آپ سب کو پاکستان کا 65 واں جشن آزادی بہت بہت مبارک ہو

small_pak flag کل محترم المقام استاد محترم جناب صفدر ہمدانی کا خط ملا ۔۔انہوں نے یاد دہانی کرواتے ہوئے حیرانگی سے پوچھا تھا کہ این این اس بار روزوں میں کہیں جشن آزادی کی تیاریاں بھول تو نہیں گئی ہو ۔۔ ارے بابا جی آپ بھی نہ ۔۔ بھلا ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔ بس کیا کہوں کچھ نئی نوکری اور کچھ افطار سحر ۔۔پھر جب آج میں اپنے پیارے وطن کی جشن آزادی کاپروگرام اخبار کےلئے ترتیب دے رہی تھی تو مجھے بھائی شعیب تنولی کا لکھا ہوامضمون ملا جو انہوں نے مجھے بھیجا تھا ملا ۔۔مضمون کا عنوان تھا “ پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔ ؟؟ اور یوں لگا جیسے یہی میرے دل میں تھا ۔ شعیب کا لکھا ہوا میرے لئے کوئی نیا نہیں ہے ۔ ان کے مضامین ایک عرصے سے پڑھ رہی ہوں ۔۔ ہر دفعہ کسی پرانی سوچ کو نئے رنگ میں لکھتے ہیں اور ایسا لکھتے ہیں کہ اسی بات کی ایک نئی جہت سے آگاہی ہو جاتی ہے ۔۔ اور یہی لکھنے والے کا کمال ہوتا ہے ۔۔ بھولے ہوئے سبق یاد کروانا اور یاد رکھنے کے گر بھی بتانا ۔۔۔ شعیب ہماری بلگ فیملی میں پہلی بار شریک ہو رہے ہیں ۔۔ یہ رمضان کے ماہ مبارک کا اعجاز ہے کہ ہمارے کاروان میں اہل علم شامل ہو رہے ہیں ۔۔۔

شعیب تنولی نے اپنے مضمون میں لکھا ہے

یہ میرا پاکستان ہے’ اس کی چھاتی پر رواں دواں دریا’ اس کی آغوش سے پھوٹتی رحمتوں کے سلسلے’ اس کے آنگن میں رقص کرتی ندیاں’ اس کے پہاڑوں میں اچھلتے کودتے چشمے’ اس کے میدانوں میں شاداں و فرہاں پری رو درخت’ زیبا بدن سبزے’ نورنگ پھول’ پھیلتی سمٹتی روشنیاں’ رشک مرجاں شبنمی قطرے’ لہلہاتی فصلیں’ مسکراتے چمن’ جہاں تاب بہاریں اور گل پرور موسم اس کی عظمت کے گیت گا رہے ہیں۔

اس کے پنجابوں پر جھکے جھکے آفاق’ اس کی سرحدوںِپر پھیلی پھیلی فضائیں’ اس کے بام و تخت کے بوسہ لیتے آسمان اس کے حسن تقدیر کے نقوش بن کر ابھر رہے ہیں۔ یہ میرا ملک بھی ہے’ یہ میری تقدیر بھی ہے۔یہ میری داستان بھی ہے’ یہ میرا ارماں بھی ہے۔ یہ میری مچلتی آرزو بھی ہے’ یہ میری آرزوؤں کا آستاں بھی ہے’ میرے خون کے قطروں میں لکھت میں وہ عزم و حوصلہ نہیں جو اس کے آبی قطروں میں ہے۔

میرے دیدہ وچشم کی جھیلوں میں وہ جمال نہیں جو رومان و حسن اس کے جوہڑوں اور تالابوں میں ہے۔ میرے وجود کی مٹی میں وہ دلکشی نہیں جو جاذب نظر اور دلفریبی اس کی خاک میں ہے۔ یہ پھولوں کی دھرتی ہے۔ یہ خوشبوؤں کا مسکن ہے۔ یہ نظاروں کا دیس ہے۔ یہ رحمتوں کی جولانگاہ ہے۔ یہ روشنیوں کا کشور ہے۔ یہ اجالوں کا مصدر ہے۔ اس پر نثار میرے دل وجاں۔

اس پر تصدق میری جز ہائے بدن۔ یہ محض میرا ملک نہیں میرا ایماں بھی ہے’ میری جاں بھی ہے’ اس کے دکھ مجھے دکھ دیتے ہیں’ اس کے سینے سے اٹھنے والے مسائل کے ہوکے میرے دل میں چھبنے والی سوئیاں ثابت ہوتے ہیں۔ اس کی طرف کوئی ٹیڑھی نظر سے دیکھے تو گویا وہ آنکھ نہیں’ میرے جسم میں پیوست ہونے والا تیر ہوتا ہے۔

ساتھیو آپ سب کو عالمی اخبار کی طرف سے اپنے وطن پاکستان کی آزادی کی سالگرہ بہت بہت مبارک ہو ۔۔۔ آئیے اپنی آزادی کا جشن مناتے ہیں ۔۔

117 Responses to “آپ سب کو پاکستان کا 65 واں جشن آزادی بہت بہت مبارک ہو”

  1. شاھین حیدر رضوی says:

    66 سال قبل 14 اگست 1947 بروز جمعتہ المبارک رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک الگ آزاد ملک کے طور پہ نمودار ہوا۔ اور اس وقت بعضوں یہ کہنا تھا کہ پاکستان زیادہ دن قائم نہیں رہ سکے گا کیونکہ اس وقت پاکستان کےلئے اس قدر مسائل پیدا کردئیے گئے تھے کہ بظاہر لگتا تھا کہ پاکستان ان مسائل کا بوجھ برداشت نہیں کرپائے گا اور اپنا وجود کھودے گا۔ لیکن آج الحمدللہ ہم پاکستان کا 66 واں یومِ آزادی منارہے ہیں اور یہ اس خیال کے حامی لوگوں کے منہ پہ ایک طمانچہ ہے جن کا ماننا تھا کہ پاکستان زیادہ دیر نہیں چل سکے گا۔

    میری اللہ تعالی سے التجا ہے کہ وہ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔اور پاکستان میں پھیلی ہوئی بدامنی، بے سکونی کو ختم کرے اور پاکستان کے تمام مسائل کو اپنی رحمت سے ختم کردے۔ آمین

    خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
    وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

  2. شاھین حیدر رضوی says:

    پیارے پاکستانی ساتھیوں آیئۓ ھم مل کر عہد کریں کہ اس بار 14 اگست 2012 کو جو رمضان کی بہت مبارک گھڑی میں آرھا ھے

    اللہ کے حضور بار بار کثرت سے استغفار کرینگے کہ ہم نے اس ملک کا حق ادا نہیں کیا۔ ملک سنوارنے کی جو کوشش ہم کر سکتے تھے، اور ہمیں کرنی چاہئے تھی، وہ ہم نے نہیں کی۔
    اس کے بعد اللہ کی رحیم و کریم ذات کا شکریہ بھی بار بار کثرت کے ساتھ ادا کریں، کہ ہماری تمام تر عدم توجہ، بلکہ مجرمانہ غفلت کے باوجود یہ ملک باقی ہے۔ دشمن اس کو ہم سے چھیننے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ تو یہ محض اللہ ہی کا فضل و کرم ہے۔
    اس کے بعد کھل کر سچے دل سے اظہار اور اعلان کریں کہ ہمیں اس ملک سے سچی اور دلی محبت ہے، اس کو ہم اپنا گھر سمجھتے ہیں ، جس طرح ہر شخص اپنے گھر سے محبت کرتا ہے، اس کی دیکھ بھال کرتا ہے اور اس کو بناتا اور سنوارتا ہے، بلکل اسی طرح ہم مل کر پورے پاکستان کو اپنے گھر کی طرح اپنا سمجھ کر بنائیں گے اور سنواریں گے۔
    اللہ کا نام اپنے شب و روز مین اتنی کثرت سے لینا ہے، اتنی کثرت سے لینا ہے کہ ہر نام پر ، ہر بات پر، ہر چیز پر یہ ہی نام غالب آ جائے۔ اور اللہ سے سب کچھ ہونے کا یقین، اور اللہ کے حکم اور مرضی کے بغیر، اس کی مخلوق سے کچھ نہ ہونے کا یقین ہماری زندگیوں میں آ جائے۔ جب یہ یقین ہمارے اندر آ جائے گا تو پھر ان شاءاللہ ہمیں کچھ کرنے کے لئے اپنے بد دین حکمرانوں کی طرف دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔ بلکہ ہم خود بھی اپنے ملک کے لئے کچھ کر گزرنے کی کوشش کریں گے۔
    اس ستائیسویں شب کو ہم یہ عہد بھی کریں کہ روزانہ تلاوت قرآن کی پابندی کریں گے اور پھر عید کے بعد بھی اس کو اپنا معمول بنائیں گے اور پھر کبھی بھی اس کا ناغہ نہیں ہونے دیں گے۔ کیونکہ اللہ پاک نے ہم پر احسان فرمایا ہے کہ ہمیں قرآن جیسی عظیم کتاب کا وارث بنا دیا ہے۔
    پاکستان ہمارے پاس ایک امانت ہے۔ یہ ہمارے پاس اُن شہدا کی امانت ہے جنہوں نے اس پیارے وطن کی بنیادیں اپنے گرم لہو سے اٹھائیں۔ یہ ایک نعمت ہے، یہ ایک عطیہ ہے۔ یہ ہم پر اللہ سوہنے کا ایسا احسان ہے جس سے فیضیابی کے لئے ہمیں اپنے آپ کو پورے خلوص اور عزم صمیم کے ساتھ تیار کرنا ہوگا۔ اس مبارک رات کو ہم اس بات کا عہد بھی کریں کہ ان شاءاللہ ہم تکمیل پاکستان کے لئے وہی قربانیاں دیں گے ، جس کا نظارہ چشم فلک نے تشکیل پاکستان کے وقت دیکھا تھا۔
    اللہ سے جتنا اس ملک کے لئے مانگ سکتے ہو مانگو، اس ماہ مغفرت میں اور پھر خصوصاً شب قدر جیسی مبارک رات میں اللہ سے ایک نیا پاکستان مانگنا چاہئے، نئی جدوجہد آزادی کو سنگ میل بنالینا چاہئے، امریکا سے آزادی، اس کے غلاموں، بہی خواہوں، ڈالر خوروں، ملک فروش حواریوں سے آزادی، ملک و ملت لوٹ کر کھا جانے والوں سے آزادی مانگنی چاہئیے، راتوں کواٹھ اٹھ کر، اللہ سے با ایمان پاکستان مانگنا چاہئے۔
    گوگل سرچ

  3. شاھین حیدر رضوی says:

    پاکستان کے قیام کا اعلان شب قدر یعنی 27 رمضان المبارک کی رات کو ہوا۔ عیسوی کیلنڈر کے مطابق یہ رات 14 اگست 1947ء کی رات تھی۔ اگلا روز رمضان المبارک کا آخری جمعہ یعنی جمعة الوداع تھا۔ مسلمانان برصغیر پاک و ہند نے اس وقت سے لے کر آج تک ان عظیم و متبرک لمحات میں قیام پاکستان کے اعلان کو نعمت الہی جانا اور یوں اس ریاست کی معنوی عظمت و رفعت کے قائل ہوئے۔

    تحریک پاکستان کی تاریخ اس امر پر گواہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے ہندو سماج سے اپنے جداگانہ تشخص کی بنیاد پر ایک الگ ریاست کا تقاضا کیا۔ پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔ لا الہ الا اللہ کا نعرہ اسی عوامی امنگ کا ترجمان ہے۔ تحریک پاکستان کے دوران مسلم قیادت نے اسی بات پر زور دیا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ قومیں ہیں، جن کا مذہب، بود و باش، اقدار، روایات، روزمرہ کے امور حتی کہ ملنے جلنے کے طریقے ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ قائداعظم کا یہ فرمان کہ ہم ایک ایسی ریاست کا قیام چاہتے ہیں جہاں مسلمان آزادی کے ساتھ اپنے دین پر عمل کر سکیں، بھی اسی نظریئے کی ترجمانی کرتا ہے۔

    قمری لحاظ سے ہمارا یوم آزادی 27 رمضان کو بنتا تھا، تاہم قیام پاکستان کے بعد تشکیل پانے والی سرکاری مشینری نے 27رمضان المبارک کے بجائے 14 اگست کو یوم آزادی کے طور پرمنتخب کیا۔ یہ انتخاب فقط یوم آزادی سے ہی مخصوص نہیں، عیسوی کیلنڈر کو بطور کل قمری کیلنڈر پر ترجیح دی گئی۔ عیسوی کیلنڈر جو کہ ایک عیسائی پوپ گریگوری کے نام سے منسوب ہے، کو برطانیہ اور اس کی کالونیوں میں 1752ء میں رائج کیا گیا۔

    برطانوی سامراج کے جانے کے باوجود پاکستان میں اس کیلنڈر کو بدستور رائج رکھا گیا، جس کی وجہ کچھ بھی ہو، اس وقت یہ میرا موضوع بحث نہیں۔ بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ کسی بھی کیلنڈر کے انتخاب سے کوئی فرق نہیں پڑتا، تاہم میری نظر میں نظام تقویم کا انتخاب قوموں کے اجتماعی تشخص پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر اسلام کی پہلی اسلامی ریاست کے قیام کے ساتھ ہی اس اہم مسئلہ پر توجہ مبذول کی گئی اور ہجرت مدینہ کی مناسبت سے قمری تقویم کا آغاز کیا گیا۔

    بحیثیت مسلمان قمری تقویم سے ہمارا گہرا ربط ہے۔ ہمارے سبھی مذہبی تہوار اسی قمری تقویم کی مناسبت سے منائے جاتے ہیں جو کہ اسلام کے ساتھ ہمارے گہرے اور نہ ختم ہونے والے رشتے کی علامت ہیں۔ یہ مناسبتیں ہمارے اندر سال کے دنوں کے حوالے سے ایک معنوی اثر مرتب کرتی ہیں۔ عید الفطر ہو یا عید الضحی، عاشور کا دن ہو یا 12 ربیع الاول، یہ ایام سال کے چاہے کسی دن بھی آئیں، ہمارا تعلق ایک عمیق تر ثقافت سے جوڑ دیتے ہیں اور ہمیں اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہم ایک ایسے کاروان کا حصہ ہیں، جس کا تعلق الہی نظام ہدایت سے ہے اور جس نے انسانی تاریخ میں کارہائے نمایاں انجام دیے۔

    مدر ڈے، فادرڈے، ٹیچر ڈے، چلڈرن ڈے اور اسی قسم کے لاتعداد تہوار اپنی تمام تر اچھائیوں کے باوجود ہمارے اندر کسی قسم کا کوئی معنوی احساس پیدا نہیں کرتے، جبکہ اس کے برعکس عید الفطر، عید الضحی، عاشورہ اور 12 ربیع الاول کے دن پوری مسلم امہ کے اندر ایسے معنوی احساسات کو جنم دیتے ہیں، جن کا اثر سارا سال محسوس کیا جاسکتا ہے۔

    پاکستان اور اس کی معنوی حیثیت کا ادراک رکھنے والے دینی و مذہبی اداروں اور جماعتوں کے اتحاد ملی یکجہتی کونسل نے اسی کمی کو محسوس کرتے ہوئے، گزشتہ دنوں اپنے ایک سربراہی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا کہ ہم ہر سال 27 رمضان المبارک کو یوم آزادی کے طور پر منائیں گے۔ اس سربراہی اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ ہر سال رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعة الوداع کو عالمی یوم القدس کے طور پر منایا جائے گا۔

    27 رمضان المبارک، یوم آزادی کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ اس روز مساجد، دکانوں، دفاتر، گاڑیوں اور گھروں پر پاکستانی جھنڈے لہرائے جائیں گے، نیز اس موقع پر مساجد میں نماز ظہر سے پہلے قرآن خوانی ہوگی اور نماز ظہر کے بعد ملکی یکجہتی اور سلامتی کے لیے دعا کی جائے گی۔ اسی مناسبت سے اس سال ملی یکجہتی کونسل نے 27 رمضان المبارک بمطابق 16 اگست 2012ء کو ایک سیمینار کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے، جس میں ملی یکجہتی کونسل میں شامل تمام جماعتوں کے علاوہ ملک کی دیگر اہم شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے۔ سیمینار کا عنوان ”یوم آزادی پاکستان اور یوم القدس“ رکھا گیا ہے۔

    ملی یکجہتی کونسل کے مذکورہ بالا فیصلے اس اتحاد میں شامل جماعتوں کے اسلام، جہان اسلام اور پاکستان کے اسلامی تشخص سے تعلق کا پتہ دیتے ہیں۔ 27 رمضان المبارک کو یوم آزادی منانے کا فیصلہ مسلمانان برصغیر کی ان امنگوں آرزوﺅں کا آئینہ دار ہے، جن کی بناء پر اس خطے کے لاکھوں انسانوں نے ایک الگ ریاست کے لیے جدوجہد کا فیصلہ کیا اور آخر کار اس جدوجہد کا ثمرہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں پاکستان کی صورت میں سامنے آیا۔

    گوگل سرچ سے ایک فکر انگیز تحریر

  4. شاھین حیدر رضوی says:

    انشا اللہ ایک دن آۓ گا جب پاکستان میں اقتصادی بحران آۓ گا اور نہ صرف اپنی بلکہ دینا کے بیشتر ممالک کی اقتصادی ضروریات بھی پوری کریگا انشا اللہ انشا اللہ

    پاکستان خوبانی،کپاس اور گنے کی پیداوار کے لحاظ سے چوتھے، پیاز اور دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے پانچویں، کھجور کی پیداوار کے لحاظ سے چھٹے، آم کی پیداوار کے لحاظ سے ساتویں، چاول کی پیداوار کے لحاظ سے آٹھویں، گندم کی پیداوار کے لحاظ سے نویں، مالٹے اور کینو کی پیداوار کے لحاظ سے دسویں جبکہ مجموعی زرعی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں پچیسویں نمبر پر ہے
    غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان اپنے روایتی ہتھیاروں کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ کرتا ہوا دنیا کی پانچویں جوہری طاقت بن چکا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان دفاعی لحاظ سے ایک مضبوط ملک ہے۔ پاکستان اپنے روایتی ہتھیاروں میں اضافہ اس لئے بھی ناگزیر سمجھتا ہے کہ اس کے پڑوس میں ایک ایسا مکار دشمن موجود ہے جس کے ساتھ تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ اگر پاکستان دفاعی لحاظ سے مضبوط نہ ہوتا تو کب کا صیہونی طاقتوں کے ہاتھوں ترانوالہ بن چکا ہوتا۔ آج ہم دنیا کی پانچویں جوہری طاقت ہیں جو ہمارے لئے انتہائی فخر کی بات ہے۔ ہمارے پاس بیش بہا وسائل موجود ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان کو بدترین اقتصادی، معاشی اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہے۔جس ملک میں غریب، مزدور بھوکا سوتا ہو وہ ملک مضبوط نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کا مستقبل سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ کیا کچھ نہیں ہے اس ملک میں؟ دنیا میں کسی ملک نے اگر سوئی بھی بنائی تو بڑے فخر سے اس کا اعلان کیا ہے جبکہ ہمارے ہاں روایت کچھ مختلف ہے۔ ہم غلامی کی ایک لمبی زندگی گزار رہے ہیں اس لئے ہمیں اپنے اطراف میں پھیلا ہوا حسن، ہمارے درمیان موجود علمی قابلیت، فنی صلاحیتیں اور سائنسی کاؤشیں، قدرت کے عطاء کردہ نظارے اور انعامات نظر نہیں آتے۔ پاکستان دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے جو سائنس دانوں اور انجینئرز سے بھرا پڑا ہے ، اس کے باوجود میرے ملک کے عوام اندھیروں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان ساتویں ایٹمی قوت سے ترقی کرتا ہوا پانچویں جوہری قوت بن چکا لیکن پھر بھی اس ملک کے نہتے عوام پر امریکی ڈرون حملے جاری ہیں۔ دنیا کی چھٹی بڑی فوجی طاقت جو اپنی فنی مہارت کی وجہ سے دیگر ممالک کیلئے وجہ خوف بنی ہوئی ہے۔ اس فوج کے دلیر جوانوں میں اتنی طاقت اور دم خم ہے کہ وہ اسلام اور پاکستان کو درپیش تمام چیلنجز کا سامنا کر سکتے ہیں لیکن پھر بھی اپنے ہی عوام سے نبردآزما ہے۔ ایک زرعی ملک ہے جہاں گندم اتنی پیدا ہوتی ہے کہ ہماری ضرورت کے بعد برآمد کی جاتی تھی مگر اب ہمارے ہاں آٹے کا شدید بحران ہے۔ ہمارے گیس کے ذخائر ایشیاء میں چھٹے نمبر پر ہیں لیکن پھر بھی سی این جی اسٹیشنز اور گھریلو صارفین کیلئے گیس کی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ بلوچستان میں ریکوڈک کے مقام پر سونے اور تانبے کے وسیع ذخائر ہیں ۔جن کی مالیت اندازاً ۲۶۰ ارب ڈالر ہے لیکن اتنے وسائل کے باوجود ہم اب بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے قرضہ لے کر ملکی معاملات چلا رہے ہیں ۔ بلوچستان میں موجود سونے کی یہ کان جو دنیا کی پانچویں بڑی کان ہے پھر بھی سونے کی قیمت پینتالیس ہزار روپے تولہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔پاکستان میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق تیل کے ذخائر ۲۷ ارب بیرل اور گیس کے ذخائر ۲۸۰ ٹریلین مکعب فٹ ہیں پھر بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں ۔ پاکستان کا نہری نظام دنیا کا سب سے بڑا اور بہترین ہے۔ پاکستان جو روس سے دس گناہ چھوٹا ملک ہے مگر اس کا نہری نظام روس کے نہری نظام سے تین گنا بڑا ہے لیکن ہر سال کروڑوں کیوسک پانی ضائع ہو کر بحیرہ عرب میں گرتا ہے۔ آبپاشی کے لئے پانی دستیاب نہیں جبکہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے حصے کا پانی روکنے سے پاکستان میں اس کی کمی بڑھتی جا رہی ہے۔ سیاحت ملکی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتی ہے۔’’کے ٹو‘‘ دنیا کی بلند ترین چوٹی، ’’خاں مہترزائی‘‘ ایشیا کا بلند ترین ریلوے اسٹیشن، ’’شندور‘‘ دنیا کا بلند ترین پولو گراؤنڈ، ’’گوادر پورٹ‘‘ دنیا کی گہرے پانی کی سب سے بڑی پورٹ، ’’لالہ زار‘‘ جسے دنیا کی خوبصورت ترین جگہ کا نام دیا گیا ہے، ’’شندور جھیل‘‘ اس جنت بے نظیر مقام کا کوئی ثانی نہیں، ’’قراقرم‘‘ دنیا کی بلند ترین ہائی وے جو چوٹیوں کے درمیان انسانی عزم کی پختگی کا شاہکار ہے ۔ دنیا میں سیاحت سے سالانہ ۵۱۴ ارب ڈالر کی آمدن ہوتی ہے جن میں جنوبی ایشیاء کے ممالک کا حصہ ۵ ارب ۴۰ کروڑ ڈالر ہے ۔ پاکستان میں سیاحت کے وسیع مواقع ہیں اور یہاں سیاحت کیلئے سوئٹزرلینڈ سے زیادہ خوبصورت مقامات ہیں پھر بھی جنوبی ایشیاء کے دوسرے ممالک کی نسبت پاکستان میں سیاحوں کی آمد بہت کم ہے۔ یہ ملک خوبانی،کپاس اور گنے کی پیداوار کے لحاظ سے چوتھے، پیاز اور دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے پانچویں، کھجور کی پیداوار کے لحاظ سے چھٹے، آم کی پیداوار کے لحاظ سے ساتویں، چاول کی پیداوار کے لحاظ سے آٹھویں، گندم کی پیداوار کے لحاظ سے نویں، مالٹے اور کینو کی پیداوار کے لحاظ سے دسویں جبکہ مجموعی زرعی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں پچیسویں نمبر پر ہے۔ اس کے باوجود اس ملک کے باسی مہنگائی کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ فروٹ ، سبزیوں کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ عوام خودکشیوں پر مجبور ہیں جبکہ حکمران ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ پاکستان کوئلے کے ذخائر کے اعتبار سے چوتھے، تابنے کے ذخائر کے اعتبار سے ساتویں جبکہ صنعتی پیداوار کے لحاظ سے پچپنویں نمبر پر ہے مگر اب صورتحال یہ ہے کہ گیس، بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث نہ صرف صنعتیں بند پڑی ہیں بلکہ ان صنعتوں میں کام کرنے والے ہزاروں ہنرمند بے روزگار ہو چکے ہیں۔ ۴۰ فیصد گھر بجلی کی سہولت سے محروم ہیں جبکہ قدرتی گیس سے محروم ایسے گھروں کی تعداد ۷۸ فیصد ہے۔

  5. شاھین حیدر رضوی says:

    میرے پیارے وطن میرے پیارے وطن
    سر پہ سايہ فگن پرچم سبز رنگ
    تیرے دشت ودمن جیسے باغ عدن
    میرے پیارے وطن میرے پیارے وطن
    شاھین رضوی

  6. شاھین حیدر رضوی says:

    مقصود انجم کمبوہ

    پاکستان وسط ایشیاء اور وہاں سے چین اور روس تک رسائی کے لیے دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔اس حیثیت کی وجہ سے بے پناہ اقتصادی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں لیکن یہ صرف اس صورت میں ممکن ہو گا کہ سیاسی استحکام اور امن و امان کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں پوری قوم کے مفادات کی نگہبان جمہوریت کو فروغ دیا جائے اور منصفانہ انداز حکومت قائم کیا جائے۔اپنی اس خصوصی حیثیت سے فائدہ اُٹھانے کے لیے ایک اور ضروری امر یہ ہے کہ پاکستان میں بنیادی سہولتوں کا جدید ڈھانچہ استوار کیا جائے،مثلاً اچھی سڑکوں کا جال بچھایا جائے،ریلوے نظام کو بہتر اور موئثربنایا جائے،پائپ لائن بچھائی جائے،مواصلات کے جدید ذرائع بروئے کار لائے جائیں اور پاکستان سے وسطی ایشیائی ممالک اور وہاں سے چین روس اور یورپ تک توانائی کی ترسیل کا نظام قائم کیا جائے۔
    یورپی یونین،جرمنی،روس ،چین اور جاپان کے ماہرین 1980ء کے عشرے کے اواخر سے تندہی سے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ مستقبل میں یورپ اور مشرقی ایشیا کے درمیان بنیادی سہولتوں کا ڈھانچہ تیار کیا جائے اور اسے وسعت دی جائے۔ان سہولتوں میں مختلف اقسام کی توانائی کی ترسیل کے ذرائع اور مواصلاتی نظام کو اولیت حاصل ہو۔مقصد یہ ہے کہ بنیادی سہولتوں کے نظام کو بتدریج ترقی دی جائے۔تاہم، باہم سماجی معاشرتی اور سماجی اقتصادی تعلقات فروغ پائیں۔یہ کام نہ صرف مسافروں اور مال کی تجارت کے لیے ذرائع ٹرانسپورٹ بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے بلکہ اس طرح کے مغربی یورپ کی تکنیکی مہارت وسطی ایشیائی ملکوں خصوصاً سائبیریا کے وسائل سے بھی بھر پور استفادہ کیا جائے۔مستقبل کے اس تناظر میں امریکہ کو بھی خاصی دلچسپی ہے کیونکہ بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل دونوں کا براعظم یورپ اور بر اعظم ایشیا سے تعلق ہے۔
    علاوہ ازیں چین اور جاپان کے ماہرین ،مشرقی ایشیا ،ایشیابحرالکاہل،جنوبی ایشیا اور مشرقی ایشیائی ممالک سے ٹھوس اقتصادی تعلقات کے ذریعے براعظم ایشیا کے ترقیاتی وسائل سے بھر پور فائدہ اُٹھانے کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ان اہم منصوبوں کے بعض حصّے تکمیل کے آخری مراحل میں نہیں مثلاًمسافروں کے لیے بہتر فضائی رابطے اور معلومات و اطلاعات کے لیے مصنوعی سیاروں کے توسط سے مواصلاتی نظام بندرگاہوں پر سامان لادنے اور اُتارنے کا بہتر نظام ،چین اور یورپ کے درمیان ریلوے لائن جو ٹینگ ینگ کو روٹر ڈیم سے ملاتی ہے۔یورپ اور روس کے درمیان تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے گیس پائپ لائن ،ابھی اس نظام کو چین اور جاپان تک وسعت دینا باقی ہے۔مغربی یورپ تک توانائی کی ترسیل کا نظام موجود ہے اور اسے مشرقی یورپ تک بڑھانے کا کام جاری ہے۔ایک مسئلہ جو گزشتہ چند برسوں میں تمام حکومتوں کے لیے مشکل سے مشکل تر ہو گیا ہے،یہ ہے کہ کمپیوٹر کے بڑھتے ہوئے استعمال عالمی تجارت اور ایک دوسرے کے اطلاعات و معاملات کے نظاموں تک رسائی اور ثقافتی یلغار کی وجہ سے سیاسی،سماجی،اقتصادی اور معاشرتی فیصلوں کی راہ میں مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
    عوامی جمہوریہ چین کو وسطی اور جنوبی ایشیا(کشمیر اور افغانستان) کے معاملوں میں اور زیادہ متعد اور سر گرم ہونا پڑے گا۔تاہم یہ پہلو زیادہ توجہ طلب ہے کہ اگرچہ چین کو جنوبی اور وسطی ایشیا پر امریکہ اور یورپی یونین حتٰی کہ اقوام متحدہ کے مقابلے میں بھی صلاحیتوں مثلاً جدید ٹیکنالوجی اور سرمائے کے مقابلے میں پیچھے ہے۔مزید یہ کہ کبھی چین کو خود اپنے بہت سے اندرونی مسائل حل کرنا باقی ہیں ۔لہٰذا وسطی اور جنوبی ایشیا میں امریکہ ، جاپان یورپی یونین اور کثیر القومی کمپنیوں کی مدد کے بغیر با مقصد ترقی ممکن نہیں ہے۔
    ایشیا کے مختلف خطوں مثلاً مشرقی ایشیا بحرالکاہل ،جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان عظیم تر اقتصادی تعاون کے مجوزہ فوائد اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتے جب تک کہ جنوبی ایشیائی اور وسطی ایشیائی ملکوں کے درمیان بنیادی سہولتوں کا فرق اور زیادہ نہ کر دیا جائے۔اس لیے مستقبل قریب میں ایشیا کو شاہراہوں اور ریلوے لائن کے علاوہ تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے پائپ لائنوں کی تعمیر کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔مثلاً تاشقند ،سکھر ،کراچی ریلوے لائن کے علاوہ یورپ سے روس (سائبیریا)اور چین کو ملانے والی لائن کی ضرورت ہوگی۔ٹیکنیکل مہارت اور بین الاقوامی سرمایہ موجود رہے ۔تاہم علاقے میں قابل ذکر مقدار میں سرمایہ اسی صورت میں پہنچے گا جب علاقہ ہر قسم کی کشیدگیوں سے پاک ہو گا۔ایک اہم ترین بات یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کا تصفیہ ہو جائے اور افغانستان میں حالات معمول پر آ جائیں۔عوامی جمہوریہ چین،پاکستان اور بھارت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔چینی قیادت کا بھارے سے نرم دلانہ رویہ بہت سے مسائل کا حل ہو سکتا ہے۔مندرجہ بالا صورت حال پاکستان کی زبردست ترقی کی بنیاد بن سکتی ہے۔مثال کے طور پر کراچی اور گوادر ایک خوشحال بندرگاہیں بن سکتی ہیں۔جن کے نتیجے میں پاکستان کے علاوہ نئے تجارتی راستے کے اطراف کے علاقوں اور تجارتی مراکز میں روزگار کے مواقع اور دولت کی فراوانی ہو گی۔
    اسی طرح وسط ایشیائی ملکوں اور بھارت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔تاہم یہ فوائد حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو بعض اقدامات کرنے ہوں گے مثلاً احتساب اور شفافیت کے عمل کے علاوہ ٹیکسوں کے نظام میں اصلاح کے ذریعے اسے منصفانہ بنانا ہو گا۔سرمایہ کاری اور بنیادی سہولتوں میں اضافہ کرنا ہو گا۔تعلیم خصوصاً پیشہ وارانہ تعلیم عام کرنا ہو گی۔دفاعی اخراجات میں کمی اور کام کے طریقہ کار میں بھاری تبدیلی کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک سے اقتصادی اور تجارتی تعلقات بہتر بنانا ہوں گے۔کیونکہ پڑوسی ممالک بہترین پارٹنر بن سکتے ہیں۔اس سلسلے میں فرانس اور جرمنی کی قابل تقلید مثال موجود ہے۔ان دنوں ملکوں کے درمیان دشمنی اور طویل جنگیں رہی ہیں لیکن اب وہ ایک دوسرے کے بڑے تجارتی اور کاروباری پارٹنر ہیں۔کیا وجہ ہے کہ جرمن معاشرہ اتنا زیادہ خوشحال ہے ۔حالانکہ جرمنی میں تیل یا گیس جیسے معدنی وسائل برائے نام پائے جاتے ہیں،جنوب مشرقی ایشیاء میں کاروبار میں اتنی فراوانی کیوں ہے،پاکستانی عوام کو اور زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔انہیں اپنے ہم وطنوں اور معاشرے کی جانب سے عائد ہونے والی مزید ذمہ داریاں نبھانا ہوں گی۔یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ ملک کے پالیسی سازوں اور سیاستدانوں میں اب ان حقائق کا احساس پایا جاتا ہے۔مشرقی ایشیائی ملکوں کی ترقی کے اسباب کے بارے میں خاصا غورو فکر اور بحث و مباحثہ ہوتا ہے ۔مشرقی ایشیائی ممالک کی ترقی کی وجوہات یہ ہے کہ انہوں نے خوب سوچ سمجھ کے پالیسیاں و ضع کی ہیں اور ان پر بھر پور عمل کیا ۔پالیسیوں کی تیاری میں سب سے زیادہ حصہ لیا اور اس کامیابی میں مسلسل سیاسی استحکام ،اہلیت اور میرٹ کی سر بلندی اور جوابدہی کے احساس سے سرشار بیوروکریسی کی متحدہ کارکردگی کا نتیجہ ہے ۔ان ممالک کی پالیسی کا ایک خاص پہلو مغربی ملکوں پر انحصار کی بجائے مشرق سے تعلقات بڑھانا اور اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔
    جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی معجزانہ ترقی ان ہی کی تمام کاوشوں کا نتیجہ ہے اور یہ سب کچھ پاکستان بھی کر سکتا ہے۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ پاکستان کے پالیسی ساز منصفانہ اور پائیدار ترقی کے ان عوامل کو کماحقہ اہمیت دیں ۔پالیسی سازوں کو یہ حقیقت اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ دوسرے پارٹنر ممالک امریکہ،یورپی یونین،روس، چین ،جاپان حتٰی کہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک اور بھارت اور وسط ایشیائی ممالک ،وسط ایشیائی اور بحیرہ عرب کے درمیان بنیادی سہولتوں کے ڈھانچے کی عدم موجودگی میں بھی مزید ترقی کر سکتے ہیں۔لیکن بنیادی سہولتوں کی فراہمی ہو جانے کے بعد یہ ممالک اور زیادہ فوائد حاصل کر سکتے ہیں ۔تاہم ان سہولتوں کی فراہمی پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔لہٰذا پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔لہٰذا پاکستان کو بڑے جرائتمندانہ اقدامات اُٹھانا ہوں گے۔جس سے ملک کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا۔اگر اسی نے سازگار ماحول پیدا نہ کیا تو اس صورت میں کوئی ملک سرمایہ کاری نہیں کر سکے گا۔وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور عالمی ماحول تبدیل ہو رہا ہے اگر پاکستان نے یہ موقع ضائع کر دیا تو بہت بڑی بدقسمتی ہو گی۔تکثریت یعنی مل جل کر کام کرنا علاقائی تعاون موجودہ دور کا تقاضا اور ناگزیر ضرورت ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں ایک سے زیادہ ممالک کے مل جل کر کام کرنے اور علاقائی تعاون کے بغیر کسی ملک کی سلامتی ،اقتصادی ترقی اور سماجی فلاح و بہبود کا تصور بھی محال ہے۔
    یہ سفارشات اور تجاوزات جرمن فیڈریشن ایبرٹ فاؤنڈیشن کے نمائندے گونتھے والیوسکی نے پیش کی ہیں۔اس قسم کی سفارشات آراء و تجاویز ہمارے اپنے اقتصادی ماہرین بھی پیش کر چکے ہیں۔مگر افسوس صد افسوس کہ ہم اقتدار کی کشمکش اور ذاتی مفادات کی جنگوں میں اُلجھ کر نہ صرف ملک عزیز کو ان گنت مسائل و مشکلات سے دو چار کر چکے ہیں بلکہ غریب کو غربت کی دلدل میں گلے تک دھنسائے جا رہے ہیں اور نعرے غربت مٹانے کے لگاتے ہیں۔یہ بھی سچی حقیقت ہے کہ جس طرح ہمارے سیاستدان سیاسی محاذ آرائی میں مصروف رہتے ہین۔اس طرح ہمارے دشمنوں نے بھی ہمیں ہر محاذ پر نقصان پہنچانے میں کبھی دیر نہیں لگائی۔آج امریکہ،بھارت،اسرائیل،برطانیہ اور افغانستان کے جنگی پالیسی ساز ادارے ہماری سرحدوں پر نقب زنی میں دن رات مصروف ہیں ۔بلوچستان،سرحد اور سندھ ان کی میٹ لسٹ پر ہیں۔آج کل بلوچستان میں خفیہ کاروائیوں کے ذریعے پاکستان کا دباؤ کا شکار کر دیا ہے۔اور یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بلوچی آزادی چاہتے ہیں۔شمالی علاقوں،باجوڑ،وزیرستان،میران شاہ اور سوات میں دہشتگردوں کی سرکوبی کی آڑ میں خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔قبائلیوں کو آزادی کے لیے اُکسایا جا رہا ہے۔ان حالات میں جرمن فیڈریشن ایبرٹ کے نمائندے گونتھے والیوسکی کی سفارشات کیا رنگ لا سکتی ہیں۔جب تک امریکہ ہماری شمالی سرحدوں پر اپنے اتحادی نیٹو کے ہمراہ براجمان ہے اور بھارت ان کی پشت پناہی حاصل کرنے میں پیش پیش ہے ہماری ترقی اور خوشحالی کے تمام منصوبے بے کار ہیں ۔پاکستان قوم کو از خود تمام باتوں کا نوٹس لینا ہو گاکیونکہ ہماری نو خیز جمہوریت کی بعض کمزوریوں کے باعث ہمارے دشمن بھی فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔لگتا ہے کہ جمہوریت بھی زخم خوردہ ہے جس کے باعث ہمارے حکمرانوں کے قدم کوئی اہم فیصلہ کرتے وقت ڈگمگا جاتے ہیں۔نفسیاتی طور پر ہم اپنے دشمنوں سے خوفزدہ

    گوگل سرچ سے ایک تحریر آپ سبکی بارگاہ فکر میں حاضر ھے

  7. شاھین حیدر رضوی says:

    اکستان میں سیاحوں کے لئے بہت زیادہ متنوع سیاحتی مقامات ہیں

    پاکستان میں قدرتی سیاحت:
    14 Eight Thousanders میں سے 5 پاکستان میں ہیں جن میں K2 جو کہ دنیا کی دوسری بڑی چوٹی ہے، نانگا پربت جو کہ دنیا کی نویں بڑی چوٹی ہے، Gasherbrum I جو کہ دنیا کی گیارہوی بڑی چوٹی ہے، Broad Peak جو کہ دنیا میں بارہویں نمبر پہ ہے اور Gasherbrum II جو کہ دنیا میں

    کے ٹو

    تیرہویں نمبر پہ ہیں اور ان کی اونچائی بالترتیب 8611 میٹر، 8126 میٹر، 8080 میٹر ، 8051 میٹر اور 8034 میٹر ہے۔ان کے علاوہ Maserbrum جس کی اونچائی 7821 میٹر اور راکاپوشی (7788 میٹر) بھی دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں شمار ہوتی ہیں اور یہ بھی پاکستان میں ہیں۔ اس کے علاوہ سکردو کے نزدیک دیوسائی کے میدان جو کہ 3000 کلو میٹر پر محیط ہیں۔ تبت کے بعد دیوسائی کے میدان دنیا کی بلند ترین سطح مرتفع ہیں جن کی سطح سمندر سے اونچائی 4114 میٹر ہے۔ اور یہاں پر پائے جانے والے پودے اور نباتات دنیا میں کہیں بھی نہیں پائے جاتے۔
    اسی طرح بلوچستان میں ھنگول نیشنل پارک جو کہ مکران کوسٹل ہائی وے پر واقع ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں کنڈ ملیر اور اورماڑہ ساحل گوادر کے ساحل کے ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ بلوچستان میں زیارت اپنے خوبصورت مناظراور پُرسکون ماحول کی وجہ سے سیاحوں میں خاصی مقبول جگہ ہے اور اس

    Quaid-e-Azam Residency Ziarat

    کے علاوہ یہاں کی گھاٹیاں، اور قائد اعظمٍ کی رہائش بھی دیکھنے کے قابل ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے شمال میں بہت سی جھیلیں اپنے حسن و خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر میں مقبول ہیں جن میں راولاکوٹ میں بنجوسہ جھیل، وادی ناران میں جھیل سیف الملوک اور آنسو جھیل، کوئٹہ میں ہنہ جھیل کالام میں مہوڈنڈ جھیل اور سکردو میں کچھورا جھیل اور سندھ میں کینجھر جھیل اور منچھر جھیل، کراچی میں منگو پیر شامل ہیں۔ دریائوں میں دریائے کابل، دریائے چترال، دریائے سوات، دریائے نیلم اور دریائے سندھ بھی سیاحوں کے لئے کافی پُرکشش ہیں۔ جو لوگ شکار کے شوقین ہیں ان کے لئے پاکستان میں موجود وائلڈ لائف پارکس بھی کشش رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ تھر اور چولستان کے صحرائوں کا بھی اپنا ایک حُسن ہے جو کہ دیکھنے والوں کو محصور کردیتا ہے اور ان کے علاوہ کراچی اور گوادر کے ساحل بھی سیاحوں کی پسندیدہ جگہوں میں شمارہوتے ھیں

    پاکشسان سیاحوں کی جنت بھی بن سکتا ھے مگر ھمارے دشمنوں سے زیادہ خطرناک تو ھمارے وہ حکمران ھیں جو پاکستان میں ھونے والی ھر ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ھیں جن کے بلین آف ڈالرز دینا بھر کے بنکوں میں محفوظ ھیں انھوں نے اپنا اور اپنی آنے والی نسل کا مستقبل محفوظ کر لیا مگر پاکستان کے 18 کروڑ لوگوں کا مستقبل تاریک کرنا چاھتے ھیں مگر تاریخ گواہ ھے ھر فرعون کے لیے موسی ع کا بندوبست بھی منجانب اللہ ھی ھوتا ھے ،ظلم کی رات کٹ ھی جاۓ گی

  8. جعفر حسین says:

    اہلیانِ پاکستان کو جشنِ آزادی مبارک ہو
    اس بار جشنِ آزادی پر اربابِ اختیار کے دل کی آواز

    تیرا ہاکستان ہے
    نہ میرا پاکستان پے
    جس نے اسکو لوٹا ہے
    یہ اس کا پاکستان ہے !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

  9. شاھین حیدر رضوی says:

    قومی ترانے سے متعلق ایک فکر انگیز تحریر

    قائداعظم، جگن ناتھ آزاد اور قومی ترانہ؟…صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود

    اس کالم کامقصد صرف اور صرف سچ کی تلاش ہے نہ کہ کسی بحث میں الجھنا۔ میں اپنی حد تک کھلے ذہن کے ساتھ سچ کی تلاش کے تقاضے پورے کرنے کے بعد یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ پچھلے دنوں میڈیا (پرنٹ اور الیکٹرانک) پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ قائداعظم نے قیام پاکستان قبل 9اگست 1947 کو جگن ناتھ آزاد کو بلاکر پاکستان کاترانہ لکھنے کو کہا۔ انہوں نے پانچ دنوں میں ترانہ لکھ دیا جو قائداعظم کی منظوری کے بعد آزادی کے اعلان کے ساتھ ہی ریڈیو پاکستان سے نشر ہوااور پھر یہ ترانہ 18ماہ تک پاکستان میں بجتا رہا۔ جب 23فروری 1949کو حکومت ِ پاکستان نے قومی ترانے کے لئے کمیٹی بنائی تو یہ ترانہ بند کردیا گیا۔اس انکشاف کے بعد مجھے بہت سے طلبہ اوربزرگ شہریوں کے فون آئے جو حقیقت حال جاننا چاہتے تھے لیکن میرا جواب یہی تھا کہ بظاہر یہ بات قرین قیاس نہیں ہے لیکن میں تحقیق کے بغیر اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ چنانچہ سب سے پہلے میں نے ان سکالروں سے رابطے کئے جنہوں نے قائداعظم پر تحقیق کرتے اورلکھتے عمر گزار دی ہے۔ ان سب کاکہنا تھا کہ یہ شوشہ ہے، بالکل بے بنیاد اور ناقابل یقین دعویٰ ہے لیکن میں ان کی بات بلاتحقیق ماننے کے لئے تیار نہیں تھا۔ قائداعظم اور جگن ناتھ کے حوالے سے یہ دعوے کرنے والے حضرات نے انٹرنیٹ پر کئی ”بلاگز“ (Blogs) میں اپنا نقطہ نظر اور من پسند معلومات فیڈ کرکے محفوظ کر دی تھیں تاکہ انٹرنیٹ کااستعمال کرنے والوں کوکنفیوز کیاجاسکے اور ان ساری معلومات کی بنیاد کوئی ٹھوس تحقیق نہیں تھی بلکہ سنی سنائی یاپھر جگن ناتھ آزاد کے صاحبزادے چندر کے آزاد کے انکشافات تھے جن کی حمایت میں چندر کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔
    سچ کی تلاش میں، میں جن حقائق تک پہنچا ان کاذکر بعد میں کروں گا۔ پہلے تمہید کے طور پریہ ذکرکرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جگن ناتھ آزاد معروف شاعر تلوک چند کا بیٹا تھا ۔ وہ 1918 میں عیسیٰ خیل میانوالی میں پیدا ہوا۔ اس نے 1937 میں گارڈن کالج راولپنڈی سے بی اے اور 1944 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے فارسی کیا۔ تھوڑاساعرصہ”ادبی دنیا“ سے منسلک رہنے کے بعد اس نے لاہور میں ”جئے ہند“نامی اخبار میں نوکری کرلی۔ قیام پاکستان کے بعد وہ ستمبر میں ہندوستان ہجرت کر گیا۔ اکتوبر میں ایک بار لاہور آیا اور فرقہ وارانہ فسادات کے خوف سے مستقل طور پر ہندوستان چلاگیا۔ وِکی پیڈیا (Wikipedia) اور All things Pakistan کے بلاگز میں یہ دعویٰ موجود ہے کہ قائداعظم نے اپنے دوست جگن ناتھ آزاد کو 9اگست کو بلا کر پاکستان کاترانہ لکھنے کے لئے پانچ دن دیئے۔ قائداعظم نے اسے فوراً منظور کیا اور یہ ترانہ اعلان آزاد ی کے بعد ریڈیو پاکستان پر چلایاگیا۔ چندر نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ حکومت ِ پاکستان نے جگن کو 1979 میں صدارتی اقبال میڈل عطا کیا۔
    میراپہلا ردعمل کہ یہ بات قرین قیاس نہیں ہے ، کیوں تھا؟ ہر بڑے شخص کے بارے میں ہمارے ذہنوں میں ایک تصویر ہوتی ہے اور جو بات اس تصویرکے چوکھٹے میں فٹ نہ آئے انسان اسے بغیر ثبوت ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔ قائداعظم سرتاپا قانونی اور آئینی شخصیت تھے۔ اس ضمن میں سینکڑوں واقعات کاحوالہ دے سکتاہوں۔ اس لئے یہ بات میری سمجھ سے بالا تر تھی کہ قائداعظم کسی کو ترانہ لکھنے کے لئے کہیں اور پھر کابینہ، حکومت یاماہرین کی رائے لئے بغیر اسے خود ہی آمرانہ انداز میں منظور کر دیں جبکہ ان کا اردو، فارسی زبان اور اردو شاعری سے واجبی سا تعلق تھا۔ میرے لئے دوسری ناقابل یقین صورت یہ تھی کہ قائداعظم نے عمر کامعتدبہ حصہ بمبئی اور دہلی میں گزارا۔ ان کے سوشل سرکل میں زیادہ تر سیاسی شخصیات، مسلم لیگی سیاستدان، وکلا وغیرہ تھے۔ پاکستان بننے کے وقت ان کی عمر 71 سال کے لگ بھگ تھی۔ جگن ناتھ آزاد اس وقت 29 سال کے غیرمعروف نوجوان تھے اور لاہور میں قیام پذیر تھے پھر وہ پاکستان مخالف اخبار ”جئے ہند“ کے ملازم تھے۔ ان کی قائداعظم سے دوستی تو کجا تعارف بھی ممکن نظر نہیں آتا۔
    پھر مجھے خیال آیا کہ یہ تو محض تخیلاتی باتیں ہیں جبکہ مجھے تحقیق کے تقاضے پورے کرنے اور سچ کا کھوج لگانے کے لئے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہے۔ ذہنی جستجو نے رہنمائی کی اورکہاکہ قائداعظم کوئی عام شہری نہیں تھے جن سے جو چاہے دستک دے کرمل لے۔ وہ مسلمانان ہند و پاکستان کے قائداعظم اور جولائی 1947 سے پاکستان کے نامزد گورنر جنرل تھے۔ ان کے ملاقاتیوں کاکہیں نہ کہیں ریکارڈ موجود ہوگا۔ سچ کی تلاش کے اس سفر میں مجھے 1989میں چھپی ہوئی پروفیسر احمد سعید کی ایک کتاب مل گئی جس کا نام ہے Visitors of the Quaid-e-Azam ۔ احمد سعید نے بڑی محنت سے تاریخ وار قائداعظم کے ملاقاتیوں کی تفصیل جمع کی ہے جو 25اپریل 1948تک کے عرصے کااحاطہ کرتی ہے۔ اس کتاب میں قائداعظم کے ملاقاتیوں میں جگن ناتھ آزاد کاکہیں بھی ذکر نہیں ہے۔ ”پاکستان زندہ باد“ کے مصنف سید انصار ناصری نے بھی قائداعظم کی کراچی آمد 7اگست شام سے لے کر 15 اگست تک کی مصروفیات کاجائزہ لیا ہے۔ اس میں بھی آزاد کا ذکر کہیں نہیں۔ سید انصار ناصری کو یہ تاریخی اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے قائداعظم کی 3جون 1947 والی تقریرکااردو ترجمہ آل انڈیاریڈیو سے نشر کیاتھا اور قائداعظم کی مانند آخر میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی بلند کیا تھا۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ پھر بھی میر ی تسلی نہیں ہوئی۔ دل نے کہا کہ جب 7اگست 1947 کو قائداعظم بطور نامزد گورنر جنرل دلی سے کراچی آئے تو ان کے ساتھ ان کے اے ڈی سی بھی تھے۔ اے ڈی سی ہی ملاقاتوں کا سارااہتمام کرتا اور اہم ترین عینی شاہد ہوتا ہے اورصرف وہی اس سچائی کی تلاش پر مہرثبت کرسکتا ہے۔ جب قائداعظم کراچی اترے تو جناب عطا ربانی بطور اے ڈی سی ان کے ساتھ تھے اور پھرساتھ ہی رہے۔ خدا کاشکر ہے کہ وہ زندہ ہیں لیکن ان تک رسائی ایک کٹھن کام تھا۔ خاصی جدوجہد کے بعد میں بذریعہ نظامی صاحب ان تک پہنچا۔ جناب عطا ربانی صاحب کا جچا تلا جواب تھا کہ جگن ناتھ آزاد نامی شخص نہ کبھی قائداعظم سے ملا اور نہ ہی میں نے کبھی ان کانام قائداعظم سے سنا۔ اب اس کے بعد اس بحث کا دروازہ بند ہوجاناچاہئے تھا کہ جگن ناتھ آزا د کو قائداعظم نے بلایا۔ اگست 1947 میں شدید فرقہ وارانہ فسادات کے سبب جگن ناتھ آزاد لاہور میں مسلمان دوستوں کے ہاں پناہ لیتے پھررہے تھے اور ان کو جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ان حالات میں ان کی کراچی میں قائداعظم سے ملاقات کاتصو ر بھی محال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود جگن ناتھ آزاد نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا حالانکہ وہ پاکستان میں کئی دفعہ آئے حتیٰ کہ وہ علامہ اقبال کی صد سالہ کانفرنس کی تقریبات میں بھی مدعو تھے جہاں انہوں نے مقالات بھی پیش کئے جو اس حوالے سے چھپنے والی کتاب میں بھی شامل ہیں ۔ عادل انجم نے جگن ناتھ آزاد کے ترانے کاشوشہ چھوڑا تھا۔ انہوں نے چندر آزاد کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ جگن ناتھ آزاد کو 1979 میں صدارتی اقبال ایوارڈ دیا گیا۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ میں نے صدارتی اقبال ایوارڈ کی ساری فہرست دیکھی ہے اس میں آزاد کا نام نہیں۔ پھر میں کابینہ ڈویژن پہنچا اور قومی ایوارڈ یافتگان کا ریکارڈ کھنگالا۔ اس میں بھی آزاد کا نام نہیں ہے۔ وہ جھوٹ بول کر سچ کوبھی پیار آ جائے۔ اب آیئے اس بحث کے دوسرے حصے کی طرف… ریڈیو پاکستان کے آرکائیوز گواہ ہیں کہ جگن ناتھ آزاد کاکوئی ترانہ یا ملی نغمہ یا کلام 1949 تک ریڈیو پاکستان سے نشر نہیں ہوا اور 15اگست کی درمیانی شب جب آزادی کے اعلان کے ساتھ پہلی بار ریڈیو پاکستان کی صداگونجی تو اس کے بعد احمد ندیم قاسمی کا یہ ملی نغمہ نشر ہوا۔
    پاکستان بنانے والے، پاکستان مبارک ہو
    ان دنوں قاسمی صاحب ریڈیو میں سکرپٹ رائٹر تھے۔ 15اگست کو پہلا ملی نغمہ مولانا ظفر علی خان کا نشر ہوا جس کا مصرعہ تھا ”توحید کے ترانے کی تانیں اڑانے والے“
    میں نے یہیں تک اکتفا نہیں کیا۔ اس زمانے میں ریڈیو کے پروگرام اخبارات میں چھپتے تھے۔ میں نے 14 اگست سے لے کر اواخر اگست تک اخبارات دیکھے۔ جگن ناتھ آزاد کا نام کسی پروگرام میں بھی نہیں ہے۔ سچ کی تلاش میں، میں ریڈیو پاکستان آرکائیو ز سے ہوتے ہوئے ریڈیو کے سینئر ریٹائرڈ لوگوں تک پہنچا۔ ان میں خالد شیرازی بھی تھے جنہوں نے 14اگست سے21 اگست 1947 تک کے ریڈیو پروگراموں کا چارٹ بنایا تھا۔ انہوں نے سختی سے اس دعویٰ کی نفی کی۔ پھر میں نے ریڈیو پاکستان کا رسالہ ”آہنگ“ ملاحظہ کروایا جس میں سارے پروگراموں کی تفصیلات شائع ہوتی ہیں۔ یہ رسالہ باقاعدگی سے 1948 سے چھپنا شروع ہوا۔ 18ماہ تک آزاد کے ترانے کے بجنے کی خبردینے والے براہ کرم ریڈیو پاکستان اکادمی کی لائبریری میں موجود آہنگ کی جلدیں دیکھ لیں اور اپنے موقف سے تائب ہوجائیں۔ میں اس بحث میں الجھنا نہیں چاہتا کہ اگر آزاد کا ترانہ ہمارا قومی ترانہ تھا اور وہ 1949 تک نشر ہوتارہا تو پھر اس کا کسی پاکستانی کتاب، کسی سرکاری ریکارڈ میں بھی ذکر کیوں نہیں ہے اور اس کے سننے والے کہاں چلے گئے؟ اگر جگن ناتھ آزاد نے قائداعظم کے کہنے پر ترانہ لکھا تھا تو انہوں نے اس منفرد اعزاز کا کبھی ذکرکیو ں نہ کیا؟ جگن ناتھ آزاد نے اپنی کتاب ”آنکھیں ترستیاں ہیں“ (1982) میں ضمناً یہ ذکر کیا ہے کہ اس نے ریڈیو لاہور سے اپنا ملی نغمہ سنا۔ کب سنا اس کاذکر موجود نہیں۔ اگر یہ قائداعظم کے فرمان پر لکھا گیا ہوتا تو وہ یقینا اس کتاب میں اس کاذکر کرتا۔ آزاد کے والد تلوک چند نے نعتیں لکھیں۔ جگن ناتھ آزاد نے پاکستان کے لئے ملی نغمہ لکھا جو ہوسکتا ہے کہ پہلے کسی وقت ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا ہو لیکن یہ بات طے ہے کہ جگن ناتھ آزاد نہ کبھی قائداعظم سے ملے، نہ انہوں نے پاکستان کا قومی ترانہ لکھا اور نہ ہی ان کا قومی ترانہ اٹھارہ ماہ تک نشر ہوتارہا یا قومی تقریبات میں بجتا رہا۔
    قائداعظم بانی پاکستان اور ہمارے عظیم محسن ہیں۔ ان کے احترام کا تقاضا ہے کہ بلاتحقیق اوربغیر ٹھوس شواہد ان سے کوئی بات منسوب نہ کی جائے۔
    

  10. ظفر جعفری says:

    13 اگست 1947 کےدن مشرقی اور مغربی پنجاب کو ملاکر مسلمانوں کے پاس 142 کاریں تھیں۔ یہ نکتہ پاکستان کے حصول کو سمجھنے کلئے کافی ہے۔

  11. محمداحمد ترازی says:

    آج 14 اگست کو قوم مملکت خداداد کا 66واں یوم آزادی روایتی جوش و جذبے سے اور تعمیر ملک و ملت کے احساس کو اجاگر کرتے ہوئے منا رہی ہے۔ 66 سال قبل آزاد و خودمختار مملکت کی حیثیت سے وطن عزیز کا قیام مقدس و متبرک مہینے رمضان المبارک کے 26ویں روزے کے اختتام پر لیلة القدر کی رات عمل میں آیا اور اسی مناسبت سے ارضِ وطن کو عطیہ¿ خداوندی کہا جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے آج بھی ہمیں یوم آزادی ماہ رمضان المبارک کے اسی عشرے میں منانے کی سعادت حاصل ہورہی ہے‘ جس میں فرزندانِ توحید کو بارگاہ ایزدی کی جانب سے رحمتوں‘ مغفرتوں اور برکتوں والی رات لیلة القدر کی نوید دی گئی ہے۔ آج 25ویں روزے کی رات بھی طاق راتوں میں شمار ہوتی ہے اور اس مناسبت سے ہمیں آج وطن عزیز کا 66واں یوم آزادی بھی طاق راتوں میں آنیوالی لیلة القدر کی برکتوں کے ساتھ منانے کی سعادت حاصل ہورہی ہے۔ یہ رات دعاﺅں کی قبولیت کی رات ہے اس لئے ہمیں جشن آزادی مناتے ہوئے ملک کی سلامتی‘ ترقی و خوشحالی اور اغیار کی سازشوں سے ملک کو محفوظ رکھنے کی خصوصی دعائیں بھی مانگنی چاہئیں اور خدا کے حضور گڑگڑاتے ہوئے سجدہ ریز ہو کر اپنی انفرادی اور اجتماعی قومی خطاﺅں کی بھی معافی مانگنی چاہیے۔ وطن عزیز آج جن آفات ارض و سما میں گھرا ہے‘ ان سے نجات کی دعائیں بھی ہمارے لبوں پر رہنی چاہئیں۔ ربِ کائنات اپنے عاجز بندوں پر رحمتوں کی بارش برسانے پر قادر ہے اور اسکی مغفرت کے خزانے میں کوئی کمی نہیں۔
    آج ہمیں اپنا یوم آزادی رمضان کریم کی طاق رات کے عرصہ میں منانے کی سعادت ملی ہے تو یہ بلاشبہ ہمارے لئے رحمتِ خداوندی کی دلیل ہے۔ ہمارے منتخب جمہوری حکمرانوں نے بری سے بری جمہوریت کے تصور والی اپنی حکمرانی میں عوام کا عرصہ¿ حیات تنگ کرکے اور ان کیلئے روٹی روزگار کے گھمبیر مسائل پیدا کرکے آزادی کا تصور ہی گہنا دیا ہے جبکہ حکمرانوں کی بے تدبیریوں کے نتیجہ میں بلوچستان کے پیدا شدہ حالات ملک کی آزادی‘ خودمختاری اور سلامتی کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں اور ایک خفیہ گیلپ سروے کے مطابق بلوچستان کے 67 فیصد عوام صوبائی خودمختاری اور 37 فیصد آزادی کے حامی ہیں۔ حکمرانوں کی بے تدبیریاں جاری رہیں تو کل کو ہمیں خدانخواستہ مشرقی پاکستان جیسے کسی دوسرے سانحہ سے دوچار ہونا پڑسکتا ہے۔ ہندو اور انگریز کی غلامی کے شکنجے میں جکڑے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے اقبال نے پاکستان کا تصور پیش کیا اور قائداعظمؒ نے اپنی فہم و بصیرت سے اس تصور کو عملی جامہ پہنایا۔ یہ تاریخ عالم کا ایک منفرد واقعہ ہے کہ قائداعظمؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی کی پرامن تحریک کیلئے صف آراءکرکے ایک گولی چلائے اور جیل جائے بغیر ایک آزاد وطن حاصل کرلیا۔ حالانکہ اس وقت برسراقتدار انگریز اور اقتصادی و معاشی وسائل سے مالامال ہندو اکثریت نے تشکیل پاکستان کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔
    اگر قائداعظم قیام پاکستان کے ایک سال بعد ہی ہم سے ہمیشہ کیلئے جدا نہ ہوتے تو جس مشن اور مقصد کے تحت برصغیر کے مسلمانوں کیلئے الگ وطن حاصل کیا گیا تھا وہ نہ صرف پورا ہوتا بلکہ اقوام عالم میں آج پاکستان کو منفرد، نمایاں اور بلند حیثیت حاصل ہوتی مگر بدقسمتی سے قائداعظمؒ کے انتقال کے بعد وطنِ عزیز انگریز اور ہندو کے ٹوڈی جاگیرداروں، ملاﺅں، مفاد پرست سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں کے نرغے میں آگیا جنہوں نے اپنے مفاداتی گٹھ جوڑ سے اسلامی جمہوری فلاحی پاکستان کی منزل کو دور کردیا۔ اسی مفاداتی گٹھ جوڑ نے ماورائے آئین طالع آزمائی کے تحت فوجی آمریتوں کی بنیاد رکھی چنانچہ قیام پاکستان سے اب تک کا آدھے سے زیادہ عرصہ ہم نے یکے بعد دیگر چار مارشل لاﺅں کے نتیجہ میں جرنیلی آمریت کے منحوس سائے میں گزار دیا ہے۔ ان جرنیلی آمریتوں نے ملک کے اسلامی جمہوری فلاحی تصور کو اجاگر ہی نہیں ہونے دیا چنانچہ متعصب ہندو اکثریت کی اقتصادی غلامی کے شکنجے سے آزادی حاصل کرنے کے باوجود مسلمانوں کی اقتصادی حالت ابتر ہی رہی۔ انہیں جمہوریت کے ثمرات سے بھی دور کردیا گیا اور اقتصادی بدحالی بھی ان کا مقدر بنا دی گئی۔آج ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ آج سلطانی¿ جمہور میں بھی عوام الناس کو جمہوریت کے ثمرات حاصل نہیں ہورہے اور جمہوری حکمرانوں نے جرنیلی آمریت کی تمام ننگِ وطن اور ننگِ انسانیت پالیسیاں برقرار رکھتے ہوئے قومی غیرت و حمیت کا بھی جنازہ نکالا ہے اور بے وسیلہ عام آدمی کے روزمرہ کے گوناگوں مسائل میں بھی اضافہ کیا ہے۔چنانچہ پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا جو خواب قائداعظمؒ کی فہم و بصیرت سے شرمندہ¿ تعبیر نہیں ہو پایا تھا۔ آج ہمارے حکمرانوں کی بداعمالیوں اور بے تدبیریوں کے باعث اسکی تعبیر و تکمیل کیلئے مکار ہندو بنیاءکی باچھیں کھلی ہوئی نظر آتی ہیں امریکی غلامی میں قوم کی گردن اس حد تک جھکا دی گئی ہے کہ خودداری و خودمختاری کا تصور ہی عنقا ہو گیاہے۔
    قائداعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا جس کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے بغیر تقسیم ہند کا ایجنڈا مکمل نہیں ہوسکتا۔ آج کشمیری عوام بھارتی فوجوں کے مظالم برداشت کرتے، ان کی گولیوں سے اپنے سینے چھلنی کراتے، قربانیاں دیتے، اپنی آزادی کی منزل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ہندوستان انہیں ٹریک سے ہٹانے کیلئے مختلف حربے اختیار کررہا ہے مگر وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کی صورت میں تقسیم ہند کے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے اپنی آزادی کی جدوجہد میں مگن ہیں جو درحقیقت استحکام پاکستان کی جدوجہد ہے مگر ہمارے حکمرانوں کو ان غیور کشمیری باشندوں کی اخلاقی حمائت کی بھی توفیق نہیں ہورہی جو انہیں پاکستان سے الحاق کی تمنا رکھنے کی سزا دینے کے مترادف ہے۔
    پاکستان کا قیام درحقیقت برصغیر کے مسلمانوں کا مذہبی‘ اقتصادی‘ سماجی اور معاشرتی استحصال کرنےوالے انگریز سامراج اور اسکے ٹوڈی ہندو بنیاءکی غلامی سے نجات حاصل کرنے کیلئے عمل میں لایا گیا تھا اور تصور یہی تھا کہ اپنی آزاد اور خودمختار مملکت میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہونے کےساتھ ساتھ انکی اقتصادی حالت بھی بہتر ہو جائیگی اور انہیں قومی وسائل کو بروئے کار لانے اور روزگار حاصل کرنے کے یکساں مواقع حاصل ہونگے۔ ہمارے سیاسی حکومتی قائدین کو سوچنا چاہیے کہ آج ہم وہ مقاصد کیوں حاصل نہیں کر پائے جن کی خاطر برصغیر کے مسلمانوں کےلئے ایک الگ خطہ حاصل کرنے کی بانیانِ پاکستان قائد و اقبال نے ضرورت محسوس کی تھی۔ اگر ہم آج بھی خود انحصاری کی منزل کے حصول کیلئے پرعزم ہوں تو قدرت نے ہمیں وسائل سے مالامال کر رکھا ہے جنہیں بروئے کار لا کر ملک کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ آج یوم آزادی کے موقع پر قومی سیاسی قائدین کو محض تجدید عہد نہیں‘ عملیت پسندی کے ساتھ قوم کی ترقی و خوشحالی کیلئے عزم نو کرنا چاہیے۔ پاکستانی قوم بہرصورت اتنی صلاحیتوں کی حامل ہے کہ مشکل سے مشکل حالات اور کسمپرسی کی حالت میں بھی ملک کی تقدیر سنوارنے کا جذبہ رکھتی ہے۔ ملک پر جب بھی زلزلے‘ سیلابوں کی شکل میں کوئی قدرتی آفت ٹوٹی ہے‘ قوم نے ثابت قدمی کے ساتھ اس کا سامنا اور مقابلہ کیا ہے اور قومی جذبے کو کبھی ماند پڑنے دیا ہے‘ نہ قومی پرچم کبھی سرنگوں ہونے دیا ہے۔ قوم تو یقیناً قیام پاکستان کے مقاصد کی روشنی میں بانیانِ پاکستان کے آدرشوں کے مطابق تعمیر و استحکام پاکستان کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کو ہمہ وقت تیار ہے‘ اگر ہماری قومی سیاسی قیادتیں بھی تعمیر ملک و ملت کے جذبے سے سرشار ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔ آج کے دن کا یہی پیغام ہے کہ صلاحیتوں سے معمور قوم کو اس سمت پر ڈال دیا جائے جو ملک کو کامرانیوں کی جانب لے جانے کی ضمانت بن سکے۔
    آج خوش قسمتی سے سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ نے بھی مکہ مکرمہ میں دو روزہ غیرمعمولی اسلامی سربراہ کانفرنس طلب کر رکھی ہے جس میں پاکستان کی نمائندگی صدر آصف علی زرداری کر رہے ہیں‘ انہیں اس کانفرنس میں بھی وطنِ عزیز پاکستان کو لاحق سنگین خطرات سے آگاہ کرنا چاہیے اور مسلم امہ کے اتحاد کی ضرورت کا احساس دلانا چاہیے۔ اس تناظر میں ہمیں روایتی تجدید عہد سے آگے نکل کر اس اسلامی فلاحی جمہوری پاکستان کیلئے انفرادی اور اجتماعی ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرنا ہو گا جو بانیانِ پاکستان قائدؒ و اقبالؒ کا خواب تھا۔ ہمیں قومیتوں سے پھر ایک قوم بننا ہو گاتاکہ پاکستان کو قائد اعظم کے فرمان کے مطابق اسلام کی تجربہ گاہ کے قالب میں ڈھالا جا سکے۔(اداریہ بشکریہ نوائے وقت 14 اگست 2012)

  12. محمداحمد ترازی says:

    پاکستان کا قیام 20 ویںصدی کا ایسا حیرت انگیز واقعہ ہے جس کا تاریخ عالم میں جواب نہیں ۔قوموں کی زندگی میں کبھی کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے جب انہیں موت و زندگی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ یہ نازک وقت انکے جذبہ عمل اور سیاسی بیداری کا بڑا سخت امتحان ہوتا ہے۔یا تو ہمیشہ کی زندگی یا پھر مکمل تباہی۔”قائد اعظم ؒ نے قوم کو للکارا“Achieve Pakistan or perish پاکستان حاصل کرو یا تباہ ہو جاﺅ۔

    بڑا نازک اور کٹھن وقت تھا۔ لیکن قوم نے یہ سوچ کر کہ یہ موقع پھر ہاتھ نہ آئےگا آنےوالی نسلوں کی بقا کی خاطراپنا تن،من،دھن سب کچھ قربان کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ طلبہ نے تعلیم کو خیر باد کہا اور ملازمت پیشہ افراد نے ملازمتوں کو ٹھکرا دیا ،تاجروں نے دوکانیں بند کر دیںاور علماءو مشائخ نے خانقاہوں کو چھوڑ دیا ،سب مل کر چلے ،مخالفتوں کا سر کچلا،ہواﺅں کا رُخ بدلا، طوفان بن کر اٹھے،آندھی بن کر چھائے ،صاحبان بصیرت نے اپنی کشتیاں جلا دیں اور فدایان ملت نے اپنا آشیانہ خود بجلیوں پر گرا دیا ۔اگر ہم ماضی میں جھانکنے کی زحمت کریں تو برصغیر میں جب تک مسلمان فرقوں اور گروہوں میں بٹے رہے ذلت و خواری ان کا مقدر بنی رہی ۔دوسری قومیں تعلیم، تنظیم، صنعت و حرفت اور معاشی آسودگی میں بہت آگے نکل گئیں لیکن مسلمان زندگی کے ہر شعبے میں پست سے پست تر ہوتے چلے گئے۔ مغلیہ سلطنت کا سورج غروب ہونے کے بعد مسلمانوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔انگریز انہیں اپنا بد ترین دشمن جانتے تھے اور ہندو ان سے ہزار سالہ حکومت کا بدلہ لینے پر تلے ہوئے تھے۔ ہندوستان گیر پیمانے پر مسلمانوں کی کوئی تنظیم نہ تھی کوئی مقامی لیڈر نہ تھا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر طرف مایوسی نے ڈیرے ڈال لئے ۔بنگال میں نواب سراج الدولہ، میسور میں حیدر علی اور ٹیپو سلطان نے انگریزوں کا انتہائی بہادری سے مقابلہ کیا لیکن تنظیم کے فقدان، وسائل کی کمی ،اپنوں کی غداری،غیروں کا ساتھ نہ دینے کے سبب شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔1857 میں جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد ایک ایسا وقت بھی آیا جب شہزادوں کے سر بادشاہوں کو پیش کئے گئے مسلمانوں کو سر عام پھانسی دی گئی لیکن کوئی اف تک کرنےوالا نہ تھا یہاں تک کہ اس وقت کے حالات کا مطالعہ کرتے ہوئے حکیم الامت علامہ اقبال ؒ کہہ اٹھے ۔

    بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
    مسلمان نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

    ان تمام حالات کے باوجود غبار راہ بن کر دربدر بھٹکنے والی علاقائی تنظیمیں 72 فرقوں میں بٹے ہوئے گروہ اور صوبائیت کے خول میں بند مسلمان جب تحریک پاکستان میں ایک قوم بن گئے تو پشاور سے راس کماری تک اور سیالکوٹ سے چاٹ گام تک ایک ہی نعرہ گونج رہا تھا۔

    لے کے رہیں پاکستان
    بٹ کے رہے گا ہندوستان
    پاکستان کا مطلب کیا
    لا الہ الا اللہ

    اور پھر صرف 7 سال کی قلیل مدت میں 27 رمضان المبارک جمعة الودع کے روز سعید اور مقدس ساعتوں میں ہم وہ خطہ ارضی پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جہاں سے میرے آقا رسالت مآب ﷺ کو ٹھنڈی ہوا آیاکرتی تھی۔ پاکستان مسلمانوں کے اتحاد کا مظہر ہے یہ اس بات کی علامت ہے کہ تعلیمی میدان میں پسماندہ اور معاشی اعتبار سے پست اور تعداد میں کم ہونے کے باوجود اگر مسلمان وحدت ملی کے سانچے میں ڈھل جائیں تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کو شکست دے سکتے ہیں۔ آج اتحاد و انتشار کی یہ دونوں تصویریں ہمارے سامنے ہیں انکی روشنی میں ہم اپنا مستقبل سنوارنے کی بہترین منصوبہ بندی کر سکتے ہیں کل حصول پاکستان کی جدوجہد تھی اور آج تعمیر پاکستان کا دور ہے۔

    آزادی کا حصول یقینا بہت مشکل کام تھا لیکن اس آزادی کے برقرا رکھنے کےلئے بھی بڑی قربانیاں دینا پڑتی ہیں ۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب قومی سوچ کے دھارے میں شامل ہوجائیں تا کہ پاکستان کو دنیا کی عظیم مملکتوں کی صف میں شامل کیا جا سکے۔آج ہمیں یہ بات بھی ذہن نشین رکھنا ہو گی کہ پاکستان اپنے لئے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کےلئے بنایا گیا تھا یہی سبب ہے کہ بنانے والوں نے حصول و استحکام پاکستان کےلئے جان و مال کی بڑی سے بڑی قربانی دے کر دشمن کی ہر چال کو ناکام بنا دیا ۔پچھلی نسل نے تو دشمن کی ہر چال کو ناکام بنا دیا مگر اب یہ نئی نسل کا کام ہے وہ بھی ہوش مندی سے کام لے سب کو ایک نظر سے دیکھے اور سب ایک دوسرے کے حقوق کا پاس کریں۔ پیش نظر ہمیشہ یہ حقیقت رہنی چاہےے کہ اگر برصغیر کے مسلمان مل کر پاکستان بنا سکتے ہیں تو انکی اولادیں اسی پاکستان کو باہمی محبت و یگانگت سے کام لے کر بام عروج تک کیوں نہیں پہنچا سکتیں؟

    پاکستان کسی سندھی ،پنجابی،بلوچی ، پٹھان اور کشمیری نے نہیں بنایا بلکہ یہ تو برصغیر کے دس کروڑ مسلمانوں کی مشترکہ جدوجہد کا حاصل ہے۔دن کی روشنی میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کواپنے رب کی طرف سے فکر پاکستان عطا ہوئی(خطبہ الہ آباد 1930)۔ یہ اصول ہے کہ ہمیشہ عظیم کام عظیم مواقع پر ہی وجود پذیر ہوتے ہیں ۔دین اسلام کی سر بلندی کےلئے اسلام کے قلعہ پاکستان کے قیام کےلئے اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺ کے امتیوں کا ہی مہینہ منتخب فر مایا۔قرآن پاک کی عظمت کا بول بالا کرنے کےلئے، نظام قرآن کے نفاذ کےلئے نزول قرآن کی رات کا انتخاب کیا گیا اور پھر غلبہ دین حق کےلئے جمعة المبارک کا دن ” سبحان تیری قدرت“ دنیا کے نقشے پر عظیم مملکت پاکستان وجود میں آیا۔ رنگ و نور میں نہائی لیلة القدر کی پاکیزہ صبح طلوع ہوئی اور وجود پاکستان کا پہلا دن شروع ہوا ۔

    یہ بھی رمضان کا مہینہ ہے اور وہ بھی رمضان کا مہینہ تھا ۔ ایسی ہی نورانی سحری و افطاریاں تھیں لیکن 1947 کے رمضان کی ترنگ و امنگ ہی کچھ اور تھی ۔جشن پاکستان اس وقت بھی منایا جا رہا تھا آزادی کے گیت اس وقت بھی گائے جا رہے تھے لیکن آج کی طرح نہیں۔ بہنوں بیٹیوں اور ماﺅں کے سروں سے دوپٹے تب بھی کھینچے جا رہے تھے ،دہشت گردی اس وقت بھی ہو رہی تھی فرق صرف یہ تھا کہ تب یہ مذموم کام پاکستان اور اسلام کے دشمن کر رہے تھے لیکن اب مقام افسوس ہے کہ جشن آزادی کے نام پر یہی کام پاکستانی مسلمان کر رہے ہیں۔ تحزیب کاری اور دہشت گردی کے واقعات میں معصوم بچوں کو نیزوں کی انی پر چڑھایا جا رہا تھا لیکن تب یہ کا م اسلام کے دشمن کر رہے تھے آج ایسے واقعات میں اپنے ہی ملوث ہیں۔اس تب اور اب میں مقصد پاکستان کہیں کھو گیا،پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کا نعرہ منوں مٹی تلے دب گیا، 27 رمضان گم ہو گیا،صرف 14 اگست رہ گیا۔اسلام کے نام پر قائم ہونےوالے اس ملک کی سرحدوں کو اسلام کےخلاف استعمال کیا جانے لگا۔ملک عزیز پاکستان کو آج اپنے وجود کے سبب سے خطرناک بحرانوں کا سامنا ہے۔غداران وطن کی ایک کھیپ نے اسے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے اگرچہ پاکستان آج بھی قائم ہے ان شاءاللہ کل بھی قائم رہے گا اور بفضل تعالیٰ قیامت تک قائم رہے گالیکن یہ قیام اپنے وجود کی کیا قیمت ادا کر رہا ہے یہ سب جانتے ہیں۔

    ایک ادنیٰ پاکستانی کی حیثیت سے مجھے نئی نسل پر پورا اعتماد ہے کہ آپس میں اختلاف رائے اور ہنگامہ آرائی وقتی چیزیں ہیں ساری قوم مل بیٹھ کر مسائل حل کر لے گی۔جس دن ساری قوم نے اس موجودہ فرسودہ سیاسی نظام کو خیر باد کہہ دیا جسے مفاد پرست سیاست دانوں نے جمہوریت کا خوبصورت نام دے رکھا ہے۔ 2 فیصد طبقے کو مراعات دینے اور نوازنے کےلئے پچھلے 65 سال سے قانون سازیاں کی جا رہی ہیں۔ انشاللہ جس دن پاکستانیوں کی حقیقی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آنا شروع ہو جائیں گی اور قوم ایک نقطہ پر جمع ہو جائےگی اور وہ نقطہ ہو گا حقیقی تبدیلی ،حقیقی جمہوریت اور حقیقی قیادت۔پاکستان کا مستقبل بہت روشن ہے اور نوجوان نسل اسے دنیا کی عظیم مملکتوں کی صف میں ضرور بہ ضرور کھڑا کرنے میں کامیاب ہو گی۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ سارے پاکستانی بالخصوص نوجوان اپنے بزرگوں کی بے لو ث خدمات اور قربانیوں کو یاد رکھیں اور کبھی یہ نہ بھولیں کہ پاکستان لاکھوں شہیدوں کی امانت ہے جو اب انکے سپرد کر دی گئی ہے ۔رمضان المبارک کی ان طاق راتوں میں دعا ہے کہ سب کو پاکستان کی بہاریںمبارک ہوں۔ خدا کرے سب لوگ پاکستان کے افق پر آفتاب و ماہتاب بن کر جگمگائیں لیکن یہ کبھی نہ بھولیں کہ یہ ملک آگ اور خون کا سمندر عبور کرنے کے بعد ملا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ ….

    ہم نے لاکھوں جان گنوا کر پاکستان بنایا ہے
    گھر کے سارے دیپ بجھا کر اسکا دیپ جلایا ہے
    پاکستان کا قیام تو یقینا معجزہ تھا لیکن اسکا مستحکم رہنا اور دشمنوں کے وار سے محفوظ رہنا بھی معجزہ ہو گا بس ہمیں اس شعر کی مجسم تصویر بننا ہے….
    ہم نے گلشن کو یوں بچانا ہے
    برق پر آشیاں بنانا ہے
    (مضمون جناب عبدالحفیظ چودھری نوائے وقت)

  13. محمداحمد ترازی says:

    قیام پاکستان کی اساس

    (محمد آصف بھلی نوائے وقت )

    آج 14 اگست ہے۔ قیام پاکستان کا مبارک دن۔ آج کے دن ہمارے لیے بالخصوص نوجوان نسل کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ قیام پاکستان کی اساس کیا تھی۔ جہالت کے وہ پُتلے جنہوں نے بظاہر دانشوری کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے ہمیں یہ بتاتے ہےں کہ پاکستان کی بنیاد اسلام نہیں تھا اور یہ کہ قائداعظم پاکستان کو ایک سیکولر سٹیٹ بنانا چاہتے تھے۔ بیوقوف سے بیوقوف اور احمق سے احمق انسان بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ اگر انڈیا میں اُمت محمدیہ، ملتِ اسلامیہ اور جماعت مومنین کا دو قومی نظریہ کی بنیاد پر اپنا ایک الگ تشخص اور وجود ہی نہ ہوتا تو قیام پاکستان کا مطالبہ جنم ہی نہیں لے سکتا تھا۔ دو قومی نظریہ ایمان اور کفر کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا یہ نظریہ وطن، رنگ، نسل، زبان حتیٰ کہ رشتہ داری اور قرابت داری کی بھی نفی کر دیتا ہے کیوں کہ ملت اسلامیہ میں وجہ اشتراک صرف اور صرف دین ہے۔ دین خدا کی طرف سے ملتا ہے لیکن اُمت کی تشکیل اس رسول کی مرہون منت ہے جو اُس دین کو لوگوں تک پہنچاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام کے پیروکار ملت محمدیہ یا قوم رسول ہاشمی کہلاتے ہیں۔ اگر قومیت کی اساس وطن یا نسل کو ٹھہرایا جائے تو پھر رسول کریم سے نسبت ختم ہو جاتی ہے اور جب رسول پاک سے تعلق ختم ہو جائے تو پھر اسلام سے رشتہ بھی باقی نہیں رہتا۔ پاکستان یقیناً قوم رسول ہاشمی کی بنیاد پر قائم ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان نسبتِ مصطفی کے باعث معرض وجود میں آیا ہے۔ جس وطن کی بنیاد محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہو کیا وہ سیکولر سٹیٹ بننے کے لیے قائم ہوا تھا۔
    قائداعظم نے مارچ 1940ءمیں مسلم لیگ کے لاہور میں تاریخی اجلاس کے موقع پر اپنے خطبہ صدارت میں فرمایا تھا کہ ”ہمارے ہندو دوست اسلام اور ہندومت کی حقیقت اور اہمیت سمجھنے سے کیوں گریزاں ہیں۔ یہ دونوں مذہب نہیں بلکہ ایک دوسرے سے مختلف معاشرتی نظام ہیں۔ ہندو اور مسلمان مذہب کے ہر معاملہ میں دو جداگانہ فلسفے رکھتے ہیں۔ دونوں کی معاشرت اور تہذیبیں ایک دوسرے سے الگ ہیں جن کی بنیادیں متضاد تصورات پر ہیں۔ دو ایسی قوموں کو ایک نظامِ مملکت میں یکجا کر دینا باہمی مناقشت کو بڑھائے گا اور بالآخر اس نظام کو پاش پاش کر دے گا جو اس ملک کی حکومت کے لیے وضع کیا گیا ہو گا۔“
    قائداعظم دو قومی نظریے کی حقیقت کو منوا کر ہی پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ قائداعظم کی 11 اگست 1947ءکی جس تقریر کا بار بار حوالہ دے کر یہ مغالطہ پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ قائداعظم کے پیش نظر پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانا نہیں بلکہ وہ سیکولر سٹیٹ کے حامی تھے۔ اگر قائداعظم کی 11 اگست 1947ءکے اس تقریر کو بغور پڑھا جائے تو ان کا مطمع نظر صرف اقلیتوں کو یہ یقین دلانا تھا کہ انہیں بلاتفریق مذہب پاکستان کا شہری تصور کیا جائے گا اور پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق مساوی ہوں گے۔ اگر قائداعظم کے ان خیالات کے باعث انہیں سیکولر سٹیٹ کا علمبردار سمجھ لیا جائے تو یہ سراسر نادانی ہو گی۔ قائداعظم نے اقلیتوں کے ساتھ رواداری کا جو فلسفہ پیش کیا تھا۔ یہ فلسفہ انہوں نے حضور نبی کریم کی زندگی سے سیکھا تھا۔ چنانچہ 11 اگست کے صرف 3 دن کے بعد 14 اگست 1947ءکو مجلس آئین ساز کے افتتاحی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا تھا کہ ”شہنشاہ اکبر نے غیر مسلموں کے ساتھ جس مذہبی رواداری اور حسن سلوک کا ثبوت دیا تھا وہ ہمارے ہاں کوئی بعد کا وضع کردہ مسلک نہیں تھا وہ مسلک ہمارے ہاں تیرہ سو سال پہلے سے چلا آ رہا تھا، جب حضور نبی اکرم نے یہودیوں اور عیسائیوں پر فتح حاصل کر لینے کے بعد ان سے زبانی نہیں بلکہ عملاً انتہائی رواداری برتی اور اُن کے مذہب و عقائد کو عزت و احترام کی نظروں سے دیکھا۔ مسلمانوں کی تمام تاریخ اس کی گواہ ہے کہ انہوں نے جہاں جہاں بھی حکومت کی غیر مسلموں کے ساتھ انہوں نے رواداری اور حسن سلوک کے ایسے ہی انسانیت نواز اصولوں پر عمل کیا۔“ قائداعظم نے 30 اکتوبر 1947ءکو لاہور میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”میرا یہ پیغام جس جس شخص تک پہنچے وہ اپنے آپ سے یہ پختہ عہد کرے کہ وہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے اور اندرونی اور بیرونی امن کی حامل عظیم مملکت بنانے کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گا۔ پاکستان اور اسلام کی عزت بچانے کے لیے ہمیں موت کا بہادری سے مقابلہ کرنا چاہیے۔ مسلمان کے لیے اس سے بہتر اور کوئی راہِ نجات نہیں ہو سکتی کہ وہ ایک نیک مقصد کے لیے جان دے کر شہادت کے بلند رُتبہ پر فائز ہو جائے۔“ میں ایک تو پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کی بات کی ہے اور دوسری بات یہ کہ پاکستان اور اسلام کی عزت کی خاطر ہمیں شہید ہونے سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر اس کے بعد بھی کسی شخص یا گروہ کو یہ اصرار ہے کہ قائداعظم پاکستان کو اسلامی ریاست نہیں بنانا چاہتے تھے یا قیام پاکستان کی بنیاد اسلام نہیں ہے تو اسے پھر ان کے ذہن کا دیوالیہ پن ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

  14. محمداحمد ترازی says:

    آزاد وطن تیرے صدقے

    (مطلوب احمد وڑرائچ ،نوائے وقت )

    میں نے اپنی زندگی کا طویل حصہ دیارِ غیر میں گزارا۔ یورپی ممالک میں آج بھی مجھے کاروباری سلسلے میں جانا پڑتاہے۔ امریکہ،برطانیہ، کینیڈا میں کئی کئی ماہ گزارنے کا موقع ملا۔ اگر میں یہ کہوں کہ آدھی دنیا دیکھ چکا ہوں تو اس میں مبالغہ آرائی نہیں ہوگی۔ میں ایک کاروباری شخص اور سیاستدان ہونے کے ساتھ تاریخ کا طالب علم بھی ہوں۔ دوسرے ممالک جا کر ان کی تہذیب و تمدن، سیاست، ترقی و خوشحالی کا جائزہ لیتا رہتا ہوں۔ بعض ممالک ترقی یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ خوبصورت بھی ہیں۔ ایسے بھی ہیں جن کو قدرت نے حسن سے نہیں نوازا لیکن اپنی کوشش اور کاوش کے ذریعے خود کو حسین بنا لیا۔ میں نے جتنے بھی قدرتی یا مصنوعی طور پر خوبصورت بنائے گئے ممالک دیکھے ان میں قدرتی حسن کے حوالے سے ایک بھی پاکستان کا نادرالوجودنہیں ہے۔ پاکستان وہ ہیراہے جس کو کبھی تراشنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ یہ مٹی میں رولا گیا موتی ہے۔ اس کی تراش خراش کر دی جائے اور اس کا وجود مکمل کر دیا جائے تو پاکستان کی سیاحتی صنعت اتنی ترقی کرے کہ ہمارے تمام معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کا وجود کشمیر کے بغیر نامکمل ہے۔ کشمیر کو دنیا میں جنت نظیر کہا جاتا ہے۔ دنیا میں کہیں ہمالیہ نہیں ہے۔ ہمیں احساس اور قدر ہی نہیں ہے۔ پاکستان دریاﺅں، نہروں، جھیلوں، چشموں اور آبشاروں کی سرزمین ہے۔ یہ وہ حسن ہے جو ہماری کھلی آنکھیں دیکھتی ہیں۔ زمین کے اندر چھپے معدنیات، ہیرے و جواہرات ،سونا چاندی، سنگ سرخ اور سنگ سبز کے خزانے عیاں ہونے کو بے قرار ہیں۔ ہم سے تو پوری طرح تیل اور گیس ہی نہیں نکل پائی۔ پوری دنیا میں پاکستان میں موجود برف پوش وادیاں، سرسبز پہاڑ کم کم ہی ہیں۔ ہم اپنے وسائل سے استفادہ کریں تو غیروں کی محتاجی پاﺅں کی دھول بن سکتی ہے۔
    آج اگر ہم بحرانوں کا شکار ہیں تو اس میں عظیم تر ریاست کا قصور نہیں اس کو چلانے والوں کی پالیسیاں ہیں جو قومی و ملکی مفادات کو مدنظر رکھ کر تشکیل دینے کے بجائے بوجوہ دیگر عوامل کے پیش نظر بنائی جاتی ہیں۔ میں پاکستان کے حال سے ڈسٹرب ضرور ہوں لیکن اس کے مستقبل سے کبھی مایوس نہیں ہوا۔ میں آج مہنگائی، بیروزگاری، لوڈشیڈنگ،لاقانونیت اور بہت سے دوسرے بحرانوں سے دوچار مایوس پاکستانیوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ دوسرے ممالک میں جانے والے پاکستانیوں کو وہاں بڑی سہولتیں ملتی ہیں۔وہاں قانون اور مساوات کا دور دورہ ہے۔ ٹھنڈی ہوائیں ہیں۔ بڑی خوبصورتی ہے۔ زندگی ایک قاعدے اور ضابطے کے تحت رواں دواں ہے۔ بعض پاکستانیوں کو وہاں کی شہریت بھی میسر ہے لیکن جو آزادی اپنے وطن میں ہے وہ کہیں نہیں۔ معمولی جرم پر وہ کان سے پکڑکر ڈی پورٹ کر دیتے ہیں۔ خواہ اس کی دہری شہریت ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کو پاکستان سے کوئی نہیں نکال سکتا۔ آپ کی شہریت کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ ایسی آزادی اور خوبصورتی کیا آپ کو کسی دوسرے ملک نصیب ہو سکتی ہے۔یہ میرے آزاد اور پیارے پاکستان کی بدولت ہے۔
    ہمیں آزادی کی نعمت نہ ملتی تو ہم کہاں ہوئے اور کیسے ہوئے؟ اس کا اندازہ بھارت میں مقیم اہل ایمان کی حالتِ زار دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ سیکولر انڈیا محض نام کا سیکولر ہے۔اصل میں وہاں ہندو انتہا پسندی کا عروج ہے۔پاکستان میں گھروں میں انڈین گانے چلتے ہیں۔ دکانوں، ہوٹلوں، حتی کہ ریڑھی والے بھی انڈین گانے اور ناچ سنتے اور دیکھتے ہیں۔ بھارتی اداکاروں کی تصویریں ہر سو لگی نظر آتی ہیں۔ بھارت میں ایسا کوئی مسلمان نہیں کر سکتا ۔اپنی دکان، ہوٹل، ریسٹورنٹ یا کاروبار کی جگہ پر پاکستانی گانے چلا سکتا ہے نہ پاکستانی کھلاڑیوں اور فنکاروں کی تصاویر آویزاں کر سکتا ہے۔جس نے ایسا کیا اس کا کاروبار ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔پاکستان سیکولر نہیں اسلامی جمہوری ریاست ہے۔لیکن اس میں اقلیتوں کو بالکل اسی طرح کے حقوق حاصل ہیں جس کا اظہار قائداعظم محمد علی جناح نے کیا تھا۔ آج پاکستان کو عظیم تر بنانے کے لیے قائداعظم جیسے لیڈر کی ضرورت ہے۔ قائداعظم ثانی جب بھی پاکستان کو مل گیاایٹمی پاکستان دنیا کے نقشے پر دمکتے ہوئے ستارے کی مانندچمکے گا۔

  15. محمداحمد ترازی says:

    نظریہ پاکستان آج بھی زندہ و جاوید!

    کالم نگار | احمد جمال نظامی

    نظریہ پاکستان کے مخالف آج بھی احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں اور کل بھی رہتے تھے۔ نظریہ پاکستان معرض وجود میں آیا تو پاکستان قائم ہو سکا اور آج پاکستان قائم بھی اسی نظریہ پر ہے۔ آپ اپنے دل و دماغ کے دامن کو جھنجھوڑ کر دیکھ لیں۔باتیں حقیقی ہوتی ہیں یا غیرحقیقی! نظریہ ہر جگہ نظریات کی صورت میں موجود ہوتا ہے۔ لادینیت بھی ایک نظریہ ہے لیکن اس میں بھی نظریات کو بندش قرار دے کر اس کی مخالفت کی جاتی ہے مگر لادینیت بھی کسی نہ کسی نظریہ کی بنیاد پر اپنا بے معنی سا وجود قائم کرنے کی کوششیں کرتا ہے۔ جیسے لادینیت کا نظریہ نظریاتی یعنی اسلامی مملکت کی مخالفت ہے۔ حقیقی اور غیرحقیقی کی طرح نظریات بھی حقیقی یا غیرحقیقی ہوتے ہیں۔ گویا کہ ہر انسان چاہے وہ ملک کا سربراہ ہو، کسی ادارے کا سربراہ ہو یا کوئی ادنیٰ سا ملازم وہ کسی نہ کسی حقیقت کے زیراثر ہوتا ہے مگر اپنے آپ کو عقل کا درجہ دے کر بہت سارے لوگ ان دنوں فیشن کے طور پر بہت ساری ایسی باتیں، بنیادی نکات اور نظریات کی مخالفت کر جاتے ہیں کہ عقل ان کے شعور کی Direction پر دنگ رہ جاتی ہے یہ ایسے ہی ہوتا ہے کہ کوا چلے ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول جائے، جیسے چاندنی رات کو چکور چاند پر جانے یعنی چاند تک پہنچنے کی خواہش میں دیواروں سے سر ٹکرا ٹکرا کر اپنی ز ندگی کا خاتمہ کر لیتا ہے اور جیسے چاندنی راتوں کو مور اپنی خوبصورتی پر چاند کی روشنی میں پھیلا کر بھرپور مسرت کا اظہار کرتا ہے لیکن جب اس کی نظر اپنے بدنصیب پیروں تک پہنچتی ہے تو وہ روتا ہے، چیختا ہے اور چلاتا ہے اس دوران اس کی آنکھوں سے آنسو بھی نکلتے ہیں۔ مور کو تو پھر اللہ تعالیٰ نے یہ عنایت بخشی ہے کہ وہ اپنے پیروں سے اپنی اصل حقیقت پہچان لیتا ہے مگر چکور اور کوے کا کیا کریں۔ آج کل ہمارے معاشرے میں اپنی پاک سرزمین پاکستان کے معرض وجود میں آنے والے نظریہ یعنی نظریہ پاکستان کے خلاف بطور فیشن اظہار کیا جانے لگا ہے بڑے برے لوگ اپنے آپ کو بڑا دانشور اور عقلمند ثابت کرنے کے لئے نظریہ پاکستان کی مخالفت میں بغیر کسی ہچکچاہٹ اور شرم کے بات کرتے ہیں۔ گزشتہ روز ایک مقامی نیوز چینل میں پروگرام کے میزبان جو کہ مخصوص طبقہ کی دقیانوسی سوچ کے مالک ہیں انہوں نے کھلم کھلا کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ پاکستان کو وجود میں کیوں لایا گیا اس کا مقصد کیا تھا کہ پاکستان سے زیادہ بھارت میں مسلمان موجود ہیں۔ یہ نظریہ پاکستان کیا تھا فرانسیسی مفکر Autoine Destull نے نظریہ کی تعریف یوں کی ہے۔
    “I Deology is the study of the origin, evolution and nathre of idecs” نظریہ قوموں کے لئے روح رواں اور قوت متحرکہ کا کام دیتا ہے۔ یہی روح رواں اور قوت متحرکہ نظریہ پاکستان کی بنیاد بنی۔ نظریہ پاکستان دو قومی نظریہ پر ماخوذ ہے وہ لوگ جو یہ کہہ کر قوم کو گمراہ کرتے ہیں کہ پاکستان کا قیام عمل میں لانے کی کیا ضرورت تھی۔ پاکستان سے زیادہ مسلمان بھارت میں رہائش پذیر ہیں اس منفی پراپیگنڈہ کا پرچار کرنے والوں کے لئے یہ جان لینا ضروری ہے کہ سرسید احمد خان کو ہی حضرت علامہ اقبالؒ کے ساتھ دو قومی نظریہ کا بانی کہا جاتا ہے۔یکم اکتوبر 1906ءکو جب سرآغا خان کی سربراہی میں 35ارکان پر مشتمل سرعبدالرحیم نے شملہ وفد کا تصور دے کر اس کو تشکیل دیا تو اس کا مقصد مسلمانوں کی معاشی پسماندگی، معاشی مراعات اور ملازمتوں کے حصول کی مشکلات کو دور کرنا تھا۔ یہ وفد اس لئے تشکیل دیا گیا کہ انگریز 1857ء میں بہادر شاہ ظفر کی مسلمان حکومت کا تختہ الٹ کر آئے تھے اور ہمیشہ مسلمانوں کو اپنا دشمن تصور کرتے تھے جس کا ہندو ہر حال میں فائدہ اٹھا کر مسلمانوںکو انتہائی پسماندہ کر چکے تھے۔

    سرسید احمد خان نے اردو مخالف تحریک کا بھرپور مقابلہ کیا اور اردو ڈیفنس ایسوسی ایشن قائم کی۔ یکم اکتوبر 1906ءکو جب سرآغا خان کی سربراہی میں 35ارکان پر مشتمل سرعبدالرحیم نے شملہ وفد کا تصور دے کر اس کو تشکیل دیا تو اس کا مقصد مسلمانوں کی معاشی پسماندگی، معاشی مراعات اور ملازمتوں کے حصول کی مشکلات کو دور کرنا تھا۔ یہ وفد اس لئے تشکیل دیا گیا کہ انگریز 1857ءمیں بہادر شاہ ظفر کی مسلمان حکومت کا تختہ الٹ کر آئے تھے اور ہمیشہ مسلمانوں کو اپنا دشمن تصور کرتے تھے جس کا ہندو ہر حال میں فائدہ اٹھا کر مسلمانوںکو انتہائی پسماندہ کر چکے تھے۔ اس وفد کے انگریز وائسرائے لارڈمنٹو سے شملہ کے مقام پر مطالبات میں جداگانہ طریقہ انتخابات، ملازمتوں میں حصول علی گڑھ یونیورسٹی کا قیام، عدلیہ میں مسلمانوں کا حصہ میونسپل کمیٹیوں میں نمائندگی اور صوبائی مقننہ میں مسلم نمائندگی شامل تھے۔ اس وفد کی تشکیل اور مطالبات ہندو¶ں کی مسلمانوں کے خلاف مکاری اور مظالم کی روشن دلیل تھی تاہم جب مسلمانوں کے یہ مطالبات 1909ءکی اصلاحات میں تشکیل پائے تو ہندو¶ں اور کانگریس نے اس کی بھرپور مخالفت کی۔ برصغیر پر انگریزوں کے اقتدار کے بعد 1858ءاور 1861ءاصلاحات وغیرہ کی وجہ سے ہندو¶ں نے اپنے آپ کو منظم کرنا شروع کر دیا جبکہ انگریزوں اور ہندو¶ں کی مسلم دشمنی سے مسلمانوں کی حالت انتہائی خراب ہو گئی اور برصغیر میں مسلم دشمنی کے اقدامات عام ہو گئے لہٰذا 29 اور 30 دسمبر 1906ءکو محمڈن ایجوکیشن کانفرنس کے اجلاس منعقدہ ڈھاکہ میں نواب سلیم اللہ آف ڈھاکہ نے علیحدہ منظم جماعت کا تصور دیا اور سرشفیع محمد کی تجویز پر آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مسلم لیگ جس کے ابتدائی ارکان کی تعداد 400 تھی اس کے قیام کا مقصد کانگرس کا دوغلہ طرزسیاست اردو ہندی تنازعہ، تقسیم بنگال کے خلاف تحریک سرسید احمد خان کی دو قومی نظریہ کی نصیحت، شملہ وفد کی کامیابی اور مسلمانوں میں علیحدہ مسلم ترجمان جماعت کی خواہش مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقہ کا ابھرتا شعور، علیحدہ سیاسی پلیٹ فارم اور مسلمانوں کے سیاسی و معاشی مسائل کا حل وغیرہ تھا۔ ویسے تو مسلم لیگ کا قیام ہی نظریہ پاکستان کی روشن اور ٹھوس دلیل ہے کہ جس کے بطن میں مسلمانوں کی طویل داستان رقم ہے مگر 1913ءمیں جب بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی تو اس کے مقاصد میں تبدیلی قیام پاکستان کی وجوہات ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ 1913ءمیں کانپور کا سانحہ، انتہا پسند ہندو¶ں کی سرگرمیاں اور 1911ءمیں تنسیخ بنگال وغیرہ ہندو¶ں کی مسلمانوں کے خلاف انگریز کے ساتھ مشترکہ سازشیں نہیں تھیں تو اور کیا تھا۔ 1909ءمیں انگریز سامراج نے جو منٹو مارلے اصلاحات نافذ کیں جس میں مسلمانوں کے شملہ وفد کے مطالبات کو بھی کسی حد تک تسلیم کیا گیا اس کی بھرپور مخالفت کرنا اور برصغیر میں ہندو¶ں کی طرف سے سیاسی انتشار پیدا کرنا بھی ہندو¶ں کی ایک مسلمانوں کے خلاف سازش کا خطرناک جال تھا۔ نومبر 1916ءمیں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی کوششوں کے مسلم لیگ کے وجود کو تسلیم کروا کر قیصر باغ بارہ دری لکھنو میں میثاق لکھنو طے کروایا تھا۔ 1914ءسے 1916ءتک کئی ہندو مسلم کانفرنس میں 40 مسلمان اور 60ہندو شریک ہوتے رہے کہ دونوں قوموں کے درمیان متنازعہ امور کو طے کیا جائے مگر ہندو¶ں نے میثاق لکھنو کے ذریعے بھی مسلمانوں کو دھوکہ دے کر تباہ و برباد اور معاشی، مذہبی، سماجی اور سیاسی لحاظ سے پسماندہ کرنے کی گھٹیا کوششیں کی۔

  16. محمداحمد ترازی says:

    نظریہ پاکستان اور ابن الوقت سیاستدان
    (چوہدری ایم اے رشید)

    دنیا بھر کے مسلمان خصوصاً پاکستانی قوم 14 اگست کو اپنا 65واں یوم آزادی منا رہی ہے، پوری قوم اپنی آزادی کی مسرتوں اور شادمانیوں سے سرشار ہے۔ آزادی کی قدروقیمت کا اندازہ وہی قومیں کرسکتی ہیں جن کے بیٹے بیٹیوں نے نخل آزادی کی خون جگر سے آبیاری کی ہو۔ اسلامیان برصغیر نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی عہد آفرین قیادت میں مسلم لیگ کے سبز ہلالی پرچم کے زیرسایہ جب یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ ہندو رام راج اور برطانوی سامراج کی دوہری غلامی سے نجات حاصل کرنے کے بعد چانکیائی سیاست کے پیروکار ہندو قوم کی غلامی قبول کرنے کو تیار نہیں کیونکہ مسلمان کسی بھی قوم کی تعریف کی رو سے ایک علیحدہ قوم ہیں اور انہیں اپنی تہذیب و ثقافت، اپنی روایات، اپنے عقائد اور اپنی اقدار و شعائر کے مطابق زندگیاں بسر کرنے کے لئے ایک الگ وطن چاہئے تو یہ ایک تاریخ ساز فیصلہ تھا۔
    اسے قوم کی بدنصیبی ہی کہنا چاہئے کہ قائداعظمؒ کی زندگی نے وفا نہ کی اور نوزائیدہ پاکستانی قوم اپنے فرزانہ یکتا کی تاریخ ساز قیادت سے محروم ہوگئی۔ بابائے قوم کی وفات نے ایک ایسا خلاءپیدا کردیا جو آج تک پر نہ ہوسکا۔ قومی سطح پر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہوا۔ خودغرضی اور مفادپرستی، مصلحت کشی کے تاریک سائے گہرے ہوتے چلے گئے۔ سیاسی سطح پر انتشار و افراتفری کی مکدر فضاءمیں سول اور خاکی بیوروکریسی کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملا اور اس نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ اس طرح ہماری تاریخ کا نصف حصہ فوجی اور سیاسی آمریت کی نذر ہو کر رہ گیا۔ آج 65 سال کے بعد ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں 1947ءمیں تھے۔ بعض اوقات یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے وابستگان سیاست کو جمہوری نظام راس نہیں، اقتصادی اور معاشی طور پر دوسروں کے دست نگر ہیں۔ وہ خطہ جو پورے برصغیر کا اناج گھر تھا، اب ایک چھوٹے سے ٹکڑے کی کفالت سے معذور ہے۔ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ ہم نے وہ رہنما اصول نظرانداز کر دیئے ہیں جو ہمارا نصب العین تھے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں جو سیاسی جمہوری اقدار کی علمبردار بنتی ہیں۔ وہ بھی جمہوریت و سیاست کے بخیئے ادھیڑنے میں پوری طرح سرگرم ہیں۔
    آزادی کا سورج طلوع ہونے سے پہلے ایک برطانوی مصنف ہرلیونیلسن نے قائداعظمؒ سے پوچھا تھا کہ آپ کے مخالف کہتے ہیں کہ پاکستان اقتصادی لحاظ سے اپنے پاﺅں پر کھڑا نہ ہوسکے گا پھر آپ کی قوم پاکستان کیوں چاہتی ہے؟ قائداعظمؒ نے جواب دیا:
    فرمایا کہ محترم بھائی! تم میرے ایک سوال کا پہلے جواب دو۔ کیا تم ایک ایسا انگلستان پسند کرو گے جو آزاد تو نہ ہو لیکن معاشی طور پر نہایت دولت مند ہو؟ ہرلیونیلسن نے جواب دیا کہ قائداعظم اس سوال کا جواب بالکل واضح ہے کہ کوئی قوم غلام بننا پسند نہیں کرتی۔تاریخ اسے اس کی مسیحائی کا اعجاز کہے گی، جس کی بصیرت نے 200 سال کی طویل جدوجہد کو 7 سال میں ایک منزل سے آشنا کیا….!
    دنیا کا نقشہ زیرو بم ہوا، ایک عظیم مملکت وجود میں آئی۔ وہ جو عظیم تھا فولاد سے بھی زیادہ مضبوط، پرعزم اور ہمالیہ سے بلند ارادوں کا مالک اپنا مشن مکمل کرکے چلا گیا۔ جانشین نالائق، خود غرض اور نااہل تھے، میراث پدر سنبھال نہ سکے۔ پہلے ملک دولخت کیا، اب خود لخت لخت ہیں۔
    ہم ہر دانے پر سندھی، بلوچی، پنجابی، پٹھان اور مہاجر ،اللہ جانے کیا کیا پڑھ کر پھونک رہے ہیں۔ ہم دن رات آمریت پر نفرین بھیجتے ہیں۔…. فرقہ واریت کو فروغ دیتے ہیں۔ نفرتوں کے بیچ بوتے اور لاشوں کی فصلیں کاٹتے ہیں۔
    پھر بھی ہم عظیم ہیں…. ہردلعزیز ہیں…. قوم کے رہنما ہیں…. کس قوم کے؟ قائداعظمؒ کی قوم کے جو مینار پاکستان کی بلندیوں پر کھڑا ہمیں دیکھ رہا ہے!!
    مینار پاکستان راوی کے اس پار اپنی ایڑھیاں اٹھا اٹھا کر پکار رہا ہے کہ پاکستان اس لئے حاصل کیا گیا تھا کہ یہاں اسلام کی عملداری اور نظریہ پاکستان کی حکمرانی ہوگی۔ یہاں پر اسلامی جمہوریت کو پروان چڑھایا جائے گا۔ اس کے پہاڑوں کے اندرچھپے ذخائر اور سونا اُگلنے والی زمین کی بدولت اس کی معیشت کو مضبوط بنایا جائے گا۔ آزاد خودمختار اقوام کی طرح غیروں کا دست نگر ہوئے بغیردنیا کی صف میں بلند مقام پر فائز کیا جائے گا۔ پاکستان اور نظریہ پاکستان کے باغبانوں کو امور سیاست اور حکومت میں شامل کیا جائے گا …. لیکن تم نے یہ سب کچھ یکسر نظرانداز کردیا …. یہ ایسے تلخ حقائق ہیں جو ہر مورخ کو معلوم ہیں!!

  17. اردو says:

    ہماری جانب سے آپ کو جشن آزادی مبارک

    http://www.freeimagehosting.net/fhd8s

    افشاں – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
    https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu

Leave a Reply