2014 ,November 01
ساحر لدھیانوی :اردو کا ایک منفرد شاعر

منظور قاضی ، بتاریخ  July 30, 2009

اکتوبر 1980 کے جنگ اخبار میں ساحر لدھیانوی کی وفات پر حمید اختر کا مضمون پڑھنے میں آیا تھا ۔ چونکہ وہ مضمون میرے محبوب شاعر کے بارے میں تھا میں نے اسے ابھی تک ساحر کی تصنیف : تلخیاں ” میں محفوظ رکھا ہوں اور کبھی کبھی اس کتا ب کو اور اس مضمون کو پڑھتا رہتا ہوں۔
ساحر کی کتاب تلخیاں میں تو اسکی زندگی کے بارے میں کوئی تذکرہ موجود نہیں مگر حمید اختر کے مضمون میں ساحر کے بارے میں یہ معلومات موجود ہیں:
1۔ ساحر کا نام عبدالحئی تھا
2۔ ساحر کے والد نے تیرہ شادیا ں کی تھیں مگر اولاد نرینہ ساحر کےسوا کوئی نہ تھی۔
3۔ ساحر کے ظالم باپ کا برتا و‌ساحر کے ساتھ اور ساحر کی ماں کے ساتھ مشفقانہ نہیں تھا ۔
4۔ ساحر کے ماں نے ساحر کی کم عمری میں ، ساحر کے باپ کے ظلم و ستم سے تنگ آکر اس سے علحیدگی اختیار کی تھی ۔ مگر ساحر کے مامووں نے ساحر کی سرپرستی کی تھی اور مالی اور معاشی سہارا دیا تھا۔
5۔ اپنی طالب علمی کےزمانے میں ساحر لدھیانہ گورنمنٹ کالج سے نکل کر اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔
6۔ اسی دوران ساحر نے ادب لطیف کی ادارت سنبھالی
7۔ 1945 میں ساحر بمبئ فلم کی دنیا میں آیا اوراپنےساتھ حمید اختر کو بھی لاہور سے ساتھ لا یا ۔
8۔ بمبئی میں ترقی پسند ادیبوں اور شاعروں کا مجمع لگا رہتا تھا ۔ ان میں سید سجاد ظہیر ۔ سبط ِ حسن ۔کرشن چندر ، سعادت حسن منٹو، علی سردار جعفری ، کیفی اعظمی، مجروح سلطان پوری ، راجہ مہدی علی خاں، میرا جی ، پریم ناتھ، وشوا متر عادل ، سرلا دیوی ، صفدر میر ، اوپندر ناتھ اشک اور متعدد سخنور، جن میں ابراہیم جلیس بھی شامل تھا ، موجود تھے ۔ اس زمانے میں ادبی محفلوں اور مشاعروں سے بمبئی میں بڑی رونق سی لگی رہتی تھی ۔ ( نوٹ : ان میں سے کئی شعرا حیدرآباد دکن کے مشاعروں میں بھی آتے تھے جن میں شریک ہونے کی سعادت مجھے بھی مل چکی ہے )
9۔ قیام پاکستان کے بعد ساحر جون 1949 میں لاہور آیا اور ایبٹ روڈ پر ایک مکان میں (جسے حمید اختر نے ساحر کے لیے الاٹ کروایا تھا ) اپنی والدہ کے ساتھ منتقل ہوگیا ۔مگر اس کی معاشی حالت اچھی نہیں تھی ۔ سویرا کی ادارت سے صرف چالیس پجا س روپیے مل جاتے تھے جو اسکی ضروریات کے لیے کافی نہیں تھے ۔
10۔ 1949 میں ساحر کی والدہ کا انتقال ہوگیا جس کے غم کو وہ برداشت نہ کرسکا ۔ دل کا دورہ پڑا مگر بروقت معالجہ سے ٹھیک ہوگیا مگر ساحر کا دل پاکستان کی زندگی اور سیاسی حالت سے بیزار ہوکر دہلی اور دہلی سے بمبئی چلا گیا ۔
11۔ بمبئی ہی میں اس نے اپنی زندگی کے کئے سال گذارے اور تقریبا تیس سال تک بمبئی کی فلمی دنیا پر اپنی شاعری سے حکومت کرتا رہا ۔
12۔ ساحر کی آخری زندگی میں اس کو باہر کی دنیا سے خوف اور بیزارگی کی کیفیت پید ا ہوگئی تھی۔ وہ اپنی موٹر کار کے ڈرایور کو دن بھر بلا کر اپنی ڈیوٹی پر متعین تو کردیتا مگر کبھی اپنی ہی کار میں بمبئی کی محفلوں میں نہیں جاتا تھا۔ ( اپنے مہمانو ں سے کہتا کہ اسکی کار اور شوفر کی خدمات کو استعمال کریں ) ۔
13 ۔ ساحر نے اردو شاعری کو بہت کچھ دیا اور فلمی دنیا کو اپنی لافانی تخلیقات سے نوازا مگر اسکا رابطہ عوام اور ان کی انکے دکھوں کے بارے میں ہی ہمیشہ سوچتا اور لکھتا رہا ۔
14۔ 1980 میں انستٹھ برس اور کچھ ماہ کی عمر میں ساحر نے اس جہانِ فانی کو خیرباد کہ دیا۔ ( حق مغفرت کرے بہت ہی اچھا انسان اور عظیم ترین شاعر تھا ، آمین )
نوٹ : شاعر کی رومانی زندگی کے متعلق کوئی معلومات اس مضمون میں اور اسکی کتاب تلخیا ں میں نہیں ہیں مگر کوئی قاری ساحرکی رومانی زندگی اور اگر اس نے شادی کی تھی تو اسکے متعلق اور اس نے کوئی اولاد چھوڑی ہو تو اس کے متعلق کوی معلومات اس بلاگ میں لکھے تو ساحر کی شاعری کے محرکات کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔
۔۔۔۔۔۔
آیندہ احمد ندیم قاسمی کے مختصر تمہیدی مضمون کا اقتباس بھی پیش کرونگا جس کو احمد ندیم قاسمی نے تلخیا ں کی ابتدا میں تحریر کیا ۔
۔۔۔۔۔۔

یہ تو تھی اس عظیم شاعر کی مختصر سی سوانح عمری ۔ اب رہی اسکی شاعری تووہ بھی ہر اردو داں کے ذہن میں موجود ہے اور زندہ رہے گی ۔ اسکے لکھے ہوے فلمی اشعار تو لافانی ہوگئے ہیں مگر اس کی کتاب ” تلخیاں” بھی اردو زبان کے لیے ایک قیمتی سرمایہ بن گئی ہے ۔
میں اس بلاگ کو مختصر کرنے کی خاطر اس وقت اسکی اس مشہور نظم کے چھ میں سے پانچ بند لکھتا ہوں جسے جنگ اخبار نے اکتوبر 1980 میں چھاپی تھی اور یہ نظم بھارت میں ساحر نے غالب کی برسی “جشنِ غالب ” پر فروری 1969 میں لکھی تھی :
عنوان : جشنِ غالب
اکیس برس گذرے آزادی ء کامل کو
تب جانے کہیں ہم کو غالب کا خیال آیا
تربت ہے کہاں اسکی مسکن تھا کہا ں اسکا
اب اپنے سخن پرور ذہنوں میں سوال آیا
۔۔۔۔۔۔۔
سو سال سے جو تربت چادر کو ترستی تھی
اب اس پہ عقیدت کے پھولوں کی نمائش ہے
اردو کے تعلق سے کچھ بھید نہیں کھلتا
یہ جشن ، یہ ہنگامہ ، خدمت ہے کہ سازش ہے
۔۔۔۔
جن شہروں میں گونجی تھی غالب کی نوا برسوں
ان شہروں میں اب اردو بے نام و نشاں ٹھیری
آزادی ء کامل کا اعلان ہو ا جس دن
معتوب زباں ٹھہری ، غدار زباں ٹھہری
۔۔۔۔
جس عہد سیاست نے یہ زندہ زباں کچلی
اس عہد سیاست کو مرحوموں کا غم کیوں ہو؟
غالب جسے کہتے ہیں، اردو ہی کا شاعر تھا
ارد و پہ ستم ڈھا کر غالب پہ کرم کیوں ہو ؟
۔۔۔۔
اور یہ آخری بند:
یہ جشن مبارک ہو ، پر یہ بھی صداقت ہے
ہم لوگ حقیقت کے احسا س سے عاری ہیں
گاندھی ہو کہ غالب ہو انصاف کی نظروں میں
ہم دونوں کے قاتل ہیں ، دونوں کے پجاری ہیں
۔۔۔۔
فقط:
ساحر کی شاعری کا دلدادہ
منظور قاضی از جرمنی


42 تبصرے برائے “ساحر لدھیانوی :اردو کا ایک منفرد شاعر”

  1. ماریہ علی نے کہا ہے:
    July 30, 2009 بوقت 11:42 pm

    السلام علیکم قاضی صاحب !!
    بہت عرصہ بعد میں پھر سے بلاگز لکھنے کی ہمت کر رہی ہوں اسکی وجہ آپکو بھی معلوم ہے پہلے پاکستان پھرکلینک پھر والد کی تبعیت بس اسی سب میں الجھی رہی مگر اب کچھ وقت ملا تو یہاں حاظری دے رہی ہوں ۔
    ساحر لدھیانوی صاحب کے لئیے آپ نے یہ بلاگ لکھا ۔قاضی صاحب میرے بارے میں اور میری علمی قابلیت کے بارے میں آپکو بخوبی علم ہے کے میں تو اردو سے ھی ٹھیک طرح سے واقف نہیں تو اتنے عظیم اور پرانے شاعر کے بارے میں مجھے کیا علم ہو سکتا ہے ؟پہلے تو میں نے سوچا کے میں بلاگ پڑھکر ایک خاموش پڑھنے والی کی طرح چپ کر کے بیٹھی رہوں ۔مگر پھرجب ساحر صاحب کے جشن غالب میں لکھی نظم کے یہ لکھے ہوئے بند میں نے پڑھے تو بنا تعریف کئیے نا رہ سکی اسی لئیے یہ بلاگ لکھ رہی ہوں ۔
    قاضی صاحب آپ حقیقت میں آج کی نسل پر یہ احسان کرتے ہیں کے ایسی عظیم ہستیوں کی معلومات ہم کو یہاں فراہم کرتے ہیں ورنہ ایسے عظیم لوگوں کے بارے میں ہم جیسوں کو کبھی معلوم ہی نا ہو۔
    میری یہی دعا ہے کے پروردگار عالم آپ کو صحت و تندرستی عطا کرے اور آپ ہم جیسے کم علم آنے والوں کو ایسی معلومات فراہم کرتے ہیں :)
    آپکی دعاوں کی محتاج
    ماریہ علی

  2. محمداحمد ترازی نے کہا ہے:
    July 31, 2009 بوقت 5:54 am

    جناب منظور قاضی صاحب السلام علیکم
    خوبصورت بلاگ لکھنے پر مبارکباد لیکن آپ کے اس بلاگ نے نوجوانی کی وہ یادیں تازہ کردیں جب دل باغی اور جوان تھا اور معاشرے کے باغی و سرپھرے لوگ اس کے آئیڈیل تھے،ان میں خاص طور پر ساحر لدھیانوی ،ساغر صدیقی،احمد فراز،فیض احمد فیض اور محسن نقوی جیسے عیظم شاعر سرفہرست تھے لیکن وقت و حالات نے اور ذمہ داریوں نے اس قلبی تعلق میں کچھ دوریاں پیدا کردیں
    فکر معاش کھا گئی دل کی ہر امنگ کو
    جائیں تو لے کر جائں کیا حسن کی بارگاہ میں
    ——————
    دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کردیا
    تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے
    ——————
    لیکن قاضی صاحب اس کے باوجود معاشرتی رسموں اور ظلم و نانصافی کے یہ باغی آج بھی دل کے نہاں خانوں میں زندہ ہیں۔آپ کے اس بلاگ نے ہمارے ماضی کی تمام یادیں ایک بار پھر تازہ کردیں اور نوجوانی کا وہ دور دوبارہ یاد دلادیا جب ہم بھی ان خضرات کی سوچ و فکر اور خیالات کے اسیر تھے،اور ہر محفل میں گاہے بگاہے ان کے اشعار کا تذکرہ کرتے رہتے تھے ،بلاشبہ ساحر لدھیانوی ہمیشہ سے ہمارے پسندیدہ شاعر رہے اس پسندیدگی میں ساحر کی شاعری کے ساتھ اس کے حالات کا بھی بہت حد عمل دخل ہے،اس عظیم شاعر کے بے شمار اشعار برسیں گزرنے کے بعد آج بھی ازبر ہیں ایک شعر عرض ہے
    دنیا نے حادثات و حوادث کی شکل میں
    جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
    اسی طرح اس کی بے شمار نظمیں آج بھی دل کے تاروں کو چھیڑ تی اور محبت کے نغمے بکھیرتی ہیں جن میں خاص طور پر تاج محل،کبھی کبھی اور آج کا پیار بچا کر رکھو وغیرہ قابل ذکر ہیں ،ساحر کی نظم تاج محل اور کبھی کبھی تو بھولتی ہی نہیں خاص طور پر تاج محل کا یہ شعر
    ایک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
    ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
    —————-
    زمانے ست بغاوت پر مجبور کردیتا ہے
    اسی طرح کبھی کبھی کا یہ بند بھی دیکھئے
    نہ کوئی جادہ نہ منزل نہ روشنی کا سراغ
    بھٹک رہی ہے خلاوں میں زندگی میری
    ان ہی خلاوں میں رہ جاوں گا کہیں کھوکر
    میں جانتا ہوں میرے ہم نفس مگر ہونہی
    کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے
    ساحر تو خلاوں میں کھو گیا لیکن اس کی لافانی یادیں آج بھی زندہ ہیں ایسے عظیم شاعر کے بارے معلومات فراہم کرنے اور ہمیں‌ہمارے ماضی سے رشتہ استوار کرنے پر میں آپ کا شکر گزار ہوں اللہ کرے زور قلم اور بھی زیادہ
    آپ کا بھائی محمد احمد ترازی کراچی پاکستان

  3. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    July 31, 2009 بوقت 6:46 am

    ساحر کو میں نے اس وقت جانا جب مجھے پتہ چلا کہ وہ میری آیئڈیل رائٹر امرتا پریتیم کا محبوب بھی تھا ۔۔ انشاللہ وقت ملا تو امرتا کا ” آخری خط ” ضرور لکھونگی جسے پڑھ کر میری آنکھیں آج بھی بھیگ جاتی ھیں جو اس نے ساحر کو اس کے مرنے کے بعد لکھا تھا ۔۔ میں سمجھتی ھوں کی امرتا کا وہ خط ایک ادبی معراج ھے ،جہاں نصیب والے ھی پہنچتے ھیں ۔۔

  4. منظور قاضی نے کہا ہے:
    July 31, 2009 بوقت 9:22 am

    میرے اس بلاگ کی ساحر لدھیانوی کی یادوں کے طفیل جو پذیرائی ہورہی ہے اس کے لیے میرے پاس سوائے آنسووں کے کوئی تحفہ موجود نہیں:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اتنے اچھے الفاظ میں میری کوشش کو سراہا:

    ” قاضی صاحب آپ حقیقت میں آج کی نسل پر یہ احسان کرتے ہیں کے ایسی عظیم ہستیوں کی معلومات ہم کو یہاں فراہم کرتے ہیں ورنہ ایسے عظیم لوگوں کے بارے میں ہم جیسوں کو کبھی معلوم ہی نا ہو۔”
    ۔۔۔۔۔۔
    میں جناب محمد احمد ترازی صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے نہایت ہی ہمت افزایانہ لہجے میں ساحر کے بلاگ سے اپنے ماضی کے اس دور کو یاد کیا جسے میں بھی اپنی زندگی کا انقلابی مگر سنہری دور سمجھتا ہوں:

    ” ساحر تو خلاوں میں کھو گیا لیکن اس کی لافانی یادیں آج بھی زندہ ہیں ایسے عظیم شاعر کے بارے معلومات فراہم کرنے اور ہمیں‌ہمارے ماضی سے رشتہ استوار کرنے پر میں آپ کا شکر گزار ہوں اللہ کرے زور قلم اور بھی زیادہ
    آپ کا بھائی محمد احمد ترازی کراچی پاکستان”
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کا ممنون و مشکور ہوں کہ انہوں نے وقت ملنے پر امریتا پریتم کے اس خط کو اس بلاگ میں شایع کرنے کا وعدہ کیا جسے امریتا پریتم نے ساحر کی وفات پر لکھا تھا :

    ” ۔ انشاللہ وقت ملا تو امرتا کا ” آخری خط ” ضرور لکھونگی جسے پڑھ کر میری آنکھیں آج بھی بھیگ جاتی ھیں جو اس نے ساحر کو اس کے مرنے کے بعد لکھا تھا “”
    ۔۔۔۔۔۔۔
    میں ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ سے گذارش کرونگا کہ وہ ” وقت ” ملنے کا انتظار کئے بغیر اس خط کو اس بلاگ کے ابتدائی دور ہی میں شایع کردیں تاکہ ساحر کو اور اسکی شاعری کے محرکات کو سمجھنے میں سب کو مدد ملے اور تمام پڑھنے والوں کی آنکھیں بھیگ جائیں ۔
    ۔۔۔۔۔
    اس بلاگ کی ابتدا میں میں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ میں احمد ندیم قاسمی مرحوم کے ان چند جملوں کو یہاں دہرا وں گا جو ساحر کی کتاب ” تلخیاں” کے سرورق کے دوسرے صفحے پر موجود ہیں:
    ” جدید تر شعرا ء میں مجھے ساحر کی سی مکمل انفرادیت کہٰیں نظر نہیں آئی ۔ وہ انفرادیت جس نے ” تاج محل” ایسی غیر فانی نظم کو جنم دیا ” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ” ساحر نہ پرانے شاعروں کے روایتی لا ابالیانہ پن کا شکار ہے اور نہ نئے شاعروں کے جنونِ جدت پسندی کا ۔ وہ ایک واضح اور معین پیغام کا حامل ہے”۔۔۔۔۔۔۔
    ” اس مجموعے ( تلخیاں ) کی کوئی نظم لے لیجیے آپ کو اس میں شدتِ احساس، تفکر کی گہرائی ، صوتی آہنگ، مشاہدے کی ہمہ گیری اور ماحول کی عکاسی کی بہت سے مثالیں مل جائیں گی ۔”

    ۔۔۔۔۔۔
    جناب محمد احمد ترازی صاحب نے ساحر کے چند اشعار نمونے کے طور پر پیش کیے ہیں انہی اشعار کو ہم اپنی نوجوانی میں بیت بازی کے وقت استعمال کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے :
    دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
    جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
    ۔۔۔۔۔۔
    یہ قطعہ جس کا عنوان ” ردِ عمل تھا ” سب کو یاد تھا:

    چند کلیاں نشاط کی چن کر
    مدتوں محوِ یاس رہتا ہوں
    تیرا ملنا خوشی کی بات سہی
    تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں
    ۔۔۔۔
    اور یہ اشعا ر بھی:
    محبت ترک کی میں نے ، گریباں سی لیا میں نے
    زمانے اب تو خوش ہو ، زہر یہ بھی پی لیا میں نے

    انھیں اپنا نہیں سکتا ، مگر اتنا بھی کیا کم ہے
    کہ کچھ مدت حسیں خوابوں میں کھوکر جی لیا میں نے
    ۔۔
    ابھی زندہ ہوں لیکن سوچتا رہتا ہوں خلوت میں
    کہ اب تک کس تمنا کے سہارے جی لیا میں نے
    ۔۔۔۔۔۔
    میں ، اور تم سے ترکِ محبت کی آرزو
    دیوانہ کردیا ہے غم۔ روزگا ر نے
    ۔۔۔۔۔
    یہ شعر بھی خوب تھا کہ :
    پھر نہ کیجئے مری گستاخ نگاہی کا گلہ
    دیکھیے آپ نے پھر پیار سے دیکھا مجھ کو
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ساحر کی اس شعر کے دوسرے مصرع کو طرح بنا کر کئی سال پہلے ڈلس ، ٹیکسس میں ایک مشاعرہ بھی منعقد ہوا تھا ( جس میں میں بھی شریک تھا) :
    خود داریوں کے خون کو ارزاں نہ کرسکے
    ہم اپنے جوہروں کو نمایا‌ں نہ کرسکے
    ۔۔۔۔۔۔
    اس غزل کے یہ دو اشعار بھی بہت خوب ہیں کہ:
    ہر شئے قریب آکے کشش اپنی کھو گئی
    وہ بھی علاجِ شوقِ گریزاں نہ کرسکے

    کس درجہ دل شکن تھے محبت کے حادثے
    ہم زندگی میں پھر کوئی ارماں نہ کرسکے
    ۔۔۔
    ساحر کی نظم ” تاج محل ” کے چند بند تو سب کو یاد تھے:
    میری محبوب ! انھیں بھی تو محبت ہوگی
    جن کی صناعی نے بخشی ہے اسے شکلِ جمیل
    ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود
    آج تک ان پہ جلائی نہ کسی نے قندیل
    ۔۔
    یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارا، یہ محل
    یہ منقش درودیوار یہ محراب ، یہ طاق
    اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
    ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
    میری محبوب ، کہیں اور ملا کر مجھ سے

    ۔۔۔۔۔
    تبصرہ طویل ہوجائے گا اس لیے اس وقت یہیں پر ختم کرتا ہوں ۔
    ویسے میں اس بلاگ کے پڑھنے والوں سے گذارش کرونگا کہ وہ ساحر کی زندگی اور اسکی شاعری کے متعلق جو کچھ بھی لکھنا چاہیں تو ضرور لکھیں : اے آمدنت باعث آبادی ما۔
    جس طرح فیض ، جالب اور فراز کو اور انکے اشعار کو سب جانتے ہیں اسی طرح ایک زمانے میں ساحر کی غیر فلمی اور فلمی شاعری کے دلدادہ اور شیدائی بہت تھےاور میرا خیال ہے کہ اب بھی اس دنیا میں موجود ہیں ۔
    مجھے روحانی خوشی ہورہی ہے کہ میںساحر کی شاعری اور اسکی زندگی کے موضوع پر بلاگ لکھ سکا ہوں
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  5. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    July 31, 2009 بوقت 9:59 am

    قاضی صاحب آپکی اجازت کے بغیر آپکے بلاگ میں ساحر کی تصویر کااضافہ کر دیا ہے۔امید ہے ناگوار خاطر نہیں گزرے گا۔
    آمدم بر سر موضوع
    مجروح شکیل بدایونی اور ساحر

    ساحر اور مجروح سلطان پوری کا نام اکثر ساتھ ساتھ لیا جاتا ہے، لیکن میرے خیال سے دونوں شعرا کا پس منظر ایک جیسا ہونے کے باوجود ساحر مجروح سے کہیں بہتر فلمی شاعر تھے۔ مجروح کی فلمی نغمہ نگاری اکثر کھوکھلی نظر آتی ہے، وہ شاعری کے ادبی پہلو سے مکمل انصاف نہیں کر پاتے۔ جو کام ساحر بہت سہولت سے کر گزرتے ہیں، وہاں اکثر اکثر مجروح کی سانس قدم اکھڑنے لگتی ہے۔ مجروح کی فلمی بولوں کی ایک نمایاں بات یہ ہے کہ وہ سننے میں بہت بھلے لگتے ہیں لیکن جوں ہی کاغذ پر لکھے جائیں، ان میں عیب نظر آنے لگتے ہیں۔ اس کے مقابلے پر ساحر کی فلمی شاعری کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ نک سک سے درست اور عام طور پر ادبی لحاظ سے بے عیب ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ کاغذ پر لکھنے کے معیار پر بھی پورا اترتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی اور فلمی گیت نگار کے گیتوں کے اتنے ایڈیشن نہیں چھپے جتنے ساحر کے “گاتا جائے بنجارا” اور “گیت گاتا چل” کے۔

    ایک اور فلمی شاعر شکیل بدایونی ہیں جن کا نام ساحر کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ لیکن دونوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔ شکیل کے ہاں بعض جگہ عروض کی غلطیاں بھی نظر آتی ہیں، مثال کے طور پر وہ لفظ “نہ” کو بر وزنِ “نا” بھی باندھ جاتے ہیں، جو عروض کے اعتبار سے غلط ہے۔ اس کے علاوہ شکیل کے ہاں زبان و بیان کی کوئی تازگی نظر نہیں آتی، وہی لگی بندھی تشبیہات، پامال استعارات اور استعمال شدہ ترکیبوں کی بھرمار شکیل کا خاصہ ہے۔

    وکیپیڈیا سے حاصل کردہ اقتباس

  6. منظور قاضی نے کہا ہے:
    July 31, 2009 بوقت 1:44 pm

    جناب صفدر ھمدانی صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے ساحر کی تصویر لگا کر اس بلاگ کو چار چاند لگا دیا۔ ساتھ ہی ساتھ انکا ویکی پیڈیا سے اقتباس جس میں ساحر اور شکیل اور مجروح کی فلمی شاعری کا تقابلی جائزہ تھا ، وہ بھی شایع کردیا ۔شکریہ
    ۔۔
    خمار بارہ بنکوی بھی مجروح سلطان پوری کے ہم عصر تھے اور یہ دونوں اپنی زندگی کے آخری حصہ میں دبائی اور ابوظہبی کے مشاعروں میں جو سلیم جعفری کی نظامت میں ہوا کرتے تھے ، جاتے تھےاور اپنا اپنا کلام ترنم کے ساتھ سنا یا کرتے تھے۔ ( یہ ساحر کی وفات کے کئی سال بعد کی باتیں ہیں )۔
    ۔۔۔
    افسوس کہ ساحر اپنی آخری زندگی میں ہوائی جہاز کے سفر سسے ڈرنے لگا اور اس خوف کے باعث ہوائی جہاز کا سفر نہیں کرسکا ۔
    ۔۔۔۔۔
    ساحر نے اپنی نظم فن کار میں اپنے فن کو فروخت کرنے کے پر یہ کہا ہے :
    میں نے جو گیت ترے پیار کی خاطر لکھے
    آج ان گیتوں کو بازار میں لے آیا ہوں

    آج دکان پہ نیلام اٹھے گا ان کا
    تونے جن گیتوں پہ رکھی تھی محبت کی اساس

    آج چاندی کے ترازو میں تلے گی ہر چیز
    میرے افکا ر ، مری شاعری ، میرا احساس

    جو تری ذات سے منسوب تھے ان گیتوں کو
    مفلسی ، جنس بنانے پہ اتر آئی ہے

    بھوک ، تیرے رخِ رنگیں کے فسانوں کے عوض
    چند اشیا ئے ضرورت کی تمنائی ہے

    دیکھ ! اس عرصہ کہ محنت و سرمایہ میں
    میرے نغمے بھی مرے پاس نہیں رہ سکتے

    تیرے جلوے کسی زردار کی میراث سہی
    تیرے خاکے بھی مرے پاس نہیں رہ سکتے

    آج ان گیتوں کو بازار میں لے آیا ہوں
    میں نے جو گیت تر ے پیار کی خاطر لکھے

    ۔۔۔۔۔
    ساحر کو اپنا فن بیچ کر کوئی دلی خوشی حاصل نہیں ہوتی تھی مگر وہ بھی مجرو ح او شکیل کی طرح مجبور تھا۔
    یہ بات ضرور ہے کہ ساحر نے اپنے فلمی اور غیر فلمی گیتوں میں غریبوں کی مجبوریوں اور انکی پریشانیوں کی بہت ہی موثر عکاسی کی تھی ۔
    ۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  7. منظور قاضی نے کہا ہے:
    July 31, 2009 بوقت 10:47 pm

    ایک بات جو حمید اختر نے اپنے مضمون ( جس کا تذکرہ میں اس بلاگ کی تمہید کرچکا ہوں ) میں کہی ہے اور جس کا ساحرکی زندگی کے
    ابتدائی دور سے کافی تعلق ہے وہ یہ ہے کہ :
    ساحر کے والد لدھیانہ کے قریب ایک گاوں کے ذیلدار تھے اور خاصے بڑے زمیندار تھے اور ان میں زمینداروں والے تمام عیوب ضرور موجود تھے۔
    انکی اپنے پڑوسی سے ( جس کا نام عبدالحئ تھا ) کافی دشمنی تھی ۔ اس دشمنی کی وجہ سے ساحر کے والد نے ساحر کا نام عبدالحی رکھا ۔ اور برسرِ عام عبدالحئی کا نام لےلے کر گالیا ں بکتا تھا اور سب سے یہ کہتا کہ وہ تو اپنے لاڈلے اکلوتے بیٹے عبدالحی سے پیار اور لاڑ کی باتیں کررہا تھا( کسی اور عبدالحئ سے نہیں )
    ۔
    حمید اختر کا کہنا تھا کہ ایسے برتاو کی وجہ سے ساحر کو اپنے باپ سے اور صاحبِ اقتدار افراد سے فطری طور پر نفرت پید ا ہوگئی تھی۔
    ۔۔۔۔
    ساحر کی نظم فرار میں شاید اس ماضی کی طرف ساحر نے اشارہ کیا ہے :
    اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میں
    اپنے گذرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے
    اپنی بے کار تمناوں پہ شرمندہ ہوں
    اپنی بے سود امیدوں پہ ندامت ہے مجھے
    میرے ماضی کو اندھیرے میں دبا رہنے دو
    میرا ماضی میری ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں
    میری امیدوں کا حاصل، مری کاوش کا صلہ
    ایک بے نام اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں
    ۔۔۔۔
    یہ نظم کافی طویل ہے جس میں ساحر نے اپنے عشق کی ناکامی اور محرومیوں کا بھی تذکرہ کیا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔
    ساحر کا ایک اور شعر بھی غور طلب ہے :
    اپنی تباہیوں کا مجھے کوئی غم نہیں
    تم نے کسی کے ساتھ محبت نباہ تو دی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  8. ظفر جعفری نے کہا ہے:
    July 31, 2009 بوقت 10:58 pm

    تم میں ہمت ہے تو دنیا سے بغاوت کرلو
    ورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں شادی کرلو

    ساحر

  9. ظفر جعفری نے کہا ہے:
    July 31, 2009 بوقت 11:24 pm

    بنگال کا قحط

    جہانِ کہنہ کے مفلوج فلسفہ دانو
    نظامِ نو کے تقاضے سوال کرتے ہیں

    یہ شاہراعیں اسی واسطے بنی تھیں کیا
    کہ اِن پہ دیس کی جنتا سسک سسک کے مرے
    زمیں نے کیا اسی کارن اناج اُگلا تھا
    کہ نسلِ آدم و حوّا بلک بلک کے مرے

    ملیں اِسی لئے ریشم کے ڈھیر بنتی ہیں
    کہ دخترانِ وطن تار تار کو ترسیں
    چمن کو اسلئے مالی نے خوں سے سینچا تھا
    کہ اُسکی اپنی نگاہیں بہار کو ترسیں

    زمیں کی قوّتِ تخلیق کے خدا وندو
    ملوں کے منتظمو، سلطنت کے قرزندو

    پچاس لاکھ فسردہ گلے سڑے ڈھانچے
    نظامِ زر کے خلاف احتجاج کرتے ہیں
    خموش ہونٹوں سے دم توڑتی نگاہوں سے
    بشر بشر کے خلاف احتجاج کرتے ہیں

    ساحر لدھیانوی

  10. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 1, 2009 بوقت 2:28 pm

    شکیل جما ل صاحب کا ممنوں ہو ں کہ انہوں نے اپنے مثبت تبصرے سے ساحر کے بلاگ کو نوازا
    ان سے یہی عرض ہے کہ ساحر فلمی شاعر نہیں ادبی شاعر تھا مگر روزی روزگا ر کی خاطر اس نے اپنے فن کو فلمی دنیا میں پیش کیا ۔

    ویسے بھی فلمی دنیا کے سرمایہ دار ایک زمانے میں اچھے اچھے شاعر کو اور اسکے فن اور اسکے اشعار کو خرید کر اپنے سرمایہ میں اضافہ کرتے تھے ۔ ایسے شعرا میں ساحر کے علاوہ شکیل اور مجروح اور خمار اور راجہ مہدی علی خان ، جاں نثار اختر اور کیفی اعظمی ( وغیرہ وغیرہ ) جیسے شعرا بھی شامل تھے

    ہندستان اور پاکستان میں بھی ایسے ہی معیاری شعرا فلمی دنیا میں اپنا فن فروخت کرنے پر مجبور ہوگیے ۔ سیف الدین سیف اور قتیل شفائی اور حمایت علی شاعر سب ہی فلمی دنیا میں اپنا فن پیش کرچکے ہیں۔

    غالب کو مر کر سو سال سے زیادہ ہوگئے مگر اسکے اشعار اور اسکی زندگی کو بھی فلم کی دنیا نے پیسہ کمانے کے لیے خوب استعمال کیا ۔

    ساحر کا کمال یہ تھا کہ اس نے اپنے کلام میں ہمیشہ دکھ درد اور غربت و نا انصافی اور نسلی تعصب کو مٹانے کی عکاسی کی تھی اور صرف پیسوں کی خاطر اس نے اپنے ضمیر کو اور اپنے فن کو قربان نہیں کیا ۔ ( اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے شعرا نے یہ قربانی دی تھی مگر ساحر کی فلمی شاعری کو اس سلسلے میں امتیاز حاصل ہے ۔)

    شکیل جمال صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے ساحر کے اس بلاگ کی پذیرائی کی۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  11. ظفر جعفری نے کہا ہے:
    August 1, 2009 بوقت 4:33 pm

    دوسری اصنافِ سخن کی طرح فلمی شاعری بھی ایک صنفِ سخن ہے اور آسان صنف نہیں ہے۔ شاعر کو شعر scene کی مناسبت سے کہنا پڑتا ہے۔ مثلاً کے آصف چاہتے تھے کہ مغلِ اعظم ایک scene جب پیار کیا تو ڈرنا کیا میں اکبر کا humiliation ہو۔ تو کے آصف، نوشاد اور شکیل بدایون رات دس بجے اکٹھے ہوئے اور شکیل ایک شعر بدل بدل کر کہتے رہے اور شکیل نے جب سو سے زیادہ شعر کہے تو پھر صبح چھ بجے اس ایک مصرع پراتفاق ہوا

    پردہ نہیں جب کوئ خدا سے بندوں سے پردہ کرنا

    فلمی شاعری میں ایک اور یہ بھی مشکل کہ اکثر شاعر کو دی ہوئ دھن پر شعر کہنے پڑتے ہیں اور پھر scene کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے فلمی شاعری ایک مشکل صنفِ سخن ہے ۔ اس ہی وجہ سے بہت سے اشعار ادب کے معیا ر پر پورا نہیں اُترتے۔ ساحر کا یہ کمال تھا کہ اسکے گانوں میں کوئ شعر ایسا نہیں ملتا جو ادب کے تقاضے پورے نہ کرتا ہو اور اس اعتبار سے وہ ایک منفرد شاعر نظر آتا ہے۔ مثلاً

    آسماں پہ ہے خدا اور زمیں پہ ہم
    ہو رہی ہے لوٹ مار پھٹ رہے ہیں بم

    ایسے اشعار گانے میں غیر سنجیدہ لگتے ہیں لیکن انکو پڑھا جائے تو ان میں فصاحت،بلاغت،گہرا ئ،فکر سب ہی کچھ نظر آتے ہیں۔ فلمی شاعری ایک مشکل کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میدان میں کوشش اور محنت کے باوجود فیض۔ جگر اور جوش جیسے شاعر ناکام ہوگئے۔

  12. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 1, 2009 بوقت 7:22 pm

    اس بلاگ کا موضوع ساحر اور اسکی شاعری ہے فلمی شاعری ایک ذیلی موضوع ہے جس میں الجھ کر اس بلاگ کو فلمی شاعری کی بھول بھلیاں میں ، ڈالدینا ساحر کے ساتھ نا انصافی ہوگی ؛

    بس ظفر جعفری صاحب کا یہ کہدینا کافی ہے کہ ”
    ‘ ساحر کا یہ کمال تھا کہ اسکے گانوں میں کوئ شعر ایسا نہیں ملتا جو ادب کے تقاضے پورے نہ کرتا ہو اور اس اعتبار سے وہ ایک منفرد شاعر نظر آتا ہے۔ ”

    ۔۔۔۔
    آییے ساحر کی تصنیف ” تلخیا ں ” کے کچھ اشعار پڑھیں اور اسکی شاعرانہ عظمت کو سراہیں ۔:

    نفس کے لوچ میں رم ہی نہیں کچھ اور بھی ہے
    حیات، ساغرِ سم ہی نہیں کچھ اور بھی ہے

    تری نگاہ مرے غم کی پاس دار سہی
    مری نگاہ میں غم ہی نہیں، کچھ اور بھی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اتنے قریب آکے بھی کیا جانے کس لیے
    کچھ اجنبی سے آپ ہیں ، کچھ اجنبی سے ہم
    ۔۔۔۔
    ساحر نے مدرجہ ذیل اشعار اپنے پاکستان کے دوران ِ قیام ( جنوری 1948 میں )‌ لکھےتھے:

    طرب زاروں پ کیابیتی ؟ صنم خانو‌ں پہ کیا گذری ؟
    دلِ زندہ ! ترے مرحوم ارمانوں پہ کیا گذری

    زمیں نے خون اگلا ، آسما ں نے آگ برسائی
    جب انسانوں کے دن بدلے، تو انسانوں پہ کیا گذری ؟

    ہمیں یہ فکر، ان کی انجمن کس حال میں ہوگی
    انہیں یہ غم کہ ان سے چھٹ کے دیوانوں پہ کیا گذری ؟

    مرا الحاد تو خیر ایک لعنت تھا، سو ہے اب تک
    مگر اس عالم ِ وحشت میں ایمانوں پہ کیا گذرری ؟

    یہ منظر کونسا منظر ہے ،پہچانا نہیں جاتا
    سیہ خانوں سے کچھ پوچھو َ شبستانوں پہ کیا گذری ؟

    چلو وہ کفر کے گھر سے سلامت آگئے لیکن
    خدا کی مملکت میں سوختہ جانو ں پہ کیا گذری ؟

    ۔۔۔۔۔
    فقط
    منظور قاضی از جرمنی

  13. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 1, 2009 بوقت 7:49 pm

    میں ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ساحر سے متعلق امرتا پریتم کے خط کو یا اسکے اقتباس کو اس بلاگ میں شایع کردیں قبل اس کے کہ یہ بلاگ آہستہ آہستہ نظروں سے اوجھل ہوجاے ۔
    شکریہ
    منظور قاضی از جرمنی

  14. ظفر جعفری نے کہا ہے:
    August 1, 2009 بوقت 11:17 pm

    اب کلیات ساحر بھی آچکے ہیں۔ ساحر فیض کے بعد دوسرے اُردو شاعر ہیں جنہیں لینن امن پرائز ملا ہے۔ انکا سدھا ملحوترا سے بھی عشق رہا ہے۔ سدھا ملحوترا کی ایک بہن ہمارے شہر میں مقیم ہیں اور ہماری وہ دوست ہیں۔ سدھا نے1982 میں یہاں کا چکر لگایا تھا۔ سدھا غزل کی بڑی singer تھیں اور ساحر کا بہت سا کلام سدھا نے گایا ہے۔ مثلاً

    تم مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ہے تم کو
    میری بات اور ہے میں نے تو محبّت کی ہے

  15. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 2, 2009 بوقت 9:59 am

    ساحر کی رومانی زندگی کے متعلق اور بھی کوئی معلوما ت اس بلاگ میں کوئی ساحر کے واقف کا ر لکھتے رہیں تو ساحر کی شاعری کے محرکات کو جاننے میں مدد ملے گی۔
    کلیاتِ ساحر میں اگر کوئی مضامین ( حمید اختر کے مضمو ن کی طرح ) موجود ہوں تو ان کے اقتباسات بھی لکھے جا سکتے ہیں۔
    ۔۔۔
    یہ بلا گ ساحر کے لیے ہدیہ ء عقیدت کی طرح ہے ۔
    سنا گیا ہے کہ ہر سال لدھیانہ میں ساحر کی برسی پر اسکی یاد میں محفلیں منعقد کی جاتی ہیں ۔ ان کے متعلق بھی اگر کسی کو کچھ معلوم ہو تو وہ معلومات بھی اس بلاگ میں شامل ہوسکتی ہیں ۔

  16. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 2, 2009 بوقت 1:25 pm

    ساحر کی نظم “تاج محل “اردو داں ذہنو ں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو کر رہگئی ہے۔ خاص طور پر غریب انسانوں کی ذہنوں میں موجود ہے جو تاج محل کی زیارت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتےِ:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    تاج ، تیرے لیے اک مظہرِ الفت ہی سہی
    تجھ کو اس وادی ء رنگیں سے عقیدت ہی سہی
    میری محبوب! کہیں اور ملا کر مجھ سے
    ۔۔۔۔
    بزمِ شاہی میں غریبوں کا گذر کیا معنی ؟
    ثبت جس راہ پہ ہوں سطوتِ شاہی کے نشاں
    اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی ؟
    ۔۔۔۔
    میری محبوب پسِ پردہ ء تشہیر وفا
    تونے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوگا
    مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی
    اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوگا
    ۔۔
    ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے
    کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے
    لیکن ان کے لیے تشہیر کا سامان نہ تھے
    کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے
    ۔۔۔۔۔
    یہ عمارات و مقابر ، یہ فصیلیں یہ حصار
    مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں
    دامنِ دہر پہ اس رنگ کی گلکاری ہیں
    جن میں شامل ہے ترے اور مرے اجداد کا خوں
    ۔۔۔۔
    میری محبوب ! انہیں بھی تو محبت ہوگی
    جن کی صناعی نے بخشی ہے ا سے شکلِ جمیل
    ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود
    آج تک ان پہ جلائی نہ کسی نے قندیل
    ۔۔۔۔
    یہ چمن زار ، یہ جمنا کا کنارا ، یہ محل
    یہ منقش در و دیوار، یہ محراب ، یہ طاق
    اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
    ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
    ۔۔۔۔۔
    میری محبوب ! کہں اور ملا کر مجھ سے

    ۔۔۔۔۔۔
    فقط :
    ساحر کی شاعری کی عظمت کا قائل :
    منظور قاضی از جرمنی

  17. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 2, 2009 بوقت 10:12 pm

    ساحر لدھیانوی نے اپنے اشعار میں اپنا تخلص کیوں نہیں استعما ل کیا ؟
    اگر کیا ہے تو کیا کوئی قاری اس بلاگ میں ساحر کی غزل کا کوئی مقطع ( جس میں ساحر کا تخلص موجود ہو ) تحریر کرسکتا ( کرسکتی ) ہے ؟
    سنا ہے کہ ساحر کے کلام کا مجموعہ ( کلیات ) بھی شایع ہوگیا ہے ۔ اگر کسی کو کلیاتِ ساحر میں ایسا شعر نظر آجائے جس میں ساحر نے اپنا تخلص ساحر استعمال کیا ہو تو وہ یہاں پر پیش کرسکتا (کرسکتی ) ہے۔
    میرا خیال ہے کہ ساحر کو اپنے نام کی تشہیر سے زیادہ اپنے اشعار کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی خواہش تھی ۔ وہ نام ونمود کا قائل نہ ہوتے ہوئے بھی صرف اپنے کلام کے تاثر کو اور اسکے پیخام کو زیادہ ترجیح دیتا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سرخ سویرا اور اشتراکی نظام کے خواب تقریبا ً تما م ترقی پسند شعرا اور ادیب دیکھا کرتے تھے ان میں مخدوم محی الدین ، سجاد ظہیر ، فیض احمد فیض ، کیفی اعظمی ساحر لدھیانوی اسرا ر الحق مجاز وغیرہ وغیرہ شامل تھے اور ان سب نے سرخ سویرا ، اشتراکی طرز کا انقلاب اور سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمہ اور مزدوروں اور کسانوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے خواب موجود تھے۔
    مخدوم محی الدین تو حیدرآباد دکن میں اپنی تحریک میں اور اپنی کاوشوں میں کامیاب ہوگئے تھے اوو اپنی زندگی ہی میں اپنی جدوجہد کا پھل ایک حد تک حاصل کرلیا تھا مگر دوسر ے ترقی پسند شعرا اور ادیب پاکستان اور ہندوستان میں سرخ سویرے کے خواب کی تعبیر نہ دیکھ سکے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فیض نے داغ داغ اجالا اور شب گزیدہ سحر کی نمود پر اشعار بھی لکھے تھے۔ مگر ہندوستان کے رہنے والے ترقی پسند شعرا اور ادیب اپنے خوابوں کو لے کر دنیا سے چلے گئے ۔ اگر وہ سب زندہ بھی رہتے تو انکو یہ معلوم کرکے دکھ ضرور ہوتا کہ اشتراکی نظام کا بھی بالشویک روس میں خاتمہ ہوگیا اور وہ نظام اب سوائے شمالی کوریا ، اور کیوبا کے ، دنیا کے کسی حصہ میں موجود نہیں ہے۔ ( اس کی کیا وجوہات ہیں ان پر اس بلاگ میں بحث کرنے کی گنجایش نہیں ہے )
    ۔۔۔
    ساحر نے اپنی زندگی میں اس موضوع پر جو اشعار لکھے ان میں سے چند ایک یہ بھی ہیں:
    جابر ومجبور کی باتیں کریں
    اس کہن دستور کی باتیں کریں
    تاجِ شاہی کے قصیدے ہوچکے
    فاقہ کش جمہور کی باتیں کریں
    ۔۔۔۔
    جشن بپا ہے کٹیا وں میں ، اونچے ایواں کانپب رہے ہیں
    مزدوروں کے بگڑے تیور دیکھ کے سلطاں کانپ رہے ہیں
    اس طویل نظم ( طلوع اشراکیت ) کا آخری شعر ہے :
    ایک نیا سورج چمکا ہے، ایک انوکھی ضوباری ہے
    ختم ہوئی افراد کی شاہی ، اب جمہور کی سالاری ہے
    ساحر کی نظم بلاوا کے یہ چند اشعار سرخ سویرے کا پیغام دے رہیں :
    دیکھو دور افق کی ضو سے جھانک رہا ہے سرخ سویرا
    جاگو اے مزدور کسانو
    اٹھو اے مظلوم انسانو
    ساحر کی نطمیں ” شعاع ِ فردا ” ‘ بنگال ” ” احساسِ کامران ” ” نیا سفر ہے پرانے چراغ گل کردو ” ” آوازِ آدم ” ایک انقلابی دنیا کا خواب دکھاتی ہیں مگر اس کے طویل نظم ” پرچھا ئیاں ” میں اس کی زندگی میں اپنے خوا بو ں کی تعبیر نہ ملنے پر دوسرے ترقی پسند شعرا کی طرح ناکامی اور مایوسی کا اظہا ر بھی موجود ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کے انقلابی ، احتجاجی اور مزاہمتی شعرا جن میں فیض ، جالب اور فراز شامل ہیں وہ بھی ساحر اور مجاز کی طرح انقلابی شاعر تھے اور ان سب نے اپنے اپنے انداز میں اقتدار اور آمریت کے خلاف آواز اٹھای تھی ۔
    ۔۔۔۔۔۔
    ساحر کے علاوہ ہندوستان اور پاکستان کے تمام شعرا نے اپنے اپنے تخلص کو اپنے اشعار میں پیش کیے ۔ (میں مجاز کے بلاگ میں اسکے کئی اشعار پیش کرونگا جن میں مجاز نے اپنا تلخص بڑے ہی موثر انداز میں پیش کیا ۔)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بہر حال میرے ذہن میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ : ساحر نے اپنے تخلص کو اپنے کسی شعر میں کیوں نہیں استعمال کیا؟ اگر کیا تو کیا کوئی اسکی مثال پیش کرسکتا ( کرسکتی ) ہے ؟
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  18. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 3, 2009 بوقت 9:54 pm

    ساحر کی زندگی میں ایسا بھی وقت آیا تھا جب اس نے اپنی محبوبہ کو اس طرح اپنی نظم میں نصیحت کی تھی :
    عہد گم گشتہ کی تصویر دکھا تی کہوں ہو ؟
    ایک آورا ہ ء منزل کو ستا تی کیوں ہو ؟

    وہ حسیں عہد جو شرمندہ ء ایفا نہ ہوا
    اس حسیں عہد کا مفہوم جتا تی کیوں ہو ؟

    میں تصوف کے مراحل کا نہیں ہوں قائل
    میری تصویرپہ تم پھول چڑھاتی کیوں ہو ؟

    جب تمھیں مجھ سے زیادہ ہے زمانے کا خیال
    پھر مری یاد میں یوں اشک بہاتی کیوں ہو؟

    تم میں ہمت ہے تو دنیا سے بغاوت کرلو
    ورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں شادی کرلو۔

    ۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  19. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 4, 2009 بوقت 2:29 pm

    ساحر نے ایک انقلابی شاعر کی حیثیت سے مزدور ، کسانو اور اور فاقہ کش انسانو ں کو یوں ابھا را ہے :
    آج سے اے مزدور کسانو ! میرے راگ تمھارے ہیں
    فاقہ کش انسانو! میرے جوگ بھاگ تمھارے ہیں
    جب تک تم بھوکے ننگے ہو ، یہ شعلے خاموش نہ ہونگے
    جب تک بے آرام ہو تم ، یہ نخمے راحت کوش نہ ہونگے
    ۔۔
    مجھ کو اس کا رنج نہیں ہے، کوئی مجھے فن کا ر نہ مانیں
    فکر و سخن کے تاجر، میرے شعروں کو اشعار نہ مانیں
    میرا فن ، میری امیدیں ، آج سے تم کو اربن ہیں
    آج سے میرے گیت تمھارے، دکھ اور سکھ کا درپن ہیں
    ۔۔
    تم سے قوت لے کر، اب میں تم کو راہ دکھا وں گا
    تم پرچم لہرانا ساتھی، میں بربط پر گاوں گا
    آج سے میرے فن کا مقصد زنجیریں پگھلانا ہے
    آج سے میں شبنم کے بدلے انگارے برساوں گا
    ۔۔۔۔۔
    افسوس کہ کسانوں، مزدوروں اور فاقہ کش انسانوں کی بہتری کے خواب دیکھنے والے شاعر : ساحر ، فیض ،فراز اور مجاز اب اس دنیا میں نہیں ۔
    ۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  20. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 4, 2009 بوقت 7:18 pm

    ساحر کا یہ شعر کافی مشہور ہے :
    ابھی نہ چھیڑ محبت کے گیت اے مطرب
    ابھی حیات کا ماحول ساز گار نہیں
    اسکی اس غزل کے یہ اشعار بھی قابلِ مطالعہ ہیں:
    ہمیں سے رنگِ گلستاں ، ہمیں سے رنگِ بہار
    ہمیں کو نظمِ گلستا ں پہ اختیار نہیں

    گریز کا نہیں قائل حیات سے ، لیکن
    جو سچ کہوں تو مجھے موت ناگوار نہیں
    ۔۔۔۔۔
    ساحر نے اپنی نظم ” میرے گیت ” میں اپنی شاعری کی محرکات کو یوں بیان کیا:
    میں شاعر ہوں ، مجھے فطرت کے نظاروں سے الفت ہے
    مرا دل دشمنِ نغمہ سرائی ہو نہیں سکتا

    مجھے انسانیت کا درد بھی بخشا ہے قدرت نے
    مرا مقصد فقط شعلہ نوائی ہو نہیں سکتا

    جواں ہوںمیں ، جوانی لغزشوں کا ایک طوفاں ہے
    مری باتو‌ں میں رنگِ پارسائی ہو نہیں سکتا

    مرے سرکش ترانوں کی حقیقت ہے ، تو اتنی ہے
    کہ جب میں دیکھتا ہوں بھوک کے مارے کسانوں کو
    غریبوں ، مفلسوں کو، بے کسوں کو، بے سہاروں کو

    سسکتی نازنینوں کو، تڑپتے نوجوانوں کو
    حکومت کے تشدد کو ، امارت کے تکبر کو
    کسی کے چیتھڑوں کو ، اور شہنشاہی خزانوں کو

    تو دل تابِ نشاطِ بزمِ عشرت لا نہیں سکتا
    میں چاہوں بھی تو خواب آور ترانے گا نہیں سکتا
    ۔۔۔
    فقط :
    منظور قاضی از جرمنی
    ۔۔۔

  21. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 5, 2009 بوقت 7:06 am

    ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اپنے وعدے کے مطابق اگر اس بلاگ میں اختتامی تبصرے کے طور پر امریتا پریتم کا خط جو اس نے ساحر پر لکھا تھا ، لکھدیں تو مہربانی ہوگی ۔

  22. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 5, 2009 بوقت 11:13 pm

    From: dr nighat nasim
    To: Manzoor Quazi
    Sent: Wednesday, August 05, 2009 11:36 PM
    Subject: Re: Please publish the promised letter of Amrita Preetam in my Blog on Saher Ludhyaanwai :

    manzoor bhaii wo khut bouht lamba hay aur mujy type kerna pery ga — mujy duties sy wqt nahi mil raha — jesy hi mily ga aur moqa bhi hua tu zarror type keroo gi — chulyie yaha nahi tu kisi aur blog main lkh du gi — aj kel aik nai haspital main hony ki waja sy bohut masroof hu —

    ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے اپنی گونا گوں مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کر میری ای میل کا جواب دیا جس کے لیے میں انکا مشکور ہوں ۔
    انکے مندرجہ بالا عنایت نامے سے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ وہ امریتا پریتم کے بہت لمبے خط کو یا تو اس بلاگ میں وقت ملنے پر پیش کردینگی یا کسی اور بلاگ میں ٹایپ کردینگی۔
    میری ان سے صرف اتنی گذارش ہے کہ وہ اس لمبے خط کے ایک یا د و جملے ہی یہاں فی الوقت ٹائپ کردیں تو اندازہ ہوجاے گا کہ اسکے خیالات ساحر کے متعلق کیا تھے۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  23. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 6, 2009 بوقت 8:25 am

    امرتا کا “آخری خط ” جو اس نے اپنے محبوب ساحر کو اس کے مرنے کے بعد لکھا تھا ۔۔ اس کے چند اقتباس حسب وعدہ حآضر ھیں
    ” میرے محبوب ویسے تو جب بھی کوئی نغمہ لکھنے لگتی ھوں ، مجھے محسوس ھوتاھے میں تک کو خط لکھنے لگی ھوں ۔۔ لوک گیتوں کی گوری کبھی کوؤں کو قاصد بناتی ھے، اور کبھی کبوتروں کے پیروں میں پیغام لپیٹ دیتی ھیں ۔پرانے وقت اب گزر گئے ، جب کوئی برہن سر کے پراندے سے دگاگہ توڑتی تھی اور کسی جاتے راہ گیر کے پلو سے باندھ دیتی تھی ۔
    وہ لوگ خوزقسمت ھوتے ھیں جو کسی چٹھی رساں کے قدموں کے سراغ لیتے ھیں ۔مگر جب ۔۔ کسی کو خط ڈالنا ممکن نہ ھوتواس وقت صرف ھوایئں ھی رہ جاتی ھیں جن کے پلو میں کوئی پیغام باندھ دیں ۔۔ کوئی میگھ جیسے کالی داس کا نامہ بر بن گیا تھا ، میرا ھر نغمہ میرا ایک خط بن گیا ھے ۔۔”

    “مجھے یاد ھے جب میں نے پہلے تمہیں لکھا تھا ، ایکھا بیگانہ گاؤں تھا اور میں سوچنے لگی تھی کہ گاؤں بیگانہ ھے مگر تم کیوں بیگانے نہیں ”
    مجھے محسوس ھونے لگا جیسے میں ھر پل تمہارے سائے کے نیچے رھتی ھوں ۔۔ کافی دن گزر گئے ۔۔ ایک دن میں نے کسی سے پوچھا ” اس کو اگر کوئی بلا لائے تو آ جائے گا ” وہ ھنس پڑا ” اگر تم بلاؤ‌تو وہ سارے کام چھوڑ کر آ جائےگا ” کبھی کہنا اس کو ۔۔۔ معلوم نہیں کہنے والے کا چہرہ کتنا اچھا ھو گا۔
    ایک دن میرے گھر کی دہلیز کو تمہارے قدموں نے چھوا ۔۔ میں نے تمھاری آواز سنی تو مجھے محسوس ھوا ،، جس ھوا میں تمھاری سانس ملی ھے اس میں ایک مہک آ نے لگی ھے “

  24. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 6, 2009 بوقت 8:50 am

    دوسرا حصہ
    ایک دن تم آئے ، تمھارے ھاتھ میں کاغذ تھا ، میں نے کہا پڑھ کر سناؤ‌ گے ؟ اور تم نے اپنا نغمہ پڑھ کر سنایا۔۔ مجھے محسوس ھوا کہ تمھاری آواز جیسی میں نے کبھی آواز نہں سنی ۔۔ تمھارے نغمے جیسا میں نے نغمہ نہیں سنا ۔۔
    ” میں پھر آ ؤنگا ” یہ زندگی میں تم نے پہلا قول دیا تھا ۔۔
    مجھے زندگی میں تمھارا پہلا خط ملا ” میں تیس تاریخ کو آؤنگا ۔۔ مجھے لگا جیسے میرے انتظار میں تمہاری ایک ھی سطر نے رنگ بھر دئے ”
    پھر کبھی تمھارا خط نہیں آیا ۔۔
    میرے محبوب میں آج تمہیں آخری خط لکھ رھی ھوں ۔۔ اس کے بعد کبھی نہیں لکونگی ۔۔ اور جب تم میرے جنگلی گیتوں ک وپڑھو گے تو یہ نہ سوچنا کہ میں تمہیں خط لکھنا بھول گئی ھوں ۔۔ میں ان ھاتھوں سے صرف جنگلی گیت لکھونگی اور ایک نئی صبح کا انتظار کرونگی جو سیاہ نظام کو بدل دے ۔۔دنیا کے اس نظام کو بدل دے جو شکاریوں اور لیٹروں کو پیدا کرتا ھے اور اگر میری زندگی میں وہ نئی روشن صبح آئی تو میں تمہیں اپنے پیار کا سنہری خط لکھونگی ۔۔ !

  25. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 6, 2009 بوقت 9:58 am

    مییر ے پاس اتنے الفاظ نہیں کہ میں ڈاکتر نگہت نسیم صاحبہ کے اوپر کے تبصروں اور ان میں امرتا پر یتم کے ساحر کے نام خط کے اقتباسات کا شکریہ ادا کرسکوں۔
    نگہت نسیم صاحبہ نے سا حر کے اس مردہ بلاگ میں جان ڈال دی ۔
    ساحر کی روح ضرور خوش ہررہی ہوگی کہ اس نے امرتا پریتم کے اس خط کے اقتباسات کو پڑھ لیا ۔
    اب اس بلاگ میں ساحر کے چند اشعار کے سوا کسی اور تبصرے کی ضرورت نہیں۔
    میرا دل مطمئن ہے کہ میں نے ساحر کا یہ بلاگ پیش کیا۔
    تمام پڑھنے والوں کو شکریہ کے ساتھ
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  26. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 6, 2009 بوقت 11:54 am

    ساحر کی ایک خوبصورت تخلیق

    پرچھائیاں

    جواں رات کے سینے پہ دودھیا آنچل
    مچل راہ ہے کسی خوابِ مرمریں کی طرح
    حسین پھول، حسیں پتیاں، حسیں شاخیں
    لچک رہی ہیں کسی جسمِ نازنیں کی طرح
    فضا میں گھل سے گئے ہیں افق کے نرم خطوط
    زمیں حسیں ہے خوابوں کی سرزمیں کی طرح
    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
    کبھی گمان کی صورت کبھی یقیں کی طرح
    وہ پیڑ جن کے تلے ہم پناہ لیتے تھے
    کھڑے ہیں آج بھی ساکت کسی امیں کی طرح

    انہی کے سائے میں پھر آج دو دھڑکتے دل
    خموش ہونٹوں سے کچھ کہنے سننے آئے ہیں
    نہ جانے کتنی کشاکش سے کتنی کاوش سے
    یہ سوتے جاگتے لمحے چرا کے لائے ہیں
    یہی فضا تھی، یہی رت، یہی زمانہ تھا
    یہیں سے ہم نے محبت کی ابتدا کی تھی
    دھڑکتے دل سے، لرزتی ہوئی نگاہوں سے
    حضورِ غیب میں ننھی سی التجا کی تھی
    کہ آرزو کے کنول کھل کےپھول ہو جائیں
    دل و نظر کی دعائیں قبول ہو جائیں

    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
    تم آرہی ہو زمانے کی آنکھ سے بچ کر
    نظر جھکائے ہوئے اور بدن چرائے ہوئے
    خود اپنے قدموں کی آہنٹ سے جھنپتی ڈرتی
    خود اپنے سائے کی جنبش سے خوف کھائے ہوئے

    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
    رواں ہے چھوٹی سی کشتی ہواوں کے رخ پر
    ندی کے ساز پہ ملاح گیت گاتا ہے
    تمہارا جسم ہر اک لہر کے جھکولے سے
    مری کھلی ہوئی باہوں میں جھول جاتا ہے

    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
    میں پھول ٹانک رہا ہوں تمہارے جوڑے میں
    تمہاری آنکھ مسرت سے جھکتی جاتی ہے
    نہ جانے آج میں کیا بات کہنے والا ہوں
    زبان خشک ہے آواز رکتی جاتی ہے

    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
    مرے گلے میں تمہاری گداز باہیں ہیں
    تمہارے ہونٹوں پہ میرے لبوں کے سائے ہیں
    مجھے یقیں ہے کہ ہم اب کبھی نہ بچھڑیں گے
    تمہیں گمان کہ ہم مل کے بھی پرائے ہیں

    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
    مرے پلنگ پہ بکھری ہوئی کتابوں کو
    ادائے عجزو کرم سے اٹھا رہی ہو تم
    سہاگ رات جو ڈھولک پہ گائے جاتے ہیں
    دبے سروں میں وہی گیت گارہی ہو تم

    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
    وہ لمحے کتنے دلکش تھے وہ گھڑیاں کتنی پیاری تھیں
    وہ سہرے کتنے نازک تھے وہ لڑیاں کتنی پیاری تھیں
    بستی کی ہر اک شاداب گلی خوابوں کا جزیرہ تھی گویا
    ہر موجِ نفس، ہر موجِ صبا، نغموں کا ذخیرہ تھی گویا

    ناگاہ مہکتے کھیتوں سے ٹاپوں کی صدائیں آنے لگیں
    بارود کی بوجھل بو لے کر پچھم سے ہوائیں آنے لگیں
    تعمر کے روشن چہرے پر تخریب کا بادل پھیل گیا
    ہر گاوں میں وحشت ناچ اٹھی، ہر شہر میں جنگل پھیل گیا

    مغرب کے مہذب ملکوں سے کچھ خاکی وردی پوش آئے
    اٹھلائے ہوئے مغرور آئے، لہرائے ہوئے مدہوش آئے
    خاموش زمیں کے سینے میں خیموں کی طنابیں گڑنے لگیں
    مکھن سی ملائم راہوں پر، بوٹوں کی خراشیں پڑنے لگیں
    فوجوں کے بھیانک بینڈ تلے، چرخوں کی صدائیں ڈوب گئیں
    جیپوں کی سلگتی دھول تلے، پھولوں کی قبائیں ڈوب گئیں
    انسان کی قمیت گرنے لگی اجناس کے بھاو چڑھنے لگے
    چوپال کی رونق گھٹنے لگی، بھرتی کے دفاتر بڑھنے لگے
    بستی کے سجیلے شوخ جواں بن بن کے سپاہی جانے لگے
    جس راہ سے کم ہی لوٹ سکے، اس راہ پہ راہی جانے لگے
    اُن جانے والے دستوں میں ، غیرت بھی گئی، برنائی بھی
    ماوں کے جواں بیٹے بھی گئے، بہنوں کے چہیتے بھائی بھی
    بستی پہ اداسی چھانے لگی، میلوں کی بہاریں ختم ہوئیں
    آموں کی لچکتی شاخوں سے جھولوں کی قطاریں ختم ہوئیں
    دھول اڑنے لگی بازاروں میں، بھوک اگنے لگی کھلیانوں میں
    ہر چیز دکانوں سے اُٹھ کر، روپوش ہوئی تہہ خانوں میں
    بدحال گھروں کی بدحالی، بڑھتے بڑھتے جنجال بنی
    مہنگائی بڑھ کر کال بنی، ساری بستی کنگال بنی
    چرواہیاں رستہ بھول گئیں، پنہاریاں پنگھٹ چھوڑ گئیں
    کتنی ہی کنواریں ابلائیں، ماں باپ کی چوکھٹ چھوڑ گئیں
    افلاس ذدہ دہقانوں کے، ہل بیل بکے کھلیان بکے
    جینے کی تمنا کے ہاتھوں ،جینے کے سب سامان بکے
    کچھ بھی نہ رہا جب بکنے کو، جسموں کی تجارت ہونے لگی
    خلوت میں بھی ممنوع تھی وہ جلوت میں جسارت ہونے لگی

    تصورات کی پرچھائیں اُبھرتی ہیں
    تم آرہی ہو سرِ شام بال بکھرائے
    ہزار گونہ ملامت کا بار اٹھائے ہوئے
    ہوس پرست نگاہوں کی چیرہ دستی سے
    بدن کی چھینپتی عریانیاں چھپائے ہوئے

    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
    میں شہر جا کے ہر اک دو پر جھانک آیا ہوں
    کسی جگہ میری محنت کا مول مل نہ سکا
    ستمگروں کے ساسی قمار خانے میں
    الم نصیب فراست کا مول مل نہ سکا

    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
    تمہارے گھر میں قیامت کا شور برپا ہے
    محاذِ جنگ سے ہرکارہ تار لایا ہے
    کہ جس کے ذکر تمہیں زندگی سے پیارا تھا
    وہ بھائی نرغہء دشمن میں کام آیا ہے

    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
    ہر ایک گام پہ بدنامیوں کا جمگھٹ ہے
    ہر ایک موڑ پر رسوائیوں کے میلے ہیں
    نہ دوستی، نہ تکلف، نہ دلبری، نہ خلوص
    کسی کا کوئی نہیں آج سب اکیلے ہیں

    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
    وہ رہگذار جو مرے دل کی طرح سونی ہے
    نہ جانے تم کو کہاں لے کے جانے والی ہے
    تمہیں خرید رہے ہیں ضمیر کے قاتل
    اُفق پہ خونِ تمنائے دل کی لالی ہے

    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
    سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے
    چاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھے

    اس شام مجھے معلوم ہوا کھیتوں کی طرح اس دنیا میں
    سہمی ہوئی دوشیزاوں کی مسکان بھی بیچی جاتی ہے

    اس شام مجھے معلوم ہوا اس کارگہِ زرداری میں
    دو بھولی بھالی روحوں کی پہچان بھی بیچی جاتی ہے

    اُس شام مجھے معلوم ہوا جب باپ کی کی کھیتی چھن جائے
    ممتا کے سنہرے خوابوں کی انمول نشانی بکتی ہے

    اُس شام مجھے معلوم ہوا، جب بھائی جنگ میں کام آئیں
    سرمائے کے قحبہ خانے میں بہنوں کی جوانی بکتی ہے

    سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے
    چاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھے

    تم آج ہزاروں میل یہاں سے دور کہیں تنہائی میں
    یا بزمِ طرب آرائی میں
    میرے سپنے بنتی ہوگی بیٹھی آغوش پرائی میں
    اور سینے میں غم لے کر دن رات مشقت کرتا ہوں
    جینے کی خاطر مرتا ہوں
    اپنے فن کو رسوا کرکے اغیار کا دامن بھرتا ہوں
    مجبور ہوں میں، مجبور ہو تم، مجبور یہ دنیا ساری ہے
    تن کا دکھ من پر بھاری ہے
    اس دور میں جینے کی قمیت یا دارورسن یا خواری ہے
    میں دارورسن تک جا نہ سکا تم جہد کی حد تک آ نہ سکیں
    چاہا تو مگر اپنا نہ سکیں
    ہم تو دو ایسی روحیں ہیں جو منزلِ تسکیں پا نہ سکیں
    جینے کو جیے جاتے ہیں مگر سانسوں میں چتائیں جلتی ہیں
    خاموش وفائیں جلتی ہیں
    سگین حقائق زاروں میں، خوابوں کی ردائیں جلتی ہیں
    اور آج جب ان پیڑوں کے تلے پھر دو سائے لہراتے ہیں
    پھر دو دل ملنے آئے ہیں
    پھر موت کی آندھی اٹھی ہے پھر جنگ کے بادل چھائے ہیں
    میں سوچ رہا ہوں ان کا بھی اپنی ہی طرح انجام نہ ہو
    ان کا بھی جنون ناکام نہ ہو
    ان کے بھی مقدر میں لکھی، اک خون سے لتھڑی شام نہ ہو
    سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے
    چاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھے

    ہمارا پیار حوادث کی تاب لا نہ سکا
    مگر انہیں تو مرادوں کی رات مل جائے
    ہمیں تو کشمکشِ مرگِ بے اماں ہی ملی
    انہیں تو جھومتی گاتی حیات مل جائے
    بہت دنوں سے ہے یہ مشغلہ سیاست کا
    کہ جب جوان ہوں بچے تو قتل ہو جائیں
    بہت دنوں سے یہ ہے خبط حکمرانوں کا
    کہ دور دور کے ملکوں میں قحط بو جائیں
    بہت دنوں سے جوانی کے خواب ویراں ہیں
    بہت دنوں سے محبت پناہ ڈھونڈتی ہے
    بہت دنوں سے ستم دیدہ شاہراہوں میں
    نگارِ زیست کی عصمت پناہ ڈھونڈتی ہے
    چلو کہ آج سبھی پائمال روحوں سے
    کہیں کہ اپنے ہر اک زخم کو زباں کر لیں
    ہمارا راز ہمارا نہیں، سبھی کا ہے
    چلو کہ سارے زمانے کو رازداں کرلیں
    چلو کہ چل کے سیاسی مقامروں سے کہیں
    کہ ہم کو جنگ و جدل کے چلن سے نفرت ہے
    جسے لہو کے سوا کوئی رنگ راس نہ آئے
    ہمیں حیات کے اُس پیرہن سے نفرت ہے
    کہو کہ اب کوئی قاتل اگر ادھر آیا
    تو ہر قدم پہ زمیں تنگ ہوتی جائے گی
    ہر ایک موج ِ ہوا رخ بدل کے چھپٹے گی
    ہر ایک شاخ رگِ سنگ ہوتی جائے گی
    اٹھو کہ آج ہر اک جنگ جو سے یہ کہیں دیں
    کہ ہم کو کام کی خاطر کلوں کی حاجت ہے
    ہمیں کسی کی زمیں چھیننے کا شوق نہیں
    ہمیں تو اپنی زمیں پر ہلوں کی حاجت ہے
    کہو کہ اب کوئی تاجر ادھر کا رخ نہ کرے
    اب اس جگہ کوئی کنواری نہ بیچی جائے گی
    یہ کھیت جاگ پڑے، اُٹھ کھڑی ہوئیں فصلیں
    اب اس جگہ کوئی کیاری نہ بیچی جائے گی
    یہ سرزمین ہے گوتم کی اور نانک کی
    اس ارض پاک پہ وحشی نہ چل سکیں گے کبھی
    ہمارا خون امانت ہے نسلِ نو کے لیے
    ہمارے خون پہ لشکر نہ پل سکیں گے کبھی
    کہو کہ آج بھی ہم سب اگر خموش رہے
    تو اس دمکتے ہوئے خاکداں کی خیر نہیں
    جنوں کی ڈھالی ہوئی ایٹمی بلاوں سے
    زمیں کی خیر نہیں، آسماں کی خیر نہیں
    گذشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بار
    عجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیں
    گزشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بار
    عجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیں

    تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں

  27. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 6, 2009 بوقت 11:34 pm

    ماشا اللہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے ساحر کی اتنی خوبصورت اور طویل نظم ” پرچھا ئیاں ” بھی اب اس بلاگ میں شامل کردیا ۔
    اپنی گونا گوں مصروفیات کے باوجود ڈاکٹر صاحبہ نے ساحر کے لیے اتنی محنت کی جس کو دیکھکر ساحر کی روح خوش ہوگئی ہوگی۔
    میں اس بلاگ کے ناظم کی حیثیت سے ڈاکٹر صاحبہ کا شکریہ ادا کرتا ہون
    فقط :
    منظور قاضی از جرمنی

  28. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 9, 2009 بوقت 2:27 pm

    میں ڈا کٹر خواجہ اکرام صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے میرے بلاگ ” اسرار الحق مجاز ” میں اپنا تبصرہ شامل کیا ۔
    اب میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ساحر اور اسکی شاعری کے بارے میں بھی کوئی تبصرہ یہاں لکھ دیں ۔ خاص طور پر اس سوال کا جواب کہ ساحر نے اپنے کلام میں اپنا تخلص کیوں استعمال نہیں کیا ؟ کیا وہ ترقی پسند شاعری میں ایک نئے رجحان ( فیشن ) کی پیش گوئی کررہا تھا؟
    بہر حال ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب نے اردو میں پی ایچ ڈی کی اور رشید احمد صدیقی پر بھی مقالے لکھے ، ممکن ہے کہ وہ ساحر کے اس بلاگ کو اپنی معلومات سے نوازیں گے ۔
    اگر خواجہ محمد اکرام صاحب اسی طرح اپنے علم سے سب پڑھنےوالوں کو فیضیاب کرتےرہیں تو انکا بھی بھلا ہوگا اور پڑھنے والوں کا بھی۔
    فقط
    منظور قاضی از جرمنی

  29. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 11, 2009 بوقت 10:26 am

    ساحر کی اس غزل میں ابھی تک تازگی موجود ہے:

    ہر قدم مرحلہ ء دار و صلیب آج بھی ہے
    جو کبھی تھا وہی انساں کا نصیب آج بھی ہے

    جگمگاتے ہیں افق پار ستارے لیکن
    راستہ منزلِ ہستی کا مہیب آج بھی ہے

    سرِ مقتل جنھیں جانا تھا وہ جا بھی پہنچے
    سرِ منبر کوئی محتا ط خطیب آج بھی ہے

    اہلِ‌دانش نے جسے امرِ مسلّم جانا
    اہلِ دل کے لیے وہ بات عجیب آج بھی ہے

    یہ تری یاد ہے یا میری اذیت کوشی
    ایک نشتر سا رگِ جا ں کے قریب آج بھی ہے

    کون جانے یہ ترا شاعرِ آشفتہ مزاج
    کتنے مغرور خداوں کا رقیب آج بھی ہے
    ۔۔

  30. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 13, 2009 بوقت 9:16 pm

    ساحر کی غزل کے چند اشعار :
    اس طرف سے گذرے ہیں قافلے بہاروں کے
    آج تک سلگتےہیں ، زخم رہگزاروں کے

    خلوتوں کے شیدائی ، خلوتوں میں کھلتے ہیں
    ہم سے پوچھ کر دیکھو ، راز پردہ داروں کے

    پہلے ہنس کے ملتے ہیں، پھر نظر چراتے ہیں
    آشنا صفت ہیں لوگ، اجنبی دیاروں کے

    تم نے صرف چاہا ہے َ ہم نے چھو کےدیکھے ہیں
    پیرہن گھٹاوں کے ، جسم برق پاروں کے

    ۔۔۔
    ساحر لدھیانوی کا یہ بلاگ اب اختتام کو پہنچا ۔
    اگر ہندوستان میں رہنے والے ساحر کی شاعری کے شیدائی اس بلاگ میں کچھ لکھنا چاہیں تو ساحر کے اس بلاگ کی افادیت میں اضافہ ہوسکتا ہے
    ۔
    فقط :
    منظور قاضی از جرمنی

  31. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 14, 2009 بوقت 4:01 am

    ساحر لدھیانوی کی ادبی زندگی کی شروعات ان کے اسکول کے زمانے سے ہوچکی تھی۔ ساحر جس وقت خالصہ اسکول لدھیانہ کے طالب علم تھے اسی وقت انہوں نے اپنی پہلی نظم لکھی تھی اور اپنے ایک قریبی دوست کے ذریعہ اسکول کے استاد فیاض ہریانوی کے پاس اصلاح اور رائے جاننے کے لیے بھیجی۔ استاد فیاض ہریانوی نے نظم دیکھ کر کہا۔ ”اشعار موضوع ہیں لیکن مجموعی حیثیت سے نظم معمولی ہے۔“ فیاض ہریانوی جیسے استاد نے ساحر کی پہلی نظم کو موضوع قرار دیا یہ ان کے لیے قابل فخر بات تھی ان دنوں شاعری میں استاد شاگرد کا عام چلن تھا لیکن ساحر نے اپنی اس پہلی تخلیق کے بعد کسی کو نہ تو اپنا کلام رائے جاننے کے لیے پیش کیا نہ تو کسی کو استاد بنایااور خود اپنے طور پر شعر کہنے لگے۔

    ساحر کا اصل نام عبدالحی تھا۔ساحر 8مارچ 1921کو ریاست پنجاب کے صنعتی شہر لدھیانہ میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام چودھری فتح محمد تھا۔ساحر نے جب شاعری کی شروعات کی تو تخلص کی ضرورت درپیش آئی۔ بڑے پش وپیش میں تھے کہ کیا تخلص رکھا جائے۔ اسی دوران ساحر علامہ اقبال کے مرثیہ کا مطالعہ کررہے تھے جو اقبال نے داغ دہلوی کی یاد میں لکھا تھا—

    اس چمن میں ہوں گے پیدابلبلے شیراج بھی
    سیکڑوں ساحر بھی ہوںگے صاحب اعزاز بھی

    انہیں ساحر لفظ اتنا پسند آیا کہ انہوں نے اسے ہی اپنا تخلص بنالیااور عبدالحی سے ساحر لدھیانوی بن گئے۔
    جس زمانے میں ساحر کی شاعری کا آغاز ہوا اقبال کی وفات ہوچکی تھی۔ جوش ملیح آبادی اور احسان دانش کی شاعری کا آفتاب فلک پر اپنے شباب کے ساتھ جگمگارہا تھا۔احسان دانش شاعرے مزدور اور جوش ملیح آباد شاعرانقلاب کے نام سے دن بدن شہرت کی منزلیں طے کررہے تھے۔ فیض احمد فیض، علی سردار جعفری، اسرار الحق مجاز،جانثار اختر، کیفی اعظمی، فراق گورکھپوری ان کے ہمعصروں میں تھے۔اقبال سے وہ بے حد متاثر تھے۔ اس لیے اقبال ، فیض اور دیگر ہمعصر شعراءکی شاعری اور شخصیت کا اثر ساحر پر پڑا۔ساحر کی شاعری میں یہ بات صاف طور پر نظر آتی ہے۔

  32. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 14, 2009 بوقت 10:31 am

    ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے اپنے اوپر کے تبصرے میں ساحر لدھیانوی کو ہدیہ عقیدت پیش کیا اور اس بلاگ میں جان ڈالدی ۔
    ڈاکٹر صاحبہ نے اس کے پہلے امرتا پریتم کا خط بھی پیش کیا تھا جو امرتا پریتم کا ساحر سے روحانی لگاو کا ثبوت تھا۔
    ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے ساحر کی طویل ترین نظم ” پرچھائیاں ” بھی اس بلاگ میں پیش کردیں۔
    آج ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے ای میل کے ذریعہ مندرجہ لنک بھیج کر مجھ سے فرمایا کہ اسے پڑھ لیجئے ۔ میں اس لنک میں فرحت عباس شاہ کی تصنیف ” غزلیات ساحر لدھیانوی ” کی اشاعت کی اطلاع تھی ۔ اس کتاب کا دیباچہ ( جسے میرے اندازےکے مطابق فرحت عباس شاہ نےلکھا ) موجود ہے ، جو پڑھنے کے قابل ہے :
    ۔ اس دیباچہ کی تحریر کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ دیباچہ لکھنے والی ہستی ( جو ممکن ہے کہ امرتا پریتم ہی ہو ) نے ساحر سے انتہائی عقیدت کا اظہار اس نے اس طرح کیا:
    ” آج جب ساحر دنیا میں نہیں اور ” تلخیا ں کا ایک نیا ایڈیشن چھپ رہا ہے تو اسکےپبلشر نے چاہا کہ اس کا دیباچہ لکھ دوں۔ نظموں کے بارے میں کچھ نہیں کہونگی کہ ساحر کی شاعری کا مقام لوگوں کی روح اور تاریخ کی رگوں کا حصہ بن چکا ہے۔ مجھ پر ساحر کا قرض تھا ۔ اس دن سے جب اس نے اپنے مجموعہ کلام پر دیباچہ لکھنے کو کہا اور مجھ سے لکھا نہیں گیا۔ آج وہی قرض اتاررہی ہوں ۔ اس کے جانے کے بعد ، دیر ہوگئی ،خدایا بہت دیر ہوگئی ”

    میں اس ویب لنک کو اس تبصرہ میں ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پیش کررہا ہوں :

    http://www.bahoo.org/Bookdes.asp?productid=1002721&catid=
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  33. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 14, 2009 بوقت 2:08 pm

    اس دیباچہ کے الفاظ اور انداز بیا ں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب کا دیباچہ امریتا پریتم ہی نے لکھا تھا۔
    اگر کسی کے پاس مندرجہ بالا تبصرے میں لکھی ہوئی ساحر کی کتاب
    ” غزلیات ساحر لدھیانوی ” موجود ہو تو وہ اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں۔

  34. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    August 14, 2009 بوقت 2:31 pm

    جی منظور بھائی اس کتاب کا دیباچہ امرتا پریتم کا ھی لکھا ھوا ھے ۔

  35. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 15, 2009 بوقت 2:48 pm

    ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کا شکریہ کہ انہوں نے امرتا پریتم کا دیباچہ ( جو اس نے ساحر کی کتاب میں لکھا تھا) ہم سب کو پڑھنے کا موقعہ عطا کیا۔
    کاش کہ کوئی دانشور ، امرتا پریتم کی تصنیفات اور اسکی شاعری اور شخصیت اور اس کا پنجابی ادب میں مقام پر ایک بلاگ شروع کردے ۔
    یہ ایک خواہش ہی ہے جسے شائد بھارت کا کوئی دانشور پوار کرسکے۔
    بہر حال :
    منظور قاضی ا ز جرمنی

  36. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 15, 2009 بوقت 6:25 pm

    ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب نے 10 اگست کو میرے مجاز کے بلا گ میں اپنے تبصرے میں یہ وعدہ فرما یا تھا :

    ” جی میں‌ساحر پر بھی انشا ء اللہ ضرور لکھوں‌گا ۔ کل کچھ مصروفیات تھیں‌، لیکن آپ کا پیار بھر امیل دیکھ کر میں‌نے ایک تبصرہ آپ کی دعاوں کی طلب کے لیے لکھ بھیجا ۔ آج انشا ء اللہ ساحر پر بھی لکھوں‌گا ۔”
    ” آج ” 15 اگست ہے ، اور ساحر کا یہ بلاگ انکے تبصرے کا منتظر ہے۔
    اگر میں شاعری سے کام لوں تو “‌وعدہ ” کے لفظ پر غالب کا کوئی شعر لکھ سکتا ہوں مگر میرے پاس خاموشی سے انتظار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
    فقط:
    منظورقاضی از جرمنی

  37. ڈاکٹر خواجہ اکرام نے کہا ہے:
    August 16, 2009 بوقت 9:05 am

    معذرت کے ستاھ قاضی صاحب حاضر ہو رہا ہوں‌۔ میں‌نے بلاگ کے تمام تبصروں‌کا پڑھا اس کے بعد میرے لکھنے کی چنداں‌ضروت نہیں‌رہ گئی ہے۔ بہن نگہت نسیم صاحبہ ، ظفر جعفری،صفدر ہمدانی اور بہن ماریہ علی کی تحریریں‌بڑھیں‌، معلومات افزا بھی ہیں‌اور بقول ماریہ علی کے آپ نے اتنے اہم شعرا پر بلاگ لکھ کر قارئین کے لیے سنجہدہ ادب کی تفہیم کے راستے بھی ہموار کیے ہیں‌۔
    جہ قاضی صاحب میرے یہ تاثرات بحکم بھائی حاضر خدمت ہیں :

    جذبات و احساسات کو چھو لینے کی طاقت رکھنے والی ساحر کی شاعری کو عام طور پر لوگ یہ سمجھ کر نظر انداز بھی کرتے ہیں کہ انھوں نے فلموں کے لیے نغمے لکھے ہیں ۔ لیکن یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ان کی شہرت اگر فلموں میں نغمے لکھنے کی وجہ سے عوام تک پہنچی تو اس سے ان کی شاعری کو کہیں نقصان نہیں پہنچا انھوں نے اس میدان میں قدم رکھتے ہوئے بھی اپنے نصب العین سے گریز نہیں کیا ۔یہ اُن شعرا ء میں‌سے ہیں جنھوں نے فلمی نغموں کو بھی ایک معیار عطا کیا ۔ساحر کے فلمی گیت کا صرف ایک بند ملاحظہ کریں :
    مالک نے ہر انسان کو انسان بنایا
    ہم نے اسے ہندو یا مسلمان بنایا
    قدرت نے تو بخشی تھی ہمیں ایک ہی دھرتی
    ہم نے کہیں بھارت کہیں ایران بنایا
    ساحر کی فلمی شاعری ہو یا سنجیدہ شاعری ہر جگہ ان کے فن کا طمطراق موجودہے ۔ ساحر کے حوالے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے تقریباً اپنے عہد کے تمام موضوعات کو اپنی شاعری میں سمونے کی کوشش کی ہے مگر کہیں بھی فن سےCompromiseنہیں کیا ۔ ان کا فنی شعور بہت بالیدہ اور جمالیات کا حامل ہے انھوں نے ترقی پسند عہد کے شعرا ء کا عمومی لہجہ کبھی اختیار نہیں کیا نرمیت وملائمیت ان کے اسلوب کی اہم خوبی ہے ۔وہ جنگ کی بات کریں یا زمانے کے کرب وانتشار ، یا محکومی اور استحصال کی ان کے لہجے میں کرختگی نہیں آتی ۔ان کے اشعار فنی رکھ رکھاو کے ساتھ ساتھ ادبی قدرو قیمت کے حامل بھی ہوتے ہیں ۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ساحر کا تعلق اگر تہذیبی اور ثقافتی اقدار سے ہے تو فنی اور جمالیاتی اقدار کے بھی وہ علمبرداروں میں سے ہیں ۔ یہاں ایک نظم سے مثال لی جاسکتی ہے جو انھوں نے ‘‘چکلے ’’ کے عنوان سے لکھی ، یہ عنوان نیا نہیں ہے اسی کو برتنے کی پاداش میں منٹو جیسا ادیب مورود الزام ٹھہرا اور اسے نہ جانے کن کن ناموں سے یاد کیا گیا ۔ لیکن سماج کی اسی بے رحم سچائی کا ذکر ساحر کے یہاں اس طرح ہوتا ہے :
    یہ بھوکی نگاہیں حسینوں کی جانب
    یہ بڑھتے ہوئے ہاتھ سینوں کی جانب
    لپکتے ہوئے پانو زینوں کی جانب
    ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہاں پیر بھی آچکے ہیں جواں بھی
    تنو مند بیٹے بھی ، ابّا میاں بھی
    یہ بیوی بھی ہے، اور بہن بھی ، ماں بھی
    ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں ؟
    یہ تو صرف دو بند ہیں جو مثال میں پیش کی گئیں اگر اس نظم کا مطالعہ کریں تو اندازہ ہو گا کہ اس میں نہ تو فحش الفاظ کے ذریعے سماج کے اس گھناونے چہرے کو دیکھایا گیا اور نہ جذبات کو مشتعل کرنے والے مناظر ہیں ۔ اگر کچھ ہے تو یہ ہے کہ ہر بند انسان کو اس کا اپنا چہرہ دیکھاتا ہے اور ساتھ میں مشرقی تہذیب و تمدن کے نعرہ لگانے والے اور حامی بھرنے والے بھی اس کثافت پر خاموش کیوں ہیں ؟انھیہں‌کردار و عمل کا فرق بتا تاہے۔
    ساحر کی شاعری انھیں موضوعات کے ارد گرد نہیں گھومتی بلکہ وہ امن عالم کے خواہاں ہیں اور اس کےلیے جنگ و جدال کی ضرورت نہیں :
    کیونکہ جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
    جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی۔
    کیونکہ ساحر کی نظر میں :
    خون اپنا ہو یا پرایا ہو
    نسل آدم کا خون ہے آخر
    جنگ مشر ق میں ہو کہ مغرب میں
    امن عالم کا خون ہے آخر
    اسی لیے ساحر ان لوگوں سے جو شرافت کا لبادہ اوڑھے پورے عالم کو تخت و تاراج کر رہے ہیں ، یہ کہتے ہیں :
    اس لیے اے شریف انسانوں جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے۔
    ساحر کا کمال یہ ہےکہ انھوں نے اس انتشار کے عہد میں اپنی شاعری کو نعرہ زنی سے بچا لیا جب بلند آہنگی وقت کی ضرورت بھی تھی اور عہد کا رویہ اور رجحان بھی تھا۔
    بجائے اس کے کہ میں ان کی شاعری پر تبصرہ کروں چند مثالیں پیش کرتا ہوں تاکہ آپ خود ہی تجزیہ کر سکیں :
    چرواہیاں رستہ بھول گئیں، پنہاریاں پنگھٹ چھوڑ گئیں
    کتنی ہی کنواری ابلائیں ، ماں باپ کی چوکھٹ چھوڑ گئیں
    افلاس زدہ دہقانوں کے ہل بیل بِکے ، کھلیان بِکے
    جینے کی تمنا کے ہاتھوں جینے ہی کےسب سامان بِکے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عصمتیں سر برہنہ پریشان ہیں
    ہر طرف شور آہ و بکا ہے
    اور میں اس تباہی کے طوفان میں
    آگ اور کون کے ہیجان میں
    سر نگوں اور شکستہ مکانوں کے ملبے سے پُر راستوں پر
    اپنے نغمے کی جھولی پسارے
    در بہ در پھر رہاہوں
    مجھ کو امن اور تہذیب کی بھیک دو
    ۰۰۰۰۰۰۰۰۰

  38. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 16, 2009 بوقت 11:26 am

    آج میرے پاس ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب کا ای میل عنایت نامہ آیا جس میں ڈاکٹر اکرام صاحب نے وعدہ کیا کہ وہ آج ساحر پر اپنا تبصرہ اس بلاگ میں شایع کردینگے۔ (ہم چشم براہ ہیں) :
    خواجہ اکرام صاحب نے اس بلاگ کے شروع سے مطالعہ سے یہ معلوم کرلیا ہوگا کہ اس میں ایک سوال شامل ہے کہ ساحر نے اپنا تخلص اپنے کسی شعر میں کیوں نہیں استعمال کیا ؟
    اس تخلص کو ساحر نے ( ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کے اوپر لکھے ہوے ایک تبصرے کے مطابق ) علامہ اقبال کی نظم ” داغ” کے اس شعر سے متاثر ہوکر اپنے نام کا جز بنا لیا تھا:
    اس چمن میں ہو ں گے پیدا بلبلِ شیراز بھی
    سینکڑوں ساحر بھی ہوں گے صاحبِ اعجاز بھی
    مگر اتنے اہتمام اور اتنی عقیدت کے ساتھ رکھا ہو ا قلمی نام ساحر نے کیوں اپنے کسی شعر میں استعمال نہیں کیا؟
    ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب یا اس بلاگ کو پڑھنے والے اس پہلو پر کچھ نہ کچھ روشنی ڈال سکیں تو سب کے علم میں‌اضافہ ہوگا ۔
    فقط:
    منظور قاضی ا ز جرمنی

  39. منظور قاضی نے کہا ہے:
    August 16, 2009 بوقت 6:50 pm

    ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب کا دلی شکریہ کہ انہوں نے ساحر کے اس بلاگ کو اپنے تبصرے سے اردو کے تمام طلبا اور طالبات کے لیے ایک قیمتی سرمایہ بنا دیا ۔
    ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب نے ساحر کی شاعری کے جس پہلو پر روشنی ڈالی وہ ہر لحاظ سے کافی اہم اور معلوماتی ہے :

    میرے مندرجہ بالا تبصرے کی ترسیل کے وقت ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب کا تبصرہ اس بلاگ میں نہیں تھا ، مگر کمپیوٹر نے اس کو ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب کے تبصرے کے بعد شایع کیا ، میرا خیال ہے کہ ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب میرے اس تبصرے کے سوال کو پڑھ نہ سکے اسی وجہ سے انہوں نے اس پر تبصرہ نہیں کیا ۔
    اس لیے میرے تبصرےمیںجو سوال موجود ہے وہ ابھی تک جواب طلب ہے۔

    میرا خیال ہے کہ اس بلاگ کا مقصد پورا ہوگیا اس لیے میں اپنی طرف سے اس کو ختم کرنےکا اعلا ن کرتا ہوں ۔

    اگر کوئی قاری یا ساحر کے کلام کا دلدادہ مزید کوئی بات اس بلاگ میں لکھنا چاہے تو اسکی مرضی ( اور میری خوشی ۔ ) ورنہ کوئ بات نہیں۔

    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  40. yasir bashir نے کہا ہے:
    March 21, 2013 بوقت 9:28 pm

    سر بس اک التجا ہے اگر ساحر کی کتاب پی ڈی اف میں ارسال کر دیں تو مھربانی ہوگی۔ شکریہ

  41. dr salman abid نے کہا ہے:
    February 11, 2014 بوقت 5:21 pm

    میں ان تمام احباب کا مشکور ہوں کہ جنھوں نے اس بلاگ کی تعمیر و تشکیل میں حصہ لیا، ان تمام کا بھی مشکور کہ جن کے ذہن نے اس کی تخلیق کا سوچا اور عمل کیا۔خاص طور پر جناب قاضی صاحب۔ڈاکٹر نگہت صاحبہ، جناب اکرام صاحب اور سبھی احباب کا جنھوں نے ساحر کی زندگی اور شاعر ی کے ان گنت حصوں پر کھل کر طبع آزمائی کی اور معلومات بہم پہنچائیں۔
    قاضی صاحب نے جو سوال اٹھایا ہے کہ ساحر نے اپنا تخلص کیوں استعمال نہیں کیا،آج بھی یہ سوال ان چھوا ہے۔ ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس پر ریسرچ کر یں گے۔اور جیسے ہی یہ دریافت ہو جاے ہم ضرور شائع کریں گے۔
    میری خواہش ہوگی کہ اس بلاگ کو ختم نہ کیا جاے۔ اسے کھلا رکھا جاے۔ ہم اس بلاگ کی تشہیر کریں گے اپی کونسل کے صفحے پر ۔ اور ساحر کو چاھنے والوں کے لیے یہ آج بھی اہم،معنی خیز اور معلومات آفریں ہے۔
    اخلاص کے ساتھ۔
    ڈاکٹر سلمان عابد۔
    بانی۔ساحر لدھیانوی جینئس گلوبل ریسرچ کونسل۔حیدرآباد۔انڈیا۔
    https://www.facebook.com/SahirLudhianviGeniusGlobalCouncil

  42. منظور قاضی : از جرمنی نے کہا ہے:
    February 12, 2014 بوقت 12:44 am

    میں ڈاکٹر سلمان عابد صاحب کی ساحر کی شخصیت اور اسکی شاعری سے محبت اور عقیدت کا شکریہ ادا کرتا ہوں کے انہوں نے میرے اس پانچ سال قبل کے بلاگ کو ڈھونڈ نکالا اور اسے اپنے پر خلوص الفاظ سے نوازا :

    میں تو اپنی زندگی کے اس آخری دور میں علمی اور ادبی دنیا اور فیس بک وغیرہ وغیرہ کو خیرباد کہ چکا ہوں۔۔
    عالمی اخبار میں میرے پچھلے لکھے گئے کئی بلاگوں کو اردو ادب اور شاعری کے عشاق نے ڈھونڈ نکالا اور انہیں اپنی قیمتی آرا سے سنوارا:
    میں خوش ہوں کے میری محنت رائگاں نہیں گئی۔
    جب تک ساحر کی شاعری کے شیدائی زندہ رہینگے ، یہ اردو بلاگ بھی اوراس میں لکھنےوالوں کے ناموں کے ساتھ ساتھ میرا نام بھی انشااللہ زندہ رہےگا۔
    اللہ حافظ :
    منظور قاضی
    از میونخ جرمنی

جواب لکھیں




مضامین (آر ایس ایس) اور تبصرے (آر ایس ایس).
 عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل: رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں