ہے

    خورشید قیمت میں بی سرافراز بُہت ہے
    لیکن تِرے قامت کی کشش اِس سے سوا ہے

    زمزم تِرے آئینِ سخاوت کی گواہی
    کوثر تِرا سُرنامئہ دستوِعطا ہے

    جلتا ہوا مہتاب تِرا رہروَ بےتاب
    ڈلتا ہُوا سُرج تِرے خیمے کا دیا ہے

    ثقلین کی قسمت تیری دہلیز کا صدقہ
    عالم کا مقدر تیرے ہاھتوں پہ لکھا ہے

    اُترے گا کہاں تک کوئی آیات کی تہہ میں
    قرآن تیری خاطر ابھی مصروفِ ثنا ہے

    اب اور بیاں کیا ہوکسی سے تیری مدحت
    یہ کم تو نہیں ہے کہ تو محبوبِِ خدا ہے

    اے گنبدِ خضرا کے مکین میری مدد کر
    یا پھر یہ بتا کون میرا تیرے سوا ہے

    محشر میں پرستار ترے یوں تو بُہت ہیں
    صد شُکر مِرا نام تُجھے یاد رہا ہے

    اے گُنبدِخضراں کے مکیں میری مدد کر
    یا پہر یہ بتا کون مِرا ترے سِوا ہے؟ ؟

    بخشش تیری آٓنکھوں کی طرف دیکھ رہی ہے
    محسن تیرے دربار میں چپ چاپ کھڑا ہے

  15. زوار قمر عابدی -جدہ - سعودی عرب نے کہا ہے:
    August 17, 2010 بوقت 11:17 pm

    وہ مسکرا کےنئے وسوسوں میں‌ڈال گیا
    خیال تھا کہ اسے شرمسار کرنا ھے

    خدا خبر یہ کوئی ضد کہ شوق ھے محسن
    خود اپنی جاں کے دشمن سے پیار کرنا ھے

    ——————————-

    غیروں پہ بھی الطاف تیرے سب سے الگ تھے
    اپنوں پہ نوازش کا بھی انداز جدا ہے

  16. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 17, 2010 بوقت 11:31 pm

    جناب زوار قمر عابدی صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے محسن نقوی مرحوم کے اشعار کی کمپوزنگ پر نظر ثانی کی ۔
    میری رائے میں ، محسن نقوی مرحوم کے نعتیہ شعر کے دوسرے مصرعہ میں پہلے “ بھی “ کی ضرورت نہیں ۔ :

    “غیروں پہ بھی الطاف تیرے سب سے الگ تھے
    اپنوں پہ نوازش کا بھی انداز جدا ہے“
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں زوار قمر عابدی صاحب کا دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے محسن نقوی مرحوم کا عالیشان کلام اس بلاگ میں عطا کیا۔
    میری خواہش یہی ہے کہ اس بلاگ میں محسن نقوی مرحوم کی شاعری کو جہاں تک ہوسکے کمپوزنگ کی غلطیوں سے پاک رکھا جائے تاکہ یہ بلاگ تحقیق کرنے والوں کے لیے ایک مستند دستاویز کی صورت اختیار کرجائے۔
    ۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  17. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 17, 2010 بوقت 11:43 pm

    میں زوار قمر عابدی صاحب سے معافی چاہتے ہوئے محسن نقوی مرحوم کے ان اشعار کی کمپوزنگ پربھی نظرثانی کی گذارش کرتا ہوں :

    دریا کا انتقام ڈبو نہ دے گھر تیرا
    ساحل سے روز روز نہ کنکر اٹھا کے لا

    ساماں وفا کا باندھ مگر سوچ سوچ کر
    اس ابتدأ میں یوں نہ سخت انتہا کے لا

    محسن اب اس کا نام ہے سب کی زبان پر
    کس نے کہا اس کو غزل میں سجا کے لا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ہوں :میرا مقصد اس بلاگ کو ایک صحیح دستاویز بنانا ہے ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

    ———————————-

  18. زوار قمر عابدی -جدہ - سعودی عرب نے کہا ہے:
    August 18, 2010 بوقت 12:11 am

    ——- درُود کا جَھونکا ———

    سکوتِ رف کو اذنِ بیان دیتا ہے
    وہ دشتِ فکر میں اب بھی اُذان دیتا ہے

    سیہ ش کی ہتھیلی پہ کاڑھ کر جُگنو
    وہ رہروؤں کو سحر کا نشان دیتا ہے

    کبھی جو مُجھ سے اُلجھتا ہے دو پہر کا عذاب
    وہ میرے سر پہ کرم اپنا تان دیتا ہے

    ہُہی تو ہے جو رُتوں کے شِکار کرنے کو
    گھٹا کے ہاتھ دھنک کی کمان دیتا ہے

    مِری خطا کو ہے محشر میں جُستجو اُسکی
    جو لغزشوں کو ہمیشہ امان دیتا ہے

    میں پ شکستہ سہی ، اُس کی شہر میں ہوں جہاں
    زمیں پہ بھی وہ مُجھے آسمان دیتا ہے

    ازل سے دل ہے اُسی مہرباں سخی کا اسیر
    جو حوصلوں کو ابد تک اُڑان دیتا ہے

    میں حَرف و صَوت کی خیرات اُس سے مانگتا ہوں
    جو پتھروں کو بھی رِزقِ زبان دیتا ہے

    کٹے جو ہجر تو کُچھ اجرِ انتظار ملے
    کہ لمحہ لمحہ یہ دل امتان دیتا ہے

    سکوتِ شب میں اُبھرتے دُرود کا جھونکا
    سماعتوں کو تِری داستان دیتا ہے ! !

    میں بے بساط بشر تج پہ کیا نثار کروں
    تِری ادا پہ تو جبریل جان دیتا ہے

    شبِ سیاہ میں طوفاں ہو جب ستارہ شکار
    وہ کشتیوں کو وہاں بادبان دیتا ہے

    کُچ اسلیے بھی میں اب اُس پہ سوچتا ہوں بُہت
    مُجے یقین کی دولت ، گمان دیتا ہے

    مِرا سخی مرے ہر شعر کی عَوِض مُحسن
    مُجے ہہشتِ بریں میں مکان دیتا ہے

  19. زوار قمر عابدی -جدہ - سعودی عرب نے کہا ہے:
    August 18, 2010 بوقت 1:20 am

    مُحترم منظر قاضی صاحب

    برائے مہربانی آپ ایاسے ہی جہان کوئی غلطی ہو ، بتاتے رہیں ، مُجھ سے کوشش کہ باوجود ، کمپوزنگ میں بُہت ساری غلطیاں ہو جاتی ہیں ، مگر اب میں خاص خیال رکھوں گا

    ——- درُود کا جَھونکا ———

    سکوتِ حَرف کو اذنِ بیان دیتا ہے
    وہ دشتِ فکر میں اب بھی اُذان دیتا ہے

    سیاہ شب کی ہتھیلی پہ کاڑھ کر جُگنو
    وہ رہروؤں کو سحر کا نشان دیتا ہے

    کبھی جو مُجھ سے اُلجھتا ہے دوپہر کا عذاب
    وہ میرے سر پہ کرم اپنا تان دیتا ہے

    وُہی تو ہے جو رُتوں کے شِکار کرنے کو
    گھٹا کے ہاتھ دھنک کی کمان دیتا ہے

    مِری خطا کو ہے محشر میں جُستجو اُسکی
    جو لغزشوں کو ہمیشہ امان دیتا ہے

    میں پر شکستہ سہی ، اُس کی شہر میں ہوں جہاں
    زمین پہ بھی وہ مُجھے آسمان دیتا ہے

    ازل سے دل ہے اُسی مہرباں سخی کا اسیر
    جو حوصلوں کو ابد تک اُڑان دیتا ہے

    میں حَرف و صَوت کی خیرات اُس سے مانگتا ہوں
    جو پتھروں کو بھی رِزقِ زبان دیتا ہے

    کٹے جو ہجر تو کُچھ اجرِ انتظار ملے
    کہ لمحہ لمحہ یہ دل امتحان دیتا ہے

    سکوتِ شب میں اُبھرتے دُرود کا جھونکا
    سماعتوں کو تِری داستان دیتا ہے ! !

    میں بے بساط بشر تجھ پہ کیا نثار کروں
    تِری ادا پہ تو جبریل جان دیتا ہے

    شبِ سیاہ میں طوفاں ہو جب ستارہ شکار
    وہ کشتیوں کو وہاں بادبان دیتا ہے

    کُچھ اسلیے بھی میں اب اُس پہ سوچتا ہوں بُہت
    مُجھے یقین کی دولت ، گمان دیتا ہے

    مِرا سخی مرے ہر شعر کی عَوِض مُحسن
    مُجھے ہہشتِ بریں میں مکان دیتا ہے

  20. زوار قمر عابدی -جدہ - سعودی عرب نے کہا ہے:
    August 18, 2010 بوقت 1:26 am

    دریا کا انتقام تیرا گھر ڈبو نہ دے
    ساحل سے روز روز نہ کنکر اٹھا کے لا

    ساماں وفا کا باندھ مگر سوچ سوچ کر
    اس ابتدأ میںسخت نہ یوں انتہا کے لا

    محسن اب اس کا نام ہے سب کی زبان پر
    کس نے کہا تھا اُسکو غزل میں سجا کے لا

  21. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 18, 2010 بوقت 11:08 am

    میں تجربے کے طور پر اردو لائف کی یہ لنک اس بلاگ میں شامل کررہا ہوں تاکہ موقعہ ملے تو پڑھنے والے محسن نقوی مرحوم کی منتخبہ شاعری اس ویب سائٹ پر پڑھ سکیں۔
    اردو لائف (میرے خیال میں ) جناب امجد شیخ صاحب کی لنک ہے ۔
    امجد شیخ صاحب عالمی اخبار کی حقیقی دوستوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اور فنی لحاظ سے عالمی اخبار کی مدد کیا کرتے ہیں۔

    http://www.urdulife.com/poetry/poet_index.cgi?mon

    اگر یہ لنک کام نہ کرے تو http://www.urdulife.com کو کلک کرکے شاعری کے سیکشن میں محسن نقوی مرحوم کی شاعری کے صفحات حاصل کرلیں۔

  22. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 18, 2010 بوقت 11:31 am

    امجھ شیخ صاحب کا دلی شکریہ کہ انہوں نے اردو لائف ڈاٹ کام میں اتنے اچھے اچھے جوہر جمع کیے ۔

    میرے اوپر کے تبصرے میں انکی لنک سے محسن نقوی مرحوم کی منتخبہ شاعری پڑھی جاسکتی ہے۔

    زوار قمر عابدی صاحب نے جس قدر محنت کے ساتھ محسن نقوی مرحوم کی غزلیں یونی کوڈ میں اس بلاگ میں عطا کیں ان کے لیے وہ تمام پڑھنے والوں کے شکریہ کے مستحق ہیں۔

    اب زوار قمر عابدی صاحب اور دوسرے قارئین بھی محسن نقوی مرحوم کا وہی کلام اس بلاگ میں شامل کرسکتے ہیں جو امجد شیخ صاحب کی مندرجہ بالا لنک میں موجود نہیں ہے۔

    زوار قمر عابدی صاحب سے استدعا ہے کہ وہ محسن نقوی مرحوم کی تصانیف کے نام اس بلاگ میں لکھدیں تاکہ پڑھنےوالے ان کو خرید سکیں۔
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  23. زوار قمر عابدی -جدہ - سعودی عرب نے کہا ہے:
    August 18, 2010 بوقت 1:04 pm

    جناب منظور قاضی صاحب،
    مُحسن نقوی مرحوم کی تصانیف کے نام حاضر ہیں ، جو کہ ،، ماورا پبلشرز- 60 – شاہراہ قائداعظم- لاہور پاکستان ، سے شائع ہوئےہیں ،

    بندِ قبا۔ 1969ء
    برگِ صحرا۔ 1978ء
    ریزہ حرف۔ 1985ء
    عذابِ دید۔ 1990ء
    طلوعِ اشک۔ 1992ء
    رختِ شب۔ 1994ء
    خیمہ جاں۔ 1996ء
    رِدائے خواب
    موجِ ادراک
    فراتِ فکر

  24. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 18, 2010 بوقت 2:41 pm

    زوار قمر عابدی صاحب کی اعانت نے بہت سے مشکل کام سلجھا دیے۔ اب انہوں نے محسن نقوی مرحوم کی کتابوں کی فہرست بھی اس بلاگ میںلکھ دی ہے۔ جزاک اللہ
    ابھی ابھی میں ویکی پیڈیا میں محسن نقوی مرحوم کے متعلق جستجو کررہا تھا ۔اس سے یہ ایک اہم بات معلوم ہوئی کہ محسن نقوی مرحوم کی شہادت 15 جنوری 1996 میں ہوئی ۔ اللہ اسکی مغفرت کرے : آمین
    ویکی پیڈیا ہی سے ایک لنک محسن نقوی مرحوم کی ویب سائٹ کے طور پر حاضر ہے ۔
    http://www.mohsinnaqvi.com
    اس لنک پر محسن نقوی مرحوم کی نظم بھی موجود ہے ۔
    میں کوشش کرونگا کہ محسن نقوی مرحوم سے متعلق اپنی جستجو کو جاری رکھوں اور اگر کوئی مفید باتیں معلوم ہوں تو اس بلاگ میں پیش کرتا رہا ہوں۔

    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  25. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 18, 2010 بوقت 10:40 pm

    اس بلاگ کے پڑھنے والوں سے یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ چاہیں تو http://www.youtube.com پر جاکر محسن نقوی شہید mohsin naqvi نام کی جستجو کرسکتے ہیں اور نہ صرف محسن نقوی شہید کی شاعری بلکہ اس کی مجالس اور اسکے بیانات کے ویڈیو بھی دیکھ سکتے ہیں ۔ ان ویڈیو پروگراموں میں اس کی ادبی عظمت اور اسکی اہل بیت سے بے انتہا محبت کا اندازہ ہوجائے گا۔ اس کےپڑھنے کا انداز سننے والوں کے دلوں کو متاثر کیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔

    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  26. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 19, 2010 بوقت 9:58 pm

    سلیم جعفری مرحوم کی نظامت کا مشاہدہ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کیجئے

    http://il.youtube.com/watch?v=hARZR3hh-aM&feature=related

  27. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 19, 2010 بوقت 10:06 pm

    مندرجہ بالا لنک میں سلیم جعفری مرحوم کو دوبئی میں جشن کیفی اعظمی اور دوسرےمشہور شعرا جن میں جون ایلیا بھی شامل ہے ، ان کے جشن کی محفلوں ( مشاعروں ) کی نظامت کرتے پائینگے ۔

    مشکل یہ ہے کہ میں ایسے مشاعروں کو جوں کا توں اس بلاگ میں شامل کرنے کی کوئی مہارت نہیں رکھتا پھر بھی لنک کی شکل میں شامل کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔

  28. زوار قمر عابدی -جدہ - سعودی عرب نے کہا ہے:
    August 20, 2010 بوقت 1:34 am

    ———- سر زمینِ حرم———

    یہ سر زمینِ حرم ، شہرِ التفات و نجات
    یہ کنزِنورِ ہدایت کہ کائنات میں ہے

    گلافِ خاک میں لپٹے ہیں آفتاب کئی
    طلوع کا عالم یہاں کی رات میں ہے

    ہر ایک زرے سے ملتا ہے کہکشاں کا سُراغ
    یہاں بہشتِ بریں آدمی کی گھات میں ہے

    یہ بھید حُسنِ حرم کی نشانیوں سے کُھلا
    کہ سرِکُن فیکوں دسترسِ ذات میں ہے

    یہ عرشِ کرِ نبوت ، بلند بختِ“ حِرا
    یہ جَبلِ نور کہ آیاتِ بینات میں ہے

    پیا جو ساغرِ زَم زَم تو خضر نے ی کہا
    یہ ذائیقہ ہی کہاں چشمہء حیات میں ہے

    بطُونِ ثور ، میں اُترو تو دِل پہ کُھلتا ہے
    وہ حرفِ رازِکہ حائل تخیلات میں ہے

    فرازِ کوہ پہ “ شق القَمر کی بات کرو
    کہ یہ ادا بھی نبوت کے معجزات میں ہے

    میں یومِ حشر سے خئف ہوں کس لیے مُحسن
    مِری نجات تو میرے نبی کے ہات میں ہے
    ——–
    یہ جَبلِ نور کہ آیاتِ بینات میں ہے،،

    میرے نزدیک اِضاففت کے سات جَبل کی ،، ب ،، ساکن ہو تو زیادہ فصی لگتی ہے،، مُحسن نقوی ،، موجِ ادراک ،،

    ———————————————

  29. زوار قمر عابدی -جدہ - سعودی عرب نے کہا ہے:
    August 20, 2010 بوقت 11:37 am

    برائے مہربانی ان اشعار کو اس طر پڑھا جائے

    یہ سر زمینِ حرم ، شہرِ اِلتفات و نجات
    یہ کنزِنورِ ہدایت کہ کائنات میں ہے

    غلافِ خاک میں لپٹے ہیں آفتاب کئی
    طلوعم صبح کا عالم یہاں کی رات میں ہے

    یہ عرشِ فکرِ نبوت ، بلند بختِ“ حِرا
    یہ جَبلِ نور کہ آیاتِ بینات میں ہے

    میں یومِ حشر سے خائف ہوں کس لیے مُحسن
    مِری نجات تو میرے نبی کے ہات میں ہے

  30. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 20, 2010 بوقت 10:03 pm

    زوار قمر عابدی صاحب ہم سب کے شکریہ کے مستحق ہیں کہ وہ محسن نقوی مرحوم کا کلام اس بلاگ میں شامل کررہے ہیں.
    میں جب اس بلاگ کا آغاز کررہا تھا اس وقت مجھے اپنی کم مائیگی کا احساس ہورہا تھا صرف اس لیے کہ اس عظیم شاعر اور مرثیہ اور منقبت نگار کی میرے پاس کوئی کتاب نہیں تھی .
    زوار قمر عابدی صاحب اگر اس بلاگ میں حصہ نہ لیتے تو یہ بلاگ بالکل ادھورا سا رہ جاتا.
    …………
    آج میں یو ٹیوب سے اس بلاگ میں مندرجہ ذیل لنک شامل کررہا ہوں جس میں محسن نقوی مرحوم ایک مشاعرہ میں اپنا کلام سنایا اور حاضرین سے خوب داد حاصل کی .
    اس لنک میں محسن نقوی مرحوم کی شخصیت کا ایک اور رخ موجود ہے جس میں وہ ایک مرثیہ نگار اور منقبت نگار کی حیثیت سے اپنی خداداد صلاحیتوںکا مظاہرہ کرکے حاضرینِ مجلس سے داد حاصل کررہے ہیں .

    http://www.youtube.com/watch?v=yDtJSqTgDcs
    اس لنک کو کلک کرنے پر آپ کو یہ سب کچھ نظر آجاے گا؛
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  31. زوار قمر عابدی -جدہ - سعودی عرب نے کہا ہے:
    August 21, 2010 بوقت 12:24 pm

    میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی !

    میں کہ اس شہر کا سیماب صفت شاعر ہوں
    میری تخلیق میرے فکر کی پہچان بھی ہے

    میرے حرفوں ، میرے لفظوں میں ہے چہرہ میرا
    میرا فن اب میرا مذہب ، میرا ایمان بھی ہے

    میر و غالب نہ سہی ، پھر بھی غنیمت جانو
    میرے یاروں کے سِرہانے میرا دیوان بھی ہے

    مجھ سے پوچھو کہ شکستِ دل و جاں سے پہلے
    میرے احساس پہ گزری ہے قیامت کیا کیا

    سایہء دار و شبِ غم کی سخاوت سے الگ
    میں نے سوچی قد و گیسو کی علامت کیا کیا

    میرے ٹوٹے ہوئے خوابوں کے خرابوں سے پرے
    میرے بکھرے ہوئے جذبے تھے سلامت کیا کیا

    طنزِ اغیار سے احباب کے اخلاص تلک
    میں نے ہر نعمتِ عظمیٰ کا لبادہ پہنا

    دستِ قاتل کی کشش آپ گواہی دے گی
    میں نے ہر زخم قبا سے بھی زیادہ پہنا

    میری آنکھوں میں خراشیں تھیں دھنک کی لیکن
    میری تصویر نے ملبوس تو سادہ پہنا

    ضربتِ سنگِ ملامت میرے سینے پہ سجی
    تمغہء جرّات و اعزازِ حکومت کی طرح

    کُھل کے برسی میری سوچوں پہ عداوت کی گھٹا
    آسمانوں سے اُترتی ہوئی دولت کی طرح

    قریہ قریہ ہوئی رسوا میرے فن کی چاہت
    کونے کونے میں بکھرتی ہوئی شہرت کی طرح

    میرے آنگن میں حوادث کی سواری اُتری
    میرا دل وجہء عذابِ در و دیوار ہوا

    عشق میں عزّتِ سعادت بھلا کر اکثر
    میر صاحب کی طرح میں بھی گناہ گار ہوا

    اپنی اُجڑی ہوئی آنکھوں سے شعائیں لے کر
    میں نے بجھتی ہوئی سوچوں کو جوانی دی ہے

    اپنی غزلوں کے سُخن تاب ستارے چُن کر
    سنگریزوں کو بھی آشفتہ بیانی دی ہے

    حسنِ خاکِ رہِ یاراں سے محبت کر کے
    میں نے ہر موڑ کو اِک تازہ کہانی دی ہے

    مجھ سے روٹھے ہیں میرے اپنے قبیلے والے
    میرے سینے میں ہر اِک تیرِ ستم ٹوٹا ہے

    کربِ نا قدریء یاراں کہ بھنور میں گِھر کر
    بارہا دل کی طرح شوق کا دم ٹوٹا ہے

    میں کہ اس شہر کا سیماب صفت شاعر ہوں
    میں نے اس شہر کی چاہت سے شرف پایا ہے

    میرے اعادہ کا غضب ابرِ کرم ہے مجھ کو
    میرے احباب کی نفرت میرا سرمایہ ہے

    مطمئن ہوں کہ مجھے یاد رکھے گی دنیا
    جب بھی اس شہر کی تاریخِ وفا لکھے گی

    میرے گھر کے در و دیوار مجھے سوچیں گے
    وسعتِ دشت مجھے آبلہ پا لکھے گی

    میرا ماتم اسی چپ چاپ فضا میں ہوگا
    میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی!!!!

    ————————–

    دوستو پھر وہی ساعت وہی رُت آئی ہے
    ہم نے جب اپنے ارادوں کا علَم کھولا تھا
    دل نے جب اپنے ارادوں کی قسم کھائی تھی
    شوق نے جب رگِ دَوراں میں لہُو گھولا تھا

    پھر وہی ساعتِ صد رنگ وہی صُبحِ جُنوں
    اپنے ہاتھوں میں نئے دور کی سوغات لیے
    محملِ شامِ غریباں سے اُتر آئی ہے
    خشک ہونٹوں پہ بکھرتے ہوئے جذبات لیے

    آؤ، پھر ریت پہ بکھرے ہوئے ہیرے چُن لیں
    پھر یہ صحرا کی سخاوت بھی رہے یا نہ رہے
    آؤ کچھ دیر جراحت پہ چھڑک لیں شبنم!!
    کیا خبر پھر یہ روایت بھی رہے یا نہ رہے?

    آؤ پھر حلق میں ٹوٹا ہُوا نشتر کھینچیں
    دِل سے مکن ہے کوئی حرف، زباں تک پہنچے
    آؤ پھر غور کریں ہم کہ سرِ مقتلِ جاں
    شوق دلداری جاناں میں کہاں تک پہنچے?

    دوستو آؤ کہ سر جوڑ کے بیٹھیں کچھ دیر،
    احتسابِ غمِ دوراں سے نمٹ کر دیکھیں
    کچھ تو ماضی کے جھروکوں سے اُدھر بھی ہو گا
    اپنے ماحول سے کچھ دیر تو ہٹ کر دیکھیں

    ہم نے چاہا تھا کہ یوں اب کے چراغاں کیجیے
    روشنی ہو تو گُلستاں سے قفس تک جائے
    اب کے اِس طرح دِل زار سے شعلے پھوٹیں
    آنچ یخ بستگیِ قلب و نفس تک جائے

    اپنی مٹّی سے محبت کی گواہی کے لیے
    ہم نے زرداب نظر کو بھی شفق لکھا تھا
    اپنی تاریخ کے سینے پہ سجا ہے اب تک
    ہم نے خونِ رگِ جاں سے جو وَرق لکھا تھا

    دوستو آؤ کہ تجدیدِ وفا کا دن ہے
    ساعتِ عہدِ محبت کو حِنا رنگ کریں
    خُونِ دِل غازہء رُخسارِ وطن ہو جائے
    اپنے اشکوں کو ستاروں سے ہم آہنگ کریں

    آؤ سرنامہء رُودادِ سفر لکھ ڈالیں
    اشک پیوندِ کفِ خاکِ جگر ہونے تک
    ہم نے کیا کیا نہ خلاؤں پہ کمندیں ڈالیں
    شوق تسخیرِ مہ و مہرِ ہُنر ہونے تک

    آؤ لکھیں کہ ہمیں اپنی اَماں میں رکھنا
    احتسابِ عملِ دیدہء تر ہونے تک
    ہم تو مر جائیں گے اے ارضِ وطن پھر بھی تجھے
    زندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک

    ——————————

    یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں،
    جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
    جب دل میں داغ چمکتے تھے
    جب پلکیں شہر کے رستوں میں
    اشکوں کا نور لٹاتی تھیں،
    جب سانسیں اجلے چہروں کی
    تن من میں پھول سجاتی تھیں
    جب چاند کی رم جھم کرنوں سے
    سوچوں میں بھنور پڑ جاتے تھے
    جب ایک تلاطم رہتا تھا !
    اپنے بے انت خیالوں میں
    ہر عہد نبھانے کی قسمیں
    خط، خون سے لکھنے کی رسمیں
    جب عام تھیں ہم دل والوں میں

    اب اپنی اجڑی آنکھوں میں
    جتنی روشن سی راتیں ہیں،
    اس عمر کی سب سوغاتیں ہیں
    جس عمر کے خواب خیال ہوئے
    وہ پچھلی عمر تھی بیت گئی
    وہ عمر بتائے سال ہوئے

    اب اپنی دید کے رستے میں
    کچھ رنگ ہے گزرے لمحوں کا
    کچھ اشکوں کی باراتیں ہیں،
    کچھ بھولے بسرے چہرے ہیں
    کچھ یادوں کی برساتیں ہیں
    پچھلے عشق کی باتیں ہیں !

    ————————-

    گذرتے لمحوں ۔۔ مجھے بتاؤ ؟
    زندگی کا اُصول کیا ہے ؟
    تمام ہاتھوں میں آئینے ہیں
    کون کسے چُھپتا ہے
    اگر صدا کا وجود کانوں سے مُنسلک ہے
    تو کون خوشبو بن کر بولتا ہے
    اگر سمندر کی حد ہے ساحل
    تو کون آنکھوں میں پھیلتا ہے
    تمام چیزیں اگر ملتی ہیں
    تو کون چیزوں سے ماورا ہے
    کسے خبر ؟ ۔۔۔ بدلتی رُت نے پّتوں سے کیا کہا
    یہ کوئی بادلوں سے پُوچھے اتنے موسم کہاں رہا ؟
    جو آج دیکھا ہے وہ کل نہ ہوگا
    کوئی بھی لمحہ اٹل نہ ہوگا
    گُذرتے لمحوں ۔۔۔ مجھے بتاؤ ؟
    زندگی کا اُصول کیا ہے ؟

    ————————

    وہ لڑکی بھی ایک عجیب پہیلی تھی
    پیاسے ہونٹ تھے آنکھ سمندر جیسی تھی

    سورج اس کو دیکھ کر پیلا پرتا تھا
    وہ سرما کی دھوپ میں دھل کر نکلی تھی

    اسکو اپنے سائے سے ڈر لگتا تھا
    سوچ کے صحرا میں وہ تنہا ہرنی تھی

    آتے جاتے موسم اس کو ڈستے تھے
    ہنستے ہنستے پلکوں سے رو پڑتی تھی

    آدھی رات گنوا دیتی تھی چپ رہ کر
    آدھی رات کو چاند سے باتیں کرتی تھی

    دور سے اجڑے مندر جیسا گھر اس کا
    وہ اپنے گھر میں اکلوتی دیوی تھی

    موم سے نازک جسم سھر کو دکھتا تھا
    دیئے جلا کر شب بھر آپ پگھلتی تھی

    تیز ہوا کو روک کر اپنے آنچل پر
    سوکھے پھول اکٹھے کرتی پھرتی تھی

    سب ظاہر کر دیتی تھی بھید اپنا
    سب سے ایک تصویر چھپائے رکھتی تھی

    کل شب چکنا چور ہوا تھا دل اس کا
    یا پھر پہلی بار وہ دل کھول کر روئی تھی

    محسن کیا جانے دھوپ سے بے پروا
    وہ اپنے گھر کی دہلیز پر بیٹھی تھی ؟

    —————————–

    محبت دشتِ فرقت میں
    بنا رختِ سفر چلتے کسی مجذوب کے دل سے نکلتا ایک
    نوحہ ہے
    محبت راستوں کے جال میں بھٹکتا ہوا راہی
    کسی کے بام پہ ٹھہرا ہوا ایک اجنبی چہرہ
    محبت خواب بن جائے تو تعبیریں نہیں ملتیں
    محبت ایک بارش ہے
    جو اک ایک بوند کر کے تن سے من میں جب اترتی ہے
    سریلے ساز بجتے ہیں
    انوکھے باب کھلتے ہیں
    محبت کرنے والے تو فصلِ جاں کو داؤ پر لگا کر
    بات کرتے ہیں
    محبت ایک سرگوشی
    کسی فنکار کے ہاتھوں سے جھڑتا بے خودی کا راگ
    محبت بارشوں کے موسم میں یاد کی کایا
    محبت جلتے تپتے راستوں پر پھیلتا سایا
    محبت اک قضا بن کر بھی آتی ہے
    کئی لوگوں کے جیون میں
    محبت مرگِ گل بھی ہے
    محبت یاس کی صورت
    اک ایسی پیاس کی صورت
    کبھی جو بجھ نہیں پاتی
    محبت اک اداسی ہے
    بلا کی خامشی بھی ہے
    محبت موسموں کو حسن کا پیغام دیتی ہے
    محبت چاہنے والوں کہ یہ انعام دیتی ہے
    قبولیت کے دروازوں پہ مہکی اک دعا بھی ہے
    محبت اک سزا بھی ہے
    محبت پت جھڑوں کا نام
    محبت اک سلگتی شام

    —————————

    چلو چھوڑو!
    محبت جھوٹ ہے
    عہدٍ وفا شغل ہے بےکار لوگوں کا
    طلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے
    خلش دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہے
    چلو چھوڑو
    کب تک میں اندھیروں کی دھمک میں سانسوں کی ضربوں پہ
    چاہت کے بنا رکھ کر سفر کرتا رہوں گا
    مجھے احساس ہی کب تھا
    کہ تم بھی موسم کے ساتھ پیرہن کے رنگ بدلو گے
    چلو چھوڑو
    میرا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے
    تم اپنے خل و خلود کو آئینے میں پھر بکھرنے دو
    تم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے ایک نیا موسم اتار دو
    میرے بکھرے خوابوں کو مرنے دو
    پھر نیا مکتوب لکھو
    پھر نئے موسم، نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑو
    میرے ماضی کی چاہت رائیگان سمجھو
    میری یادوں کے کچے رابطے توڑو
    چلو چھوڑو
    محبت جھوٹی ہے
    عہدٍ وفا شغل ہے بیکار لوگوں کا
    —————————–

    اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا
    ابر کی زد میں ستارہ نہیں دیکھا جاتا

    اپنی شہ رگ کا لہو تن میں رواں ہے اب تک
    زیر خنجر کوئی پیارا نہیں دیکھا جاتا

    موج در موج الجھنے کی ہوس بے معنی
    ڈوبتا ہو تو سہارا نہیں دیکھا جاتا

    تیرے چہرے کی تپش تھی کہ پلٹ کر دیکھا
    ورنہ سورج تو دوبارہ نہیں دیکھا جاتا

    آگ کی ضد میں نہ جا پھر سے بھڑک سکتی ہے
    راکھ کی تہہ میںشرارہ نہیں دیکھا جاتا

    زخم آنکھوں کے بھی ملتے تھے کبھی دل والے
    اب تو ابرو کا اشارہ نہیں دیکھا جاتا

    کیا قیامت ہے کہ دل جس کا نگر ہے محسن
    دل پہ اس کا بھی اجارہ نہیں دیکھا جاتا

    ———————————–

    کسی لمبے سفر کی باگ تھامے تونے عجلت میں
    مرے ہاتھوں پہ اپنی مسکراتی بولتی تصویر رکھی تھی
    اور اس کی پشت پر جلدی میں لکھا تھا
    ”بچھڑ جانا ضروری ہے”
    تمہیں جانے کی چاہت تھی
    مجھے کچھ اور چلنا تھا
    تمہیں کچھ اور کہنا تھا
    مجھے کچھ اور سننا تھا
    اداسی سے بھری اس شام ہم دونوں
    مخالف سمت اپنی خواہشوں کی سیپیاں چننے کو نکلے تھے
    نہ جانے چلتے چلتے کتنے سالوں نے ہمارے تن پہ
    اپنی داستاں لکھی
    نہ جانے کتنے چہروں نے ہمیں چلتے ہوئے روکا
    نہ جانے کتنی بانہوں نے ہمارے راستے روکے
    مگر یہ بھی حقیقت تھی!
    نہ تم مجھ کو بھلا پائے
    نہ میں تم کو بھلا پائی
    نہ تیری مسکراتی بولتی تصویر دھندلائی
    سسکتے سرد جھونکوں سے بھری اک شام کی یخ بستہ
    بانہوں سے
    اچانک واپسی کی نرم انگلی تھام کر واپس پلٹ آئی
    وہی لمحہ وہی ساعت’ وہی رستہ ابھی تک ساکت وبے دم کھڑے تھے
    جس جگہ کالے سیہ پتھر پہ شاید تم نے لکھا تھا
    ”بچھڑ جانا ضروری ہے”
    ”ملن رت کی دوبارہ واپسی ممکن نہیں ہے”

    ————————————-

    جو میری ہتھیلی پہ لکیروں سے لکھا ہے
    تحفے میں مجھے میرے مقدر نے دیا ہے

    آندھی کی طرح شہر میں چیخوں کی صدا ہے
    اس شہر کے ہر گھر میں کوئی حشر بپا ہے

    اب تلخ حقائق سے مفر ہو بھی تو کیسے
    اب زیست ہماری اک الم ناک صدا ہے

    ڈر ہے کہ اسے اپنے قدم روند نہ جائیں
    موہوم سی امید کا پودا تو اگا ہے

    مسموم ہے باہر کی فضا اور زیادہ
    گھر سے تو نکل کر مرا دم اور گھٹا ہے

    باہر سے تو پہلے کی طرح اب بھی ہوں سالم
    لیکن مرے اندر کوئی غم ٹوٹ رہا ہے

    کچھ سوکھے سے پتے ہیں مری آخری پونجی
    اور یہ بھی کہاں’ آج بڑی تیز ہوا ہے

    ———————————-

    وہ دل کا برا نہ بے وفا تھا
    بس مجھ سے یونہی بچھڑ گیا تھا
    لفظوں کی حدوں سے ماوراء تھا
    اب کس سے کہوں وہ شخص کیا تھا
    وہ میری غزل کا آئینہ تھا
    ہر شخص یہ بات جانتا تھا
    ہر سمت اُسی کا تذکرہ تھا
    ہر دل میں وہ جیسے بس رہا تھا
    میں اُس کی انا کا آسرا تھا
    وہ مجھ سے کبھی نہ روٹھتا تھا
    میں دھوپ کے بن میں جل رہا تھا
    وہ سایہء ابر بن گیا تھا
    میں بانجھ رتوں کا آشنا تھا
    وہ موسمِ گُل کا ذائقہ تھا
    اک بار بچھڑ کے جب ملا تھا
    وہ مجھ سے لپٹ کے رو پڑا تھا
    کیا کچھ نہ اُسے کہا گیا تھا
    اُس نے تو لبوں کو سی لیا تھا
    وہ چاند کا ہمسفر تھا شائد
    راتوں کو تمام جاگتا تھا
    ہونٹوں میں گُلوں کی نرم خوشبو
    باتوں میں تو شہد گھولتا تھا
    کہنے کو جدا تھا مجھ سے لیکن
    وہ میری رگوں میں گونجتا تھا
    اُس نے جو کہا کیا وہ دل نے
    انکار کا کس میں حوصلہ تھا
    یوں دل میں تھی یاد اُس کی جیسے
    مسجد میں چراغ جل رہا تھا
    مت پوچھ حجاب کے قرینے
    وہ مجھ سے بھی کم ہی کُھل سکا تھا
    اُس دن مرا دل بھی تھا پریشاں
    وہ بھی میرے دل سے کچھ خفا تھا
    میں بھی تھا ڈرا ہوا سا لیکن
    رنگ اُس کا بھی کچھ اُڑا اُڑا تھا
    اک خوف سا ہجر کی رتوں کا
    دونوں پہ محیط ہو چلا تھا
    اک راہ سے میں بھی تھا گریزاں
    اک موڑ پہ وہ بھی رک گیا تھا
    اک پل میں جھپک گئیں جو آنکھیں
    منظر ہی نظر میں دوسرا تھا
    سوچا تو ٹھہر گئے زمانے
    دیکھا تو وہ دور جا چکا تھا
    قدموں سے زمیں سرک گئی تھی
    سورج کا بھی رنگ سانولا تھا
    چلتے ہوئے لوگ رُک گئے تھے
    ٹھہرا ہو شہر گھومتا تھا
    سہمے ہوئے پیڑ کانپتے تھے
    پتّوں میں ہراس رینگتا تھا
    رکھتا تھا میں جس میں خواب اپنے
    وہ کانچ کا گھر چٹخ گیا تھا
    ہم دونوں کا دکھ تھا ایک جیسا
    احساس مگر جدا جدا تھا
    کل شب وہ ملا تھا دوستوں
    کہتے ہیں اداس لگ رہا تھا
    محسن یہ غزل کہہ رہی ہے
    شائد ترا دل دُکھا ہوا تھا۔
    ————————-

    تو کیا میں تمہیں کبھی یاد ہی نہیں آیا
    کسی گلاب کو ٹہنی سے توڑ کر بھی نہیں
    تو کیا میں تمہیں کبھی یاد ہی نہیں آیا
    سُبک کلائی میں گجرے کبھی پہنتے ہوئے
    گلاب ہاتھوں پہ مہندی کبھی لگاتے ہوئے
    سفید دودھیا آنچل کو زرد رنگتے ہوئے
    گُلال ملتے ہوئے چوڑیاں پہنتے ہوئے
    چمکتے ماتھے پہ بندیا کبھی سجاتے ہوئے
    سنور کے دیر تک آئینے کو تکتے ہوئے
    تو کیا میں تمہیں کبھی یاد ہی نہیں آیا
    کسی کبوترِ گرداں کو دیکھ کر بھی نہیں
    کبھی دیا کسی درگاہ پر جلاتے ہوئے
    کسی دکان پہ ساڑھی پسند کرتے ہوئے
    لچکتی شاخ پہ پہلا گلاب لگتے ہوئے
    کبھی یونہی کسی مخصوص دُھن کو سنتے ہوئے
    کبھی کبھی یونہی کوئی کتاب پڑھتے ہوئے
    برستے ابر میں چھت پہ کبھی نہاتے ہوئے
    کسی سہیلی سے ہنستے سمے لپٹتے ہوئے
    کسی خیال میں بیٹھے سے اُٹھ کے چلتے ہوئے
    کسی بھی رات کو اُٹھ کر یونہی ٹہلتے ہوئے
    اکیلے دور تک خامشی میں چلتے ہوئے
    خلا کی ذات کی بے آسرا بھٹکتے ہوئے
    کسی پہاڑ پہ تنہا سنبھل کے چڑھتے ہوئے
    اُترتے چاند کا موجوں میں عکس پڑتے ہوئے
    کبھی لباس پہ خوشبو کوئی لگاتے ہوئے
    فضا میں سوکھے پتّوں کا شور سنتے ہوئے
    مٹے ہوئے سے درختوں پہ نام پڑھتے ہوئے
    کسی بھی روز یونہی گھر کے کام کرتے ہوئے
    اذان ہوتے ہی آنچل سے سر کو ڈھکتے ہوئے
    تو کیا میں تمہیں کبھی یاد ہی نہیں آیا
    کسی گلاب کو ٹہنی سے توڑ کر بھی نہیں
    کسی کبوترِ گرداں کو دیکھ کر بھی نہیں
    کسی درخت کے سائے میں بیٹھ کر بھی نہیں
    تو کیا میں تمہیں کبھی یاد ہی نہیں آیا
    تو کیا ؟ ؟

    ——————————

  32. زوار قمر عابدی۔ سعودی عرب نے کہا ہے:
    August 21, 2010 بوقت 12:27 pm

    جسے تم زندگی جانو
    تمھیں وہ روگ کہتا ہو
    کہ چاہت سے جس نے خود ہی تمھارا ہاتھ تھاما ہو
    وہ اپنے دل کے دروازے
    تمھی پر بند کر دے تو!!
    محبت مر بھی سکتی ہے

    تمھیں سنگسار کرنے کو
    جو پتھر بانٹے لوگوں میں
    صبا کے روکنے کو قفل ڈالے دریچوں میں
    سانس پر پہرے لگائے تو
    محبت مر بھی سکتی ہے

    یہ کس نے کہہ دیا تم سے؟؟محبت مر نہیں سکتی
    کہ جب کوئی تم کو جان سے گزر جانے کو کہتا ہو
    آدھی راہ میں خود ہی مڑ جانے کو کہتا ہو
    وہ خود ہی اپنی بے وفائی کا اعتراف کر لے تو
    محبت مر بھی سکتی ہے
    محبت مر بھی سکتی ہے!!!!

    ———————————

    میرے بس میں ہو تو کبھی کہیں
    کوئی شہر ایسا بساؤں میں
    جہاں فاختاؤں کی پھڑپھڑاہٹ سے نغمہء رازِ حیات میں
    جھنجھناتی سانسوں کی جھانجھریں جو چھنک اُٹھیں
    تو دھنک کے رنگوں میں بھیگ جائیں حواس تک
    جہاں چاند ماند نہ ہو کبھی ، جہاں چاندنی کی رِدا بنے
    میری بانجھ دھرتی کے باسیوں کا لباس تک
    جہاں صرف حکمِ یقیں چلے ، جہاں بے نشاں ہو قیاس تک
    جہاں آدمیت کے نطق و لب پہ ، نہ شہرِ یار کا خوف ہو
    جہاں سرسرائے نہ آدمی کی رگوں میں کوئی ہراس تک
    جہاں وہم ہو نہ دلوں میں وہم کا سہم ہو
    جہاں سچ کو سچ سے ہو واسطہ
    جہاں جگنو کو ہوا دکھاتی ہو راستہ
    جہاں خوشبوؤں سے بدلتی رُت کو حسد نہ ہو
    جہاں پستیوں سے بلندیوں کو بھی قد نہ ہو
    جہاں خواب آنکھوں میں جگمگائیں تو۔۔۔۔۔
    جسم و جاں کے سبھی دریچوں میں تیرگی کا گزر نہ ہو
    کوئی رات ایسی بسر نہ ہو کہ ، بشر کو اپنی خبر نہ ہو
    جہاں داغ داغ سحر نہ ہو
    جہاں کشتیاں ہوں رواں دواں ۔۔ تو سمندروں میں بھنور نہ ہو
    جہاں برگ و بار سے اجنبی کوئی ، شاخ کوئی شجر نہ ہو
    جہاں چہچہاتے ہوئے پرندوں کو ، بارشوں کے عذاب کا کوئی ڈر نہ ہو
    میرے بس میں ہو تو کبھی کہیں کوئی شہر ایسا بساؤں میں
    جہاں برف برف محبتوں پہ غمِ جاں کا اثر نہ ہو
    راہ و رسمِ دنیا کی بندشیں غمِ ذات کے سبھی ذائقے
    سمے کائنات کی تلخیاں کسی آنکھ کو بھی نہ چھو سکیں
    جہاں میری سانس کی تازگی ، تیری چاہتوں کے کنول میں ہو
    تیرا حسن میری غزل میں ہو ، جہاں کائنات کی اِ ک صدف
    شب و روز کے کسی پل میں ہو
    جہاں نوحہء غمِ زندگی ، میری ہچکیوں سے عیاں نہ ہو
    جہاں لوھِ خاک پہ عمر بھر ، کسی بے گناہ کے خون کا
    کوئی داغ ، کوئی نشاں نہ ہو
    کوئی شہر ایسا کبھی کہیں بساؤں میں
    جہاں دھوپ چھاؤں گلے ملیں
    جہاں بانجھ رُت میں بھی گُل کھلیں
    جہاں چاہتوں کے ہجوم میں ، کبھی گیت امن کے گاؤں میں
    جہاں زندگی کا رِجز پڑھوں ، جہاں بے خلل گنگناؤں میں
    جہاں موج موج کی اوٹ میں تو کرن بنے ، مسکراؤں میں
    میرے بس میں ہو تو کبھی کہیں
    کوئی شہر ایسا بساؤں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ————————————-

    میرے نام سے پہلے ۔۔۔۔۔۔۔

    اب کے اُس کی آنکھوں میں
    بے سبب اداسی تھی
    اب کے اُس کے چہرے پر
    دُکھ تھا ۔۔۔۔ بے حواسی تھی
    اب کے یوں ملا مجھ سے
    یوں غزل سنی ۔۔۔۔۔ جیسے
    میں بھی نا شناسا ہوں
    وہ بھی اجنبی جیسے
    زرد خال و خد اُس کے
    سوگوار دامن تھا
    اب کے اُس کے لہجے میں
    کتنا کھردرا پن تھا
    وہ کہ عمر بھر جس نے
    شہر بھر کے لوگوں میں
    مجھ کو ہم سخن جانا
    خود سے مہرباں سمجھا
    مجھ کو دلربا لکھا
    اب کے سادہ کاغذ پر
    سرخ روشنائی سے
    اُس نے تلخ لہجے میں
    میرے نام سے پہلے
    صرف ” بے وفا “ لکھا !

    ———————–

    طے کر نہ سکا زیست کے زخموں کا سفر بھی
    حالانکہ مِرا دِل تھا شگوفہ بھی شرر بھی

    اُترا نہ گریباں میں مقدر کا ستارا
    ہم لوگ لٹاتے رہے اشکوں کے گہر بھی

    حق بات پہ کٹتی ہیں تو کٹنے دو زبانیں
    جی لیں گے مِرے یار باندازِ دگر بھی

    حیراں نہ ہو آئینہ کی تابندہ فضاپر
    آ دیکھ ذرا زخمِ کفِ آئینہ گر بھی

    سوکھے ہوئے پتوں کو اُڑانے کی ہوس میں
    آندھی نے گِرائے کئی سر سبز شجر بھی

    وہ آگ جو پھیلی میرے دامن کو جلا کر
    اُس آگ نے پھونکا میرے احباب کا گھر بھی

    محسن یونہی بدنام ہوا شام کا ملبوس
    حالانکہ لہو رنگ تھا دامانِ سحر بھی

    ————————————

    میں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسمان کا ہے
    کہ ٹوٹ کر بھی میرا حوصلہ چٹان کا ہے

    بُرا نہ مان میرے حرف زہر زہر سہی
    میں کیا کروں کہ یہی ذائقہ زبان کا ہے

    ہر ایک گھر پہ مسلط ہے دِل کی ویرانی
    تمام شہر پہ سایہ میرے مکان کا ہے

    بچھڑتے وقت سے اب تک میں یوں نہیں رویا
    وہ کہہ گیا تھا یہی وقت امتحان کا ہے

    مسافروں کی خبر ہے نہ دُکھ ہے کشتی کا
    ہوا کو جتنا بھی غم ہے وہ بادبان کا ہے

    یہ اور بات عدالت ہے بےخبر ورنہ
    تمام شہر میں چرچہ میرے بیان کا ہے

    اثر دِکھا نہ سکا اُس کے دل میں اشک میرا
    یہ تیر بھی کسی ٹوٹی ہوئی کمان کا ہے

    بچھڑ بھی جائے مگر مجھ سے بدگمان بھی رہے
    یہ حوصلہ ہی کہاں میرے بدگمان کا ہے

    قفس تو خیر مقدر میں تھا مگر محسن
    ہوا میں شور ابھی تک میری اُڑان کا ہے

    ————————————

    کبھی یاد آؤ تو اس طرح
    کہ لہو کی ساری تمازتیں
    تمہیں دھوپ دھوپ سمیٹ لیں
    تمہں رنگ رنگ نکھار دیں
    تمہیں حرف حرف میں سوچ لیں
    تمہیں دیکھنے کا جو شوق ہو
    تو دیارِ ہجر کی تیرگی کو
    مژہ کی نوک سے نوچ لیں
    کبھی یاد آؤ تو اس طرح
    کہ دل و نظر میں اُتر سکو
    کبھی حد سے حبسِ جنوں بڑھے
    تو حواس بن کے بکھر سکو
    کبھی کِھل سکو شبِ وصل میں
    کبھی خونِ جگر میں سنور سکو
    سرِ رہگزر جو ملو کبھی
    نہ ٹھہر سکو نہ گزر سکو
    مرا درد پھر سے غزل بنے
    کبھی گنگناؤ تو اس طرح
    مرے زخم پھر سے گلاب ہوں
    کبھی مسکراؤ تو اس طرح
    مری دھڑکنیں بھی لرز اٹھیں
    کبھی چوٹ کھاؤ تو اس طرح
    جو نہیں تو پھر بڑے شوق سے
    سبھی رابطے سبھی ضابطے
    کسی دھوپ چھاؤں میں توڑ دو
    نہ شکستِ دل کا ستم سہو
    نہ سنو کسی کا عذابِ جاں
    نہ کسی سے اپنی خلش کہو
    یونہی خوش پھرو، یونہی خوش رہو
    نہ اُجڑ سکیں ، نہ سنور سکیں
    کبھی دل دُکھاؤ تو اس طرح
    نہ سمٹ سکیں ، نہ بکھر سکیں
    کبھی بھول جاؤ تو اس طرح
    کسی طور جاں سے گزر سکیں
    کبھی یاد آؤ تو اس طرح ! !

    —————————-

    کب تلک شب کے اندھیرے میں شہر کو ترسے
    وہ مسافر جو بھرے شہر میں گھر کو ترسے

    آنکھ ٹھہرے ہوئے پانی سے بھی کتراتی ہے
    دل وہ راہرُو کہ سمندر کے سفر کو ترسے

    مجھ کو اس قحط کے موسم سے بچا ربِ سخن
    جب کوئی اہلِ ہُنر عرضِ ہُنر کو ترسے

    اب کے اس طور مسلط ہوا اندھیرا ہر سُو
    ہجر کی رات میرے دیدہء تر کو ترسے

    عمر اتنی تو میرے فن کو عطا کر خالق
    میرا دشمن میرے مرنے کی خبر کو ترسے

    اس کو پا کر بھی اسے ڈھونڈ رہی ہیں آنکھیں
    جیسے پانی میں کوئی سیپ گُہر کو ترسے

    ناشناسائی کے موسم کا اثر تو دیکھو
    آئینہ خال و خدِ آئینہ گر کو ترسے

    ایک دنیا ہے کہ بستی ہے تری آنکھوں میں
    وہ تو ہم تھے جو تری ایک نظر کو ترسے

    شورِ صرصر میں جو سر سبز رہی ہے محسن
    موسمِ گُل میں وہی شاخ ثمر کو ترسے

    —————————————-

    چاندنی رات میں اس پیکرِ سیماب کے ساتھ
    میں بھی اُڑتا رہا اک لمحہ بے خواب کے ساتھ

    کس میں ہمت ہے کہ بدنام ہو سائے کی طرح
    کون آوارہ پھرے جاگتے مہتاب کے ساتھ

    آج کچھ زخم نیا لہجہ بدل کر آئے
    آج کچھ لوگ نئے مل گئے احباب کے ساتھ

    سینکڑوں ابر اندھیرے کو بڑھائیں گے لیکن
    چاند منسوب نہ ہو کرمکِ شبِ تاب کے ساتھ

    دل کو محروم نہ کر عکسِ جنوں سے محسن
    کوئی ویرانہ بھی ہو قریہء شاداب کے ساتھ

    ——————————–

    بھری بہار میں اب کے عجیب پھول کھلے
    نہ اپنے زخم ہی مہکے، نہ دل کے چاک سلے

    کہاں تلک کوئی ڈھونڈے مسافروں کا سراغ
    بچھڑنے والوں کا کیا ہے، ملے ملے نہ ملے

    عجیب قحط کا موسم تھا اب کے بستی میں
    کیے ہیں بانجھ زمینوں سے بارشوں نے گِلے

    یہ حادثہ سرِ ساحل رُلا گیا سب کو
    بھنور میں ڈوبنے والوں کے ہاتھ بھی نہ ملے

    سناں کی نوک، کبھی شاخِ دار پہ محسن
    سخنوروں کو ملے ہیں مشقتوں کے صلے

    ———————————

    رہتے تھے پستیوں میں مگر خود پسند تھے
    ہم لوگ اِس لحاظ سے کتنے بلند تھے

    آخر کو سو گئی کھلی گلیوں میں چاندنی
    کل شب تمام شہر کے دروازے بند تھے

    گزرے تو ہنستے شہر کو نمناک کر گئے
    جھونکے ہوائے شب کے بڑے درد مند تھے

    موسم نے بال و پر تو سنوارے بہت مگر
    اُڑتے کہاں کہ ہم تو اسیرِ کمند تھے

    وہ ایک تو کہ ہم کو مٹا کر تھا مطمئن
    وہ ایک ہم کے پھر بھی حریصِ گزند تھے

    محسن ریا کے نام پہ ساتھی تھے بے شمار
    جن میں تھا کچھ خلوص وہ دشمن بھی چند تھے

    —————————————

    ذکرِ شبِ فراق سے وحشت اسے بھی تھی
    میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی

    مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
    رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی

    اس رات دیر تک وہ رہا محوِ گفتگو
    مصروف میں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی

    سنتا تھا میں بھی سب سے پرانی کہانیاں
    تازہ رفاقتوں کی ضرورت اسے بھی تھی

    مجھ سے بچھڑ کے شہر میں گھل مل گیا وہ شخص
    حالانکہ شہر بھر سے رقابت اسے بھی تھی

    وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا
    ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی

    ————————————

    ابھی کیا کہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی کیا سنیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
    کہ سر ِ فصیل ِ سکوت ِ جاں
    کف ِ روز و شب پہ شرر نما
    وہ جو حرف حرف چراغ تھا
    اسے کس ہوا نے بجھا دیا ؟
    کبھی لب ہلیں گے تو پوچھنا!
    سر ِ شہر ِ عہد ِ وصال ِ دل
    وہ جو نکہتوں کا ہجوم تھا
    اسے دست ِ موج ِ فراق نے
    تہہ ِ خاک کب سے ملا دیا ؟
    کبھی گل کھلیں گے تو پوچھنا!

    ابی کیا کہیں ۔۔۔ ابھی کیا سنیں؟
    یونہی خواہشوں کے فشار میں
    کبھی بے سبب ۔۔۔ کبھی بے خلل
    کہاں، کون کس سے بچھڑ گیا ؟
    کسے، کس نے کیسے بھلا دیا ؟

    کبھی پھر ملیں گے تو پوچھنا۔۔!

    ————————————-

    میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں
    جیسے ماہتاب کو انت سمندر چاہے
    جیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اترے
    جیسے خوشبو کا ہوا رنگ سے ہٹ کر چاہے
    جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہے
    جیسے غنچے کھلے موسم سے حنا مانگتے ہیں
    جیسے خوابوں میں خیالوں کی کماں ٹوٹتی ہے
    جیسے بارش کی دعا آبلہ با مانگتے ہیں
    میرا ہر خواب مرے سچ کی گواہی دے گا
    وسعتِ دید نے تجھ سے تری خواہش کی ہے
    میری سوچوں میں کبھی دیکھ سراپا اپنا
    میں نے دنیا سے الگ تیری پرستش کی ہے
    خواہشِ دید کا موسم کبھی ہلکا جو ہوا
    نوچ ڈالی ہیں زمانوں کی نقابیں میں نے
    تیری پلکوں پہ اترتی ہوئی صبحوں کے لئے
    توڑ ڈالی ہیں ستاروں کی طنابیں میں نے
    میں نے چاہا کہ ترے حسن کی گلنار فضا
    میری غزلوں کی قطاروں سے دہکتی جائے
    میں نے چاہا کہ مرے فن کے گلستاں کی بہار
    تیری آنکھوں کے گلابوں سے مہکتی جائے
    طے تو یہ تھا کہ سجاتا رہے لفظوں کے کنول
    میرے خاموش خیالوں مین تکلم تیرا
    رقص کرتا رہے، بھرتا رہے خوشبو کا خمار
    میری خواہش کے جزیروں میں تبسم تیرا
    تو مگر اجنبی ماحول کی پروردہ کرن
    میری بجھتی ہوئی راتوں کو سحر کر نہ سکی
    تیری سانسوں میں مسیحائی تھی لیکن تو بھی
    چارہِ زخمِ غمِ دیدہِ تر کر نہ سکی
    تجھ کو احساس ہی کب ہے کہ کسی درد کا داغ
    آنکھ سے دل میں اتر جائے تو کیا ہوتا ہے
    تو کہ سیماب طبیعیت ہے تجھے معلوم
    موسمِ ہجر ٹھہر جائے تو کیا ہوتا ہے
    تو نے اس موڑ پہ توڑا ہے تعلق کہ جہاں
    دیکھ سکتا نہیں کوئی بھی پلٹ کر جاناں
    اب یہ عالم ہے کہ آنکھیں جو کھلیں گی اپنی
    یاد آئے گا تری دید کا منظر جاناں
    مجھ سے مانگے گا ترے عہدِ محبت کا حساب
    تیرے ہجراں کا دہکتا ہوا محشر جاناں
    یوں مرے دل کے برابر ترا غم آیا ہے
    جیسے شیشے کے مقابل کوئی پتھر جاناں !

    —————————————

    وہم

    وہ نہیں ہے
    تو اُ س کی چاہت میں
    کس لیے
    رات دن سنورتے ہو
    خود سے بے ربط باتیں کرتے ہو
    اپنا ہی عکس نوچنے کے لیے
    خود اُلجھتے ہو، خود سے ڈرتے ہو
    ہم نہ کہتے تھے
    ہجر والوں سے، آئینہ گفتگو نہیں کرتا

    ———————————-

    اب کے یو ں بھی تری زلفوں کی شکن ٹوٹی ہے
    رنگ پھوٹے، کہیں خوشبو کی رسن ٹوٹی ہے

    موت آئی ہے کہ تسکین کی ساعت آئی
    سانس ٹوٹی ہے کہ صدیوں کی تھکن ٹوٹی ہے

    سینہِ گل جہاں نکہت بھی گراں ٹھہری تھی
    تیر بن کر وہاں سورج کی کرن ٹوٹی ہے

    دِل شکسہ تو کئی بار ہوئے تھے لیکن
    اب کے یوں ہیکہ ہراک شاخِ بدن ٹوٹی ہے

    اتنی بے ربط محبت بھی کہاں تھی اپنی
    درمیاں سے کہیں زنجیرِ سخن ٹوٹی ہے

    اک شعلہ کہ تہہِ خیمہء جاں لپکا تھا
    ایک بجلی کہ سرِ صحنِ چمن ٹوٹی ہے

    سلسلہ تجھ سے بچھڑنے پہ کہاں ختم ہوا
    اک زمانے سے رہ و رسم کہن ٹوٹی ہے

    مرے یاروں کے تبسم کی کرن مقتل میں
    نوکِ نیزہ کی طرح زیرِ کفن ٹوٹی ہے

    ریزہ ریزہ میں بکھرتا گیا ہر سو محسن
    شیشہ شیشہ مری سنگینیء فن ٹوٹی ہے

    —————————————-

    شہر کی دھوپ سے پوچھیں کبھی گاوں والے
    کیا ہوئے لوگ وہ زلفوں کی گھٹاوں والے

    اب کے بستی نظر آتی نہیں اجڑی گلیاں
    آو ڈھونڈیں کہیں درویش دعاوں والے

    سنگزاروں میں مرے ساتھ چلے آئے تھے
    کتنے سادہ تھے وہ بلورّ سے پاوں والے

    ہم نے ذّروں سے تراشے تری خاطر سورج
    اب زمیں پر بھی اتر زرد خلاوں والے

    کیا چراغاں تھا محبت کا کہ بجھتا ہی نہ تھا
    کیسے موسم تھے وہ پرﹸ شور ہواوں والے

    تو کہاں تھا مرے خالق کہ مرے کام آتا
    مجھ پہ ہنستے رہے پتھر کے خداوں والے

    ہونٹ سی کر بھی کہاں بات بنی ہے محسن !
    خامشی کے سبھی تیور ہیں صداوں والے

    ———————————–

    یہ راکھ راکھ رتیں اپنی رات کی قسمت
    تم اپنی نیند بچھاو تم اپنے خواب چنو
    بکھرتی ڈوبتی نبضوں پہ دیہان کیا دینا
    تم اپنےدل میں دھڑکتے ہوے حروف سنو

    تمہارے شہر کی گلیوں میں سیل رنگ بخیر
    تمہارے نقش قدم پھول پھول کھلتےر ہیں
    وہ رہگزر جہاں تم لمحہ بھر ٹہر کے چلو
    وہاں پہ ابر جھکیں آسماں ملتے رہیں

    نہیں ضرور کہ ہر اجنبی کی بات سنو
    ہر اک صدا پہ دھڑکنا بھی دل پہ فرض نہیں
    سکوت حلقہ زنجیر در بھی کیوں ٹوٹے
    صبا کا ساتھ نبھانا جنوں پہ قرض نہیں

    ہم ایسے لوگ بہت ہیں جو سوچتے ہی نہیں
    کہ عمر کیسے کٹی کس کے ساتھ بیت گئ
    ہماری تشنہ لبی کا مزاج کیا جانے ؟
    کہ فصل بخشش موج فرات بیت گئ

    یہ ایک پل تھا جسے تم نے نوچ ڈالا تھا
    وہ اک صدی تھی جو بے التفات بیت گئ
    ہماری آنکھ لہو ہے تمہیں خبر ہو گی
    چراغ خود سے بجھا ہے کہ رات بیت

    ———————————-

    کبھی تو محیطِ حواس تھا سو نہیں رہا
    میں تیرے بغیر اداس تھا سو نہیں رہا

    مری وسعتوں کی ھوس کا خانہ خراب ھو
    میرا گاؤں شہر کے پاس تھا سو نہیں رہا

    تیری دسترس میں تھیں بخششیں سو نہیں رہیں
    میرے لب پہ حرف سپاس تھا سو نہیں رہا

    مرا عکس مجھ سے الجھ پڑا تو گرہ کھلی
    کبھی میں بھی چہرہ شناس تھا سو نہیں رہا

    میرے بعد نوحہ بہ لب ھوائیں کہا کریں
    وہ جو اک دریدہ لباس تھا سو نہیں رہا

    میں شکستہ دل ھوں صفِ عدو کی شکست پر
    وہ جو لطفِ خوف و حراس تھا سو نہیں رہا

    ———————————-

  33. زوار قمر عابدی -جدہ - سعودی عرب نے کہا ہے:
    August 21, 2010 بوقت 1:51 pm

    مجھے معلوم ھے سب کچھ
    کہ وہ حرفِ وفا سے اجنبی ھے
    وہ اپنی ذات سے ہٹ کر
    بہت کم سوچتی ھے
    وہ جب بھی آئینہ دیکھے
    تو بس اپنے ھی خال و خد کے
    تیور دیکھتی ھے
    اسے اپنے بدن کے زاویے ،قوسیں ، مثلث ، مستطیلیں
    بازوؤں کی دسترس میں رقص کرتی خواہشوں کی سب اڑانیں
    قیمتی لگتی ھیں سیم و زر کے پوشیدہ خزانوں سے
    زمینوں آسمانوں میں رواں روشن زمانوں سے
    وہ لمحہ لمحہ اپنے ھی تراشیدہ کروں میں
    گھومتی ھے
    وہ بارش میں نہائی دھوپ کے آنگن میں
    کھلتی کھلتی ہنستی ہری بیلوں کی شہ رگ سے
    نچڑتی ناچتی بوندوں کو پی کر
    جھومتی ھے
    اسے اپنے سوا دنیا کی ہر صورت، ہر اک تصویر
    بے ترتیب لگتی ھے
    مجھے معلوم ھے سب کچھ
    کہ وہ رنگوں بھرے منظر،دھنک کے ذائقے
    اجلی فضا کی خوشبوئیں ،جھلمل شعاعیں
    اپنی بینائی کے حلقوں میں مقید کرکے اپنی مسکراہٹ
    کے دریچھے کھولتی ھے
    کہ وہ اقرار کے لمحوں میں کم کم بولتی ھے
    مجھے معلوم ھے سب کچھ
    مگر معلوم ھی سب کچھ نہیں ھے
    کہ اس معلوم کی سرحد کے اس جانب
    فشارِآگہی کا آسماں ھے
    خود فراموشی خموشی کی سر زمیں ھے
    جہاں ظاہر کی آنکھوں سے ابھی معدوم ھے سب کچھ
    مجھے معلوم ھے سب کچھ
    مگر معلوم ھی سب کچھ نہیں ھے ۔

    ——————————————

    وہ میں نہیں ھوں
    وہ آنکھوں آنکھوں میں بولتی ھے
    تو اپنے لہجے میں
    کچی کلیوں کی نکہتیں
    ادھ کھلے گلابوں کا رس
    خنک رت میں شہد کی موج گھولتی ھے
    وہ زیرِ لب مسکرا رہی ھو
    تو ایسے لگتا ھے
    جیسے شام و سحر گلے مل کے ان سنی لے میں گائیں
    صبا کی زلفیں کھلیں
    ستاروں کے تر سانسوں میں جھنجھنائیں
    وہ ابروؤں کی کماں کے سائے
    چاہتوں سے اٹی ھوئی دھوپ
    راحتوں میں کھلی ھوئی چاندنی
    کے موسم نکھارتی ھے
    وہ دل میں خواہش کی لہر لیتی ضدیں
    خیالوں کی کرچیاں تک اتارتی ھے
    ھوا کی آوارگی کے ھمراہ اپنی زلفیں سنوارتی ھے
    کبھی وہ اپنے بدن پہ اجلی رتوں کا ریشم پہن کے نکلے
    تو کتنے رنگوں کے دائرے
    سلوٹوں کی صورت میں ٹوٹتے ھیں
    وہ لب ہلائے تو پھول جھڑتے ھیں
    اسکی باتیں؟
    کہ جیسے کجِ دیارِ یاقوت سے شعاعوں کے ان گنت
    تار پھوٹتے ھیں
    وہ سر سے پاؤں تلک
    دھنک دھوپ چاندنی ھے
    دھلے دھلے موسموں کی بے ساختہ
    غزل بخت شاعری ھے
    ( میرے ہنر کے سبھی اثاثوں سے قیمتی ھے)
    وہ مجھ میں گھل مل گئی ھے لیکن
    ابھی تلک مجھ سے اجنبی ھے
    کسی ادھوری گھڑی میں
    جب جب وہ بے ارادہ محبتوں کے
    چھپے چھپے بھید کھولتی ھے
    تو دل یہ کہتا ھے
    جس کی خاطر وہ اپنی” سانسیں”
    وفا کی سولی پہ تولتی ھے
    وہ آسماں زاد، کہکشاں بخت، ( کچھ بھی کہہ لو)
    جو اسکی چاہت کا آسرا ھے
    وہ میں نہیں ھوں
    کوئی تو ھے جو میرے سوا ھے
    وہ شہر بھر کے تمام چہروں سے ہٹ کے
    اک اور مہرباں ھے
    جو اسکی خواھش کا آسماں ھے
    ( کسے خبر کون ھے کہاں ھے؟)
    مگر مجھے کیا ؟
    کہ میں زمیں ھوں
    وہ جس کی چاہت میں اپنی سانسیں لٹا رہی ھے
    وہ” میں” نہیں ھوں
    وہ آنکھوں آنکھوں میں بولتی ھے
    ———————————–

    متاعِ شامِ سفر بستیوں میں چھوڑ آئے
    بجھے چراغ ہم اپنے گھروں میں چھوڑ آئے

    ہم اپنی در بدری کے مشاہدے اکثر
    نصیحتوں کی طرح کم سنوں میں چھوڑ آئے

    بچھڑ کے تجھ سے چلے ہم تو اب کے یوں بھی ہوا
    کہ تیری یاد کہیں راستوں میں چھوڑ آئے

    گھرے ہیں لشکر اعدا میں اور سوچتے ہیں
    ہم اپنے تیر تو اپنی صفوں میں چھوڑ آئے

    ہوا ہی دن میں پرندے اڑائے پھرتی ھے
    ہوا ہی پھر سے انہیں گھونسلوں میں چھوڑ آئے

    کسے خبر ھے کہ زخمی غزال کس کے لیے
    نشاں لہو کے گھنے جنگلوں میں چھوڑ آئے

    اڑیں گے کیا وہ پرندے جو اپنے رزق سمیت
    سفر کا شوق بھی ٹوٹے پروں میں چھوڑ آئے

    ہمارے بعد بھی رونق رہے گی مقتل میں
    ہم اہلِ دل کو بڑے حوصلوں میں چھوڑ آئے

    سدا سکھی رہیں چہرے وہ ہم جنہیں ‘محسن‘
    بجھے گھروں کی کھلی کھڑکیوں میں چھوڑ آئے

    ————————————————

    تمھیں کس نے کہا تھا؟

    تمھیں کس نے کہا تھا
    دوپہر کے گرم سورج کی طرف دیکھو
    اور اتنی دیر تک دیکھو
    کہ بینائی پگھل جائے
    تمھیں کس نے کہا تھا؟
    آسماں سے ٹوٹتی اندھی اُلجھتی بجلیوں سے
    دوستی کر لو
    اور اتنی دوستی کرلو
    کہ گھر کا گھر ہی جل جائے
    تمھیں کس نے کہا تھا؟
    ————————

    تن پہ اوڑھے ہوئے صدیوں کا دھواں شامِ فراق
    دل میں اتری ہے عجب سوختہ جاں شامِ فراق

    خواب کی راکھ سمیٹے گی بکھر جائے گی
    صورتِ شعلئہ خورشید رخاں شامِ فراق

    باعثِ رونقِ اربابِ جنوں ویرانی
    حاصلِ وحشتِ آشفتہ سراں شامِ فراق

    تیرے میرے سبھی اقرار وہیں بکھرے تھے
    سر جھکائے ہوئے بیٹھی ہے جہاں شامِ فراق

    اپنے ماتھے پہ سجا لے ترے رخسار کا چاند
    اتنی خوش بخت و فلک ناز کہاں شامِ فراق

    ڈھلتے ڈھلتے بھی ستاروں کا لہو مانگتی ہے
    میری بجھتی ہوئی آنکھوں میں رواں شامِ فراق

    اب تو ملبوس بدل، کاکلِ بے ربط سنوار
    بجھ گئی شہر کی سب روشنیاں شامِ فراق

    کتنی صدیوں کی تھکن اس نے سمیٹی محسن
    یہ الگ بات کہ پھر بھی ہے جواں شامِ فراق
    ——————————–

    ہوا اُس سے کہنا

    ہوا اُس سے کہنا
    ہوا!
    صُبحدم اس کی آہستہ آہستہ کُھلتی ہوئی آنکھ سے
    خواب کی سیپیاں چُننے جائے تو کہنا
    کہ ہم جاگتے ہیں!

    ہوا اس سے کہنا
    کہ جو ہجر کی آگ پیتی رُتوں کی طنابیں
    رگوں سے اُلجھتی ہوئی سانسوں کے ساتھ کس دیں
    اُنہیں رات کے سُرمئی ہاتھ خیرات میں نیند کب دے سکے ہیں؟
    ہوا اس کے بازو پہ لکھا ہوا کوئی تعویذ باندھے تو کہنا
    کہ آوارگی اوڑھ کر سانس لیتے مسافر
    تجھے کھوجتے کھوجتے تھک گئے ہیں،

    ہوا اس سے کہنا
    کہ ہم نے تجھے کھوجنے کی سبھی خواہشوں کو
    اُداسی کی دیوار میں چن دیا ہے
    ہوا اس سے کہنا
    کہ وحشی درندوں کی بستی کو جاتے ہوئے راستوں پر
    ترے نقشِ پا —– دیکھ کر
    ہم نے دل میں ترے نام کے ہر طرف
    اک سیہ ماتمی حاشیہ بُن دیا ہے
    ہوا اس سے کہنا
    ہوا کچھ نہ کہنا۔۔۔۔۔!
    ہوا کچھ نہ کہنا—-!!!

    ———————————-

    کوئی نئی چوٹ پھر سے کھاؤ اداس لوگو !
    کہا تھا کس نے کہ مسکراؤ اداس لوگو!

    گزر رہی ہیں گلی سے پھر ماتمہ ہوائیں
    کواڑ کھولو ، دئیے بجھاؤ ، اداس لوگو!

    جو رات مقتل میں بال کھولے اتر رہی تھی
    وہ رات کیسی رہی ، سناؤ اداس لوگو!

    کہاں تلک بام و در چراغاں کیے رکھو گے؟
    بچھڑنے والوں کو بھول جاؤ اداس لوگو!

    اجاڑ جنگل ، ڈری فضا، ہانپتی ہوائیں
    یہیں کہیں بستیاں بساؤ اداس لوگو!

    یہ کس نے سہمی ہوئی فضا میں ہمیں پکارا؟
    یہ کس نے آواز دی کہ آؤ اداس لوگو!

    یہ جاں گنوانے کی رت یونہی رائیگاں نہ جائے
    سرِ سناں کوئی سر سجاؤ اداس لوگو!

    اسی کی باتوں سے ہی طبیعت سنبھل سکے گی
    کہیں سے محسن کو ڈھونڈ لاؤ اداس لوگو!

    ——————————————–

    اب اے میرے احساسِ جنوں کیا مجھے دینا؟
    دریااُسے بخشا ہہے تو صحرامجھے دینا

    تُم اپنا مکاں جب کرو تقسیم تو یارو
    گِرتی ہوی دیوار کا سایہ مجھے دینا

    جب وقت کی مُرجھائ ہوئ شاخ سنبھالو ‘
    اس شاخ سے ٹوٹا ہو لمحہ مجھے دینا

    تُم میرا بدن اُوڑھ کے پھرتے رہو لیکن
    ممکن ہو تو اِک دن میرا چہرہ مجھے دینا

    چُھو جائے ہوا جس سے تو خُو شبو تیری آئ
    جاتے ہوئے اِک زخم تو ایسا مجھے دینا

    شب بھر کی مسافت ہے گواہی کی طلبگار
    اے صبحِ سفر اپنا ستارہ مجھے دینا

    اِک درد کا میلہ کہ لگا ہے دل و جاں میں
    اِک رُوح کی آواز کہ” رستہ مجھے دینا”

    اِک تازہ غزل اِذنِ سخن مانگ رہی ہے
    تُم اپنا مہکتاہوا لہجہ مجھے دینا

    وہ مجھ سے کہیں بڑھ کے مُصیبت میں تھا مُحسن
    رہ رہ کے مگر اُاس کا دلاسہ مجھے دینا

    ———————————————–

    اَشک اپناکہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا
    اَبر کی زَد میں ستارہ نہیں دیکھا جاتا

    اپنی شہ رَگ کا لہو تَن میں رَواں ہے جب تک
    زیرِ خنجر کوئ پیارا نہیں دیکھا جاتا

    تیرے چہرے کی کشش تھی کہ پلٹ کر دیکھا
    ورنہ سورج تو دوبارہ نہیں دیکھا جاتا

    آگ کی ضِد پہ نہ جا پھر سے بھڑک سکتی ہے
    راکھ کی تہہ میں شرارہ نہیں دیکھا جاتا

    زخم آنکھوں کے بھی سہتے تھے کبھی دل والے
    اب تو اَبرو کا اشارہ نہیں دیکھا جاتا

    کیاقیامت ہے کہ دل جس کا نگر ہے محسن
    دل پہ اس کا بھی اجارہ نہیں دیکھا جاتا

    ——————————————-

    آہٹ سی ہوئی تھی نہ کوئی برگ ہلا تھا
    میں خود ہی سرِ منزلِ شب چیخ پڑا تھا

    لمحوں کی فصیلیں بھی مرے گرد کھڑی تھیں
    میں پھر بھی تجھے شہر میں آوارہ لگا تھا

    تو نے جو پکارا ہے تو بول اٹھا ہوں ، ورنہ
    میں فکر کی دہلیز پہ چپ چاپ کھڑا تھا

    اب اس کے سوا یاد نہیں جشنِ ملاقات
    اک ماتمی جگنو مری پلکوں پہ سجا تھا

    یا بارشِ سنگ اب کے مسلسل نہ ہوئی تھی
    یا پھر میں ترے شہر رہ بھول گیا تھا

    اک جلوہء محجوب سے روشن تھا مرا ذہن
    وجدان یہ کہتا ہے وہی میرا خدا تھا

    ویراں نہ ہو اس درجہ کوئی موسم گل بھی
    کہتے ہیں کسی شاخ پہ اک پھول کھلا تھا

    اک تو کہ گرایزاں ہی رہا مجھ سے بہر طور
    اک میں ترے نقشِ قدم چوم رہا تھا

    دیکھا نہ کسی نے بھی مری سمت پلٹ کر
    محسن میں بکھرتے ہوئے شیشوں کی صدا تھا

    ——————————————–

    تری آنکھ کو آزمانا پڑا
    مجھے قصہء غم سنانا پڑا

    غمِ زندگی تیری خاطر ہمیں
    سرِ دار بھی مسکرانا پڑا

    حوادث کی شب اتنی تاریک تھی
    جوانی کو ساغر اٹھانا پڑا

    مرے دشمنِ جاں، ترے واسطے
    کئی دوستوں کو بھلانا پڑا

    زمانے کی رفتار کو دیکھ کر
    قیامت پہ ایمان لانا پڑا

    جنہیں دیکھنا بھی نہ چاہے نظر
    انہیں سے تعلق بڑھانا پڑا

    کئی سانپ تھے قیمتی اس قدر
    انہیں آستیں میں چھپانا پڑا

    ہواؤں کے تیور جو برہم ہوئے
    چراغون کو خود جھلملانا پڑا

    ———————————

    اُس سمت نہ جانا جان مری!

    اُس سمت نہ جانا جان مری!
    اُس سمت کی ساری روشنیاں
    آنکھوں کو بجھا کر جلتی ہیں
    اُس سمت کی اجلی مٹی میں
    ناگن آشائیں پلتی ہیں!
    اُس سمت کی صبحیں شام تلک
    ہونٹوں سے زہر اگلتی ہیں!

    اُس سمت نہ جانا جان مری

    اُس سمت کے آنگن قاتل ہیں
    اُس سمت کی دہکتی گلیوں میں
    زہریلی باس کا جادو ہے
    اُس سمت مہکتی کلیوں میں
    کافور کی قاتل خوشبو ہے
    اُس سمت کی ہر دہلیز تلے
    شمشان ہے جلتے جسموں کا
    اُس سمت فضا پر سایہ ہے
    بے معنی مبہم اسموں کا!

    اُس سمت نہ جانا جان مری!

    اُس سمت کی ساری پھلجھڑیاں
    بارود کی تال میں ڈھلتی ہیں
    اُس سمت کے پتھر رستوں میں
    منہ زور ہوائیں چلتی ہیبں
    اُس سمت کی ساری روشنیاں
    آنکھوں کو بجھا کر جلتی ہیں

    اُس سمت کے وہموں میں گِھر کر

    کھو بیٹھو کی پہچان مری!
    اُس سمت نہ جانا جان مری!

    —————————–

    بجز ہوا کوئی جانے نہ سلسلے تیرے!
    میں اجنبی ہوں، کروں کس سے تذکرے تیرے؟

    یہ کیسا قرب کا موسم ہے اے نگارِ چمن!
    ہوامیں رنگ نہ خوشبو میں ذائقے تیرے

    میں ٹھیک سے تیری چاہت تجھے جتا نہ سکا
    کہ میری راہ میں حائل تھے مسئلے تیرے

    کہاں سے لاؤں میں ترا عکس آنکھوں میں
    یہ لوگ دیکھنے آتے ہیں آئینے تیرے

    گلوں کو زخم، ستاروں کو اپنے اشک کہوں
    سناؤں خود کو ترے بعد تبصرے تیرے

    یہ درد کم تو نہیں ہےکہ تو ہمیں نہ ملا
    یہ اور بات کہ ہم بھی نہ ہو سکے تیرے

    جدائیوں کا تصور رلا گیا تجھ کو!
    چراغ شام سے پہلے ہی بجھ گئےے تیرے

    ہزار نیند جلاؤں ترے بغیر مگر
    میں خواب میں بھی نہ دیکھوں وہ رتجگے تیرے

    ہوائے موسمِ گل کی ہیں لوریاں ، جیسے
    بکھر گئے ہوں فضاؤں میں قہقہے تیرے

    کسے خبر کہ ہمیں اب بھی یاد ہیں محسن
    وہ کروٹیں شبِ غم کی وہ حوصلے تیرے

    —————————————–

    وہ دے رہا ہے “دلاسے” تو عمر بھر کے مجھے
    بچھڑ نہ جائے کہیں پھر اداس کر کے مجھے

    جہاں نہ تو نہ تیری یاد کے قدم ہوں گے
    ڈرا رہے ہیں وہی مرحلے سفر کے مجھے

    ہوائے دشت مجھے اب تو اجنبی نہ سمجھ!
    کہ اب تو بھول گئے راستے بھی گھر کے مجھے

    یہ چند اشک بھی تیرے ہیں شامِ غم لیکن
    اجالنے ہیں ابھی خال و خد سحر کے مجھے

    دلِ تباہ ترے غم کو ٹالنے کیلیے!
    سنا رہا ہے فسانے اِدھر اُدھر کے مجھے

    قبائے زخم بدن پر سجا کے نکلا ہوں
    وہ اب ملا بھی تو دیکھے گا آنکھ بھر کر مجھے

    کچھ اس لیے بھی میں اس سے بچھڑ گیا محسن
    وہ دور دور سے دیکھے ٹھہر ٹھہر کے مجھے

    ———————————-

    یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے
    ڈریں ہوا سے پرندے کھلے پروں والے

    یہ میرے دل کی ہوس دشتِ بیکراں جیسی
    وہ تیری آنکھ کے تیور سمندروں والے

    ہوا کے ہاتھ میں کاسے ہیں زرد پتوں کے
    کہاں گئے وہ سخی سبز چادروں والے؟

    کہاں ملیں گے وہ اگلے دنوں کے شہزادے؟
    پہن کے تن پہ لبادے گداگروں والے

    -پہاڑیوں میں گھرے یہ بجھے بجھے رستے
    کبھی ادھر سے گزرتے تھے لشکروں والے

    اُنہی پہ ہو کبھی نازل عذاب، آگ، اجل
    وہی نگر کبھی ٹھہریں پیمبروں والے

    ترے سُپرد کروں آئینے مقدر کے
    ادھر تو آ مرے خوش رنگ پتھروں والے

    کسی کو دیکھ کے چپ چپ سے کیوں ہوئے محسن
    کہاں گئے وہ ارادے سخنوروں والے؟

    ———————————–

    وہی قصے ہیں وہی بات پرانی اپنی
    کون سنتا ہے بھلا رام کہانی اپنی

    ہر ستمگر کو یہ ہمدرد سمجھ لیتی ہے
    کتنی خوش فہم ہے کمبخت جوانی اپنی

    روز ملتے ہیں دریچے میں نئے پھول کھلے
    چھوڑ جاتا ہے کوئی روز نشانی اپنی

    تجھ سے بچھڑے ہیں تو پایا ہے بیاباں کا سکوت!
    ورنہ دریاؤں سے ملتی تھی روانی اپنی!

    قحطِ پندار کا موسم ہے سنہرے لوگو!
    کچھ تیز کرو اب کے گرانی اپنی

    دشمنوں سے ہی اب غمِ دل کا مداوا مانگیں
    دوستوں نے تو کوئی بات نہ مانی اپنی

    آج پھر چاند افق پر نہیں ابھرا محسن
    آج پھر رات نہ گزرے گی سہانی اپنی

    ————————

    روٹھا تو شہر خواب کو غارت بھی کر گیا
    پھر مسکرا کے تازہ شرارت بھی کر گیا

    شاید اسے عزیز تھیں آنکھیں میری بہت
    وہ میرے نام اپنی بصارت بھی کر گیا

    منھ زور آندھیوں کی ہتھیلی پہ اک چراغ
    پیدا میرے لہو میں حرارت بھی کر گیا

    بوسیدہ بادبان کا ٹکڑا ہوا کے ساتھ
    طوفاں میں کشتیوں کی سفارش بھی کر گیا

    دل کا نگر اجاڑنے والا ہنر شناس
    تعمیر حوصلوں کی عمارت بھی کر گیا

    سب اہل شہر جس پہ اٹھاتے تھی انگلیاں
    وہ شہر بھر کو وجہ زیارت بھی کر گیا

    محسن یہ دل کہ اس بچھڑتا نہ تھا کبھی
    آج اس کو بھولنے کی جسارت بھی کر گیا

    ——————————

    کس نے سنگِ خامشی پھینکا بھرے بازار پر
    اک سکوتِ مرگ جاری ہے در و دیوار پر

    تو نے اپنی زلف کے سائے میں افسانے کہے
    مجھ کو زنجیریں ملی ہیں جراتِ اظہار پر

    شاخِ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے
    جس طرح تازہ لہو چمکے نئ تلوار پر

    سنگ دل احباب کے دامن میں رسوائی کے پھول
    میں نے دیکھا ہے نیا منظر فرازِ دار پر

    اب کوئی تہمت بھی وجہِ کربِ رسوائی نہیں
    زندگی اک عمر سے چپ ہے ترے اصرار پر

    میں سرِ مقتل حدیثِ زندگی کہتا رہا
    انگلیاں اٹھتی رہیں محسن مرے کردار پر

    —————————

    فن میں یہ معجزہ بھی پیدا کر
    پتھروں سے بشر تراشا کر

    کب سے اپنی تلاش میں گم ہوں
    اے خدا مجھ کو مجھ پر افشا کر

    جس پہ اب انگلیاں اٹھاتا ہوں
    اس کو مانگا تھا ہاتھ پھیلا کر

    اے بچھڑ کر نہ لوٹنے والے!
    دکھ کی راتوں میں یاد آیا کر

    جل چکا شہر ، مر چکے باسی!
    اب بجھی راکھ ہی کریدا کر

    عمر بھر مجھ پہ برف برسی ہے
    دشت کی دھوپ مجھ پہ سایہ کر

    ایک تنہا شجر نے مجھ سے کہا!
    میرے سائے میں روز بیٹھا کر

    تو کہ معجز نما ہے نام ترا
    میں کہ ذرہ ہوں مجھ کو صحرا کر

    اے مرے کچھ نہ سوچنے والے
    اپنے بارے میں کچھ تو سوچا کر

    میں عزادار ہوں اندھیروں کا
    تو سحر ہے تو مجھ سے پردہ کر

    اے سمندر کے ابرِ آوارہ !
    دشت میں ایک پل تو ٹھہرا کر

    کون بانٹے گا دکھ ترے محسن؟
    دوستوں سے بھی چھپ کے رویا کر

    —————————-

  34. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 27, 2010 بوقت 11:46 pm

    ظفر قابل صاحب اس بلاگ میں اب تک شریک نہ ہوسکے تو اسکی وجہ ضرور سیلاب کی مصیبت ہی ہوگی ۔
    یہ بلاگ ظفر قابل صاحب کےتعاون کی امید پر شروع کیا گیا تھا مگر میرے خیال میں وہ سیلاب کی بلا ئے ناگہانی کی وجہ سے اس بلاگ پر توجہ نہ دے سکے۔
    انکی بجائے جناب زوار قمر عابدی صاحب نے اس بلاگ کو آگے بڑھایا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ بلاگ کب کا ختم ہوچکا ہوتا ۔

    اگر ظفر قابل صاحب موجودہ سیلاب کی تباہیوں سے بچنے کی کوشش کررہے اور سیلاب زدگان کی مدد کررہے ہیں تو ہماری دلی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔
    اللہ انہیں اور تمام پاکستانیوں کو اس سیلاب کی مصیبت سے جلد از جلد نجات دلائے۔ آمین

  35. منظور قاضی نے کہا ہے:
    September 14, 2010 بوقت 10:28 pm

    اس بلاگ کو شروع کرتے وقت جناب ظفر قابل صاحب نے اپنے بھرپور تعاون کی امید دلائی تھی مگر وہ شائد سیلاب کی پریشانیوں کے باعث اس میں اب تک حصہ نہ لے سکے۔
    ہم سب کی دعائیں ظفر قابل صاحب کےساتھ ہیں ۔

    اس بلاگ کو زندہ رکھنے کا کام زورا قمر عابدی صاحب نے محسن نقوی مرحوم کے کلام کو عطا کرکے بڑی ہی خوش اسلوبی سے انجام دیا ۔ جزاک اللہ

    اب دیکھنا یہ ہے کہ سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا 17 ا گست کا وعدہ ( جو اس بلاگ میں موجود ہے ) اس بلاگ کو نئی زندگی بخشتا ہے یا نہیں :

    “ قبلہ قاضی صاحب سلام مسنون۔
    میں خود محسن شہید پر بلاگ بھی لکھنا چاہتا تھا اوراب بھی ان زندگی و شاعری پر کچھ لکھوں گا۔ تاہم میں اس کام کو رمضان المبارک کے بعد تک مؤخر رکھ رہا ہوں تا کہ ان دنوں زیادہ تر توجہ ہم لوگ احادیث، نعات اور آیات و ادعیہ کے ذکر میں گزار سکیں۔ محسن شہید کے ساتھ ہمارا خانگی تعلق بھی تھا اور اب ان کے بیٹے جناب عقیل عباس المعروف عقیل محسن کے ساتھ بھی ہے۔برادر بزرگ ما جناب نجم سبطین حسنی، اور محسن کی قربت انکے جاننے والے جانتے ہیں۔ سو اس حوالے سے چند یادیں ضرور رقم کروں گا، کچھ عقیل کی زبانی حاصل کروں گا، کچھ محسن کے رفقاء اور کچھ اپنے مصادر کی بنیاد پر۔۔۔ اسی طرح آغا جانی بھی محسن کے قریبی دوست تھے اور یقینا ہم انکی یادوں سے بھی مستفید ہونگے، تاہم اگر اس بلاگ میں ممکن نہ بھی ہوا تو بھی انشاء اللہ بعد رمضان یہ سب ضرور پیش کریں گے۔ امید ہے کہ آپ اس تساہل کو معاف فرما دیں گے۔“

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگر سید مصباح حسین جیلانی صاحب اس بلاگ کو پھر سے بلاگوں کی صف اول میں جگہ دے کر اپنا مندرجہ بالا وعدہ پورا کریں تو انکی مرضی ۔
    اور اگر وہ چاہیں تو اس بلاگ کی بجائے ایک نیا بلاگ صرف اور صرف محسن نقوی مرحوم کے نام پر شروع کریں تو بھی انکی مرضی ۔

    میری تو یہی خواہش ہے کہ محسن نقوی مرحوم سے متعلق یہ بلاگ آگے بڑھتا رہے اور محسن نقوی مرحوم کے شیدائی اس عظیم شاعر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے رہیں۔

    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  36. پروفیسر ڈاکٹر سیّد مجیب ظفر انوار حمیدی نے کہا ہے:
    November 8, 2013 بوقت 8:50 am

    مشہور داستاں ہے شہادت حسینؑ کی
    مشہور داستاں ہے محبت حسینؑ کی
    ہوتی ہے جس مقام پہ مَدحت حسین کی
    رَحمت خدا ک ہوتی ہے شفقت حسین کی
    کون و مکاں میں کیوں نہ ہو شُہرت حسین کی
    مقبول دو جہاں ہے شہادت حسینؑ کی
    شہرت حسین کی ، شہادت حسین کی

    یہ ذِکر دوستو ہے مدینے کے پھول کا
    وہ پھول جس پہ حُسن تھا باغِ بتول ؓ کا
    ڈنکا جہاں میں بجتا ہے جس کے اصول کا
    وہ لاڈلا علی ؑ کا ، نواسا رسول ؐ کا
    قربان ہوگیا ہے شہادت کے نام پر
    سر کو کٹا گیا ہے محمدؐ کے نام پر
    مشہور داستاں ہے محبت حسینؑ کی
    مقبول دو جہاں ہے شہادت حسینؑ کی
    (پروفیسر ڈاکٹر مجیب ظفر انوار حمیدی )
    ایجوکیشن ایڈوائزر : حکومتِ پاکستان (اسلام آباد) ۱۹۸۱

  37. zainib shah نے کہا ہے:
    January 23, 2014 بوقت 2:52 am

    ابھی کیا کہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی کیا سنیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
    کہ سر ِ فصیل ِ سکوت ِ جاں
    کف ِ روز و شب پہ شرر نما
    وہ جو حرف حرف چراغ تھا
    اسے کس ہوا نے بجھا دیا ؟
    کبھی لب ہلیں گے تو پوچھنا!
    سر ِ شہر ِ عہد ِ وصال ِ دل
    وہ جو نکہتوں کا ہجوم تھا
    اسے دست ِ موج ِ فراق نے
    تہہ ِ خاک کب سے ملا دیا ؟
    کبھی گل کھلیں گے تو پوچھنا!

    ابی کیا کہیں ۔۔۔ ابھی کیا سنیں؟
    یونہی خواہشوں کے فشار میں
    کبھی بے سبب ۔۔۔ کبھی بے خلل
    کہاں، کون کس سے بچھڑ گیا ؟
    کسے، کس نے کیسے بھلا دیا ؟

    کبھی پھر ملیں گے تو پوچھنا۔۔!
    hamen is muhsin naqvi ki poetry k bary mein janana tha k is k pehly qaata mein muhsin naqvi ne farmaya hai k wo jo herf herf charag tha is mein kis k bary mein bat ki gai hai.is kalam k peechy asal muharikaat kya thy.muhsin ka ye kalam sub kalamon sy judda hai aisa lagta hai k is kalam k peechy kuch wojohat hain kisi khas waqaye ya shahs ki bat ki gai hai.kya ap memebers mein sy koi un wojohat pr rooshni daal sakta hai

  38. منظور قاضی : از جرمنی نے کہا ہے:
    January 25, 2014 بوقت 9:10 pm

    محترمہ زینب شاہ صاحبہ کا شکریہ کے انہوں نے میرے اس کئی سال قبل کے بلاگ میں محسن نقوی شہید کی ایک بہت ہی پر اثر نظم کو شایع کیا اور قارئین سے اس نظم کے چند اہم نکات پر روشنی ڈالنے کی درخواست کیِ ۔
    مجھے امید ہے کہ تمام قارئین محترمہ زینب شاہ صاحبہ کی باتوں پر اپنے اپنے انداز میں تذکرے عطا کرینگے ۔
    فی الوقت مجھے محسن نقوی کی اس نظم نے میری شریک۔ حیات مرحومہ کی قبل از وقت وفات کی یاد دلا کر مجھے مزید غمگین کردیا۔
    اللہ حافظ
    منظور قاضی
    از میونخ جرمنی

جواب لکھیں




مضامین (آر ایس ایس) اور تبصرے (آر ایس ایس).
 عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل: رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں