مسعود قاضی کی شاعری۔ امین ترمزی کی نثر۔ منظور قاضی کی بلاگ نگرانی

بسم اللہ ۔ ۔ ۔ ۔

65 Responses to “مسعود قاضی کی شاعری۔ امین ترمزی کی نثر۔ منظور قاضی کی بلاگ نگرانی”

  1. Dr.Pinhaan says:

    جناب مسعود قاضی صاحب

    بھت شکریہ آپ نے اس بلاگ کو غزل مرحمت فرمائی۔
    امید ھے اسی طرح لکھتے رھیں گے۔
    ۔
    پنہاںؔ

  2. Dr.Pinhaan says:

    شاہ عالم صدیقی صاحب

    “اللہ ہم سب کو غلطیاں کرنے سے محفوظ رکھے یا پھر ہمیں فرشتہ بنادے”۔
    ۔
    فرشتے کو بھی وھی ملتاھے جناب جو صر ف غلطی کرنے والے کو ھی ملنا چائیے۔ آپ ھیران ھوں گے کہ میں پچھلے جنم میں فرشتہ تھی۔ مجھے انسانوں کے ساتھ نیکیاں کرنے کا حکم تھا، بے غرض، بے لوث نیکی۔مگر ملتا کیا تھا ؟ صرف لعنتیں۔ ایک کے ساتھ نیکی کرتی تھی ، ایک ھزارکو برالگتاتھا کہ اس کے ساتھ نیکی کیوں۔ برا اس کو بھی لگتا تھا جس کے ساتھ پہلے نیکی کرکے دوسروں کی لعنتیں سہہ چکی ھوتی تھی ۔ اور اس کو بھی جس کو ائندہ کے لئے اپنی نیکیوں کا یقین دلاتی تھی۔
    ” میں دیکھ رہا ہوں کہ زرا سی غلطی جانے انجانے میں ہو جائے تو پھر اگلے کی خیر نہیں ہوتی اور وقت ضائع کئے بغیر اس کی سرزنش سرِ عام کر دی جاتی ہے۔”
    شکر کہ آپ دیکھ رھے ھیں ۔ آپ نے دیکھا ھے ناں کہ میں نے جانے انجانے میں کسی کو برا بھی نہیں بلکہ کسی اور کو اچھا کہہ دیا تھا۔اور بس پھرمیری سرزنش وتادیب سرے عام شروع ھوگئی ۔ روز نئے نئے رضاکار آجاتے ھیں اس کارِ خیر کے لئے۔مجھے آپ سے مل کے خوشی ھوئی آپ صاحبِ ںظر ھیں۔کبھی اتفاق سے کوئی اچھی بات یہاں نظر آجائے تو وہ بھی لکھ دیجئے گا۔
    پنہاںؔ

  3. Dr.Pinhaan says:

    جناب منظور قاضی صاحب
    ۔
    “اچھی اچھی شاعری” سے میری مراد کچھ خاص نہ تھی، سوائے اس کے کہ ایسی شاعری جو سب کو اچھی لگے ۔ جسے پڑھ کے سب لوگ ان کو داد دیں۔ جس سے ان کے شاعرانہ رتبے میں اضافہ ھو۔ جیسے میں کھوں کہ آج میں نے ایک اچھی غزل کھی ھے ۔جیسے کوئی یہ کھے کہ فلاں رسالے میں آپ کی اچھی اچھی شاعری پڑھنے کو ملتی ھے۔اتنی وضاحت کافی نہ ھو تو بتائیے گا باقی اگلی نشست میں اور وضاحت کردوں گی۔
    ۔
    اچھی خبر ھے کہ آپ چاھتے ھیں کہ آپ دوسرا بلاگ شروع کردیں جو میں بھی چاھتی ھوں۔ تو میں اسے کل بند کردوں گی۔
    اس بلاگ کے لئے جو تعاون آپ نے کیا ھے اس کے لئے ھمیشہ ممنون رھوں گی۔
    پنہاںؔ

  4. منظور قاضی says:

    پنہاں صاحبہ کا شکریہ کہ انہوں نے “اچھی اچھی شاعری” کی وضاحت کردی ۔ یہ وضاحت میرے لیے کافی ہے ۔ شکریہ

    یہ میری خواہش ہے کہ آپ کا یہ بلاگ بند نہ ہو ۔ خواہ میں اپنا ایک الگ بلاگ اردو شعر وشاعری اور بیت بازی پر شروع کروں یا نہ کروں ، اس بلاگ کوبند کرنے کی ضرورت نہیں ۔
    مجھے دو سے زیادہ بلاگوں کی تخلیق اور نظامت کا تجربہ ہے میں ان دونوں بلاگوں کو اور میرے ایک اور بلاگ کو جب تک صحت ساتھ دیتی ہے سنبھال سکتا ہوں۔
    میں عالمی اخبار کی انتظامیہ کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ قارئین سے اس سلسلے میں رائے لیں اور انکی اکثریت کی رائے میں جو بہتر ہو‌اسکو قبول کریں ۔

    یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ سامعین کا عالمی اخبار پر کوئی حق نہیں اس لیے کہ وہ عالمی اخبار کو مفت میں پڑھ رہے ہیں ۔ مگر میرا خیال ہے کہ عالمی اخبار کے ابتدائی منشور میں اردو کی ترویج کرنا بھی شامل ہے اور اس نیک کام کے لیے اردو شعر وادب کے بلاگوں کی ہمت افزائی بھی ضروری ہے۔
    فقط :
    خیر اندیش
    منظور قاضی از جرمنی

  5. منظور قاضی says:

    یہ کنول خان صاحبہ کا پنجابی کلام ہے ۔ پنجابی شاعری میں بھی بڑی جان ہے ۔
    میں اس نظم کو اپنے ایک منجمد شدہ بلاگ سے اس بلا گ میں چسپاں کررہا ہوں ۔ امید کہ پڑھنے والے اس سے لطف اندوز ہونگے۔ پنجابی عام فہم زبان ہے مگر اسکے چند الفاظ اردو داں حلقوں کے لیے شائد مشکل نظر آئیں ۔ اگر کنول خان صاحبہ اس نظم میں” ڈھوک ‘ کے لفظ اورا س نظم کے آخری شعر کی تشریح کردیں تو میرےعلم میں اضافہ ہوگا۔ چونکہ عالمی اخبار کے بلاگوں میں سندھی شاعری کی بھی پذیررائی ہورہی ، پنجابی شاعری بھی اس اخبار میں چھپ جائے تو سب کا بھلا ہوگا۔

    کنول خان صاحبہ ارشاد فرماتی ہیں:
    ایک حقیر نزرانہ
    ـــــــــــــــــــــــ

    مٹی دا اک بت بنایا
    وچ پائی روح دی بُک

    جد عرش توں فرش تے لے آیا
    تاں وسیلے آئے ڈھوک

    دنیا اوس نوں باہر لبدی
    اوہ بیٹھا میں چہ لُک۔

    جنگل جنگل تسی جا کو لبھو
    اوہ ملدا اک واری جھک۔

    متھے ٹیکیاں اوس لبھنا ناھیں
    جے نفس نہ جاوی مُک۔

    میں میں کردی دنیا ساری
    ایس وقعت ساری ککھ۔ ۔

    کھلدا وجدان دا بوہا اودوں
    جد جندڑی جاوے جُھک۔

    کنول پانی تد بھانڈے پیندا
    جد مٹی جاوے سُک۔

    شکریہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  6. منظور قاضی says:

    مجھے شکیل کی یہ غزل اس بلاگ کے موضوع سے اور میرے اپنے حال سے ہم آہنگ معلوم ہوتی ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔غزل ۔۔۔۔۔۔
    مرے ہم نفس مرے ہمنوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
    میں ہوں دردِ عشق سے جا ں بہ لب مجھے زندگی کی دعا نہ دے
    ۔۔۔
    مرے داغ دل سے ہے روشنی اسی روشنی سے ہے زندگی
    مجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر یہ چراغ تو ہی بجھا دنہ دے
    ۔۔
    مجھے چھوڑ دے مرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر
    یہ تری نوازشِ مختصر مرا درد اور بڑھا نہ دے
    ۔۔۔۔
    مرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں
    مجھے خوف آتشِ گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے
    ۔۔۔
    وہ اٹھے ہیں لے کے خم و سبو ارے او شکیل کہاں ہے تو
    ترا جام لینے کو بزم میں کوئی اور ہاتھ بڑھا نہ دے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فقط :
    خیر اندیش
    منظور قاضی از جرمنی
    نوٹ :” ہم نوا ” ، پاکستان کےایک صوبے میں منفی معنے رکھتا ہے اس لیے اس لفظ کو وہاں استعمال کرتے وقت احتیاط کرنے کی ضرورت ہے ۔( تفصیل کے لیے دوسرےبلاگ کا مطالعہ کریں۔)

  7. منظور قاضی says:

    ” ملکِ عدم نوں ننگے پینڈے آیا اس جہان تے
    ایک کفن دی خاطر بندہ کننے پینڈے کردا اے ”
    پنجابی کے مندرجہ بالا شعر کا خالق کون ہے ۔ شائد کوئی قاری بتا دے۔
    شعر دنیا کے اور خاص طور پر میری زندگی کی ترجمانی کرتا ہے ؛
    اس کو صحیح طریقے سے لکھنے کا کام کنول خان صاحبہ نے میرے ا یک دوسرے منجمد شدہ بلاگ میں کیا ہے او ر اس کے ساتھ ساتھ یہ تشریحات بھی لکھی ہیں جنھیں میں اس بلاگ میں چسپاں کررہا ہوں:
    کنوال خان صاحبہ کی یہ تحریر آپ سب کی نذ ر :

    شاید ایسا کچھ ھو سکتا ھے۔ اور اسکا مطلب صاف ظاہر ھے۔ لفظ پینڈے ۔۔۔۔۔۔ مشکلات اُٹھانے کو کہ سکتے ھیں۔

    مختصر سا تعارف پنجابی زبان ۔۔۔۔

    اردو شاعری کی طرح ھر زبان کی شاعری کا اپنا ایک رنگ ھے۔ مزہ ھے۔ ھمارے پاکستان کے پنجاب میں ہر پانچ کوس پر پنجابی بدل جاتی ھے ۔ اور ہنروستان میں بولی جانے والی پنجابی میں فرق ھے۔
    لکھنے میں بھی اور بولنے میں بھی۔

    پاکستان میں بولی جانے والی پنجابی کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہ مکھی کہا جاتا ھے۔
    اس کے معنی ھیں ۔۔۔۔۔ بادشاہ کے منہ سے نکلی۔

    ہنروستان میں بولی جانے والی پنجابی

    گرمکھی کہلاتی ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی گرو (استاد) کے منہ سے نکلی بات۔

    پاکستان میں بولی جانے والی پنجابی کا رسم الخط اُردو کی طرح ھے۔

    اور ہنروستان میں بولی جانے والی پنجابی کا سنسکرت۔

    یہ ھے مختصر سا تعارف پنجابی زبان کا ھمارے اُن دوستوں کے لیے جو پنجابی زبان سے بلکل واقفیت نہی ہے۔
    اس اردو کے بلاگ میں پنجابی کا تذکرہ کچھ عجیب سا لگا ہوگا مگر پنجابی بھی پاکستان کی ہی زبان ہے اور اسکے کئی الفاظ اردو میں بھی آتے جارہے ہیں اس لیے اس پنجابی مضمون کو یہا ں پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
    ۔۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  8. Dr.Pinhaan says:

    ڈاکٹرنگہت نسیم صاحبہ
    ۔
    جناب منظور قاضی صاحب ادب کا نیا بلاگ شروع کرنا چاہ رھے ھیں۔ان کی یہ خوشی میری بھی خوشی ھے۔
    نئے بلاگ کے بعد یا ایک اور بلاگ کی موجودگی میں اس بلاگ کی ضرورت باقی نہیں رہ جائے گی۔اس لئے میں اسے بند کرنا چاہ رھی ھوں۔آپ سے گزارش ھے کہ انتظامیہ کی طرف سے اس کے بند ھونے کا اعلان کر دیجئے۔ شکریہ
    پنہاںؔ

  9. Uzma Mahmood says:

    جناب مسعود قاضی صاحب
    اس سے قبل یہ بلاگ بند ہو مین آپ کو اس غزل پر مبارکباد دینا چاھتی ھوں
    واہ واہ واہ واہ
    ماژشاللہ موجودہ حالات کے پس منظر مین وہ غزل جتنی برجستہ اور حسب حال ہے اسکی باعث
    وہ بالکل الہامی لگتی ھے
    بقول آحمد فراز مرحوم کے
    اوروں کے قصیدے فقط آورد تھے جاناں
    جو تجھ پہ کہے شعر وہ الہام سے اترے
    ماشللہ مبارک ھو۔
    میرے خیال مین احمد فراز مرحوم کی اس غزل کے کچھ اور اشعار بھی ترجمان حال ھیں

    آنکھون مین ستارے تو کئ شام سے اتر ے
    پر دل کی اداسی نہ در و بام سے اتر ے
    کچھ رنگ تو ابھرے تری گل پیرھنی کا
    کچھ ز نگ تو آئنہ ء ایام سے اتر ے
    جب تک ترے قدمون مین فروکش ھین سبو کش
    ساقی خط بادہ نہ لب جام سے اتر ے
    بے طمع نوازش بھی نہیں سنگ د لون کی
    شائد وہ مرے گھر بھی کسی کام سے اترے
    اوروں کے قصیدے فقط آورد تھے جاناں
    جو تجھ پہ کہے شعر وہ الہام سے اترے
    اے جان فراز اے مرے ہو دکھ کے مسیحا
    ھر زھر زمانے کا ترے نام سے اترے
    اللہ حافظ
    شائد اب کسی اور جگہ ملاقات ھو تب تک کے لئے اجازت
    مجھے دعا ؤں میں یاد رکھنا
    عظمی محمود

  10. کنول خان says:

    اسلام و علیکم

    معژرت چاہتی ھوں ۔ اس نئےبلاگ میں حاضر نہیں ھو سکی ۔ اب اس سے پہلے کے نئے بلاگ کی مبارکباد دیتی آپ سب اِس کو بھی بند کرنا چاہ رھے ھیں۔ خیر میرے خیال میں سب کچھ انتژامیہ کے اختیار میں ھے وہ جو بہتر سمجھیں کریں۔

    امید کرتی ھوں پنہا جی کی طبیعت اب بہتر ھو گی۔ اللہ کریم صحت کاملہ وآجلہ عطاء کرے۔ آمین۔

    اب پنجابی کے حوالے سے جو شعر قاضی صاحب نے لکھا تھا وہ مشہور شاعر جناب انور مسعود صاحب کا ھے۔

    ” ملکِ عدم نوں ننگے پینڈے آیا اس جہان تے
    ایک کفن دی خاطر بندہ کننے پینڈے کردا اے ”

    اس کا مطلب صاف ظاہر ھے۔

    ملکِ عدن سے تو انسان اِس زمین پر نگے جسم آیا ھے۔ کچھ ساتھ نہی لایا۔ لیکن ایک ٹکڑا کپڑے کی خاطر کتنی تکلیفیں اُٹھاتا ھے ۔ امید کرتی ھوں اپنی ناقص عقل سے جو سمجھ کر لکھ سکی حاظر ھے۔

    جہاں تک میری نظم کا تعلق ھے۔ اُس کے جو معنی میں سمجھتی ھوں حاضرِ خدمت ھیں۔

    مٹی دا اک بت بنایا
    وچ پائی روح دی بُک

    جیسا کےانسان کی ابتدا کا ذکر ھے کے مٹی سے انسانی جسم بنایا گیا ۔ اور اُس میں اللہ تعالٰی نے ایک مٹھی روح کی ڈالی۔

    جد عرش توں فرش تے لے آیا
    تاں وسیلے آئے ڈھوک

    اور جب عرش سے فرش پر اسے بھیجنے کا حکم دیا ۔ تو زمین کو سب طرح کی ضروریات زندگی سےپُر کر دیا۔

    لفظ ڈھوک کا مطلب یہی ھے کہ جو قرآنِ کریم میں اللہ تعالٰی فرماتا ھے۔

    کُن فَاَ یَکُون۔۔۔۔۔۔۔ اور کام خود بخود ھونے لگثے ھیں۔

    دنیا اوس نوں باہر لبدی
    اوہ بیٹھا میں چہ لُک۔

    دُنیا اسے باہر ڈھونڈتی ھے اور اللہ میری شہ رگ سے بھی قریب ھمارے اندر رھتا ھے۔

    جنگل جنگل تسی جا کو لبھو
    اوہ ملدا اک واری جھک۔

    جگہ جگہ اُسے ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ۔ جو دل سے ایک بار سجدہ ریز ھو جائے اسے خدا اور اسکی خشنودی مل جاتی ھے۔

    متھے ٹیکیاں اوس لبھنا ناھیں
    جے نفس نہ جاوی مُک۔

    اور بنا لگن اور نیّت کی پاکیزگی کے لاکھ سجدے نمازیں پڑھتے رھیںکچھ حاصل نہیں جب تک نفس اور اناء نہ ختم کی جائے ۔ تکبر نہ ختم کیا جائے۔

    میں میں کردی دنیا ساری
    ایس وقعت ساری ککھ۔

    اِنسان خود کو بہت بڑی چیز سمجھتا ھے۔ حالانکہ اگر محض اللہ کا فضل نہ ھو تو انسان کی وقعت ایک تنکے کی بھی نہیں ھے۔

    کھلدا وجدان دا بوہا اودوں
    جد جندڑی جاوے جُھک۔

    اور وجدان کا در تبھی وا ھوتا ھے جپ انسان خود اپنی ذات کو اللہ کے سامنے جھکا دے۔ انکساری اپنا لے۔

    اور آخر میں عرض ھے کہ

    کنول پانی تد بھانڈے پیندا
    جد مٹی جاوے سُک۔

    کنول پانی تب ھی برتن میں ڈالا جاتا ھے جب مٹی کے برتن کی مٹی سوکھ جاتی ھے۔ جب انسان اپنی حقیقت پہچان لے۔ جب تکبر کو چھوڑ کر انکساری اپنا لے۔

    بس ایک ادنٰی سی کو شش تھی۔ امید کرتی ھوں پسند آئے گی۔

    شکریہ۔ نا چیز

    کنول خان۔

  11. Masood Quazi says:

    سلام علیکم
    محترمہ عطمی محمود صا حبہ
    سلام علیکم
    ما شاللہ ، سبحان اللہ میری خوشقسمتی ھے کہ آپ کو میرا کلام پسند آگیا۔ اور ااحمد فراز صاحب
    کے برجستہ اشعر اور پوری غزل لکھ کر آپ نے ثابت کردیا کہ آپکا مشاہدہ اور مطالعہ دونوں لایق تعریف ھیں
    میری شائع شدہ اس غزل کا ایک شعر شائع ھونے سے رہ گیا تھا وہ بھی حاجر ھے شائد پسند آئے، خیال فرسودہ ھےمگر چونکہ غزل کا حصہ ھے اور حسب حال بھی اسلئے برداشت فرمالیں

    “نہ کرتے ھم اگر معلوم ھوتا
    محبت با عث آز ا ر ھوگی ”

    اب جبکہ یہ بلاگ بھی حسب دستور اپنے منطقی انجام تک پھونچ گیا ھے تو لیجئے اسی فراز صاحب مر حوم کی غزل مین ایک شعر جو برجستہ ھوا ھے دیکھ لیں

    ” ھم آپ ، سبکدوش فرائض سے ھوئے ھیں
    حاکم نہ سمجھ ! ھم ترے احکام سے اترے ”

    کنول صاحبہ کی پنجابی کی تحریر بھت خوبصورت ھے اب جب کہ انھون نے اردو تشریح فرمادی ھے تو اس غزل کا اردو منظوم ترجمہ اگر موقعہ ملے تو کیجئے

    اللہ حافظ و نگہبان
    مسعود قاضی ڈلس ٹکساس

    ِ

  12. Dr.Pinhaan says:

    سوچ رھی ھوں آئندہ کوئی بلاگ شروع رکوں تو ساتھ ھی اس کے بند کرنے کا اعلان بھی اسی وقت کر دوں ۔ تاکہ جو رونق بلاگ کے بند کرنے کے اعلان کے بعد شروع ھوتی ھے وہ شروع میں ھی حاصل کرلی جائے۔ ۔ ۔ پنہاںؔ
    ۔
    iiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiCLOSEDiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiii

  13. Jugnoo says:

    pardon my typing in english – I am enjoying reading nice poetry here from real poets, why is this blog closed on insistence of one person? Obviously the blog is open since the comment buttons are still active.

    Please continue and we readers can enjoy more.

    Thank you very much

  14. منظور قاضی says:

    جگنو صاحب ( صاحبہ ) سے عرض ہے کہ اس بلا گ کو پنہاں صاحبہ نے شروع کیا تھا اور وہ ہی اس کو بند کرگئی ہیں ۔
    میں ایک نگران کی حیثیت سے اس کی نظامت کررہا تھا مگر اب اس بلاگ پر میرا کوئی نگرانی نہیں ہے۔
    آپ کی معلو مات کے لیے عرض ہے کہ ایک نیا بلاگ (میری نظامت میں )‌ بیت بازی کے عنوان سے کھل گیا ہے۔ چونکہ آپ ” اصلی شعرا ” کی ” عمدہ ” شاعری کی دلدادہ ہیں اس لیے اس نئے بلاگ میں حصہ لیں اور اپنے تبصروں سے اس بلاگ کو سرفراز فرمائیں ۔ شرط یہ ہے کہ آپ کی تحریر یونی کوڈ میں لکھی ہوئی اردو میں ہو ۔ انگریزی یا رومن اردو میں نہیں۔
    میرا خیال ہے کہ عالمی اخبار کی انتظامیہ اس حالیہ بلاگ کو اولین فرصت میں بند کردے گی ۔
    منظور قاضی از جرمنی

  15. منظور قاضی says:

    میرا کی بجائے میری کوئی نگرانی نہیں پڑھیے : شکریہ