2014 ,September 19
آپ سب کو پاکستان کا 65 واں جشن آزادی بہت بہت مبارک ہو

نگھت نسیم ، بتاریخ  August 12, 2012

small_pak flag کل محترم المقام استاد محترم جناب صفدر ہمدانی کا خط ملا ۔۔انہوں نے یاد دہانی کرواتے ہوئے حیرانگی سے پوچھا تھا کہ این این اس بار روزوں میں کہیں جشن آزادی کی تیاریاں بھول تو نہیں گئی ہو ۔۔ ارے بابا جی آپ بھی نہ ۔۔ بھلا ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔ بس کیا کہوں کچھ نئی نوکری اور کچھ افطار سحر ۔۔پھر جب آج میں اپنے پیارے وطن کی جشن آزادی کاپروگرام اخبار کےلئے ترتیب دے رہی تھی تو مجھے بھائی شعیب تنولی کا لکھا ہوامضمون ملا جو انہوں نے مجھے بھیجا تھا ملا ۔۔مضمون کا عنوان تھا “ پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔ ؟؟ اور یوں لگا جیسے یہی میرے دل میں تھا ۔ شعیب کا لکھا ہوا میرے لئے کوئی نیا نہیں ہے ۔ ان کے مضامین ایک عرصے سے پڑھ رہی ہوں ۔۔ ہر دفعہ کسی پرانی سوچ کو نئے رنگ میں لکھتے ہیں اور ایسا لکھتے ہیں کہ اسی بات کی ایک نئی جہت سے آگاہی ہو جاتی ہے ۔۔ اور یہی لکھنے والے کا کمال ہوتا ہے ۔۔ بھولے ہوئے سبق یاد کروانا اور یاد رکھنے کے گر بھی بتانا ۔۔۔ شعیب ہماری بلگ فیملی میں پہلی بار شریک ہو رہے ہیں ۔۔ یہ رمضان کے ماہ مبارک کا اعجاز ہے کہ ہمارے کاروان میں اہل علم شامل ہو رہے ہیں ۔۔۔

شعیب تنولی نے اپنے مضمون میں لکھا ہے

یہ میرا پاکستان ہے’ اس کی چھاتی پر رواں دواں دریا’ اس کی آغوش سے پھوٹتی رحمتوں کے سلسلے’ اس کے آنگن میں رقص کرتی ندیاں’ اس کے پہاڑوں میں اچھلتے کودتے چشمے’ اس کے میدانوں میں شاداں و فرہاں پری رو درخت’ زیبا بدن سبزے’ نورنگ پھول’ پھیلتی سمٹتی روشنیاں’ رشک مرجاں شبنمی قطرے’ لہلہاتی فصلیں’ مسکراتے چمن’ جہاں تاب بہاریں اور گل پرور موسم اس کی عظمت کے گیت گا رہے ہیں۔

اس کے پنجابوں پر جھکے جھکے آفاق’ اس کی سرحدوںِپر پھیلی پھیلی فضائیں’ اس کے بام و تخت کے بوسہ لیتے آسمان اس کے حسن تقدیر کے نقوش بن کر ابھر رہے ہیں۔ یہ میرا ملک بھی ہے’ یہ میری تقدیر بھی ہے۔یہ میری داستان بھی ہے’ یہ میرا ارماں بھی ہے۔ یہ میری مچلتی آرزو بھی ہے’ یہ میری آرزوؤں کا آستاں بھی ہے’ میرے خون کے قطروں میں لکھت میں وہ عزم و حوصلہ نہیں جو اس کے آبی قطروں میں ہے۔

میرے دیدہ وچشم کی جھیلوں میں وہ جمال نہیں جو رومان و حسن اس کے جوہڑوں اور تالابوں میں ہے۔ میرے وجود کی مٹی میں وہ دلکشی نہیں جو جاذب نظر اور دلفریبی اس کی خاک میں ہے۔ یہ پھولوں کی دھرتی ہے۔ یہ خوشبوؤں کا مسکن ہے۔ یہ نظاروں کا دیس ہے۔ یہ رحمتوں کی جولانگاہ ہے۔ یہ روشنیوں کا کشور ہے۔ یہ اجالوں کا مصدر ہے۔ اس پر نثار میرے دل وجاں۔

اس پر تصدق میری جز ہائے بدن۔ یہ محض میرا ملک نہیں میرا ایماں بھی ہے’ میری جاں بھی ہے’ اس کے دکھ مجھے دکھ دیتے ہیں’ اس کے سینے سے اٹھنے والے مسائل کے ہوکے میرے دل میں چھبنے والی سوئیاں ثابت ہوتے ہیں۔ اس کی طرف کوئی ٹیڑھی نظر سے دیکھے تو گویا وہ آنکھ نہیں’ میرے جسم میں پیوست ہونے والا تیر ہوتا ہے۔

ساتھیو آپ سب کو عالمی اخبار کی طرف سے اپنے وطن پاکستان کی آزادی کی سالگرہ بہت بہت مبارک ہو ۔۔۔ آئیے اپنی آزادی کا جشن مناتے ہیں ۔۔


117 تبصرے برائے “آپ سب کو پاکستان کا 65 واں جشن آزادی بہت بہت مبارک ہو”

  1. saqlainraza نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 10:34 am

    ڈاکٹرصاحبہ’ آپ کی بات بہت شاندار’بہت عمدہ خیالات۔ سوچنے کامقام تو یہ ہے کہ اَبا کی طرف سے ملنے والے تحفہ کی حفاظت کیلئے ہم صر ف نعرہ بازی تک محدود رہیں یا زندہ باد کے نعروں کی گونج میں یہ سمجھ لیں کہ ہم نے اپنافرض پورا کردیا۔نہیں ‘ سوچئے اور دیکھئے کہ ہم تو اپنے فرائض سے مسلسل غفلت برت رہے۔ میرے استاد محترم پروفیسر فداحسین ملک کہاکرتے ہیں کہ ہم اپنی آنیوالی نسل کو کچھ نہ دے سکے آج جو کچھ بھی ہے یہ اسی وجہ سے ہے کہ ہم نالائق ثابت ہوئے لیکن مجھے آنیوالی نسل سے بہت امید ہے کہ وہ کم ازکم ہماری طرح شرمندہ نہیںہوگی۔ ڈاکٹر صاحبہ۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی کوتاہیوں’ کمزوریوں کاازالہ کریں اور نئی نسل کو کم ازکم وہ راستہ ضرور دکھادیں جو حقیقی پاکستان کی تعبیر کی طرف جاتاہے۔

  2. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 11:03 am

    دوستو محمد ثقلین رضا کا تعارف مجھ پر واجب ہو گیا ہے .. ثقلین کچھ عرصہ قبل ہی عالمی اخبار میں میرے اصرار ہی شامل ہوئے ہیں .. ان کے لکھے ہوئے کالم اور مضامین میں کچھ بھی “ثقیل ” نہیں ہوتا .. رواں تازہ پانی کی طرح بہتے چلے جاتے ہیں

    وہ خود اپنے بارے میں لکھتے ہیں …

    میرا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے پسماندہ مگر زرخیز ذہنوں کی دھرتی بھکر سے تعلق ہے ‘ دشت صحافت کی سیاحی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے ڈیڑھ عشرہ سے زائد ہوگیا۔ اس وقت اس میدان میں قدم رکھا جب ابھی میٹرک کا امتحان پاس کیاتھا۔ گویا صحافتی جراثیم شروع سے ہی خون میں گردش کررہے تھے۔ پھر کالم نگار ی کی جانب قدم بڑھایاتو بہت کچھ جاننے کے باوجود محسوس ہوا کہ کچھ بھی نہیں جانتے۔

    مقامی اخبارات میں لکھتے لکھتے خیال آیا کہ قومی اخبارات میں کوشش کی جائے۔ روزنامہ مرکز اسلام آباد سے یہ سفر شروع ہوا تو پتہ چلا کہ ابھی تو ابتدائے سفر ہے ۔ ہوتے ہوتے آج جہاں ایک قومی اخبار میں لکھنے کاشرف حاصل ہے تو بہت قابل قدر اور خوبصورت جذبوں کی مالک ڈاکٹر نگہت نسیم کی سربراہی میں خوبصورتی سے فرائض انجام دینے والے ”عالمی اخبار” میں لکھنے کاشرف بخشا گیا ہے جو یقینا میرے جیسے کم علم کیلئے بہت بڑا انعام ہے۔

    سوچتا رہتاہوں کہ میں کچھ بھی نہیں ‘ نہ کوئی کام اچھا اورنہ ہی اعمال ‘پھر اتنی عنایات کس طفیل میں مرے حصے میں آئیں۔ پھرخیال آیا کہ وہ تو رحیم وکریم ہے وہ انعام سے نوازتا بھی ہے تو بتاتانہیں کہ کس صلے میں ۔ یہ بھی اسی کا انعام ہے کہ اس کی عطاکردہ امانت ”قلم” کے ذریعے کچھ ٹوٹے پھوٹے لفظ لکھنے کا کچھ نہ کچھ سلیقہ بخشا۔

    اس وقت بھکر سے شائع ہونیوالے دو روزنامہ اخبارات ”بھکرٹائمز ” اور ”قلم قبیلہ” کی ادارت مجھ ناچیز کے ذمہ ہے’ گویا کندھے بہت کمزور ہیں لیکن ذمہ داری بہت بھاری ہے۔ ساتھ ساتھ لکھنے لکھانے کا فریضہ اداکررہے ہیں۔ ساتھ ساتھ ”سانول رائٹرزفورم ” کے تحت ہفتہ وار مباحثوں کا انعقاد کرتے ہیں جس میں متعلقہ شعبہ سے منسلک افراد اور عالی دماغ لوگوں کو سوچنے اوربولنے کی زحمت دیتے ہیں۔ بہت سے خیالات انکے ذہنوں سے اخذ کرکے پھر صفحہ قرطاس پر بکھیر دیتے ہیں۔ بہت کڑھتے ہیں’ سوچتے ہیں لیکن ہرسو ناامیدی کے باوجود مایوس نہیں ہوئے اورانشا اللہ قبر کے قریب پہنچنے پر بھی مایوس نہیں ہونگے۔”

    ساتھیو مجھے رمضان ہمیشہ ہی اچھا لگتا ہے .. اپنے ساتھ دلی سکون کے ساتھ ساتھ خوشیاں بھی لاتا ہے … ثقلین آپ کا ہماری اخبار کے لئے لکھنا ہماری خوش قسمتی ہے .. ہمارے پاس سوائے شکریہ کے ادا کرنے کو کچھ نہیں .. کاش کہ ہم آپ کی محبت اور عنایت کا بدل دے سکتے .. بلاگ فیملی میں شامل ہونے پر بہت بہت خوش آمدید .. جی آیا نوں .. آپ کی شمولیت اب یہاں ہمیشہ رہنی چاہیئے … سلامت رہیں ..

  3. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 11:08 am


    ہمارا پرچم یہ پیارا پرچم

  4. saqlainraza نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 11:10 am

    ڈاکٹر صاحبہ۔محبت ‘عنایت تو بے بدل ہوتی ہیں’ آپ کی عنایات کا کس منہ سے شکریہ اداکروں۔رہی بات یہ کہ مجھ سے کم علم کی بابت آپ کے الفاظ کی ‘تو میں سمجھتاہوں کہ آپ بہت عظیم ہیں کہ کہنے کا ہنر جانتی ہیں۔ بیحدشکریہ کہ بلاگ فیملی میں شامل کرلیا

  5. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 11:25 am

    اب تو ہر سال یہ عادت ہو چکی ہے یوم آزادی مبارک کہنے کی باکل ایسے جیسے ہم سال میں دو بار عید مبارک کہتے ہیں. میں جانتا ہوں کہ آزادی کی نعمت کیا ہے لیکن اپنی مادر وطن کے حوالے سے اکثر یہ سوچتا ہوں کہ کیا واقعی اب پاکستان کا یوم آزادی مبارکباد کے لفظ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے. بہت سے لوگ ہو سکتا ہے کہ یہ کہیں کہ صفدر ھمدانی اشکبار قبیلے کا فرد ہے اور اسے تو خوشیوں میں بھی رونے کی عادت ہے اس لیئے خوشی کے اس موقع پر بھی رونے کی باتیں کرتا ہے.
    میں کیا کرؤں کہ مجھے اپنی شاعری میں،نثر میں یا اپنے خطابات میں صحراؤں کو سر سبز کھیت بنانے کا فن نہیں آتا. میری آنکھیں جو منظر دیکھتی ہیں اور میرے کان جو نوحے سنتے ہیں میرا قلم خون کی شکل میں اسی کو اگل دیتا ہے.
    چودہ اگست. پاکستان کا یوم آزادی. ذرا سوچیں تو سہی اب یہ عظیم دن جو شب قدر کے مماثل ہے کیا بن کر رہ گیا ہے
    صبح اکیس توپوں کی سلامی
    قائد اعظم اور علامہ اقبال کے مزار پر قرآن خوانی
    مزار قائد پر گارڈ کی تبدیلی
    ٹی وی اور ریڈیو پر برسوں پرانے گھسے پٹے پروگرام اور قومی و ملی نغمے
    آگ اور خون کی روشنی میں نہائے ہوئے اور لوڈ شیڈنگ کے مارے ہوئے شہروں میں چراغاں
    وفاق اور صوبوں میں سرکاری سیمینار اور مباحثے
    تقسیم اعزازات
    اور
    بڑے بڑے سرکاری کھانے اور صدر و وزیر کے وہ پیغامات جن میں برسوں سے صدر اور وزیر اعظم کا نام تبدیل ہوتا ہے
    …..
    میرے ہم وطنوں یہ ہے ہمارا یوم آزادی
    ہم سب کی طرف سے آپ سبکو یہ یوم آزادی بھی مبارک ہو کہ ہم غلام ذہنوں کے لیئے یہ بھی بہت بڑی نعمت ہے

  6. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 11:41 am

    بابا چلئے آزادی کاجشن ایک طرف مگر آپ نئے آنے والے ساتھیوں کومبارکباد تو دیجئے .. دیکھئے شعیب تنولی اور ثقلین رضا پہلی بار بلاگ فیملی میں شامل ہوئے ہیں .. خوش آمدید قلمکاروں .. بس بڑھے چلو .. بڑھے چلو .. ڈھیروں دعائیں

  7. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 11:48 am

    مصباح بھائی آپ کی کمی بہت محسوس ہو رہی ہے .. اگر زرا سی بھی طبعیت اچھی ہو تو پلیز ایک بار بلاگ میں ضرور آیئے گا … اللہ کریم و رحیم اپنے حبیب پاک کے صدقے آپ کو صحت و سلامتی عطا فرمائے .. آمین

  8. عمران الیاس نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 11:57 am

    اگست اور 15 اگست کی درمینای شب بمطابق 27 رمضان المبارک 1366 ھ رات14ٹھیک بارہ بجے دنیا کے نقشے پر ایک ازاد اور خودمختار اور دنائے اسلام کی سب سے بڑی مملکت کا اضافہ ہوا جس کا نام پاکستان ہے اس سے قبل جمعرات 14 اگست 1947 کو صبح نو بجے دستور ساز اسمبلی کے ایک خصوصی اجلاس میں ہندوستان کے اخری وائسرائے لارڈ ماونٹ بیٹن نے پاکستان کی آزادی اور اقتدار کی منتقلی کا اعلان کیا۔۔صبح ہی سے عمارت کے سامنے پرجوش عوام جمع تھے جب پکستان کے نامزد گورنر جنرل حضرت قائد اعظم محمد علی جناح اور لارڈ ماونٹ بیٹن ایک خصوص بگھی میں سوال اسمبلی ہال میں پہنچے تو عوام نے پرجوش نعروں اور تالیوں سے ان کا استقبال کیا، اسمبلی کی تمام نشستیں پر تھیں گیلری میں ممتاز شہریوں سیاست دانوں ملکی اور غیر ملکی اخباری نمائیندوں کی بھاری تعدار موجود تھی
    کرسی صدارت پہ دستور ساز اسمبلی کے صدر جناب حضرت قائد اعظم محمد علی جناح تشریف فرما تھے ان کے برابر لارڈ ماونٹ بیٹن کی نشست تھی دونوں اکابرین نے جب اپنی اہپنی نشست سنباھلی تو اسمبلی کی اکرروائی کا باقاعدہ اغاز ہوا سب سے پہلے لارڈ ماونٹ بیٹن نے شاہ امگلستان کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں قائد اعظم کو مخاطب کر کے کہا گیا تھا

    برطانوی دولت مشترکہ کی اقوام کی صف میں شامل ہونے والی نئی ریاست کے قیام کے عظیم موقع پر میں آپ کو دلی مبارک پیش کرتا ہوںآاپ نے جس طرح آزادی ھاصل کی وہ ساری دنیا کے حریت پسند عوام کے لیے ایک مثال ہے میں توقع رکھتا ہوں کہ برطانوی دولت مشترکہ کے تمام ارکان جمہوری اصولوں کو سربلند رکھنے میں اپ کا ساتھ دیں گے
    اس پیغام کے بعد لارڈ مونٹ بیٹن نے الواداعی تقریر کی اور پاکستان اور پاکستانی عوام کے لیے دعا مانگی لارڈ ماونٹ بیٹن کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی تقریر کا اغاز کیا انہوں نے
    سب سے پہلے شاہ انگلستان اور وائسرائے کا شکریہ ادا کیا انہیں یقین دلایا کہ ہمارا ہمسایوں سے بہتر اور داستانہ جذبہ کبھی کم نہ ہوگا اور ہم ساری دنیا کے دوست ہیں اسمبلی کی کارروائی اور اعلان آزادی کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح لاررڈ مونٹ بیٹن کے ہمراہ شاہی بگھی میں سوار ہو کر گورنر جنرل ہاوس میں پہنچے دوپہر دو بجے لارڈ ماونٹ بیٹن نئی دہلی روانہ ہو گئے جہاں اسی رات 12 بجے بھارت کی ازادی کے اعلان کے ساتھ ہی انہیں بھارت کے گورنر جنرل کا منصب سنبھالنا تھا

    اسوقت ملت کو ملک کی ضرورت تھی اور اب اس ملک کو ملت کی ضرورت ہے ہمارا ملک بہت اچھا ہے بس ملت کا اچھا ہونا اب وقت کی صرورت ہے۔

    سوچنے کا نہیں عمل کا وقت ہے۔

  9. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 11:57 am

    لیجئے جی ایک میل ملی ہے فیصل کی … کراچی سے لکھتے ہیں
    WHAT IS PAKISTAN BAJI ?
    A nation where PIZZA reaches home faster than AMBULANCE & POLICE…
    Where u get CAR LOAN @ 8% but EDUCATION LOAN @ 12%. Where 1 kg ONION is Rs.24 but SIM CARD free.
    Olympic shooter wins GOLD ,govt gives 3 crore.
    Target shooters dies fighting with TERRORIST. GOVT pays 1 lakh.
    really, incredible PAKISTAN.
    (Great Nation)

    ًمیرے اچھے بھائی فیصل یہی ہے ہمارا پاکستان … صرف اتنا سوچ کہ اگر یہ نہیں ہو گا تو ہمارا ٹھکانہ کیا ہو گا .. بھری دنیا میں ” رفیوجی ” کہلائیں گے … اور انہیں کی طرح در بدر بھٹکے گے اور جب کوئی پوچھے گا کہ which country from you ? تو آپس میں ایک دوسرے کو دیکھا کریں گے … جب کوئی فارم بھریں گے تو نیشنلٹی کی جگہ کیا لکھیں گے .. نہ میرے اچھے بھائی ہمیں حوصلہ دکھانا ہے .. ایک بندمٹھی کی طرح ایکبار پھر آگے اور صرف آگے بڑھنا ہے … ہم شاہین تھے ہم شاہین ہیں اور شاہیں ہی رہینگے .. ہمارا ٹھکانہ چٹانوں سے بہت اونچا ہے ..

  10. سید مہتاب شاہ نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 12:02 pm

    میرا تو نگہت جی اس قوم سے ایک ھی سوال ھے کہ ۔۔۔۔ پودوں کا جو خون نچوڑے باغ میں ایسا مالی کیوں ھے،ھم کراچی والوں سے اس وقت کوئی پوچھے کہ ھر آنکھ اشکبار ھے،،،،آج میرے قائداعظم کی روح بھی تو روتی ھوگی کیا اس بات کا احساس میری قوم کو نہیں ھے،یہ اپنے مالی کے چناو میں ایسا کیوں کرتے ھیں کہ انکا وہ باغ ھی اُجڑتا جا رھا ھے جسکا آج ھمیں جشن منانا چاھیے تھا

  11. صفدر ہمدانی نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 12:03 pm

    ڈاکٹر نگہت آپ چونکہ ڈاکٹر ہیں اس لیئے مرتے ہوئے مریض کے لواحقین کو بھی تسلی دینا آپکی فطرت ثانیہ بن چکا ہے۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ آپکا حوصلہ اور صبر کم از کم مجھ سے بہت زیادہ ہے اسی لیئے آپکو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ۔۔۔۔۔سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں ہم ایک ہیں۔۔۔۔۔ کاش ایسا ہی ہوتا۔ ابھی کل ہی یہ خبر پڑھی ہے کہ بھوک کی ماری ماں نے اپنے دو بچے خرکاروں کے ہاتھوں بیچ ڈالے ہیں۔ ان بچوں کو کاش کوئی سروں پر وہ ٹوپی پہنا دے جس پر لکھا ہوا ہو۔۔۔۔۔ یوم آزادی مبارک۔۔۔۔

  12. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 12:09 pm

    مجھے معلوم تھا بابا شاہ جی کا ہی ساتھ دیں گے .. اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے میں ہمیشہ ہی بابا سے اپنے خوش گمان اور پر امید رہنے پر ڈانٹ سنتی ہوں .. لیکن مثبت رہنا ایک عادت بھی ہے اور ایک عبادت بھی .. مجھے تو یہی سمجھ آئی ہے ابھی تک … باقی آپ سب مجھ سے علم اور تجربے میں بڑے ہیں .. بس طفل مکتب کی نادانی سمجھ لیجئے ..

  13. سید مہتاب شاہ نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 12:16 pm

    کاش کہ میرے بھی باگھ چاگ اُٹھیں اور آپ دونوںمعتبرھستیوں کی ڈانٹ میرے لیئے کتنی معتبر ھو گی اس کا اندازہ مجھہی کو ھے

  14. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 12:31 pm

    شعیب تنولی اور ثقلین رضا پہلی بار بلاگ فیملی میں شامل ہوئے ہیں .. خوش آمدید اور ڈھیروں دعائیں۔ یا اللہ فقیروں کے ڈیرے پر کیسی رونق ہو گئی ہے۔ ہم فکر لوگوں کی فکر بھی اگر ایک اور درست سمت میں رہے تو عنایت پروردگار ہے۔ بس بھائیو۔ ہمیشہ کہتا ہوں کہ اپنا نکتہ نظر دل کھول کر بیان کرؤ اور دوسرے کی بات پوری وسعت قلب سے سنو اور ایک دوسرے کو مجبور نہ کرؤ کہ وہ بس آپ ہی کی بات کو مانے۔اسی کو فکری سفر کہتے ہیں، اس میں وقت تو بہت لگتا ہے لیکن شجر بڑا ثمر بار ہوتا ہے

  15. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 12:37 pm

    یہ پاکستان ہمارا ہے۔جی یہ کوئی ایک فقرہ نہیں ایک حقیقت ہے۔ یہ پاکستان ہم غریبوں کا ہے جن کے آبا و اجداد نے اپنی جانیں دی تھیں، جنکی ماؤں بہنوں کی عزتیں لوٹی گئی تھیں،جنکے بچے سنگینوں پر روئے گئے تھے۔ یہ پاکستان کسی ٹوانے،ممڈوٹ،چوہدری،بھٹو،مزای،لاشاری اور ایسے ہی خاندانوں کا نہیں جو پاکستان کے قیام کے بعد سے اب تک اسکے وسائل کو لوٹ رہے ہیں اور اسکے غریب عوام کا خون چوس رہے ہیں۔ یہ کریہہ المزاج حاکموں کا ٹولہ مردار خور گدھ ہیں۔ ان کے منہہ سے یوم آزادی مبارک کا نعرہ انکی زندگیوں کا سب سے بڑا جھوٹ لگتا ہے

  16. ڈاکٹر خواجہ اکرام نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 1:02 pm

    14 اور 15 اگست کو ہند و پاک میں آزادی کا دن ہے لیکن مجھے کبھی سمجھ نہیں آیا کہ یہ کیسی آزادی ؟ ٹھیک آج سے 64 سال پہلے جب ہندستان دو حصوں میں تقسیم ہوا تو اس وقت بھی اس آزادی کی خوشی کو دوبالا کرنے کے لیے رمضان المبارک کا متبرک مہینہ تھا اور آج بھی رمضان کریم کا متبرک مہینہ ہے ۔ ہم اسی مہینے کی برکت سے زندہ ہیں ورنہ ان دونوں ملکوں کے سیاست دانوں نے ہمارے لیے خوشی منانے کو دیا ہی کیا ہے ؟ خون خرابہ ، نفرت ، قتل وغارتگری یہی تو دونوں ملکوں کا نصیبہ ہے ۔
    خوشی کس کی منائیں ؟ اپنی بربادی کی ؟ اپنی شرمساری کی ؟ یا دوسروں کے اگے جبہ سائی کی
    مبارک باد کس کو دیں؟ بے گھر مظلموں کو، سیاست کی آگ میں جھلسے لوگوں کو؟
    دہشت میں مارے گئے بے سہارے ماں بہنوں یا یتیم بچوں کو
    میرے پاس آزادی منانےکا کوئی جواز نہیں اور نہ مبارک باد دینے کا کوئی جواز ہے
    بس دعا کرتا ہوں اللہ وہ دن دکھائے کہ ہم آزاد ہو کر آزادی کا جشن منائیں اور خوشحالی میں ایک دوسرے کو مٹھائیاں کھلائیں

  17. سیدہ ثمرین بخاری نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 1:14 pm

    اسلام و علیکم

    آپ تمام خواتین و حضرات کو معرے پیارے پاکستان کا یوم ِ آزادی بہت بہت مبارک ہو خدائے کریم سے دُعا گو ہوں کہ میرے وطن کی خیر ہو اس کی ہواؤں کی اس کے آسمان زمین جاند تاروں کی خیر ہو خدا میرے ملک کو دنیا کی ہر بری نظر سے محفوظ رکھے الہی آمین –

    دُعا گو

    سیدہ ثمرین بخاری

  18. اظہر الحق نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 1:53 pm

    ہوم آزادی ، یعنی وہ دن جس دن ہم آزاد ہوئے ، مگر مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ کہ ہمارے ساتھ وہ ہی ہوا ہے جو ایک عام آدمی کے ساتھ ہوتا ہے ، ایک مقدمے سے رہائی ملی تو دوسرے مقدمے میں دھر لیے گئے ، کیا خوب کہا ہے ہمارے لیے کسی نے
    آشیاں جل گیا ، گلستاں لُٹ گیا
    ہم قفس سے نکل کر کدھر جائیں گے
    اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے
    اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے

    مگر اب آشیانے جلتے ہیں ، گلستاں بھی لٹتے ہیں ، اور ہم بڑے مزے سے باغ عدن سے ایسے نکل بھاگتے ہیں جیسے ہمارے باوا آدم نکلے تھے
    نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
    بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

    مگر یہ کوچے ہمارے تھے ہی کب ، یہ تو ہمیں قدم قدم پر ہمیں بے گانگی کا احساس دلاتے رہے ، جب بھی کہا کہ بھئی ہم بھی تمہیں سے ہیں تو کہا منہ سنبھال کہ ،
    ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
    وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

    پتہ نہیں آج کیوں مجھے بہادر شاہ ظفر کی یاد آ رہی ہے ، وطن چھوڑا مگر دل اسی وطن میں رہا

    جلایا یار نے ایسا کہ ہم وطن سے چلے
    بطور شمع کے روتے اس انجمن سے چلے
    نہ باغبان نے اجازت دی سیر کرنے کی
    خوشی سے آئے تھے روتے ہوئے چمن سے چلے

    جی ہاں ، یہ شاید ہم سب ہموطنوں کی صدا ہے جو وطن سے دور بھی ہیں اور قریب بھی ، مگر جو نہیں چلے وہ بھی تو ہیں نا ، ابھی سے تھک گئے ابھی تو سفر شروع ہوا ہے

    منزل عشق کی بہت دور ہے اللہ اللہ
    ایک ہی گام میں تم تھک کے ظفر بیٹھ گئے

    مگر جو لوگ نہیں بیٹھے نہ تھکے اور چلتے رہے وہ بھی سوچتے رہے
    کوئی کیوں کسی کا لبھاوے ، کوئی کیا کسی سے لگائے دل
    وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دوکان اپنی بڑھا گئے

    مگر جو دکان بڑھا گئے وہ بھی طبیب بنے پھرتے ہیں ، اور باتیں انکی واہ
    غضب ہے کہ دل میں تو رکھو کُدورت
    کرو منہ پہ ہم سے صفائی کی باتیں
    ظفر دل میں بستی ہے رِندی و مستی
    نہ منہ سے بنا پارسائی کی باتیں

    مگر کیا کریں ، یہ وطن بھی عیاشی کی جگہ ہی لگتا ہے ، جہاں بھی جائیں اس کے بنا مزہ نہیں

    تجھ بن شرابِ عیش کے پینے پہ چار حرف
    اور اس طرح کے بے مزہ جینے پر چار حرف

    اور جو امید ہیں انکے بارے میں

    نہ مُلک پر ہے نظر اور نہ مال و زر کی تلاش
    نظر کو اپنی ہے اک شوخ خوش نظر کی تلاش

    اور اب یہ آزادی اگر پری ہے تو پتہ نہیں کیوں

    دل سے جاتا ہی نہیں تیرے ظفر اس کا خیال
    خوب شیشے میں اتارا ہے پری کو شاباش

    اور اب بے بسی اتنی کہ سب ہی یہ سوچتے ہیں

    اس سے گریبوں کو تسلی کہ اجل نے
    مفلس کو جو مارا تو زردار کو نہ چھوڑا

  19. saqlainraza نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 2:19 pm

    قوم کو 64واں جشن آزادی منانے کی تیاریاں کررہی ہے’ میرے سامنے معصوم بچے ہاتھوں میں ہرا جھنڈا اٹھائے ”پاکستان زندہ باد ” کے نعرے بلندکرتے گزرگئے’ اچانک بجلی کی بندش نے یاد دلادیاکہ خوشی کا موقع ہو یا کوئی کٹھن گھڑی بجلی تو بند ضرور ہوگی اوریہ اس بات کا الارم ہے کہ ہم ”آزاد قوم ہیں” جو مرضی آئے کرتے رہیں۔ ابھی بجلی جانے کا سوگ ہی منارہے تھے کہ بے حد بھدی خوفناک آوازیں کانوں کوپھاڑنے لگیں پتہ چلا کہ نوجوان جشن آزادی منانے کیلئے سڑکوں پر ”آزادی” کے گھوم ر ہے ہیں۔ آگے بڑھے دیکھا دکانیں’ عمارتیں جھنڈیوں سے سجی ہیں ‘ گھروں پر بھی پرچم لہلہلاتے یاد دلارہے ہیں کہ جشن آزادی قریب ہے’ لیکن حضورحقیقت کو کھلی آنکھ سے دیکھا جائے تو ہم آزاد کہاں؟نہ تو ہماری معیشت آزاد’ نہ روح کو آزادی نصیب’ رہے جسم تو وہ بھی غیروں کے ہاتھ غلام’سناکرتے ہیں کہ ہر پیداہونیوالا پاکستانی بچہ مقروض ہوتاہے ۔گویا ہمارے جسم بھی غلام ہوگئے ۔ سوچتا رہا ‘بہت سوچتارہا’ آنکھیں بھرآئیں’ جھونپڑیوں پر بھی نظر پڑی’ کچے پکے مکان نظر سے گزرے اورپھر جب اعلیٰ ایوانوں اور بڑے بڑے محلات پر نظر پڑی توعجب سی تفریق واضح طورپر دکھائی دی ۔ سوچ رہاہوں کہ ”آزاد قوم کونسی ہے” وہ جو جھونپڑیوں میں بستی ہے ‘ کچے ‘نیم پکے مکانوں میں بسیراکئے ہوئے یا پھر وہ”قوم آزاد ہے” جو اعلیٰ ایوانوں میں قیمتی فانوسوں کے نیچے ٹھنڈے یخ کمرے میں بیٹھی ہے اورجسے نہ تو لوڈشیڈنگ کی فکر ہے نہ مہنگائی بیروزگاری ‘بدامنی کاخطرہ۔سوچئے گا ضرور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  20. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 2:36 pm

    سوچ رہاہوں کہ ”آزاد قوم کونسی ہے” وہ جو جھونپڑیوں میں بستی ہے ‘ کچے ‘نیم پکے مکانوں میں بسیراکئے ہوئے یا پھر وہ”قوم آزاد ہے” جو اعلیٰ ایوانوں میں قیمتی فانوسوں کے نیچے ٹھنڈے یخ کمرے میں بیٹھی ہے اورجسے نہ تو لوڈشیڈنگ کی فکر ہے نہ مہنگائی بیروزگاری ‘بدامنی کاخطرہ۔سوچئے گا ضرور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ثقلین رضا اسی سوچ کی فکر ہے اور یہی سوچ مفقود ہے
    یہاں تو غلام ذہن آزاد لوگوں پر حاکم ہیں جناب

  21. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 2:54 pm

    ثقلین رضا. ایک ایک لفظ سچ اور درست ہے لیکن ہمارے حاکم،انکے مشیر اور حواری بیچارے ان پڑھ ہیں اندھے گونگے اور بہرے ہیں .اسلیئے یہ سب بھی ہمیں کو پڑھنا ہے

  22. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 2:55 pm

    بہت بہت شکریہ ثمرین تم نے اپنی بے انتہا مصروفیتوں میں سے کچھ وقت ہمیں بھی دیا .. ا جزاک اللہ .. جشن آزادی مبارک .. تمہارے امتحانات کیسے ہوئے .. اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ تمہیں دین و دنیا کے سارے امتحانوں میں کامیابی اور سرخروئی عطا فرمائے .. آمین ثم آمین

  23. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 2:56 pm

    اظہر تمہار ی منظوم جشن آزادی کی مبارک بہت منفرد اور اچھی لگی ….. خوش رہو

  24. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 3:06 pm

    ڈاکٹر بھائی جی آیا ں نوں .. آپ تو بس دعا کر رہے ہیں کہ اللہ وہ دن دکھائے کہ ہم آزاد ہو کر آزادی کا جشن منائیں اور خوشحالی میں ایک دوسرے کو مٹھائیاں کھلائیں .. میں کھلی آنکھوں سے وہ وقت بہت قریب دیکھ رہی ہوں ہمارے ملکوں میں صرف خوشحالی اور جشن کا سماں دن رات بپا ہے .. اور ہم مٹھائیوں کے ساتھ جھوم رہے ہیں ..انشاللہ وہ وقت دور نہیں بھائی ..

  25. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 3:37 pm


    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں
    ہم ایک ہیں
    سانجھی اپنی خوشیاں
    سانجھے اپنے غم
    ہم ایک ہیں

  26. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 3:38 pm


    یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان

  27. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 4:33 pm

    محبت کو ہی یہ ہنر ملا ہے جو بنجر زمینوں میں رستہ بنا لیتی ہے ۔۔۔۔محبت ایمان کی طرف پہلا کھلنے ولا پہلا دروازہ ہے ۔ جب یہ کھلتا ہے تو ساری صبحیں روزن ستا رہ بن جاتی ہیں اور گہن زدہ راتوں میں بھی اپنے رب سے پہلی اور آخری امید بھی ایک لو کی طرح دل کے نہاں خانے میں دھیرے دھیرے جلنے لگتی ہے ۔ ۔۔ایمان سے خالی دل اور روحیں توبنجر زمینوں کی طرح ہی ہوتی ہیں جس پر کوئی امید نہیں اگتی ۔۔۔ آج میرا وطن جس بھی حال میں وہ ہماری محبت کی کمی کا شکار ہے ۔ اس کی گہن زدہ راتوں میں کو ئی دیا نہیں جلا رہا ۔۔ بس دن رات اپنے وطن سے دور یہی دعا مانگتی رہتی ہوں اللہ کریم میرے وطن کو محبت کی برکت سے آباد کر دے ۔۔۔ آمین

  28. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 5:13 pm

    ہمارا رب ظالم نہیں عادل ہے ۔۔ میرا یقین کیجئے وہ کبھی ہمیں زیادہ دیر تک دکھی نہیں رکھ سکتا ۔۔ مولا علی مشکل کشا فرماتے ہیں کہ جب تمہیں کسی مشکل میں اپنا خدا یاد آئے تو سمجھنا کہ تم پر تکلیف آئی ہے اور جب خدا یاد نہ آئے تو سمجھنا کہ آزمائیش ہوئی ہے ۔۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم سب آزمائیش میں آ گئے ہیں ۔۔ اللہ مالک رحم فرما ہم سب پر ۔۔ معاف فرما دے بس کیسے بھی بس ہمیں معاف کر دے ۔۔ ہمارے پاک وطن کو امن و سکون کا گہوارہ بنا دے ..آمین

  29. فاطمہ ابرار نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 5:31 pm

    آمین ثمہ آمین نگہت بہن

  30. عالم آرا نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 7:27 pm

    اسلام علیکم
    آزادی مبارک نگہت بہن آس ہی تو ہے جو ہر حال میں شمع جلائے رکھتی ہے ،اور دل اس کی روشنی مین اندھیروں سے دور رہتا ہے ،اور یہ اپنے وطن سے محبت کی شمع ہی ہم سب کے دل مین روشن ہے اور ہمیشہ روشن رہیگی ۔
    ایک سوچ زہن میں آئی

    اے کاش سمجھ پاتے کیا چیز ہے آزادی
    یہ دین ہے خدا کی ملتی ہے جو آزادی
    نہ روندتے گر احساں قاتد کا سب یوں مل کر
    صد شکر بجا لاتے نعمت ہے وہ آزادی
    دھشت کہیں نہ ہوتی ٹارگٹ کوئی نہ بنتا
    گر سوچتے یہ سارے کہ ایمان ہے آزادی
    دل دکھ رہا ہے ہر سو یہ خوں خرابہ کیسا
    آزاد ہیں ہم سارے پھر کیوں نہیں آزادی
    جشن آزادی کا ہے شور خوش ہوں میں بھی
    اے کاش منا پاؤں بے روئے جشن آزادی
    اللہ میرے ملک کو سلامت رکھے اور اس میں بسنے والے ہر آفت اور مصیبت سے محفوظ رہیں ۔ان کی جانوں کی حفاظت رہے ۔شیطان کے شر سے محفوظ رہیں آمین
    کہ لوگ وہ ہی طاقتود ہوتے ہیں جو ہر آزماءش میں کھرے اتریں ۔کہ اندھیرا چھٹنے کے لئے ہے انشا ء اللہ
    سب کی تحریریں پڑہ کر آس کی شمع نے اپنی لو بڑھا دی ہے
    پا کستان زندہ باد آزاری پاءندہ باد
    عالم آرا

  31. سیدہ ثمرین بخاری نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 8:00 pm

    اسلام و علیکم

    شکریہ ڈاکٹر آپی اور جزاک اللہ آپ سب کو ہی جشن ِ آزادی مبارک ہو ۔۔ خدا اس سال سچ میں یہ جشن مبارک کر دے اور پاکستان کے نصیب میں خوشحالی اور خوشبختی لکھ دے الہی آمین ۔۔

  32. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 11:10 pm

  33. محمداحمدترازی نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 11:41 pm

    پاک سرزمین شاد باد
    كشور حسين شاد باد
    تو نشان عزم عالي شان
    ارض پاکستان!
    مرکز یقین شاد باد

    پاک سرزمین کا نظام
    قوت اخوت عوام
    قوم ، ملک ، سلطنت
    پائندہ تابندہ باد
    شاد باد منزل مراد

    پرچم ستارہ و ہلال
    رہبر ترقی و کمال
    ترجمان ماضی شان حال
    جان استقبال!
    سایۂ خدائے ذوالجلال

  34. محمداحمدترازی نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 11:47 pm

    آج حبیب جالب کی قبر سے آواز آرہی ہے

    آتش غم میں جل رہے ہیں دیار
    رہگزاروں سے اٹھ رہا ہے دھواں

    اے اہل وطن، یوم آزادی مبارک

  35. محمداحمدترازی نے کہا ہے:
    August 13, 2011 بوقت 11:55 pm

    جشن آزادی…. قائد اعظم ہم شرمندہ ہیں

    محمد علی جناح کے پاس نہ بری فوج تھی‘ نہ بحری فوج‘ نہ فضائیہ تھی‘ نہ ایٹم بم‘ نہ برلا، نہ ڈالمیا اور ٹاٹا تھے‘ نہ میڈیا تھا…. مگر میرے قائد نے اپنے ایمان‘ کردار‘ اخلاقی جرا¿ت‘ محنت اور استقلال سے عمر کے اس حصے میں جب کہ ان کے دونوں پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے تھے‘ 14 اگست 1947ءکو ہمیں پاکستان لے کر دیا۔ تحریک ِآزادی میں انہوں نے چومکھی لڑائی لڑی۔ کانگریس‘ برطانیہ‘ نیشنلسٹ مسلمان۔ قیام پاکستان سے قبل انہوں نے یو پی مسلم لیگ کے سپرد یہ کام کیا کہ وہ پاکستان کو اسلامی‘ فلاحی ریاست بنانے کا خاکہ تیار کرے۔ یو پی کے علماءنے وہ دستاویز بھی تیار کرلی جس میں مولانا مودودی بھی شامل ہوگئے تھے۔ اس دستاویز کو اردو اکیڈمی سندھ کراچی شائع کرچکی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی تعلیمی پالیسی کے لیے بھی ایک کمیٹی تشکیل دی جسے ڈاکٹر ایس ایم زماں اپنی کتاب میں شائع کرچکے ہیں۔ انہوں نے ماہرین معاشیات کی زیر نگرانی پاکستان کے لیے تین پانچ سالہ منصوبے بھی بنائے۔ اگر قائداعظم کی اسلامی جمہوری پالیسی‘ تعلیمی پالیسی اور قائداعظم کے ان تین پانچ سالہ منصوبوں کو جنہیں خالد شمس الحسن (پاکستان کے موجودہ ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کے بھائی اور سید شمس الحسن اسسٹنٹ سیکریٹری آل انڈیا مسلم لیگ کے فرزند) نے شائع کیا ہے۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پہلے گورنر زاہد حسین کے پاس یہ تینوں منصوبے موجود تھے‘ ان پر عمل کیا جاتا تو پاکستان نہ صرف ایشیا بلکہ دنیا میں اپنا ایک مقام حاصل کرسکتا تھا اور کرسکتا ہے اور آئی ایم ایف کی محکومی سے نجات حاصل کرسکتا ہے۔ آج پاکستان اور بیرون پاکستان رہنے والے پاکستانیوں ایک ایک ایک بچہ 55 ہزار روپے کا مقروض ہوچکا ہے۔ تقسیم ہند کے وقت پاکستان کے حصے کی رقم کو بھارت نے روک لیا۔ حیدرآباد دکن نے فوری طور پر پاکستان کو بیس کروڑ روپے ارسال کیے تاکہ پاکستان اپنے پاوں پر کھڑا ہوجائے۔ حیدرآباد دکن کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور بھارت نے پولیس ایکشن کرکے حیدرآباد دکن کو اپنے قبضے میں کرلیا۔ ریاست جونا گڑھ نے پاکستان کے ساتھ اپنا الحاق بھی کرلیا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد لٹے پٹی، کٹے اور زخم خوردہ مہاجروں کا ایک سیلاب پاکستان کی طرف آیا۔ مہاجرین کی حالتِ زار دیکھ کر قائداعظم کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ سکھوں نے نوّے ہزار خواتین کو اپنے قبضے میں کرلیا۔ مرحومہ بیگم عبدالغنی گھمن انسپکٹر آف اسکولز سرکاری طور پر مشرقی پنجاب گئیں اور گاوں گاوں پھرتی رہیں۔ انہوں نے تیس ہزار مسلم خواتین کو بازیاب کیا۔ مہاجرین جب واہگہ یا کھوکھراپار کی سرحد پر پہنچتے تھے اور پاکستان کا پرچم دیکھتے تھے تو وہ تیمم کرکے نماز شکرانہ ادا کرتے تھے۔

    دوسری طرف لاکھوں مہاجرین کھوکھراپار تھرپارکر سے سندھ میں داخل ہوئے۔ بہار کے لٹے پٹے مسلمان مہاجرین مشرقی پاکستان جاتے تھے اور ہمارے بنگالی مسلمان ان کو خوش آمدید کہتے تھے۔ پاکستان کے ہر صوبے نے مہاجرین کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے مکے کے مہاجرین اور مدینہ کے انصار کا جذبہ تازہ کردیا۔ قائداعظم جاتے جاتے اپنی دو امانتیں چھوڑ کر گئے۔ ایک مسلم لیگ‘ دوسری پاکستان۔ مسلم لیگ جوں جوں کمزور ہوتی گئی‘ پاکستان بھی کمزر ہوتا گیا۔ ایک عظیم اسلامی سلطنت عطیہ¿ خداوندی کے طور پر 27 رمضان المبارک‘ شب قدر‘ جمعتہ الوداع کے موقع پر میرے قائد نے ہمارے حوالے کی۔ ان کے آخری ایام میں ان کے ڈاکٹر کرنل الٰہی بخش نے ان کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ قائداعظم آپ زندہ رہیں گے۔ قائداعظم نے جواب دیا ”ڈاکٹر جو کام اللہ نے میرے سپرد کیا تھا‘ میں وہ کرچکا۔ اللہ تعالیٰ قبول کرے گا۔“ اور تقریباً ایک سال 27 دن زندہ رہنے کے بعد اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے۔ لارڈ ماونٹ بیٹن نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ محمد علی جناح ٹی بی جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں تو میں آزادی کا اعلان دو سال کے لیے مو¿خر کردیتا، کیوں کہ جناح کے علاوہ کوئی اور مسلمان نہیں تھا جو پاکستان قائم کراسکتا۔“ آزادی کے روز پاکستان کا پہلا پرچم کراچی میں علامہ شبیر احمد عثمانی نے لہرایا اور مشرقی پاکستان ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمد عثمانی نے۔ والی ¿ ریاست قلات نے قائداعظم کو سونے میں تولا۔ سرحد کے ریفرنڈم میں مسلم لیگ نے کامیابی حاصل کی اور صرف چند سو ووٹ سرخ پوشوں کو ملے۔

    سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کے لیے قائداعظم نے نہ صرف اس کو اپنے چودہ نکات میں پیش کیا بلکہ اس کے لیے آئینی جدوجہد سے سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کا سہرا قائداعظم کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے سرحد اور بلوچستان کے مسلمانوں کے حقوق کے لیے بھی جدوجہد کی۔ قائداعظم نے گورنر جنرل بننے کے بعد مسلم لیگ سے استعفیٰ دے دیا کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ پاکستان کے سربراہ کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں ہونا چاہیی، لیکن بعدازاں ان کی یہ روایت قائم نہ رہ سکی۔ اسٹینلے ولپرٹ نے اپنی کتاب ”جناح اور پاکستان“ میں قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا ہی: ”بہت کم افراد تاریخ کا دھارا بدلتے ہیں‘ کم ہی ہوں گے جنہوں نے نقشہ¿ عالم کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہو۔ کسی کو یہ شرف حاصل نہیں کہ اس نے کسی نئی مملکت کی تشکیل کی ہو۔ محمد علی جناح نے یہ تینوں کارنامے سرانجام دیے۔“ جواہر لال نہرو کی بہن وجے لکشمی پنڈت اعترافِ حقیقت کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ اگر مسلم لیگ کے پاس سو گاندھی اور دو سو ابوالکلام آزاد بھی ہوتے تو بھی پاکستان نہیں بن سکتا تھا، لیکن اگر کانگریس کے پاس ایک محمد علی جناح ہوتا تو ہندوستان کبھی تقسیم نہیں ہوسکتا تھا۔

    جب قائداعظم لندن میں قیام پذیر تھے تو سر اے پی پیٹرو برہمن جسٹس پارٹی کے سربراہ نے بھی قائداعظم کو خط لکھا کہ جناح واپس آجاو‘ مسلمانوں کا کوئی جنرل نہیں ہے‘ سب لیفٹیننٹ ہیں۔ خان عبدالغفار خان نے 23 فروری 1948ءکو قومی اسمبلی میں وفاداری کا حلف اٹھایا‘ اس سے پہلے قائداعظم غفار خان سے مل چکے تھے اور انہیں دعوت دے چکے تھے کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں‘ ایک دن مر جاوں گا‘ آو ساتھ مل کر کام کریں۔ انہوں نے سنت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کیا۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لے گئے تو انہوں نے تمام مخالفین کو معاف کردیا۔ قیام پاکستان کے بعد قائداعظم نے ان تمام مخالف جماعتوں سے اپیل کی کہ اب پاکستان بن گیا ہی، آو اس کو مضبوط کریں۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے امپیریل بینک آف انڈیا سے پاکستان کو ملنے والی رقم روک رکھی تھی تو نظام حیدرآباد نے بیس کروڑ روپے پاکستان کو بھیجے تاکہ پاکستان اپنے پاوں پر کھڑا ہوسکے۔ بعدازاں اس کی پاداش میں حیدرآباد دکن پر پولیس ایکشن کیا گیا اور اس طرح سقوطِ حیدرآباد دکن ہوا۔ نواب آف جونا گڑھ نے اپنی ریاست کا الحاق پاکستان سے کردیا تھا۔ اس وقت ذوالفقار علی بھٹو کے والد شاہنواز بھٹو جوناگڑھ کے وزیراعظم تھے۔

    بھارت نے ایک سازش کے ذریعے جوناگڑھ پر بھی حملہ کرکے اس کو اپنے کنٹرول میں کرلیا۔ قائداعطم نے اپنی وفات سے پہلے ایک وصیت میں 1939ءمیں اپنی آمدنی کا ایک کثیر حصہ انجمن حمایت اسلام اسکول بمبئی‘ یونیورسٹی آف بمبئی‘ اسلامیہ کالج پشاور‘ سندھ مدرسة الاسلام اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لیے مختص کردیا۔ یہ رقم آج کرڑوں روپے کے برابر ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قائداعظم تعلیم کو بہت ترجیح دیتے تھے۔ 27 رمضان المبارک شب قدر جمعة الوداع پاکستان کی تاریخ میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس روز تمام مسلمانوں کو سربسجود ہوکر اللہ سے پاکستان کے استحکام کی دعا کرنی چاہیے۔ قائداعظم جمعة الوداع کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک جمعة المبارک کی بہت فضیلت اور قدر وقیمت تھی۔ انہوں نے جس قدر خصوصی ”ایام“ کو منانے کی اپیلیں کیں وہ سب کے سب جمعة المبارک کے دن تھے۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ وہ صدقِ دل کے ساتھ جمعة المبارک کا انتخاب فرماتے تھے۔ ”یومِ نجات“ 22 دسمبر 1939ءجمعة المبارک کا دن تھاجب قائداعظم نے کانگریسی حکومت سے چھٹکارا پانے پر ”یومِ تشکر“ منانے کی اپیل کی۔ جب انہوں نے یوم قرارداد منانے کی اپیل کی وہ بھی جمعة المبارک کا دن تھا۔ جب 11جنوری 1946ءکو مرکزی مجلسِ قانون ساز کے انتخابات میں مسلم لیگ نے کامیابی حاصل کی اس روز ”یوم فتح“ منایا گیا‘ یہ بھی جمعة المبارک کا دن تھا۔

    جب 15 اگست 1947ءکو ”یوم تشکر“ منانے کی اپیل کی تو انہوں نے فرمایا: ”آج جمعة الوداع ہے‘ رمضان المبارک کا آخری جمعہ‘ مسرت وانبساط کا دن، ہم سب کے لیے اور اس وسیع و عریض براعظم اور دنیا کے ہر گوشے میں جہاں کہیں بھی مسلمان ہوں‘ تمام مساجد میں‘ ہزاروں کے اجتماعات رب جلیل کے حضور بڑی عاجزی اور انکساری سے سجدہ ریز ہوجائیں اور اس کی نوازشِ پیہم اور فیاضی کا شکر ادا کریں اور پاکستان کو ایک عظیم ملک اور خود کو اس کے شایانِ شان شہری بنانے کے کام میں اس قادر مطلق کی ہدایت اور اعانت طلب کریں۔“ 22 مارچ 1940ءکی شب طویل بحث کے بعد جب قراردادِ پاکستان آخری شکل کو پہنچی تو اس دن بھی جمعة المبارک تھا۔ قائداعظم کی کامیابی کے کیا راز تھی، نئی نسل قائداعظم کے مندرجہ ذیل اصولوں کو اچھی طرح جان لے۔ آج بھی پاکستان کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو کنارے پر لگانے کے لیے ہمیں پھر ایک قائداعظم کی ضرورت ہے۔ قائداعظم نہ سہی ان کے رفقائے کار میں سے بھی ہمیں کوئی مل جائے تو پاکستان کو جو ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت (برطانوی حکومت) سیIMF کے شکنجے میں جکڑا جاچکا ہی، نجات حاصل ہوسکتی ہی: -

    1 قائداعظم کے رفقائ: قائداعظم اپنے حلقہ احباب میں بہت پرکھ کر اپنے رفیقِ کار منتخب کرتے تھے جن میں سے مندرجہ ذیل خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں: -1 لیاقت علی خان۔ علامہ اقبال کے خطوط، چوہدری عبدالمتین کی درخواستیں کہ قائداعظم لندن سے واپس آجائیں، ہندوستانی مسلمانوں کو ان کی ضرورت ہے۔ جب لیاقت علی خان قائداعظم سے ملنے لندن گئے اور ان سے درخواست کی کہ اس وقت ہندوستان کے مسلمانوں کو آپ کی سخت ضرورت ہی، تو قائداعظم نے ان سے فرمایا کہ آپ پہلے ہندوستان جائیں، ہر صوبہ کی سیاسی صورت حال سے آگاہ کریں اور اس کے بعد ذہنی طور پر تیار ہوجائیں کہ اگر میں ہندوستان آیا تو کیا آپ آل انڈیا مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل کا عہدہ قبول کریں گے۔ اگر آپ نے یہ عہدہ قبول کرلیا تو آپ کی بیگم رعنا لیاقت علی خاں کا کیا ہوگا جو عیش و عشرت کی زندگی گزار رہی ہی، اور آپ بھی نواب ابن نواب ہیں۔ آپ کس طرح آل انڈیا مسلم لیگ کو برما سے لے کر مردان تک منظم کرسکیں گے۔ جب 1937ءمیں لیاقت علی خاں کو سیکریٹری جنرل منتخب کرلیا گیا تو ان کو یہ مسئلہ بھی درپیش ہوا کہ وہ ایک پرائیویٹ سیکریٹری جو ساٹھ ستّر روپے ماہانہ سے کم نہیں ملتا، اس کو تنخواہ کیسے ادا کریں گے۔ تو بیگم رعنا لیاقت علی خاں نے ٹائپنگ سیکھی تاکہ مسلم لیگ کے ساٹھ ستّر روپے ماہانہ بچ سکیں۔ جب شہید ملت لیاقت علی خاں پاکستان کے وزیراعظم بن گئے تو انہوں نے کوئی نیا سوٹ نہیں سلوایا بلکہ پرانی شیروانیوں اور سوٹوں کو رفو کرواتے رہے۔ جب ان کی شہادت راولپنڈی میں ہوئی تو مسز نیتھنیل (نرس) نے ان کے موزے اور شیروانی اتاری، وہ یہ دیکھ کر روپڑی کہ ان کی شیروانی میں ایک نیا کالر اور ان کے موزوں پر بھی ٹانکے لگے ہوئے تھے۔ لیاقت علی خاں نے کوئی کلیم داخل نہیں کیا حالانکہ کرنال میں اپنی ایک ریاست چھوڑ کر آئے تھے۔ ان کا فرمانا تھا کہ جب تک ایک ایک مہاجر آباد نہیں ہوجاتا وہ کوئی کلیم داخل نہیں کریں گے۔ شہید ہونے کے بعد ان کے بینک میں سو روپے سے بھی کم بینک بیلنس تھا، چند انگوٹھیاں اور سگریٹ لائٹر تھی، یہاں تک کہ ان کا کوئی اپنا مکان بھی نہ تھا۔ -

    2 حسرت موہانی، جو آل انڈیا لیجسلیٹو کونسل کے ممبر تھی، ان کو مسلم لیگ کے اسسٹنٹ سیکریٹری سید شمس الحسن نے یوپی کے چند اضلاع کے دورے کے لیے سو روپے دیے۔ جب وہ دورہ کرکے واپس آئے تو انہوں نے تقریباً پینسٹھ روپے واپس کردیے۔ سید صاحب نے مولانا سے استفسار کیا کہ چند روپوں میں آپ نے کیسے دورہ کرلیا؟ تو مولانا نے فرمایا: یہ سو روپے قومی امانت تھی، میں نے تھرڈ کلاس میں سفر کیا اور اپنا لوٹا اور بستر خود اٹھاتا رہا، میں نے کہیں بھی قلی نہیں کیا۔ رات کو میں یا تو کسی مسلم لیگی کے گھر یا مسجد میں سوجاتا تھا۔ ایک انگریز نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ہندوستان کا فرسٹ کلاس لیڈر تھرڈ کلاس میں سفر کرتا تھا۔ -

    3 سردار عبدالرب نشتر: لیاقت علی خان کو تو قائداعظم اپنا دست ِراست کہتے تھے لیکن سردار نشتر ان کے مشیرِ خاص تھے۔ جب 1946ءمیں عبوری حکومت بنی تو سردار عبدالرب نشتر وزیرمواصلات تھے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی وہ مرکزی کابینہ میں رہے۔ جب وہ پنجاب کے گورنر مقرر ہوئے تو ان کے بیٹے جمیل نشتر (جو بعد ازاں اسٹیٹ بینک کے گورنر مقرر ہوئی) جب پہلے روز لاہور میں گورنر کی کار پر کالج جانے لگے تو انہوں نے فرمایا کہ بیٹا یہ گاڑی گورنر کو ملی ہے۔ آپ کی سائیکل یہاں گورنر ہاوس میں آچکی ہی، میں جب تک گورنر ہوں، آپ مہربانی فرماکر سائیکل پر ہی کالج جاتے رہیں تاکہ قومی خزانے کا میں صحیح جوابدہ ہوسکوں۔ گورنر کا سعادت مند بیٹا سائیکل پر ہی کالج جاتا رہا۔ -

    4 خواجہ ناظم الدین، نہ صرف مشرقی پاکستان کے وزیراعلیٰ رہ چکے تھے بلکہ پاکستان کے وزیراعظم بھی رہے۔ وہ پیدل نمازِ جمعہ کے لیے جاتے تھے۔ 1964ءمیں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے الیکشن میں وہ کراچی میں مقیم تھے۔ مادر ملت ان کو اپنے ساتھ دورے پر لے جانا چاہتی تھیں مگر وہ کمرے سے باہر نہیں نکل رہے تھے۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ جو پیسے ڈھاکہ سے لے کر آئے تھے وہ ختم ہوچکے ہیں، اب ان کو پانچ ہزار روپے قرض حسنہ چاہیے۔ بہرحال ان کے لیے پانچ ہزار روپے کے قرض حسنہ کا انتظام کردیا گیا اور انہوں نے اس کی رسید جاری کی اور اپنا ڈھاکہ کا مکان گروی رکھ دیا (راقم الحروف اس کا عینی گواہ ہی)۔ -

    5 علامہ اقبال کو پنجاب میں مسلم لیگ کی تنظیم نو کے لیے پانچ ہزار روپے کے قرض حسنہ کی ضرورت پڑی، انہوں نے مرکزی تنظیم سے درخواست کی، ان کو پانچ ہزار روپے ارسال کردیے گئے۔ بہرحال انہوں نے بعد ازاں وہ پانچ ہزار روپے ادا کردیے۔ -6 راجہ صاحب محمود آباد: آل انڈیا مسلم لیگ کا پچیسواں سالانہ اجلاس 15تا18 اکتوبر 1937ءکو لکھنو¿ میں ہوا۔ اس اجلاس کی استقبالیہ کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ انہوں نے اس اجلاس کے انعقاد پر تیس لاکھ روپے خرچ کیی، جو آج کل تیس ارب کے برابر ہوں گے۔ اس اجلاس کے بارے میں پیر علی محمد راشدی لکھتے ہیں کہ اس اجلاس نے مُردہ مسلم لیگ میں جان ڈال دی۔ مولانا بھاشانی نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ: مسلم لیگ ممنون ہے راجہ کی اس طرح اسلام ممنون ہے خدیجہؓ کا جس طرح -

    7 بیرسٹر عبدالعزیز: آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس 1938ءمیں پٹنہ میں ہوا، اس کی استقبالیہ کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ انہوں نے اپنا مکان فروخت کرکے اس اجلاس کا بندوبست کیا۔ اسی اجلاس میں محمد علی جناح کو قائداعظم کا خطاب دیا گیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے تقریباً تمام رہنما دامی، درمی، قدمی، سخنے مسلم لیگ کی تحریک آزادی کے لیے تن من دھن کی بازی لگائے ہوئے تھے۔ -2 بنیادی حقوق کا تحفظ: قائداعظم جس زمانے میں لنکنز اِن لندن میں تعلیم حاصل کررہے تھی، اُس زمانے میں خواتین کی تحریک چل رہی تھی جس میں ان کا مطالبہ تھا کہ خواتین کو بھی ووٹ کا حق دیا جائے۔ اور قائداعظم خواتین کے اس جلوس میں شرکت کرتے تھے اور ان کے مطالبات کے حق میں نعرے لگاتے تھے۔ انہوں نے ہندووں کی ستی کی رسم کا مسئلہ بھی قانون ساز ادارے میں اٹھایا۔ انہوں نے مسلمانوں کے حق کے لیے وقف علی الاولاد کا بل منظور کرایا اور جب سرخ پوشوں پر پابندی لگی تو انہوں نے اس پر سخت احتجاج کیا۔ جب رولٹ ایکٹ جو ایک سیاہ قانون تھا، انگریزوں نے ہندوستان میں پاس کردیا تو وہ مستعفی ہوگئے۔ جب بمبئی کے متعصب گورنر لارڈ ولنگڈن کی معیادِ گورنری ختم ہونے کو تھی تو چند انعام یافتگان کی ایک جماعت نے شیرف بمبئی سے درخواست کی کہ گورنر کے اعزاز میں جلسے کا انتظام کریں تاکہ اس کی یادگار قائم کرنے کے مسئلے پر غور و خوض کیا جائے۔

    11 ستمبر 1918ءکو جلسہ ٹاون ہال میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر جناح اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پہنچے اور زبردست مظاہرہ کیا اور پہلی اور آخری بار ایک جذباتی تقریر کی۔ ان کی اس جرا¿ت مندی پر ہندووں اور مسلمانوں نے مل کر بمبئی میں جناح ہاوس تعمیر کیا۔ -3 دیانت: قائداعظم تحریک پاکستان کے دوران جہاں جہاں جس وقت بھی دورہ کرتی، اپنے پیسے سے کرتے تھے۔ وہ ریل کی پوری بوگی بک کرالیتے تھے۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ تو بڑے شاہانہ انداز سے ریلوے کا فرسٹ کلاس ڈبہ بک کرالیتے ہیں جبکہ گاندھی تھرڈ کلاس میں سفر کرتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: میں اپنے پیسے سے سفر کرتا ہوں جبکہ گاندھی کانگریس کے پیسے خرچ کرتے ہیں اور بیس تیس داسیاں بھی اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ -4 امانت: قائداعظم حکومت ِپاکستان کے پیسے کو ایک امانت سمجھتے تھے۔ وہ بحیثیت گورنر جنرل صرف ایک روپیہ ماہانہ تنخواہ لیتے تھے۔ رات کو گورنر ہاوس کی وہ تمام لائٹیں بند کرادیتے تھے جو غیر ضروری ہوتی تھیں۔ -5 اقربا پروری: قائداعظم کے ایک رشتہ دار جو بیرسٹر تھی، بمبئی سے کراچی آئے اور انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اب کراچی میں پریکٹس کریں گی، تو قائداعظم نے انہیں کہا کہ لوگ آپ کو اس لیے مقدمے دیں گے کہ آپ میرے رشتہ دار ہیں۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ بمبئی واپس چلے جائیں۔ اور پھر وہ واپس چلے گئے۔ -6 الیکشن اور کرپشن: کلکتہ میں ایک مسلم لیگی امیدوار کے خلاف جو امیدوار کھڑا ہوا تھا وہ الیکشن میں چار پانچ ہزار روپے خرچ کرچکا تھا۔ عبدالرحمن صدیقی نے قائداعظم سے عرض کی کہ اگر مخالف امیدوار کو چار پانچ ہزار روپے دے دیے جائیں تو وہ مسلم لیگی امیدوار کے حق میں دست بردار ہوجائے گا۔ قائداعظم نے فرمایا کہ اگر کرپشن سے ہمارا امیدوار کامیاب ہوتا ہے تو میں اسے کامیابی نہیں سمجھوں گا، بہتر ہے کہ وہ ہار جائے۔ قائداعظم جب شملہ میں تھے تو ان کے سامنے ایک نوجوان کو پیش کیا گیا جو کانگریس کے جلسوں میں بہت اچھا مقرر تھا۔ مسلم لیگی کارکنوں نے قائداعظم سے درخواست کی کہ اگر اس کا سو دو سو روپے وظیفہ لگا دیا جائے تو ہمارے جلسوں میں زیادہ کامیابی ہوسکتی ہے۔ قائداعظم نے ان کی اس تجویز کو نامنظور کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسے پیشہ ور مقرروں کی ضرورت نہیں۔ خدا پر بھروسہ رکھو، اگر اللہ نے چاہا تو مسلم لیگ اپنے مشن میں ضرور کامیاب ہوگی۔ -7 خطابات: قائداعظم کو برطانیہ کی طرف سے ”سر“ کا خطاب پیش کرنے کی پیشکش کی گئی جو قائداعظم نے معذرت کے ساتھ منظور نہیں کی۔ لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند نے قائداعظم کو ہائی کورٹ ججی، حکومت ِہند کے وزیر قانون کے منصب کی بھی پیش کش کی ۔ انہوں نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں صرف plain محمد علی جناح رہنا چاہتا ہوں۔ میں اول و آخر ایک مسلمان ہوں۔ میں پیدائشی مسلمان ہوں اور مسلمان ہی مروں گا۔ قائداعظم کو گورنر کا عہدہ پیش کیا گیا، انہوں نے اس کو بھی ٹھکرادیا۔ وہ ایسی تمام پیشکشوں کو سیاسی رشوت سمجھتے تھے۔ قائداعظم کو متحدہ ہندوستان کا وزیراعظم بنانے کی پیشکش کی گئی، انہوں نے اس کو بھی ٹھکرادیا۔ سرضیاءالدین نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی طرف سے ان کو اعزازی ایل ایل ڈی کی ڈگری دینے کی پیشکش کی، وہ بھی انہوں نے شکریے کے ساتھ منظور نہیں کی۔ مسٹر گاندھی انہیں کبھی ”شری جناح“ لکھتی، کبھی ”جناح صاحب“، کبھی ”قائداعظم“۔ وہ بڑے بڑے القابات کے ساتھ ان کو خط لکھتی، اس کے جواب میں قائداعظم نے لکھا: ”A rose is a rose you may call it by name“ -8 شخصیت پرستی: ایک جلسہ میں ان کے لیے ”شہنشاہ پاکستان“ کا نعرہ لگایا گیا جس پر انہوں نے سخت غصے کا اظہار کیا۔ ایک اور جلسے میں ان کو ”امیرالمومنین“ کے خطاب سے نعرہ لگایا گیا، انہوں نے نعرہ لگانے والوں کو سختی سے منع کیا۔ ایک اور ذاتی دعوت میں ایک نوجوان لڑکے نے ان کے ہاتھ چومنے کی کوشش کی تو قائداعظم نے ہاتھ کھینچ کر اس نوجوان سے کہا کہ ”نہ تو میں پیر و مرشد ہوں نہ کچھ اور ہوں۔ یہ شخصیت پرستی اسلام میں جائز نہیں“۔ آج پاکستان کے اندرونی و بیرونی مخالفین نے دنیا کی ایک بڑی اسلامی ریاست کے خلاف سازشوں کا جال بچھا رکھا ہے۔ غربت، مہنگائی، بیروزگاری، لوڈشیڈنگ کا اژدھا پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کی پوری پوری کوشش کررہا ہے۔

    پھر ذرا سوچیی! قائداعظم جن کے پاس نہ بری فوج تھی، نہ بحریہ نہ فضائیہ تھی، نہ ٹاٹا، نہ ڈالمیا، نہ برلا تھی، انہوں نے اپنی قوت ِایمانی اور ٹی بی جیسے موذی مرض سے بھی 1946ءاور 1947ءمیں ہماری آزادی کے لیے جنگ لڑی اور ہمیں ایمان، اتحاد اور تنظیم کا درس دیا۔ انہوں نے صوبائیت، فرقہ واریت کی لعنت سے چھٹکارا پانے کی تلقین کی۔ انہوں نے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگوں نے غریب عوام کا کافی خون چوس لیا ہی، اب خدا کا خوف کرو، پاکستان بن گیا ہی، مجھے ایسا پاکستان نہیں چاہیے جس میں غریب روز بروز غریب تر ہوتا جائے اور امیر روز بروز امیر تر ہوتا جائے۔ انہوں نے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ حکومت کی پہلی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام پاکستانیوں کی جان و مال کا تحفظ کری، کرپشن، رشوت کا قلع قمع کرے۔ آج 14 اگست کو جشن آزادی کے موقع پر مجھے میرا قائد بہت یاد آرہا ہے۔ اگر وہ زندہ رہتے اور آئین ان کی موجودگی میں تیار ہوتا تو وہ صدارتی نظام قائم کرتے جیسا کہ تحریک پاکستان کے ریکارڈ و غیر ملکی نمائندوں کے انٹرویو سے معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ صدارتی نظام ہی اسلامی جمہوریت کے قریب تر ہے۔ شہید ملت لیاقت علی خان کے دور میں تمام مکاتب فکر کے علماءنے متفقہ طور پر بائیس نکات منظور کیے تھی، اس کا آخری نکتہ بھی یہی ہے کہ پاکستان کا رئیسِ مملکت وہی ہوگا جو اسلامی اور بین الاقوامی امور کا ماہر ہوگا۔ اگر وہ کوئی غیر اسلامی، غیر اخلاقی، غیر آئینی جرم کرے گا تو اسے عدالت میں طلب کیا جاسکے گا۔ آج پاکستان میں بدامنی اور قتل و غارت دیکھ کر مجھے یاد آتا ہے کہ پاکستان کے جسٹس اے آر کارنیلیس جب آسٹریلیا گئے تو آسٹریلیا کے وزیراعظم نے ان سے مشورہ کیا کہ لاقانونیت اور جرائم کو ختم کرنے کا کیا طریقہ ہے۔ تو انہوں نے مشورہ دیا کہ سعودی عرب کا قانون نافذ کردو۔ چور کے ہاتھ سرعام کاٹو، قاتل کا سر سرِعام قلم کرو تو امن قائم ہوجائے گا، جرائم ختم ہوجائیں گے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ ”کفر کی حکومت تو چل سکتی ہے لیکن ظلم کی حکومت نہیں چل سکتی“

    تحریک پاکستان کے سپاہی بزرگ سیاسی کارکن جناب آزاد بن حیدر کی ایک تحریر

  36. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 12:35 am

    پاک سر زمین شاد باد
    پاکستان زندہ با
    آزادی پائیندہ باد

  37. محمداحمدترازی نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 12:44 am

    14 اگست….شہداکے لہوکی روشنی

    14 اگست 1947ءکہ جس دن دنیا کے نقشہ پر ایک نیا وطن بنام اسلامی جمہوریہ پاکستان معرض وجود میں آیا۔ محض ایک تبدیلی یا تقسیم ہند نہ تھی بلکہ اس ایک دن کے قیام کی خاطر اسلامیان برصغیر نے 100 سال سے زیادہ عرصہ تک فرنگی جبرو استبداد ‘ظلم وستم‘ انگریزی تہذیب وثقافت نظریات اور عیارومکاردشمن کے مدمقابل سر فروشی‘ جوانمردی‘ استقامت اور اسلامی اقدارکے تحفظ وبقا کے علاوہ جذبہ حریت کا پرچم سربلند رکھنے والے شہیدوں کے لہو سے روشن وہ عہدسازدن تھا۔ جب ہمارے آباو اجداد نے انگریزکی تاریک راہوں سے نکل کر نورایماں سے منور شاہراہ اسلام پرگامزن رہنے اور مملکت میں اسلام کو بطور دین ودستور نافذالعمل کرنے کا عزم صمیم کیاتھا۔ موجودہ نسل اس دن کو محض جشن و طرب اور رنگینیوں سے مرصع کھیل تماشے کا دن سمجھتی ہے حالانکہ آج کا دن ان لاکھوں شہیدوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا دن ہے جو ظالم وغاصب بدیسی انگریز حکمرانوں کے خلاف علم جہاد بلندکرتے ہوئے تاریک راہوں میں شہیدکردیے گئے یا تقسیم کے ہنگاموں میں ہجرت کے دوران ظالم سکھوں اور ہندو¶ں کی سنگینوں کی خون کی پیاس بجھاتے رہے۔ آج 64 برس پہلے نگاہ دوڑائی جائے تو ماحول یکسر تبدیل دکھائی دیتاہے کل بے سروسامانی تھی‘ نہ بجلی تھی یہ کارخانے تھے نہ دفاترمیں میزکرسیاں تھیں نہ قلم دوات ہوتے تھے۔ ہرطرف کسمپرسی کا ڈیرہ تھا تاہم عام آدمی سے لے کر سربراہ حکومت تک ایثار وقربانی کامرصع تھا۔ ہرطرف امن وامان تھا۔ اسلامی اخوت و بھائی چارہ تھا۔ پاکستان ایک نظریاتی مملکت کے طورپر منصہ مشہود پرظاہرہوا ہندو¶ں کا خیال تھا کہ یہ پھول بہت جلد مرجھاجائے گا چونکہ اس نوزائیدہ مملکت میں کچھ بھی تو نہیں ہے۔ جذبہ آزادی سے سرشار اہل اسلام نے ان کے خواب بہت جلد چکنا چورکردیے اور مملکت خداداد پاکستان اخلاص وخدمت کے جذبوں کے حائل قوم کے ایثار کی بدولت دیکھتے ہی دیکھتے دنیا میں ممتاز مقام کی حامل ہوتی چلی گئی۔ ہماری بدقسمتی دشمنوں کی سازشیں پیچھا نہ چھوڑتیں اورہمارے نااہل بے حمیت‘ آزادی کی قدروقیمت سے ناآشنا قیادتیں وحکومتیں قومی مفاد کی بجائے ذاتی اغراض میں الجھ کر باہمی سیاسی چپقلشوں میں اپنی توانائیاں جھونکتی رہیں اور دشمن ہمارے خلاف ریشہ دوانیاں کرتا رہا یہاں تک کہ ہمارا ایک بازو ہم سے کاٹ دیاگیا اور اسلامی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک لاکھ مسلمان فوج نے کفرکے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ ملک دولخت ہوگیا اور امید تھی کہ شاید اب ہمارے ہوش ٹھکانے آجائیں گے اور ہم بحیثیت ملت نئے عزم وحوصلے سے دنیا میں اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ تاہم بدقسمتی نے شاید مکمل طورپر ڈیرے ڈال رکھے ہیں کہ باقی ماندہ ملک بھی گزشتہ چالیس برسوں سے عدم استحکام کا شکارہے۔ آج کیفیت یہ ہے کہ اگرچہ ہم واحد اسلامی ایٹمی قوت اور دنیا میں ساتویں ایٹمی صلاحیت کے حامل ہیں تاہم ہماری حالت یہ ہے کہ ہم کرپشن‘ لوٹ مار اور بدترین طرزحکمرانیوں کی بدولت ترقی معکوس میں مبتلا ہیں۔ ہمارا انفرااسٹرکچر مکمل تباہ وبرباد ہوچکاہے۔ بنیادی ضروریات مثلاً پانی‘بجلی‘ روزگار‘امن وامان‘ تعلیم صحت یہ سب چیزیں عنقا ہوچکی ہیں۔ کراچی جو معیشت کی شہہ رگ ہے۔ تاجروں اورصنعتکاروں سے خالی ہوتاجارہاہے ۔ قتل وغارت‘ بھتہ خوری اور آئے دن ہونے والی خونریزی نے سرمایہ کاروں کو شدید عدم تحفظ کا شکاربنادیاہے جس کی وجہ سے بیرونی سرمایہ تو در کنار مقامی سرمایہ بھی بیرون ملک فرار ہورہاہے۔ ریلوے کا نظام آخری سانسیں لے رہاہے رینٹل پاور پروجیکٹس اربوں روپے کرایہ اداکرنے کے باوجود ایک یونٹ بجلی بھی فراہم نہیں کرپارہے ۔ بجلی کے نجی اداروں نے عوام کو عذاب مسلسل میں مبتلاکررکھاہے جبکہ کارخانوں میں پیداواری عمل نچلی ترین سطح پر آچکاہے۔ روزانہ افزوں گرانی‘ بے روزگاری‘ جرائم میں اضافہ بلکہ حکومتی اداروں کا ملوث ہونا اس ملک وقوم کی آبیاری کرنے والے ان لاکھوں شہیدوں کے مقدس لہو کے ساتھ غداری اور عزت مآب ماوں‘ بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتوں کی پامالی پر رقص ابلیس کے مترادف ہے۔ کسی بھی لیڈر یا جماعت میں ملک وقوم کی ہمدردی یا جذبہ حریت باقی نہیں رہا۔ سب نمبر گیممیں مصروف ہیں۔ روزانہ لاشیں گررہی ہیں۔ بیوائیں اپنے سہاگ کھورہی ہیں بچے اپنے باپوں کے خون آلود لاشے دیکھتے اور دلوں میں دوسروں کے لیے نفرتوں کو پروان چڑھاتے ہوئے انتقامی جذبات ابھارتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ ہمارے دشمن نزدیک ودور اپنے سازشی محلات میں داد عیش دیتے ہوئے مسکرارہیں اور نت نئی سازشوں کے تانے بانے بننے میں مصروف ہیں ۔آج کراچی سے لے کر وزیرستان تک چہار جانب قائدکا پاکستان لہولہوہے۔ آج ہمارے تحریک آزادی کے وہ شہداءجنہوں نے قیام وبقائے وطن کی خاطر اپنی جانیں جاں آفریں کے سپردکیں۔ ان کی روحیں نجانے کس اذیت کا شکارہوں گی کہ اغراض ومقاصد کیاتھے اور آج وطن عزیز کا حلیہ ہی بدل کر رہ گیاہے۔ امانت ودیانت کا دور دور تک پتا نہیں۔ حکمراں طبقات قومی خزانوں کو جس بے دردی سے لوٹنے میں مصروف ہیں۔ وہ تو ایک طرف غیر ملکی قوتوں کا روز بروز بڑھتا ہوا عمل دخل اور کارروائیاں وطن عزیز کی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ کیا آج 64 برس بعد بھی جشن آزادی کا اہتمام کرتے ہوئے چراغاں کرنے والوں کو یہ احساس بھی ہے کہ اس چراغاں میں لاکھوں شہداءکے مقدس لہو کی تیش اور روشنی جگمگارہی ہے۔ کاش آج ہم بحیثیت قوم اللہ تعالیٰ سے کیے گئے عہدکی پاسداری کرتے ہوئے 14 اگست کو اپنی اصلاح اعمال کرتے ہوئے مجموعی توبہ واستغفار کے ذریعے رب تعالیٰ کو راضی کریں کہ یہ ملک 27 رمضان المبارک کے دن معرض وجود میں آیا اور آج پھر رمضان المبارک ہم پر سایہ فگن ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس قوم پر رحم فرمائے اور آزادی کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق بخشے۔

  38. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 12:56 am

    پاک سرزمین شاد باد
    كشور حسين شاد باد
    تو نشان عزم عالي شان
    ارض پاکستان!
    مرکز یقین شاد باد

    پاک سرزمین کا نظام
    قوت اخوت عوام
    قوم ، ملک ، سلطنت
    پائندہ تابندہ باد
    شاد باد منزل مراد

    پرچم ستارہ و ہلال
    رہبر ترقی و کمال
    ترجمان ماضی شان حال
    جان استقبال!
    سایۂ خدائے ذوالجلال

  39. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 1:37 am

    پاکستان خدا کی مرضی ہے اور یہ مرضی پوری ہوکر رہے گی پاکستان قیامت تک زندہ رہے گا
    قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ

  40. saqlainraza نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 6:12 am

    میں جشن آزادی کی تقریب میں شرکت کرکے آرہاہوں’ معصوم بچوں کے چہروں پرہنسی دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا اوریقین کریں کہ ان کے معصوم ہاتھوں میں قوم پرچم بھی کتنا بھلا لگ رہاتھا۔ لگتا تھا یہ سوہنا پرچم انہی سوہنے اورمعصوم ہاتھوں کیلئے بنا ہے۔ سوچ رہاتھا کہ یہ معصوم بچے تو اپنا فرض اداکررہے ہیں ہاتھوں میں پرچم اٹھاکر عہد کو نبھارہے ہیں ‘لہرا لہرا کر دنیا کو پیغام دے رہے ہیں کہ اتنی کٹھنائیوں اورمشکلات کے باوجود ہمارا پرچم لہرا رہا ہے لیکن ہم نے کیا کیا؟میں نے ”بڑے بڑوں” کے چہرے پر خوشی کاوہ رنگ نہیںد یکھا’ نہ تو کوئی افسر نہ کوئی بڑا سیاستدان’ محض فارمیلٹی پوری کرنے کیلئے جمع ہوئے۔ آگے پیچھے گاڑیوں کی لمبی لمبی لائنوں میں جشن آزادی کی تقریب میں آنیوالوں کو کیا پتہ ”خوشی کس چڑیا کانام ہے’وہ چڑیا جو ہرصبح ہماری دیواروں پر چوں چوں کرتی آزادی کا مژدہ دیتی ہے اورہم خوابناک ماحول میں بسنے والے اسکی چوں چوں میں چھپے آزادی کے پیغام کو سمجھ نہیں سکتے۔ یقینا آج یوم آزادی تھا لیکن ان کیلئے جو ابھی معصوم جذبوں کے مالک ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس ملک سے بہت کچھ پایا’ بہت کھایا اور دونوں ہاتھوں سے نوچا ‘ وہ لوگ تو خوش دکھائی نہیں دے رہے۔ نجانے کیوں مجھے باربار احسا س ہورہا ہے کہ ہم نے خود اپنے لئے منز ل کاتعین نہیں کیا اورستم ظریفی تو یہ بھی ہے کہ کوئی ہمارے لئے راہبر بھی نہیں ‘ جو راہبر تھے وہ دنیا سے چلے گئے یاجن کے ذمہ راہبری ہونا تھی وہ بیچارے بہت پیچھے دھکیل دئیے گئے اورجنہیں جیلوں میں یا کال کوٹھڑیوں میں ہوناچاہئے تھاو ہ ہمارے سروں کے تاج بن بیٹھے ہیں۔
    خدا پاکستان کی حفاظت کرے

  41. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 7:00 am

    سب پاکستانی بہن بھائيوں کو پاکستان کا 64واں جشن آزادی بہت بہت بہت مبارک ھو، اللہ پاک ھمارے وطن کو دشمنوں سے ، غلاموں سے۔ بدترین حکمرانوں سے ،بے ضمیر سیاست دانوں سے ۔زرعی ٹیکس اور زکوۃ نہ ادا کرنے والے جاگیرداروں سے، زرداروں سے ،محفوظ رکھنا ۔آمین ثمہ آمین

    مجھے فیض احمدفیض کی نظم یاد آرھی ھے

    نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
    نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
    چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے
    جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
    نظر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے
    ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظمِ بست و کشاد
    کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد

    بہت ہے ظلم کہ دستِ بہانہ جو کے لیے
    جو چند اہل جنوں تیرے نام لیوا ہیں
    بنے ہیں اہلِ ہوس، مدعی بھی منصف بھی
    کسیے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں
    مگر گزارنے والوں کے دن گزرتے ہیں
    ترے فراق میں یوں صبح شام کرتے ہیں

    بجھا جو روزنِ زنداں تو دل یہ سمجھا ہے
    کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہوگی
    چمک اُٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے
    کہ اب سحر ترے رخ پر بکھر گئی ہوگی
    غرض تصورِ شام و سحر میں جیتے ہیں
    گرفتِ سایۂ دیوار و در میں جیتے ہیں

    یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
    نہ اُن کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی
    یونہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
    نہ اُن کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی
    اسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتے
    ترے فراق میں ہم دل بُرا نہیں کرتے

    گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے
    یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں
    گر آج اَوج پہ ہے طالعِ رقیب تو کیا
    یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں
    جو تجھ سے عہدِ وفا استوار رکھتے ہیں
    علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں

    اللہ پاک ھمارے پیارے وطن پاکستان کو تاقیامت قا‏ئم ودائم رکھنا، اس کا سبز پرچم ھمشیہ سربلند رکھنا آمین ثمہ آمین

  42. سیدمصباح حسین نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 7:02 am

    نگہت آپی سلام مسنون۔ بیماری تو اپنی جگہ لیکن جب روح ہی اپنے ہی قلم کے نشتر سے چھلنی ہو چکی ہو تو قلم توڑ دینا ہی بہتر ہے۔ میں تو چپ تھا۔ آپ کا حکم ملا تو ہزار کوشش کے باوجود اسکے سوا کچھ نہ کہ سکا۔

        پیغام تہنیت:

    جہان بھر کے قاتلوں، لٹیروں، رسہ گیروں، بد معاشوں، حرام کاروں، خون خواروں ، تقسیم کاروں، بے ایمانوں، ابلیسی ہرکاروں، خرکاروں اہل جہنم زرداروں، ، اشرافیہ کے بڑے بڑے شریفوں، چوہدریوں، سرداروں، جاگیرداروں، نوابوں، مخدوموں، پیروں، گدی نشینوں، فوجیوں، ججوں چھجوں، صحافیوں، منافع خوروں سمیت تما م بے باپ کی نسلوں کو ایک بار پھر چودہ اگست مبارک ہو کہ انکو ہر کمینگی کی مکمل آزادی اس مملکت کی تشکیل کے طفیل میسر ہے۔ تقسیم ہند سے جتنی ان طبقات کی قسمت جاگی، کسی کی نہ جاگی ہوگی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


        اظہار تسلیت:

    پاکستان بھر کی کیڑوں مکوڑوں سے ارزاں خون والی بد قسمت عوام کو آج کے دن ہم انگریزی سامراج اور انکے آلہ ہائے کار کی سازش کے تحت پاکستان کے نام پر طویل ترین غلامی و مصائب کا شکار ہوجانے پر اظہار تسلیت پیش کرتے ہیں۔ ہم روح قائد و اقبال سے بھی انکے خواب چھن جانے پر انہیں پرسہ و عزا پیش کرتے ہیں۔ ان اللہ مع الصابرین، اور ہم مایوس نہیں کہ ان سب دشمنان انسانیت کو جلد یا بدیر ضرور عبرتناک سزا ملے گی اور عالم جنت میں تمام مستضعفین ِ ہند کو انکے مصائب و الم پر اجر عظیم ملے گا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ملی نغمہ:

    چاند روتا ، ہمکتا ستارہ ہے یہ
    سب سے نالاں یہ جھنڈا ہمارا ہے یہ
    ۔۔۔۔۔۔
    کب عزت و غیرت کا تھا یہ نشاں
    رہے اسکے ہم نہ ہماری یہ جاں
    دشمنوں کے لئے تر نوالہ ہے یہ۔
    ۔۔۔۔۔۔
    جب تلک دم میں دم ہے یہ بک جائے گا
    دیکھ لینا یہ دنیا سے اٹھ جائے گا
    کب حکومت و فوجوں کوپیارا ہے یہ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زرداروں شریفوں کی سرداریاں
    ملک و ملت کی کشتی کو لے ڈوبیں گی
    ننگ ملت کیانی تماشا کرے۔

  43. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 7:18 am

    محبت کو ہی یہ ہنر ملا ہے جو بنجر زمینوں میں رستہ بنا لیتی ہے ۔۔۔۔محبت ایمان کی طرف پہلا کھلنے ولا پہلا دروازہ ہے ۔ جب یہ کھلتا ہے تو ساری صبحیں روزن ستا رہ بن جاتی ہیں اور گہن زدہ راتوں میں بھی اپنے رب سے پہلی اور آخری امید بھی ایک لو کی طرح دل کے نہاں خانے میں دھیرے دھیرے جلنے لگتی ہے ۔ ۔۔ایمان سے خالی دل اور روحیں توبنجر زمینوں کی طرح ہی ہوتی ہیں جس پر کوئی امید نہیں اگتی ۔۔۔ آج میرا وطن جس بھی حال میں وہ ہماری محبت کی کمی کا شکار ہے ۔ اس کی گہن زدہ راتوں میں کو ئی دیا نہیں جلا رہا ۔۔ بس دن رات اپنے وطن سے دور یہی دعا مانگتی رہتی ہوں اللہ کریم میرے وطن کو محبت کی برکت سے آباد کر دے ۔۔۔ آمین ثمہ آمین

    ۔۔ بس دن رات اپنے وطن سے دور یہی دعا مانگتی رہتی ہوں اللہ کریم میرے وطن کو محبت کی برکت سے آباد کر دے ۔۔۔ آمین ثمہ آمین

    تمھاری اس خوبصورت دعا پر امین ثمہ امین

    بہت پیاری بہن اور بہت عزيز دوست ڈاکٹر نگہت نسیم ،ھم سب کے لیے بہت فخر اور خوشی کی بات ھے کہ 13|اور 14 اگست کی رات کو قوم کو آزادی کی خوش خبری سنانے والے عظیم تر انسان مصطفی علی ھمدانی کے نامور صاحب زادے محترم المقام صفدر ھمدانی صاحب اس شاندار روایت کو آگے بڑھا رھے ھیں اور مایوس دلوں میں امید اور سچ گوئ کے چراغوں سے روشنی کررھے ھیں ،

  44. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 7:45 am

    کم وبیش ھرروز ھی میرے میل بکس میں محمد شعیب تنولی صاحب کی کوئ نہ کوئ میل ضرور ھوتی ھے ۔مجھے انکی ھر میل سے یہی گہرا احساس ملتا ھے کہ وطن کی محبت انکے جسم وجاں میں بسی ھوئ ھے اور پاک وطن کی مٹی پر نّثار ھونے کی خواھش میں وہ بڑی خوبصورت اور دل کو چھو لینے والی ایملیز کے ذریعے اس سچے اور خوبصورت جذبے کی روشنی سے جگمگاتی محبت سے خیراں آنکھوں میں آخوت اور بھائ چارگی کے دلکش رنگ ھم سب پاکستانیوں کو ایک مضبوط زنجیر میں پرو کر رکھنے کی چاھت میں سرشار رھتے ھیں ۔

    ۔،آج یوم پاکستان ھے میرے پیارے وطن کا 64واں جشن آزادی ،مگر یہ کیسا جشن ھے کہ ھر دل میں ایک عجب سے خوف کی حکمرانی ھے ،درودیوار پر جراغاں ھورھا ھے مگر کوئ کسک کوئ خلش باربار دل ودماغ کو بے چین کررھی ھے ۔ اللہ ھم سب پر رحم فرماۓ آمین

    اس شدید مایوسی میں شعیب تنولی کی تحریر نے دل کو سنبھالا

    یہ میرا پاکستان ہے’ اس کی چھاتی پر رواں دواں دریا’ اس کی آغوش سے پھوٹتی رحمتوں کے سلسلے’ اس کے آنگن میں رقص کرتی ندیاں’ اس کے پہاڑوں میں اچھلتے کودتے چشمے’ اس کے میدانوں میں شاداں و فرہاں پری رو درخت’ زیبا بدن سبزے’ نورنگ پھول’ پھیلتی سمٹتی روشنیاں’ رشک مرجاں شبنمی قطرے’ لہلہاتی فصلیں’ مسکراتے چمن’ جہاں تاب بہاریں اور گل پرور موسم اس کی عظمت کے گیت گا رہے ہیں۔

    اس کے پنجابوں پر جھکے جھکے آفاق’ اس کی سرحدوںِپر پھیلی پھیلی فضائیں’ اس کے بام و تخت کے بوسہ لیتے آسمان اس کے حسن تقدیر کے نقوش بن کر ابھر رہے ہیں۔ یہ میرا ملک بھی ہے’ یہ میری تقدیر بھی ہے۔یہ میری داستان بھی ہے’ یہ میرا ارماں بھی ہے۔ یہ میری مچلتی آرزو بھی ہے’ یہ میری آرزوؤں کا آستاں بھی ہے’ میرے خون کے قطروں میں لکھت میں وہ عزم و حوصلہ نہیں جو اس کے آبی قطروں میں ہے۔

    میرے دیدہ وچشم کی جھیلوں میں وہ جمال نہیں جو رومان و حسن اس کے جوہڑوں اور تالابوں میں ہے۔ میرے وجود کی مٹی میں وہ دلکشی نہیں جو جاذب نظر اور دلفریبی اس کی خاک میں ہے۔ یہ پھولوں کی دھرتی ہے۔ یہ خوشبوؤں کا مسکن ہے۔ یہ نظاروں کا دیس ہے۔ یہ رحمتوں کی جولانگاہ ہے۔ یہ روشنیوں کا کشور ہے۔ یہ اجالوں کا مصدر ہے۔ اس پر نثار میرے دل وجاں۔

    اس پر تصدق میری جز ہائے بدن۔ یہ محض میرا ملک نہیں میرا ایماں بھی ہے’ میری جاں بھی ہے’ اس کے دکھ مجھے دکھ دیتے ہیں’ اس کے سینے سے اٹھنے والے مسائل کے ہوکے میرے دل میں چھبنے والی سوئیاں ثابت ہوتے ہیں۔ اس کی طرف کوئی ٹیڑھی نظر سے دیکھے تو گویا وہ آنکھ نہیں’ میرے جسم میں پیوست ہونے والا تیر ہوتا ہے۔

    ساتھیو آپ سب کو عالمی اخبار کی طرف سے اپنے وطن پاکستان کی آزادی کی سالگرہ بہت بہت مبارک ہو ۔۔۔ آئیے اپنی آزادی کا جشن مناتے ہیں

    شعیب تنولی صاحب کی تحریروں میں بڑی ندرت ھوتی ھے انکی اس دعا پر پوری قوم آمین کہتی ھے

    اے ہمارے مالک ہمارے پروردگار یا اللہ
    ہمارے پیارے پاکستان کی حفاظت فرما اور اس کو دشمنوں سے محفوظ فرما اس کو اسلام اور امن کا گہوارا بنا یا اللہ ہمارے پاکستان کی حفاظت فرما ۔ یا اللہ ہمارے پاکستان کی حفاظت فرما۔ ( آمین)

  45. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 9:25 am

    یوم آزادی ملک بھر میں روایتی جوش و خروش
    کراچی کے نوجوانوں نے مشترکہ قومی ترانہ پڑھنے کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا

    چونسٹھ واں یوم آزادی روایتی جوش وجذبے سے منایا جارہا ہے۔ لاہور،کراچی،اسلام آباد، راولپنڈی، کوئٹہ اورپشاور سمی تمام چھوٹے بڑے شہروں میں یوم جشن آزادی کی خوشی میں بھنگڑے ڈالے گئے، ریلیاں نکالی گئیں اور خصوصی طور پر دعائیں کی گئیں۔

    کراچی میں ہزاروں نوجوانوں نے ایک ساتھ قومی ترانہ پڑھ کر عالمی ریکارڈ بناڈالا۔لاہور ،کراچی ،پشاور،کوئٹہ اور اسلام آباد میں سرکاری عمارتوںپر قومی پرچم لہرانے علاوہ برقی قمقموں سے سجایا گیا ہے اور صبح سے ہی نوجوان سڑکوں پر رقص کرکے اپنے جذبات کا اظہار کررہے ہیں۔دن کے آغاز پروفاقی دارالحکومت میں 31جبکہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں کے علاوہ آزادکشمیر میں پاک فوج کی جانب سے21توپوں کی سلامی دی گئی۔

    یوم آزادی کے پر مسرت موقعہ پر پاک فوج کے چاک و چوبند دستے نے لاہور میں فورٹریس سٹیڈیم اور پشاور میں جناح پارک میں 21توپوں کی سلامی دی گئی۔ اس موقع پر دونوں مقامات پر پاک فوج کے اعلیٰ افسران اور اُن کے اہل خانہ کے علاوہ شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی جبکہ کثیر تعداد سٹیڈیم کے باہر موجود رہی ۔اس موقعہ پر پاک فوج کی جانب سے ملک کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کا عزم کیاگیا۔

    اسلام آباد میں جشن آزادی کی تقریب سے خطاب کے دوران صدر پاکستان آصف علی زرداری نے کہا کہ عالمی برادری سے تعاون کریں گے مگر کسی کی بالا دستی قبول نہیں ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے جشن آزادی کے موقع پر قوم سے خطاب کے دوران کہاکہ آئندہ نسلوں کو محفوظ پاکستان دینا چاہتے ہیں جبکہ قوم کو دہشت گردی کے کینسر سے نجات دلاناحکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔

    اُنہوں نے کہا کہ قومی اتحاد اور یکجہتی سے تمام چیلنجز کا مقابلہ کرکے ملکی سلامتی اور قومی وقار کو یقینی بنائیں گے۔ کاکول ملٹری اکیڈمی میں جشن آزادی کی تقریب سے خطاب میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ملکی سلامتی کی جدوجہد میں قربانیوں پر عوام اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ لاہور میں مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی اور جشن آزادی کی تقریب سے خطاب کے دوران کہاکہ ہمیں ماضی کو یاد رکھ کر مستقبل کا سوچنا چاہیے ۔ یوم آزادی کے موقع پر صدر اور وزیر اعظم نے اپنے خصوصی پیغامات میں قوم کو یوم آزادی کی مبارکباد دی ہے۔

    ا دھر جشن آزادی کی خوشی میں کراچی کے نوجوانوں نے یک جہتی کاشاندارمظاہرہ کرتے ہوئے ڈیفنس سٹیڈیم میں یک زبان ہوکر قومی ترانہ پڑھا اور عالمی ریکارڈ توڑنے کا دعویٰ کیا۔فلپائن میں یکم ستمبر 2009ءکو 5248 افراد کا قومی ترانہ پڑھنے کاریکارڈ توڑنے کی چاہ میں لڑکے، لڑکیاں، بچے، بڑے سب ہی 13 اگست کی رات سے قبل ہی جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔منتظمین کے مطابق 5885 پاکستانیوں نے یک زبان ہوکرپاکستانی ہونے کا ثبوت دیا۔

    راولپنڈی اورلاہور میں مختلف مقامات پر ریلیاں نکالی گئیں اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے گئے جبکہ بچوں نے پرجوش نعرے لگائے۔پشاور اور کوئٹہ میں نوجوانوں نے روایتی لوک رقص کرکے وطن سے محبت کا ثبوت دے رہے ہیں۔ تمام تر حکومتی پابندیوں کو توڑتے ہوئے ملتان میں آتش بازی کا خوبصورت مظاہرہ کیا گیا۔

    لاہور اور کراچی میں نوجوان علی الصبح موٹر سائیکلوں پر سڑکوں پر نکل آئے ہیں جبکہ لاہور میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں اور ون ویلنگ اور بغیر سائلنسر موٹر سائیکل پر پابندی ہے ۔
    عالمی اخبار .پاکستان بیورو چیف محمد احمد ترازی کی کراچی سے رپورٹ

  46. محمد شعیب تنولی نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 9:40 am

    14 اگست کا سورج طلوع ہو گیا ایسا دن جس دن جب ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑی نعمت سے نوازا اور ہم اس کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے آج اپنی عبادات میں زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اللہ تعالیٰ سے پاکستان کی حفاظت اور سلامتی کی دعائیں مانگیں۔

    آئیں سب ملکر دعا کریں۔

    اے ہمارے مالک ہمارے پروردگار یا اللہ
    ہمارے پیارے پاکستان کی حفاظت فرما اور اس کو دشمنوں سے محفوظ فرما اس کو اسلام اور امن کا گہوارا بنا یا اللہ ہمارے پاکستان کی حفاظت فرما ۔ یا اللہ ہمارے پاکستان کی حفاظت فرما۔ ( آمین)
    محمد شعیب تنولی

  47. راجہ اکرام نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 9:51 am

    السلام علیکم
    تمام اہل وطن کو سب سے پہلے جشن آزادی مبارک ..

    اب صف ماتم اٹھا دو نوحہ خوانی چھوڑ دو
    موت ہے عنوان جس کا وہ کہانی چھوڑ دو

    اس بار کا یوم آزادی جن حالات میں آیا ہے ان میں جشن منانے کا خیال واقعی انسان کو مغموم کر دیتا ہے اور مایوسی کے مہیب سائے اس قدر چھا گئے ہیں کہ مختلف اطراف سے “جشن نہیں ماتم” کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔
    لیکن اگر کچھ دیر جذبابیت سے نکل کر حقیقت پسندی سے سوچا جائے تو مایوسی اور اس کے نتیجے میں “ماتم” کی صدائیں بلند دور رس نقصانات کا باعث ہو سکتی ہیں۔
    جش کا مطلب ضروری نہیں کے بھنگڑے ڈالنا اور شہنائیاں بجانا ہو۔ یوم آزادی منانے کے ایک سے زائد طریقے ہیں۔ جن میں سے حالات کے مطابق کوئی بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ اور اس کا مقصد جہاں اس آزادی کی نعمت کا شکر بجا لانا، اپنے بزرگوں کی قربانیوں کا اعتراف کرنا، آنے والی نسل میں آزادی کا احساس اور شعور بیدار کرنا ہے وہیں اس کا ایک اہم مقصد معاشرے کے ناسوروں کے‌خلاف آواز اٹھانا، اور بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے اس دن ایک بار پھر وہی عزم کرنا جس کے ساتھ 1947 میں مسلمان قوم اٹھی تھی اور بر صغیر کو تقسیم کر کے ایک مسلمان ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر کیا تھا۔
    ماتم اور وہ بھی اس روز ۔۔۔ یہ تو اس طبقہ فکر کی فتح ہو گی جس نے روز اول سے آج تک اس اسلامی ریاست کی مخالفت کی اور نظریہ پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ یہ سارے حالات انہی کے پیدا کردہ ہیں، اور اگر وہ محبان وطن سے اس روز ماتم کروانے میں کامیاب ہو گئے تو پھر ہم اپنی آنے والی نسل کو کیا شعور آزادی دیں گے؟
    حالات واقعی بہت ناگفتہ بہ ہیں لیکن بہتری کی امید کے ساتھ مایوسی کا خاتمہ ضروری ہے۔

    اس موقع پر مکرمی اجمل انجم صاحب کی تازہ ترین نظم کے چند اشعار ضرور پیش کرنا چاہوں گا

    وطن کی مٹی ۔۔۔۔۔ یقین رکھنا
    کہیں جہاں میں ، خزاں کی رُت دائمی نہیں ہے
    ستم کی کالی سیاہ راتیں ، طویل بھی ہوں
    تو ان کا ڈھلنا
    رُتیں بدلنا ۔۔۔۔۔ نسیم ِ صبح ِ بہار چلنا
    یہ دین ِ فطرت ہے ، عین ِ حق ہے
    یہ بالیقیں ہے
    یقین رکھنا ۔۔۔۔۔ شب ِ ستم کا ، عذاب رُت کا
    یہ بالیقیں دور ِ آخریں ہے

    و السلام
    راجہ اکرام
    اسلام آباد

  48. saqlainraza نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 9:59 am

    ڈاکٹر صاحبہ!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب جبکہ دن ڈھلنے کے قریب ہے اور ”آزادی کاجشن ” منانے والے بھی تھک ہار کر گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔ایک چھوٹی بات عرض کرناچاہتاہوں۔ہم میں سے کتنے لوگوں نے ”تجدید عہدکے دن” اس عہد کی تجدید کی جو 23مارچ 1940ء کو اقبال پارک میں کیاگیاتھا۔ ہوسکتاہے کہ میرے سمیت کئی دوستوں کووہ عہد ہی یاد نہ ہو کہ ہم تو ”بھلکڑ” قوم مشہورہوچکے ہیں جو اپنے ساتھ ہونیوالے مظالم کو بھول کر صرف اور صرف ” زندہ باد ” اور ”مردہ باد ” کے نعرہ لگانا ہی ”تجدید عہد ”تصورکرتی ہے۔

  49. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 11:02 am

    14 اگست ہماری قومی زندگی کا ایک اہم دن

    قوموں کی زندگی میں آزادی کی حیثیت روح سی ہوتی ہے اور آزاد قومیں جس طر ح سے پلھتی پھولتی ہیں اور ترقی کرتی ہیں مغلوب قوموں کا نصیب نہیں ہوتا جس کی واضح مثال برصغیر پاک و ہند میں مسلم قوم کے انگریزوں کی غلامی کے سو سال کا دور ہے مسلمان اس سو سالوں میں کوئی خاطر خواہ ترقی نہیں کر سکے اور اسی بنیاد پر مسلم لیگی لیڈروں کو قائداعظم کی راہنمائی میں مسلمانوں کے مسائل کا حل صرف اور صرف آ زادی میں نظر آ یا اور قائد کی شاندار قیادت میں مسلمان اپنے لئے علیحدہ وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے
    14 اگست 1947ءایک تاریخی دن بن کر دنیائے سیاست جغرافیہ میں رقم ہو گیا اور ہما ر ے لئے 14اگست کی تاریخ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایک اہم دن بن گیا اس دن کی اہمیت کئی لحاظ سے ہے
    ایک تو یہ ہماری جدوجہد کے ثمر کا دن ہے گویا تشکر بجا لانے کا دن ہے اور دوسرا یہ دن ہمارے لئے خوشی کا دن ہے اور ہمارے لئے خوشی منانے اور احساس آزادی کو زندہ کر نے کا دن ہے تیسرا یہ دن تجدید عہد اور اپنے بنیادی نصب والعین کو دہرانے کا دن ہے اور سب سے بڑھ کر یہ دن ہمارے لئے احتساب کا دن ہے بحیثیت فرد اور قوم اپنے اعمال کا احتساب کہ کیا ہمارا قومی سفر شاہراہ زندگی پر اپنی متعین منزل کی طرف ٹھیک طریقے سے جاری و ساری ہے یا نہیں؟ اور آج14 اگست 2010ءمیں جشن آزادی مناتے ہوئے ہمارے لئے سب سے زیادہ اہمیت اسی نکتہ کی ہے یعنی قومی احتساب کی ایک نوجوان سے لیکر ایک بوڑھے عمر رسید ہ بزرگ تک چوکیدار سے لیکر آفسر مجاز تک ، ایک کارکن سے لیکر ایک سیاسی لیڈر تک ، قوم کے ہر طبقہ اور شعبہ زندگی کے ہر فرد کو اپنا احتساب ایک قومی سوچ کے ساتھ کر نے کی ضرورت ہے اگر قوم 2010ء کا جشن آ زادی اس عزم اور جشن کے ساتھ مناتی ہے کہ ہم اپنا احتساب خود کریں گے اور اپنی اصلاح کریں گے تو شاید آ نے والے سالوں میں کسی احتساب بیروز کی ضرورت نہ رہے جن پہلوؤں پر زیادہ غور کر نے کی ضرورت ہے ۔میں ان کی نشاندہی کرنا اپنا اخلاقی فر ض سمجھتا ہوں
    جشن آزادی کی تیاریاں کر تے ہوئے ایسے احراف کو رواج دیا جا رہا ہے جو ہماری قومی اور معاشرتی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا ہمیں اس سے پرہیز کرتے ہوئے کفایت شعاری اور خوشی منانے کے مابین ایک مطابقت اور ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے ہم جانتے ہیں کہ ہماری قوم بین الاقوامی قرضوں کے دباﺅ تلے کچلی جارہی ہے اگر ہم اس دن کو ان قرضوں سے نجات کے لئے ایک عزم کے طور پر استعمال کریں تو شاید ہماری خوشی حقیقی خوشی کا روپ دھار ے گی ورنہ ہماری قوم کی مثال اس بھٹہ مزدور کی سی ہو گی جو اپنے بچوں کی شادی و بیا ہ کی وقتی خوشی کے لئے ان کی زندگی بھر کی خوشیاں ”گروی“ رکھ کر انھیںقرضوں کے بوجھ تلے دبا دیتا ہے اور وہ زندگی بھر اس سے چھٹکارہ نہیں پا سکتے
    ہمارا دوسرا اہم کام اپنے قومی شعار اور علامات کی عزت و تعظیم کا خیال رکھنے کا ہونا چاہیئے اگست کے مہینے میں بنائے اور بیچے جانی والی بے شمار اشیاء14 اگست کے بعد یوں بے وقعت و بے توقیر ہو جاتی ہیں گویاوہ کسی ایسی قوم کی علامات ہوں جس کے آ ثار کسی کھنڈر سے ملے ہیں اس کی مثال آرائشی جھنڈیاں جو قومی پرچم کی شکل میں ہو تی ہیں اور اس پر علامہ اقبال۔ اور قائداعظم کی تصاویر بھی بنی ہوتی ہیں کی بے حرمتی ہوتی ہے جتنے شوق اور محبت سے یہ 13 اور 14 اگست کو آ ویزاں کی جاتی ہیں اس سے کہیں زیادہ بے دردی اور بے حسی سے یہ 15 اگست سے گلی کوچوں، نکاس آب نالیوں ، اور کوڑے کے ڈھیروں پر روندی جاتی ہیں جو کسی بھی طرح سے ایک احساس مند اور زندہ قوم کا وطیرہ نہیں
    قومی لیڈروں پر فرض ہے کہ قوم کی راہنمائی صرف سیاسی جلسوں میں مخالفین کے خلاف سیاسی نعروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ ایسی چھوٹی چھوٹی با توں پر قوم کی راہنمائی کریں جن کے ملنے سے قوم کوایک بڑا نصب و العین یاد رہ سکے اور قومی لیڈر اکثر 14 اگست کی تقاریر میں قائداعظم کا پاکستان کے نعرے لگاتے ہیں لیکن قوم کو پکار کر ان کی خامیوں کی نشاندہی نہیں کرتے اور نا ہی ان کی خامیوں کو دور کرنے کے لئے ان کی راہنمائی کرتے ہیں کوئی سیاسی لیڈر14 اگست کی تقریر وں میں ملک کے مسائل کو اجاگر کر کے راہنمائی کرتا دیکھائی نہیں دیتا یہی نہیں بلکہ
    نوجوانوں کا اپنے قومی تہواروں پر غیر مناسب ، غیر منظم اور غیر ذمہ دارانہ رویہ قائداعظم نے کبھی بھی نوجوانوں سے ایسے رویے کی امید نہیں رکھی تھی ۔ جو قومی تہواروں پر آج کل اختیار کیا جا رہا ہے خوشی منانے کا غیر ذمہ دارانہ انداز روز بروز زور پکڑتا جا رہاہے اور نہ تو حکومت نہ سیاسی راہنماءاور نہ ہی قوم کے بزرگ یعنی والد ین نوجوانوں کو اس سے پرہیز کرنے کی تلقین کرتے نظر آ تے ہیں ۔نہیں کرتے تلقین ۔قومی شاہراہوں پر نوجوان ٹولیوں کی شکل میں موٹرسائیکلوں پر ویلنگ کرتے نظر آ تے ہیں اور گاڑیوں کی چھتوں پر بھنگڑے ڈالتے ہو ئے اکثر میڈ یا پر دکھائے جاتے ہیں جس سے نا صرف ہر سال قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں بلکہ ہمارے منظم قوم ہونے پر بھی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے اور یہ ہم سب کچھ ایسے قومی تہوار کو منانے کی آ ڑ میں کر رہے ہیں جو ہم سے قائداعظم کے بقول نظم باہمی کا شدید مطالبہ کرتا ہے لیکن ہمیں اس کی کو ئی پرواہ نہیں دعا ہے کہ14 اگست 2010ءہماری قوم کو ” ایمان ، اتحاد ، اور نظم “ کا صحیح مطلب سمجھنے اور اس پر آ ئندہ سالوں میں عمل پیرا ہو نے کی توقیق بخشے(آمین)
    گوگل سرچ سے مدد لی گی ھے

  50. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 11:47 am

    جیو میری دوست شاہین .. مجھے فخر ہے کہ تم میری بہن بھی ہو اور میری غمگسار بھی .. جیو میری دلاری ..خوش رہو

  51. imran Ilyas نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 12:13 pm

    خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے
    وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو

    یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
    یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

    یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
    اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

    گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
    کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

    خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
    اور اس کے حسن کو تشویشِ ماہ و سال نہ ہو

    ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
    کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

    خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لیے
    حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

  52. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 12:19 pm

    ایک تو یہ ہماری جدوجہد کے ثمر کا دن ہے گویا تشکر بجا لانے کا دن ہے اور دوسرا یہ دن ہمارے لئے خوشی کا دن ہے اور ہمارے لئے خوشی منانے اور احساس آزادی کو زندہ کر نے کا دن ہے تیسرا یہ دن تجدید عہد اور اپنے بنیادی نصب والعین کو دہرانے کا دن ہے اور سب سے بڑھ کر یہ دن ہمارے لئے احتساب کا دن ہے بحیثیت فرد اور قوم اپنے اعمال کا احتساب کہ کیا ہمارا قومی سفر شاہراہ زندگی پر اپنی متعین منزل کی طرف ٹھیک طریقے سے جاری و ساری ہے یا نہیں؟
    ماشااللہ شاہین رضوی جی۔
    آپکی یہ تحریر پاکستان کے ہر اخبار کی پیشانی پر ہونی چاہیئے، ہر سکول کالج کے نصاب میں ہونی چاہیئے،ریڈیو ٹی وی پر دوہرائی جانی چاہیئے اور کسی نہ کسی طرح اندھے گونگے اور بہرے حاکموں کو بھی پڑھائی جانی چاہیئے

  53. سیدہ ثمرین بخاری نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 12:26 pm

    ماشا اللہ شاہین آنٹی بہت ہی عمدہ ۔۔ جزاک اللہ

  54. عالم آرا نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 12:47 pm

    اسلام علیکم
    آزادی جیسا میٹھا لفظ شاید ہی کوئی ہو ۔ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں آزادی حاصل ہے ۔الحمد للہ
    آزاری کے دن پاک وطن میں بہت کچھ اچھی اچھی باتیں بھی ہوئیں جو طمانیت کا باعث ہے ۔ روشنی کی کرنیں چمکتی رہیں تو تو اندھیرا دور ہو جاتا ہے ۔
    آزادی تجدید عہد کا دن ہے ایمانداری کے ساتھ ۔ ہم دوسروں کو تو کچھ نہیں کہہ سکتے مگر خود ہمت ضرور باندھ سکتے ہیں ۔ کہ ہم اپنی طاقت خود ہیں ۔
    اگر ہم اپنے وطن میں ہو رہی اچھائیوں کو بھی اسی طرح ا جا گر کریں جس طرح اس کی برائیون اور خرابیوں کی نشا ندہی کرتے ہیں تو محبت کی یہ شمع ضرور ہر طرف روشنی پھیلا ئگی انشا ء اللہ
    بلاگ کی تحریروں نے بہت کچھ سوچنے کے لئے فراہم کیا اور خوشی کے لمحات بھی دئے ۔ اللہ ہمارے ملک کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ آمین
    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں
    سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں ہم ایک ہیں
    بھائی مصباح اللہ آپ کو خوش رکھے صحت دے ۔آپ کی تحریر کافی عرصے بعد پڑھنے کو ملی ۔
    سب لکھنے والوں نے ہمارے علم میں جو اضافہ کیا اس کے لئے جزاک اللہ خیر
    اللہ ہمارے ملک کا محافظ ہو،اور اسے ہمیشہ قائم و دائم رکھے آمین
    عالم آرا

  55. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 1:09 pm

    سید مہتاب شاہ کی لکھا ہوا ایک قومی نغمہ جس نے ہند کو میں ترانے کا درجہ پایا .. ماشاللہ .. عالمی اخبار آپ کو آپ کی ا س بہترین کاوش پر مبارکبا ددیتا ہے ..

  56. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 2:59 pm

    آج کی سب سے بڑی خوشخبری ہے

    میرے ساتھیو .. میرے بہن بھائیو … ابھی ابھی جیو ٹی وی سے نشر ہونے والی خبر نے مجھے چونکا دیا .. میرے آنسو پونچھ دیئے میرے پاک رب نے .. خوشی کی خبر یہ ہے کہ پاکستان کے حسین ترین علاقعے پارا چنار میں پانچ برس کے بعد پاکستان کا پرچم ایک بار پھر سے لہرا دیا گیا ہے … اور .. دشمنوں نے اپنے منہ چھپا لئے ہیں .. ہر سو جشن کا سماں ہے .. مبارک سلامت کاشور کہہ رہا ہے کہ رات کتنی بھی لمبی ہو کتنی بھی اندھیری ہو .. جو صرف ایک دیا بھی دل میں روشن رہے تو اس کی لو سے رات کا سینہ کٹ جاتا ہے …
    آپ سب کو یہ خوشی بہت بہت مبارک ہو ….بہت بہت مبارک

  57. سید مہتاب شاہ نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 3:22 pm

    پارا چنار کے بہنوں بھائیوں
    عالمی اخبار آپ کے غموں کا مداوا تو نہیں کرسکتا لیکن آج آپ کی خوشیوں میں بالکل ایسے شریک ھے جیسے یہ سبز حلالی پرچم

    جب سبز حلالی پرچم لہرایا ، یہاں پھر سے بہار آئی ھے
    دل میں امنگیں جاگی ہیں ، عدو گھبرا کے بھاگا ھے
    اب نہ سُنی ھے نہ شیعہ ھے
    بس ایک روشن سا دیا ھے
    جس کی ٹمٹاتی لو میں
    بچے اک بار سے اپنے
    اپنے بستے کھولے بیٹھے ہیں
    پر وہ خائف ہیں ایسے
    ڈر لگتا ھو اُن کو جیسے
    وہ مسجد کے میناروں سے
    یا سامنے اُن ہتھیارو ں سے
    یا پھر مسجدکے میناروں سے
    لیکن اک آس بندھی ھے پھر سے
    بچے بھی نکلے ہیں گھر سے
    سروں پہ چھوٹی چھوٹی ٹوپیاں پہنیں
    ساتھ میں ہیں اُنکی چھوٹی بہنیں
    ہرے رنگ کے دوپٹے وہ اوڑھ آئی ھیں
    جیسے طوفانوں کا رخ موڑ آئی ہیں
    وہ جب تھوڑا سا مسکراتی ہیں
    پھر وہ آپس میں گنگناتی ہیں
    ایک آواز آتی ھے مجھے وہ آس دیتی ھے
    یہاں سبز حلالی پرچم لہرایا ۔۔۔یہاں پھر سے بہارآئی ھے
    جہاں بچے مل کے مسکرا رھے رہیں
    کبھی گلے میں بانہیں ڈال کر
    کبھی ہاتھوں میں ڈالے ہاتھ
    وہ گائے جا رھے ہیں
    ھم زندہ قوم ہیں
    پائندہ قوم ہیں
    ھم سب کا پاکستان
    ھم سب کا پاکستان
    اور اتنے میں کالے جھنڈے لئے ایک پنجتنی ہاتھ نمودار ہوتا ھے
    وہ اپنے لشکر کے ساتھ آتا ھے
    بچوں کو دیکھ کر پہلے مسکراتا ھے
    پھر نہ جانے کیوں اک ٹھنڈی بھر کر
    بچوں کے ساتھ گاتا ھے
    اس پرچم کے سائے تلے ھم ایک ھیں ھم ایک ھیں
    سانجھی اپنی خوشیاں ں ں ں اور غم ایک ھیں غم ایک ھیں

  58. محمد شعیب تنولی نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 3:54 pm

    گزشتہ روز میں کام میں مصروف تھا کہ ایک ٹیلیفون کال آئی اور
    کال کرنے والے نے پوچھا آپ محمد شعیب تنولی ہیں میں نے کہا جی ہاں اس نے
    جواب دیا کہ آپ سب کی خبریں شائع کرتے ہیں کیا کچھہ اس طرف بھی توجہ دی
    کہ حکومت کی جانب سے بھٹوں پر سیلز ٹیکس لگانے کی وجہ سے تمام بھٹے بند
    ہوچکے ہیں اور صرف ڈیرہ اسماعیل خان کی سطح پر لاکھوں غریب مزدور
    بیروزگار ہوچکے ہیں وہ کیا کریں فاقہ کشی کی حالت تک پہنچ چکے ہیں،تو میں
    نے کہا کہ ہم آپ کی آواز ارباب اختیار تک قلم کی ذریعے ضرور پہنچائیں گے۔

  59. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 5:19 pm

    بھائی شعیب تنولی. ہمارے ہاں سیاسی لغت میں ارباب اختیار کا مطلب رسہ گیروں کا وہ گروہ ہے جس کے پاس کوئی اختیار نہ ہو یا پھر کم ازکم عوام کے لیئے کوئی اختیار نہ ہو اب رہی آواز پہنچانے والی بات تو میں کئی بار یہاں بلاگ فیملی کے درمیان اور اپنے کالموں میں یہ لکھ چکا ہوں کہ ہم لکھنے والوں کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ سوچتے ہم ہیں،محسوس ہوم کرتے ہیں،لکھتے ہم ہیں،پھر پڑھتے بھی ہم ہیں اور پھر جلتے کڑھتے بھی ہم ہیں. تُف بر ایں ہمہ ارباب اختیار….

  60. سید مہتاب شاہ نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 6:32 pm

    تمام احباب کے ساتھ ساتھ محمد شعیب تنولی صاحب کومیری جانب سے دلی جشن آزادی مبارک کے ساتھ ساتھ خوش آمدید

  61. اظہر الحق نے کہا ہے:
    August 14, 2011 بوقت 10:38 pm

    میں نے سب تبصرے پڑھے تو ہونٹوں پے بے اختیار یہ نغمہ مچل گیا ، محشر بدایونی کا لکھا یہ لازوال گیت جسکی دھن نثار بزمی نے بنائی تھی ، یہ گیت جتنا سننے میں دل کو بڑھا دیتا اتنا ہی پڑھنے میں جذبے کو جگا دیتا ہے ، آئیے ہم سب ایک دوسرے کے ہاتھ تھام کہ کہیں

    اے روح قائد آج کے دن ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں
    ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں

    مٹی سے سچا پیار ہمیں ، اب پیار کے رنگ ابھاریں گے
    اب خون رگ جاں بھی دے کر ، موسم کا قرض اتاریں گے
    ڈھالیں گے فضا میں وہ جذبے
    کاغذ پے جو لکھا کرتے ہیں
    ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں ، اے روح قائد

    دریاؤں کی تہ میں اتریں گے ، رخشندہ گوہر لائیں گے
    افلاک کی حد کو چھو لیں گے ، تارے بھی زمیں پر لائیں گے
    کر دیں گے عمل سے بھی ثابت
    باتیں تو ہمیشہ کرتے ہیں
    ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں ، اے روح قائد

    دست و بازو کی کھا کہ قسم ، پھر آج چلے ہیں اہل ہنر
    ہم تازہ دم ، ہم روشن دل ، ہم محنت کش ، ہم دانشور
    خامے سے دھنک لہراتے ہیں
    تیشے سے اجالا کرتے ہیں
    ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں

    موسم بھی نظر ڈالے گا تو اب ،چونکے گا ہماری محنت پر
    سورج بھی ہمیں اب دیکھے گا تو رشک کرے گا ہمت پر
    اب یہ نہ کہیں گے عرض و سما
    ہم دن ہی منایا کرتے ہیں
    ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں

    اے روح قائد آج کے دن ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں
    ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں

  62. جاوید اقبال کیانی نے کہا ہے:
    August 15, 2011 بوقت 3:29 am

    پاکستان کے تمام غریبوں کو یومِ آزادی اور امیروں کو شبِ آزادی مبارک !

    بلکہ مصباح صاحب کی ہی تقلید میں :۔
    ” پاکستان بھر کے قاتلوں، لٹیروں، رسہ گیروں، بد معاشوں، حرام کاروں، خون خواروں ، تقسیم کاروں، بے ایمانوں، ابلیسی ہرکاروں، خرکاروں اہل جہنم زرداروں، ، اشرافیہ کے بڑے بڑے شریفوں، چوہدریوں، سرداروں، جاگیرداروں، نوابوں، مخدوموں، پیروں، گدی نشینوں، فوجیوں، ججوں چھجوں، صحافیوں، منافع خوروں سمیت تما م بے باپ کی نسلوں کو ایک بار پھر چودہ اگست مبارک “

    اور اظہر بھائی کی تقلید میں بہادر شاہ ظفر کا نوحہ : ۔

    تجھے کیا بتاؤں میں ہمنشیں ، میرے غم کا قصہ طویل ہے
    میرے گھر کی لُٹ گئی آبرو ، ہوا غیر جب سے دخیل ہے

    اور یہ ’غیر ‘ تو اب اس حد تک دخیل ہوچکا ہے کہ لفظ ’ آزادی ‘ بھی ایک گالی یا طعنہ محسوس ہوتا ہے اور جب ہر سُو ’ پاکستان کو 64واں یومِ آزادی مبارک ‘ کی صدا سنتا ہوں تو ایک گھبراہٹ طاری ہوتی ہے کہ (میرے منہ میں خاک) خدانخواستہ پاکستان کی ریٹائرمنٹ کو کہیں ایک سال ہی تو نہیں ۔۔۔۔۔۔؟

    میرے ہموطنوں آؤ اور اللہ رب العزت کے خصوصی مہینے ، ماہِ صیام ، میں ہاتھ بلند کریں کہ اے رب کریم ہمیں عطا کئے گئے اپنے لیلۃ القدر کے اس تحفے کی اندرونی و بیرونی سازشیوں اور لٹیروں سے حفاظت فرما اور اس ملک کو بھی دنیا میں ایک باعزت مقام عطا فرما ، آمین ، ثمہ آمین ۔

    ۔۔

    دیر سے آنے کی گستاخی کی از حد معذرت ۔

  63. جاوید اقبال کیانی نے کہا ہے:
    August 15, 2011 بوقت 6:15 am

    پچھلے یومِ آزادی پہ اپنے خیالات ایک ٹوٹی پھوٹی نظم کی صورت پیش کیے تھے ۔ خیال تھا کہ حالات کی بہتری کے ساتھ شاید مجھے بھی لکھنے کا سلیقہ آجائے ۔ مگر نہ تو حالات بدلے اور نہ مجھے لکھنے کا ڈھنگ آیا ، چنانچہ اپنی ’ آزاد شاعری ‘ میں وہی جذبات دوبارہ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں :
    ۔۔۔۔۔۔

    کیسا یومِ آزادی آج ہے ؟
    ۔۔۔۔

    کوئی بتائے یہ مجھے کیا یومِ آزادی آج ہے ؟
    کیسا یومِ آزادی آج ہے ؟
    ہم جن کے تھے غلام کبھی
    اب بھی اُنہی کا راج ہے
    کیا یومِ آزادی آج ہے ، کیسا یومِ آزادی آج ہے ؟

    ۔۔۔

    کیا کٹ گیا دور غلامی کا ؟
    کیا مل گئی صبح آزادی کی ؟
    دستور ملا جمہور کو ؟
    کیا ہٹا ہے پردہ بدنامی کا ؟
    وزیر مشیر امیر کبیر
    پھُوٹی جنتا کی تقدیر
    جاہلِ اعظم جو یہاں
    اسی کے سر پہ تاج ہے
    کیا یومِ آزادی آج ہے ، کیسا یومِ آزادی آج ہے؟

    ۔۔۔

    ملک یہ میرا پاکستان
    لاَاِلہ لاَ کے آیا نام
    مسجد و منبر ہوئے جُدا
    مسلک کے جو اُٹھے طوفان
    رنگ برنگی پگڑیاں
    بنی ہیں مسلم کی پہچان
    کہیں قادیانی کی ہے جنگ
    کہیں شیعے سُنی کی آگ ہے
    کیا یومِ آزادی آج ہے ، کیسا یومِ آزادی آج ہے؟

    ۔۔۔

    یہاں امن و امان کی بات نہیں
    سُکھ اور چین کی رات نہیں
    یہاں موت ملے بازاروں میں
    خانقاہوں ، درباروں میں
    یاں عزت دار کیوں ڈرتے ہیں
    قانون کا ماتم کرتے ہیں
    بھوکوں لوگ یاں مرتے ہیں
    ذبح اپنے جگر وہ کرتے ہیں
    یہاں پیاس سے لوگ تڑپتے ہیں
    اور حاکم خُون پہ پلتے ہیں
    نہ بجلی پانی گیس یہاں
    نہ کھانے کو اناج ہے
    کیا یومِ آزادی آج ہے ، کیسا یومِ آزادی آج ہے؟

    ۔۔۔

    نہ مہک گُل و گلزار میں
    سُر کوئل کی پکار میں
    دھرتی پنج دریاؤں کی
    کہاں لوری ٹھنڈی چھاؤں کی ؟
    ٹوٹ گئے ہیں خواب اپنے
    چُور ہوئے ہیں سب سپنے
    یہ ویرانی تھی کہاں
    جو بربادی آج ہے
    کیا یومِ آزادی آج ہے ، کیسا یومِ آزادی آج ہے؟

    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    اور آخر میں محترمہ شاہین حیدر رضوی صاحبہ کی پیشکش اس سدا بہار دعائیہ شعر پہ ختم کرتا ہوں :

    خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لیے
    حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

    آمین ، ثمہ آمین ۔

  64. زرقا مفتی نے کہا ہے:
    August 15, 2011 بوقت 11:44 am

    السلام علیکم
    ہے حق ہمارا آزادی
    انسانی زندگی کے حوالے سے سوچا جائے تو چونسٹھ برس بہت ہوتے ہیں۔ کوئی بھی عام انسان اس عرصے میں اپنے خوابوں کو سچ کر سکتا ہے ۔ اپنے ارادوں کو پایہ ء تکمیل تک پہنچا سکتا ہے ۔ یہ عرصہ کسی بھی مملکت کے استحکام اور ترقی کے لئے بھی کافی ہے مگر بحیثیت قوم ہم آج بھی احساس محرومی کا شکار ہیں۔ ہمارے خواب آج بھی خواب ہیں ہمارے ارادے آج بھی لفظی جامے سے باہر نہیں نکلے۔ آزاد ہونے کے بعد بھی ہم اصل آزادی کا مزہ نہیں چکھ پائے۔ تو کیوں نہ اُس نعرے کو پھر دُہرائیں
    ہے حق ہمارا آزادی
    ہمیں حق ہے کہ ہم آزادی حاصل کریں اُن مفاد پرست گروہوں سے جو قابض ہیں اقتدار کے ایوانوں پر ۔ یہ مفاد پرست حکمران بھی ہیں سیاستدان بھی ہیں اور افسران بھی۔ ان میں سے ہر ایک گروہ اپنے لوٹ مار اور کرپشن کے ایجنڈے پر قائم ہے۔
    ہمیں حق ہے کہ ہم آزادی حاصل کریں جہالت اور غربت کے اندھیروں سے
    ہمیں حق ہے کہ ہم آزادی حاصل کریں غیر ملکی آقاؤں سے
    ہمیں حق ہے کہ آزادی حاصل کریں خوف کی دھند سے
    مگر اس کے لئے ہمیں یکسو ہونا ہے ۔ اپنی ترجیحات کو بدلنا ہے اپنی چُپ کو توڑنا ہے۔ اپنی سوچ کو مہمیز کرنا ہے۔ مفاد پرستوں کے کھوکھلے دعوں کو مسترد کرنا ہے ۔ کیا ہم تیار ہیں؟؟؟

  65. زرقا مفتی نے کہا ہے:
    August 15, 2011 بوقت 11:53 am

    السلام علیکم
    اوپر کسی مبصر نے لکھا
    A nation where PIZZA reaches home faster than AMBULANCE & POLICE…
    میرا ذاتی تجربہ اس سے قطعا مختلف ہے . پچھلے سال جب میری والدہ کو حاڈثہ پیش آیا تو تو مجھے حادثے کی خبر ملنے سے پہلے میری والدہ ہسپتال پہنچ چکی تھیں . کیونکہ ریسکیو 1122 والے 4-5 منت میں جائے حادثہ پر پہنچ گئے تھے. اس کے بعد بھی ہمیں متعدد بار ایمبولینس کی ضرورت پیش آئی اور ایمبولینس ہمیشہ وقت پر پہنچی. اب کوئی بھائی بہن یہ نہ کہے کہ یہ سہولت صرف شہروں میں ہے کیونکہ پیزا ڈلیوری بھی شہروں میں ہی ہوتی ہے.
    والسلام
    زرقا

  66. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 15, 2011 بوقت 1:44 pm

    زرقا میں تم سے سو فیصد متفق ہوں اور شکر اللہ کا ہمارے وطن میں روشنی بڑھ رہی ہے … انشاللہ ہم ضرور کامیاب ہونگے .. بس ہم سب کو اپنے اپنے حصے کی محبت اپنے وطن سے بے لوث اور بے غرض ہو کر کرنی ہے .. انشاللہ .. کل کراچی میں اتنے کڑے وقت میں جب جان و مال کا عتبا ر نہیں بچا ان حالات میں پانچ ہزار سے زائد لوگوں نے مل کر آدھی رات کو اپنے موبائل روشن کر کے قومی ترانہ پڑھا .. کیا یہ دشمنوں کے منہ پر تمانچہ نہیں تھا .. بلکل تھا .. اور موبائل کی روشنی اپنے وطن سے محبت کی لو تھی جو ان حالات میں بھی سب کو کھلے آسمان تلے جمع کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی …

  67. محمد شعیب تنولی نے کہا ہے:
    August 15, 2011 بوقت 7:17 pm

    جناب مہتاب صاحب آپکو بھی میری جانب سے دلی جشن آزادی مبارک

  68. Zafar Jaffery نے کہا ہے:
    August 16, 2011 بوقت 12:13 am

    1947 میں کل ٹیلیفون چار ہزار تھے۔ آج اس تعداد میں تھوڑا سا اضافہ ہوچکا ہے۔ آج ٹیلیفون دس کروڑ ہیں۔

    1947 میں مشرقی اور مغربی پنجاب کے مسلمانوں کے پاس کل 142 کاریں تھیں۔ آج اس تعداد میں بھی تھوڑا سا اضافہ ہوچکا ہے۔

    1947 سے پہلے جتنی ایک سے زیادہ بیویاں ہوا کرتی تھیں اب اتنی نہیں ہوتیں۔ اس میدان میں ترقی بالکل نہیں ہوئ۔

  69. جاوید اقبال کیانی نے کہا ہے:
    August 16, 2011 بوقت 5:41 am

    64واں یومِ آزادی اور قومی اعزازات کی بندر بانٹ اور بے قدری !
    ۔۔۔

    نشان امتیاز
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سپیکرقومی اسمبلی فہمیدہ مرزا
    چئیرمین سینیٹ فاروق نائیک
    صدر کے سیکرٹری جنرل سلمان فاروقی
    وزیر داخلہ رحمان ملک

    ۔

    ستارہ امتیاز
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صوبہ سندھ کی سابق مشیر شرمیلا فاروقی
    وزیر اعظم کی سابق پرنسپل سیکرٹری نرگس سیٹھی

    ۔

    ہلال امتیاز
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ایوان صدر کے صدراتی ترجمان فرحت اللہ بابر
    امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی
    بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سربراہ فرزانہ راجہ
    زمرد خان اور ایم کیو ایم کی خوش بخش شجاعت

    ۔۔۔۔

    چھیڑ دیوانے راگ تُو اپنا
    تُو کیوں پِگھلے اندر اندر
    دم دما دم مست قلندر
    دما دما دم مست قلندر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔مجھے بھی یوم آزادی مبارک !

  70. عالم آرا نے کہا ہے:
    August 16, 2011 بوقت 12:45 pm

    اسلام علیکم
    جی ہاں بھائی اقبال کیانی میں آپ کی آواز کے ساتھ ہوں ۔
    دما دم مست قلندر
    بلکہ میرا دل تو اس سے بھی زیادہ کوئی دھمال ہے تو وہ بھی ڈالنے کو تیار ہے ۔
    کہ ہم آزاد ہیں ۔ ہمیں بھی آزادی مبارک
    آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
    تو ہائے گل پکار میں چلا ؤں ہائے دل
    اللہ میرے ہم وطنوں پر رحم کرے آمین
    عالم آرا

  71. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 16, 2011 بوقت 2:08 pm

    مجھے خوشی ہے مصباح بھائی نے اپنی خرابی صحت کے باوجود بلاگ میں شرکت کی .. میر امان رکھنے کے لئے اپنی بہن کی طرف سے ڈھیروں دعائیں لیجئے .. بس یونہی جوگیوں والا پھیرا مار لیا کریں .. آپ کی آزادی پر نظم بہت خوبصورت تھی .. داد لیجئے .. اور لکھتے رہا کریں .. اللہ کریم نے آپ کو بہت طاقتور قلم عطا کیا ہے .. ماشاللہ

    یومِ آزادی از سید مصباح حسین جیلانی

    میرے وطن
    ترے شہری وہ تیری آبادی
    وہ دفتری،
    وہ سپاہی وہ کُل کے کُل مزدور
    تری بقاء سے
    جڑی تھی
    جنکی آزادای۔۔۔۔
    ہر ایک سال
    تیری تاسییس کے مہنیے کو
    جوکیفِ جشن منانےکی ریت رکھتے تھے
    ہر ایک سال
    جو تجھ سے وفا کے وعدوں کی
    اٹھا کے قسمیں
    وہ تجدید ایسے کرتے تھے
    کہ لا الہ سے مربوط یہ بھی کلمہ ہو
    یا بندگی کے قرینوں میں اک قرینہ ہو
    جو اپنی جان پہ تجھ کو عزیز رکھتے تھے
    وہ تیری خاک کو اپنے لہو پہ رکھ کے عزیز
    سبب اس کو شفاعت تلک کا مانتے تھے

    نجانے کیوں
    وہ نظر اب کہیں نہیں آتے؟
    سو اس برس ہمیں چودہ اگست کے دن کو
    وہ ساری رسمیں
    رسماً نبھانا ہونگی۔۔۔۔ یوں
    ہمارے جھوٹ سے تو بھی بہل تو جائے گا۔۔۔۔۔
    اور ایک اور برس یوں گزر تو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔

  72. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 16, 2011 بوقت 2:18 pm

    مجھے خوشی ہے زرقا نے انتہائی مثبت بات کی اور دلیل کے طور پر اپنا تجربہ ہی رکھا .. سلامت رہو میری دوست .. کیا ہوا بہت دنوں سے کوئی کالم .. کوئی نئی غزل .. کوئی نئی کہانی نہیں لکھی .. بھئی اتنی خاموشی مجھے اچھی نہیں لگتی ..

  73. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 16, 2011 بوقت 2:30 pm

    جاوید + اقبال + کیانی = میرا بھائی .. بھئی یہ کیا بات ہوئی .. ایک تو اتنے دنوں بعد آئے اور صرف دما دم مست .. بھائی مجھے پورا کالم ملنا چاہئے دما دم مست پر .. جلدی

  74. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 16, 2011 بوقت 2:32 pm

    ثمرین گڑیا تم کدھر غائب ہو .. ایک مدت ہوئی تم نے بھی اخبار کے لئے نہیں لکھا .. اب پڑھائی کا کوئی بہانہ نہیں چلے گا . میں جب امتحان دیاکرتی تھی روز ایک کہانی لکھتی تھی .. جب سے کوئی امتحان نہیں دیا توکوئی افسانہ بھی نہیں ہوا .. سو بی گڈ گرل .. اور جلدی سے کالم بھیجو ..

  75. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 16, 2011 بوقت 2:34 pm

    زائیرہ بجو مجھے یقین ہے کہ آپ کو بھی پرانے کمپیوٹر سے آزادی مل گئی ہو گی اور جلد ہی آپ سے روزانہ ملاقات ہو اکرے گی .. مصباح بھائی آپ کی آمدکے منتظر ہیں کہ آپ آئیں تو وہ شفاخانہ دوبارہ شروع کر سکیں .. جلدی سے آ جایئے آپ کمی بہت ہو رہی ہے ..

  76. سائیں رحمت علی نے کہا ہے:
    August 16, 2011 بوقت 4:06 pm

    باجی نگہت کے نام مراسلہ
    سب سے پہلے میں‌ آپ سب کو رمضان مبارک کی مبارک پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں پر اس ماہ مبارک کے صدقے میں اپنی خصوصی رحمتوں کا نزول فرمائے اور پاکستان کو امن کی دولت سے مالا مال کرے ۔ آمین۔
    باجی دیر سے آنے کی معافی چاہتا ہوں۔ آپ نے اپنی دھمکی واپس لے تو میں نے بھی جو وعدہ کیا تھا وہ پورا نہیں کروں گا یعنی میرا اب خود کشی کا ارادہ نہیں۔ در اصل بد قسمتی میری ہے کہ آپ کی محبت سے محروم رہا۔ آغا صاحب کا نک تو نظر آتا ہے مگر وہ خود نظر نہیں آتے۔ کوئی پتہ نہیں کہ سلیمانی ٹوپی پہن کر کہیں نزدیک سے ہماری باتیں سن رہے ہوں بلکہ دیکھ بھی رہے ہوں۔ چند دنوں میں آغا صاحب سے ملاقات ہونے والی ہے اور اس ملاقات میں‌ اپنا کمپیوٹر بھی دکھاؤّں گا تا کہ آغا صاحب دوا دارو دیں یا کوئی تعویذ لکھ دیں۔

    نگہت باجی دو رشتے ایسے ہیں جن کا کوئی متبادل نہیں۔ ایک ماں اور دوسرا بہن۔ مائیں اور بہنیں بھایئوں کو ھمیشہ دعا ہی دیتی ہیں۔ صبح‌ کا بھولا اگر شام کو گھر لوٹ آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے لکین ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ بھولنے والا صبح ہی کو کیوں بھولتا ہے اور شام میں‌ کیوں‌ واپس آتا ہے؟ رات کہ بھی تو انسان بھول سکتا ہے۔ کتنا غلط محاورہ بنایا ہے کسی نے۔ آپ سے اور آغا صاحب سے گذارش ہے کہ اس کا بحوالہ متن تشریح کریں اور دعاؤں میں یاد رکھیں۔
    محتاج دعا
    سائیں رحمت علی

  77. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 16, 2011 بوقت 4:09 pm

    سائیں میرے ویر یہ بتائیں پہلے کہ اپ کا دن اتنا لمبا کیسے ہو گیا .. سیوڈن کے دن رات سڈنی جیسے ہی ہیں .. اب بھول ہی گئے ہیں تورستہ یونہی بھولتے رہئے گا …

  78. محمد شعیب تنولی نے کہا ہے:
    August 16, 2011 بوقت 5:30 pm

    نہ جانے جب ہم بڑے ہو جاتے ہیں تو کیوں محبت ؛ چاہت ؛ یگانگت ؛ احساس ؛ اپنائیت ہم میں سے کیوں ختم ہو جاتی ہے . بیگانے تو بیگانے ہمارا اپنے ہی خونی رشتوں سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور بھائی ہی بھائی کا دشمن بن جاتا ہے اور ہم پر جان نچھاور کرنے والی بہنیں ہی ہمارے پیار اور انس کو ترس جاتی ہیں . جو ماں باپ خود بھوکے رہ کر ہماری بھوک مٹاتے اور ہماری ہر ضرورت کا خیال رکھتے ہیں اور جیسے جیسے ہم اپنے پاؤں پہ کھڑے ہوتے ہیں ہم اتنے ہی احسان فراموش ہوتے جاتے ہیں .
    خدارا ؛ بڑے ضرور ہوں لیکن اپنے اندر احساس اور محبت کا جذبہ ضرور زندہ رکھیں . یاد رکھئے آپ کی ذات صرف آپ تک محدود نہیں ہے . ہر فرد سے ایک دنیا وابستہ ہے اس لئے اپنی دنیا کا خیال رکھیں . رشتے صرف احساس کے ہوتے ہیں اور بے حس انسان ہمیشہ اکیلا ہی رہتا ہے . صرف خود کی خوشی نہ دیکھیں اپنے آپ سے وابستہ لوگوں کو خوش رکھیں اس سے آپکو وہ سکون اور راحت ملیگی جسکا تصور بھی آپ کے لئے محال ہے

  79. جاوید اقبال کیانی نے کہا ہے:
    August 16, 2011 بوقت 10:57 pm

    محترمہ عالم آرا صاحبہ ، ہم آواز ہونے کا بہت شکریہ ۔ ویسے اسے بھی بڑی دھمال ” ہے جمالو “ ہے جو ، مغلیہ دور کی یادگار ، ہمارے ایوانِ صدر میں دھوم دھڑکے سے ڈالی جارہی ہے اور وہاں سے گذرنے والی ہر ’ جمالو‘ کو یوم آزادی پہ قومی اعزاز کی حقدار ٹھہراتی ہے ۔

    محترمہ ڈاکٹر صاحبہ ، ایک کالم کیا ، اگلے یوم آزادی تک انتظار فرمائیں آپ کی خدمت میں ” ہے جمالو ‘ اور ” دما دم مست “ پہ پوری کتاب پیش کروں گا ۔ آپ کے حکم کی تعمیل میں کچھ سر کھجائی کروں گا اگر اس بنجر دماغ ، بلکہ بد دماغ ، میں کچھ آیا تو ضرور پیش کردوں گا ، صبر شرط ہے !

  80. sain Rahmat Ali نے کہا ہے:
    August 17, 2011 بوقت 1:28 am

    جشن آزادی یا ماتم غلامی

  81. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 17, 2011 بوقت 6:08 am

    بھائی کیانی اتنا صبر بھی اچھا نہیں کہ ہمیں یاد دہانی تک بھول جائے ۔۔ لیجئے ہم نے آپ پر چھوڑا ۔۔ کیا مجال جو ایک بار بھی یاد دلا جائیں یا اصرار کریں ۔۔ آزما لیجئے ہمیں بھی ۔۔

  82. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 17, 2011 بوقت 6:11 am

    سائیں جی کتنی بار سمجھاؤں کہ زندگی کو آسان بنایئے ۔۔ اس کا آسان سا گر ہیں خود کو مثبت رکھیں ۔۔ اور منفی سوچوں سے پرہیز کریں ۔۔ پرہیز کو کہا ہے بلکل بند نہیں کی ہیں ۔۔ میرے اس نسخے سے کوئی بھی استفادہ کر سکتا ہے ۔۔۔ جشن آزادی کی خؤشی میں بلکل مفت مشورہ ہے ۔۔۔۔

  83. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 17, 2011 بوقت 6:13 am

    یاد رکھئے آپ کی ذات صرف آپ تک محدود نہیں ہے . ہر فرد سے ایک دنیا وابستہ ہے اس لئے اپنی دنیا کا خیال رکھیں .۔۔ شعیب سلامت رہو انتہائی خوبصورت اور اپنی زات میں انجمن سا پیغام ہے ۔۔ بہت ہی مخلص اور سچا پیغام ۔۔ بہت پسند آیا ۔۔ جیتے رہو

  84. محمد شعیب تنولی نے کہا ہے:
    August 17, 2011 بوقت 2:31 pm

    نگھت نسیم کا بہت بہت شکریہ

  85. محمد شعیب تنولی نے کہا ہے:
    August 17, 2011 بوقت 2:58 pm

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

    پھولوں کے نیچے کانٹے یا کانٹوں کے اوپر پھول؟

    ہو سکتا ہے مندرجہ ذیل قصے کا حقیقت سے کوئی تعلق نا ہو، مگر اس سے حاصل ہونے والے فائدے کیلئے اسے آخر تک پڑھ لیجیئے۔

    ایک شخص نے بہتر گھر خریدنے کیلئے اپنا پہلے والا گھر بیچنا چاہا۔

    اس مقصد کیلئے وہ اپنے ایک ایسے دوست کے پاس گیا جو جائیداد کی خرید و فروخت میں اچھی شہرت رکھتا تھا۔

    اس شخص نے اپنے دوست کو مُدعا سنانے کے بعد کہا کہ وہ اس کے لئے گھر برائے فروخت کا ایک اشتہار لکھ دے۔

    اس کا دوست اِس گھر کو بہت ہی اچھی طرح سے جانتا تھا۔ اشتہار کی تحریر میں اُس نے گھر کے محل وقوع، رقبے، ڈیزائن، تعمیراتی مواد، باغیچے، سوئمنگ پول سمیت ہر خوبی کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔

    اتحریر مکمل ہونے پر اُس نے اپنے دوست کو یہ اشتہار پڑھ کر سُنایا تاکہ اُسکی رائے لے سکے۔

    اشتہار کی تحریر سُن کر اُس شخص نے کہا، برائے مہربانی اس اعلان کو ذرا دوبارہ پڑھنا۔ اور اُس کے دوست نے اشتہار دوبارہ پڑھ کر سُنا دیا۔

    اشتہار کی تحریر کو دوبارہ سُن کو یہ شخص تقریباً چیخ ہی پڑا کہ کیا میں ایسے شاندار گھر میں رہتا ہوں؟

    اور میں ساری زندگی ایک ایسے گھر کے خواب دیکھتا رہا جس میں کچھ ایسی ہی خوبیاں ہوں۔ مگر یہ کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ میں تو رہ ہی ایسے گھر میں رہا ہوں جس کی ایسی خوبیاں تم بیان کر رہے ہو۔ مہربانی کر کے اس اشتہار کو ضائع کر دو، میرا گھر بکاؤ ہی نہیں ہے۔

    *****

    ایک منٹ ٹھہریئے، میرا مضمون ابھی پورا نہیں ہوا۔

    ایک بہت پرانی کہاوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نعمتیں تمہیں دی ہیں ان کو ایک کاغذ پر لکھنا شروع کر دو، یقیناً اس لکھائی کے بعد تمہاری زندگی اور زیادہ خوش و خرم ہو جائے گی۔

    اصل میں ہم اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا ہی بھلائے بیٹھے ہیں کیوں کہ جو کچھ برکتیں اور نعمتیں ہم پر برس رہی ہیں ہم اُن کو گننا ہی نہیں چاہتے۔

    ہم تو صرف اپنی گنی چنی چند پریشانیاں یا کمی اور کوتاہیاں دیکھتے ہیں اور برکتوں اور نعمتوں کو بھول جاتے ہیں۔

    کسی نے کہا: ہم شکوہ کرتے ہیں کہ اللہ نے پھولوں کے نیچے کانٹے لگا دیئے ہیں۔ ہونا یوں چاہیئے تھا کہ ہم اللہ کا شکر ادا کرتے کہ اُس نے کانٹوں کے اوپر بھی پھول اُگا دیئے ہیں۔

    ایک اور نے کہا: میں اپنے ننگے پیروں کو دیکھ کر کُڑھتا رہا، پھر ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کے پاؤں ہی نہیں تھے تو شکر کے ساتھ اللہ کے سامنے سجدے میں گر گیا۔

    اب آپ سے سوال: کتنے ایسے لوگ ہیں جو آپ جیسا گھر، گاڑی، ٹیلیفون، تعلیمی سند، نوکری وغیرہ، وغیرہ، وغیرہ کی خواہش کرتے ہیں؟

    کتنے ایسے لوگ ہیں جب آپ اپنی گاڑی پر سوار جا رہے ہوتے ہو تو وہ سڑک پر ننگے پاؤں یا پیدل جا رہے ہوتے ہیں؟

    کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے سر پر چھت نہیں ہوتی جب آپ اپنے گھر میں محفوظ آرام سے سو رہے ہوتے ہیں؟

    کتنے ایسے لوگ ہیں جو علم حاصل کرنا چاہتے تھے اور نا کر سکے اور تمہارے پاس تعلیم کی سند موجود ہے؟

    کتنے بے روزگار شخص ہیں جو فاقہ کشی کرتے ہیں اور آپ کے پاس ملازمت اور منصب موجود ہے؟

    اور وغیرہ وغیرہ وغیرہ ہزاروں باتیں لکھی اور کہی جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔

    کیا خیال ہے ابھی بھی اللہ کی نعمتوں کے اعتراف اور اُنکا شکر ادا کرنے کا وقت نہیں آیا کہ ہم کہہ دیں:

    يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجہك وعظيم سلطانك

    اللہم لك الحمد حتی ترضی و لك الحمد إذا رضيت ولك الحمد بعد الرضا

  86. محمد شعیب تنولی نے کہا ہے:
    August 17, 2011 بوقت 3:42 pm

    مسکراہٹ سے زیادہ دنیا میں اور کوئی قیمتی یا خوبصورت چیز نہیں ہے .
    دکھوں ؛ پریشانیوں ؛ محرومیوں اور نفرت سے بھری اس دنیا کو آج محبت اور مسکراہٹ کی اشد ضرورت ہے . اگر ہم کسی غریب کو مال و دولت یا آسائشیں مہیا نہیں کرسکتے تو کم کم ان کو دو بول خوشی کے بول کے مسکراہٹ کا تحفہ تو دے سکتے ہیں . کسی کی خوشی کا حصہ اور وجہ بننے کی کوشش کرنی چاہئے .
    یاد رکھو ہم سب انسان ایک ہیں . ہماری اصلیت اور وجۂ تخلیق بھی ایک ہی ہے . دنیا میں رہنے والے تمام انسانوں کے خون کا رنگ بھی ایک جیسا ہے . ایک ہی مسکن ہے ہمارا . پھر کیوں ہم آپس میں تفریق پیدا کرتے ہیں . کیوں ہم علاقائی ؛ مذہبی ؛ رنگ اور نسل کی بنیاد پر دوسروں کو کمتر اور خود کو افضل سمجھتے ہیں ؟ کیوں ہم اپنے دلوں میں تعصبات کی بت پالتے ہیں جو امن اور محبت کے سب سے بڑے دشمن ہیں ؟؟ کیوں ہم اپنی خوشی پہ دوسروں کو قربان کر دیتے ہیں ؟ کیوں چاہت اور احساس نام کی چیز ہم میں ختم ہوتی جارہی ہے ؟؟
    خدارا ہوش میں آئیں اور کم از کم ایک بنیادی خونی رشتے کی ہی لاج رکھئے کہ دنیا میں بسنے والے تمام لوگوں کے خون کا رنگ ایک جیسا ہی ہے . آگے بڑھئے اور تعصبات کی دنیا سے نکل کر محبت بانٹیئے

  87. عالم آرا نے کہا ہے:
    August 17, 2011 بوقت 10:03 pm

    اسلام علیکم محترم تنولی بھائی خوش رہئے
    آپ کا تبصرہ پڑھ کر ایک دم جو زہن میں آیاوہ لکھ رہی ہوں یہ سچ ہے کہ محبت سے بڑھ کر دنیا میں کوئی نعمت نہیں ۔

    محبت اخوت کی چاہ کر کے دیکھو
    بھلا دو کدورت یہ راہ چل کے دیکھو
    نہ ہو جائیں روشن یہ رستے تو کہنا
    زرا دل سے دل کو ملا کر تو دیکھو
    محبت کی طاقت عظیم اس قدر ہے
    نفرت کو دل سے مٹا کر تو دیکھو
    سنورتی ہے انسانیت بھی وہیں پر
    زرا سب کو اپنا بنا کر تو دیکھو

    اگر ہم صرف ان نعمتون کو گن لیں جو ہمیں حاصل ہیں ۔تو کبھی بھی مایوسی ہمارے قریب بھی نہ آئے ۔ مشکل یہ ہے کہ ہماری چاہتوں کی فہرست اتنی لمبی ہے کہ ہمیں شکر کی توفیق کم ملتی ہے ۔
    اللہ ہمیں اپنے شکر گزار بندوں میں شامل کر لے آمین
    عالم آرا

  88. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 18, 2011 بوقت 2:52 am

    نہ ہو جائیں روشن یہ رستے تو کہنا
    زرا دل سے دل کو ملا کر تو دیکھو

    آپا جی واہ واہ تسی چھا گئے ہو جی ۔۔
    کیا کہنے بہت عمدہ ۔۔

  89. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    August 18, 2011 بوقت 7:14 am

    ماشا اللہ یہ جگمگاتا ھوا آزادی بلاگ اور اس کے خوبصورت تبصرے، شعیب تنولی کی سادی مگر دل میں اترجانے والی باتیں ۔اور عالم آراء بہن کے اشعار سے مزین یہ بلاگ بہت اچھا لگ رھا ھے ،

    محبت اخوت کی چاہ کر کے دیکھو
    بھلا دو کدورت یہ راہ چل کے دیکھو
    نہ ہو جائیں روشن یہ رستے تو کہنا
    زرا دل سے دل کو ملا کر تو دیکھو
    محبت کی طاقت عظیم اس قدر ہے
    نفرت کو دل سے مٹا کر تو دیکھو
    سنورتی ہے انسانیت بھی وہیں پر
    زرا سب کو اپنا بنا کر تو دیکھو

    اسی پیغام محبت و آخوت کو آگے تک پہچانا ھے ،اسی محبت ،بھائ چارگی جو اب بے چارگی میں تبدیل ھوگی ھے ،اسی عنقا جذبے کی ضرورت ھے ، محبت اور اتفاق میں بہت برکت ھوتی ھے ،صبر وتحمل،سکون و قومی وقار تواضع اختلافات کو کم کرنے،باھمی تنازعات کو ختم کرکے ،کسی کو برا بھلا کہنے کسی کی توھین وتفقیص کرنے سے اجتناب کریں تو بہت ساری خوشگوار تبدیلیاں آسکتی ھیں

    ھمارے بہت اچھے بھائ سید مصباح حسین صاحب کی شمولیت نے بھی اس بلاگ کو خاص بنادیا۔اور زرقا مفتی کی آمد ھمشیہ کی طرح بہت اچھی لگی ، ۔میں تو 27 رمضان تک آزادی کا جشن مناونگی ، کاش ھم اسلامی تواریخ کے حساب سے اپنے قومی تہوار مناسکتے اور اللہ پاک کی بے تحاشہ براکات سے فیض یاب ھوسکتے

  90. عالم آرا نے کہا ہے:
    August 18, 2011 بوقت 12:56 pm

    اسلام علیکم ساتھیو
    پیاری بہنو اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے تمہاری ہمت افزائی میرے لئے بہت قیمتی ہوتی ہے جزاک اللہ خیر ۔
    دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
    واقعئی بہن شاھین ، مصباح بھائی ،زرقا مفتی ،اظہر بھائی اور باقی سب جن کے نام عالمی اخبار کی زینت ہیں بس رونق ان ہی سب کے دم سے ہے ۔ان کے تبصرے سوچون کو جلا دیتی ہیں ۔
    بہن شاھین میں آپ کے سا تھ ہوں ۔
    اسی پیغام محبت و آخوت کو آگے تک پہچانا ھے ،اسی محبت ،بھائ چارگی جو اب بے چارگی میں تبدیل ھوگی ھے ،اسی عنقا جذبے کی ضرورت ھے ، محبت اور اتفاق میں بہت برکت ھوتی ھے ،صبر وتحمل،سکون و قومی وقار تواضع اختلافات کو کم کرنے،باھمی تنازعات کو ختم کرکے ،کسی کو برا بھلا کہنے کسی کی توھین وتفقیص کرنے سے اجتناب کریں تو بہت ساری خوشگوار تبدیلیاں آسکتی ھیں
    بہن شاھین میرا بھی دل چاہتا ہے کہ ہم اسلامی تاریخوں سے اپنی خوشیاں منائیں ،
    بہن نگہت سلامت رہو ،پسندیدگی کا شکریہ
    اللہ ہمیں عمل کی توفیق بھی عطا کرے آمین سارا کھیل دل کا ہے اگر دل صاف ہوں تو کچھ بھی مشکل نہیں ۔
    عالم آرا

  91. محمد شعیب تنولی نے کہا ہے:
    August 18, 2011 بوقت 1:01 pm

    رمضان کا بابرکت مہینہ جاری ہے اور ٹیلی ویژن چینلز سے لے کر ٹوتھ پیسٹ تک سب رمضان کے مختلف برانڈ پیش کر کے اپنی دکان چلا رہے ہیں۔
    حیرانی کی بات تو یہ کہ رمضان المبارک کے پروگرامات دیکھ کر یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ شاید اس ملک میں علمائے کرام کا قحط ہے اور وہ عوام کی رہنمائی کے لیے دستیاب نہیں لہذا مجبوراً ریما،عمر شریف، معمر رانا، علی حیدر،شائستہ واحدی، ساحر لودھی جیسے لوگ عوام کو دینی مسائل بتاتے ہیں ۔ جب شوبز کے یہ روشن ستارے اپنی بھرپور چکا چوند ،لائف اسٹائل کے ساتھ عوام کو رمضان سے آگاہ کریں گے کہ رمضان کیسے گزارا جائے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ رمضان کیسا گزرے گا۔

  92. محمداحمد ترازی نے کہا ہے:
    August 12, 2012 بوقت 4:43 pm

    پاکستان مثل مدینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانان برصغیر کو عطیہ ہے جس کی جتنی بھی قدر کی جائے کم ہے مدینہ النبی ؐ مسلمانوں کے لئے آگے بڑھنے کی بنیاد تھی تو موجودہ پاکستان مثل مدینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس تسلسل کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنے گا انشا اللہ۔ پاکستان کچھ آسانی سے نہیں بن گیا تھا اس کے لئے مسلسل جدوجہد کی گئی تھی اللہ تعالیٰ نے حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے ہاتھوں سے اس کی بنیاد رکھی اور اس کو ہمیشہ کے لئے اپنی رحمت کے سائے میں لے لیا یہ کوئی خوش گمانی نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے. ہندوئوں کی آبادی کے طوفان سے، متحدہ قومیت کے فریب سے، اپنوں کی مخالفت سے جمہوری طریقے اپناتے ہوئے پاکستان کی کشتی کو طوفانوں سے نکال کر کنارے پہچانا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی مدد اور حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی ذہانت مسلسل جدوجہد اور اخلاص کی وجہ سے ہوا. اللہ تعالیٰ نے پاکستان کا تحفہ مسلمانان برصغیر کو عطا کیا اس کی حفاظت ہمارے ایمان کا حصہ ہے شاعر نے اسی سلسلے میں کہا تھا اورکیا خوب کہا ہی:
    ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
    اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
    ہمار ے آباو اجداد نے اپنے بزرگوں کی قبروں کو چھوڑا، ہزاروں سالوں سے جن علاقوں میں رہ رہے تھے اُن علاقوں کو چھوڑا اور پاکستان کی مہم میں حصہ لیا. پورا ہندوستان ان نعروں سے گونج رہا تھا۔’’بن کے رہے گاپاکستان‘‘…..’’لے کے رہیں گے پاکستان‘‘…..’’ پاکستان کامطلب کیا ‘‘لا الہ الا اللہ‘‘
    ان لوگوں کے دلوں کے اندر مثل مدینہ ایک ریاست تھی جہاں اسلام کا بول بالا ہو نا تھا، کیوں نہ ہو پاکستان بنانے والے محترم قائد ؒ کا یہ وعدہ تھا جب پاکستان وجود میں آ جائے گا تو اس میں قرآن اور حدیث کی روشنی میں ایک اسلامی فلاحی ریاست قائم کی جائے گی اس لیے ۴۲ لاکھ انسانی جانوں کا نذرانہ مسلمانان ہند نے پیش کیا تھا۔عزت مآب خواتین کی آبرو ریزی کی گئی۔ معصوم بچوں کو نیزوں کی نوک پر اُچھالا گیا، املاک کا نقصان برداشت کیا گیا، دنیا کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی، ان گنت واقعات ہیں کیا کیا بیان کیا جائے۔
    پورے ہند کے صوبوں کی مختلف تہذیب، تمدن، ثقافت اپنی اپنی انفرادیت قائم رکھتے ہوے ایک اسلام کی تہذیب، تمدن، ثقافت میں تبدیل ہوگئی۔ مختلف قومیتوں نے ایک ملت رسولِ ہاشمی ؐ کا روپ دھارلیا، ایک زبان اردواختیار کرلی۔ اس موقعہ پر شاعر اسلام اقبالؒ کا شعر یاد آرہا ہے۔
    اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
    خاص ہے ترکیب میں قوم رسولِ ہاشمیؐ
    پورے ہندوستان کی مسلم قومیں ملت رسولِ ہاشمی ؐ کی شکل اختیار کر گئیں۔ اسی جذبے سے مختلف زبانوں نے ایک زبان اردو کو اپنی زبان بنالیا، گورے اور کالے ایک ہوگے جیسے رسول ؐ نے خطبہ حجتہ الوداع میں فرمایا تھا اور پاکستان ایک مثل مدینہ کی شکل میں مسلمانان ہند کے دلوں کے اندر سماگیا تھا۔ انہیں مدینہ کی اسلامی ریاست، جو رسول ؐ نے اللہ کے حکم سے قائم کی تھی وہ اور خلافت راشدہ کا نظام، جس کوخلفاء راشدین نے کامیابی سے چلا کر دنیا کو دکھایا تھا یاد آگئے۔ دلوں کے اندر ایک جذبہ تھا جس نے پاکستان کے خواب کو حقیقت کے روپ میں ڈھال دیا۔ہمارا رب، ہم سے خوش ہوا اور ایک ریاست پاکستان مسلمانوں کو اللہ کی طرف سے تحفہ کی صورت میں مل گئی۔ علامہ اقبال ؒ کا خواب اورقائد اعظم ؒکا قول، کہ پاکستان اُس وقت وجود میں آگیا تھا جب ہندوستان کا پہلا شخص مسلمان ہوا تھا، پورا ہوگیا۔
    الحمداللہ شکر الحمد اللہ اس لئے پاکستانیوں پاکستان پر فخر کرو اور مایوسی پھیلانے والوں کو برجستہ جواب دو اور ایسے بے ہمتے لوگوں کو ہمت دلائو، اس لئے کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں پاکستان خدانخواستہ نہیں ہے تو ہم نہیں ہیں۔ ہمارا وطن پاکستان۔۔۔ ہماری پہچان پاکستان!!!

  93. محمداحمد ترازی نے کہا ہے:
    August 12, 2012 بوقت 4:45 pm

    یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
    اے قائد اعظم ترا احسان ہے احسان

    بچپن میں جب بھی کبھی یہ ترانہ سنا تو دل اک عقیدت، جوش اور جذبے سے معمور ہو جاتا تھا اور اپنی پہچان اپنے وطن پر اک فخر اور غرور سا محسوس ہوتا۔ اور ان قوموں پر اک رحم سا محسوس ہوتا جو ابھی آزادی کی جنگ لڑتے لڑتے اس منزل کو پانے کی جدوجہد میں تھیں اور جبر غلامی کے عفریت کو اپنا خون پلانے پر مجبور تھیں۔

    بذات خود آزادی کسے اچھی نہیں لگتی، اک ننھی سی چڑیا کو پنجرے میں بند کر دیکھیے، وہ اپنے راگ الاپنے بھول جائے گی۔ حسرت سے نیلے آسمان کو دیکھتے اپنے پر پھیلائے گی، مگر پنجرے کی دیواروں سے ہی پھڑ پھڑا کر رہ جائے گی۔ اور اگر اسے سونے کے پنجرے میں بھی بند کر دیا جائے۔ تو اس کی آزادی کی قیمت کے لیے دنیا کی تمام دولت بھی بےکار ہو گی۔ بس اس پر اک ننھا سا احسان کر دیں، پنجرہ کھول دیجئے اور اسے آزادی کی پرواز دیجیے، وہ فورا یہ راگ الاپتی آسمان کی بلندیوں میں کھو جائے گی۔

    پنچھی بنی اڑتی پھروں مست گگن میں
    آج میں آزاد ہوں دنیا کے چمن میں

    اقبال کا خواب جو نہ جانے کتنے لوگوں کی زندگی کی تعبیر بنا۔ اور قائد اعظم کی کوششوں سے منزل تک پہنچا۔ اور لاکھوں لوگوں کی عظمتوں کے ایثار سے پورا ہوا۔ تب پاک سرزمین نصیب ہوئی۔ انسان کی سب سے بڑی چاہ اپنے گھر کی ہوتی ہے۔ جب گھر مل جائے تو پھر اسے سجانے سنوارنے کی۔ گھر اپنا گھرپیارا گھر پاک وطن تو مل گیا تھا۔ جب یہ ملا تو سنگل سٹوری تھا، تریسٹھ سال گزر گئے اب تک تو اسے ٹرپل سٹوری بن جانا چاہیئے تھا مگر۔ ۔

    لوگ ایکٹروں کو دیکھ کر خوش ہو لیتے ہیں پر والد صاحب نے اپنے ٹین ایج میں قائد اعظم کو لائیو دیکھا تھا کسی جلسہ گاہ میں تقریر کرتے۔ جس پر میں اور بھائی بھی اک فخرسا محسوس کرتے تھے کہ انھوں نے اتنی عظیم ہستی کو دیکھا ہوا ہے اور ہم ان سے بار بار قائد اعظم بارے پوچھا کرتے تھے۔ کہ وہ کیسے تھے اور کیسے دکھتے تھے؟ تب وہ بتایا کرتے تھے کہ قائد اعظم دیکھنے میں ایک کمزور، نحیف ہستی نظر آتے تھے مگر ان کی آواز اتنی بھر پور اور پرجوش ہوتی تھی کہ وہ اک ولولہ نظر آتا تھا ان کی تقریر میں۔

    پھر مجھے یاد ہے کہ اقبال کی یہ خوبصورت نظم زبانی یاد تھی۔

    لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
    زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

    اور یہ نظم سن کرخود بخود اک شمع سی اندر روشن ہو جاتی تھی، جو اک اچھا انسان محب وطن اچھا شہری بننے کی ترغیب دیتی تھی۔

    سکول میں جب اسمبلی اٹینڈ کرتے تودعا کے بعد روزانہ یہ پڑھتے،

    پاک سر زمین شاد باد
    کشور حسین شاد باد
    اور روزانہ یہ دعا ہمیں یاد دہانی کراتی اپنے پاک وطن کی، اس کی خوبصورتی کی، اس کی عظمتوں کی، اور دل سے اک عجیب سا جذبہ اور کیفیت ابھرتی جو ہمارے ملک کی عظمت کو برقرار رکھنے کے لیے محب وطن بننے کی متقاضی ہوتی۔ اور پاک ترانہ تو ہمارے اندر ایسا رچ بس گیا تھا کہ صاف لگتا کہ مذہب کے بعد ہم نے اس کا احترام کرنا ہے۔ جہاں بھی بجتا تو فورا کھڑے ہو جاتے، رک جاتے۔ اور ترانے کے ادب کا نظارہ چند بار سینما میں بھی دیکھنے میں نظر آیا۔ فلم کے دوران بے شک لوگ ڈائلاگ بازی پر اونچی آوازے کس رہے ہوں۔ شور شرابا ہو رہا ہو۔ بچوں کی ریں پیں چل رہی ہو۔ لیکن ترانہ شروع ہوتے ہی سب منظم ہو جاتا۔ سب احتراما کھڑے ہو جاتے، لوگوں کو جیسے سانپ سونگھ جاتا اور بچوں کو بھی رونا بھول جاتا اور مزے کی بات پھر بھی احتیاطا سینما کے گیٹ تب تک نہ کھلتے جب تک ترانہ پورا نہ ہو جاتا۔ سمجھ لیں اک جذبہ داخلی بھی ہوتا جو منظم رکھتا مگر پھر خارجی انتظامات بھی ہوتے۔

    مگر اب کیا ہوا؟ اب بھی وہی چاند ہے وہی تارے وہی سورج وہی نظارے۔ چودہ اگست آج بھی دھوم دھام سے منائی جاتی ہے۔ جگہ جگہ سجایا جاتا ہے ترانے بجتے ہیں، چھوٹے چھوٹے بچے تک پرچم کی جھنڈیاں لہرا رہے ہوتے ہیں۔ مگر وہ بات بنتی نظرنہیں آتی جو ہمیں یہ بتائے کہ ہاں ہم واقعی محب وطن ہیں۔ میرا خیال ہے اب زمانے میں نفسا نفسی کی چال چلتے دکھاوا جو آ گیا ہے۔ تو یہ چیزیں اب صرف ظاہری پیمانے سے ناپی جانے لگی ہیں۔ اور دلوں سے وہ جذبہ ختم ہو گیا ہے جو کبھی اک جوش اک ولولہ پیدا کرتا تھا۔ اور جس نے ہمیں آزادی جیسی نعمت دلائی تھی اور اپنے گھر کی فیلنگ دی تھی۔ لگتا ہے ہم اپنے مدار سے ہٹ گئے ہیں۔ راستہ بھٹک گئے ہیں۔ اور آگے مزید خوبصورت منزلوں کی بجائے مسائل کے کالے پہاڑ اور چٹانیں راستہ روکی کھڑی ہیں۔ تبھی تو دم گھٹنے لگا ہے۔ کاش اے کاش اب پھر کوئی اقبال کی طرح حسین خواب دیکھے، اور جناح کی طرح ہمارا بیڑہ پار لگا دے،اور ہم بھی چڑیا کی طرح آزادی کا گیت گا سکیں۔

  94. محمداحمد ترازی نے کہا ہے:
    August 12, 2012 بوقت 4:57 pm

    لہو بر سا بہے آنسو لٹے رہرو کٹے رشتے
    ابھی تک نا مکمل ہے مگر تعبیر آزادی

  95. محمداحمد ترازی نے کہا ہے:
    August 12, 2012 بوقت 5:05 pm

    پاکستان کایوم آزادی آپ سب کومبارک ہو۔ اللہ تعالی اس ملک کوتاقیامت قائم و دائم رکھےاور نظربدسےبچائے (آمین ثم آمین)
    ہم ہرسال یوم آزادی بڑی دھوم دھام سے مناتےہیں تقاریرہوتی ہیں اوربہت سےجلسےجلوس ہوتےہیں لیکن کسی بھی دن کومنانےکامقصدیہ ہوتاہے کہ اس دن کو اجاگر کیا جائے وہ دن کاجومقصدہےاس مقصدکودہرایاجائےاورتہیہ کیاجائےکہ ہم اس مقصدکوحاصل کریں گے لیکن ہم بس اس کوعام دنوں کی طرح جسطرح سے ہم دیگر ایام مناتےہیں اوربھول جاتےہیں کہ ان دنوں کےمنانےکااصل مقصدکیاہے اوراس دن ہمیں کیاکرناچاہیے۔
    یوم آزادی کادن بھی ہمارےلیےعام دنوں کےلیےایک دن ہےجس دن ہم خوب وطن کےنعرےلگاتےہیں جلسوں میں جاتےہیں لیکن وطن کےلئےکچھ نہیں کرتےاوراس دن کےساتھ ہی ہم سب کچھ بھول جاتےہیں آخرایسےکیوں ہے؟ ہم نےیہ وطن کس لئےحاصل کیاتھا؟ اس وطن کوحاصل کرنےکامقصدکیاتھا؟ ہم نےاس وطن کوحاصل کرنے کے بعداس کےمقصدکوپائہ تکمیل تک پہچانےمیں کیاکرداراداکیاہے؟ ہم نےاس وطن کےلئےکیاکچھ قربان کیاہے؟ بہت سی باتیں ہیں جوکہ میرےدماغ میں ہتھوڑےکی بجتی ہیں ہمیں تویہ وطن بنابنایامل گیا۔
    ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارےبزرگوں نےاس وطن کوحاصل کرنےکےلیےکیاقربانیاں دیں ان نےکس مشکل حالات میں اس کوحاصل کیا؟ اس وطن کےلئےانہوں نےکس طرح دن رات کام کیا؟یہ سب کچھ ہم نےبس پڑھاہےکبھی اس کاتصوربھی کیاکہ انہوں نےکس حالات میں کام کیا؟ ہم ذراسابھی تصورکریں توہمارےرونگھٹےکھڑےہوجاتےہیں کہ انہوں نےاس وطن کوحاصل کرنےکےلیےاپنےتن من دھن کی پروانہیں کی۔لیکن ہم پرذراسی بھی کوئی تکلیف آئےتوہم کوسنےلگ جاتےہیں کہ یہ ملک ہی ایساہے۔آپ ان لوگوں سے پوچھیے جوپردیس میں ہیں وہ اچھی طرح جانتےہیں کہ اپناملک کیاہوتاہےاورپردیس کیاہوتاہے۔یہ کہ اپنےملک کےبغیرکیازندگی ہوتی ہے؟
    ہم نےیہ ملک بڑی تگ ودواورقربانیوں کےبعدحاصل کیاہےلیکن ہمیں اسکاشعورنہیں کہ ہمیں کیاکرناہےہمیں اپنےمقصدسےآگاہی نہیں ہمیں یہ نہیں علم کہ ہمارا مقصد کیا ہونا چاہیے؟ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ ہمیں کیاکرناچاہیے؟ ہم توبس جسطرح بھیڑ بکریوں کاریوڑہوتاہےویسے ہی بےمقصدجیسےجس نےکہہ دیاکرلیا جس طرح کسی نےحکم دیابجالیا یہ نہیں دیکھاکہ اس میں ہماری کیابےعزتی ہے اس میں ہمارےلیےکیاعبرت ہےپھراپنی قسمت کوکوس دےلیاکہ ہائےہماری قسمت ہی خراب ہےجوکچھ ہورہاہےیہ ہمارےمقدرمیں لکھاہے۔
    نہیں میرےدوستوں نہیں مقدرانسان خودبناتاہے۔اپنےحوصلےسےہمت سےحالات سےلڑکرنہ کرگھبراکربزدلی سےنہیں۔ اگرہمارےبزرگ ہمارےقائداس وقت ان حالات سے گھبراجاتےاورپیچھےہٹ جاتےتوآج ہم آزادملک کےباسی نہ ہوتےانہوں نےمقدرکواپنےہاتھوں سےلکھاہےانہوں نےزمانےکی نظروں میں نظریں ڈال کربتادیاکہ ہم کسی سے ڈرنے والےنہیں ہم توبس ایک خداسے ڈرتےہیں بس ایک خداسے۔انہوں نےاپنےمقصدکواسی لیےحاصل کیاہےلیکن ہم نےاپنےآپ کوحالات کے دھارے پر چھوڑ رکھا ہے۔
    ہم میں سےبارش کوپہلاقطرہ کوئی بھی بننےکوتیارنہیں ہم میں سےکوئی بھی ان حالات سےٹھکرانےکی ہمت نہیں کررہاہےیہ حالات ہمارےہی پیداکردہ ہیں اس دیس کوہم نےہی اس بھنورسےنکلناہےاس ملک کی بھاگ دوڑاب ہمارےہی ہاتھوں میں ہیں۔ ہم نےان تمام حالات کارخ بدلناہےلیکن تھوڑی سےہمت سےحوصلےسےجوش سے عقل سے۔ کیونکہ ہمارےپاس رب تعالی نےسب سےبہترین چیزجودی ہے جوکہ ہمیں فرشتوں سےبھی افضل کرتی ہےوہ عقل شعور، ہم نےاس کااستعمال ترک کردیاہم نےسوچاکہ چھوڑویار، جب ہرچیزچل رہی ہےتوہمیں کیانہیں ہم کوہربرائی کی مخالفت کرنی ہےہم کوہرےکام کوبراکہناہےکیونکہ یہ توہمارےپیغمبررسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کاارشادبھی ہےکہ برائی کوبراکہو۔اب ہم نےاس پرعمل کرناہےآپ ایک دفعہ اس عمل کوشروع توکریں برائی کوبراکہیں تو اچھائی کی تعریف کریں پھردیکھیں کہ یہ عمل آہستہ آہستہ کسطرح اپنی اچھائیاں کواجاگرکرتاہے۔ ہم کوئی بھی غلط کام ہوتادیکھتےہیں توہماری بھی کوشش ہوتی ہےکہ جسطرح بھی ہوکہ کام ہوجائےلیکن یہ نہیں سوچتےکہ اس طرح کام تو ہوجائے گا لیکن وہ عمل میں آپ بھی شامل ہوجائیں گے۔آپ اس کوبراتوکہیں لیکن ہم اس بات کوفراموش کرچکےہیں۔ ہمارےہاں یہ عام کہ اپناکام کروجسطرح طریقےسےہی سہی۔
    آج جوملک کےحالات ہیں جوہرطرف نفسانفسی کادورہےاس میں ہماراکتناہاتھ ہےکیونکہ سب سےپہلےہم اپنےآپ کوٹھیک کریں گےتوپھرہماراگھرانہ پھرہمارامحلہ پھر ہمارا شہر پھر ہمارا ملک ٹھیک ہوگا۔
    ہم لوگ اپنےآپ کوپارساسمجھتےہیں دوسرےکےہرکام میں کیڑےنکالناہماراشیوابن چکاہے۔کوئی اچھی بات بھی کرےتوکہتےہیں کہ بھئی اس کوبہت اسلام یادہے۔ لیکن دراصل اس بیماری کی جڑہم میں ہی ہےآج اس دن ہم سب یہ تہیہ کرلیں کہ بطورمسلمان اورپاکستانی ہم نےہراس برائی سےبچناہےمثلاجھوٹ، جوکہ سب برائیوں کی ماں ہے۔ کیونکہ سچ بولناہے۔ سچ کہناہےسچ لکھناہےبس تومیرےخیال میں سب کچھ ٹھیک ہوجائےگا۔اللہ تعالی مجھےاورآپ سب کواپنی حفظ و ایمان میں رکھےاورہمیں ہمیشہ سچ بولنےکی توفیق دے(آمین)
    ظفراقبال کا بلاگ

  96. شمس جیلانی نے کہا ہے:
    August 12, 2012 بوقت 5:34 pm

    جنوں کا نام خرد رکھدیا خرد کا جنوں
    جو چاہے آپ کاحسنِ کرشمہ ساز کرے

  97. محمداحمد ترازی نے کہا ہے:
    August 13, 2012 بوقت 12:35 am

    ایک ایسی کہانی جس میں ہمارے روشن ماضی شرمناک حال اور بدحال مستقبل کی جھلک موجود ہے

    ایک بڑھیا بےچاری بڑی مشکل سے ہانپتی کانپتی ٹرین کے ڈبے میں سوار ہوگئی ۔ چھوٹی سی گٹھری اس کے ساتھ تھی ۔ اسے لے کر بامشکل وہ ایک طرف کو تھوڑی سی جگہ بنا کر بیٹھ گئی ۔ یہ دو آدمیوں کا چھوٹا سا فرسٹ کلاس کا ڈبہ تھا لیکن اس کے اندر بیس آدمی ٹھسے ہوئے تھے۔ کوئی کھڑا تھا، کوئی بیٹھا تھا، جو جگہ لوگوں سے بچ گئی تھی اس میں سامان رکھا ہوا تھا۔ حالات کچھ ایسے تھے کہ کوئی کسی سے پوچھ نہ سکتا تھاکہ ۔۔۔۔ بھیا تم کس درجہ کے مسافر ہو؟ یہ فرسٹ کلاس کا ڈبہ ہے اور پہلے سے دو آدمیوں کے لئے ریزرو ہے۔

    یہ ان دنوں کی بات ہے جب ملک تقسیم ہوا تھا پاکستان وجود میں آیا ہی تھا، اللہ اور رسول ﷺ کے نام پر۔ اس لئے یہی مسلمانوں کا وطن تھا۔ ہندوستان سے مسلمان سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جان بچائے کسی نہ کسی طرح پاکستان پہنچ رہے تھے ۔

    پاکستان ۔۔۔۔ جو اُن کی تمناؤں کا ثمرِ نورس تھا۔
    پاکستان ۔۔۔۔جس کے لئے اُنہوں نے تن من دھن کی قربانی دی تھی۔
    پاکستان ۔۔۔۔جسے اسلام کی نشاطِ ثانیہ کا گہوارہ بننا تھا۔ پاکستان ان کے لئے سب کچھ تھا۔ دین بھی دنیا بھی۔ اس کا چپّہ
    چپّہ ان کے لئے مقدس تھا۔

    اس گلِ تازہ کی خاطر اُنہوں نے خیابان و گلزار سب چھوڑ دئیے تھے۔ ایک لمحے کے لئے بھی یہ نہ سوچا تھا کہ ان کا کیا ہوگا۔ اُنہیں تو بس یہی ایک خوشی تھی کہ دو صدیاں گزرنے کے بعد پھر وہ دن آئے تھے کہ ارضِ ہمالہ کے ایک گوشے میں لا الہ الاللہ کا پرچم لہرا رہا تھا۔ وہ پرچم جو مسلمانوں کی عزت و وقار کا مظہر تھا۔

    یہ بے چاری بُڑھیا بھی اپنا سب کچھ لٹا کر نہ جانے کس طرح بچتی بچاتی پاکستان پہنچ گئی تھی۔ اسے اتنا ہوش ہی کہاں تھا کہ یہ تمیز کر سکتی کہ وہ کس درجہ میں آکر بیٹھ گئی۔ اُسے تو بس ایک بات معلوم تھی کہ ۔۔ ۔ یہ ہمارا ملک ہے ، یہ ہماری گاڑی ہے۔ جو دوسرے مسافر تھے ان کا بھی یہی حال تھا۔ ہر ایک کا چہرہ غم و الم کی تصویر تھا۔ کیا کیا کچھ کھویا تھا کہ اس ملک کو پا لیں یہ کون کہتا ؟کیا کہتا ؟ کس سے کہتا؟ مسلسل صدمات برداشت کرتے کرتے دلوں میں ناسور پڑ گئے تھے اور زبانیں گنگ ہوگئی تھیں۔

    گاڑی کو پاکستان کی سرحد میں داخل ہوئے کچھ بہت زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ایک اسٹیشن پر ٹکٹ چیکر ڈبے میں داخل ہوا ۔ اس کے ہاتھ میں ایک کاپی تھی، مشتاق احمد صاحب اپنی آپ بیتی کا روانِ حیات میں لکھتے ہیں۔ “ٹکٹ چیکر کو دیکھ کر معاً مجھے خیال آیا کہ مدتوں میں ریلوے کا افسر رہا ہوں۔ دیکھو ! یہ چیکر کیا کرتا ہے۔

    چیکر نے بڑھیا کو دیکھا تو اس سے ٹکٹ کا مطالبہ کیا۔ و ہ اللہ کی بندی کسی قابل ہوتی تو کچھ کہتی۔ بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ پڑے ۔ اس کے پاس ٹکٹ نہ تھا۔ کسی درجہ کا بھی ٹکٹ نہ تھا ۔ ملک کے حالات، بڑھیا کی کیفیت ، غم واندوہ کی فضا ایسی تھی کہ عام معمولات کی پابندی بہت مشکل تھی۔ مشتاق صاحب لکھتے ہیں ۔ میں نے بڑٰی حیرت سے دیکھا کہ چیکر نے اپنی نوٹ بک نکالی اور بلا ٹکٹ سفر پر بُڑھیا کا چالان کر دیا۔ اس نے رسید کاٹ دی تو بُڑھیا اُس سے بے اختیار بولی ۔ ۔۔۔ بیٹا! میرے پاس کچھ نہیں تو یہ رسید نہ کاٹ ۔ جواب ملا ۔۔۔ امّاں اگر ہم بلا ٹکٹ سفر کریں تو ہمارے نئے ملک کا کام کیسے چلے گا؟ تمھارا چالان ہوگا پیسے داخل ہوں گے۔ تم بہت دکھیاری ہو ۔ تمھارے لئے میرا دل بھی دکھی ہے۔ یہ جرمانہ تم نہیں دوگی میں اپنی طرف سے دے دوں گا۔

    احساسِ فرض، ملک کی محبت اور بے سہاروں کی خدمت کا یہ ایسا انمول واقعہ تھا کہ سب مسافروں کے دلوں پر نقش ہوگیا۔ آج کوئی نہیں جانتا کہ یہ فرض شناس اور ملک دوست ٹکٹ چیکر کون تھا؟ لیکن دل بے اختیار کہتا ہے کہ وہ بہت بڑا آدمی تھا۔

  98. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    August 13, 2012 بوقت 6:56 am

    14 اگست کو پاکستان کي آزادی كا دن كها جاتا هى – یوم استقلال Independence Day انتہائی جو ش و خروش سے منایا جا تا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان 1947 ء میں برطانوی حکمرانوں سے آزاد ہو کر معرض وجود میں آیا۔ 14 اگست کا دن پاکستان میں سرکار ی سطح پر قومی تہوار کے طور پر بڑے دھوم دھام منایا جاتا ہے جبکہ بچے ، جوان اور بوڑھے سبھی اس روز اپنا قومی پرچم فضاء میں بلند کرتے ہوئے اپنے قومی محسنوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ پورے ملک میں ہر طرف جشن چراغاں ہوتا ہے اور ایک میلہ کا سا سماں بندھ جاتا ہے۔ اسلام آباد جو کہ پاکستان کا دارلخلافہ ہے، اسکو انتہائی شاندار طریقے سے سجایا جاتا ہے، جبکہ اسکے مناظر کسی جشن کا ساسماں پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ اور یہیں ایک قومی حیثیت کی حامل تقریب میں صدر پاکستان اور وزیرآعظم قومی پرچم بلند کرتے ہوئے اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ہم اس پرچم کیطرح اس وطن عزیز کو بھی عروج و ترقی کی بلندیوں تک پہنچائیں گے۔ ان تقریبات کے علاوہ نہ صرف صدارتی اور پارلیمانی عمارات پر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے بلکہ پورے ملک میں سرکاری اور نیم سرکاری عمارات پر بھی سبز ہلالی پرچم پوری آب و تا ب سے بلندی کا نظارہ پیش کر رہا ہوتا ہے۔ یوم اسقلال کے روز ریڈیو، بعید نُما اور جالبین پہ براہ راست صدر اور وزیرآعظم پاکستان کی تقاریر کو نشر کیا جاتا ہے اور اس عہد کی تجدید کی جاتی ہے کہ ہم سب نے مل کراس وطن عزیز کو ترقی، خوشحالی اور کامیابیوں کی بلند سطح پہ لیجانا ہے۔

    سرکاری طور پر یوم آزادی انتہائی شاندار طریقے سے مناتے ہوئے اعلی عہدہ دار اپنی حکومت کی کامیابیوں اور بہترین حکمت عملیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے عوام سے یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے تن من دھن کی بازی لگاکر بھی اس وطن عزیز کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھیں گے اور ہمیشہ اپنے رہنما قائداعظم محمد علی جناح کے قول “ایمان، اتحاد اور تنظیم” کی پاسداری کریں گے۔

    گوگل سرچ

  99. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    August 13, 2012 بوقت 7:29 am

    پاکستان میرا پاکستان
    14 اگست 2012 ھمارے پاکستان کا 66واں یوم ازادی ھے
    یہ اتفاق ھے یا قدرت ھم کو سنھبلنے کا موقع دے رھی ھے
    پاکستان 14اگست 1947 27 ویں رمضان کی بہت مبارک ساعت و یوم میں معرض الوجود میں آیا
    اس بار بہت زمانے کے پھر انھی مبارک ساعتوں میں یوم آزادی کا جشن منایا جاۓ گا
    اے میرے ھم وطنوں
    اے میرے پاکستانی بہن بھايئوں
    آزادی لغت کا سب سے خوبصورت لفظ ھے
    اس کو لکھتے پڑھتے بولتے روح سرشار ھوجاتی ھے

    ایک سو اسی ملین پاکستانیوں کو دل کی گہرائيوں سے مبارک باد دیتی ھوں
    اج بھی ھر عام پاکستانی، پاکستانی پرچم کو سربلند دیکھنا چاھتا ھے اسکی تعمیر وترقی کے خواب دیکھتا ھے
    اسکی ھر روش روشن رھے یہ خواب دیکھتا ھے پاکستان کے ھر صوبے میں ھر شہر میں ھر گاوں میں امن وامان رھے
    سرسبز رھے پاکستان کے دریاوں کا پانی یونہی رواں دواں رھے
    اسکے پربت
    یونہی فلک کو چومتے رھے محنت کش کھیتوں میں ھل چلاتے رھیں
    ھر پاکستانی بچہ تعلیم کے زیور سے مزین ھو
    ھر گھر میں علم کی روشنی ھو
    ھر شہر شاد و آباد رھے
    ھر شہری کی جان ومال عزت وآبرو محفوظ رھے
    ھر شہری کو بنیادی سہولیتں حاصل ھوں
    ھر پاکستانی اپنے پاکستانی ھونے پر ھمہ وقت فخر کرے کہ پاکستان آیک بہت بڑي نعمت ھے
    اس نعمت کی حفاظت کرنا ھر پاکستانی کا فرض ھے

    ھم آزاد وطن پاکستان کے شہری ھیں
    جو اپنی خوبصورتی اور قدرتی خزانوں سے مالا مال ھے
    پاکستان جو اسلام کا قلعہ بھی ھے
    پاکستان کی حفاظت تو خود رب العالمین کر رھا ھے
    پاکستان جو ھمارے دلوں میں آنکھوں میں بسا ھوا ھے
    ھم دن رات جس کی سلامتی کی دعا کرتے ھیں

    18کروڑ پاکستانی اپنے رب کے حضور رو رو کر پاکستا ن کی بقا اور اسکے استحکم کی دعا کرینگے انشا اللہ
    میں قیام اللیل میں پاکستان کی سالمیت کی دعا کرتی ھوں
    میرا تو سب کچھہ پاکستان ھی ھے
    میری محبت میرا وطن
    میری جاۓ پیدائش
    میری آخری آرام گاہ
    میری اواز
    میری شان
    ھم پاکستان پر ھزار بار قربان

    ھم سب کا پاکستان
    پاکستان ھم سب کو جی جان سے پیارا ھے
    پاکستان ھماری پہچان
    پاکستان ھماری شناخت
    پاکستان نے ھم کو نام دیا
    عزت دی
    وقار دیا
    دیناوی نعمتوں سے سجا پاکستان
    جو اللہ اور اسلام کے نام پر بنا

    اللہ میرے وطن پاکستان کو تاقیامت سلامت رکھنا
    اس کو دشمنوں سے محفوظ رکھنا
    آمین ثم آمین

  100. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    August 13, 2012 بوقت 7:31 am

    میرے پیارے وطن پاکستان
    کو دنیا کا پہلا نظریاتی ملک ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ جس کی قوام کا نعرہ تھا۔پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ قائداعظم محمدعلی جناح،علامہ اقبال ،سرسید احمدخان اور ان جیسے دیگر رہنماوں نے سوئی ہو ئی مسلمان قو م کو جگایا۔علامہ اقبال ایک عظیم مفکر اور مدبر تھے وہ کسی صورت غلامی کو پسند نہیں کرتے تھے اس لئے انھوں نے اپنی شاعری ،تحریروں اور تقریروں کا سہارا لیکر پاک وہند کے مسلمانوں میں زندگی کی نئی روح پھونک دی۔ سرسید ا حمدخان نے مسلمانوں میں تعلیمی میدان میں انقلاب پر پا کیا۔قائد اعظم کی صورت میں مسلمانوں کو ایک عظیم راہنما ملا جنھوں نے مسلمان قوم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اورآزادی کی تحریکیں چلائی جس میں انھیں کامیابی نصیب ہو ئی بالاآخر14 اگست 1947ءکو مسلمانوں کو ایک آزادمملکت حاصل ہو ا۔

    63سالوں پر محیط آزادی کے سفر پر نظرڈالیں تو معلوم ہو گا کہ قائداعظم اور لیاقت علی خان کے بعد کوئی ایسا حکمران نہیںآیا جس نے ملک و قوم کی بہتر انداز سے خدمت کی ہو سیاسی بحران اور دشمن کی چالوں سے ملک کو نقصان ہوتا رہا۔ 1958 ملک پاکستان بحران کی نظر ہوا جب سیاسی پرٹیوں نے اقتدار حاصل کرنے کی جدوجہد کی اور 18اکتوبر 1958ئ میں صدرپاکستان ایوب خان نے ملک میں مارشل لاءکے نفاذکا اعلان کردیا۔1956 کا ائین معطل کر دیا وزیر بر طرف کردئیے گئے اسمبلیاں توڑ دی گئیں۔ ستمبر 1965ء میں بھارت اور پاکستان کے درمیان حق اور باطل کی جنگ ہو ئی اس سترہ روزہ جنگ میں پاکستانی عوام نے فوج کے ساتھ ملکر نہایت عیار اور اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کا مقابلہ کیااور فتح حاصل کی ،5مارچ 1969ئ کو صدرایوب خان نے بڑھتے ہوئے سیاسی بحران ا ور بگڑتی ہو ئی صورتحال کے پیش نظر صدرات سے استعفی دے دیا اور ملک کی سر براہی بری فوج کے کمانڈر انچیف جنرل محمد یحیی خان کے سپر کردی ،انھوں ملک میں دوسری بار مار شل لاءنافذکر کے قومی اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دیں اور وزارتیں اور آئین معطل کر کے چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر اور پھر صدر پاکستان کے اختیارات سنبھال لئے۔دشمن نے 1971ءمیں ایک اور چال چلی جس سے مشر قی پاکستان کی علیحد گی کا افسو ناک و اقعہ پیش آیا۔ 4اپریل 1979کو مسٹر بھٹو کو راولپنڈی جیل میں پھانسی دی گئی۔صدر پاکستان جنرل محمد ضیا ءالحق7اگست 1988ئکو مختصر دورے سے فو جی یونٹوں کا معائنہ کر نے کے بعد واپس آرہے تھے کہ ان کے طیارہ کو حادثہ پیش آگیا۔صدر پاکستان غلام اسحق خان نے بد عنوانی ،نااہلی اور ناکارکردگی کی بنیادوں پر وزیراعظم نواز شریف اور ان کی حکومت کو 18اپریل 1993ءکو چلتا کیا اور نئے انتخابات کے لئے 14جولائی 1993ءکی تاریخ دےدی۔1993،بے نظیر بھٹو کی حکومت قائم ہو ئی۔فروری 1997کے الیکشن میں اکثریتی ووٹ حاصل کر کے جناب نواز شریف نے ثابت کر دیا کہ وہ پاکستان کے نہایت ہر دل عز یز اور کامیاب سیاستدان ہیں ،1999ءمیں وزیراعظم اور فوج کے درمیان بد اعتمادی کی فضا پیدا ہو ئی جس کے نتیجے میں فو ج کو 12اکتوبر 1999ءکو وزیراعظم کو بر طرف کر کے ملکی انتظام سنبھالنا پڑا۔آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے چیف ایگز یکٹو کے نام پر ملک کاانتظام خود سنبھالیا۔یہی وہ نقطہ آغاز تھا جس سے آج ملک کے اس نہج پر پہنچ گیا جس کا نقصان کو ئی ادا نہیں کر سکتا۔پرویز مشرف کی 9سالاتاریک دور میں پاکستان اپنا بہت کچھ کھو بیٹھا۔1ستمبر 2001ءکے واقعہ کے بعد امریکی حکومت کی جنگ میں انسداد دہشت گردی میں شرکت اختیار کی۔اور اس جنگ میں شرکت کا آج ہر پاکستانی خمیازہ بھگت رہا ہے اسکے غلط فیصلہ سے آج پاکستان میدان جنگ بنا ہو اہے لاکھوں پاکستانی امریکہ کے حوالے کردئے جن کا آج تک کو ئی سراغ نہیں لگ سکا پورے سرحد میں نام نہاد جنگ کی آگ لگادی ملک میں خود کش بم دھماکوںکا آغاز ہو ا،پے درپے بم دھماکے شروع ہوئیں ،لال مسجد کا افسوسناک و اقعہ پیش آیا ،طاقت کے زرو پر وہ سب کچھ کیا جو پرویز مشرف کا دل چاہارہا تھا۔سرحد کی تباہ کن صورتحال، ملک میں دہشت گردی خودکش بم دھماکے، لال مسجد کا سانحہ،ایمرجنسی ،آئین کو توڑنا ،عدلیہ کا بحران ،ملک میں توانائی کا بحران ان جیسے کئی واقعات کا ذمہ دار پرویز مشرف ہے ملک کو جہاں تر قی کی ضرورت تھی وہاںان 9سالوں میں ملک ناقابل تلافی نقصا ن پہنچایا گیا۔

    اگر مختلف شبعہءزندگی پے نظر ڈالی جائے ملک پاکستان میں کسی شبعہءزندگی میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔ تعلیم اسی پسماندگی کا شکار ہے جہاں طبقاتی تقسیم کا عمل دخل نظر آتا ہے۔ سیاست روائتی ڈگر سے ہٹ کر سہ رخی پالیسی کا شکار ہو چکی ہے جہاں کہ عوامی طور پر عدم دلچسپی کا اظہار نمایاں ہے۔ عدل و انصاف کے شعبہ میں عدالتی نظام بھی امریت کے شکنجے میں رہا ہے اور حال ہی میں وکلا ء اور سول سوسائٹی کی بھرپور تحرےک آخر رنگ لائی اور 16 مارچ 2009 ءمیں تمام جج بحال ہوئے اور ایک آزاد عدلیہ سامنے آئی جس سے عوام کو بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔پاکستانی عدلیہ کے بہت سے اقدام قابل ستائش ہیں۔
    اقتصادی شعبہ میں کوئی نمایاں ترقی نہیں ہوئی حالانکہ پاکستان میں دنیا کا بہترین آبی نظام موجود ہے۔اور اسی طرح میعشت کے تمام شعبوں میں ذہین ترین لوگ موجود ہیں مگر غیر جامع پالیسیوں کے باعث کوئی افادہ حاصل نہ کر سکے بلکہ کشکول لیکر امداد کیلئے دنیا میں مارے مارے پھرتے ہیں اور آئی ایم ایف اور علمی بینک کے قرضوں تلے دبے جا رہے ہیں۔ معاشی بد حالی ، غربت ، بے روزگاری، لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کی وجہ سے لوگ زندگی سے تنگ آچکے ہیں ، جو تو کچھ حیثیت رکھتے ہیں وہ ملک چھوڑ کر بیر ون ممالک ہجرت کر رہے ہیں اور باقی بدحالی کا شکار دیوار سے لگے کھڑے ہیں۔
    اگر ایک طرف انٹرنیشنل میڈیا ، وکی لیکس نے کرپشن کو سپاٹ لائٹ کیا ہے تو دوسری طرف پاکستانی میڈیا بھی کسی طور کم نہیں البتہ سیاست کو میڈیا پر پتلی تماشہ بنا کر پیش کرنا کسی بھی طور تضحیک آمیز ہے ، کیابین الا قوامی طور پر اس سے ہمارا قومی وقارمجروح نہیں ہو رہا ؟ تنقید برآئے تنقید و تضحیک سے کیا عوامی مسائل حل ہو سکتے ہیں؟
    اس سے پہلے کہ حالات کا پنجہ ہمارے گریبان تک پہنچے ہمیں ان کو سلجھانا ہے۔کیا ہم سیل رواں کے بہتے دھارے پر رکھی ہوئی کائی کی طرح حالات کی موجووں کے تھپڑے کھاتے ہوئے کسی انجانے گرداب میں اپنا وجود کھوجائیں گے؟ نہیں!ہم تو طلاطم خیز موجووں کا سینہ چیرنے والے ایسے سفینے ہیں جو خیر وعافیت کے کنارے کی طرف گامزن ہیں۔ اس وطن عزیز کو کس کی نظر لگ گئی ہے اس کشتی کو منجھدار سے کون نکالے گا؟ ہاں ہمیں اب خواب خرگوش سے جاگنا ہے اور حالات کو سلجھانا ہے اور اپنا ذاتی کردار اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے اداکرناہے۔ اب مزید کنارہ کشی کے اہل نہیں ہیں، پہلے ہی اپنے کیے کی بھگت رہے ہیں، جہاں ہم سب اپنی اپنی بولیاں بولتے ہیں وہاں ہمیں اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ دنیا کے نقشہ پر ہم ایک ملک و قوم کی حیثیت سے اپنی شناخت رکھتے ہیں اور ہمیں اس شناخت کو بھی برقرار رکھنا ہے۔ ہم ایک قوم ہیں مگر اپنی ثقافت روایات، تہذیب و تمدن ہے جو اغیار کی نظر میں کھٹک رہا ہے۔ اپنے وجود کی شناخت کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔بےرونی اندیشوں اور اندرونی خلفشاروں کا ایک ہی حل ہے کہ ہم ایک قوم کےطرح سوچیں، ہمیں بارش کا پہلا قطرہ بننا ہے جو اس سرزمین وطن کو سیراب کردے۔ ہم تو ایک سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار ہیں ہر اینٹ دوسری اینٹ کو جوڑے ہوئے ہے ایک وجود کا احساس پےدا کرنا باقی ہے۔ہمیں دوسری تہذیبوں کے بےچ میں اپنے وجود کو برقرار رکھنا ہے۔ انٹرنیٹ اور میڈیا کے اس دور میں جہاں دنیا کے ایک کنارے پہ سرکنے والے پتھر کی بازگشت دنیا کے دوسرے کنارے پر سنائی دیتی ہے وہاں ہماری شناخت کہیں کھو تو نہیں رہی۔ ہمیں اپنی نئی نسل کےلئے سوچنا ہے جو حالات کے رحم و کرم پہ ہے۔ اس سے پہلے کہ ہمارا وجود کھو جائے ،ہمیں اپنی شناخت کو اجاگر کرنا، آج جس مشکل میں ہے اسے مضبوط فیصلوں سے ہی مضبوط بنایا جا سکتاہے۔ہم جس بھی رنگ میں رنگے جا رہے ہیں اس کا تو اب احساس بھی ختم ہوتا جا رہا ہے روزمرہ معاملات اب اس تربیت کے باعث ہمیں مختلف دکھائی دیتے ہیں ہمارے رسم و رواج کے اندر جو کچھ ملاوٹ ہو چکی ہے شاید اس کا خمیازہ آئندہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔ اس نئے دور کی نئی تہذیب کے جو ثمرات ہمیں مل رہے ہیں اس کا credit اس ذہن کو دینا چاہیے جس نے کامیابی کے ساتھ اپنا رنگ ہمارے اوپر رنگ دیا ہے اور ہمیں پتا بھی نہیں چلنے دیا۔ امید یہ ہے کہ ہم ، جو کہ اس دلدل میں بری طرح پھنس چکے ہیں اور بچنے کیلئے ہاتھ پا?ں مار رہے ہیں، اگلے مرحلے (Stage)پہ اپنا وجود کھو چکے ہوں گے۔
    جہاں ہمارے پاس دوسروں کی برائیاں کرنے کیلئے بہت وقت ، ہے وہاں ہم اپنے گریبان میں جھانکنے کی جرات نہیں کرتے۔ اپنے آپ کواحساس (Realize) دلانے کا وقت بھی نہیں یہ سلسلہ اگر یونہی چلتا رہا تو نامعلوم کتنی نسلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا آج اگر ہم کم از کم اتنی ہمت کر لیں کہ اپنی آنکھوں کی پٹی اتار کر غیر جانبدار ہو کر اپنے ارد گرد بدلتے ہوئے زندگی کے رنگوں کو اپنی ”ذاتی“ آنکھوں سے دیکھ کر فیصلہ کریں کہ آیا ہم سب کچھ صحیح کر رہے ہیں یا کچھ غلط بھی ہو رہا ہے؟ آیا ہم اتنے لاپرواہ ہیں اور کیا ہمارے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں؟ ہم کب تک معاملات سے پہلوتہی کرتے رہیں گے اور کب اپنے مقام پہ رہتے ہوئے اپنا اپنا فرض دیانتداری سے ادا کریں گے؟
    آج ہمیں بارش کا پہلا قطرہ بننا ہے
    کچھ دیر رک جاوءتم ابر ہونے تک

    گوگل سرچ سے استفادہ کیا

  101. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    August 13, 2012 بوقت 7:35 am

    66 سال قبل 14 اگست 1947 بروز جمعتہ المبارک رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک الگ آزاد ملک کے طور پہ نمودار ہوا۔ اور اس وقت بعضوں یہ کہنا تھا کہ پاکستان زیادہ دن قائم نہیں رہ سکے گا کیونکہ اس وقت پاکستان کےلئے اس قدر مسائل پیدا کردئیے گئے تھے کہ بظاہر لگتا تھا کہ پاکستان ان مسائل کا بوجھ برداشت نہیں کرپائے گا اور اپنا وجود کھودے گا۔ لیکن آج الحمدللہ ہم پاکستان کا 66 واں یومِ آزادی منارہے ہیں اور یہ اس خیال کے حامی لوگوں کے منہ پہ ایک طمانچہ ہے جن کا ماننا تھا کہ پاکستان زیادہ دیر نہیں چل سکے گا۔

    میری اللہ تعالی سے التجا ہے کہ وہ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔اور پاکستان میں پھیلی ہوئی بدامنی، بے سکونی کو ختم کرے اور پاکستان کے تمام مسائل کو اپنی رحمت سے ختم کردے۔ آمین

    خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
    وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

  102. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    August 13, 2012 بوقت 7:41 am

    پیارے پاکستانی ساتھیوں آیئۓ ھم مل کر عہد کریں کہ اس بار 14 اگست 2012 کو جو رمضان کی بہت مبارک گھڑی میں آرھا ھے

    اللہ کے حضور بار بار کثرت سے استغفار کرینگے کہ ہم نے اس ملک کا حق ادا نہیں کیا۔ ملک سنوارنے کی جو کوشش ہم کر سکتے تھے، اور ہمیں کرنی چاہئے تھی، وہ ہم نے نہیں کی۔
    اس کے بعد اللہ کی رحیم و کریم ذات کا شکریہ بھی بار بار کثرت کے ساتھ ادا کریں، کہ ہماری تمام تر عدم توجہ، بلکہ مجرمانہ غفلت کے باوجود یہ ملک باقی ہے۔ دشمن اس کو ہم سے چھیننے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ تو یہ محض اللہ ہی کا فضل و کرم ہے۔
    اس کے بعد کھل کر سچے دل سے اظہار اور اعلان کریں کہ ہمیں اس ملک سے سچی اور دلی محبت ہے، اس کو ہم اپنا گھر سمجھتے ہیں ، جس طرح ہر شخص اپنے گھر سے محبت کرتا ہے، اس کی دیکھ بھال کرتا ہے اور اس کو بناتا اور سنوارتا ہے، بلکل اسی طرح ہم مل کر پورے پاکستان کو اپنے گھر کی طرح اپنا سمجھ کر بنائیں گے اور سنواریں گے۔
    اللہ کا نام اپنے شب و روز مین اتنی کثرت سے لینا ہے، اتنی کثرت سے لینا ہے کہ ہر نام پر ، ہر بات پر، ہر چیز پر یہ ہی نام غالب آ جائے۔ اور اللہ سے سب کچھ ہونے کا یقین، اور اللہ کے حکم اور مرضی کے بغیر، اس کی مخلوق سے کچھ نہ ہونے کا یقین ہماری زندگیوں میں آ جائے۔ جب یہ یقین ہمارے اندر آ جائے گا تو پھر ان شاءاللہ ہمیں کچھ کرنے کے لئے اپنے بد دین حکمرانوں کی طرف دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔ بلکہ ہم خود بھی اپنے ملک کے لئے کچھ کر گزرنے کی کوشش کریں گے۔
    اس ستائیسویں شب کو ہم یہ عہد بھی کریں کہ روزانہ تلاوت قرآن کی پابندی کریں گے اور پھر عید کے بعد بھی اس کو اپنا معمول بنائیں گے اور پھر کبھی بھی اس کا ناغہ نہیں ہونے دیں گے۔ کیونکہ اللہ پاک نے ہم پر احسان فرمایا ہے کہ ہمیں قرآن جیسی عظیم کتاب کا وارث بنا دیا ہے۔
    پاکستان ہمارے پاس ایک امانت ہے۔ یہ ہمارے پاس اُن شہدا کی امانت ہے جنہوں نے اس پیارے وطن کی بنیادیں اپنے گرم لہو سے اٹھائیں۔ یہ ایک نعمت ہے، یہ ایک عطیہ ہے۔ یہ ہم پر اللہ سوہنے کا ایسا احسان ہے جس سے فیضیابی کے لئے ہمیں اپنے آپ کو پورے خلوص اور عزم صمیم کے ساتھ تیار کرنا ہوگا۔ اس مبارک رات کو ہم اس بات کا عہد بھی کریں کہ ان شاءاللہ ہم تکمیل پاکستان کے لئے وہی قربانیاں دیں گے ، جس کا نظارہ چشم فلک نے تشکیل پاکستان کے وقت دیکھا تھا۔
    اللہ سے جتنا اس ملک کے لئے مانگ سکتے ہو مانگو، اس ماہ مغفرت میں اور پھر خصوصاً شب قدر جیسی مبارک رات میں اللہ سے ایک نیا پاکستان مانگنا چاہئے، نئی جدوجہد آزادی کو سنگ میل بنالینا چاہئے، امریکا سے آزادی، اس کے غلاموں، بہی خواہوں، ڈالر خوروں، ملک فروش حواریوں سے آزادی، ملک و ملت لوٹ کر کھا جانے والوں سے آزادی مانگنی چاہئیے، راتوں کواٹھ اٹھ کر، اللہ سے با ایمان پاکستان مانگنا چاہئے۔
    گوگل سرچ

  103. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    August 13, 2012 بوقت 7:50 am

    پاکستان کے قیام کا اعلان شب قدر یعنی 27 رمضان المبارک کی رات کو ہوا۔ عیسوی کیلنڈر کے مطابق یہ رات 14 اگست 1947ء کی رات تھی۔ اگلا روز رمضان المبارک کا آخری جمعہ یعنی جمعة الوداع تھا۔ مسلمانان برصغیر پاک و ہند نے اس وقت سے لے کر آج تک ان عظیم و متبرک لمحات میں قیام پاکستان کے اعلان کو نعمت الہی جانا اور یوں اس ریاست کی معنوی عظمت و رفعت کے قائل ہوئے۔

    تحریک پاکستان کی تاریخ اس امر پر گواہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے ہندو سماج سے اپنے جداگانہ تشخص کی بنیاد پر ایک الگ ریاست کا تقاضا کیا۔ پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔ لا الہ الا اللہ کا نعرہ اسی عوامی امنگ کا ترجمان ہے۔ تحریک پاکستان کے دوران مسلم قیادت نے اسی بات پر زور دیا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ قومیں ہیں، جن کا مذہب، بود و باش، اقدار، روایات، روزمرہ کے امور حتی کہ ملنے جلنے کے طریقے ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ قائداعظم کا یہ فرمان کہ ہم ایک ایسی ریاست کا قیام چاہتے ہیں جہاں مسلمان آزادی کے ساتھ اپنے دین پر عمل کر سکیں، بھی اسی نظریئے کی ترجمانی کرتا ہے۔

    قمری لحاظ سے ہمارا یوم آزادی 27 رمضان کو بنتا تھا، تاہم قیام پاکستان کے بعد تشکیل پانے والی سرکاری مشینری نے 27رمضان المبارک کے بجائے 14 اگست کو یوم آزادی کے طور پرمنتخب کیا۔ یہ انتخاب فقط یوم آزادی سے ہی مخصوص نہیں، عیسوی کیلنڈر کو بطور کل قمری کیلنڈر پر ترجیح دی گئی۔ عیسوی کیلنڈر جو کہ ایک عیسائی پوپ گریگوری کے نام سے منسوب ہے، کو برطانیہ اور اس کی کالونیوں میں 1752ء میں رائج کیا گیا۔

    برطانوی سامراج کے جانے کے باوجود پاکستان میں اس کیلنڈر کو بدستور رائج رکھا گیا، جس کی وجہ کچھ بھی ہو، اس وقت یہ میرا موضوع بحث نہیں۔ بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ کسی بھی کیلنڈر کے انتخاب سے کوئی فرق نہیں پڑتا، تاہم میری نظر میں نظام تقویم کا انتخاب قوموں کے اجتماعی تشخص پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر اسلام کی پہلی اسلامی ریاست کے قیام کے ساتھ ہی اس اہم مسئلہ پر توجہ مبذول کی گئی اور ہجرت مدینہ کی مناسبت سے قمری تقویم کا آغاز کیا گیا۔

    بحیثیت مسلمان قمری تقویم سے ہمارا گہرا ربط ہے۔ ہمارے سبھی مذہبی تہوار اسی قمری تقویم کی مناسبت سے منائے جاتے ہیں جو کہ اسلام کے ساتھ ہمارے گہرے اور نہ ختم ہونے والے رشتے کی علامت ہیں۔ یہ مناسبتیں ہمارے اندر سال کے دنوں کے حوالے سے ایک معنوی اثر مرتب کرتی ہیں۔ عید الفطر ہو یا عید الضحی، عاشور کا دن ہو یا 12 ربیع الاول، یہ ایام سال کے چاہے کسی دن بھی آئیں، ہمارا تعلق ایک عمیق تر ثقافت سے جوڑ دیتے ہیں اور ہمیں اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہم ایک ایسے کاروان کا حصہ ہیں، جس کا تعلق الہی نظام ہدایت سے ہے اور جس نے انسانی تاریخ میں کارہائے نمایاں انجام دیے۔

    مدر ڈے، فادرڈے، ٹیچر ڈے، چلڈرن ڈے اور اسی قسم کے لاتعداد تہوار اپنی تمام تر اچھائیوں کے باوجود ہمارے اندر کسی قسم کا کوئی معنوی احساس پیدا نہیں کرتے، جبکہ اس کے برعکس عید الفطر، عید الضحی، عاشورہ اور 12 ربیع الاول کے دن پوری مسلم امہ کے اندر ایسے معنوی احساسات کو جنم دیتے ہیں، جن کا اثر سارا سال محسوس کیا جاسکتا ہے۔

    پاکستان اور اس کی معنوی حیثیت کا ادراک رکھنے والے دینی و مذہبی اداروں اور جماعتوں کے اتحاد ملی یکجہتی کونسل نے اسی کمی کو محسوس کرتے ہوئے، گزشتہ دنوں اپنے ایک سربراہی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا کہ ہم ہر سال 27 رمضان المبارک کو یوم آزادی کے طور پر منائیں گے۔ اس سربراہی اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ ہر سال رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعة الوداع کو عالمی یوم القدس کے طور پر منایا جائے گا۔

    27 رمضان المبارک، یوم آزادی کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ اس روز مساجد، دکانوں، دفاتر، گاڑیوں اور گھروں پر پاکستانی جھنڈے لہرائے جائیں گے، نیز اس موقع پر مساجد میں نماز ظہر سے پہلے قرآن خوانی ہوگی اور نماز ظہر کے بعد ملکی یکجہتی اور سلامتی کے لیے دعا کی جائے گی۔ اسی مناسبت سے اس سال ملی یکجہتی کونسل نے 27 رمضان المبارک بمطابق 16 اگست 2012ء کو ایک سیمینار کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے، جس میں ملی یکجہتی کونسل میں شامل تمام جماعتوں کے علاوہ ملک کی دیگر اہم شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے۔ سیمینار کا عنوان ”یوم آزادی پاکستان اور یوم القدس“ رکھا گیا ہے۔

    ملی یکجہتی کونسل کے مذکورہ بالا فیصلے اس اتحاد میں شامل جماعتوں کے اسلام، جہان اسلام اور پاکستان کے اسلامی تشخص سے تعلق کا پتہ دیتے ہیں۔ 27 رمضان المبارک کو یوم آزادی منانے کا فیصلہ مسلمانان برصغیر کی ان امنگوں آرزوﺅں کا آئینہ دار ہے، جن کی بناء پر اس خطے کے لاکھوں انسانوں نے ایک الگ ریاست کے لیے جدوجہد کا فیصلہ کیا اور آخر کار اس جدوجہد کا ثمرہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں پاکستان کی صورت میں سامنے آیا۔

    گوگل سرچ سے ایک فکر انگیز تحریر

  104. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    August 13, 2012 بوقت 10:56 am

    انشا اللہ ایک دن آۓ گا جب پاکستان میں اقتصادی بحران آۓ گا اور نہ صرف اپنی بلکہ دینا کے بیشتر ممالک کی اقتصادی ضروریات بھی پوری کریگا انشا اللہ انشا اللہ

    پاکستان خوبانی،کپاس اور گنے کی پیداوار کے لحاظ سے چوتھے، پیاز اور دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے پانچویں، کھجور کی پیداوار کے لحاظ سے چھٹے، آم کی پیداوار کے لحاظ سے ساتویں، چاول کی پیداوار کے لحاظ سے آٹھویں، گندم کی پیداوار کے لحاظ سے نویں، مالٹے اور کینو کی پیداوار کے لحاظ سے دسویں جبکہ مجموعی زرعی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں پچیسویں نمبر پر ہے
    غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان اپنے روایتی ہتھیاروں کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ کرتا ہوا دنیا کی پانچویں جوہری طاقت بن چکا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان دفاعی لحاظ سے ایک مضبوط ملک ہے۔ پاکستان اپنے روایتی ہتھیاروں میں اضافہ اس لئے بھی ناگزیر سمجھتا ہے کہ اس کے پڑوس میں ایک ایسا مکار دشمن موجود ہے جس کے ساتھ تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ اگر پاکستان دفاعی لحاظ سے مضبوط نہ ہوتا تو کب کا صیہونی طاقتوں کے ہاتھوں ترانوالہ بن چکا ہوتا۔ آج ہم دنیا کی پانچویں جوہری طاقت ہیں جو ہمارے لئے انتہائی فخر کی بات ہے۔ ہمارے پاس بیش بہا وسائل موجود ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان کو بدترین اقتصادی، معاشی اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہے۔جس ملک میں غریب، مزدور بھوکا سوتا ہو وہ ملک مضبوط نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کا مستقبل سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ کیا کچھ نہیں ہے اس ملک میں؟ دنیا میں کسی ملک نے اگر سوئی بھی بنائی تو بڑے فخر سے اس کا اعلان کیا ہے جبکہ ہمارے ہاں روایت کچھ مختلف ہے۔ ہم غلامی کی ایک لمبی زندگی گزار رہے ہیں اس لئے ہمیں اپنے اطراف میں پھیلا ہوا حسن، ہمارے درمیان موجود علمی قابلیت، فنی صلاحیتیں اور سائنسی کاؤشیں، قدرت کے عطاء کردہ نظارے اور انعامات نظر نہیں آتے۔ پاکستان دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے جو سائنس دانوں اور انجینئرز سے بھرا پڑا ہے ، اس کے باوجود میرے ملک کے عوام اندھیروں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان ساتویں ایٹمی قوت سے ترقی کرتا ہوا پانچویں جوہری قوت بن چکا لیکن پھر بھی اس ملک کے نہتے عوام پر امریکی ڈرون حملے جاری ہیں۔ دنیا کی چھٹی بڑی فوجی طاقت جو اپنی فنی مہارت کی وجہ سے دیگر ممالک کیلئے وجہ خوف بنی ہوئی ہے۔ اس فوج کے دلیر جوانوں میں اتنی طاقت اور دم خم ہے کہ وہ اسلام اور پاکستان کو درپیش تمام چیلنجز کا سامنا کر سکتے ہیں لیکن پھر بھی اپنے ہی عوام سے نبردآزما ہے۔ ایک زرعی ملک ہے جہاں گندم اتنی پیدا ہوتی ہے کہ ہماری ضرورت کے بعد برآمد کی جاتی تھی مگر اب ہمارے ہاں آٹے کا شدید بحران ہے۔ ہمارے گیس کے ذخائر ایشیاء میں چھٹے نمبر پر ہیں لیکن پھر بھی سی این جی اسٹیشنز اور گھریلو صارفین کیلئے گیس کی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ بلوچستان میں ریکوڈک کے مقام پر سونے اور تانبے کے وسیع ذخائر ہیں ۔جن کی مالیت اندازاً ۲۶۰ ارب ڈالر ہے لیکن اتنے وسائل کے باوجود ہم اب بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے قرضہ لے کر ملکی معاملات چلا رہے ہیں ۔ بلوچستان میں موجود سونے کی یہ کان جو دنیا کی پانچویں بڑی کان ہے پھر بھی سونے کی قیمت پینتالیس ہزار روپے تولہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔پاکستان میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق تیل کے ذخائر ۲۷ ارب بیرل اور گیس کے ذخائر ۲۸۰ ٹریلین مکعب فٹ ہیں پھر بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں ۔ پاکستان کا نہری نظام دنیا کا سب سے بڑا اور بہترین ہے۔ پاکستان جو روس سے دس گناہ چھوٹا ملک ہے مگر اس کا نہری نظام روس کے نہری نظام سے تین گنا بڑا ہے لیکن ہر سال کروڑوں کیوسک پانی ضائع ہو کر بحیرہ عرب میں گرتا ہے۔ آبپاشی کے لئے پانی دستیاب نہیں جبکہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے حصے کا پانی روکنے سے پاکستان میں اس کی کمی بڑھتی جا رہی ہے۔ سیاحت ملکی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتی ہے۔’’کے ٹو‘‘ دنیا کی بلند ترین چوٹی، ’’خاں مہترزائی‘‘ ایشیا کا بلند ترین ریلوے اسٹیشن، ’’شندور‘‘ دنیا کا بلند ترین پولو گراؤنڈ، ’’گوادر پورٹ‘‘ دنیا کی گہرے پانی کی سب سے بڑی پورٹ، ’’لالہ زار‘‘ جسے دنیا کی خوبصورت ترین جگہ کا نام دیا گیا ہے، ’’شندور جھیل‘‘ اس جنت بے نظیر مقام کا کوئی ثانی نہیں، ’’قراقرم‘‘ دنیا کی بلند ترین ہائی وے جو چوٹیوں کے درمیان انسانی عزم کی پختگی کا شاہکار ہے ۔ دنیا میں سیاحت سے سالانہ ۵۱۴ ارب ڈالر کی آمدن ہوتی ہے جن میں جنوبی ایشیاء کے ممالک کا حصہ ۵ ارب ۴۰ کروڑ ڈالر ہے ۔ پاکستان میں سیاحت کے وسیع مواقع ہیں اور یہاں سیاحت کیلئے سوئٹزرلینڈ سے زیادہ خوبصورت مقامات ہیں پھر بھی جنوبی ایشیاء کے دوسرے ممالک کی نسبت پاکستان میں سیاحوں کی آمد بہت کم ہے۔ یہ ملک خوبانی،کپاس اور گنے کی پیداوار کے لحاظ سے چوتھے، پیاز اور دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے پانچویں، کھجور کی پیداوار کے لحاظ سے چھٹے، آم کی پیداوار کے لحاظ سے ساتویں، چاول کی پیداوار کے لحاظ سے آٹھویں، گندم کی پیداوار کے لحاظ سے نویں، مالٹے اور کینو کی پیداوار کے لحاظ سے دسویں جبکہ مجموعی زرعی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں پچیسویں نمبر پر ہے۔ اس کے باوجود اس ملک کے باسی مہنگائی کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ فروٹ ، سبزیوں کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ عوام خودکشیوں پر مجبور ہیں جبکہ حکمران ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ پاکستان کوئلے کے ذخائر کے اعتبار سے چوتھے، تابنے کے ذخائر کے اعتبار سے ساتویں جبکہ صنعتی پیداوار کے لحاظ سے پچپنویں نمبر پر ہے مگر اب صورتحال یہ ہے کہ گیس، بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث نہ صرف صنعتیں بند پڑی ہیں بلکہ ان صنعتوں میں کام کرنے والے ہزاروں ہنرمند بے روزگار ہو چکے ہیں۔ ۴۰ فیصد گھر بجلی کی سہولت سے محروم ہیں جبکہ قدرتی گیس سے محروم ایسے گھروں کی تعداد ۷۸ فیصد ہے۔

  105. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    August 13, 2012 بوقت 11:00 am

    میرے پیارے وطن میرے پیارے وطن
    سر پہ سايہ فگن پرچم سبز رنگ
    تیرے دشت ودمن جیسے باغ عدن
    میرے پیارے وطن میرے پیارے وطن
    شاھین رضوی

  106. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    August 13, 2012 بوقت 11:02 am

    مقصود انجم کمبوہ

    پاکستان وسط ایشیاء اور وہاں سے چین اور روس تک رسائی کے لیے دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔اس حیثیت کی وجہ سے بے پناہ اقتصادی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں لیکن یہ صرف اس صورت میں ممکن ہو گا کہ سیاسی استحکام اور امن و امان کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں پوری قوم کے مفادات کی نگہبان جمہوریت کو فروغ دیا جائے اور منصفانہ انداز حکومت قائم کیا جائے۔اپنی اس خصوصی حیثیت سے فائدہ اُٹھانے کے لیے ایک اور ضروری امر یہ ہے کہ پاکستان میں بنیادی سہولتوں کا جدید ڈھانچہ استوار کیا جائے،مثلاً اچھی سڑکوں کا جال بچھایا جائے،ریلوے نظام کو بہتر اور موئثربنایا جائے،پائپ لائن بچھائی جائے،مواصلات کے جدید ذرائع بروئے کار لائے جائیں اور پاکستان سے وسطی ایشیائی ممالک اور وہاں سے چین روس اور یورپ تک توانائی کی ترسیل کا نظام قائم کیا جائے۔
    یورپی یونین،جرمنی،روس ،چین اور جاپان کے ماہرین 1980ء کے عشرے کے اواخر سے تندہی سے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ مستقبل میں یورپ اور مشرقی ایشیا کے درمیان بنیادی سہولتوں کا ڈھانچہ تیار کیا جائے اور اسے وسعت دی جائے۔ان سہولتوں میں مختلف اقسام کی توانائی کی ترسیل کے ذرائع اور مواصلاتی نظام کو اولیت حاصل ہو۔مقصد یہ ہے کہ بنیادی سہولتوں کے نظام کو بتدریج ترقی دی جائے۔تاہم، باہم سماجی معاشرتی اور سماجی اقتصادی تعلقات فروغ پائیں۔یہ کام نہ صرف مسافروں اور مال کی تجارت کے لیے ذرائع ٹرانسپورٹ بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے بلکہ اس طرح کے مغربی یورپ کی تکنیکی مہارت وسطی ایشیائی ملکوں خصوصاً سائبیریا کے وسائل سے بھی بھر پور استفادہ کیا جائے۔مستقبل کے اس تناظر میں امریکہ کو بھی خاصی دلچسپی ہے کیونکہ بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل دونوں کا براعظم یورپ اور بر اعظم ایشیا سے تعلق ہے۔
    علاوہ ازیں چین اور جاپان کے ماہرین ،مشرقی ایشیا ،ایشیابحرالکاہل،جنوبی ایشیا اور مشرقی ایشیائی ممالک سے ٹھوس اقتصادی تعلقات کے ذریعے براعظم ایشیا کے ترقیاتی وسائل سے بھر پور فائدہ اُٹھانے کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ان اہم منصوبوں کے بعض حصّے تکمیل کے آخری مراحل میں نہیں مثلاًمسافروں کے لیے بہتر فضائی رابطے اور معلومات و اطلاعات کے لیے مصنوعی سیاروں کے توسط سے مواصلاتی نظام بندرگاہوں پر سامان لادنے اور اُتارنے کا بہتر نظام ،چین اور یورپ کے درمیان ریلوے لائن جو ٹینگ ینگ کو روٹر ڈیم سے ملاتی ہے۔یورپ اور روس کے درمیان تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے گیس پائپ لائن ،ابھی اس نظام کو چین اور جاپان تک وسعت دینا باقی ہے۔مغربی یورپ تک توانائی کی ترسیل کا نظام موجود ہے اور اسے مشرقی یورپ تک بڑھانے کا کام جاری ہے۔ایک مسئلہ جو گزشتہ چند برسوں میں تمام حکومتوں کے لیے مشکل سے مشکل تر ہو گیا ہے،یہ ہے کہ کمپیوٹر کے بڑھتے ہوئے استعمال عالمی تجارت اور ایک دوسرے کے اطلاعات و معاملات کے نظاموں تک رسائی اور ثقافتی یلغار کی وجہ سے سیاسی،سماجی،اقتصادی اور معاشرتی فیصلوں کی راہ میں مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
    عوامی جمہوریہ چین کو وسطی اور جنوبی ایشیا(کشمیر اور افغانستان) کے معاملوں میں اور زیادہ متعد اور سر گرم ہونا پڑے گا۔تاہم یہ پہلو زیادہ توجہ طلب ہے کہ اگرچہ چین کو جنوبی اور وسطی ایشیا پر امریکہ اور یورپی یونین حتٰی کہ اقوام متحدہ کے مقابلے میں بھی صلاحیتوں مثلاً جدید ٹیکنالوجی اور سرمائے کے مقابلے میں پیچھے ہے۔مزید یہ کہ کبھی چین کو خود اپنے بہت سے اندرونی مسائل حل کرنا باقی ہیں ۔لہٰذا وسطی اور جنوبی ایشیا میں امریکہ ، جاپان یورپی یونین اور کثیر القومی کمپنیوں کی مدد کے بغیر با مقصد ترقی ممکن نہیں ہے۔
    ایشیا کے مختلف خطوں مثلاً مشرقی ایشیا بحرالکاہل ،جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان عظیم تر اقتصادی تعاون کے مجوزہ فوائد اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتے جب تک کہ جنوبی ایشیائی اور وسطی ایشیائی ملکوں کے درمیان بنیادی سہولتوں کا فرق اور زیادہ نہ کر دیا جائے۔اس لیے مستقبل قریب میں ایشیا کو شاہراہوں اور ریلوے لائن کے علاوہ تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے پائپ لائنوں کی تعمیر کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔مثلاً تاشقند ،سکھر ،کراچی ریلوے لائن کے علاوہ یورپ سے روس (سائبیریا)اور چین کو ملانے والی لائن کی ضرورت ہوگی۔ٹیکنیکل مہارت اور بین الاقوامی سرمایہ موجود رہے ۔تاہم علاقے میں قابل ذکر مقدار میں سرمایہ اسی صورت میں پہنچے گا جب علاقہ ہر قسم کی کشیدگیوں سے پاک ہو گا۔ایک اہم ترین بات یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کا تصفیہ ہو جائے اور افغانستان میں حالات معمول پر آ جائیں۔عوامی جمہوریہ چین،پاکستان اور بھارت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔چینی قیادت کا بھارے سے نرم دلانہ رویہ بہت سے مسائل کا حل ہو سکتا ہے۔مندرجہ بالا صورت حال پاکستان کی زبردست ترقی کی بنیاد بن سکتی ہے۔مثال کے طور پر کراچی اور گوادر ایک خوشحال بندرگاہیں بن سکتی ہیں۔جن کے نتیجے میں پاکستان کے علاوہ نئے تجارتی راستے کے اطراف کے علاقوں اور تجارتی مراکز میں روزگار کے مواقع اور دولت کی فراوانی ہو گی۔
    اسی طرح وسط ایشیائی ملکوں اور بھارت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔تاہم یہ فوائد حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو بعض اقدامات کرنے ہوں گے مثلاً احتساب اور شفافیت کے عمل کے علاوہ ٹیکسوں کے نظام میں اصلاح کے ذریعے اسے منصفانہ بنانا ہو گا۔سرمایہ کاری اور بنیادی سہولتوں میں اضافہ کرنا ہو گا۔تعلیم خصوصاً پیشہ وارانہ تعلیم عام کرنا ہو گی۔دفاعی اخراجات میں کمی اور کام کے طریقہ کار میں بھاری تبدیلی کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک سے اقتصادی اور تجارتی تعلقات بہتر بنانا ہوں گے۔کیونکہ پڑوسی ممالک بہترین پارٹنر بن سکتے ہیں۔اس سلسلے میں فرانس اور جرمنی کی قابل تقلید مثال موجود ہے۔ان دنوں ملکوں کے درمیان دشمنی اور طویل جنگیں رہی ہیں لیکن اب وہ ایک دوسرے کے بڑے تجارتی اور کاروباری پارٹنر ہیں۔کیا وجہ ہے کہ جرمن معاشرہ اتنا زیادہ خوشحال ہے ۔حالانکہ جرمنی میں تیل یا گیس جیسے معدنی وسائل برائے نام پائے جاتے ہیں،جنوب مشرقی ایشیاء میں کاروبار میں اتنی فراوانی کیوں ہے،پاکستانی عوام کو اور زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔انہیں اپنے ہم وطنوں اور معاشرے کی جانب سے عائد ہونے والی مزید ذمہ داریاں نبھانا ہوں گی۔یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ ملک کے پالیسی سازوں اور سیاستدانوں میں اب ان حقائق کا احساس پایا جاتا ہے۔مشرقی ایشیائی ملکوں کی ترقی کے اسباب کے بارے میں خاصا غورو فکر اور بحث و مباحثہ ہوتا ہے ۔مشرقی ایشیائی ممالک کی ترقی کی وجوہات یہ ہے کہ انہوں نے خوب سوچ سمجھ کے پالیسیاں و ضع کی ہیں اور ان پر بھر پور عمل کیا ۔پالیسیوں کی تیاری میں سب سے زیادہ حصہ لیا اور اس کامیابی میں مسلسل سیاسی استحکام ،اہلیت اور میرٹ کی سر بلندی اور جوابدہی کے احساس سے سرشار بیوروکریسی کی متحدہ کارکردگی کا نتیجہ ہے ۔ان ممالک کی پالیسی کا ایک خاص پہلو مغربی ملکوں پر انحصار کی بجائے مشرق سے تعلقات بڑھانا اور اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔
    جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی معجزانہ ترقی ان ہی کی تمام کاوشوں کا نتیجہ ہے اور یہ سب کچھ پاکستان بھی کر سکتا ہے۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ پاکستان کے پالیسی ساز منصفانہ اور پائیدار ترقی کے ان عوامل کو کماحقہ اہمیت دیں ۔پالیسی سازوں کو یہ حقیقت اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ دوسرے پارٹنر ممالک امریکہ،یورپی یونین،روس، چین ،جاپان حتٰی کہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک اور بھارت اور وسط ایشیائی ممالک ،وسط ایشیائی اور بحیرہ عرب کے درمیان بنیادی سہولتوں کے ڈھانچے کی عدم موجودگی میں بھی مزید ترقی کر سکتے ہیں۔لیکن بنیادی سہولتوں کی فراہمی ہو جانے کے بعد یہ ممالک اور زیادہ فوائد حاصل کر سکتے ہیں ۔تاہم ان سہولتوں کی فراہمی پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔لہٰذا پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔لہٰذا پاکستان کو بڑے جرائتمندانہ اقدامات اُٹھانا ہوں گے۔جس سے ملک کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا۔اگر اسی نے سازگار ماحول پیدا نہ کیا تو اس صورت میں کوئی ملک سرمایہ کاری نہیں کر سکے گا۔وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور عالمی ماحول تبدیل ہو رہا ہے اگر پاکستان نے یہ موقع ضائع کر دیا تو بہت بڑی بدقسمتی ہو گی۔تکثریت یعنی مل جل کر کام کرنا علاقائی تعاون موجودہ دور کا تقاضا اور ناگزیر ضرورت ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں ایک سے زیادہ ممالک کے مل جل کر کام کرنے اور علاقائی تعاون کے بغیر کسی ملک کی سلامتی ،اقتصادی ترقی اور سماجی فلاح و بہبود کا تصور بھی محال ہے۔
    یہ سفارشات اور تجاوزات جرمن فیڈریشن ایبرٹ فاؤنڈیشن کے نمائندے گونتھے والیوسکی نے پیش کی ہیں۔اس قسم کی سفارشات آراء و تجاویز ہمارے اپنے اقتصادی ماہرین بھی پیش کر چکے ہیں۔مگر افسوس صد افسوس کہ ہم اقتدار کی کشمکش اور ذاتی مفادات کی جنگوں میں اُلجھ کر نہ صرف ملک عزیز کو ان گنت مسائل و مشکلات سے دو چار کر چکے ہیں بلکہ غریب کو غربت کی دلدل میں گلے تک دھنسائے جا رہے ہیں اور نعرے غربت مٹانے کے لگاتے ہیں۔یہ بھی سچی حقیقت ہے کہ جس طرح ہمارے سیاستدان سیاسی محاذ آرائی میں مصروف رہتے ہین۔اس طرح ہمارے دشمنوں نے بھی ہمیں ہر محاذ پر نقصان پہنچانے میں کبھی دیر نہیں لگائی۔آج امریکہ،بھارت،اسرائیل،برطانیہ اور افغانستان کے جنگی پالیسی ساز ادارے ہماری سرحدوں پر نقب زنی میں دن رات مصروف ہیں ۔بلوچستان،سرحد اور سندھ ان کی میٹ لسٹ پر ہیں۔آج کل بلوچستان میں خفیہ کاروائیوں کے ذریعے پاکستان کا دباؤ کا شکار کر دیا ہے۔اور یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بلوچی آزادی چاہتے ہیں۔شمالی علاقوں،باجوڑ،وزیرستان،میران شاہ اور سوات میں دہشتگردوں کی سرکوبی کی آڑ میں خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔قبائلیوں کو آزادی کے لیے اُکسایا جا رہا ہے۔ان حالات میں جرمن فیڈریشن ایبرٹ کے نمائندے گونتھے والیوسکی کی سفارشات کیا رنگ لا سکتی ہیں۔جب تک امریکہ ہماری شمالی سرحدوں پر اپنے اتحادی نیٹو کے ہمراہ براجمان ہے اور بھارت ان کی پشت پناہی حاصل کرنے میں پیش پیش ہے ہماری ترقی اور خوشحالی کے تمام منصوبے بے کار ہیں ۔پاکستان قوم کو از خود تمام باتوں کا نوٹس لینا ہو گاکیونکہ ہماری نو خیز جمہوریت کی بعض کمزوریوں کے باعث ہمارے دشمن بھی فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔لگتا ہے کہ جمہوریت بھی زخم خوردہ ہے جس کے باعث ہمارے حکمرانوں کے قدم کوئی اہم فیصلہ کرتے وقت ڈگمگا جاتے ہیں۔نفسیاتی طور پر ہم اپنے دشمنوں سے خوفزدہ

    گوگل سرچ سے ایک تحریر آپ سبکی بارگاہ فکر میں حاضر ھے

  107. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    August 13, 2012 بوقت 11:11 am

    اکستان میں سیاحوں کے لئے بہت زیادہ متنوع سیاحتی مقامات ہیں

    پاکستان میں قدرتی سیاحت:
    14 Eight Thousanders میں سے 5 پاکستان میں ہیں جن میں K2 جو کہ دنیا کی دوسری بڑی چوٹی ہے، نانگا پربت جو کہ دنیا کی نویں بڑی چوٹی ہے، Gasherbrum I جو کہ دنیا کی گیارہوی بڑی چوٹی ہے، Broad Peak جو کہ دنیا میں بارہویں نمبر پہ ہے اور Gasherbrum II جو کہ دنیا میں

    کے ٹو

    تیرہویں نمبر پہ ہیں اور ان کی اونچائی بالترتیب 8611 میٹر، 8126 میٹر، 8080 میٹر ، 8051 میٹر اور 8034 میٹر ہے۔ان کے علاوہ Maserbrum جس کی اونچائی 7821 میٹر اور راکاپوشی (7788 میٹر) بھی دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں شمار ہوتی ہیں اور یہ بھی پاکستان میں ہیں۔ اس کے علاوہ سکردو کے نزدیک دیوسائی کے میدان جو کہ 3000 کلو میٹر پر محیط ہیں۔ تبت کے بعد دیوسائی کے میدان دنیا کی بلند ترین سطح مرتفع ہیں جن کی سطح سمندر سے اونچائی 4114 میٹر ہے۔ اور یہاں پر پائے جانے والے پودے اور نباتات دنیا میں کہیں بھی نہیں پائے جاتے۔
    اسی طرح بلوچستان میں ھنگول نیشنل پارک جو کہ مکران کوسٹل ہائی وے پر واقع ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں کنڈ ملیر اور اورماڑہ ساحل گوادر کے ساحل کے ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ بلوچستان میں زیارت اپنے خوبصورت مناظراور پُرسکون ماحول کی وجہ سے سیاحوں میں خاصی مقبول جگہ ہے اور اس

    Quaid-e-Azam Residency Ziarat

    کے علاوہ یہاں کی گھاٹیاں، اور قائد اعظمٍ کی رہائش بھی دیکھنے کے قابل ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے شمال میں بہت سی جھیلیں اپنے حسن و خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر میں مقبول ہیں جن میں راولاکوٹ میں بنجوسہ جھیل، وادی ناران میں جھیل سیف الملوک اور آنسو جھیل، کوئٹہ میں ہنہ جھیل کالام میں مہوڈنڈ جھیل اور سکردو میں کچھورا جھیل اور سندھ میں کینجھر جھیل اور منچھر جھیل، کراچی میں منگو پیر شامل ہیں۔ دریائوں میں دریائے کابل، دریائے چترال، دریائے سوات، دریائے نیلم اور دریائے سندھ بھی سیاحوں کے لئے کافی پُرکشش ہیں۔ جو لوگ شکار کے شوقین ہیں ان کے لئے پاکستان میں موجود وائلڈ لائف پارکس بھی کشش رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ تھر اور چولستان کے صحرائوں کا بھی اپنا ایک حُسن ہے جو کہ دیکھنے والوں کو محصور کردیتا ہے اور ان کے علاوہ کراچی اور گوادر کے ساحل بھی سیاحوں کی پسندیدہ جگہوں میں شمارہوتے ھیں

    پاکشسان سیاحوں کی جنت بھی بن سکتا ھے مگر ھمارے دشمنوں سے زیادہ خطرناک تو ھمارے وہ حکمران ھیں جو پاکستان میں ھونے والی ھر ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ھیں جن کے بلین آف ڈالرز دینا بھر کے بنکوں میں محفوظ ھیں انھوں نے اپنا اور اپنی آنے والی نسل کا مستقبل محفوظ کر لیا مگر پاکستان کے 18 کروڑ لوگوں کا مستقبل تاریک کرنا چاھتے ھیں مگر تاریخ گواہ ھے ھر فرعون کے لیے موسی ع کا بندوبست بھی منجانب اللہ ھی ھوتا ھے ،ظلم کی رات کٹ ھی جاۓ گی

  108. جعفر حسین نے کہا ہے:
    August 13, 2012 بوقت 11:19 am

    اہلیانِ پاکستان کو جشنِ آزادی مبارک ہو
    اس بار جشنِ آزادی پر اربابِ اختیار کے دل کی آواز

    تیرا ہاکستان ہے
    نہ میرا پاکستان پے
    جس نے اسکو لوٹا ہے
    یہ اس کا پاکستان ہے !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

  109. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    August 13, 2012 بوقت 1:15 pm

    قومی ترانے سے متعلق ایک فکر انگیز تحریر

    قائداعظم، جگن ناتھ آزاد اور قومی ترانہ؟…صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود

    اس کالم کامقصد صرف اور صرف سچ کی تلاش ہے نہ کہ کسی بحث میں الجھنا۔ میں اپنی حد تک کھلے ذہن کے ساتھ سچ کی تلاش کے تقاضے پورے کرنے کے بعد یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ پچھلے دنوں میڈیا (پرنٹ اور الیکٹرانک) پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ قائداعظم نے قیام پاکستان قبل 9اگست 1947 کو جگن ناتھ آزاد کو بلاکر پاکستان کاترانہ لکھنے کو کہا۔ انہوں نے پانچ دنوں میں ترانہ لکھ دیا جو قائداعظم کی منظوری کے بعد آزادی کے اعلان کے ساتھ ہی ریڈیو پاکستان سے نشر ہوااور پھر یہ ترانہ 18ماہ تک پاکستان میں بجتا رہا۔ جب 23فروری 1949کو حکومت ِ پاکستان نے قومی ترانے کے لئے کمیٹی بنائی تو یہ ترانہ بند کردیا گیا۔اس انکشاف کے بعد مجھے بہت سے طلبہ اوربزرگ شہریوں کے فون آئے جو حقیقت حال جاننا چاہتے تھے لیکن میرا جواب یہی تھا کہ بظاہر یہ بات قرین قیاس نہیں ہے لیکن میں تحقیق کے بغیر اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ چنانچہ سب سے پہلے میں نے ان سکالروں سے رابطے کئے جنہوں نے قائداعظم پر تحقیق کرتے اورلکھتے عمر گزار دی ہے۔ ان سب کاکہنا تھا کہ یہ شوشہ ہے، بالکل بے بنیاد اور ناقابل یقین دعویٰ ہے لیکن میں ان کی بات بلاتحقیق ماننے کے لئے تیار نہیں تھا۔ قائداعظم اور جگن ناتھ کے حوالے سے یہ دعوے کرنے والے حضرات نے انٹرنیٹ پر کئی ”بلاگز“ (Blogs) میں اپنا نقطہ نظر اور من پسند معلومات فیڈ کرکے محفوظ کر دی تھیں تاکہ انٹرنیٹ کااستعمال کرنے والوں کوکنفیوز کیاجاسکے اور ان ساری معلومات کی بنیاد کوئی ٹھوس تحقیق نہیں تھی بلکہ سنی سنائی یاپھر جگن ناتھ آزاد کے صاحبزادے چندر کے آزاد کے انکشافات تھے جن کی حمایت میں چندر کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔
    سچ کی تلاش میں، میں جن حقائق تک پہنچا ان کاذکر بعد میں کروں گا۔ پہلے تمہید کے طور پریہ ذکرکرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جگن ناتھ آزاد معروف شاعر تلوک چند کا بیٹا تھا ۔ وہ 1918 میں عیسیٰ خیل میانوالی میں پیدا ہوا۔ اس نے 1937 میں گارڈن کالج راولپنڈی سے بی اے اور 1944 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے فارسی کیا۔ تھوڑاساعرصہ”ادبی دنیا“ سے منسلک رہنے کے بعد اس نے لاہور میں ”جئے ہند“نامی اخبار میں نوکری کرلی۔ قیام پاکستان کے بعد وہ ستمبر میں ہندوستان ہجرت کر گیا۔ اکتوبر میں ایک بار لاہور آیا اور فرقہ وارانہ فسادات کے خوف سے مستقل طور پر ہندوستان چلاگیا۔ وِکی پیڈیا (Wikipedia) اور All things Pakistan کے بلاگز میں یہ دعویٰ موجود ہے کہ قائداعظم نے اپنے دوست جگن ناتھ آزاد کو 9اگست کو بلا کر پاکستان کاترانہ لکھنے کے لئے پانچ دن دیئے۔ قائداعظم نے اسے فوراً منظور کیا اور یہ ترانہ اعلان آزاد ی کے بعد ریڈیو پاکستان پر چلایاگیا۔ چندر نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ حکومت ِ پاکستان نے جگن کو 1979 میں صدارتی اقبال میڈل عطا کیا۔
    میراپہلا ردعمل کہ یہ بات قرین قیاس نہیں ہے ، کیوں تھا؟ ہر بڑے شخص کے بارے میں ہمارے ذہنوں میں ایک تصویر ہوتی ہے اور جو بات اس تصویرکے چوکھٹے میں فٹ نہ آئے انسان اسے بغیر ثبوت ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔ قائداعظم سرتاپا قانونی اور آئینی شخصیت تھے۔ اس ضمن میں سینکڑوں واقعات کاحوالہ دے سکتاہوں۔ اس لئے یہ بات میری سمجھ سے بالا تر تھی کہ قائداعظم کسی کو ترانہ لکھنے کے لئے کہیں اور پھر کابینہ، حکومت یاماہرین کی رائے لئے بغیر اسے خود ہی آمرانہ انداز میں منظور کر دیں جبکہ ان کا اردو، فارسی زبان اور اردو شاعری سے واجبی سا تعلق تھا۔ میرے لئے دوسری ناقابل یقین صورت یہ تھی کہ قائداعظم نے عمر کامعتدبہ حصہ بمبئی اور دہلی میں گزارا۔ ان کے سوشل سرکل میں زیادہ تر سیاسی شخصیات، مسلم لیگی سیاستدان، وکلا وغیرہ تھے۔ پاکستان بننے کے وقت ان کی عمر 71 سال کے لگ بھگ تھی۔ جگن ناتھ آزاد اس وقت 29 سال کے غیرمعروف نوجوان تھے اور لاہور میں قیام پذیر تھے پھر وہ پاکستان مخالف اخبار ”جئے ہند“ کے ملازم تھے۔ ان کی قائداعظم سے دوستی تو کجا تعارف بھی ممکن نظر نہیں آتا۔
    پھر مجھے خیال آیا کہ یہ تو محض تخیلاتی باتیں ہیں جبکہ مجھے تحقیق کے تقاضے پورے کرنے اور سچ کا کھوج لگانے کے لئے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہے۔ ذہنی جستجو نے رہنمائی کی اورکہاکہ قائداعظم کوئی عام شہری نہیں تھے جن سے جو چاہے دستک دے کرمل لے۔ وہ مسلمانان ہند و پاکستان کے قائداعظم اور جولائی 1947 سے پاکستان کے نامزد گورنر جنرل تھے۔ ان کے ملاقاتیوں کاکہیں نہ کہیں ریکارڈ موجود ہوگا۔ سچ کی تلاش کے اس سفر میں مجھے 1989میں چھپی ہوئی پروفیسر احمد سعید کی ایک کتاب مل گئی جس کا نام ہے Visitors of the Quaid-e-Azam ۔ احمد سعید نے بڑی محنت سے تاریخ وار قائداعظم کے ملاقاتیوں کی تفصیل جمع کی ہے جو 25اپریل 1948تک کے عرصے کااحاطہ کرتی ہے۔ اس کتاب میں قائداعظم کے ملاقاتیوں میں جگن ناتھ آزاد کاکہیں بھی ذکر نہیں ہے۔ ”پاکستان زندہ باد“ کے مصنف سید انصار ناصری نے بھی قائداعظم کی کراچی آمد 7اگست شام سے لے کر 15 اگست تک کی مصروفیات کاجائزہ لیا ہے۔ اس میں بھی آزاد کا ذکر کہیں نہیں۔ سید انصار ناصری کو یہ تاریخی اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے قائداعظم کی 3جون 1947 والی تقریرکااردو ترجمہ آل انڈیاریڈیو سے نشر کیاتھا اور قائداعظم کی مانند آخر میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی بلند کیا تھا۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ پھر بھی میر ی تسلی نہیں ہوئی۔ دل نے کہا کہ جب 7اگست 1947 کو قائداعظم بطور نامزد گورنر جنرل دلی سے کراچی آئے تو ان کے ساتھ ان کے اے ڈی سی بھی تھے۔ اے ڈی سی ہی ملاقاتوں کا سارااہتمام کرتا اور اہم ترین عینی شاہد ہوتا ہے اورصرف وہی اس سچائی کی تلاش پر مہرثبت کرسکتا ہے۔ جب قائداعظم کراچی اترے تو جناب عطا ربانی بطور اے ڈی سی ان کے ساتھ تھے اور پھرساتھ ہی رہے۔ خدا کاشکر ہے کہ وہ زندہ ہیں لیکن ان تک رسائی ایک کٹھن کام تھا۔ خاصی جدوجہد کے بعد میں بذریعہ نظامی صاحب ان تک پہنچا۔ جناب عطا ربانی صاحب کا جچا تلا جواب تھا کہ جگن ناتھ آزاد نامی شخص نہ کبھی قائداعظم سے ملا اور نہ ہی میں نے کبھی ان کانام قائداعظم سے سنا۔ اب اس کے بعد اس بحث کا دروازہ بند ہوجاناچاہئے تھا کہ جگن ناتھ آزا د کو قائداعظم نے بلایا۔ اگست 1947 میں شدید فرقہ وارانہ فسادات کے سبب جگن ناتھ آزاد لاہور میں مسلمان دوستوں کے ہاں پناہ لیتے پھررہے تھے اور ان کو جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ان حالات میں ان کی کراچی میں قائداعظم سے ملاقات کاتصو ر بھی محال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود جگن ناتھ آزاد نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا حالانکہ وہ پاکستان میں کئی دفعہ آئے حتیٰ کہ وہ علامہ اقبال کی صد سالہ کانفرنس کی تقریبات میں بھی مدعو تھے جہاں انہوں نے مقالات بھی پیش کئے جو اس حوالے سے چھپنے والی کتاب میں بھی شامل ہیں ۔ عادل انجم نے جگن ناتھ آزاد کے ترانے کاشوشہ چھوڑا تھا۔ انہوں نے چندر آزاد کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ جگن ناتھ آزاد کو 1979 میں صدارتی اقبال ایوارڈ دیا گیا۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ میں نے صدارتی اقبال ایوارڈ کی ساری فہرست دیکھی ہے اس میں آزاد کا نام نہیں۔ پھر میں کابینہ ڈویژن پہنچا اور قومی ایوارڈ یافتگان کا ریکارڈ کھنگالا۔ اس میں بھی آزاد کا نام نہیں ہے۔ وہ جھوٹ بول کر سچ کوبھی پیار آ جائے۔ اب آیئے اس بحث کے دوسرے حصے کی طرف… ریڈیو پاکستان کے آرکائیوز گواہ ہیں کہ جگن ناتھ آزاد کاکوئی ترانہ یا ملی نغمہ یا کلام 1949 تک ریڈیو پاکستان سے نشر نہیں ہوا اور 15اگست کی درمیانی شب جب آزادی کے اعلان کے ساتھ پہلی بار ریڈیو پاکستان کی صداگونجی تو اس کے بعد احمد ندیم قاسمی کا یہ ملی نغمہ نشر ہوا۔
    پاکستان بنانے والے، پاکستان مبارک ہو
    ان دنوں قاسمی صاحب ریڈیو میں سکرپٹ رائٹر تھے۔ 15اگست کو پہلا ملی نغمہ مولانا ظفر علی خان کا نشر ہوا جس کا مصرعہ تھا ”توحید کے ترانے کی تانیں اڑانے والے“
    میں نے یہیں تک اکتفا نہیں کیا۔ اس زمانے میں ریڈیو کے پروگرام اخبارات میں چھپتے تھے۔ میں نے 14 اگست سے لے کر اواخر اگست تک اخبارات دیکھے۔ جگن ناتھ آزاد کا نام کسی پروگرام میں بھی نہیں ہے۔ سچ کی تلاش میں، میں ریڈیو پاکستان آرکائیو ز سے ہوتے ہوئے ریڈیو کے سینئر ریٹائرڈ لوگوں تک پہنچا۔ ان میں خالد شیرازی بھی تھے جنہوں نے 14اگست سے21 اگست 1947 تک کے ریڈیو پروگراموں کا چارٹ بنایا تھا۔ انہوں نے سختی سے اس دعویٰ کی نفی کی۔ پھر میں نے ریڈیو پاکستان کا رسالہ ”آہنگ“ ملاحظہ کروایا جس میں سارے پروگراموں کی تفصیلات شائع ہوتی ہیں۔ یہ رسالہ باقاعدگی سے 1948 سے چھپنا شروع ہوا۔ 18ماہ تک آزاد کے ترانے کے بجنے کی خبردینے والے براہ کرم ریڈیو پاکستان اکادمی کی لائبریری میں موجود آہنگ کی جلدیں دیکھ لیں اور اپنے موقف سے تائب ہوجائیں۔ میں اس بحث میں الجھنا نہیں چاہتا کہ اگر آزاد کا ترانہ ہمارا قومی ترانہ تھا اور وہ 1949 تک نشر ہوتارہا تو پھر اس کا کسی پاکستانی کتاب، کسی سرکاری ریکارڈ میں بھی ذکر کیوں نہیں ہے اور اس کے سننے والے کہاں چلے گئے؟ اگر جگن ناتھ آزاد نے قائداعظم کے کہنے پر ترانہ لکھا تھا تو انہوں نے اس منفرد اعزاز کا کبھی ذکرکیو ں نہ کیا؟ جگن ناتھ آزاد نے اپنی کتاب ”آنکھیں ترستیاں ہیں“ (1982) میں ضمناً یہ ذکر کیا ہے کہ اس نے ریڈیو لاہور سے اپنا ملی نغمہ سنا۔ کب سنا اس کاذکر موجود نہیں۔ اگر یہ قائداعظم کے فرمان پر لکھا گیا ہوتا تو وہ یقینا اس کتاب میں اس کاذکر کرتا۔ آزاد کے والد تلوک چند نے نعتیں لکھیں۔ جگن ناتھ آزاد نے پاکستان کے لئے ملی نغمہ لکھا جو ہوسکتا ہے کہ پہلے کسی وقت ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا ہو لیکن یہ بات طے ہے کہ جگن ناتھ آزاد نہ کبھی قائداعظم سے ملے، نہ انہوں نے پاکستان کا قومی ترانہ لکھا اور نہ ہی ان کا قومی ترانہ اٹھارہ ماہ تک نشر ہوتارہا یا قومی تقریبات میں بجتا رہا۔
    قائداعظم بانی پاکستان اور ہمارے عظیم محسن ہیں۔ ان کے احترام کا تقاضا ہے کہ بلاتحقیق اوربغیر ٹھوس شواہد ان سے کوئی بات منسوب نہ کی جائے۔
    

  110. ظفر جعفری نے کہا ہے:
    August 14, 2012 بوقت 2:37 am

    13 اگست 1947 کےدن مشرقی اور مغربی پنجاب کو ملاکر مسلمانوں کے پاس 142 کاریں تھیں۔ یہ نکتہ پاکستان کے حصول کو سمجھنے کلئے کافی ہے۔

  111. محمداحمد ترازی نے کہا ہے:
    August 14, 2012 بوقت 10:07 am

    آج 14 اگست کو قوم مملکت خداداد کا 66واں یوم آزادی روایتی جوش و جذبے سے اور تعمیر ملک و ملت کے احساس کو اجاگر کرتے ہوئے منا رہی ہے۔ 66 سال قبل آزاد و خودمختار مملکت کی حیثیت سے وطن عزیز کا قیام مقدس و متبرک مہینے رمضان المبارک کے 26ویں روزے کے اختتام پر لیلة القدر کی رات عمل میں آیا اور اسی مناسبت سے ارضِ وطن کو عطیہ¿ خداوندی کہا جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے آج بھی ہمیں یوم آزادی ماہ رمضان المبارک کے اسی عشرے میں منانے کی سعادت حاصل ہورہی ہے‘ جس میں فرزندانِ توحید کو بارگاہ ایزدی کی جانب سے رحمتوں‘ مغفرتوں اور برکتوں والی رات لیلة القدر کی نوید دی گئی ہے۔ آج 25ویں روزے کی رات بھی طاق راتوں میں شمار ہوتی ہے اور اس مناسبت سے ہمیں آج وطن عزیز کا 66واں یوم آزادی بھی طاق راتوں میں آنیوالی لیلة القدر کی برکتوں کے ساتھ منانے کی سعادت حاصل ہورہی ہے۔ یہ رات دعاﺅں کی قبولیت کی رات ہے اس لئے ہمیں جشن آزادی مناتے ہوئے ملک کی سلامتی‘ ترقی و خوشحالی اور اغیار کی سازشوں سے ملک کو محفوظ رکھنے کی خصوصی دعائیں بھی مانگنی چاہئیں اور خدا کے حضور گڑگڑاتے ہوئے سجدہ ریز ہو کر اپنی انفرادی اور اجتماعی قومی خطاﺅں کی بھی معافی مانگنی چاہیے۔ وطن عزیز آج جن آفات ارض و سما میں گھرا ہے‘ ان سے نجات کی دعائیں بھی ہمارے لبوں پر رہنی چاہئیں۔ ربِ کائنات اپنے عاجز بندوں پر رحمتوں کی بارش برسانے پر قادر ہے اور اسکی مغفرت کے خزانے میں کوئی کمی نہیں۔
    آج ہمیں اپنا یوم آزادی رمضان کریم کی طاق رات کے عرصہ میں منانے کی سعادت ملی ہے تو یہ بلاشبہ ہمارے لئے رحمتِ خداوندی کی دلیل ہے۔ ہمارے منتخب جمہوری حکمرانوں نے بری سے بری جمہوریت کے تصور والی اپنی حکمرانی میں عوام کا عرصہ¿ حیات تنگ کرکے اور ان کیلئے روٹی روزگار کے گھمبیر مسائل پیدا کرکے آزادی کا تصور ہی گہنا دیا ہے جبکہ حکمرانوں کی بے تدبیریوں کے نتیجہ میں بلوچستان کے پیدا شدہ حالات ملک کی آزادی‘ خودمختاری اور سلامتی کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں اور ایک خفیہ گیلپ سروے کے مطابق بلوچستان کے 67 فیصد عوام صوبائی خودمختاری اور 37 فیصد آزادی کے حامی ہیں۔ حکمرانوں کی بے تدبیریاں جاری رہیں تو کل کو ہمیں خدانخواستہ مشرقی پاکستان جیسے کسی دوسرے سانحہ سے دوچار ہونا پڑسکتا ہے۔ ہندو اور انگریز کی غلامی کے شکنجے میں جکڑے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے اقبال نے پاکستان کا تصور پیش کیا اور قائداعظمؒ نے اپنی فہم و بصیرت سے اس تصور کو عملی جامہ پہنایا۔ یہ تاریخ عالم کا ایک منفرد واقعہ ہے کہ قائداعظمؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی کی پرامن تحریک کیلئے صف آراءکرکے ایک گولی چلائے اور جیل جائے بغیر ایک آزاد وطن حاصل کرلیا۔ حالانکہ اس وقت برسراقتدار انگریز اور اقتصادی و معاشی وسائل سے مالامال ہندو اکثریت نے تشکیل پاکستان کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔
    اگر قائداعظم قیام پاکستان کے ایک سال بعد ہی ہم سے ہمیشہ کیلئے جدا نہ ہوتے تو جس مشن اور مقصد کے تحت برصغیر کے مسلمانوں کیلئے الگ وطن حاصل کیا گیا تھا وہ نہ صرف پورا ہوتا بلکہ اقوام عالم میں آج پاکستان کو منفرد، نمایاں اور بلند حیثیت حاصل ہوتی مگر بدقسمتی سے قائداعظمؒ کے انتقال کے بعد وطنِ عزیز انگریز اور ہندو کے ٹوڈی جاگیرداروں، ملاﺅں، مفاد پرست سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں کے نرغے میں آگیا جنہوں نے اپنے مفاداتی گٹھ جوڑ سے اسلامی جمہوری فلاحی پاکستان کی منزل کو دور کردیا۔ اسی مفاداتی گٹھ جوڑ نے ماورائے آئین طالع آزمائی کے تحت فوجی آمریتوں کی بنیاد رکھی چنانچہ قیام پاکستان سے اب تک کا آدھے سے زیادہ عرصہ ہم نے یکے بعد دیگر چار مارشل لاﺅں کے نتیجہ میں جرنیلی آمریت کے منحوس سائے میں گزار دیا ہے۔ ان جرنیلی آمریتوں نے ملک کے اسلامی جمہوری فلاحی تصور کو اجاگر ہی نہیں ہونے دیا چنانچہ متعصب ہندو اکثریت کی اقتصادی غلامی کے شکنجے سے آزادی حاصل کرنے کے باوجود مسلمانوں کی اقتصادی حالت ابتر ہی رہی۔ انہیں جمہوریت کے ثمرات سے بھی دور کردیا گیا اور اقتصادی بدحالی بھی ان کا مقدر بنا دی گئی۔آج ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ آج سلطانی¿ جمہور میں بھی عوام الناس کو جمہوریت کے ثمرات حاصل نہیں ہورہے اور جمہوری حکمرانوں نے جرنیلی آمریت کی تمام ننگِ وطن اور ننگِ انسانیت پالیسیاں برقرار رکھتے ہوئے قومی غیرت و حمیت کا بھی جنازہ نکالا ہے اور بے وسیلہ عام آدمی کے روزمرہ کے گوناگوں مسائل میں بھی اضافہ کیا ہے۔چنانچہ پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا جو خواب قائداعظمؒ کی فہم و بصیرت سے شرمندہ¿ تعبیر نہیں ہو پایا تھا۔ آج ہمارے حکمرانوں کی بداعمالیوں اور بے تدبیریوں کے باعث اسکی تعبیر و تکمیل کیلئے مکار ہندو بنیاءکی باچھیں کھلی ہوئی نظر آتی ہیں امریکی غلامی میں قوم کی گردن اس حد تک جھکا دی گئی ہے کہ خودداری و خودمختاری کا تصور ہی عنقا ہو گیاہے۔
    قائداعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا جس کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے بغیر تقسیم ہند کا ایجنڈا مکمل نہیں ہوسکتا۔ آج کشمیری عوام بھارتی فوجوں کے مظالم برداشت کرتے، ان کی گولیوں سے اپنے سینے چھلنی کراتے، قربانیاں دیتے، اپنی آزادی کی منزل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ہندوستان انہیں ٹریک سے ہٹانے کیلئے مختلف حربے اختیار کررہا ہے مگر وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کی صورت میں تقسیم ہند کے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے اپنی آزادی کی جدوجہد میں مگن ہیں جو درحقیقت استحکام پاکستان کی جدوجہد ہے مگر ہمارے حکمرانوں کو ان غیور کشمیری باشندوں کی اخلاقی حمائت کی بھی توفیق نہیں ہورہی جو انہیں پاکستان سے الحاق کی تمنا رکھنے کی سزا دینے کے مترادف ہے۔
    پاکستان کا قیام درحقیقت برصغیر کے مسلمانوں کا مذہبی‘ اقتصادی‘ سماجی اور معاشرتی استحصال کرنےوالے انگریز سامراج اور اسکے ٹوڈی ہندو بنیاءکی غلامی سے نجات حاصل کرنے کیلئے عمل میں لایا گیا تھا اور تصور یہی تھا کہ اپنی آزاد اور خودمختار مملکت میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہونے کےساتھ ساتھ انکی اقتصادی حالت بھی بہتر ہو جائیگی اور انہیں قومی وسائل کو بروئے کار لانے اور روزگار حاصل کرنے کے یکساں مواقع حاصل ہونگے۔ ہمارے سیاسی حکومتی قائدین کو سوچنا چاہیے کہ آج ہم وہ مقاصد کیوں حاصل نہیں کر پائے جن کی خاطر برصغیر کے مسلمانوں کےلئے ایک الگ خطہ حاصل کرنے کی بانیانِ پاکستان قائد و اقبال نے ضرورت محسوس کی تھی۔ اگر ہم آج بھی خود انحصاری کی منزل کے حصول کیلئے پرعزم ہوں تو قدرت نے ہمیں وسائل سے مالامال کر رکھا ہے جنہیں بروئے کار لا کر ملک کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ آج یوم آزادی کے موقع پر قومی سیاسی قائدین کو محض تجدید عہد نہیں‘ عملیت پسندی کے ساتھ قوم کی ترقی و خوشحالی کیلئے عزم نو کرنا چاہیے۔ پاکستانی قوم بہرصورت اتنی صلاحیتوں کی حامل ہے کہ مشکل سے مشکل حالات اور کسمپرسی کی حالت میں بھی ملک کی تقدیر سنوارنے کا جذبہ رکھتی ہے۔ ملک پر جب بھی زلزلے‘ سیلابوں کی شکل میں کوئی قدرتی آفت ٹوٹی ہے‘ قوم نے ثابت قدمی کے ساتھ اس کا سامنا اور مقابلہ کیا ہے اور قومی جذبے کو کبھی ماند پڑنے دیا ہے‘ نہ قومی پرچم کبھی سرنگوں ہونے دیا ہے۔ قوم تو یقیناً قیام پاکستان کے مقاصد کی روشنی میں بانیانِ پاکستان کے آدرشوں کے مطابق تعمیر و استحکام پاکستان کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کو ہمہ وقت تیار ہے‘ اگر ہماری قومی سیاسی قیادتیں بھی تعمیر ملک و ملت کے جذبے سے سرشار ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔ آج کے دن کا یہی پیغام ہے کہ صلاحیتوں سے معمور قوم کو اس سمت پر ڈال دیا جائے جو ملک کو کامرانیوں کی جانب لے جانے کی ضمانت بن سکے۔
    آج خوش قسمتی سے سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ نے بھی مکہ مکرمہ میں دو روزہ غیرمعمولی اسلامی سربراہ کانفرنس طلب کر رکھی ہے جس میں پاکستان کی نمائندگی صدر آصف علی زرداری کر رہے ہیں‘ انہیں اس کانفرنس میں بھی وطنِ عزیز پاکستان کو لاحق سنگین خطرات سے آگاہ کرنا چاہیے اور مسلم امہ کے اتحاد کی ضرورت کا احساس دلانا چاہیے۔ اس تناظر میں ہمیں روایتی تجدید عہد سے آگے نکل کر اس اسلامی فلاحی جمہوری پاکستان کیلئے انفرادی اور اجتماعی ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرنا ہو گا جو بانیانِ پاکستان قائدؒ و اقبالؒ کا خواب تھا۔ ہمیں قومیتوں سے پھر ایک قوم بننا ہو گاتاکہ پاکستان کو قائد اعظم کے فرمان کے مطابق اسلام کی تجربہ گاہ کے قالب میں ڈھالا جا سکے۔(اداریہ بشکریہ نوائے وقت 14 اگست 2012)

  112. محمداحمد ترازی نے کہا ہے:
    August 14, 2012 بوقت 10:14 am

    پاکستان کا قیام 20 ویںصدی کا ایسا حیرت انگیز واقعہ ہے جس کا تاریخ عالم میں جواب نہیں ۔قوموں کی زندگی میں کبھی کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے جب انہیں موت و زندگی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ یہ نازک وقت انکے جذبہ عمل اور سیاسی بیداری کا بڑا سخت امتحان ہوتا ہے۔یا تو ہمیشہ کی زندگی یا پھر مکمل تباہی۔”قائد اعظم ؒ نے قوم کو للکارا“Achieve Pakistan or perish پاکستان حاصل کرو یا تباہ ہو جاﺅ۔

    بڑا نازک اور کٹھن وقت تھا۔ لیکن قوم نے یہ سوچ کر کہ یہ موقع پھر ہاتھ نہ آئےگا آنےوالی نسلوں کی بقا کی خاطراپنا تن،من،دھن سب کچھ قربان کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ طلبہ نے تعلیم کو خیر باد کہا اور ملازمت پیشہ افراد نے ملازمتوں کو ٹھکرا دیا ،تاجروں نے دوکانیں بند کر دیںاور علماءو مشائخ نے خانقاہوں کو چھوڑ دیا ،سب مل کر چلے ،مخالفتوں کا سر کچلا،ہواﺅں کا رُخ بدلا، طوفان بن کر اٹھے،آندھی بن کر چھائے ،صاحبان بصیرت نے اپنی کشتیاں جلا دیں اور فدایان ملت نے اپنا آشیانہ خود بجلیوں پر گرا دیا ۔اگر ہم ماضی میں جھانکنے کی زحمت کریں تو برصغیر میں جب تک مسلمان فرقوں اور گروہوں میں بٹے رہے ذلت و خواری ان کا مقدر بنی رہی ۔دوسری قومیں تعلیم، تنظیم، صنعت و حرفت اور معاشی آسودگی میں بہت آگے نکل گئیں لیکن مسلمان زندگی کے ہر شعبے میں پست سے پست تر ہوتے چلے گئے۔ مغلیہ سلطنت کا سورج غروب ہونے کے بعد مسلمانوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔انگریز انہیں اپنا بد ترین دشمن جانتے تھے اور ہندو ان سے ہزار سالہ حکومت کا بدلہ لینے پر تلے ہوئے تھے۔ ہندوستان گیر پیمانے پر مسلمانوں کی کوئی تنظیم نہ تھی کوئی مقامی لیڈر نہ تھا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر طرف مایوسی نے ڈیرے ڈال لئے ۔بنگال میں نواب سراج الدولہ، میسور میں حیدر علی اور ٹیپو سلطان نے انگریزوں کا انتہائی بہادری سے مقابلہ کیا لیکن تنظیم کے فقدان، وسائل کی کمی ،اپنوں کی غداری،غیروں کا ساتھ نہ دینے کے سبب شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔1857 میں جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد ایک ایسا وقت بھی آیا جب شہزادوں کے سر بادشاہوں کو پیش کئے گئے مسلمانوں کو سر عام پھانسی دی گئی لیکن کوئی اف تک کرنےوالا نہ تھا یہاں تک کہ اس وقت کے حالات کا مطالعہ کرتے ہوئے حکیم الامت علامہ اقبال ؒ کہہ اٹھے ۔

    بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
    مسلمان نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

    ان تمام حالات کے باوجود غبار راہ بن کر دربدر بھٹکنے والی علاقائی تنظیمیں 72 فرقوں میں بٹے ہوئے گروہ اور صوبائیت کے خول میں بند مسلمان جب تحریک پاکستان میں ایک قوم بن گئے تو پشاور سے راس کماری تک اور سیالکوٹ سے چاٹ گام تک ایک ہی نعرہ گونج رہا تھا۔

    لے کے رہیں پاکستان
    بٹ کے رہے گا ہندوستان
    پاکستان کا مطلب کیا
    لا الہ الا اللہ

    اور پھر صرف 7 سال کی قلیل مدت میں 27 رمضان المبارک جمعة الودع کے روز سعید اور مقدس ساعتوں میں ہم وہ خطہ ارضی پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جہاں سے میرے آقا رسالت مآب ﷺ کو ٹھنڈی ہوا آیاکرتی تھی۔ پاکستان مسلمانوں کے اتحاد کا مظہر ہے یہ اس بات کی علامت ہے کہ تعلیمی میدان میں پسماندہ اور معاشی اعتبار سے پست اور تعداد میں کم ہونے کے باوجود اگر مسلمان وحدت ملی کے سانچے میں ڈھل جائیں تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کو شکست دے سکتے ہیں۔ آج اتحاد و انتشار کی یہ دونوں تصویریں ہمارے سامنے ہیں انکی روشنی میں ہم اپنا مستقبل سنوارنے کی بہترین منصوبہ بندی کر سکتے ہیں کل حصول پاکستان کی جدوجہد تھی اور آج تعمیر پاکستان کا دور ہے۔

    آزادی کا حصول یقینا بہت مشکل کام تھا لیکن اس آزادی کے برقرا رکھنے کےلئے بھی بڑی قربانیاں دینا پڑتی ہیں ۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب قومی سوچ کے دھارے میں شامل ہوجائیں تا کہ پاکستان کو دنیا کی عظیم مملکتوں کی صف میں شامل کیا جا سکے۔آج ہمیں یہ بات بھی ذہن نشین رکھنا ہو گی کہ پاکستان اپنے لئے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کےلئے بنایا گیا تھا یہی سبب ہے کہ بنانے والوں نے حصول و استحکام پاکستان کےلئے جان و مال کی بڑی سے بڑی قربانی دے کر دشمن کی ہر چال کو ناکام بنا دیا ۔پچھلی نسل نے تو دشمن کی ہر چال کو ناکام بنا دیا مگر اب یہ نئی نسل کا کام ہے وہ بھی ہوش مندی سے کام لے سب کو ایک نظر سے دیکھے اور سب ایک دوسرے کے حقوق کا پاس کریں۔ پیش نظر ہمیشہ یہ حقیقت رہنی چاہےے کہ اگر برصغیر کے مسلمان مل کر پاکستان بنا سکتے ہیں تو انکی اولادیں اسی پاکستان کو باہمی محبت و یگانگت سے کام لے کر بام عروج تک کیوں نہیں پہنچا سکتیں؟

    پاکستان کسی سندھی ،پنجابی،بلوچی ، پٹھان اور کشمیری نے نہیں بنایا بلکہ یہ تو برصغیر کے دس کروڑ مسلمانوں کی مشترکہ جدوجہد کا حاصل ہے۔دن کی روشنی میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کواپنے رب کی طرف سے فکر پاکستان عطا ہوئی(خطبہ الہ آباد 1930)۔ یہ اصول ہے کہ ہمیشہ عظیم کام عظیم مواقع پر ہی وجود پذیر ہوتے ہیں ۔دین اسلام کی سر بلندی کےلئے اسلام کے قلعہ پاکستان کے قیام کےلئے اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺ کے امتیوں کا ہی مہینہ منتخب فر مایا۔قرآن پاک کی عظمت کا بول بالا کرنے کےلئے، نظام قرآن کے نفاذ کےلئے نزول قرآن کی رات کا انتخاب کیا گیا اور پھر غلبہ دین حق کےلئے جمعة المبارک کا دن ” سبحان تیری قدرت“ دنیا کے نقشے پر عظیم مملکت پاکستان وجود میں آیا۔ رنگ و نور میں نہائی لیلة القدر کی پاکیزہ صبح طلوع ہوئی اور وجود پاکستان کا پہلا دن شروع ہوا ۔

    یہ بھی رمضان کا مہینہ ہے اور وہ بھی رمضان کا مہینہ تھا ۔ ایسی ہی نورانی سحری و افطاریاں تھیں لیکن 1947 کے رمضان کی ترنگ و امنگ ہی کچھ اور تھی ۔جشن پاکستان اس وقت بھی منایا جا رہا تھا آزادی کے گیت اس وقت بھی گائے جا رہے تھے لیکن آج کی طرح نہیں۔ بہنوں بیٹیوں اور ماﺅں کے سروں سے دوپٹے تب بھی کھینچے جا رہے تھے ،دہشت گردی اس وقت بھی ہو رہی تھی فرق صرف یہ تھا کہ تب یہ مذموم کام پاکستان اور اسلام کے دشمن کر رہے تھے لیکن اب مقام افسوس ہے کہ جشن آزادی کے نام پر یہی کام پاکستانی مسلمان کر رہے ہیں۔ تحزیب کاری اور دہشت گردی کے واقعات میں معصوم بچوں کو نیزوں کی انی پر چڑھایا جا رہا تھا لیکن تب یہ کا م اسلام کے دشمن کر رہے تھے آج ایسے واقعات میں اپنے ہی ملوث ہیں۔اس تب اور اب میں مقصد پاکستان کہیں کھو گیا،پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کا نعرہ منوں مٹی تلے دب گیا، 27 رمضان گم ہو گیا،صرف 14 اگست رہ گیا۔اسلام کے نام پر قائم ہونےوالے اس ملک کی سرحدوں کو اسلام کےخلاف استعمال کیا جانے لگا۔ملک عزیز پاکستان کو آج اپنے وجود کے سبب سے خطرناک بحرانوں کا سامنا ہے۔غداران وطن کی ایک کھیپ نے اسے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے اگرچہ پاکستان آج بھی قائم ہے ان شاءاللہ کل بھی قائم رہے گا اور بفضل تعالیٰ قیامت تک قائم رہے گالیکن یہ قیام اپنے وجود کی کیا قیمت ادا کر رہا ہے یہ سب جانتے ہیں۔

    ایک ادنیٰ پاکستانی کی حیثیت سے مجھے نئی نسل پر پورا اعتماد ہے کہ آپس میں اختلاف رائے اور ہنگامہ آرائی وقتی چیزیں ہیں ساری قوم مل بیٹھ کر مسائل حل کر لے گی۔جس دن ساری قوم نے اس موجودہ فرسودہ سیاسی نظام کو خیر باد کہہ دیا جسے مفاد پرست سیاست دانوں نے جمہوریت کا خوبصورت نام دے رکھا ہے۔ 2 فیصد طبقے کو مراعات دینے اور نوازنے کےلئے پچھلے 65 سال سے قانون سازیاں کی جا رہی ہیں۔ انشاللہ جس دن پاکستانیوں کی حقیقی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آنا شروع ہو جائیں گی اور قوم ایک نقطہ پر جمع ہو جائےگی اور وہ نقطہ ہو گا حقیقی تبدیلی ،حقیقی جمہوریت اور حقیقی قیادت۔پاکستان کا مستقبل بہت روشن ہے اور نوجوان نسل اسے دنیا کی عظیم مملکتوں کی صف میں ضرور بہ ضرور کھڑا کرنے میں کامیاب ہو گی۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ سارے پاکستانی بالخصوص نوجوان اپنے بزرگوں کی بے لو ث خدمات اور قربانیوں کو یاد رکھیں اور کبھی یہ نہ بھولیں کہ پاکستان لاکھوں شہیدوں کی امانت ہے جو اب انکے سپرد کر دی گئی ہے ۔رمضان المبارک کی ان طاق راتوں میں دعا ہے کہ سب کو پاکستان کی بہاریںمبارک ہوں۔ خدا کرے سب لوگ پاکستان کے افق پر آفتاب و ماہتاب بن کر جگمگائیں لیکن یہ کبھی نہ بھولیں کہ یہ ملک آگ اور خون کا سمندر عبور کرنے کے بعد ملا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ ….

    ہم نے لاکھوں جان گنوا کر پاکستان بنایا ہے
    گھر کے سارے دیپ بجھا کر اسکا دیپ جلایا ہے
    پاکستان کا قیام تو یقینا معجزہ تھا لیکن اسکا مستحکم رہنا اور دشمنوں کے وار سے محفوظ رہنا بھی معجزہ ہو گا بس ہمیں اس شعر کی مجسم تصویر بننا ہے….
    ہم نے گلشن کو یوں بچانا ہے
    برق پر آشیاں بنانا ہے
    (مضمون جناب عبدالحفیظ چودھری نوائے وقت)

  113. محمداحمد ترازی نے کہا ہے:
    August 14, 2012 بوقت 10:21 am

    قیام پاکستان کی اساس

    (محمد آصف بھلی نوائے وقت )

    آج 14 اگست ہے۔ قیام پاکستان کا مبارک دن۔ آج کے دن ہمارے لیے بالخصوص نوجوان نسل کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ قیام پاکستان کی اساس کیا تھی۔ جہالت کے وہ پُتلے جنہوں نے بظاہر دانشوری کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے ہمیں یہ بتاتے ہےں کہ پاکستان کی بنیاد اسلام نہیں تھا اور یہ کہ قائداعظم پاکستان کو ایک سیکولر سٹیٹ بنانا چاہتے تھے۔ بیوقوف سے بیوقوف اور احمق سے احمق انسان بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ اگر انڈیا میں اُمت محمدیہ، ملتِ اسلامیہ اور جماعت مومنین کا دو قومی نظریہ کی بنیاد پر اپنا ایک الگ تشخص اور وجود ہی نہ ہوتا تو قیام پاکستان کا مطالبہ جنم ہی نہیں لے سکتا تھا۔ دو قومی نظریہ ایمان اور کفر کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا یہ نظریہ وطن، رنگ، نسل، زبان حتیٰ کہ رشتہ داری اور قرابت داری کی بھی نفی کر دیتا ہے کیوں کہ ملت اسلامیہ میں وجہ اشتراک صرف اور صرف دین ہے۔ دین خدا کی طرف سے ملتا ہے لیکن اُمت کی تشکیل اس رسول کی مرہون منت ہے جو اُس دین کو لوگوں تک پہنچاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام کے پیروکار ملت محمدیہ یا قوم رسول ہاشمی کہلاتے ہیں۔ اگر قومیت کی اساس وطن یا نسل کو ٹھہرایا جائے تو پھر رسول کریم سے نسبت ختم ہو جاتی ہے اور جب رسول پاک سے تعلق ختم ہو جائے تو پھر اسلام سے رشتہ بھی باقی نہیں رہتا۔ پاکستان یقیناً قوم رسول ہاشمی کی بنیاد پر قائم ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان نسبتِ مصطفی کے باعث معرض وجود میں آیا ہے۔ جس وطن کی بنیاد محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہو کیا وہ سیکولر سٹیٹ بننے کے لیے قائم ہوا تھا۔
    قائداعظم نے مارچ 1940ءمیں مسلم لیگ کے لاہور میں تاریخی اجلاس کے موقع پر اپنے خطبہ صدارت میں فرمایا تھا کہ ”ہمارے ہندو دوست اسلام اور ہندومت کی حقیقت اور اہمیت سمجھنے سے کیوں گریزاں ہیں۔ یہ دونوں مذہب نہیں بلکہ ایک دوسرے سے مختلف معاشرتی نظام ہیں۔ ہندو اور مسلمان مذہب کے ہر معاملہ میں دو جداگانہ فلسفے رکھتے ہیں۔ دونوں کی معاشرت اور تہذیبیں ایک دوسرے سے الگ ہیں جن کی بنیادیں متضاد تصورات پر ہیں۔ دو ایسی قوموں کو ایک نظامِ مملکت میں یکجا کر دینا باہمی مناقشت کو بڑھائے گا اور بالآخر اس نظام کو پاش پاش کر دے گا جو اس ملک کی حکومت کے لیے وضع کیا گیا ہو گا۔“
    قائداعظم دو قومی نظریے کی حقیقت کو منوا کر ہی پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ قائداعظم کی 11 اگست 1947ءکی جس تقریر کا بار بار حوالہ دے کر یہ مغالطہ پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ قائداعظم کے پیش نظر پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانا نہیں بلکہ وہ سیکولر سٹیٹ کے حامی تھے۔ اگر قائداعظم کی 11 اگست 1947ءکے اس تقریر کو بغور پڑھا جائے تو ان کا مطمع نظر صرف اقلیتوں کو یہ یقین دلانا تھا کہ انہیں بلاتفریق مذہب پاکستان کا شہری تصور کیا جائے گا اور پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق مساوی ہوں گے۔ اگر قائداعظم کے ان خیالات کے باعث انہیں سیکولر سٹیٹ کا علمبردار سمجھ لیا جائے تو یہ سراسر نادانی ہو گی۔ قائداعظم نے اقلیتوں کے ساتھ رواداری کا جو فلسفہ پیش کیا تھا۔ یہ فلسفہ انہوں نے حضور نبی کریم کی زندگی سے سیکھا تھا۔ چنانچہ 11 اگست کے صرف 3 دن کے بعد 14 اگست 1947ءکو مجلس آئین ساز کے افتتاحی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا تھا کہ ”شہنشاہ اکبر نے غیر مسلموں کے ساتھ جس مذہبی رواداری اور حسن سلوک کا ثبوت دیا تھا وہ ہمارے ہاں کوئی بعد کا وضع کردہ مسلک نہیں تھا وہ مسلک ہمارے ہاں تیرہ سو سال پہلے سے چلا آ رہا تھا، جب حضور نبی اکرم نے یہودیوں اور عیسائیوں پر فتح حاصل کر لینے کے بعد ان سے زبانی نہیں بلکہ عملاً انتہائی رواداری برتی اور اُن کے مذہب و عقائد کو عزت و احترام کی نظروں سے دیکھا۔ مسلمانوں کی تمام تاریخ اس کی گواہ ہے کہ انہوں نے جہاں جہاں بھی حکومت کی غیر مسلموں کے ساتھ انہوں نے رواداری اور حسن سلوک کے ایسے ہی انسانیت نواز اصولوں پر عمل کیا۔“ قائداعظم نے 30 اکتوبر 1947ءکو لاہور میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”میرا یہ پیغام جس جس شخص تک پہنچے وہ اپنے آپ سے یہ پختہ عہد کرے کہ وہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے اور اندرونی اور بیرونی امن کی حامل عظیم مملکت بنانے کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گا۔ پاکستان اور اسلام کی عزت بچانے کے لیے ہمیں موت کا بہادری سے مقابلہ کرنا چاہیے۔ مسلمان کے لیے اس سے بہتر اور کوئی راہِ نجات نہیں ہو سکتی کہ وہ ایک نیک مقصد کے لیے جان دے کر شہادت کے بلند رُتبہ پر فائز ہو جائے۔“ میں ایک تو پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کی بات کی ہے اور دوسری بات یہ کہ پاکستان اور اسلام کی عزت کی خاطر ہمیں شہید ہونے سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر اس کے بعد بھی کسی شخص یا گروہ کو یہ اصرار ہے کہ قائداعظم پاکستان کو اسلامی ریاست نہیں بنانا چاہتے تھے یا قیام پاکستان کی بنیاد اسلام نہیں ہے تو اسے پھر ان کے ذہن کا دیوالیہ پن ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

  114. محمداحمد ترازی نے کہا ہے:
    August 14, 2012 بوقت 10:24 am

    آزاد وطن تیرے صدقے

    (مطلوب احمد وڑرائچ ،نوائے وقت )

    میں نے اپنی زندگی کا طویل حصہ دیارِ غیر میں گزارا۔ یورپی ممالک میں آج بھی مجھے کاروباری سلسلے میں جانا پڑتاہے۔ امریکہ،برطانیہ، کینیڈا میں کئی کئی ماہ گزارنے کا موقع ملا۔ اگر میں یہ کہوں کہ آدھی دنیا دیکھ چکا ہوں تو اس میں مبالغہ آرائی نہیں ہوگی۔ میں ایک کاروباری شخص اور سیاستدان ہونے کے ساتھ تاریخ کا طالب علم بھی ہوں۔ دوسرے ممالک جا کر ان کی تہذیب و تمدن، سیاست، ترقی و خوشحالی کا جائزہ لیتا رہتا ہوں۔ بعض ممالک ترقی یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ خوبصورت بھی ہیں۔ ایسے بھی ہیں جن کو قدرت نے حسن سے نہیں نوازا لیکن اپنی کوشش اور کاوش کے ذریعے خود کو حسین بنا لیا۔ میں نے جتنے بھی قدرتی یا مصنوعی طور پر خوبصورت بنائے گئے ممالک دیکھے ان میں قدرتی حسن کے حوالے سے ایک بھی پاکستان کا نادرالوجودنہیں ہے۔ پاکستان وہ ہیراہے جس کو کبھی تراشنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ یہ مٹی میں رولا گیا موتی ہے۔ اس کی تراش خراش کر دی جائے اور اس کا وجود مکمل کر دیا جائے تو پاکستان کی سیاحتی صنعت اتنی ترقی کرے کہ ہمارے تمام معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کا وجود کشمیر کے بغیر نامکمل ہے۔ کشمیر کو دنیا میں جنت نظیر کہا جاتا ہے۔ دنیا میں کہیں ہمالیہ نہیں ہے۔ ہمیں احساس اور قدر ہی نہیں ہے۔ پاکستان دریاﺅں، نہروں، جھیلوں، چشموں اور آبشاروں کی سرزمین ہے۔ یہ وہ حسن ہے جو ہماری کھلی آنکھیں دیکھتی ہیں۔ زمین کے اندر چھپے معدنیات، ہیرے و جواہرات ،سونا چاندی، سنگ سرخ اور سنگ سبز کے خزانے عیاں ہونے کو بے قرار ہیں۔ ہم سے تو پوری طرح تیل اور گیس ہی نہیں نکل پائی۔ پوری دنیا میں پاکستان میں موجود برف پوش وادیاں، سرسبز پہاڑ کم کم ہی ہیں۔ ہم اپنے وسائل سے استفادہ کریں تو غیروں کی محتاجی پاﺅں کی دھول بن سکتی ہے۔
    آج اگر ہم بحرانوں کا شکار ہیں تو اس میں عظیم تر ریاست کا قصور نہیں اس کو چلانے والوں کی پالیسیاں ہیں جو قومی و ملکی مفادات کو مدنظر رکھ کر تشکیل دینے کے بجائے بوجوہ دیگر عوامل کے پیش نظر بنائی جاتی ہیں۔ میں پاکستان کے حال سے ڈسٹرب ضرور ہوں لیکن اس کے مستقبل سے کبھی مایوس نہیں ہوا۔ میں آج مہنگائی، بیروزگاری، لوڈشیڈنگ،لاقانونیت اور بہت سے دوسرے بحرانوں سے دوچار مایوس پاکستانیوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ دوسرے ممالک میں جانے والے پاکستانیوں کو وہاں بڑی سہولتیں ملتی ہیں۔وہاں قانون اور مساوات کا دور دورہ ہے۔ ٹھنڈی ہوائیں ہیں۔ بڑی خوبصورتی ہے۔ زندگی ایک قاعدے اور ضابطے کے تحت رواں دواں ہے۔ بعض پاکستانیوں کو وہاں کی شہریت بھی میسر ہے لیکن جو آزادی اپنے وطن میں ہے وہ کہیں نہیں۔ معمولی جرم پر وہ کان سے پکڑکر ڈی پورٹ کر دیتے ہیں۔ خواہ اس کی دہری شہریت ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کو پاکستان سے کوئی نہیں نکال سکتا۔ آپ کی شہریت کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ ایسی آزادی اور خوبصورتی کیا آپ کو کسی دوسرے ملک نصیب ہو سکتی ہے۔یہ میرے آزاد اور پیارے پاکستان کی بدولت ہے۔
    ہمیں آزادی کی نعمت نہ ملتی تو ہم کہاں ہوئے اور کیسے ہوئے؟ اس کا اندازہ بھارت میں مقیم اہل ایمان کی حالتِ زار دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ سیکولر انڈیا محض نام کا سیکولر ہے۔اصل میں وہاں ہندو انتہا پسندی کا عروج ہے۔پاکستان میں گھروں میں انڈین گانے چلتے ہیں۔ دکانوں، ہوٹلوں، حتی کہ ریڑھی والے بھی انڈین گانے اور ناچ سنتے اور دیکھتے ہیں۔ بھارتی اداکاروں کی تصویریں ہر سو لگی نظر آتی ہیں۔ بھارت میں ایسا کوئی مسلمان نہیں کر سکتا ۔اپنی دکان، ہوٹل، ریسٹورنٹ یا کاروبار کی جگہ پر پاکستانی گانے چلا سکتا ہے نہ پاکستانی کھلاڑیوں اور فنکاروں کی تصاویر آویزاں کر سکتا ہے۔جس نے ایسا کیا اس کا کاروبار ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔پاکستان سیکولر نہیں اسلامی جمہوری ریاست ہے۔لیکن اس میں اقلیتوں کو بالکل اسی طرح کے حقوق حاصل ہیں جس کا اظہار قائداعظم محمد علی جناح نے کیا تھا۔ آج پاکستان کو عظیم تر بنانے کے لیے قائداعظم جیسے لیڈر کی ضرورت ہے۔ قائداعظم ثانی جب بھی پاکستان کو مل گیاایٹمی پاکستان دنیا کے نقشے پر دمکتے ہوئے ستارے کی مانندچمکے گا۔

  115. محمداحمد ترازی نے کہا ہے:
    August 14, 2012 بوقت 10:30 am

    نظریہ پاکستان آج بھی زندہ و جاوید!

    کالم نگار | احمد جمال نظامی

    نظریہ پاکستان کے مخالف آج بھی احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں اور کل بھی رہتے تھے۔ نظریہ پاکستان معرض وجود میں آیا تو پاکستان قائم ہو سکا اور آج پاکستان قائم بھی اسی نظریہ پر ہے۔ آپ اپنے دل و دماغ کے دامن کو جھنجھوڑ کر دیکھ لیں۔باتیں حقیقی ہوتی ہیں یا غیرحقیقی! نظریہ ہر جگہ نظریات کی صورت میں موجود ہوتا ہے۔ لادینیت بھی ایک نظریہ ہے لیکن اس میں بھی نظریات کو بندش قرار دے کر اس کی مخالفت کی جاتی ہے مگر لادینیت بھی کسی نہ کسی نظریہ کی بنیاد پر اپنا بے معنی سا وجود قائم کرنے کی کوششیں کرتا ہے۔ جیسے لادینیت کا نظریہ نظریاتی یعنی اسلامی مملکت کی مخالفت ہے۔ حقیقی اور غیرحقیقی کی طرح نظریات بھی حقیقی یا غیرحقیقی ہوتے ہیں۔ گویا کہ ہر انسان چاہے وہ ملک کا سربراہ ہو، کسی ادارے کا سربراہ ہو یا کوئی ادنیٰ سا ملازم وہ کسی نہ کسی حقیقت کے زیراثر ہوتا ہے مگر اپنے آپ کو عقل کا درجہ دے کر بہت سارے لوگ ان دنوں فیشن کے طور پر بہت ساری ایسی باتیں، بنیادی نکات اور نظریات کی مخالفت کر جاتے ہیں کہ عقل ان کے شعور کی Direction پر دنگ رہ جاتی ہے یہ ایسے ہی ہوتا ہے کہ کوا چلے ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول جائے، جیسے چاندنی رات کو چکور چاند پر جانے یعنی چاند تک پہنچنے کی خواہش میں دیواروں سے سر ٹکرا ٹکرا کر اپنی ز ندگی کا خاتمہ کر لیتا ہے اور جیسے چاندنی راتوں کو مور اپنی خوبصورتی پر چاند کی روشنی میں پھیلا کر بھرپور مسرت کا اظہار کرتا ہے لیکن جب اس کی نظر اپنے بدنصیب پیروں تک پہنچتی ہے تو وہ روتا ہے، چیختا ہے اور چلاتا ہے اس دوران اس کی آنکھوں سے آنسو بھی نکلتے ہیں۔ مور کو تو پھر اللہ تعالیٰ نے یہ عنایت بخشی ہے کہ وہ اپنے پیروں سے اپنی اصل حقیقت پہچان لیتا ہے مگر چکور اور کوے کا کیا کریں۔ آج کل ہمارے معاشرے میں اپنی پاک سرزمین پاکستان کے معرض وجود میں آنے والے نظریہ یعنی نظریہ پاکستان کے خلاف بطور فیشن اظہار کیا جانے لگا ہے بڑے برے لوگ اپنے آپ کو بڑا دانشور اور عقلمند ثابت کرنے کے لئے نظریہ پاکستان کی مخالفت میں بغیر کسی ہچکچاہٹ اور شرم کے بات کرتے ہیں۔ گزشتہ روز ایک مقامی نیوز چینل میں پروگرام کے میزبان جو کہ مخصوص طبقہ کی دقیانوسی سوچ کے مالک ہیں انہوں نے کھلم کھلا کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ پاکستان کو وجود میں کیوں لایا گیا اس کا مقصد کیا تھا کہ پاکستان سے زیادہ بھارت میں مسلمان موجود ہیں۔ یہ نظریہ پاکستان کیا تھا فرانسیسی مفکر Autoine Destull نے نظریہ کی تعریف یوں کی ہے۔
    “I Deology is the study of the origin, evolution and nathre of idecs” نظریہ قوموں کے لئے روح رواں اور قوت متحرکہ کا کام دیتا ہے۔ یہی روح رواں اور قوت متحرکہ نظریہ پاکستان کی بنیاد بنی۔ نظریہ پاکستان دو قومی نظریہ پر ماخوذ ہے وہ لوگ جو یہ کہہ کر قوم کو گمراہ کرتے ہیں کہ پاکستان کا قیام عمل میں لانے کی کیا ضرورت تھی۔ پاکستان سے زیادہ مسلمان بھارت میں رہائش پذیر ہیں اس منفی پراپیگنڈہ کا پرچار کرنے والوں کے لئے یہ جان لینا ضروری ہے کہ سرسید احمد خان کو ہی حضرت علامہ اقبالؒ کے ساتھ دو قومی نظریہ کا بانی کہا جاتا ہے۔یکم اکتوبر 1906ءکو جب سرآغا خان کی سربراہی میں 35ارکان پر مشتمل سرعبدالرحیم نے شملہ وفد کا تصور دے کر اس کو تشکیل دیا تو اس کا مقصد مسلمانوں کی معاشی پسماندگی، معاشی مراعات اور ملازمتوں کے حصول کی مشکلات کو دور کرنا تھا۔ یہ وفد اس لئے تشکیل دیا گیا کہ انگریز 1857ء میں بہادر شاہ ظفر کی مسلمان حکومت کا تختہ الٹ کر آئے تھے اور ہمیشہ مسلمانوں کو اپنا دشمن تصور کرتے تھے جس کا ہندو ہر حال میں فائدہ اٹھا کر مسلمانوںکو انتہائی پسماندہ کر چکے تھے۔

    سرسید احمد خان نے اردو مخالف تحریک کا بھرپور مقابلہ کیا اور اردو ڈیفنس ایسوسی ایشن قائم کی۔ یکم اکتوبر 1906ءکو جب سرآغا خان کی سربراہی میں 35ارکان پر مشتمل سرعبدالرحیم نے شملہ وفد کا تصور دے کر اس کو تشکیل دیا تو اس کا مقصد مسلمانوں کی معاشی پسماندگی، معاشی مراعات اور ملازمتوں کے حصول کی مشکلات کو دور کرنا تھا۔ یہ وفد اس لئے تشکیل دیا گیا کہ انگریز 1857ءمیں بہادر شاہ ظفر کی مسلمان حکومت کا تختہ الٹ کر آئے تھے اور ہمیشہ مسلمانوں کو اپنا دشمن تصور کرتے تھے جس کا ہندو ہر حال میں فائدہ اٹھا کر مسلمانوںکو انتہائی پسماندہ کر چکے تھے۔ اس وفد کے انگریز وائسرائے لارڈمنٹو سے شملہ کے مقام پر مطالبات میں جداگانہ طریقہ انتخابات، ملازمتوں میں حصول علی گڑھ یونیورسٹی کا قیام، عدلیہ میں مسلمانوں کا حصہ میونسپل کمیٹیوں میں نمائندگی اور صوبائی مقننہ میں مسلم نمائندگی شامل تھے۔ اس وفد کی تشکیل اور مطالبات ہندو¶ں کی مسلمانوں کے خلاف مکاری اور مظالم کی روشن دلیل تھی تاہم جب مسلمانوں کے یہ مطالبات 1909ءکی اصلاحات میں تشکیل پائے تو ہندو¶ں اور کانگریس نے اس کی بھرپور مخالفت کی۔ برصغیر پر انگریزوں کے اقتدار کے بعد 1858ءاور 1861ءاصلاحات وغیرہ کی وجہ سے ہندو¶ں نے اپنے آپ کو منظم کرنا شروع کر دیا جبکہ انگریزوں اور ہندو¶ں کی مسلم دشمنی سے مسلمانوں کی حالت انتہائی خراب ہو گئی اور برصغیر میں مسلم دشمنی کے اقدامات عام ہو گئے لہٰذا 29 اور 30 دسمبر 1906ءکو محمڈن ایجوکیشن کانفرنس کے اجلاس منعقدہ ڈھاکہ میں نواب سلیم اللہ آف ڈھاکہ نے علیحدہ منظم جماعت کا تصور دیا اور سرشفیع محمد کی تجویز پر آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مسلم لیگ جس کے ابتدائی ارکان کی تعداد 400 تھی اس کے قیام کا مقصد کانگرس کا دوغلہ طرزسیاست اردو ہندی تنازعہ، تقسیم بنگال کے خلاف تحریک سرسید احمد خان کی دو قومی نظریہ کی نصیحت، شملہ وفد کی کامیابی اور مسلمانوں میں علیحدہ مسلم ترجمان جماعت کی خواہش مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقہ کا ابھرتا شعور، علیحدہ سیاسی پلیٹ فارم اور مسلمانوں کے سیاسی و معاشی مسائل کا حل وغیرہ تھا۔ ویسے تو مسلم لیگ کا قیام ہی نظریہ پاکستان کی روشن اور ٹھوس دلیل ہے کہ جس کے بطن میں مسلمانوں کی طویل داستان رقم ہے مگر 1913ءمیں جب بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی تو اس کے مقاصد میں تبدیلی قیام پاکستان کی وجوہات ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ 1913ءمیں کانپور کا سانحہ، انتہا پسند ہندو¶ں کی سرگرمیاں اور 1911ءمیں تنسیخ بنگال وغیرہ ہندو¶ں کی مسلمانوں کے خلاف انگریز کے ساتھ مشترکہ سازشیں نہیں تھیں تو اور کیا تھا۔ 1909ءمیں انگریز سامراج نے جو منٹو مارلے اصلاحات نافذ کیں جس میں مسلمانوں کے شملہ وفد کے مطالبات کو بھی کسی حد تک تسلیم کیا گیا اس کی بھرپور مخالفت کرنا اور برصغیر میں ہندو¶ں کی طرف سے سیاسی انتشار پیدا کرنا بھی ہندو¶ں کی ایک مسلمانوں کے خلاف سازش کا خطرناک جال تھا۔ نومبر 1916ءمیں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی کوششوں کے مسلم لیگ کے وجود کو تسلیم کروا کر قیصر باغ بارہ دری لکھنو میں میثاق لکھنو طے کروایا تھا۔ 1914ءسے 1916ءتک کئی ہندو مسلم کانفرنس میں 40 مسلمان اور 60ہندو شریک ہوتے رہے کہ دونوں قوموں کے درمیان متنازعہ امور کو طے کیا جائے مگر ہندو¶ں نے میثاق لکھنو کے ذریعے بھی مسلمانوں کو دھوکہ دے کر تباہ و برباد اور معاشی، مذہبی، سماجی اور سیاسی لحاظ سے پسماندہ کرنے کی گھٹیا کوششیں کی۔

  116. محمداحمد ترازی نے کہا ہے:
    August 14, 2012 بوقت 10:33 am

    نظریہ پاکستان اور ابن الوقت سیاستدان
    (چوہدری ایم اے رشید)

    دنیا بھر کے مسلمان خصوصاً پاکستانی قوم 14 اگست کو اپنا 65واں یوم آزادی منا رہی ہے، پوری قوم اپنی آزادی کی مسرتوں اور شادمانیوں سے سرشار ہے۔ آزادی کی قدروقیمت کا اندازہ وہی قومیں کرسکتی ہیں جن کے بیٹے بیٹیوں نے نخل آزادی کی خون جگر سے آبیاری کی ہو۔ اسلامیان برصغیر نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی عہد آفرین قیادت میں مسلم لیگ کے سبز ہلالی پرچم کے زیرسایہ جب یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ ہندو رام راج اور برطانوی سامراج کی دوہری غلامی سے نجات حاصل کرنے کے بعد چانکیائی سیاست کے پیروکار ہندو قوم کی غلامی قبول کرنے کو تیار نہیں کیونکہ مسلمان کسی بھی قوم کی تعریف کی رو سے ایک علیحدہ قوم ہیں اور انہیں اپنی تہذیب و ثقافت، اپنی روایات، اپنے عقائد اور اپنی اقدار و شعائر کے مطابق زندگیاں بسر کرنے کے لئے ایک الگ وطن چاہئے تو یہ ایک تاریخ ساز فیصلہ تھا۔
    اسے قوم کی بدنصیبی ہی کہنا چاہئے کہ قائداعظمؒ کی زندگی نے وفا نہ کی اور نوزائیدہ پاکستانی قوم اپنے فرزانہ یکتا کی تاریخ ساز قیادت سے محروم ہوگئی۔ بابائے قوم کی وفات نے ایک ایسا خلاءپیدا کردیا جو آج تک پر نہ ہوسکا۔ قومی سطح پر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہوا۔ خودغرضی اور مفادپرستی، مصلحت کشی کے تاریک سائے گہرے ہوتے چلے گئے۔ سیاسی سطح پر انتشار و افراتفری کی مکدر فضاءمیں سول اور خاکی بیوروکریسی کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملا اور اس نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ اس طرح ہماری تاریخ کا نصف حصہ فوجی اور سیاسی آمریت کی نذر ہو کر رہ گیا۔ آج 65 سال کے بعد ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں 1947ءمیں تھے۔ بعض اوقات یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے وابستگان سیاست کو جمہوری نظام راس نہیں، اقتصادی اور معاشی طور پر دوسروں کے دست نگر ہیں۔ وہ خطہ جو پورے برصغیر کا اناج گھر تھا، اب ایک چھوٹے سے ٹکڑے کی کفالت سے معذور ہے۔ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ ہم نے وہ رہنما اصول نظرانداز کر دیئے ہیں جو ہمارا نصب العین تھے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں جو سیاسی جمہوری اقدار کی علمبردار بنتی ہیں۔ وہ بھی جمہوریت و سیاست کے بخیئے ادھیڑنے میں پوری طرح سرگرم ہیں۔
    آزادی کا سورج طلوع ہونے سے پہلے ایک برطانوی مصنف ہرلیونیلسن نے قائداعظمؒ سے پوچھا تھا کہ آپ کے مخالف کہتے ہیں کہ پاکستان اقتصادی لحاظ سے اپنے پاﺅں پر کھڑا نہ ہوسکے گا پھر آپ کی قوم پاکستان کیوں چاہتی ہے؟ قائداعظمؒ نے جواب دیا:
    فرمایا کہ محترم بھائی! تم میرے ایک سوال کا پہلے جواب دو۔ کیا تم ایک ایسا انگلستان پسند کرو گے جو آزاد تو نہ ہو لیکن معاشی طور پر نہایت دولت مند ہو؟ ہرلیونیلسن نے جواب دیا کہ قائداعظم اس سوال کا جواب بالکل واضح ہے کہ کوئی قوم غلام بننا پسند نہیں کرتی۔تاریخ اسے اس کی مسیحائی کا اعجاز کہے گی، جس کی بصیرت نے 200 سال کی طویل جدوجہد کو 7 سال میں ایک منزل سے آشنا کیا….!
    دنیا کا نقشہ زیرو بم ہوا، ایک عظیم مملکت وجود میں آئی۔ وہ جو عظیم تھا فولاد سے بھی زیادہ مضبوط، پرعزم اور ہمالیہ سے بلند ارادوں کا مالک اپنا مشن مکمل کرکے چلا گیا۔ جانشین نالائق، خود غرض اور نااہل تھے، میراث پدر سنبھال نہ سکے۔ پہلے ملک دولخت کیا، اب خود لخت لخت ہیں۔
    ہم ہر دانے پر سندھی، بلوچی، پنجابی، پٹھان اور مہاجر ،اللہ جانے کیا کیا پڑھ کر پھونک رہے ہیں۔ ہم دن رات آمریت پر نفرین بھیجتے ہیں۔…. فرقہ واریت کو فروغ دیتے ہیں۔ نفرتوں کے بیچ بوتے اور لاشوں کی فصلیں کاٹتے ہیں۔
    پھر بھی ہم عظیم ہیں…. ہردلعزیز ہیں…. قوم کے رہنما ہیں…. کس قوم کے؟ قائداعظمؒ کی قوم کے جو مینار پاکستان کی بلندیوں پر کھڑا ہمیں دیکھ رہا ہے!!
    مینار پاکستان راوی کے اس پار اپنی ایڑھیاں اٹھا اٹھا کر پکار رہا ہے کہ پاکستان اس لئے حاصل کیا گیا تھا کہ یہاں اسلام کی عملداری اور نظریہ پاکستان کی حکمرانی ہوگی۔ یہاں پر اسلامی جمہوریت کو پروان چڑھایا جائے گا۔ اس کے پہاڑوں کے اندرچھپے ذخائر اور سونا اُگلنے والی زمین کی بدولت اس کی معیشت کو مضبوط بنایا جائے گا۔ آزاد خودمختار اقوام کی طرح غیروں کا دست نگر ہوئے بغیردنیا کی صف میں بلند مقام پر فائز کیا جائے گا۔ پاکستان اور نظریہ پاکستان کے باغبانوں کو امور سیاست اور حکومت میں شامل کیا جائے گا …. لیکن تم نے یہ سب کچھ یکسر نظرانداز کردیا …. یہ ایسے تلخ حقائق ہیں جو ہر مورخ کو معلوم ہیں!!

  117. اردو نے کہا ہے:
    August 14, 2012 بوقت 11:55 am

    ہماری جانب سے آپ کو جشن آزادی مبارک

    http://www.freeimagehosting.net/fhd8s

    افشاں – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
    https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu

جواب لکھیں




مضامین (آر ایس ایس) اور تبصرے (آر ایس ایس).
 عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل: رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں