2014 ,October 02

65 تبصرے برائے “مسعود قاضی کی شاعری۔ امین ترمزی کی نثر۔ منظور قاضی کی بلاگ نگرانی”

  1. shahnoor نے کہا ہے:
    June 18, 2009 بوقت 1:07 am

    اعو ز باللہ من الشیطان الرجیم
    بسماللہ الرحمن’ الرحیم
    اللہ حافظ
    ساہ نور قادری

  2. عبدالمناف نے کہا ہے:
    June 18, 2009 بوقت 1:15 am

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    اللہم صل علی محمد و آل محمد ۔ ۔ ۔

  3. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 18, 2009 بوقت 8:00 am

    میری تمام پرھنے والوں سے میں لفظ میری کو حذف کریجیے یا لفظ میں پڑھیے ۔شکریہ

  4. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    June 18, 2009 بوقت 2:50 pm

    انتظامیہ نے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا ھے کہ شاعری کے سابقہ تمام بلاگز بند کر دیئے جایئں تاکہ سب کی توجہ اچھی اور تواناشاعری کے لیئےصرف اسی بلاگ پر مرکوز رھے ۔ ھمیں امید ھے کہ یہ فیصلہ سب کو پسند آئے گا اور پنہاں آپا کی راہنمائی میں یہ قافلہ اپنی منزل کی طرف ھنسی خوشی رواں دواں رھے گا ۔ آپ کی توجہ اور تعاون کے لیئے ھم سب شکرگزار ھیں ۔

  5. Dr.Pinhaan نے کہا ہے:
    June 18, 2009 بوقت 3:29 pm

    جناب منظور قاضی صاحب
    ۔
    بسم اللہ کریں۔اس بلاگ کو اندھیری رات کے بعد ایک روشن صبح کے طور پہ دیکھیں یا میری طرف سے اک تحفہ سمجھیں ۔ جو بھی سمجھیں بس کچھ اچھا ھی سمجھیں ۔اچھا سوچیں ، اچھا بولیں ، اچھا اچھا لکھیں۔ اللہ نے جو آپ کو لکھنے کی اتنی اچھی صلاحیت دی ھے اس کے شکرانے کے طور پر اللہ کے بندوں کو خوشیاں بانٹیں۔غم دکھ درد مصیبتیں مسائل پہلے ھی کیا کم ھیں کہ ھم شعر وا دب کو بھی دکھ لینے اور دینے کا ذریعہ بنائے رکھیں ۔اندھیرے ویسے بھی امنڈتے ھی چلے آرے ھیں ۔ایسے میں خود بھی اندھیروں کے پیچھے بھاگنے سے کیا فائدہ۔ روشنی کی تلاش میں نکلیں ۔ روشنی کی ایک رمق بھی بہت اھم ھوتی ھے۔ اندھیروں سے بھی روشنی نچوڑنے کی کوشش کریں ،نہ کو روشنی کو بھی کرید کرید کر اندھیرا ھی ڈھونڈتے رھیں۔
    اس بلاگ کو خوشی خوشی اپنے پسندیدہ لوگوں کے ساتھ چلائیں ۔ اسی لئے میں نے اس میں مسعود قاضی اور امین ترمزی جیسے آپس کےدو مخلص دوستوں کی رفاقت سے دوستی اور خیرخواہی کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی ھے۔ آپ چاھیں تو اس میں اپنی پسند کے اور شاعروں ادیبوں کو بھی شریک کر سکتے ھیں ۔ آپ بادشاہ ھیں جو چاھیں کریں۔بس اپنے ملک کے لوگوں کے نازک احساسات و جذبات کا خیال رکھیں اور سب کو اپنا سمجھیں ۔ یہاں کوئی اقلیت نہیں ھے ۔کوئی اچھوت نہین ھے۔ یہ اخبار سیاست کا اکھاڑا نہیں ھے۔ یہاں کسی سے کسی کی جنگ نہیں ھے۔ یہ ادب برادری ھے۔ اخوت کا مظاہرہ کریں ۔ سب کو اپنا سمجھیں۔ سب کو ایک نظر سے دیکھیں۔ سب کو عزت دیں ، سب سے عزت لیں ۔ اور میں تو پہلے ھی آپ کی بہت عزت کرتی ھوں اور کرتی رھوں گی۔

    آپ بلاگ کی نگرانی کے ماھر ھیں ۔ اسلئے آپ اسے چلائیں ۔ ھنسی خوشی اپنے نئے کارواں کو لے کے نئے سفر پر گامزن ھو جائیں۔ روشن منزلوں کی طرف جہاں آپ سب کی خوشیاں ھوں۔
    ۔
    سب کی خیر خواہ ۔ ۔ ۔ پنہاںؔ

  6. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 18, 2009 بوقت 8:41 pm

    ہم اس بلاگ کی رہنما ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کی ہدایات کے منتظر ہیں ۔
    میں دوسروں کی بات نہیں کرتا مگر اس قافلہ کے ممبر کی حیثیت سے اس اقافلہ کو اپنی منزل کی طرف ہنسی خوشی رواں دواں ہونے میں ساتھ دے سکتا ہوں ۔
    جب تک ڈاکٹر پنہاں اپنی ہدایات نہیں دیتیں اس وقت تک اس بلاگ کے پڑھنے والے اپنے اپنے تبصرے اس بلاگ میں شامل نہ کریں تو بہتر ہے۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  7. Dr.Pinhaan نے کہا ہے:
    June 18, 2009 بوقت 11:17 pm

    جناب منظور قاضی صاحب

    مجھے بہت خوشی ھے کہ آپ بہتر منزلوں کی طرف نئے سفر کے لیئے ھنسی خوشی تیار ھیں۔بس اور کیا چاھئے۔
    میں نے یہ بلاگ آپ لوگوں کی خوشی کی خاطر مسعود قاضی کی شاعری اور امین ترمزی کی نثر کی اشاعت کے لئے کھولا ھے۔اگر آج رات تک ان حضرات نے اپنی کوئی تخلیق اس بلاگ کو ارسال نہیں کی تو اس کے عنوان میں تبدیلی کر لی جائے گی۔
    ھدایات مزید کچھ خاص نہیں سوائے ان باتوں کے جو مین نے اپنی اوپر کی تحریر میں وضاحت سے بیان کر دی ھیں۔ ان کا خیال رکھنا بھت ضروری ھے۔اور دوسری بھت اھم بات یہ کہ انتظامیہ کے حکم کے مطابق شاعری کے دوسرے تمام بلاگس بند کر دیئے جائیں۔ انتظامیہ کا ھر حکم ماننا بہت ضروری ھے ورنہ تنظیم کیسے برقرار رکھی جاسکے گی ۔اور تنظیم کے بغیر تو کچھ بھی ٹھیک سے نہیں چل سکتا۔
    اور کوئی خاص ھدایت فی الحال نہیں ھے۔ جیسے ھی ایسی کوئی ضرورت کبھی محسوس ھوئی میں آپ کی مدد کے لئے حاضر ھو جائوں گی۔
    تعاون کے لئے شکریہ
    پنہاںؔ

  8. Dr.Pinhaan نے کہا ہے:
    June 18, 2009 بوقت 11:46 pm

    دوستو، شاعرو ، ادیبو ، تبصرہ نگارو اور نئے لکھنے والو !
    ۔
    آپ سب سے گذارش ھے کہ اپنی تحریروں کے ساتھ اس بلاگ میں تشریف لےآئیے۔ ویسے تو یہ بلاگ آپ سب کے جانے مانے ایک شاعر اور ایک نثر نگار سے منسوب ضرور ھے مگر یہ ھے آپ سب کی نگارشات کے لئے بھی ۔ کیوں کہ شعر و ادب سے متعلق تمام صابقہ بلاگز انتظامیہ نے بند کر دئے ھیں۔ لھٰذا اب کسی اور بلاگ میں قطعی کچھ نہ لکھیئے۔ انتظامیہ کے ھر حکم کا احترام لازم ھے۔ تعاون کے لئے بہت شکریہ۔
    ۔
    محترم جناب منظور قاضی صاحب اس بلاگ کے نگراں ھیں۔ان کی ھدایت و رھنمائی کےساتھ اس ادبی قافلے میں شریکِ سفر ھوں اور ادب وشاعری کو ارتقاکی منزلوں کی طرف لے چلیں۔ تعاون کے لئے بہت بہت شکریہ۔

    پنہاںؔ

  9. Dr.Pinhaan نے کہا ہے:
    June 19, 2009 بوقت 2:38 am

    جناب منظور قاضی صاحب۔

    آپ کو اب اور کس بات کا انتظار ھے۔ اس بلاگ مین تشریف لائیے۔ اور اپنے دوستوں کو بھی بلائیے۔ اور انھیں یہ بھی بتائیے کہ شعر و ادب سے متعلق تمام سابقہ بلاگز کو انتظامیہ نے بند قرار دے دیا ھے۔ انتظامیہ کے احکام کا احترام تو کرنا ھی چاھئیے۔
    اس بلاگ کے نگراں آپ ھیں قاضی صاحب۔اب یہ سارے کام آپ کو کرنے ھیں مجھے نھیں۔

    پنہاںؔ

  10. Masood Quazi نے کہا ہے:
    June 19, 2009 بوقت 3:13 am

    سلام علیکم

    احباب کرم آپ کے حکم پر اپنا کلام پیش خدمت ھے،
    مجھے علم ھے کہ انتظامیہ میں دو بھت عمدہ شعرا ء نگہت نسیم صاحبہ اور صفدر ھمدانی صاحب موجود ھیں اسکے علاوہ جنابہ زرقا مفتی کہنہ مشق شاعرہ ھیں جو کہ انتظامیہ سے وابستہ ھیں
    آپ سب سمجھتے ہیں شاعر اپنے دل کی کیفیات بیان کرتا ھے اسکو کسی اور رخ سے نہیں دیکھنا چاھئے
    آزادئ تقریر کے آپ سب متمنی ھیں۔۔ خدارا آپ شعرا کو انکی اخلاقی حدود میں کلام کہنے دیجئے۔ ھم سب اپنے اصلی ناموں سے حاضر ہیں۔ ھمایں بھی اپنی عزت عزیز ھے۔ ھم آپکے د ئے ھوے اختیارات کو غلط استعمال کریں گے تو خود بدنام ھوں گے

    میری غزل حاضر ھے۔ یہ شاعری برائے شاعری ھے اسکو اسی طرح برداشت کریں تاکہ لکھنے والون کی حوصلہ افزائ ھے

    انکی محفل میں ھم جو ھو آئے
    ھم تو چین و سکون کھو ائے
    ھم بھی ھیں اعتبار کے قابل
    انکو یہ اعتبار تو ائے
    مے سے توبہ بھی عین ممکن ھے
    طیش ساقی ! نہ رند کو ائے
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جاری ھے
    شکریہ
    مسعود قا ضی ڈلس ٹکساس

  11. Uzma Mahmood نے کہا ہے:
    June 19, 2009 بوقت 3:33 am

    جناب نکہت نسیم صاحبہ آپ حضرات کی عنایت اور مہربانی کہ آپ نے یہ اعزاز بخشا ھم سب یہان صرفآپکی انتظامیہ کے مہمان کے طور سے مدعو ھیں جس کے لئے ممنون و مشکور ھیں
    کلام حاضر خدمت ھے
    د ل تو یہ چاہتا ھے ، کریں غم پہ گفتگو
    اصرار ھے ، کہ کیجئے موسم پہ گفتگو
    دنیا سے گفتگو میں ، وہ ھے آج کل مگن
    فرصت کہان اسے ؟ جو کرے ھم پہ گفتگو
    آنکھون مین اشک لیکے ، اکیلے کھڑے ھیں ھم
    احباب نے چلا ئ ھے، شبنم پہ گفتگو
    ذ خموں پہ اُُُ س کو ڈال ! کہ وہ مند مل تو ھوں
    بس کر طبیب ! خوبی ِ مر ھم پہ گفتگو
    عظمی’ کی الجھنون کے سلجھنے کا کام ہو
    بے سود ا سکے گیسو ئے برھم پہ گفتگو

    شکریہ عظمی’ محمود

  12. Uzma Mahmood نے کہا ہے:
    June 19, 2009 بوقت 3:38 am

    سلام علیکم
    میں نے ابھی مسعود قاضی صاحب تک آپ سبکا حکم پہنچا دیا انکے کہنے کے مطابق انھوں نے بھی اپنا کلام پیش کیا ہے
    انتظامیہ سے درخواست ہے کہ شعرا کو ضسب مرا تب توقیر عطا کریں اور انکے کلام کو شایع فرمائں
    سکریہ
    عظمی محمود

  13. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    June 19, 2009 بوقت 3:57 am

    بھئی بہت عمدہ ۔۔ عظمی جی یہ ھوئی نا بات اپنائت کی ۔۔ دیکھئے ھم عالمی اخبار کو پورے عالم کا اخبار سمجھتے ھیں ۔۔ سو آپ خود کو یہاں مہمان نہیں میزبان تصور کیجیئے ۔۔ اور اپنے دوست احباب کو بھی اپنی محفل میں بلایئے ۔۔ ھمارے عالمی خاندان کو پھلنا پھولنا چاھیئے ۔۔ اور ایسا تناآور درخت بننا چاھئے جہاں ھر خاص و عام خود کو زمانے کے سرد گرم سے محفوظ سمجھے ۔۔
    مسعود بھائی میں آپ سے سو فیصد متفق ھوں کہ ” اگر ھم اخبار کے د یئے ھوے اختیارات کو غلط استعمال کریں گے تو خود بدنام ھوں گے “۔۔ سلامت رھیں آپ نے تو ھماری مشکل ھی آسان کر دی ۔۔ آپ کا حسب حال شعر بہت اچھا لگا
    ھم بھی ھیں اعتبار کے قابل
    انکو یہ اعتبار تو ائے

  14. Dr.Pinhaan نے کہا ہے:
    June 19, 2009 بوقت 4:25 am

    مسعود قاضی صاحب کی نثر ان کی شاعری سے زیادہ پسند آئی۔
    پنہاںؔ

  15. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 19, 2009 بوقت 10:40 am

    میں ڈاکٹر پنہاں صاحبہ او ر ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کا اور عالمی اخبار کی انتظامیہ کا مشکور ہوں کہ مجھ کو اس بلاگ کا نگراں بنادیا ۔

    مجھے یہ محسوس کرکے بے حد خوشی ہورہی ہے کہ پنہاں صاحبہ نے یہ بلاگ صرف اور صرف مسعود قاضی کی شاعری اور امین ترمذی کی باتوں کی حد تک ہی محدود نہیں رکھا ا ور پنہاں صاحبہ نے یہ فرمایا :
    ” جناب منظور قاضی صاحب۔

    آپ کو اب اور کس بات کا انتظار ھے۔ اس بلاگ مین تشریف لائیے۔ اور اپنے دوستوں کو بھی بلائیے۔ اور انھیں یہ بھی بتائیے کہ شعر و ادب سے متعلق تمام سابقہ بلاگز کو انتظامیہ نے بند قرار دے دیا ھے۔ انتظامیہ کے احکام کا احترام تو کرنا ھی چاھئیے۔
    اس بلاگ کے نگراں آپ ھیں قاضی صاحب۔اب یہ سارے کام آپ کو کرنے ھیں مجھے نھیں۔

    پنہاں ”

    ا س لیے میں اپنے ان تما م ” دوستوں ” کو بلاتا ہوں جو میرے حالیہ بند کیے گئے بلاگ ” اردو کی خدمت ا ور نئے نئے لکھنے والوں کی ہمت افزائی ” کے عنوان سے کھولا گیا تھا۔ ، میں حصہ لے رہے تھے ۔
    اس میں میں کنول خان صاحبہ ، یا سیر اسامہ صاحب اور ہر وہ سخنور شامل ہیں جو اس موجودہ بلاگ کو دل سے قبو ل کرکے اسکے بتلائے ہوئے اعلی معیار اور اصول کو دل سے مانتے ہیں ۔

    مجھے کسی کے کلام کے کلی یا جزوی طور پر حذف کرنے کی اجازت نہیں ہے اور اس کا اختیار بھی نہیں ہے ۔ یہ اختیار صرف انتظامیہ کو ہی ہے ۔ اس لیے اگر کسی کی تحریر انتظامیہ کی “نظر ثانی ” کے باعث نہ شایع ہو یا اسکے چند الفاظ حذف ہوجاییں تو انہیں انتظامیہ کی اتھارٹی ( اختیار ) کا استعمال سمجھنا ہو گا ۔

    یہ بلاگ اردو ( یونی کوڈ میں لکھی ہوئی اردو ) کے لیے ہے۔ مگر اس میں پنجابی یا سندھی کے اشعار بھی شامل ہوسکتےہیں بشرطیکہ انکا اردو ترجمہ بھی لکھدیا جائے۔
    ایک بات عرض کردوں کہ ابھی تک مجھے خود اپنے دوسرے بلاگ لکھنے کی اجازت دی ہے (جس طرح گذشتہ آٹھ ماہ سے ہے ) اس کی وجہ سے میں اپنا کوئی اور دوسرا بلاگ بھی حسب استطاعت شروع کرسکتا ہوں ۔
    ایک بات لکھنا ضروری ہے کہ میں ” صنعتی شاعری” سے بے حد متا ثر ہوگیا ہوں اور اسکی کھوج اور اس پر تبصرے کی تمنا اور خواہش رکھتا ہوں ۔ اس بلاگ کو پنہاں صاحبہ نے بڑی محنت اور مشقت سے ( اپنے ہاتھ کی تکلیف کے باوجود ) شروع کیا مگر اسکو ادھورا چھوڑ کر بند کردیا ۔ میں اس موضوع پر اس بلاگ میں کوئی تبصرے (جو پنہاں صاحبہ کے سابقہ تبصروں پر تنقید وغیرہ سے مبرا ہوں ) دیکھنا چاہتا ہوں ۔ میں اس سلسلہ میں تمام دانشوروں سے اور سخنوروں سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر وہ اس موضوع سے بخوبی طور پر واقف ہیں تو ضرور بضرور اس بلاگ میں لکھیں۔

    اس سلسلہ میں میں سرور عالم راز سرور صاحب ، امین ترمذی صاحب ، ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب اور زرقا مفتی صاحبہ سے خاص طور پر درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس موضوع ( صنعتی شاعر ی ) پر لکھیں اور اگر ڈاکٹر پنہاں صاحبہ بھی اس موضوع کو اختتام کو پہنچادیں تو سب کے علم میں اضافہ ہوگا۔

    ۔۔۔۔۔
    ہم سب کا کام اردو ادب اور شاعری کی خدمت کرنا ہے اور ایک دوسرے کی ہمت افزائی کرنا ہے ۔
    ۔۔
    آیئے اس اہم کام کو جاری رکھیں۔
    پنہاں صاحبہ اور انتظامیہ کا مشکور
    علم کا خواہاں
    منظور قاضی از جرمنی

  16. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 19, 2009 بوقت 12:18 pm

    امیں ترمذی صاحب سے خاص طور پر گذارش ہے کہ وہ اپنی عام فہم اردو میں لکھے ہوے مضامین اس میں شامل کریں اور خاص طورپر اپنا وہ مضمون جس کو انہوں نے مجھے بذریعہ ٹیلیفون سنایا تھا اور جو اردو افسانہ نگاری کی ابتدا پر تھا ، وہ سب اس بلاگ میں شامل کریں۔
    اس بلاگ کے عنوان میں وہ بھی شامل ہیں اس لیے وہ اپنی تحاریر سے سب کے علم میں اضافہ کرتےرہیں تو اردو کی ترویج ہوگی۔
    ۔۔۔۔۔۔
    عظمی محمود صاحبہ کی تازہ غزل پڑھنے کے قابل ہے ۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔ یہ ضرور ہے کہ حساس انسان ہی شاعری کرسکتا ہے اس لیے کہ وہ آنکھ کی طرح جسم کی کسی حصہ میں چوٹ لگ جائے تو اس کی ہمدردی میں روپڑتا ہے ( یہ اقبال کا خیال ہے ) ۔ مگر انسان کو جب زندگی لیمن کا عطیہ دیتی ہے تو اسکو وہ لیمنیڈ بنا نے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بہرحال :
    بلاگ کا خادم ( ناظم )
    منظور قاضی از جرمنی

  17. Dr.Pinhaan نے کہا ہے:
    June 19, 2009 بوقت 3:59 pm

    جناب منظور قاضی صاحب
    ۔
    بہت شکریہ کہ آپ نے اپنے فرائضِ منصبی سنبھال لئے۔
    ۔
    انتظامیہ فی الحال شعروادب سے متعلق صرف ایک ھی بلاگ کو برداشت کر سکتی ھے۔ ایک سے زیادہ نہیں۔ اور یہ ایک بہت مدبرانہ فیصلہ ھے۔ اسی لئے اس نے تمام سابقہ بلاگز مقفل کردئے۔ ایسے میں اگر دوسرا بلاگ آپ نے شروع کیا تو یہ انتظامیہ کے اس فیصلے کے خلاف ھو گا کہ شعر و ادب کا صرف ایک بلاگ ھو۔ اور میں انتظامیہ کے ھر فیصلے کو بے چوں و چرا ماننا چاھتی ھوں۔ مگر اس مسئلے پر بھی غور کر رھی ھوں کہ آپ کو اپنا بلاگ شروع کرنے کا موقع ملے، جس کا ذکر آپ نے اپنی اوپر کی تحریر میں کیا ھے۔ میں کوئی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رھی ھوں۔ میں بھی چاھتی ھوں کہ آپ اپنا ایک بلاگ شروع کریں ۔ اور مجھے آپ کا وہ بیت بازی والا اندیہ پسند آیا ھے۔ میں چاھتی ھوں وہ ضرور شروع ھو۔ لیکن اسکے لئے مجھے یہ بلاگ بند کرنا ھوگا۔ اب یہ فیصلہ میں آپ پر چھوڑ رھی ھوں کہ یہ بلاگ ھم لوگ (میں اور آپ باھم رضامندی سے ) کب بند کریں ۔ تاکہ آپ اپنا بیت بازی والا بلاگ شروع کرسکیں۔ میں اس بلاگ کو کم از کم پانچ دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن چلانا چاھتی ھوں۔ لیکن آپ چاھیں گے تو پانچ دن سے پہلے بھی بند کر سکتی ھوں۔ آپ مجھے ھمیشہ اصولوں میں مستحکم مگر رویوں میں لچکدار ، قابلِ ترمیم اور بہت ھی نرم پائیں گے۔ نیز میں اپنی خوشی پر آپ کی خوشی کو مقدم رکھنے میں ھی خوشی محسوس کروں گی۔
    ۔
    پنہاںؔ

  18. shahnoor نے کہا ہے:
    June 19, 2009 بوقت 5:37 pm

    سلام علیکم

    ناطقہ سر بہ گریباں ھے اسے کیا کہئے ؟
    ماشاللہ یہ شاعری کا بلاگ ھے تو ماسوائے ڈیڑھ غزلوں کے یہان نثر ھی نثر نطر آرھی ھے
    پنھاں خود بھی شاعرہ ھیں اور دیگر شعرا بی ھونگے یھاں کچھ واقعی شاعر ی ھوجائے تو ھم جیسے قارئن کو کچھ پڑھنا نصیب ھو۔ یہ کھول بند کھول بند میں لوگ ادھر سے ادھر دھکیلے جارھے ھیں۔ ھم قارئن کی تواضع اگر اسی طرح کرنا ھے تو اسکی تفصیل واضح ھوجائے۔ جتنے قانوں محض بے چارے شعراء کے لئے یھاں دیکھے جارھے ھیں اتنے تو امریکہ نے دھشت گردوں کے لئے بھی نھیں بنائے ھونگے
    معافی کا خواستگار۔ میری یہ تحریر اگر سخت محسوس کررھے ھیں تو نہ چھانپں۔ اگر یہ ویب سائٹ آپ حضرات نے خود امنے ھی لکھنے پڑھنے کے لئے بنائ تھی تو خواۃ مخواہ اتنا خرچہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
    ھم نے دیکھا ھے کہ حوصلہ مند جریدہ جو تیس تیس سال تک قائم رھے ھیں اپنے خلاف تنقید بڑے تحمل سے اپنے ھی رسالے میں چھانپتے رھے ھیں۔
    اسکی مثال یہاں دیکھنے میں نھیں آرھی ھے
    اللہ حافظ
    شاہ نور قادری ibneqaiser@gmail.com

  19. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 19, 2009 بوقت 7:37 pm

    میں ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کی ہمت افزائی اور عزت افزائی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نےمیری خوشی کو اپنی خوشی پر مقد م رکھنے میں خوشی محسوس کرنے کا اظہار کیا ۔ اس عنایت پر مجھے سعدی کا یہ شعر ( جسے میں شاید ہمیشہ غلط لکھتا ہوں )‌ یاد آتا رہتا ہے کہ :
    جمالِ ہم نشین در من اثر کرد
    وگرنہ من کہ اک خاکم کہ ہستم
    ۔۔۔۔۔
    اللہ ہی عزت اور ذلت دینے پر قادر ہے ۔ ویسے بندے کا کام ہے کہ وہ اللہ کو ناخوش نہ کردے اور ساتھ ہی ساتھ بندوں کا دل بھی نہ دکھائے۔
    ۔۔۔
    مجھے عالمی اخبار کی انتظامیہ اور ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کی تمام ہدا یات منظور ہیں اس لیے کہ وہ میری مرضی سے بالکل ہم آہنگ ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔

    ویسے مجھے اس کا بھی علم ہے کہ ہم سب بلا معاوضہ اور کسی ستایش اور صلہ کی تمنا کیے بغیر اپنا وقت اور اپنی توانائی صرف اور صرف اردو زبان کی خدمت کے لیے ان بلاگوں کی محفل میں آیے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ر بقول اقبال آزاد بندوں کی دونوں دنیاوں میں پابندیا ں موجودہیں ( یہا ں مرنے کی پابندی وہا ں جینے کی پابندی )
    مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ میں کبھی پنہاں صاحبہ سے نہیں ملا اور نہ ان کو کسی مشاعرہ میں پڑھتے ہوے سنا ۔میں اپنےایک بلاگ میں یہ کہ چکا ہوں کہ برسوں پہلے میں نے اردو لنک ( جو پاکستان لنک کا اردو سیکشن تھا اور جسے عبدالرحمان صدیقی کیلی فورنیا سے شایع کرتےتھے ) انکی غزل پڑھا تھا جس کا شعر :
    اپنی اپنی جنت کے کچھ خواب لیے
    اپنے اپنے دوزخ میں سب جیتے ہیں
    پڑھا تھا اور اسکے کئے سال بعد ان پر محسن بھوپالی کا مضمون اردو منزل کی ویب سائٹ میں پڑھکر میں نے ان پر اپنا ایک بلاگ لکھکر انہیں عالمی اخبار میں آنے کی اور اپنے کلام سے اس ویب سایٹ کو سرفراز کرنےکی دعوت دی تھی۔
    یہ عالمی اخبار کی خوش نصیبی ہے کہ انہیں پنہاں صاحب کا تعاون نصیب ہوا ۔ میں کئے بار غالب کے ایک شعر کو تبدیلی کے ساتھ کہتا آیا ہوں کہ :
    ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
    کہتےہیں کہ پنہاں کا ہے انداز بیا ں اور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    مشکل یہ ہے کہ مجھے پنہاں صاحبہ کی حسا س طبیعت سے تھوڑا سا خوف لگتا ہے کہ کہیں میری ذرا سے بھی نادانستہ کوتاہی انکی دلشکنی کا باعث نہ بن جائے ۔ ا س لیے میں ان سے عرض کرونگا کہ اگر وہ میری کسی بات کواپنی مرضی کے خلاف سمجھیں تو مجھے میری ای میل کےپتہ پر لکھدیں۔ ( یہ درخواست میں عالمی اخبار کی انتظامیہ سے بھی کرچکا ہون ) ۔ یہی درخواست میں اس بلاگ کے پڑھنے والوں سے کررہاہوں۔
    میری ای میل کا پتہ ہے :
    manzoorquazi@gmail,.com
    فقط :
    علم کا طالب
    منظور قاضی از جرمنی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میری خوشی ہے کہ میں ان چند نئے نئے لکھنے والوں کے کلام کو اس بلاگ میں منتقل کروں جنھوں نے تکلیف کرکے اپنا کلام میرے منجمد بلاگ میں پیش کیا تھا :
    مثال کے طور پر :
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کنول خان نے کہا ہے:
    June 18, 2009 بوقت 4:24 pm ایڈٹ
    جناب قاضی صاحب

    ایک تحریری غلطی ھو گی ھے ۔ تصحیح کرنا چاھوں گی معزرت کے ساتھ ۔

    در اسل میری پہنچ کمپیوٹر تک نہیں تھی تو کسی کو لکھ کے دیا تھا اردو کا قطعہ کے اسے بلاگ میں لکھ دیں۔ ۔ اور اب جو پڑھنے کا موقعہ ملا تو یہ اچھے خاصے قطعہ کا حشر نشر ھو چکا ھے۔۔ مہربانی فرما کر تصحیح قبول کریں۔

    بہرِ تقریبِ ملاقات جو یہاں آئے ھیں
    اپنے جزبات کے دامن میں گہر لائے ھیں
    گلشنِ نور بنی نیک مرادوں کی بہار
    ھم غریبوں کی دعاؤں نے ثمر پائے ھیں۔

    شکریہ۔ کنول خان
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کنول خان صاحبہ اور یاسر اسامہ صاحب اور وحید اختر واحد صاحب سے گذارش ہے کہ وہ اسی طرح اس خوشگوار تبدیلی کو مثبت طریقے سے دیکھیں اور اپنا اپنا کلام اس بلاگ میں پیش کریں ۔ کوئی جھجکنےکی بات نہیں ۔ اسسے اپنی ہی محفل سمجھیں او ر مندرجہ بالا تما م تبصروں کو پڑھکر اس بلاگ کی اپنے کلام سے رونق بڑھائیں۔
    نثر نگار سخنور جن میں شاہ نور قادری صاحب بھی شامل ہیں اس بلاگ میں آییں اور اپنے مثبت تبصروں سے اس بلاگ کی افادیت میں اضافہ فرمائیں۔
    ۔۔۔
    فقط :
    علم کا خواہاں
    منظور قاضی از جرمنی

  20. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 19, 2009 بوقت 7:57 pm

    مییں پنہاں صاحبہ کی یہ غزل صنعتی شاعری کے موضوع والے بلا گ میں پڑھ چکا ہوں اور اسکو اس بلاگ میں منتقل کرکے دلی خوشی محسوس کررہا ہوں:

    غزل ۔ ۔ ۔ پنہاں
    ۔
    کیوں زندگی ھے موت سے انجان جان
    انسانیت کے علم کو ایمان مان
    ۔
    ھے منفرد قبیلئہ ساداتِ عشق
    قلبِ حزیں و طبعِ پریشان شان
    ۔
    چاھاکہ آئے اور کبھی لائے پھول
    لیکن وہ کر گیا مجھے گلدان دان
    ۔
    پھر دو دلوں پہ آج یہ مشکل عجیب
    ڈالے پڑا ھے در پہ ھی دربان بان
    ۔
    میں در نہیں پہنتی کہ ھے بات صاف
    لگتے ھیں مجھ کو موتی کی دوکان کان
    ۔
    مجھ سے جو زندگی میں رھا دوردور
    کیوں پڑھ رھا ھے لاش پہ قرآن آن
    ۔
    پنہاں پسِ وجود وھی اور کون
    اپنے اسی یقین کو ایمان مان
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فقط :
    بلاگ کا خادم اور نگراں
    منطور قاضی از جرمنی

  21. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 19, 2009 بوقت 8:04 pm

    یاسر اسامہ کی نظم جو میرے ایک بلاگ میں ( جو منجمد ہے ) موجود ہے ، میں اسے اس بلاگ میں خوشی سے منتقل کررہا ہوں :
    ان بارشوں کے موسم میں تیری جدائی کے غم میں
    نہ پوچھ دل پہ اپنے کتنے گہرےگہرے زخم ھیں
    اک اک بوند بارش کی دل پہ آ کر لگتی ھے
    من کا آنگن سونا ھے اور آنکھیں ساری نم ہیں
    وہ لمحے جو بیتے تھے تیرے ساتھ اس موسم میں
    مل جائیں گر خوشیاں ساری ان سے پھر بھی کم ہیں
    کہتا ھے میرے کانوں میں ہر تیز ہوا کا جھونکا
    چھوٹی سی ہے زندگی کہاں اپنے سات جنم ہیں
    کھو نہ جائے یہ موسم گم نہ ہوجائے یہ بارش
    توڑ کر آ جا پاس میرے جو بھی جھوٹے بھرم ہیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں یاسر اسامہ صاحب سے عرض کرونگا کہ وہ بھی اس بلاگ میں حصہ لیتے رہیں۔ دلی خوشی ہوگی ۔
    فقط :
    خیر اندیش
    منظور قاضی از جرمنی

  22. Dr.Pinhaan نے کہا ہے:
    June 19, 2009 بوقت 9:36 pm

    جناب منظور قاضی صاحب۔ شکریہ
    ۔
    آپ سے گذارش ھے کہ آپ اس میں اپنی شاعری بھی لکھئیے اور اپنے بھائی کی بھی۔ یا جس کی بھی شاعری آپ کو پسند ھو، لکھئے۔ اور شاہ نور قادری صآحب سے بھی کہئیے کہ وہ بھی اپنی یا اپنے پسندیدہ شاعروں کا کلام عنایت کریں۔ یا میرے خلاف اگر ان کو کچھ لکھنا ھے ، کہ جس کے لئے انتظامیہ کی وسیع القلبی انہیں درکار ھے ،تو وہ بھی ضرور لکھیں۔میں برداشت کرلوں گی۔ یا اگر بر داشت نہیں کر سکی تو جواب دوں گی۔اور جواب چاھے جتنی بھی شائستگی سے دوں ،قادری صاحب ھی سب سے پہلے اس بلاگ کو ” جیری شو ” کا نام دے دیں گے۔ کیا قادری صاحب یہی چاھتے ھیں۔اور اگر یہی چاہتے ھیں تو چلیں وہ یہی کریں ۔ پھر بیکار میں نے اس بلاک کے ذریعے اک نئی صبح کے آغاز کی کوشش کی۔ اور اگر وہ اس کوشش پر بھی پانی پھیرنا چاھتے ھیں۔ تو بسم اللہ۔ ۔ ۔ وہ اپنا کام کریں ، میں اپنا کام کروں گی۔
    تو شب آفریدی ، چراغ آفریدم۔
    ۔
    احقر ۔ ۔ ۔ پنہاںؔ

  23. Dr.Pinhaan نے کہا ہے:
    June 19, 2009 بوقت 9:51 pm

    جناب منظور قاضی صاحب
    ۔
    میں اس بلاگ کی ٹائیم مشین میں سوار ھو کے جس سویرے کی تلاش میں نکلی ھوں ، اس کے آثار مجھے آپ کی تحریروں میں نظر آنے شروع ھوگئے ھیں ۔ خدا آپ کو خوش رکھے اور آپ کی عمر دراز کرے۔ ۔ ۔ ۔ پنہاںؔ

  24. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 19, 2009 بوقت 10:11 pm

    شاہ نور قادری صاحب نے 19 جون کے تبصرےمیں یہ ارشاد فرمایا کہ

    ” ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہیئے ؟۔ ”
    ” ماشاللہ یہ شاعری کا بلاگ ھے تو ماسوائے ڈیڑھ غزلوں کے یہان نثر ھی نثر نطر آرھی ھے
    پنھاں خود بھی شاعرہ ھیں اور دیگر شعرا بی ھونگے یھاں کچھ واقعی شاعر ی ھوجائے تو ھم جیسے قارئن کو کچھ پڑھنا نصیب ہو۔”

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شاہ نور قادری صاحب نے یہ کیسا سمجھ لیا کہ یہ صرف شاعری کا بلاگ ہے ؟ اور انہیں سوائے ڈیڑھ غزلوں کے یہاں نثر ہی نثر نظر آرہی ہے ؟
    شاہ نور قادری صاحب نے شاید اس بلاگ کا عنوان نہیں پڑھا ۔ اس میں شاعری کے ساتھ ساتھ نثر بھی شامل ہے ۔ ایسے تبصرے لکھکر اس بلاگ میں لکھنے والوں کو لللکار نے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔
    شاہ نور قادری صاحب کو ادھر اور ادھر دھکیلنے کی تکلیف دور کرنے کے لیے عالمی اخبا ر کی انتظامیہ نے اب صرف یہ ایک بلاگ شعر و ادب پر کھولا ہے ۔ اس کو دلچسپ بنا نا صرف شاعروں کا کام نہیں اس کام کو شاہ نور قادری صاحب جیسے مبصر بھی کرسکتے ہین۔
    شاہ نور قادری صاحب سے گذارش ہے کہ وہ سب پڑھنے والوں کے علم میں اضافہ کرنے کے لیے یہ لکھدیں کہ جو مصرعہ انہوں نے اوپر لکھاہے یعنی:
    ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہئے : اس کے شاعر کا نام بھی لکھدیں اور اسکا پہلا مصرعہ بھی لکھدیں اور یہ بھی لکھدیں کہ اس شعر کے خالق نے یہ شعر کس نظم یا غزل میں تحریر کیا اور اس غزل یا نظم کا عنوان کیا تھا ؟ اور اس کا پس منظر کیا تھا؟
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چونکہ اس بلاگ میں نثر کے علاوہ شاعری بھی شامل ہے ، نورشاہ قادری صاحب اس شعر کے متعلق لکھکر اس بلاگ کی افادیت میں اضافہ کریں۔
    ۔۔۔۔۔
    اگر ہوسکے تو یہ بھی لکھدیں کہ وہ کس مملک سے اپنے تبصرے لکھتے ہیں۔
    ۔۔۔
    شاہ نور قادری صاحب کا شکریہ
    ۔۔۔
    فقط:
    علم کا طالب
    منطور قاضی از جرمنی

  25. سیدہ ثناء شاہ نے کہا ہے:
    June 19, 2009 بوقت 10:30 pm

    ماشا اللہ کافی اچھا بلاگ ھے ، کافی کچھ پڑھنے کو مل رہا ھے
    پنہاںؔ جی آپ کی اور باقی سب کی شاعری بھی خوبصورت ھے جو اس بلاگ میں شامل ھے ۔
    امید ھے انشا اللہ اسی طرح اچھی اچھی شاعری اور نثر پڑھنے کو ملتی رہیے گی ۔

  26. شاہ عالم اثر نے کہا ہے:
    June 19, 2009 بوقت 11:31 pm

    میں اس عالمی اخبار سے چند روز پہلے روشناس ہوا ہوں اور جس کے لئے میں امین ترمزی بھائی کا مشکور ہوں۔ بہت عمدہ شاعری پڑھنے کو مل رہی ہے اس بلاگ پر۔ بہت ہی کہنہ مشق شعر کہنے والے اُساتذہ کے درمیان اتے ہوئے زرا گھبراہٹ ہو رہی ہے لیکن اُمید کرتا ہوں کہ غلطیوں کو معاف کرتے ہوئے بلا جھجھک میری اصلاح اپلوگ فرمائیںگے اور اپنے درمیان مجھ جیسے نووارد اور کم علم کو برداشت کریں گے۔ مجھے شاعری نہیں اتی لیکن کچھ دنوں سے شوق ہو رہا ہے کہ میں بھی ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کچھ لکھنے کی جسارت کروں۔ اگر حوصلہ افزائی ہوئی تو ائندہ بھی لکھونگا ورنہ خیر باد کہ دونگا ۔ شکریہ

    گھر گھر چڑھتا پانی ہے
    دیکھ یہ دنیا فانی ہے
    ختم ہوئے سب رشتے ناظے
    ہر سو یہی کہانی ہے
    خون کی ہولی دیکھ شہر میں
    گلی میں لٹتی جوانی ہے
    کس کس کا دکھ تمھیں بتائیں
    سب مجھ کو نور زبانی ہے
    رنج و الم خود کوکھ سے جنمی
    پھر کیوں اب حیرانی ہے
    مُلا دین بھلا بیٹھا اب
    ہر لکچر شیظانی ہے
    دکشنا پنڈت خود کھا جائے
    رام یہ کیسی کہانی ہے
    گورکھ دھندے میں ہم ڈوبے
    چال چلن حیوانی ہے
    چھوڑ اثر یہ دنیا داری
    دنیا تو دیوانی ہے
    آ

  27. shahnoor نے کہا ہے:
    June 19, 2009 بوقت 11:40 pm

    سلام علیکم

    سب سے پہلےمیں عالمی اخبار کے منتظمیں کی جرءت مندی کو سلام کرتا ھوں کہ انھوں نے میرا کڑوا کسیلا تبصرہ من و عں شائع کردیا’ تنقید لینا بھی اعلی ظرفی کا حصہ ھے اور انھوں نے مجھے مایوس نہیں کیا

    رہا شاعری کا سوال:
    تو میرے خیال میں اگر کوئ شروعات نھیں کررھا ھے تو میری غزل حاضر ھے’میں غالبا” عرض کرچکا ھوں کہ میں شاعر قطعی نھیں ھون ۔بس تک بندی کر لیتا ھوں
    تو عّرض ھے:

    ھے نازوں میں پلی محترمہ عظمی’
    ھے پھولوں میں سجی محترمہ عظمی’
    ھزاروں سے بھلی محترمہ عظمی’
    محبت کی پری محترمہ عظمی’
    ھے مصری کی ڈلی محترمہ عظمی’
    ھے اعلی شاعری محترمہ عظمی’
    مجھے اچھی لگی محترمہ عظمی’
    غزل میں نے کہی محترمہ عظمی’

    وغیرہ وغیرہ
    اب اصلی شاعروں کو چاہئے کہ اپنا کلام دیں اور دیگر نثر نگاروں سے ( مجح سمیت) کہ اپنی تقاریر اور تحاریر کو دوسرے بلاگوں کی زینت بنائں

    شاہ نور قادری ibneqaiser@gmail.com

  28. Dr.Pinhaan نے کہا ہے:
    June 19, 2009 بوقت 11:48 pm

    ایک شعر
    ۔
    زندگی ھم کو اگر ایسی ملی
    زندگی کو بھی تو ھم ایسے ملے
    ۔
    پنہاںؔ

  29. نور امروھوی ڈیلاس ٹیکساس نے کہا ہے:
    June 19, 2009 بوقت 11:59 pm

    دل تو یہ چاہتا ہے کریں غم پہ گفتگو،،،،ایسی ردیف میں اور ایسے غضپ کے شعر بھئ کمال ہے واہ واہ دلی مبارکباد —–مرھم پے گفتگوِِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قافیہ کا اسّے بھتر استعمال اور کیا ہو سکتا ہے ؟بڑی مشّاقی کی اور علمیت کی بات ہےِِِِاحباب نے چلائ ہے شبنم پہ گفتگوِِِِِِیہ شعر بھی بہت عمدہ ہے لیکن گفتگو ہونا ،گفتگو کرنا،یا بات چلنا سنا تھا پڑھا تھا یہ “گفتگو چلنا” سمجھ میں نہی آیا ؟
    اردو کا ایک ادنٰی طالب علم

    نور امروہوی ڈیلس ٹیکساس

  30. Uzma Mahmood نے کہا ہے:
    June 20, 2009 بوقت 2:31 am

    جناب نور امروہوی صاحب سلام علیکم

    بہت دنوں سے آپ کا غا یبانہ تذ کرہ ان بلاگون مین بہت عرصہ سے گونج رہا تھا۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ آپ بہ نفس نفیس میری غزل پر اپنے فاضل تبصرہ کے ساتھ تشریف لائے ہیں۔
    آپ کی پسندیدگی کا شکریہ۔ آپ کی داد میرے لئے اعزاز ہے
    رہا آپ نے جو گفتگو چلنے کے بارے میں اعتراض فرما یا ہے، اس سلسلے میں کیا فرماتے ھیں علما ئے سخن بیچ اس مسئلے کے ؟

    لگتا ہے اب گفتگو چل ہی چکی ہے ( اوہ معاف کرنا بات چل ہی چکی ہے )۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو دور تلک جا ئے گی
    آپ کی مشکور
    عظمی محمود

  31. Masood Quazi نے کہا ہے:
    June 20, 2009 بوقت 2:43 am

    زندگی ھم کو اگر ایسی ملی
    زندگی کو بھی تو ھم ایسے ملے

    واہ
    زندگی کو ھم بھی تو ایسے لے
    واہ
    مسعود قاضی

  32. Masood Quazi نے کہا ہے:
    June 20, 2009 بوقت 2:44 am

    ملے

    معاف کرنا
    ملے پڑھئے
    مسعود قا ضی

  33. Uzma Mahmood نے کہا ہے:
    June 20, 2009 بوقت 2:49 am

    سلام علیکم
    شاہ نور صاحب
    آپ کی محبت اور قدردانی جس کا منظوم اظہار آپنے کیا
    جزاک اللہ
    عظمی محمود

  34. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 20, 2009 بوقت 11:11 am

    ماشا اللہ ،سبحان اللہ ، پنہاں صاحبہ کے اس بلاگ کی کافی پذیرائی ہورہی ہے اور اس میں دنیا کے مختلف مقامات کے سخنور حصہ لے رہے ہیں۔ خدا سے دعا ہے کہ یہ جراغ اسی طرح سویرے تک ( جو کبھی بھی طلوع ہوسکتا ہے ) روشن رہے اور آندھیوں کی زد سے محفوظ رہے ۔ انیس نے کیا خوب کہا ہے:
    انیس دم کا بھروسہ نہیں ذرا ٹھیر جاو
    چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے!!
    ۔۔۔۔۔۔
    شاہ عالم اثر صاحب کے تبصرے اور انکی شاعری کا شکریہ ؛
    میں اس بلاگ کے نگراں کی حیثیت سے ان سے اور دیگر تمام سخنوروں سے ( خواہ وہ مبتدی ہوں یا اساتذہ کے زمرے میں آتے ہیں ) یہ درخواست کرتا ہوں کہ اپنے کلام کو یہ کہکر پیش نہ کریں کہ ” امید کرتا ہوں کہ غلطیوں کو معاف کرتے ہوئے بلا جھجک میری اصلاح آپ لوگ فرمائیں ” اس لیے کہ تصحیح اور اصلاح کا کام آپ کو اپنے اندر چھپے ہوئے نقاد سے ہی لینا ہے ۔ اس کام کو لاپروائی سے دوسروں کے سر پر تھوپنے کی کوشش نہ کریں۔ دوسروں کے پاس نہ اتنا وقت ہے نہ طاقت اور توانائی کہ آپ کے کلام کی بلا جھجک اصلاح فرمائیں ۔ اگر ایسا کرنے لگیں تو یہ بلا گ پھر ایک اکھاڑہ بن جائے گا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    میری یہ نصیحت نور شاہ قادری صاحب کے لیے بھی ہے۔ و ہ اپنے کلا م کو بلا جھجک پیش کریں اور کسر نفسی سے کام لے کر اپنے احسا س کمتری کا غیر ضروری طور پر مظاہرہ نہ کریں۔ ان میں طنز و طعنوں کو استعما ل کرنے کی صلاحیت موجود ہے جس کا مظاہر ہ وہ دوسرے بلاگو ں میں بھی کرچکے ہییں اور پنہاں صاحبہ کی دلشکنی بھی کرچکے ہیں ۔ میں ان سے یہ عرض کرونگا کہ وہ اس بلاگ میں ہرگز ہر گز کوئی ایسی بات نہ لکھیں جس سے لوگ یہ سمجھیں کہ وہ طنز اور طعنوں کے نشتر چلا رہے ہیں ۔
    نور شاہ قادری صاحب کی یہ کہنا کہ :
    ” اب اصلی شاعروں کو چاہئے کہ اپنا کلام دیں اور دیگر نثر نگاروں سے ( مجح سمیت) کہ اپنی تقاریر اور تحاریر کو دوسرے بلاگوں کی زینت بنائیں ”
    ایک غیر دانشمندانہ بات ہے اس لیے کہ یہا ں پر کوئی ” نقلی شاعر ” نہیں ہے ( اور میرے خیال میں و ہ خود بھی کوئی نقلی شاعر نہیں ) ، اور یہ بلاگ صرف شاعری کے لیے نہیں بلکہ نثر کے لیے بھی ہے ۔ نثر نگاروں سے یہ کہنا کہ وہ اپنی تحاریر کو دسورے بلاگو ں کی زینت بنائیں اک بے تکی سی بات ہے ۔ ان کو اس بلاگ کے عنوان پر پھر سے نظر ڈالنا چاہئے ۔ اور ایسی باتوں کے کہنے سے احتراز کرنا چاہئے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شاہ عالم اثر صاحب اور نور شاہ قادری کے کلام میں کافی خوبیا ں ہیں اور انکے خیالات اور تاثرات میں کافی اہمیت بھی ہے اور اثر بھی ۔ اب الفاظ کی ہیرا پھیری اور ردو بدل خود انکے اندر کا چھپا ہوا نقاد کرسکتا ہے کوئی دوسرا نہیں ۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    نور امروہوی صاحب سے میں چنند سال پہلے ڈلس میں مل چکا ہوں اور انکی نعت نویسی سے کافی متاثر ہوا ہوں ۔ انکی نعت کا ایک شعر مجھے ہمیشہ یاد رہےگا :
    انکے قدموں کی دھول ہوجاتا ۔ خاک پائے رسول ہوجاتا
    اگر یہ شعر غلط کمپوز ہوگیا ہے تو وہ اس کی تصحیح کرکے اس بلاگ میں اپنی یہ نعت پیش کردیں ۔ مہربانی ہوگی ۔
    ان سے یہی عرض ہے کہ اس بلاگ میں کسی کے شعر پر نتنقید بالکل نہ کریں ۔ جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ہوں ،تنقید کا کام سب کے اندر کے چھپے ہوئے نقاد یا ضمیر پر چھوڑ دیں اس لیے کہ اس سے بڑھکر کوئیی استا د نہیں۔ ( ہم سب اپنےاپنے اندر کےچھپے ہوئے نقادو ں سے ہی سیکھتے رہتے ہیں اور یہ نقاد اپنے علم کو مشاہدو ں ، تجربون اور تحقیقات سے ہی سیکھتے رہتے ہیں )
    ۔۔۔۔’
    مسعود قاضی صاحب اگر پنہاں صاحبہ کا کوئی شعر اپنے تبصرےمیں لکھے تو اسکو صحیح طریقے سے لکھے تاکہ پھر اسکو بار بار دہرانا اوراپنی کپوزنگ کی تصحیح کرنا نہ پڑے ؛
    پنہاں صاحبہ کے شعر کا دوسرا مصرعہ ” زندگی کوبھی تو ہم ایسے ملے ” ہے ” زندگی کو ہم بھی تو ایسے ملے ” نہیں ہے ۔

    انہی غیر دانستہ غلطیوں سے ہی تما م معاملہ بگڑ جا تا ہے اور پھر انسان ” چنے کے جھاڑ ” سے اتار ا جاسکتا ہے ۔
    اللہ مسعود قاضی صاحب کو اور مجھ کو ہمیشہ عزت سے رکھے اور ذلت سے بچائے ۔ آمین

    ۔۔۔۔۔
    عظمی محمود صاحبہ کے لیے شا ہ نور قادری صاحب کی نظم پر میں بھی انکو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور خوش ہون کہ انہوں نے لیموں سے لیمن ایڈ تیار کرلیا ۔
    ۔۔۔۔
    ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کی عنایات کو شکریہ ۔
    انتظامیہ کا بھی دلی شکریہ
    ۔۔۔
    فقط:
    سخنوروں کا خادم

    بلا گ کا نگراں
    منظور قاضی از جرمنی

  35. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 20, 2009 بوقت 11:17 am

    احتیاط کے باوجود اوپر کے تبصرے میں مجھے سے کمپوزنگ کی غلطیا ں ہوگئیں ۔
    افسو س

  36. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 20, 2009 بوقت 11:25 am

    کنول خان صاحبہ اور یاسر اسامہ صاحب اور وحید اختتر واحد صاحب ااور انور ظہیر رہبر اور سائرہ بتول صاحبہ اور زرقا مفتی صاحبہ اور نگہت نسیم صاحبہ اور شمس جیلانی صاحب اور صفدر ہمدانی صاحب سے گذارش ہے کہ وہ اپنے پنے کلام سے اس بلاگ کو نوازیں۔ جناب مصباح حسین صاحب ، امین ترمذی صاحب اور ڈاکٹر خواجہ حکیم صاحب ، مناف غلزئی صاحب اور رحمت علی سائیں بھی اپنی اپنی نثر نگاری سے اس بلا گ کی رونق بڑھائیں ۔
    انکے علاوہ تمام پڑھنے والے اگر اس بلاگ میں اپنا کلام یا اپنی نثر شامل کرنا چاہیں تو مہربانی شکریہ۔
    دعوت کلام سب کے لیے ہے
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  37. Dr.Pinhaan نے کہا ہے:
    June 20, 2009 بوقت 1:25 pm

    جناب منظور قاضی صاحب
    ۔
    آپ نے اس بلاگ کے تمام انتظامات جس حسن و خوبی کے ساتھ سنبھال لئے ھیں ، اس کی ستائش اور شکریے کے لئے الفاظ ڈھونڈنے پڑیں گے۔ سلامت رھئیے، خوش رھئیے۔
    ۔
    پنہاںؔ

  38. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 20, 2009 بوقت 3:10 pm

    جمالِ ہم نشیں در من اثر کرد
    وگرنہ من کہ اک خاکم کہ ہستم
    ۔۔۔۔
    پتہ نہیں سعدی کا شعر اسی طرح ہے یا نہیں پھر بھی میرے دل کی ترجمانی کرتا ہے۔
    پنہاں صاحبہ کی ہمت افزائی کا شکریہ۔
    کو شش کرنا اپنا کام ہے اس کو پورا کرنا اللہ کا کام ہے۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  39. Dr.Pinhaan نے کہا ہے:
    June 20, 2009 بوقت 3:51 pm

    ایک بہت اھم معذرت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک بہت اھم تشکر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وضاحت و معذرت اپنی اک بھول کی اور شکریہ جناب قابلِ صد احترام صفدر ھمٰدانی صاحب کا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔
    میں یہاں اس وقت جو کچھ لکھنے جارھی ھوں یہ مجھے اس بلاگ کے آغازیہ میں لکھنا تھا مگر میں گذشتہ کئی روز سے بخار میں تھی اور بخار کی وجہ سے میرا ذھن مائوف سا ھورھاتھا اور اتنا مائوف کہ اتنی اھم بات بھول گئی تھی۔ اس کے لئے ھمدانی صاحب سے بہت معذرت خواہ ھوں۔
    اور وہ بات یہ ھے کہ جب ادبی بلاگز میں بار بار کی چق چق سے تنگ آکر جناب ھمٰدانی صاحب نے چودہ جون کو یہ اعلان کیا تھا کہ اب ڈیلس کے ادبی مسائل پر کوئی بلاگ اور کوئی تبصرہ عالمی اخبار میں نہیں جھپے گا۔
    تو اس اعلان کو پڑھ کے میں نے یہ سوچاتھاکہ میں تو اب ڈیلس کیا کہ ٹیکسس کے بھی کسی شاعر ادیب پر کبھی کچھ نہیں لکھوں گی بشمول اپنا آسٹن۔لیکن گذشتہ دنوں جو مسائل ادبی بلاگز پر صرف اس لئے شروع ھوگئے تھے کہ میں نے اک ایسی شخصیت کو موضوعِ سخن بنالیا تھا جو باقی لوگوں کے لئے قابلِ برداشت نہین تھی۔ اور اسکا ازالہ صرف اسی طرح ممکن تھا کہ میں اپنی ذاتی رائے پر اڑے رہنے کے بجائے، باقی تمام لوگوں کی پسندیدہ شخصیتوں ھی کو نئے بلاگ میں پیش کردوں۔ اس کے لئے میں نے بہت مشکل سے ھمٰدانی صاحب سے انہی کے فیصلے کے خلاف اجازت لی تھی تاکہ جن لوگوں کو میں نے اپنی الگ سی پسند کی وجہ سے ناراض کر دیا ھے انہیں ان کی اپنی پسندیدہ شخصیتوں کو پڑھنے اور ان پر ھی تبصرہ کرنے کا ماقع فراھم کرکے خوش کردوں ۔ پھر جائوں یا رھوں۔ مگر یہ ھمٰدانی صاحب کی وسیع القلبی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اس کے لئے میں ان کا جتنا احسان مانوں‌کم ھے۔ یہ سب مجھے اس بلاگ کے آغازیہ میں ھی لکھنا تھا مگر بخار کی شدت نے ذھن کو ایسا مفلوج کر رکھا تھاکہ ایسی اھم بات بھول گئی جسے کسی صورت نہیں بھولنا چاھئیے تھا۔ ھمٰدانی صاحب سے ایک بار پھر اس بھول کے لئے دل سے معذرت خواہ ھوں۔
    ۔
    احقر۔ ۔ ۔ پنہاںؔ

  40. Masood Quazi نے کہا ہے:
    June 20, 2009 بوقت 4:51 pm

    salaam Alaikum
    Janaab Manzoor Quazi Sahiib
    That was a Mistake, and I t will not happen again.
    and I also Thank Uzma to call me here.
    and as I leave I whole heartedly Say Thank Mrs Pinhan for all her troubles as she took to accomodate my poetry here.
    میں محترمہ پنہا ں کی فوری اور کلی صحتیابی کے لئے دعا گو ھہں
    I ALSO WISH MRS. PINHHAN TO
    GET WELL SOON.

    اللہ حافظ و نگہبان
    مسعود قاضی ڈلس ٹکساس
    آخر میں جناب نور امروہوی صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے حسب وعدہ آکر محترمہ عظمی کو ان کے کلام پر داد سے نوازہ۔ انھوں نے مجھ سے مطلع سن کر فرمایا تھا کہ اگر غزل اس مشکل زمین میں ھوگئے تو وہ ضرور داد دیں گے
    وہ اپنے قول کی پکے نکلے

  41. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 20, 2009 بوقت 7:07 pm

    شاہ نور قادری صاحب نے اپنے تبصرہ میں یہ مصرعہ استعمال کیاتھا: ” ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہیے ؟ ” اس پر میں نے ان سے کچھ سوالات پوچھے تھے ۔ اگر انکے پاس جوابات موجود ہیں تو وہ یہاں لکھد یں تاکہ انکی تحقیق سے سب فائدہ اٹھا سکیں۔
    فقط:
    علم کا خواہاں
    منظور قاضی از جرمنی

  42. Dr.Pinhaan نے کہا ہے:
    June 20, 2009 بوقت 8:53 pm

    میرا نام “مسز پنہاںؔ ” نہیں۔
    میں نے کبھی کہیں خود کو “مسز پنہاں ” نہیں لکھا۔
    کسی کا بھی نام صرف اس طرح لکھنا چاھئیے جس طرح وہ خود لکھتا ھے۔
    “مسز پنہاںؔ ” اس صورت میں ھوتا جب ” پنہاںؔ ” میرے شوھر کا نام ھوتا ۔
    میرا نام “پنہاں ” ھے ۔ اور ” ڈاکٹر پنہاںؔ ” ھے۔
    اس میں کسی بھی قسم کے رد و بدل کا حق صرف اور صرف مجھے ھے، کسی اور کو نہیں۔ نہ میرے جیتے جی نہ میرے مرنے کے بعد ۔ ( باقی رہا اس کے اصلی یا نقلی ھونے کا سوال ، تو یہ بھی میرا ذاتی مسئلہ ھے ۔ اور اگر میرے اس ذاتی مسئلے سے بھی میرے قارئین نے بہت زیادہ دلچسپی رکھی تو مجبورا” وہ سب کچھ لکھنا پڑے گا جسے پڑھ کر بہت سےکم فھم حضرات مجھ پر غرور اور تکبر کا الزام عائد کرنے کی کوشش کریں گے۔ وہ یوں کہ اس نام کے ساتھ فخر و انبساط کی بہت سی داستانیں وابستہ ھیں)۔
    ۔
    ڈاکٹر پنہاںؔ ۔ ۔ ۔ یا ۔ ۔ ۔ پنہاںؔ

  43. Dr.Pinhaan نے کہا ہے:
    June 21, 2009 بوقت 12:14 am

    محترم جناب منظور قاضی صاحب
    ۔
    آپ بیت بازی والا بلاگ کب شروع کرنا چاھتے ھیں؟
    ۔
    اس کی تاریخ کا تعین کر کے ۔اس کا اعلان اسی بلاگ میں کر دیجئے۔ اور تفصیلات بھی ایک بار پھر یہاں بھی لکھ دیجئے۔
    ۔
    بیت بازی کا سلسلہ جلدی شروع ھو جائے تو اچھا ھے۔ تاکہ یہ بلاگ بند کیا جا سکے ۔جس سے کسی کو کوئی دلچسپی نہیں ھے، آپ کے سوا ۔
    ۔
    پنہاںؔ

  44. Masood Quazi نے کہا ہے:
    June 21, 2009 بوقت 12:28 am

    سلام علیکم
    میری عزیز ترین بہن اور نھایت محترم، محترمہ ڈاکٹر پنھاں صاحبہ
    دست بستہ معافی کا خواستگار ہوں کہ انگلش مین تحریر کرتے ھوئے ایک غلظی انجانے مین ہوگئ
    میں دراصل آپکی علالت کی خبر پڑھ کر پریشان ہو گیا تھا
    میں نے آپ کو غلطی سے انگلش میں مسز لکھا ھے جو کہ واقعی غلط ھے ا حالانکہ اردو میں مجھ سے اسی بلاگ مین میں نے محترمہ پنہاں ہی لکھا تھا بہر حال جو ھوا وہ میری جانب سے غلط ھوا ا ور میں آپ سے اسکی تحریری معافی مانگتا ہوں۔ یہ غلطی یقین کیجے دانستہ قطعی نہیں ہوئ۔ اور آیندہ آپ کو اسطرح کی شکایت کا کوئ موقعہ نہین ملے گا
    امید کہ آپ روایتی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھ ناچیز کو معاف فرما دیں گیں
    میں نے ھمیشہ آپکی عزت کی ھے اور انشاللہ کرتا رہون گا آپ انشا للہ یہان کسی مشاعرہ میں ملیں گیں تو میرے رویہ سے آپ محسوس کرلیں گی کہ میں کس قدر آپ کی تعظیم کرتا ھوں
    انشاللہ آیندہ آپ کو جسطرح مین ھمیشہ ڈاکٹر پنہان کہتا رہا ھوں اسی عزت اور حرمت سے کہتا رہون گا کہ یہ آپ کا اعلی مقام ھے

    اللہ آپ کو جد از جلد صحتیاب کرے میری دعائں آپ کی صحتیابی کے لئے اللہ کے حضور میں ہین اللہ پاک انہیں قبول فرمائے
    آپ کے لئے دعا گو
    مسعود قاضی ڈلس ٹکساس

  45. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 21, 2009 بوقت 12:53 am

    میں نے جرمنی سے ابھی ابھی ڈلس امریکہ کے رہنے والے میرے بھائی مسعود قاضی سے ٹیلیفون پر یہ پوچھا کہ اس نے پنہاں صاحبہ کو جان بوجھ کر مسز پنہاں لکھا یا جلدی جلدی میں انگریزی میں غلطی سے مسز پنہاں لکھ دیا ۔ اسکے جواب میں اس نے کہا کہ جلدی جلدی میں اس نے انگریزی زبان میں بے خیالی میں پنہاں صاحبہ کو مسز پنہاں لکھا مگر اس نے اردو میں تو پنہاںصاحبہ کو محترمہ پنہاں ہی لکھا ۔
    مشکل یہ ہے کہ بے خیالی میں اور عجلت میں انسان سے اس طرح کی غلطیاں ہوجاتی ہیں ،اگر ایسی غلطیا نہ ہوتیں توہم سب انسان نہ ہوتے فرشتے ہوتے۔
    پنہاں صاحبہ کی وسیع القلبی ان نادانستہ اور غیر ارادی غلطیوں کو در گذ ر کر سکتی ہے
    ہاں اگر وہ بار بار اس طرح کی غلطی کرے تو پنہاں صاحبہ کو مسعود قاضی کی بر سر عام تنبیہ اور تادیب کرنا جائز ہے ۔
    ۔۔۔
    مسعود قاضی نے کہا ہے کہ وہ اپنی پہلی فرصت میں پنہاںصاحبہ سے اپنی نادانستہ سہو کی متعلق افسوس کا اظہا رکرے گا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے علم ہے اور اس بات کا احساس ہے کہ پنہاں صاحبہ چند ماہ سے مسعود قاضی کو اپنے بلاگوں سے اور اپنی تعریفوں سے سرفراز فرمارہی ہیں جس پر میں مسعود قاضی کو مبارکباد دیتا رہتا ہوں ۔اور امید کرتا ہوں کہ وہ مسعود قاضی کی اس نادانستہ غلطی کو نطر انداز کردینگی ۔
    ۔۔۔۔۔
    اب مجھے بھی خوف ہونے لگا ہے کہ کہیں میری کوئی نادانستہ غلطی بھی پنہاں صاحب کو مجھ سے ہمیشہ کے لیے ناراض نہ کردے ۔
    اسی لیے میں ان سے اور سب سے کہ رہا‌ہوں کہ اگر مجھ سے یا مسعود قاضی سے کوئی شکایت ہو تو مہربانی فرما کر میرے ای میل پر مطلع کردیا کریں ۔ تاکہ وضاحت کرنے کا موقعہ مل جائے۔

    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی از جرمنی
    manzoorquazi@gmail.com
    اور مسعود قاضی کے ای میل کا پتہ ہے
    masoodquazi@yahoo.com

  46. Dr.Pinhaan نے کہا ہے:
    June 21, 2009 بوقت 2:56 am

    میرےعزیز دوست اوربہت اچھے بھائی، محترم جناب مسعود قاضی صاحب
    ۔
    سب کچھ دوبارہ پہلے کی طرح ھوسکتا ھے اگر آپ اپنے یہ معافی کے الفاظ واپس لےلیں اور بدلے میں صرف اچھی اچھی
    شاعری صبح شام اس بلاگ کو عنایت کرتے رھیں۔ منظورقاضی صاحب کے مراسلے کا جواب بعد میں دوں گی ۔ابھی ذرا جلدی میں ھوں۔ ان کو فی الحال سلام۔
    ۔

    آپکی دوست ، اپکی بہن پنہاںؔ

  47. شاہ عالم صدیقی نے کہا ہے:
    June 21, 2009 بوقت 4:29 am

    اسلام و علیکم۔ اس بلاگ پر آتے ہوئے کچھ خوف بھی محسوس ہوتا ہے کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ زرا سی غلطی جانے انجانے میں ہو جائے تو پھر اگلے کی خیر نہیں ہوتی اور وقت ضائع کئے بغیر اس کی سرزنش سرِ عام کر دی جاتی ہے۔ اللہ ہم سب کو غلطیاں کرنے سے محفوظ رکھے یا پھر ہمیں فرشتہ بنادے۔آمین

  48. Masood Quazi نے کہا ہے:
    June 21, 2009 بوقت 8:47 am

    عزیزان محترم و مشفق و مہربان

    برائے تعمیل حکم یہ تازہ ترین غزل حاضر خدمت ھے

    جہان تکرار پر تکرار ھوگی
    وھاں پر گفتگو بے کار ھوگی

    وضاحت کا ڈھنڈھورا پیٹ نے پر
    حقیقت نیند سے بیدار ھوگی

    نہ تھا معلوم اک شھرت کی خاطر
    یہ بد نامی مجھے درکار ھوگی

    دوا مجھکو مسیحا دے تو دے گا
    پر اس میں زھر کی مقدار ھوگی

    نہ کیجے اس چمن میں خوشہ چینی
    خبر یہ سرخیِ اخبار ھوگی

    شریفون میں نہ یہ پہلے سنا تھا
    لڑائ بر سر بازار ھوگی

    ستائش گر ملی مسعود تجھکو
    تو پھر تادیب بھی بسیا ر ھوگی

    اللہ ھم سب کو صبر و تحمل کی توفیق عطا فرمائے

    خیر اندیش
    مسعود قاضی ڈلس ٹیکساس

  49. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 21, 2009 بوقت 9:26 am

    پنہاں صاحبہ کا شکریہ کہ انہوں نے مسعود قاضی کو اپنا عزیز دوست اور اچھے بھائی کے خطابو ں سے سرفراز کیا ۔ مسعود قاضی میرا بھائی ہے اس لیے اسکی عزت کو میں اپنی عزت سمجھتا ہوں اور اسکی ذلت کو اپنی ذلت ۔
    وہ آپ (پنہاں صاحبہ ) کی ” شرط ” کو بھی منظور کرسکتا ہے اور ” معافی کے الفاظ واپس لے” سکتا ہے مگر اس کی دل میں آپ کی وہی قدر و عزت رہے گی جیسی کہ پہلے تھی۔ (اس کا مجھے یقین ہے ) ۔۔
    میرے خیال میں ” اچھی اچھی شاعری ” کی وضاحت ضروری ہے ۔ اس لیے کہ کسی کی نظر میں “اچھی اچھی شاعری” کسی دوسرے کی نظر میں ” بری بری شاعری” ہوتی ہے ۔ اور اگر کسی حساس سخنور کے دل پر چوٹ لگے تو وہ اسکے ردِ عمل کے طور پر کچھ احتجاجی یا انقلابی شاعری ہی کرے گا ۔ گل و بلبل کی داستان بھی لکھے گا تو اس میں استعاروں اور تشبہوں اور تلمیحات کا استعمال کرکے اپنا احتجاجی مضمون پیش کرتا رہے گا ۔ اس کی شاعری پر شرطیں عاید کرنا اس کی حسا س دل پر ظلم کرنے کے برابر ہوگا جس کوخود پنہاں صاحبہ بھی قبول نہیں کرینگی۔ نہ جوش نے قبول کیا نہ فیض نے نہ جالب نے اور نہ فراز نے ان شرائط کو قبول کیا ۔

    دوسری بات یہ ہے کہ شاعر کوئی قوال یا گلو کار نہیں ہے کہ وہ اپنے تماشا ئیوں میں مقبول ہونے کے لیے انکی پسند کے “اچھے اچھے ” گانے گاتا رہے۔

    زمانہ شاہد ہے کہ حساس شعرا نے کبھی بھی زہر ہلاہل کو قلا قند نہیں کہا اور اپنے شاعری میں حق گوئی اور بے باکی سے کام لیا ۔

    ایک بات ضرور ہے کہ ” نظر ثانی ” کا حق اور اختیار عالمی اخبار کی انتظامیہ کو ہے ( نہ مجھے ہے اور نہ پنہاں صاحبہ کو ) اور اگر انتظامیہ کسی کے غزل یا نظم پر نظر ثانی کرکے اس کو اس بلاگ میں شامل کردے تو میں اسکا خیر مقدم کرونگا اور میرے خیال میں پنہاں صاحبہ بھی اس کی پذیرائی کرینگی ۔

    اگر وہ کلام اچھی اچھی شاعری پر مشتمل نہ ہو تو اسکو اس بلاگ میں یا کسی اور بلاگ میں شایع کرنے کی ذمہ دار عالمی اخبا ر کی انتظامیہ اور اسکی “نظر ثانی ” ہوگی ۔ مجھ پر یا پنہاں صاحبہ پر نہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پنہاں صاحبہ میرے تبصرے کا جواب بعد میں اگر دیں تو میر ی تادیب کو ای میل کے ذریعہ دیں اور اگر کوئی مثبت بات ہو تو اس تبصرے میں لکھدیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں چاہتا ہوں کہ میں اپنا ایک الگ بلاگ بیت بازی کے عنوان سے یا شعر و شاعری اور نثر نگاری کے موضوع پر شروع کروں مگر اس کے لیے پنہاں صاحبہ کے اس بلاگ کی قربانی کی ضرورت نہیں۔
    یہ بلاگ پنہا ں صاحبہ کا ہے ، اسکو انہوں نے ہی شروع کیا ہے اور اسکو وہ ہی جب چاہے ختم کرسکتی ہیں ۔ ویسے میری یہی خواہش اور درخواست ہے کہ یہ بلاگ ہمیشہ چلتا رہے اور دوسرے بلاگ ( شعر و شاعری اور نثرنگاری کے لیے ) بھی کھلتے رہیں اور اپنی اپنی فطری زندگی گذار کر ختم ہوتے رہیں ۔

    اللہ ہم سب کو دنیا اور دین کی سرخروئی عطا کرے او ر ہم سب کا خاتمہ بخیر کرے اور عاقبت بھی بخیر کرے ۔ آمین

    فقط:
    سخنوروں کی مثبت سخنوری کا دلدادہ
    منظور قاضی از جرمنی

  50. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 21, 2009 بوقت 9:48 am

    میں عالمی اخبار کی انتظامیہ کی ” نظر ثانی ” کی داد دیتا ہوں کہ اس نے مسعود قاضی کی تازہ غزل کو اس بلاگ میں شایع کیا ۔
    میں نے مسعود قاضی سے کل رات یہی کہا تھا کہ وہ اپنا کلام عالمی اخبار کے بلاگوں میں شایع کرنے کی غرض سے بھیچتا رہے ، اور اس بات کی امید کرتا رہے کہ اسکا کلام عالمی اخبار کی انتظامیہ کی نظر ثانی کے نتیجہ میں حذف نہ ہوجائے ۔ اب اسکی غزل شایع ہوگئی اس پر اسکو مبارکباد دیتا ہون اور کہتا ہوں کہ وہ “پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ” کی پالیسی پر عمل پیرا رہے ۔ ویسے وہ اپنی مرضی کا مالک ہے ۔ نہ اس پر میرا زور ہے نہ میرے پی ایچ ڈی بیٹے مومن قاضی پر میرا زور ہے ۔
    بہرحال :
    مسعود قاضی سے اور عظمی محمود صاحبہ اور دوسرے تمام اہل قلم افراد سے دلی درخواست ہے کہ وہ عالمی اخبار کی انتظامیہ کو اپنا اپنا کلام بھیجتے رہیں تاکہ وہ نظر ثانی کرکے متعینہ بلاگ میں اس کو شایعر کرسکیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شاہ عالم صاحب سے عرض ہے کہ وہ بلا کسی خوف کے اس بلاگ میں اپنا کلام پیش کرتے رہیں ۔ ان کے لیے میں اپنے ایک تبصرےمیں جو کچھ لکھا ہوں وہ اس کو مثبت طریقے سے لیں اور غلط مطلب نہ نکالیں۔
    مجھے انکے اور تما م سخنوروں کے کلام کو اس بلا گ میں دیکھکر خوشی ہوگی۔

    فقط
    خیر اندیش
    منظور قاضی از جرمنی
    manzoorquazi@gmail.com

  51. Dr.Pinhaan نے کہا ہے:
    June 21, 2009 بوقت 10:16 am

    جناب مسعود قاضی صاحب

    بھت شکریہ آپ نے اس بلاگ کو غزل مرحمت فرمائی۔
    امید ھے اسی طرح لکھتے رھیں گے۔
    ۔
    پنہاںؔ

  52. Dr.Pinhaan نے کہا ہے:
    June 21, 2009 بوقت 11:12 am

    شاہ عالم صدیقی صاحب

    “اللہ ہم سب کو غلطیاں کرنے سے محفوظ رکھے یا پھر ہمیں فرشتہ بنادے”۔
    ۔
    فرشتے کو بھی وھی ملتاھے جناب جو صر ف غلطی کرنے والے کو ھی ملنا چائیے۔ آپ ھیران ھوں گے کہ میں پچھلے جنم میں فرشتہ تھی۔ مجھے انسانوں کے ساتھ نیکیاں کرنے کا حکم تھا، بے غرض، بے لوث نیکی۔مگر ملتا کیا تھا ؟ صرف لعنتیں۔ ایک کے ساتھ نیکی کرتی تھی ، ایک ھزارکو برالگتاتھا کہ اس کے ساتھ نیکی کیوں۔ برا اس کو بھی لگتا تھا جس کے ساتھ پہلے نیکی کرکے دوسروں کی لعنتیں سہہ چکی ھوتی تھی ۔ اور اس کو بھی جس کو ائندہ کے لئے اپنی نیکیوں کا یقین دلاتی تھی۔
    ” میں دیکھ رہا ہوں کہ زرا سی غلطی جانے انجانے میں ہو جائے تو پھر اگلے کی خیر نہیں ہوتی اور وقت ضائع کئے بغیر اس کی سرزنش سرِ عام کر دی جاتی ہے۔”
    شکر کہ آپ دیکھ رھے ھیں ۔ آپ نے دیکھا ھے ناں کہ میں نے جانے انجانے میں کسی کو برا بھی نہیں بلکہ کسی اور کو اچھا کہہ دیا تھا۔اور بس پھرمیری سرزنش وتادیب سرے عام شروع ھوگئی ۔ روز نئے نئے رضاکار آجاتے ھیں اس کارِ خیر کے لئے۔مجھے آپ سے مل کے خوشی ھوئی آپ صاحبِ ںظر ھیں۔کبھی اتفاق سے کوئی اچھی بات یہاں نظر آجائے تو وہ بھی لکھ دیجئے گا۔
    پنہاںؔ

  53. Dr.Pinhaan نے کہا ہے:
    June 21, 2009 بوقت 11:39 am

    جناب منظور قاضی صاحب
    ۔
    “اچھی اچھی شاعری” سے میری مراد کچھ خاص نہ تھی، سوائے اس کے کہ ایسی شاعری جو سب کو اچھی لگے ۔ جسے پڑھ کے سب لوگ ان کو داد دیں۔ جس سے ان کے شاعرانہ رتبے میں اضافہ ھو۔ جیسے میں کھوں کہ آج میں نے ایک اچھی غزل کھی ھے ۔جیسے کوئی یہ کھے کہ فلاں رسالے میں آپ کی اچھی اچھی شاعری پڑھنے کو ملتی ھے۔اتنی وضاحت کافی نہ ھو تو بتائیے گا باقی اگلی نشست میں اور وضاحت کردوں گی۔
    ۔
    اچھی خبر ھے کہ آپ چاھتے ھیں کہ آپ دوسرا بلاگ شروع کردیں جو میں بھی چاھتی ھوں۔ تو میں اسے کل بند کردوں گی۔
    اس بلاگ کے لئے جو تعاون آپ نے کیا ھے اس کے لئے ھمیشہ ممنون رھوں گی۔
    پنہاںؔ

  54. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 21, 2009 بوقت 12:52 pm

    پنہاں صاحبہ کا شکریہ کہ انہوں نے “اچھی اچھی شاعری” کی وضاحت کردی ۔ یہ وضاحت میرے لیے کافی ہے ۔ شکریہ

    یہ میری خواہش ہے کہ آپ کا یہ بلاگ بند نہ ہو ۔ خواہ میں اپنا ایک الگ بلاگ اردو شعر وشاعری اور بیت بازی پر شروع کروں یا نہ کروں ، اس بلاگ کوبند کرنے کی ضرورت نہیں ۔
    مجھے دو سے زیادہ بلاگوں کی تخلیق اور نظامت کا تجربہ ہے میں ان دونوں بلاگوں کو اور میرے ایک اور بلاگ کو جب تک صحت ساتھ دیتی ہے سنبھال سکتا ہوں۔
    میں عالمی اخبار کی انتظامیہ کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ قارئین سے اس سلسلے میں رائے لیں اور انکی اکثریت کی رائے میں جو بہتر ہو‌اسکو قبول کریں ۔

    یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ سامعین کا عالمی اخبار پر کوئی حق نہیں اس لیے کہ وہ عالمی اخبار کو مفت میں پڑھ رہے ہیں ۔ مگر میرا خیال ہے کہ عالمی اخبار کے ابتدائی منشور میں اردو کی ترویج کرنا بھی شامل ہے اور اس نیک کام کے لیے اردو شعر وادب کے بلاگوں کی ہمت افزائی بھی ضروری ہے۔
    فقط :
    خیر اندیش
    منظور قاضی از جرمنی

  55. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 21, 2009 بوقت 1:08 pm

    یہ کنول خان صاحبہ کا پنجابی کلام ہے ۔ پنجابی شاعری میں بھی بڑی جان ہے ۔
    میں اس نظم کو اپنے ایک منجمد شدہ بلاگ سے اس بلا گ میں چسپاں کررہا ہوں ۔ امید کہ پڑھنے والے اس سے لطف اندوز ہونگے۔ پنجابی عام فہم زبان ہے مگر اسکے چند الفاظ اردو داں حلقوں کے لیے شائد مشکل نظر آئیں ۔ اگر کنول خان صاحبہ اس نظم میں” ڈھوک ‘ کے لفظ اورا س نظم کے آخری شعر کی تشریح کردیں تو میرےعلم میں اضافہ ہوگا۔ چونکہ عالمی اخبار کے بلاگوں میں سندھی شاعری کی بھی پذیررائی ہورہی ، پنجابی شاعری بھی اس اخبار میں چھپ جائے تو سب کا بھلا ہوگا۔

    کنول خان صاحبہ ارشاد فرماتی ہیں:
    ایک حقیر نزرانہ
    ـــــــــــــــــــــــ

    مٹی دا اک بت بنایا
    وچ پائی روح دی بُک

    جد عرش توں فرش تے لے آیا
    تاں وسیلے آئے ڈھوک

    دنیا اوس نوں باہر لبدی
    اوہ بیٹھا میں چہ لُک۔

    جنگل جنگل تسی جا کو لبھو
    اوہ ملدا اک واری جھک۔

    متھے ٹیکیاں اوس لبھنا ناھیں
    جے نفس نہ جاوی مُک۔

    میں میں کردی دنیا ساری
    ایس وقعت ساری ککھ۔ ۔

    کھلدا وجدان دا بوہا اودوں
    جد جندڑی جاوے جُھک۔

    کنول پانی تد بھانڈے پیندا
    جد مٹی جاوے سُک۔

    شکریہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  56. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 21, 2009 بوقت 1:32 pm

    مجھے شکیل کی یہ غزل اس بلاگ کے موضوع سے اور میرے اپنے حال سے ہم آہنگ معلوم ہوتی ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔غزل ۔۔۔۔۔۔
    مرے ہم نفس مرے ہمنوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
    میں ہوں دردِ عشق سے جا ں بہ لب مجھے زندگی کی دعا نہ دے
    ۔۔۔
    مرے داغ دل سے ہے روشنی اسی روشنی سے ہے زندگی
    مجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر یہ چراغ تو ہی بجھا دنہ دے
    ۔۔
    مجھے چھوڑ دے مرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر
    یہ تری نوازشِ مختصر مرا درد اور بڑھا نہ دے
    ۔۔۔۔
    مرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں
    مجھے خوف آتشِ گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے
    ۔۔۔
    وہ اٹھے ہیں لے کے خم و سبو ارے او شکیل کہاں ہے تو
    ترا جام لینے کو بزم میں کوئی اور ہاتھ بڑھا نہ دے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فقط :
    خیر اندیش
    منظور قاضی از جرمنی
    نوٹ :” ہم نوا ” ، پاکستان کےایک صوبے میں منفی معنے رکھتا ہے اس لیے اس لفظ کو وہاں استعمال کرتے وقت احتیاط کرنے کی ضرورت ہے ۔( تفصیل کے لیے دوسرےبلاگ کا مطالعہ کریں۔)

  57. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 21, 2009 بوقت 1:45 pm

    ” ملکِ عدم نوں ننگے پینڈے آیا اس جہان تے
    ایک کفن دی خاطر بندہ کننے پینڈے کردا اے ”
    پنجابی کے مندرجہ بالا شعر کا خالق کون ہے ۔ شائد کوئی قاری بتا دے۔
    شعر دنیا کے اور خاص طور پر میری زندگی کی ترجمانی کرتا ہے ؛
    اس کو صحیح طریقے سے لکھنے کا کام کنول خان صاحبہ نے میرے ا یک دوسرے منجمد شدہ بلاگ میں کیا ہے او ر اس کے ساتھ ساتھ یہ تشریحات بھی لکھی ہیں جنھیں میں اس بلاگ میں چسپاں کررہا ہوں:
    کنوال خان صاحبہ کی یہ تحریر آپ سب کی نذ ر :

    شاید ایسا کچھ ھو سکتا ھے۔ اور اسکا مطلب صاف ظاہر ھے۔ لفظ پینڈے ۔۔۔۔۔۔ مشکلات اُٹھانے کو کہ سکتے ھیں۔

    مختصر سا تعارف پنجابی زبان ۔۔۔۔

    اردو شاعری کی طرح ھر زبان کی شاعری کا اپنا ایک رنگ ھے۔ مزہ ھے۔ ھمارے پاکستان کے پنجاب میں ہر پانچ کوس پر پنجابی بدل جاتی ھے ۔ اور ہنروستان میں بولی جانے والی پنجابی میں فرق ھے۔
    لکھنے میں بھی اور بولنے میں بھی۔

    پاکستان میں بولی جانے والی پنجابی کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہ مکھی کہا جاتا ھے۔
    اس کے معنی ھیں ۔۔۔۔۔ بادشاہ کے منہ سے نکلی۔

    ہنروستان میں بولی جانے والی پنجابی

    گرمکھی کہلاتی ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی گرو (استاد) کے منہ سے نکلی بات۔

    پاکستان میں بولی جانے والی پنجابی کا رسم الخط اُردو کی طرح ھے۔

    اور ہنروستان میں بولی جانے والی پنجابی کا سنسکرت۔

    یہ ھے مختصر سا تعارف پنجابی زبان کا ھمارے اُن دوستوں کے لیے جو پنجابی زبان سے بلکل واقفیت نہی ہے۔
    اس اردو کے بلاگ میں پنجابی کا تذکرہ کچھ عجیب سا لگا ہوگا مگر پنجابی بھی پاکستان کی ہی زبان ہے اور اسکے کئی الفاظ اردو میں بھی آتے جارہے ہیں اس لیے اس پنجابی مضمون کو یہا ں پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
    ۔۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  58. Dr.Pinhaan نے کہا ہے:
    June 21, 2009 بوقت 3:19 pm

    ڈاکٹرنگہت نسیم صاحبہ
    ۔
    جناب منظور قاضی صاحب ادب کا نیا بلاگ شروع کرنا چاہ رھے ھیں۔ان کی یہ خوشی میری بھی خوشی ھے۔
    نئے بلاگ کے بعد یا ایک اور بلاگ کی موجودگی میں اس بلاگ کی ضرورت باقی نہیں رہ جائے گی۔اس لئے میں اسے بند کرنا چاہ رھی ھوں۔آپ سے گزارش ھے کہ انتظامیہ کی طرف سے اس کے بند ھونے کا اعلان کر دیجئے۔ شکریہ
    پنہاںؔ

  59. Uzma Mahmood نے کہا ہے:
    June 21, 2009 بوقت 3:49 pm

    جناب مسعود قاضی صاحب
    اس سے قبل یہ بلاگ بند ہو مین آپ کو اس غزل پر مبارکباد دینا چاھتی ھوں
    واہ واہ واہ واہ
    ماژشاللہ موجودہ حالات کے پس منظر مین وہ غزل جتنی برجستہ اور حسب حال ہے اسکی باعث
    وہ بالکل الہامی لگتی ھے
    بقول آحمد فراز مرحوم کے
    اوروں کے قصیدے فقط آورد تھے جاناں
    جو تجھ پہ کہے شعر وہ الہام سے اترے
    ماشللہ مبارک ھو۔
    میرے خیال مین احمد فراز مرحوم کی اس غزل کے کچھ اور اشعار بھی ترجمان حال ھیں

    آنکھون مین ستارے تو کئ شام سے اتر ے
    پر دل کی اداسی نہ در و بام سے اتر ے
    کچھ رنگ تو ابھرے تری گل پیرھنی کا
    کچھ ز نگ تو آئنہ ء ایام سے اتر ے
    جب تک ترے قدمون مین فروکش ھین سبو کش
    ساقی خط بادہ نہ لب جام سے اتر ے
    بے طمع نوازش بھی نہیں سنگ د لون کی
    شائد وہ مرے گھر بھی کسی کام سے اترے
    اوروں کے قصیدے فقط آورد تھے جاناں
    جو تجھ پہ کہے شعر وہ الہام سے اترے
    اے جان فراز اے مرے ہو دکھ کے مسیحا
    ھر زھر زمانے کا ترے نام سے اترے
    اللہ حافظ
    شائد اب کسی اور جگہ ملاقات ھو تب تک کے لئے اجازت
    مجھے دعا ؤں میں یاد رکھنا
    عظمی محمود

  60. کنول خان نے کہا ہے:
    June 21, 2009 بوقت 6:23 pm

    اسلام و علیکم

    معژرت چاہتی ھوں ۔ اس نئےبلاگ میں حاضر نہیں ھو سکی ۔ اب اس سے پہلے کے نئے بلاگ کی مبارکباد دیتی آپ سب اِس کو بھی بند کرنا چاہ رھے ھیں۔ خیر میرے خیال میں سب کچھ انتژامیہ کے اختیار میں ھے وہ جو بہتر سمجھیں کریں۔

    امید کرتی ھوں پنہا جی کی طبیعت اب بہتر ھو گی۔ اللہ کریم صحت کاملہ وآجلہ عطاء کرے۔ آمین۔

    اب پنجابی کے حوالے سے جو شعر قاضی صاحب نے لکھا تھا وہ مشہور شاعر جناب انور مسعود صاحب کا ھے۔

    ” ملکِ عدم نوں ننگے پینڈے آیا اس جہان تے
    ایک کفن دی خاطر بندہ کننے پینڈے کردا اے ”

    اس کا مطلب صاف ظاہر ھے۔

    ملکِ عدن سے تو انسان اِس زمین پر نگے جسم آیا ھے۔ کچھ ساتھ نہی لایا۔ لیکن ایک ٹکڑا کپڑے کی خاطر کتنی تکلیفیں اُٹھاتا ھے ۔ امید کرتی ھوں اپنی ناقص عقل سے جو سمجھ کر لکھ سکی حاظر ھے۔

    جہاں تک میری نظم کا تعلق ھے۔ اُس کے جو معنی میں سمجھتی ھوں حاضرِ خدمت ھیں۔

    مٹی دا اک بت بنایا
    وچ پائی روح دی بُک

    جیسا کےانسان کی ابتدا کا ذکر ھے کے مٹی سے انسانی جسم بنایا گیا ۔ اور اُس میں اللہ تعالٰی نے ایک مٹھی روح کی ڈالی۔

    جد عرش توں فرش تے لے آیا
    تاں وسیلے آئے ڈھوک

    اور جب عرش سے فرش پر اسے بھیجنے کا حکم دیا ۔ تو زمین کو سب طرح کی ضروریات زندگی سےپُر کر دیا۔

    لفظ ڈھوک کا مطلب یہی ھے کہ جو قرآنِ کریم میں اللہ تعالٰی فرماتا ھے۔

    کُن فَاَ یَکُون۔۔۔۔۔۔۔ اور کام خود بخود ھونے لگثے ھیں۔

    دنیا اوس نوں باہر لبدی
    اوہ بیٹھا میں چہ لُک۔

    دُنیا اسے باہر ڈھونڈتی ھے اور اللہ میری شہ رگ سے بھی قریب ھمارے اندر رھتا ھے۔

    جنگل جنگل تسی جا کو لبھو
    اوہ ملدا اک واری جھک۔

    جگہ جگہ اُسے ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ۔ جو دل سے ایک بار سجدہ ریز ھو جائے اسے خدا اور اسکی خشنودی مل جاتی ھے۔

    متھے ٹیکیاں اوس لبھنا ناھیں
    جے نفس نہ جاوی مُک۔

    اور بنا لگن اور نیّت کی پاکیزگی کے لاکھ سجدے نمازیں پڑھتے رھیںکچھ حاصل نہیں جب تک نفس اور اناء نہ ختم کی جائے ۔ تکبر نہ ختم کیا جائے۔

    میں میں کردی دنیا ساری
    ایس وقعت ساری ککھ۔

    اِنسان خود کو بہت بڑی چیز سمجھتا ھے۔ حالانکہ اگر محض اللہ کا فضل نہ ھو تو انسان کی وقعت ایک تنکے کی بھی نہیں ھے۔

    کھلدا وجدان دا بوہا اودوں
    جد جندڑی جاوے جُھک۔

    اور وجدان کا در تبھی وا ھوتا ھے جپ انسان خود اپنی ذات کو اللہ کے سامنے جھکا دے۔ انکساری اپنا لے۔

    اور آخر میں عرض ھے کہ

    کنول پانی تد بھانڈے پیندا
    جد مٹی جاوے سُک۔

    کنول پانی تب ھی برتن میں ڈالا جاتا ھے جب مٹی کے برتن کی مٹی سوکھ جاتی ھے۔ جب انسان اپنی حقیقت پہچان لے۔ جب تکبر کو چھوڑ کر انکساری اپنا لے۔

    بس ایک ادنٰی سی کو شش تھی۔ امید کرتی ھوں پسند آئے گی۔

    شکریہ۔ نا چیز

    کنول خان۔

  61. Masood Quazi نے کہا ہے:
    June 21, 2009 بوقت 7:54 pm

    سلام علیکم
    محترمہ عطمی محمود صا حبہ
    سلام علیکم
    ما شاللہ ، سبحان اللہ میری خوشقسمتی ھے کہ آپ کو میرا کلام پسند آگیا۔ اور ااحمد فراز صاحب
    کے برجستہ اشعر اور پوری غزل لکھ کر آپ نے ثابت کردیا کہ آپکا مشاہدہ اور مطالعہ دونوں لایق تعریف ھیں
    میری شائع شدہ اس غزل کا ایک شعر شائع ھونے سے رہ گیا تھا وہ بھی حاجر ھے شائد پسند آئے، خیال فرسودہ ھےمگر چونکہ غزل کا حصہ ھے اور حسب حال بھی اسلئے برداشت فرمالیں

    “نہ کرتے ھم اگر معلوم ھوتا
    محبت با عث آز ا ر ھوگی ”

    اب جبکہ یہ بلاگ بھی حسب دستور اپنے منطقی انجام تک پھونچ گیا ھے تو لیجئے اسی فراز صاحب مر حوم کی غزل مین ایک شعر جو برجستہ ھوا ھے دیکھ لیں

    ” ھم آپ ، سبکدوش فرائض سے ھوئے ھیں
    حاکم نہ سمجھ ! ھم ترے احکام سے اترے ”

    کنول صاحبہ کی پنجابی کی تحریر بھت خوبصورت ھے اب جب کہ انھون نے اردو تشریح فرمادی ھے تو اس غزل کا اردو منظوم ترجمہ اگر موقعہ ملے تو کیجئے

    اللہ حافظ و نگہبان
    مسعود قاضی ڈلس ٹکساس

    ِ

  62. Dr.Pinhaan نے کہا ہے:
    June 21, 2009 بوقت 9:18 pm

    سوچ رھی ھوں آئندہ کوئی بلاگ شروع رکوں تو ساتھ ھی اس کے بند کرنے کا اعلان بھی اسی وقت کر دوں ۔ تاکہ جو رونق بلاگ کے بند کرنے کے اعلان کے بعد شروع ھوتی ھے وہ شروع میں ھی حاصل کرلی جائے۔ ۔ ۔ پنہاںؔ
    ۔
    iiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiCLOSEDiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiii

  63. Jugnoo نے کہا ہے:
    June 22, 2009 بوقت 7:38 pm

    pardon my typing in english – I am enjoying reading nice poetry here from real poets, why is this blog closed on insistence of one person? Obviously the blog is open since the comment buttons are still active.

    Please continue and we readers can enjoy more.

    Thank you very much

  64. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 23, 2009 بوقت 12:58 pm

    جگنو صاحب ( صاحبہ ) سے عرض ہے کہ اس بلا گ کو پنہاں صاحبہ نے شروع کیا تھا اور وہ ہی اس کو بند کرگئی ہیں ۔
    میں ایک نگران کی حیثیت سے اس کی نظامت کررہا تھا مگر اب اس بلاگ پر میرا کوئی نگرانی نہیں ہے۔
    آپ کی معلو مات کے لیے عرض ہے کہ ایک نیا بلاگ (میری نظامت میں )‌ بیت بازی کے عنوان سے کھل گیا ہے۔ چونکہ آپ ” اصلی شعرا ” کی ” عمدہ ” شاعری کی دلدادہ ہیں اس لیے اس نئے بلاگ میں حصہ لیں اور اپنے تبصروں سے اس بلاگ کو سرفراز فرمائیں ۔ شرط یہ ہے کہ آپ کی تحریر یونی کوڈ میں لکھی ہوئی اردو میں ہو ۔ انگریزی یا رومن اردو میں نہیں۔
    میرا خیال ہے کہ عالمی اخبار کی انتظامیہ اس حالیہ بلاگ کو اولین فرصت میں بند کردے گی ۔
    منظور قاضی از جرمنی

  65. منظور قاضی نے کہا ہے:
    June 23, 2009 بوقت 1:00 pm

    میرا کی بجائے میری کوئی نگرانی نہیں پڑھیے : شکریہ


مضامین (آر ایس ایس) اور تبصرے (آر ایس ایس).
 عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل: رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں