2014 ,September 01
محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کے حکم کی تعمیل میں اپنے سفرحجاز کے تاثرات

شاہین رضوی کویت ، بتاریخ  May 26, 2013

بسم اللہ الرحمن الرحیم
بسم اللہ توکلت علی اللہ ولاحول ولاقوۃ الا بااللہ العلی العظیم
لبیک اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَۃَ لَکَ وَ الْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَک

ترجمہ :حاضر ہوں اے اﷲ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں۔بے شک حمد تیرے ہی لائق ہے ساری نعمتیں تیری ہی دی ہوئی ہیں بادشاہی تیری ہی ہے اورتیرا کوئی شریک نہیں۔
اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا
حج و عمرہ کرنے والا
اللہ تبارک وتعالی کے مہمان ھوتے ھیں
اللہ پاک جب انکو اپنے گھر میں اپنے پاک پاکیزہ گھر میں آنے کی سعادت
عطا فرماتا ھے تو خود بخود راہ کی مشکلیں آسان ھوجاتیں ھیں
اللہ پاک کے گھر کے زائرین جو کچھہ صدق دل سے نیک نیتی سے اللہ تعالی سے طلب فرماتے ھیں
اللہ پاک جو ھماری شہ رگ سے بھی قریب ترین ھے ھم کو عطا کرتا ھے
وہ بے آسرا کو
کسی مدد طلب کرنے والوں کو کبھی مایوس نیہں کرتا ھے
کیونکہ عمرہ یا حج تو خالص اللہ کی خوشنودی کی خاطر کیا جاتا ھے تو جیسے ھی زائر ارادہ کرتا ھے اللہ پاک اسباب سفر بھی غیب سے میہا کردیتے ھیں
25 صفر کو ایک مجلس کے آختتام پر میں نے دعا کی اور ارادہ کیا کہ اللہ پاک امسال بھی سال گذشتہ کی طرح مجھے اپنے گھر آنے کی توفیق عطا فرماۓ اور باربار مجھے وھاں آنے اور پہچانے کے اسباب میہا کردے آمین ثم آمین
جانے قبولیت کی کونسی گھڑی تھی کہ سال گذشتہ کی طرح
اس بار بھی ھرکام معجزاتی طور پر پورے ھونے لگے
زاد سفر
ویزہ
آفس سے چھٹی
احرام
احترام سفر
دعاۓ سفر
اللہ پاک میں کیسے شکریہ ادا کروں
اللہ پاک اس عنایت پر میں کیسے اپنے رب کا شکریہ ادا کروں
اس بار تو سراسر معجزہ ھی تھا مکہ مشرفہ ومدینہ منورہ جانے کا خواب پھر تعبیر میں ڈھل رھا تھا
جیسے ھی سفر کی تیاریاں مکمل ھويئں
میرے پاوں تلے زمین کی جگہ نرم بادل آگیے قدم زمین پر نیہں کیہں اور تھے
میں اپنی خوش بختی پر نازاں
خوشی و مسرت سے منا جات پڑھنے لگی
میں چلی میں مدینے چلی
میرے ھمراہ بادصبا بھی چلی
بیکلی مجھکو لیکر مدینہ چلی
چوم لوں میں مدینے کی ھرایک گلی
لیکر دامن میں سب کی دعايئں چلی
میں مدینے چلی
میرے سارے کام اتنی آسانی سے ھوتے چلے گے جیسے درجنوں لوگ میری مدد کررھے ھیں اور واقعی اللہ پاک غیب سے مدد فراھم کرتے ھیں
میرے ساتھہ امی کی دعايئں بھی تو تھیں
گو میں نے سال گذشتہ ان کے ساتھہ عمرہ کرتے ھوۓ کہا تھا
اب ھم دنوں یہاں آۓ تو ساتہھ ھی آئنگے
مگر امی امسال طبعیت کی خرابی کی بناء پر میرے ساتھہ نہ آسکیں
میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا
امی کا میری جان سے پیاری والدہ کا
میری دینا کی سب سے قیمیتی شے میری ماں کا بھی عمرہ ادا کرونگی
مجھے دعاوں میں لطف و سرور ملنے لگا میرا دل بس اڑکر مکہ ومدینہ پہنچنے کا خواب دیکھنے لگا
بحمداللہ
اللہ کا لاکھوں بار شکرھے کہ راقمہ اس سے قبل بھی کئی بار حج اور عمرے کی سعادت حاصل کرچکی ھے مگر ھربار ایک نئی کیفیت سے دوچار ھوتی ھوں
میں نے سفر نامہ حجاز لکھنے کا ارادہ تو سال گذشتہ کیا تھا
مگر اپنی ازلی کاھلی کی بناء پر اس بامقصد تحریر کو التوآء میں ڈالتی رھی اس خوف سے کہ میری تحریر میں ابھی پختگی نیہں آ‎ ئ ھے
نہ اتنی استعداد نہ اتنی قابلیت
نہ
کوئ لیاقت
نہ اتنا علم مجھے میری کم علمی اور کم مائيگی کا احساس بھی سفرنامے کو لکھنے میں آڑے آتا رھا کہ ابھی میں اپنی ان روحانی کیفیت کو رقم کرنے کے قابل نیہں ھوئ ھوں مگر آج
میں نے اپنے مرشد ومشفق من محب گرامی محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کی اپنے سفرنامے کے بارے میں ایک تحریر پڑھی تو بے آختیار قلم اٹھایا اور لکھنا شروع کردیا ھے محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کی ممنون ھوں کہ انکے حکم کی تعمیل کررھی ھوں آگر آپکا خلوص اور ڈاکٹر نگہت نسیم جیسی میری مسیحاء اور غم گسار کی محبت اور تعاون نہ ھوتا تو میں کھبی بھی ایک لفظ لکھنے کے قابل نہ ھوسکتی تھی میں اس حسن توجہ کے لیے اپنے ان کشادہ قلب اور فراخ دل دوستوں کی ممنون و متشکر ھوں
اس سفر نامے میں میرے 2012 کے دو عمرے اور 2013 کا عمرے اور اسکی تفصیل وکیفیت شامل ھیں

عمرے کی غرض سے 21 مارچ 2013 کی دوپہر کو گھر
سے چلی اپنا اسباب سفر کم اور دوسرں کو آرام دہ سفر اور تمام مشکلات سے محفوظ رکھنے کی دعا کے ساتھہ نماز پڑھی اور دعاۓ سفر بھی پڑھ کر اپنے آپکو اللہ کی حفظ وامان میں دینے کی دعا پڑھ کر اپنے آپ پر پھونکی
یوں
اللہ کی مدد الانبیاء کے قدموں کی مٹی کی خوشبو اھل بیت کی خوشی اور خوشنودی کا خیال بھی پیش نظر رھا اس کائنات کا سب سے معتبر و مقدس ترین مقام حرمین شریفین کی رونق و مہک کو اپنی روح و دل میں بسا کر
اکیلے پن کے ھر احساس کو مٹا کر ایک نئے حوصلے اور شوق ووارفتگی کے ساتھہ اسباب سفر میں دعاوں کو احتیاط سے رکھا کہ یہ سفر میں قدم قدم پر کام آتی ھیں
امی کی
بہنوں بھايئوں عالمی آخبار کے بہت نایاب اچھے اور خالص دوست احباب
کولیگز مہربانوں کی دعاوں کے ساۓ تلے ھم مدینے چلے
حسب معمول اپنے ساتھہ کافی تعداد میں کھانے پینے کی اشیاء اور منرل واٹر کی بہت ساری بوتلیں بھی ساتھہ تھیں تاکہ دوران سفر اگر کسی کو ضرورت پڑے تو کسی کے کام آجاۓ گی سنتے ھیں کہ مسافروں کی دعا رد نیہں ھوتی ھے
بس ایک دعا ایک خواھش بھی ھم رکاب ھوگی
کاش میرا تعلق ایک ایسے قبیلے سے ھوتا جو تاقیامت زائرین کو پانی پلاتا رھتا
کاش میں ھر ایک کے کام آسکتی
کاش میری ھر سانس کسی زائرہ کے کام آسکے
جاری ھے


102 تبصرے برائے “محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کے حکم کی تعمیل میں اپنے سفرحجاز کے تاثرات”

  1. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    March 7, 2013 بوقت 1:36 pm

    آنکھوں کھولوں تو مدینہ نظر آۓ مجھکو

    ،سعودی عرب اور کویت پڑوسی ممالک ھیں یہاں سے ھر روز اور خاص کر جمعرات کو درجنوں قافلے جاتے ھیں اور پرائیوٹ گاڑیوں کی تو کوئ حد ھی نیہن ھے ،

    کویت بارڈر پر لوگ تاخیر کی شکایت کرتے ھیں ،اور یہاں پر خروج لگتا ھے جو خواتین نقاب پہنتی ھیں انکی بھی تطبیق ھوتی ھے کہ پس حجاب وھی خاتون ھیں یا کوئ اور بعض خواتین نے زمانہ قبل مسیح کی تصاویر لگا رکھی ھیں ،عموما حواتین عمر کے معاملے میں بہت حساس ھوتی ھیں ۔خدا کا لاکھہ لاکھہ شکر ھے مجھے ایسا کوئ کومپیلکس نیہن ھے شائد اسی لیے میں اپنی بڑی بہن سے دوسال بڑی ھوں ۔ایسے بہت سارے واقعات ھیں جو آپ کو مسکرانے پر مجبور کر دینگے مگر کیونکہ یہ کوئ فکاھی تحریر نیہن ھے اس لیے راوی ان تمام واقعات کو ھذف کرتا ھوا اپنے بینادی مقصد کی طرف آتا ھے مجھے اللہ تعالی کے فضل وکرم سے بہت بار عمرے اور ایک بارحج کی سعادت بھی ملی ھے ۔اور ھر سفر ھی وسلیہ ظفر کے ساتھہ چشم کشا واقعات کی پٹاری ھوتا ھے ۔ ایک نئی دنیا نئے لوگ نئی زبان ،اور پھر یہ تو ایک اسی سرزمین کا سفر تھا کہ جو ساری دینا کا محور ومرکز ھے

    مکہ مکرمہ جو شہروں میں سب سے معتبر شہر ھے جو الانبیاء و المرسلین کا پسندیدہ شہر بھی ھے
    مکہ العروس البلاد ھے
    مکہ ام القریہ ھے
    مکہ شہر حبیب خدا ھے
    اللہ تعالی نے مکہ کو امن و سلامتی والی جگہ قرار دیا ھے
    مکہ اللہ تعالی کا پسندیدہ شہر ھے ؎
    یہ برکتوں فضلتوں اور زمنیں پر سب سے اعلی و فائق مقام ھے
    مکہ جو آج دینا کی ھر نعمت سے بھری ایک خوش بخت بستی ھے
    ایک زمانہ تھا کہ مکہ میں نہ پانی تھا نہ کوئ اور نعمت
    اس میں زندگی کی علامت تھی نہ کوئ انسانی آبادی
    اللہ تعالی نے پہاڑی بنجر مردہ زمین کو آباد کیا زندہ کیا
    باعات لگاۓ ایسے کہ جن پر بہشتی حدیقہ کا گمان ھوتا ھے
    اللہ پاک نے سرزمین مکہ کو معدنی دھاتوں اور تیل جیسی قیمتی نعمتوں سے زمین کی گود بھر دی
    اور ھم نے اس میں باعات لگاۓ کھجور اور انگور کے اور ھم نے اس میں چشمے جاری کیے
    سورہ یسین

    مکہ جو اس پوری کائنات کا محور ومرکز ھے
    اس مقدس زمین سے مسلمانوں کی قلبی اور مذھبی روحانی جذباتی عقیدت کسی عہد میں کم نیہں ھوئ
    مکہ جو ھر زمانے اور ھر عہد میں انسانوں کا مرکز نگاہ رھا ھے
    مکہ جہاں جاے کی خواھش
    لیکر ھر مسلمان دل میں اس آرزو کا باغ لگاتا ھے
    مکہ جہاں صرف انسان ھی نیہں اسمانوں سے ملائک عبادت کرنے آتے ھیں
    مکہ جو جن وبشر وملائک کی عبادت گاہ ھے
    مکہ جہاں بیت العتیق ھے
    مکہ جہاں اللہ تبارک تعالی کا گھر ھے
    دنیا بھر کے مسلمانوں کی
    بس ایک ھی تمنا کہ اس گھر کا دیدار ھوجاۓ جہاں عرش سے ملائک آتے ھیں
    مکہ جہاں ایک نماز کا ثواب ھزاروں نمازوں کے ثواب کے برابر ھے
    اے میرے خالق ومالک
    اے میرے رب
    اے میرے پرودگار
    اللہ تعالی میری اس تحریر کو پڑھنے والوں کو بار بار مکہ ومدینہ جانے کی سعادت عطا فرمانا آمین ثم آمین

    إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكاً وَهُدًى لِّلْعَالَمِین آل عمران96
    اللہ تعالی نے سب سے پہلا گھر بنایا بکہ مبارکہ جو سارے عالمین کی ھدایت کے لیے بنایا گیا ھے

    ،جہاں بس بانصیب جاتے ھیں ،اس شہر مقدس کو اللہ تعالی نے اپنے برگذیدہ بنی حضرت ابراھیم علیہ اسلام کی دعا کو قبول کرکے شہر مکہ کو بابرکت اور
    امن والا شہر بنا یا ، حضرت ابراھیم علیہ اسلام نے دیگر دعاوں سےقبل اللہ تعالی اکی بارگاہ میں یہ التجاء کی تھی
    کہ شہر مکہ کو امن والا شہر بنا دے ،خالق کردگار نے مرسلین کی دعا کو قبول فرمایا، اور مکہ جیسی خشک اور بنجر زمین کہ جہاں کوئ پھلدار درخت تک نہ تھا اس شہر فضلیت کوبہشتی نعمتوں اور برکتوں کی وجہ سے ، سارے شہروں پر فضلیت عطا فرمائ، رزق اور برکتوں سے اس کو ممتاز کیا ،اور پہاڑی بنجر زمین مردہ زمین کو آباد کیا زندہ کیا باغات لگاۓ معدنی دھاتوں اور تیل کی دولت سے مالامال کیا،

    قرآن مجید جو اعجاز و بلاغت میں دنیا کی ھر کتاب سے اعلی اور بہترین اور لائق تعظیم اور فائق ھے ،
    سورہ یسین کی آیت نمبر 24 میں مکتوب ھے
    اور ھم نے اس میں باغات لگاۓ کھجور اور انگور کے اور ھم نے اس میں چشمے جاری کیۓ ۔صدق اللہ العظیم

    مکہ ایسی پاکیزہ سرزمین ھے جو اللہ کے برگزیدہ نبی ، رسل اورپیغمبروں کا مسکن اور مدفن رھی ھے

    مکہ المشرفہ ۔جہاں بیت العتیق واقع ھے زمین پر سب سے مقدس ترین مقام ، مکہ جو اللہ تعالی کے پاک بنی کی
    جاۓ ولادت بھی ھے جہاں جانے کی خواھش ھر مسلمان کے دل کو بیقرار کیے دتیی ھے دنیا بھر میں موجود 3ملین زائرین حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرتے ھیں دینا بھر کے مسلمان پانچ بار کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ھیں
    کعبہ المشرفہ جو ھر جین کا آستانہ ھے

    ھر کلمہ گو کی دلی تمنا کہ کم سے کم ایک بار بیت اللہ کی زیارت میسر آجاۓ
    کرہ ارض میں بسنے والے ھر مسلمان کی ایک ھی حسرت کہ حرم مکی و مدنی کی معطر پاکیزہ فضاوں کی
    خوشبو کو روح میں بسا لیے۔’
    اور موت بھی آۓ تو وھیں آۓ
    جاں نکلے تو وھیں نکلے ۔

    اکثر تنہائ کے لمحات میں ان خوش بختوں پر رشک آتا ھے جو مکہ اور مدینے میں مدفون ھیں۔ ۔
    جن کی قبریں روشن اور معطر ھیں ۔

    ھم بھی مکہ مشرفہ و مدینہ منورہ کو بار بار دیکھنے کی خواھش کا خواب اپنی آنکھوں میں بساۓ گھر سے نکلے
    اللہ جانے آغاز سفر سے ھی آنکھوں میں سمندر در آۓ
    اور میں گريئہ نیم شبی کی لذت سے دوچار ھونے لگی

    اب تو موقعہ ھی ایسا تھا کہ گویا پرواز کے لیے پر مل گۓ ھوں
    وارفتگی شوق ۔
    وھاں جانے کی خواھش ایسے غیرمتوقع طور پر پوری ھورھی ھے ۔کہ شکرگذاری کے لیے الفاظ ھی نیہن مل رھے ھیں ۔

    للہ پاک نے وھاں آنے کی اجازت دے دی ھے اپنے گھر میں ۔ جہاں بغیر بلاوے کے کوئ نیہن جاتا

    دنیا کے سب سے مقدس ترین مقامات پر جانے کی خواھش پوری ھورھے
    آدمی وھاں جاکر پھر باربار جانے کی تمنا کرتا ھے
    خلیجی ممالک میں عمرے ، حج کی چھٹی فوار مل جاتی ھے۔ یہ بھی بہت بڑی نعمت ھے ۔

    یہ سب سے اچھی بات ھےکہ یہاں رھنے والے باربار عمرے اور حج کی سعادت حاصل کرلیتے ھیں ۔
    ھر مسلمان کی یہ بہت بڑی خوش بختی ھے۔ کہ وہ جوانی میں بہت آرام و اطمینان سے ساری عبادتیں انجام دے،

    کیہں کوئ خواب تو نیہن ،
    خوشی سے میرا عجب حال ھے۔

    میں زمین کے گوشے گوشے پر سجدہ شکر ادا کرنا چاھتی ھوں
    مالک میں تیرا شکر کیسے ادا کروں ، مجھے اذن باریابی مل گیا ھے ۔

    آنکھوں میں خوشی اور شکرگذاری کے آنسو۔

    ھمارے ساتھہ سبکی دعاوں اور سڈنی میں مقیم ھماری بہت عزیز
    دوست اور بہت پیاری بہن ،نظم اور نثر پر گہری دسترس رکھنے والی بہت خوبصورت قلم کار ڈاکٹر نگہت کے فونز اور فورچن نے سارے مراحل کو آسان بنا دیا
    اللہ تعالی کیسے کیسے وسلیے سے مدد کرتا ھے ، کس کس طرح اپنے بندوں کو بے پایاں انعام واکرام سے نوازتا ھے
    اپنی پیاری پرخلوص دوست کی محبت اور اسکی غیرمعمولی توجہ کی بدولت سارے کام سہل ھوگے
    ایں دعا ازمن وازجملہ
    جہاں آمین آباد

    اے میرے مالک ، اے مالک ارض و سماء یہ سارے آچھے اور پرخلوص لوگ جو ھمہ وقت زائرین حرم کی خدمت کےلیے تیار رھتے ھیں ان کو اجرعظیم عطا فرما، آمین ثمہ آمین

    یہ کیسا الوھی جذبہ ھے کہ سب ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کررھے ھیں
    یہی تو وہ ایک برج ھے ، رابطہ ھے ، خیط ھے جس نے دنیا میں کسی بھی جگہ رھنے والے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے مربوط کررکھا ھے ۔۔مسلمانوں کی اسی وحدت سے خائف عسیائ اور یہودی ۔دیگر مذاھب کے لوگ ، ھم سے خوفزدہ ھیں، خاص کر 9/11 کے بعد مسلمانوں کے خلاف امریکی اور یورپی ابلاغ نے جو مہم شروع کررکھی ھے ۔
    جس دن قرآن کریم اور دنیاوی علوم میں دسترس حاصل کرلی اسی وقت یہ مجعزات شروع ھوجاينگے

    ھم سب مسلمان بغیر کسی جنگ وجدل
    بنا کسی ھتیار کے اپنے منکران اسلام کو شکت فاش دے سکتے ھیں
    دین اسلام امن ومحبت وسلامتی اور خیر کا دین ھے

    اللہ تعالی کا وعدہ
    مسلمانوں کو انکی کھوئ ھوئ عظمت و وقار ضرور حاصل ھوگا
    مسلمان ایک بار پھر غالب ھونگے۔
    بس ھم سب اپنے عمل و قول میں یکسانتیت پیدا کرلیں

    مسلمان دنیا میں کیہں بھی ھو، کسی کو بھی تکلیف نیہن دے سکتا ھے ۔دین اسلام تو محبت ، عفو اور معاف کرنے والا مذھب ھے ۔

    بخشش کے طلب گار ھیں اے منبع رحمت
    قرآن سے الفت کے تو اطوار عطا کر
    بات کہاں سے کہاں نکل گی

    ، ھم سب آرام دہ نشتوں پر بیھٹے تھے ،40افراد کا قافلہ سوۓ حرم جانے کے لیے تیار تھا ، سبھی ھی دعاوں میں مناجاتوں میں مصروف ،

    سبکی آنکھوں سے باربار

    بات بے بات اشکوں کا دریا رواں ھوجاتا

    پھر کویتی اور کویت میں مقیم افراد زیادہ پر اپنی گاڑیوں سے مکہ ومدینہ جاتے ھیں اس لیے پرايئوٹ گاڑیوں کا بھی بے تحاشہ رش تھا ۔
    مغرب عشاء کی نماز او رپھر رات کا کھانا سعودی بارڈر پر ھی کھایا ،تقریبا ڈیرھ بجے رات کو امیگریشن ، سامان کی چیکنگ سے
    فراغت ملی ،اور گاڑیوں کی روانگی شروع ھوئ ،مایوس اور تھکے ھوۓ زايرین کے چہروں پر رونقین لوٹ آيئں
    اور دعاۓ سفر کے ساتھہ ایک پھر ھماری گاڑی سوۓ مکہ کی طرف روانہ ھوئ ۔ تھکن سے برا حال تھا
    کافی رات گذر چکی تھی آگے کے سفر کےلیے بہت توانائ ھمت درکار تھی ،

    اس لیے سبھی اپنی آرام دہ سیٹوں پر آنکیھں بند کیے آرام کرنے لگے ۔

    بس تہجد کی نماز اور چاۓ کے رکی ۔ فجر کی نماز کے لیے جب بس رکی تو بہت سارے زائرین نماز کے بعد ناشتہ کرنے لگے ، ھم نے بھی گرم گرم چآۓ اور آمیلٹ کا ناشتہ کیا، ھر چیز میں ایک نیا لطف اور مزہ تھا،میں نے حسب معول زیتون اور زعتر بھی ناشتے میں کھایا،راستے میں جگہ جگہ مساجد ھیں بہترین رستورانٹ ھیں اور پٹرول پمپ اور گروسری شاپس بھی ھیں ، بڑی بڑی سپر مارکیٹس بھی جہاں ھر چیز کویت سے کیہں کم دام میں دستیاب تھی میں نے کافی ساری کھجوریں لیں عرب ممالک خاص کر سعودیہ کی کھجوریں اپنے ذايقے اور قسموں کی وجہ سے بہت مشہور ھیں ۔

    اور پھر یہ تو وہ کجھوریں تھیں جو مالک ارض وسماء نے اس بنجر زمین میں آگاۓ تھے جہاں پہاڑی زمین کی وجہ سے زراعت ناممکن تھی

    اور ھم نے اس میں باغات لگاۓ کھجور اور انگور کے اور ھم نے اس میں چشمے جاری کیے سورہ یسین میں اللہ تعالی کا ارشا د ھے

    اللہ تعالی نے اپنی قدرت کاملہ سے اس زمین کو خیر وبرکت سے سرفراز کیا۔ پہاڑی مردہ بنجر زمین کو آباد کیا
    باغات لگاۓ اور تیل اور سونے جیسی بہت قیمتی معدنیات سے اس زمین کو مالامال کردیا۔

    سرزمین نجد کی کھجوریں اپنے ذائقہ اور معیار کی وجہ سے بہت مشہور ھیں
    کھجور میں بہت توانائ ھوتی ھے ، یہاں کجھوروں کی 90 سےزائد اقسام کی کھجوریں موجود ھیں اور ان میں عجوہ کھجور بھی شامل ھے
    عجوہ کجھور کو جنت کا میوہ بھی کہا جاتا ھے

    ھمارے پاک نبی
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بہت شوق سے عجوہ کھجوریں تناول فرماتے تھے
    عجوہ کھجور بہت مفید ۔بہت لذیذ اعلی اور بہت مہنگی ھوتی ھیں ۔ اس میں شفا ء ھے ، ،عرب کی کجھورورں میں برھی ، عجوہ رطب ، امیرالحج،سکری ،اور بہت ساری اقسام کی فائدے مند کھجوریں دینا بھر میں اپنی غذائیت اور اعلی کوالٹی کی وجہ سے مشہور ھیں
    جو امراض قلب میں مبتلا افراد کےلیے بہت فائدے مند ھے ، اسکی گھٹلی میں بھی بہت شفا ھے ۔
    سبحان اللہ سبحان اللہ ۔اگر سفر میں کسی زائر کے پاس کجھور اور آب زم زم ھو تو کیا کہنے ،

    طاقت وتوانائ کے ساتھہ دل کو تقویت بھی ملتی ھے۔
    دودھ میں چند کھجوریں ابال کر کھانا بھی باعث شفا ء ھے
    مولاۓ کائنات علی ابن ابی طالب کا فرمان ھے کہ کھجور کھاو کہ اس میں شفا ھے
    طب معصومین میں بھی کھجور کے بےحد فوائد مرقوم ھیں

    خیال کا تیز پرواز پرندہ
    کہاں سے کہاں نکل گیا ، ھم خوش ذائقہ اور مذیدار
    کجھوریں کھاتے ، چاۓ کافی ، تازہ ّپھلوں کا جوس پیتے ،

    اپنے رب کی حمد وثنا کرتے
    تسبح ومناجات کی وجہ سے ھمارا سفر بہت سہل ھوگيا تھا
    ھم کو امید تھی کہ جمعہ کی نماز حرم مکی میں پڑھنے کی سعادت مل جاۓ گی
    مگر سعودیہ کے بارڈر پر ھی اتنا وقت ھوگیا تھا کہ اب رات کوھی مکہ پہنچ سکتے تھے ، بہرحال اس سرزمین کی اپنی علحیدہ ھی کشش ھے
    گاھے بگاھے میں کھڑکی سے بیرونی مناظر بھی دیکھتی ، تاحد نظر سکوت میں ڈوبی جبالی وادیاں ، صحراء میں آگے کھجور کے درخت اور جابجاء نظر آنے والے صحرائ جہاز ۔ جمل ، اونٹ بھی دکھائ ديئۓ ۔جس طرح ھندوستان میں گاۓ کو حقوق حاصل ھیں اسی طرح سعودیہ میں اونٹوں کو حقوق حاصل ھیں۔

    ان کو مارنے والوں کو سخت سزا ملتی ھے ،
    ایک ، اور دو کوھانوں والے اونٹوں کو انسان تقریبا 3000 ھزار سال سے باربرداری، اور سواری کے لیے استعمال کررھا ھے
    بہت زیادہ بوجھہ اٹھانے والا مفید جانور ھے ، یہ صحرائ جانور کئی روز تک بھوکا پیاسہ رہ سکتا ھے
    ریگستانی علاقوں میں یہ سواری کا بہترین وسیلہ ھے کیونکہ یہ شدید ترین سخت موسموں میں بھی اپنے سفر کو جاری رکھتا ھے ،
    اس کا دودھ بھی بہت صحت بخش ھوتا ھے ۔
    مجھے نجد و حجاز کی وادی میں موجود اونٹوں سے اس لیے بھی بہت عقیدت محسوس ھوئ کہ ھمارے

    پیارے نبی محمد صلی اللہ غلیہ وسلم کی سواری قصوی بھی انھی گذرگاھوں سے گذری ھوگی ۔ اور ھمارے نبی پاک ان کا دودھ بہت رغبت سے پیتے تھے ۔
    ۔ھماری بس بہت دیر کے بعد ریسٹ ھاوس کے پاس رکی تھی سب بہت بے تابی سے بس سے نکلے ، سب زائرین مغرب و عشاء کی نماز پڑھنے کے لیے مسجد چلے گۓ ، سفر میں ایک بات بہت پریشا ن کن تھی کہ
    حمامات النساء کی حالت بہت بری تھی
    طہارت برقرار رکھنا بھی مشکل ھوتا کہ بعض جگہوں پر حمامات اس قدر گندے تھے کہ دیکھہ کر کراھیت ھوئ
    ھم کو پہلے ھی سے معلوم تھا کہ پہلے ھم سب کو مدینے جانا ھے پھر مکہ آنا ھوگا

    جاری ھے

  2. عالم آرا نے کہا ہے:
    March 7, 2013 بوقت 5:34 pm

    اسلام علیکم ساتعیو
    بہن شاھین حیدر رضوی خوش رہو۔
    اللہ آپ کی تمام دعاؤں کو قبول فرمائے ۔آمین
    بہت خوبصورتی سے لکھ رہی ہیں اس سفر کو جاری رکھئے بغیر یہ سوچے کہ آپ کیسا لکھتی ہیں ۔ کہ ہم سب پڑھنے والے بھی آپ کے ساتھ ساتھ حرمین شریفین اور در مصطفےصلی اللہ علیہ وسلم اور جنت البقیہ کی زیارت آپ کی تحریر کے زریعے کرینگے ۔
    آپ بہت اچھا لکھتی ہیں جو دل میں اتر جاتا ہے ۔
    سنا ہے اب وہاں بہت تبدیلی ہوگئی ہے ۔ میں خود کو خوش قسمت بس اس ناطے سمجھتی ہوں کہ میں نے اپنا پہلا عمرہ جب کیا تھا جب وہاں ٹائل اتنے گرم ہوتے تھے کہ پیروں میں چھالے پڑ جاتے تھے ۔
    اس کے بعد جتنے عمرے کئے وہ ٹھنڈے اور ارام دہ ٹائل پر تھے ۔
    اگلی تحریر کا انتظار کرونگی ۔
    اللہ آپ کو سلامت اور ہمیشہ اپنی امان اور حفاظت میں رکھے آمین
    عالم آرا

  3. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    March 8, 2013 بوقت 1:51 am

    بہت بہت خوبصورت ۔۔ شاہین میری دلاری مجھے یوں لگ رہا ہت جیسے میں تمہارے ساتھ ساتھ چل رہی ہوں ۔۔بس اب چلتی جانا ۔۔ کہی نہیں رکنا ۔۔ اچھا پھر کیا ہوا ۔۔ ؟ جلدی سے لکھو

  4. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    March 8, 2013 بوقت 2:14 am

    صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    March 7, 2013 بوقت 10:00 am ایڈٹ
    شاہین جب سے اللہ کے گھر اور اسکے حبیب کے در کی زیارت سے واپس آئی ہے اسکی قوت گویائی اور قوت تحریر میں ایک ہزار گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ بس شاہین یہی وقت ہے دیار حبیب کا اپنا سفر نامہ لکھ ڈالو۔کیا خبر کتنے لوگوں کے لیئے یہ صدقہ جاریہ ہو

    زائرِخانہ خدا اور درِرسول ،ہم سبکی دلاری شاہین رضوی کی نذر

    یہ معجزہ بھی وہ بار دگر دکھائے گا
    وہ خواب میں ہمیں اذنِ سفر سنائے گا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہاں شہرِ دل میں بھی اک روشنی سی اترے گی
    گلے جو زائرِ طیبہ ہمیں لگائے گا
    ۔۔۔۔
    میں لوٹ آئی بھلا کیوں دیارِ یثرب سے
    خیال تم کو یہ شاہین اب ستائے گا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    خدا کے گھر کی زیارت سے لوٹ ائی ہو
    یقیں کرؤ کہ وہ اک بار پھر بلائے گا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    درِ رسول پہ اب کے یہ معجزہ ہو گا
    ملک فلک پہ مری نعت گنگنائے گا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہر گوشے میں جسکے فقط ہو نورِ درود
    وہ ایسا شہر مرے دل میں بھی بسائے گا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہاں وہ جسکی نیتِ خالص ہے بس وہی صفدر
    در خدا پہ در مصطفیٰ پہ جائے گا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سبحان اللہ ۔۔ سبحان اللہ

  5. سیّدہ زائرہ عابدی نے کہا ہے:
    March 9, 2013 بوقت 1:14 am

    سب محترم ساتھیوں کو سلام اور دعائیں

    سبحان اللہ ، ماشاللہ ،جزاک اللہ

    ڈئر شاہین تم انشاللہ پھر دیار نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم اور دیار مکّہ کا سفر ضرور کرو گی ،یہ تو اس خالق و مالک کی عطا ہئے جس کے لئے اس کی نگاہ انتخاب تم پر گئ ہے کہ وہ تم کو با ر با ر یہ سعادت عطا کر رہا ہے ،

    اور اپنا یہ روحانی سفر نامہ یونہی جاری رکھّو تاکہ ہم جیسے تشنہ لب اس کو قطرہ قطرہ آنکھوں سے اپنے دل میں اتارتے رہیں

    دعاگو زائرہ بجّو

  6. abida نے کہا ہے:
    March 9, 2013 بوقت 8:23 am

    شاھین جی! آپ ک سفر کی داستا ن بہت دلچسپ ہے-محسو س ہواآپکے ساتھ میں بھی جا ر ھی ہوں-تفصیل سے ھی جاری رکھیں-بہت معلومات
    ملی ہیں -مز ید کا انتظار ہے-

  7. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    March 10, 2013 بوقت 12:13 pm

    اچھی بہن عالم آراء
    اچھی بہن زا‏یرہ بجو
    اچھی بہن ڈاکٹر نگہت نسیم
    اچھی بہن عابدہ
    انتظار کے لیے معذرت چاھتی ھوں
    بس لکھنے کے لیے انٹر نٹ کے لوازمات بھی ضروری ھوتے ھیں اور ھمارے لیپ ٹاپ کو تو کوئ اسی ناقابل علاج بیماری لگی ھے کہ اتنے اچھے ڈاکٹرز کے مہنگے علاج کے بعد بھی ٹھیک نیہن ھوتا ھے
    خیر جو لطف انتظار میں ھے دونون ھاتھوں کو جوڑ کر معافی مانگتی ھوں
    اس بار تو وعدہ ھے تھوڑی دیر سویر ھوجاۓ‎گی
    مگر انشا اللہ سفر نامہ مکمل ھوگا
    انشا اللہ
    انشا اللہ
    انشا اللہ
    میری بہنوں
    میری سہلیوں
    میری سکھوں
    میرے دکھہ سکھہ کی ساتھیوں
    آو کہ اب میں تھمارے ھاتھوں کو پکڑ کے ننگے پاوں باادب
    لرزتے ھوۓ جسم وجاں کے ساتھہ شہر نبی میں داخلے کی دعا پڑھتے ھوۓ

    ھم سب بہنیں ایک دوسرے کا ھاتھہ پکڑے تھوڑے ڈرے ڈرے کر چل رھے ھیں
    کہ جا‎ے ادب ھے یہ وہ جگہ ھے جہاں جن و ملک شہنشاہ و فقیر سب سرجھکا کر کھڑے ھوتے ھیں
    کہ عالم کا سب سے برگزیدہ نبی پاک نبی کا شہر پاک ھے
    ھماری جانیں آپ پر قربان ھمارے پیارے نبی
    شافع روزمحشر
    ھم گناہ گاروں کو اپنی شفاعت سے محروم مت کیجے گا
    ھم ایک بہت طویل سفر طے کرکے اب مدینہ میں داخل ھوچکے تھے
    باوجود اس کے رات بہت بیت چکی تھی
    مگر ھم سب جیسے ایک دم کوئ خواب سے بیدار ھوتا ھے اور دیر تک حیران ودم بخود کھڑا رھتا ھے
    بس اسی مقنا طیسی کیفیت کا شکار تھے
    ایک بے یقیینی سے
    کیہں خواب تو نیہں ھے
    ھم گناہ گاروں کے بخت جاگ اٹھے
    ھم اپنے پیارے نبی کے شہر امن ایمان میں داخل ھوچکے تھے میں نے کھڑا ھونا چاھا میری تو جانے کس لمحے میں جان نکلنے والی کیفت ھوچکی تھی کوئ رورھا تھا
    کوئ دعا پڑھ رھا تھا
    کوئ جنت البقع کے لیے تڑپ رھا تھا ‘
    کسی کو مدینے کی خوشبو نے بیقرار کیا تھا
    کوئ اپنے پیاروں کا ھاتھہ پکڑ کر شکر ادا کرنے کو کہہ رھا تھا
    ھر ایک کی کیفیت مختلف
    ھر ایک کا انداز جدا
    بس ایک بات بہت سچی تھی اس لمحے کہ کوئ آنکھہ خشک نہ تھی اس چھوٹی سی آنکھوں میں اتنا پانی کہ بند باندھنا مشکل ھورھا تھا
    سب باادب سر کو جھکا ‎کر سلام پیش کررھے تھے
    نہ جانے رات کا کونسا پہر تھا
    نہ سردی کا احساس
    نہ طویل سفر کی تھکن کا احساس نہ کوئ شکوء نہ کوئ گلہ
    یہ ھم کس دینا میں آگے ھیں
    ھممارے قدموں میں تیزی آگی تھی تھکن کی جگہ تازگی
    افسردگی کی جگہ بشاشت
    نیند کی جگہ بیداری
    ھم سب دورد وسلام پڑھتے
    تیزی سے ھوٹل کی طرف رواں تھے
    کس کو کونسا کمرہ ملا
    کس کا سامان کہاں ھے
    کون کہاں ھے
    اور یہ میں کہاں آگی ھوں

    عاجزی سے شوق دیدار قدم کیہں بڑھ رھے ھیں
    میرے ھاتھوں میں یہ کیسی کپکپاھٹ ھے
    میری زبان کیوں بند ھوگی ھے
    میری گویائ
    میرا وجود
    میں گناہ گار شہر نبی پاک میں
    میں خوشا نصیب
    میری خواھش تھی کہ

    روضہ رسول پاک پر ننگے پاوں جلتی ھوئ زمین پر چلتی ھوئ حرم نبوی میں داخلے کی دعا پڑھوں

    ھزار بار بشویم دھن زمشک وگلاب

    ھنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی

    مدینہ جہاں خاتم النبین کا روضہ اقدس ھے

    روضہ رسول العربی کی زیارت کرنا

    دین ودینا میں سرخروئ کا موجب ھے

    حدیث نبوی میں ھے کہ جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت لازمی ھوگی الصلواّۃ والسلام علیک یا رسول اللہ

    آپ پر لاکھوں سلام

    نبی پاک پر اور آپکی پاک آل پر لاکھوں دورد و سلام

  8. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    March 11, 2013 بوقت 8:18 am

    اس کائنات کے تین مقدس ترین مقامات میں ایک
    مدینہ منورہ ھے
    مدینہ
    شہر مدینہ
    نبی پاک کا مدینہ
    کائنات کے سب سے خوبصورت شہروں میں شامل مدینہ
    ھر مسلمان کلمہ گو کے دل میں بسا مدینہ
    ھر مومن کی انکھوں کی ٹھنڈک مدینہ
    شہر محبوب پروردگار
    مدینہ صرف ایک شہر کا نام نیہں ھے
    مدینہ تو ایک عبادت کا نام ھے
    کیونکہ مدینے کا نام سلتے ھی ھمارے دلوں کی دھڑکن تیز ھوجاتی ھے
    اس دل کی دھڑکن جس میں نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت و عقیدت کا نور ھوتا ھے
    مدینہ جہاں مسکن و منبر و مصلی نبی پاک ھے
    جہاں روضہ مبارک ھے
    جہاں ادب اور قرینے سے چلتے ھیں
    جہاں کی ھوايئں عطر بیز ھیں
    مدینہ جسکا نام آتے ھی شافع روزمحشر کی محبت اور انکا خیال دل میں چاند کی طرح جگمگاتا ھے
    مدینے سے ھماری مذھبی
    روحانی
    قلبی
    جذباتی
    نظری
    فکری
    لگاو تو فطری ھے ھی مگر
    مدینے سے محبت ھمارے ایمان کی دلیل بھی ھے
    مدینے کا لفظ لکھتے ھوۓ مجھے لگتا ھے کہ میرے
    بے اثر قلم میں کسی نے نئی روح بھر دی ھے
    بے جان لفظ بولنے لگے ھیں
    جہاں کے زرے زرے پر لعل گوھر فدا ھیں
    مدینہ منورہ
    نور اور روشنی کا اسعتارہ ھے
    مدینہ منورہ رونق زیست ھے
    کسی سیارے او رستارے پر اتنی روشنی نیہن
    اتنی رونق نیہن
    اتنی قدرت نیہن
    اتنی خوبصورتی نیہن
    اتنی دلکشی خوش نظری نیہن ھے
    مدینہ منورہ جہاں ایک عجیب سا سکوت ھے سکون ھے

    مقام ادب ھے
    لوگ غسل کرکے
    خوشبو لگا کر
    باادب
    شوق و وارفتگی سے
    سوۓ دیار نبی کی طرف رواں دواں ھیں
    مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی شان انوکھی ھے
    سب سے جدا ھے
    سب سے منفرد ھے
    سب سے خوبصورت ھے
    اے اللہ کے پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم
    ھم دن رات آپ پر درود و سلام بھجتے ھیں
    ھمارے دلوں کو آپ نے نور ایمان سے
    اسلام سے روشن کیا
    ھم اپ پر قربان
    لاکھوں بار قربان
    اج سے 14سال پہلے جب میں پہلی بار مدینہ منورہ آئ تھی اور دسمبر کی سخت ترین سردی تھی اپنے ساتھی ھم سفروں کو کہ جو دو بزرگ خواتین تھیں
    انکو غسل اور نیئے لباس پہنے میں مدد دینے کے بعد فجر کی نماز میں بہت تھوڑا سا وقت رہ گیا تھا
    جب میں خود نہانے کے ارادے سے حمام میں گی
    تو گرم پانی ختم ھوچکا تھا اور مجھے ھرحال میں غسل کرکے مسجد نبوی میں جانا تھا

    میںجو شدید گرمی میں بوائلر آن ھی رکھتی ھوں
    اس وقت شوق زیارات میں شدید سردی میں بہت ٹھنڈے پانی سے عسل کرکے عجیب سی فرحت محسوس کررکھی تھی
    نہ مجھے اس وقت کسی سردی کا احساس ھوا
    بس سامنے ایک ھی مقصد تھا کہ میں زا‏ئر مدینہ ھوں
    مجھے پورے آداب و احترام کے ساتھہ اس مقدس مقام پر حاضری دینا ھے

    شاھد کامل فخر دوعالم شافع محشر کا دوبار
    خاک مدینہ چوم کے میں نے دل کا داغ مٹایا ھے
    مدینہ شہر بنت رسول بھی ھے
    ام المومنبین حضرت بی بی خدتجہ کا شہر ھے
    صحابہ اکرام کا شہر ھے
    اولیاء الدین کا دین کا شہر ھے
    حق و صداقت کا شہر ھےھم بہت
    ھم پر عجب سی کیفیت طاری ھوچکی تھی
    ھم مدینے منورہ میں ھیں اور اب اپنی زندگی کی سب سے خوش بخت ساعت
    پر فخر کرتی
    برھنہ پاء چلتی گنبد خضراء پر نظر آتی تو دل بے ساختہ گريئہ پر مائل ھونے لگا
    مسجد نبوی کا جمال اور حوبصرت طرز تمعیر تو دل پر اثر کرتی ھی ھے ‘
    مگر یہ احساس کہ آپ شہر مرکز انوار میں داخل ھوچکے ھیں
    آّ پ اس ذی مقام شہر میں ھیں جہاں رات دن ملائکہ بھی آتے ھیں
    جہاں ایک نماز بھی ھزار نماز کے برابر اجر رکھتی ھے
    میں نے مسجد نبوی کے بارے میں کچھہ معلومات اپنی سفری کاپی میں بھی رکھی ھوئ تھی

    * مسجد نبوی کی پیمائش 82000 مربع میٹر ہے۔
    * مسجد نبوی کی بلندی 1225 میٹر ہے۔
    * مسجد نبوی میں 2014 ستون ہیں۔
    * مسجد نبوی کے ستون آپس میں 6×6 میٹر فاصلے پر ہیں۔
    * مسجد نبوی کی گنبد کی جگہ میں ستون کا فاصلہ 18میٹر ہے۔
    * مسجد نبوی کے متحرک گنبدوں میں ایک گنبد کا وزن 80 ٹن ہے۔
    * مسجد نبوی کی چھت کے اوپر کی نماز کی ادائیگی کی جگہ 58250 مربع میٹر ہے۔
    * مسجد نبوی کی چھت کی پیمائش 67000 مربع میٹر ہے۔
    * مسجد نبوی کی چھت پر تقریباً 90,000 افراد نماز پڑھ سکتے ہیں۔
    * مسجد نبوی کے صحن میں 430000 افراد نماز پڑھ سکتے ہیں۔
    * مسجد نبوی مسجد نبوی کے صحن کی پیمائش 235000 مربع میٹر ہے۔
    * مسجد نبوی میں کل 698000 افراد بیک وقت نماز ادا کرسکتے ہیں۔
    مسجد نبوی
    دینا کی بہترین مساجد میں دوسرے نمبر پر ھے
    اسکی تعمیر وتو سیع میں دینا بھر کے بہترین مسلمانوں نے حصہ لیا اپنی تعمیر کے لحاظ سے یہ دینا بھر کے بہترین ماھرین کی کاوشوں کا رزلٹ ھے

    مسجد کی وسعت دیکھہ کر آنکھیں کھلی رہ جاتیں ھیں
    مسجد میں ھر ستون کے ساتھہ ھی آيئر کنڈشنر کا پوائنٹ ھے
    جس میں سے ھر وقت روح کو شاد و مسرور کرنے والی ھوآيئں آتی ھیں
    اور مدینے کی ھواوں میں تو یوں بھی بہت گہری تاثیر ھے
    عورتوں کو مسجد نبوی کے ھر گوشے میں جانے کی اجازت وآزادی نیہن ھے
    مسجد میں عورتوں کے ساتھہ کوئ اچھا سلوک نیہن کیا جاتا ھے
    میں پہلی بار گی تو مسجد کے بہت سارے گوشوں کی زیارت کی تھی
    اب 2013 میں عورتوں کا ریاض الجنہ اور دیگر مقامات تک پہچنا خواب خیال بن چکا تھا

    مسجد میں داخلے کی دعا پڑھتے ھی محسوس ھوا کہ ھم کسی اور دینا میں آگے ھیں
    اسی روح پرور ھوا

    مسجد کی توسیع کا کا م کافی بار ھوا ھے
    جاری ھے

  9. عالم آرا نے کہا ہے:
    March 11, 2013 بوقت 3:57 pm

    اسلام علیکم بہن شاھین سلامت رہو خوش رہو
    آنسو رک نہیں رہے ۔ ایسا لگ رہا ہے کہ میں تمہارےساتھ ساتھاُس دربار پر وقار میں ہوں ۔اللہ ہمارے اس سفر کو بھی قبول فرمائے اور تمہیں دین و دنیا کی تمام دولتوں سے نواز دے آمین
    مسجد نبوی کے بارے میں معلومات کے لئے بہت شکریہ کہ یہ سعادت ہے کہ ہمیں اس عظیم مسجد کے بارے میں پورا علم ہو ۔
    محمد محمد(ص) پکارا کروں میں
    یہ ہی ورد ہر دم دوبارہ کروں میں
    میری روح صدقے میری جان واری
    انہیں دل میں ہر دم اتارا کروں میں

    عالم آرا

  10. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    March 12, 2013 بوقت 8:53 am

    آچھی بہن عالم آرآء یقین کریں اس سفر میں آپ سب میرے ھمراہ ھی تھے کیونکہ آپ سب میری نظروں میں میرے دل میں ایک بہت خاص مقام ھے
    میرا دل ماشا اللہ جس کا رقبہ ایک چھوٹی موٹی مملکت جتنا پھیل چکا ھے تو اس میں آپ سب کا قیام رھتا ھے اس مملکت دل کی فضاوں میں صرف اور صرف محبت کی خوشبو ھے اور میری اچھی بہن آپ سب تو لمحہ بہ لمحہ میرے ساتھہ ھی تھے
    اور خاص کر میں نے آپکو مدینہ اور مکہ دونوں مقام پر یاد کیا
    ایک تو آپکی نعت کے حوالے سے ‘
    دوسرے میری دعاوں کی کتاب میں آپ سب محترم دوستوں کے اسماۓ گرامی مکتوب تھے
    محمد محمد(ص) پکارا کروں میں
    یہ ہی ورد ہر دم دوبارہ کروں میں
    میری روح صدقے میری جان واری
    انہیں دل میں ہر دم اتارا کروں میں

    عالم آرا
    بہت ھی خوب
    ماشا اللہ
    اللہ پاک آپکی سعی کو قبول فرماۓ آمین
    یقین کریں آپکی بات نے مجھے آیدیدہ کردیا
    اللہ کرےھم سب کی تحریروں میں اثر پیدا ھوجاۓ
    اللہ کرےھم سب کے قلم میں تاثیر پیدا ھوجاۓ
    اللہ ھمارے لفظوں میں برکت عطا فرماۓ
    اللہ ھم سب کو پاکیزہ فکری کی بہترین نعمت سے سرفراز فرماۓ آمین
    آيئۓ میرا ھاتھہ تھام لیجیے میں اپنی بہنوں کو مدینہ منورہ لیکر جانے کی سعادت حاصل کرنے پر محبت کی گرمی سے سرشار برھنہ پاء چلی جارھی ھوں
    آو مدینہ چلیں
    آو مدینہ چلیں
    شہر مدنیہ چلیں
    عشق الہی سے معمور جان و دل یہاں تھم جاتے ھیں
    عاشقان رسول خدا یہاں آکر کیہں گم ھوجاتے ھیں

    مدینہ ایک بہت پر اعجاز شہر ھے

    مدینہ صرف شہر ھی نیہں
    روضہ مبارکہ کی وجہ سے اسکی فضلیت بہت اعلی و ارفع ھے

    “مدینہ منورہ” کا پرانا نام “یثرب” ہے۔ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس شہر میں سکونت فرمائی تو اس کا نام “مدینۃ النبی” (نبی کا شہر) پڑ گیا۔ پھر یہ نام مختصر ہو کر “مدینہ المنورہ ” مشہور ہو گیا۔
    یہ شہر خوش نظر و خوش فکر ھے
    یہاں آنسان دم بخود رہ جاتا ھے
    یہاں بیقراروں کو اسودگی
    تسکین قلب ملتی ھے
    یہ مودت و محبت کی خوشبو سے سرشار شہر ھے
    20لاکھہ کی آبادی ھے شہر مدینہ کی
    اور لاکھوں زائرین کی دن و رات کی حاضری
    اللہ اللہ
    دن ورات لاکھوں فرشتے و ملائک بھی عرش سے اس مقام بلند پر آتے ھیں
    ھر ایک دورد و سلام کا تحفہ لاتا ھے
    کیا مرتبہ ھے
    کیا رتبہ ھے
    کیا فضلیت ھے
    کیا رونق ھے
    کیا خوبصورتی ھے
    کیا روشنی ھے
    چاند سورج ستاروں کو شرم آتی ھے
    یہ جگہ تو عرش سے بھی نظر آتی ھے
    یہ مقام احترام تو سب کے باعث لائق تعظیم
    کیا اجر اکرام ھیں
    مدینہ میں
    مسجد نبوی میں فرض وسنت نمازورں کی ادايئگی کا
    روح پر کیا کیفیت طاری ھوتی ھے
    آدمی کا آپنے آپ پر سے آختیار ھی ختم ھوجاتا ھے
    آنسان کو بس ایک ھی بات رہ جاتی ھے
    کہ یہ بارگاہ رسالتمات ھے
    مدینہ ھر مسلمان کی خواھش و حسرت ھے
    مدینہ ھم مضطرب لوگوں کے لیے
    جاۓ سکون ھے
    اے شہر نبی اکرام تیری عظمتوں کو سلام
    اے مدینہ ھمارے آنے کو قبول کر
    اے نور و معجزات کے شہر مدینہ
    ھم عاجز و گناہ گاروں کا سلام قبول کر
    یہاں آنے والا ھر انسان صرف اور صرف اللہ تبارک تعالی
    اسکے آخری بنی وديگر الانبیاء والمرسلین
    اور آل بنی پاک کی خوشنودی کی طرح آتا ھے
    خالی ھاتھہ آتا ھے
    اور اپنی جھولی کو بھر کر لے جاتا ھے
    مدینہ خواھشوں کی
    خوابوں کی
    آرزوں کی
    تمناوں کی
    خوشنودی رب کی
    شافع روز محشر کی جاۓ ولادت بھی ھے
    اور آپکا روضہ مبارک بھی اسی معطر و پر نور جگہ پر ھے
    مدینے کی اس سے بڑی فضلیت کیا ھوگی
    کہ اللہ تعالی کے محبوب نبی کے مقدس پاوں کی مہک اور برکت سے آباد ھے شہر مدینہ
    شہر یثرب
    شہر اھلبیت
    اس شہر میں عاجزی اور لاچاری سے داخل ھونا چاھیے
    یہاں سر بھاری لگتا ھے
    نہ دل پرآختیار رھتا ھے

    مدینہ کی خاک افضل ھے
    مدینہ کی زمین افضل ھے
    مدینہ کی خوشبو بہترین ھے
    مدینہ کی سرسبزي اور شادابی افضل ھے
    مدینہ کی ھر شے سے عقیدت و محبت ھوتی ھے
    مدینے سے محبت واحترام و شوق و وارفتگی
    مدینہ شہر محبت کی سب سے خوبصورت بستی ھے
    جاری ھے

  11. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    March 12, 2013 بوقت 12:20 pm

    مدینے کا منظر ھے پیش نظر
    نظر آرھی ھے نئی ایک سحر
    مجھے مدینہ منورہ شام کو اچھا لگا
    مجھے مدینہ منورہ صبح کو اچھا لگا
    مجھے مدینہ منورہ دن کے ھر پہر میں اچھا لگا
    مجھے مدینہ منورہ رات میں اچھا لگا
    ھم چونکہ کویت سے ایک طویل سفر طے کرکے بائ روڈ مدینہ پہنچے تھے مگر مدینہ منورہ کی آب و ھوا میں ایسی تاثیر تھی کہ ھم سب کی ساری تھکن اتر چکی تھی
    ساری خوایتن پورے جوش وخروش سے مسجد نبوی سلام کرنے جارھی تھی
    جنت البقیع کی دور سے زیارت
    میں اپنی ساتھی خواتین کو بتا رھی تھی
    کہ اب بقعیع کی زیارت بھی بہت مشکل ھوگی ھے
    لیکن ھم لوگ اسی مشکلات سے ڈرنے والے نیہں ھیں
    نہ کوئ سختی پابندی ھم کو وھاں جانے سے روک سکتی ھے
    ھم لوگ مسجد کے شمالی حصے میں دايئں اور بايئں خواتین کی مخصوص کی طرف بڑھنے لگے
    ابھی راستے ھی میں تھے کا موذن ک آواز کانوں میں آئ
    مدینے منورہ کی اذان سنتے ھی بلال حبشی کی یاد آئ
    مجھے شہزادہ علی اکبر کی آذان کی آواز آئ

    مسجد نبوی جو محلہ بنی نجار کے محلے میں قایم گی گی تھی مجھے تیزي سے مسجد کی طرف دوڑتے لوگوں پر کس کس کا گمان ھوا
    میں دم بخود اپنے اردگرد کے منظر میں گم ھوگی

    اس مسجد کے صحن میں کونین کی شاہ زادی کا گھر تھا
    میری ساتھی خواتین مجھے جھنجھوڑ رھی تھی تم کو کیا ھوگیا
    تم اتنا کیوں رو رھی ھو
    کیا چوٹ لگی ھے
    کیا ھوا
    کہاں چوٹ لگی ھے
    درد کہاں کہاں ھے
    دل پر کیا گذری ھے
    میں انکو کیا بتاتی کہ میں نے کیا دیکھا ھے میں کیوں اپنے آپ پر قابو نیہں رکھہ سکی ھوں
    مجھے جنت البقیع سے بہت ساری سیاہ پوش بیبیاں مسجد کی جانب جاتی نظر آئ تھیں
    میں نے کس کیفیت سے نماز ادا کی تھی

    جاری ھے

  12. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    March 13, 2013 بوقت 7:49 am

    روز ازل سے تا روز محشر
    زمین پر مکہ المشرفہ
    اور مدینہ منورہ عبادت گذاروں کا محور ومرکز رھا ھے اور رھے گا
    مدینہ منورہ جس مقام پر بغرض زیارت ھم سب کھڑے تھے
    ارض اللہ
    مدینہ منورہ ایمان کی حرارت سے منور شہر
    مدینہ منورہ
    قمر البلدان
    دار الھجرہ

    دار الایمان
    مدینہ منورہ بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    دار الفتح
    دار الانصار
    دار البقاء
    دار الضیافہ
    دار المھاجرین
    ھم خوش بختوں کو
    مسجد النبوی میں داخل ھونے
    دار المیثاق کی زیارت کا شرف ملا تھا
    مسجد النبوی ھمارے خواب و خیال سے بھی زیادہ عظیم الشان و حسین ترین مسجد ھے
    یہ صرف مسجد ھی نیہن ھے یہ مسلمانوں کا روحانی دربار بھی ھے
    مدنیہ منورہ میں واقع مسجد النبوی مکتب بھی ھے
    مدینہ منورہ میں قائ‏م مسجد النبوی شفا یابی کا مرکز بھی ھے

    میرا دل چاھتا تھا کہ مسجد النبوی کے ایک ایک ستون کو چوم لوں انکو انکھوں سے لگاوں
    خاک مدینہ کو سرمہ چشم بنا لوں
    پھر اس سے کم نگاھی کی شکایت کرنے والوں کو نور بصیرت کی خوش خبری سناوں
    آو مسلمانوں یہاں آو
    یہاں آکر الفت خاتم النبین اور آل خامس عباء کی خوشبو کو محسوس کرو
    مدینہ تم کو سکون و قرار کے ساتھہ ایک ابدی پیغام بھی دے رھا ھے
    صبر و صداقت کا
    مجھے کسی طور چین نہ تھا
    میں باربار چند نمازیں پڑھ کر بیقراری سے چلنے لگتی تھی میرا دل چاہ کہ میں ساری مسجد میں سجدہ کرنے کی سعادت حاصل کروں
    میں چپے چپے کی زیارت کروں
    میں جگہ جگہ زیارت پڑھو
    کیہں نوحہ پڑھوں
    کیہں نعت پڑھوں
    کیہں نماز پڑھوں کیہں شکرادا کرو
    کیہں گريئہ کروں
    کیہں پرسہ دوں
    کیہں دعا کروں
    کیہں دعا لوں
    کیہں کسی کی مدد کروں
    کسی کا ھاتھہ پکڑ کر اسکو ریاض الجنۃ کی طرف لیکر جاوں
    اپنی انکھوں میں جمع سارے آنسو جنت البقعیع میں رو رو بہاوں
    میں اپنے جسم پر لگے روح پر لگے زخموں پر مدینہ کی مٹی کو بطور مرھم لگاوں

    میں ایک ایک منظر کو ذھن نشین کررھی تھی
    اپنی کتاب میں نوٹ کے ساتھہ ھی میں اب ایک بہت بڑے ھجوم کیساتھہ ریاض الجنہ اور روضہ رسول کی زیارت کے لیے باادب آھستہ آھستہ آگۓ بھڑ رھی تھی
    ھجوم ٹہرآ تو میں بھی رک گی میں نے اپنی ساتھی خواتین کا ھاتھہ پکڑا ھوا تھا
    وہ سمجہ رھی تھیں میں نے سہارہ دیا ھے
    مگر میں نے اپنے سہارے اور تقویت کے لیے ھاتھہ پکڑا ھوا تھا
    میں انکو ھجوم کی گھبراھٹ سے محفوظ رکھنے کی دعا بتاتے ھوۓ ایک جگہ رک گی
    پاکستانی خواتین بھاگ دوڑ میں لگی ھويئں تھیں
    انکو صبر کیساتھہ بیھٹنے کی تاکید کی جارھی تھیں
    ایک عربی عورت جو مسجد البنوی کے انتظامیہ میں شامل تھی بار بار میری طرف اشارہ کرتی کہ میں اس ھجوم سے باھر آجاوں
    میں نے کولر سے زم زم کا پانی پیا آنکھوں کو خشک کیا اور اپنے آپکو سنبھالتے ھوۓ
    اس سے بات کرنے کی کوشش کی
    تم یہاں کیوں کھڑی ھو
    یہ صرف پاکستاینوں کے لیے ھے
    اس طرف سے صرف یہ خواتین جايئنگی
    تم عربی ھو یا فارسی
    تم عراقی ھو یا کردی
    تم فار ایسٹ کی ھو
    کہاں سے آئ ھو
    کون ھو
    اسکی آنکھوں میں بہت سارے سوال تھے
    میں چونکہ عباء الراس پہنتی ھوں ایسے سفر اور مقدس جگہوں پر تو میرے حلیے اور شکل سے لوگوں کو عربی ھونے کا گمان ھوتا ھے
    میں نے اسکو تسلی دی
    پھر پوچھنے لگی تم اتنی اچھی عربی کیسے بولتی ھو
    میں نے اپنی زندگی کی کہانی بیان کرنے کے بجاۓ اس سے صرف اتنا کہا کہ
    عربی میرے پیارے نبی پاک کی زبان تھی
    عربی قرآن کی زبان ھے
    اور عربی سکھینے سے قرآن پڑھنے میں آسانی ھوجاتی ھے
    مجھے مسجد میں کسی ایرانی زائرہ شہر نبی نے کچھہ کھجیوریں دیں میں نے اس تبرک پر انکا شکریہ ادا کیا
    میری ساتھی خواتین بھی اپنے ھمراہ لائ ھوئ دعاوں کی کتاب سے استفادہ کررھی تھیں
    سفر میں ھی یہ طے ھوچکا تھا کہ ھم آپس ميں باتیں کم ھی کرینگے تاکہ خاموشی اور مکلمل سکون و بھرپور متوجگی کے ساتھہ دعا اور عبادت کی جاۓ
    میں مسجد کا حسن اور اسکی طرز تمعیر کے جمال کو ستائش بھری نظروں سے دیکھتی ھوئ
    کسی اور عہد میں چلی گی
    طائر خیال مجھے کسی اور عہد میں لیکر جارھا تھا میں ایک مزدور بن کر مسجد النبوی کی الولیین تعمیر میں حصہ لینے کی حسرت میں دامن دعا پھیلاۓ کھجور کی شاخوں اور اسکے تنوں سے بنی والی مسجد کی تصاویر دل ودماغ میں سجاۓ گذرے وقتوں کی بارشوں میں بھیگ رھی تھی

  13. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    March 13, 2013 بوقت 11:31 am

    میرے اردگرد بے پناہ ھجوم تھا
    شور شرابہ تھا
    خاص کر پاکستان سے آنے والی خواتین کسی کی بات نیہں مان رھی تھیں
    وہ سب سے پہلے اندر جانے کے لیے ھر اصول کی بات کو نظر انداز کررھی تھیں
    پھر پتہ نیہن کیسے انتظامیہ کی ایک حجاب والی خاتون نے مجھے کہا کہ آپ ان پاکستانی خواتین کو آرام چین سے اندر جانے کا کہہ دیں
    ان سے کیہں کہ یہ جاۓ ادب ھے
    یہاں ادب سے بیھٹے ھیں
    یہاں بڑے بڑے زمینی بادشاھوں کی گردن جھک جاتی ھے
    میرے ھاتھہ میں لاوڈ اسپیکر دیکر وہ میری منتظرکھڑی تھیں
    مجھے یاد نیہں میں نے ان سے کس لہجے میں استدعا کی تھی
    کیسے دونوں ھاتھوں کو جوڑ کر ان سے کہا تھا کہ آپ یہاں شور کے بجاۓ دعا پڑھیں
    صلواۃ پڑھیں عبادت کریں
    ایک دوسرے کی مدد کریں
    کسی کو دھکا نہ دیں
    کسی کو تکلیف نہ دیں
    کسی کو دھکا کر گرانا غلط ھے
    سرور کائنات
    صاحب کتاب و معراج
    تاجدار مدینہ منورہ
    باعث خلق کائنات
    کے حضور کھڑی ھونے کا شرف کیا اعلی وارفع ھے
    یہ شور مچاتی عو رتیں کیا جانتیں ھیں

    میں نے انتظامیہ کی اجازت سے اس بات کا وعدہ آیا تھا
    کہ جو بہت بیمار اور بہت ضعیفہ ھیں
    وہ خوایتن پہلے جايئنگی
    بس اس لمحہ میں میری برسوں پرانی ایک خواھش پوری ھو گی
    پھر جیسے ایک خواب بھرا لمحہ آتا ھے
    کہ شانوں پر سر بوجھہ محسوس ھوتا ھے
    جسم وجاں پر آختیار ھی نیہں رھتا ھے
    پاوں بھاری ھونے لگتے ھیں
    پوری جسمانی عمارت ایک دم ڈھے جاتی ھے
    میرا وجود کیہں ریزہ ریزہ ھوکر بکھر رھا تھا
    مجھے اپنی آواز ھی ینہں سنائ دے رھی تھی
    بس میری خواھش تھی جتنے زائر ھیں سب مجھے روندتے ھوۓ اندر جايئں
    میں اپنے اندر اتنی ھمت ھی پاء رھی تھی
    کہ میں اس مقدس مقام کی زیارت کروں
    یہاں میرے آقا نامدار کا روضہ مبارکہ ھے
    وہ رسول جو ایک لاکھہ 24 ھزار پیمغمبروں ميں سب سے افضل و اعلی ھیں
    ھمارے آقا نبی پاک کی خلقت تمام جہانوں کی بلکہ کائنات کی تخلیق سے پہلے ھوئ تھی
    نبی پاک کی ولادت مبارکہ تمام الانبیاء و المرسلین کے آخر میں ھوئ
    وہ خلقت کے لحاظ سے اول
    اور ظہور کے لحاظ سے آخری ھیں بنی آلاخر

    قول الله سبحانه وتعالى: ((إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا))[الأحزاب:56] صدق الله العظيم
    یہاں فرشتے آتے ھیں
    اللہ جانے کس کی شکل میں آتے ھیں
    انسان آتے ھیں
    رحمان کے ماننے والے آتے ھیں

    جہاں اب صرف مسلمان ھی آتے ھیں
    جہاں صرف عاشقان رسول اکرام آتے ھیں
    جہاں صرف متوالے آتے ھیں
    جہاں صرف صوفی و اولالیا تے ھیں
    یہاں ایک نماز کا ّثواب و اجر بے شمار ھے
    یہاں آنا بھی مبارک ھے
    یہاں جینا بھی مبارک ھے
    یہاں مرنا بھی مبارک
    میں نے پڑھا تھا مدینہ منورہ کے قبرستان میں سب سےبڑی تعداد میں مصری اور پھر دوسرے نمبر پر پاکستانی ھیں جو عمرے یا جح کے دوران انتقال کرتے ھیں اور پھر یہی دفن ھوتے ھیں
    تیسرے نمبر پر انڈونشیین ھیں
    یہاں مرنے اور دفن ھونے والوں کا حساب کتاب نیہں ھوگا

  14. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    March 16, 2013 بوقت 1:55 pm

    مجھے آج یہ سفری تاثرات لکھتے ھوۓ اپنی جنت المکانی دادی مرحومہ بہت یاد آرھی ھیں اللہ پاک بحق آل خامس انکی مغفرفت فرماۓ آمین ثم آمین پاک رب میرے تمام مرحوم اقارب کی قبروں میں نور اور روشنی سے اجالا کردے امین ثم آمین
    برسوں پہلے جب وہ اماکن مقدسہ کی زیارت کرکے آيئں تو انکے پاس آب زم زم اور خاک مدینہ و خاک کربلا دونوں ھی تھیں
    جس خوبصورت شیشے کی بوتل میں وہ آب زم زم رکھتیں تھیں اس کو بات احتیاط سے رکھا جاتا تھا گھر میں کسی کو نزلہ کھانسی بخار ھوا دادی نے فورا آب زم زم کا پانی دعا کرکے پلا دیا اور سب سے اچھی بات یہ تھی برسوں آب زم زم کا پانی ختم ھی نہ ھوتا تھا
    کیونکہ اگر تھوڑا سا پانی اس جار میں سے نکالا جاتا تھا تو اتنا ھی سادہ پانی اس میں ملا دیا تھا
    ھم لوگ اس واٹر بوتل کو کنواں کہتے تھے کہ اتنی بابرکت بوتل ھے کہ پانی ختم ھی نیہں ھوتا

    زمین کھا گی آسماں کیسے کیسے

    مجھے آپکی خاموشی سے ڈر نیہں لگ رھا ھے
    مجھے پتہ ھے میرے ادبی فکری اور قلمی دوست گاھے بگاھے میری اس سفری روداد کو پڑھ رھے ھیں ابھی تو میں نے ان نوٹس کو ھاتہھ بھی ینہں لگایا جو میں نے اپنے گذشتہ اسفار میں جمع کی تھیں
    ابھی تو بس اس کیفت کا نشہ ھے
    اس شب روز کا سحر ھے
    اس مبارک ساعتوں کی خوشبو ھے
    اور آپ سب کی حوصلہ افزائ ھے جو میرے قلم کو رواں رکھے ھوۓ ھے
    میں یہ باتیں طرف یاداشت کے سہارے پر لکھہ رھی ھوں
    آپ سبکو یاد ھوگآ کہ سال گذشتہ جب میں عمرے کے لیے گی تھی تو میری دوست عابدہ میرے ساتھہ تھی
    آج وہ ھم میں نیہں ھے
    مگر وہ بہت اجھی جگہ پر ھے
    میں مدینے میں صحن بنوی میں بیھٹی تھی تو میری نگاہ اچانک روشن چاند ستاروں پر پڑی
    مجھے لگا جیسے میری دوست عابدہ کیہں کسی بہت اچھی جگہ سے کسی اور ستارے سے سیارے سے مجھے دیکھہ رھی ھے ھم تو اس کو باربار یاد کرتے ھیں مگر وہ اتنی اچھی جگہ پر ھے کہ اسکو ھماری یاد کم ھی آتی ھوگي
    اچھے لوگ ستاروں کی طرح ھوتے ھیں بہت بلند اور چمکدار
    اور خاص کر وہ اچھے لوگ جو اب خاک کا پیوند ھو گیۓ ھیںجلد یا بدیر ھم سب کو اسی طرف جانا اور لوٹنا ھے
    اور ھمارے وہ ساتھی جو ساری زندگی اچھے کام کرتے ھیں اور ھم سے پہلے اس جہاں فانی سے دار البقاء میں جاتے ھیں
    انکی روح بڑی شاد اں و فرحانہ رھتی ھے نیک اور اچھے کاموں کا اجر تو مرنے سے پہلے بھی اور مرنے کے بعد بھی ملتا ھے اور بڑھتا رھتا ھے تو بہت سارے روشن ستارے جنت البقیع میں اور بہت سارے روشن ستارے فلک پر جگمگا رھے تھے مجھے انکو سر آٹھا کر دیکھنا اور مرحومین کے لیے دعا کرنا اچھا لگا
    مجھے لگا جیسے میں مسجد البنوی کے صحن مبارک میں کھڑی ھوں اور اپنی دوست کی گہری یاد سے بے چین ھوکر میں اب اس کے لیے دعا کررھی تھی اور اسکو حسب وعدہ مدینے میں یاد کر رھی تھی اور اسکی مغفرت کی دعا مانگ کر مجھے بھی سکون ملا میں نے آنکھیں کھولیں تو عابدہ اشرف یاد آئي اور آنکھیں بند کی تو بھی اسکا ھاتھہ میرے ھاتھہ میں تھا
    مدینے کا آسمان بھی خوب ھے
    سب سے الگ
    سب سے جدا
    سب سے مختلف
    سب سے علیحدہ
    سب سے روشن
    سب سے چمکدار

    مدینے میں روشنی اور سکون بہت زیادہ ھے اتنی جگمگاھٹ کہ آ آسمان سے زمین روشن نظر آتی ھے
    اور خاص کر جس حصے میں ھم کھڑے تھے وھاں سے
    آسمان کی روشنی چاند ستارے سب مدھم نظر آتے تھے
    کیونکہ یہاں آفتاب رسالمتات ماـب کا روضہ مبارکہ ھے
    اور ھم خوش نصیب تھے کہ مدینے میں سلام کرنے آۓ تھے
    صبا مدینے اگر ھوجانا
    نبی جی سے میرا سلام کہنا

    مسجد النبوی کی بڑی فضلیت ھے
    بڑی شان و شوکت والی مسجد ھے اسکو سونے جیسی قیمتی دھات سے مزین کیا گیا
    اس میں بیش قیمت ایرانی قالین ھیں
    یہ سہولت اور کشاد گی کے لحاظ سے بھی سب سے دل کش ھے

    اس کے درو دیوار
    اسکی منقش و مزین چھت و جدار
    فرش و محراب
    منبر رسول و ستون
    انکھیں کسی جاء ٹہر ھی نیہں جاسکتی
    نہ ھمارے پاس وہ دیدہ بینا کہ ھم اس کی وسعت کا
    اسکی کشادگی کا
    اسکے جمال وجلال کا مکمل مشاھدہ کرسکیں

    نبي کريم حضرت محمدمصطفيٰ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے مسجد نبوي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي تعمير ہجرت کے پہلے سال يعني 622ء ميں فرمائي۔ مسجد نبوي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي تعميرجس زمين پر فرمائي گئي اس اراضي کا کل رقبہ ايک ہزار تيس مربع ميٹر تھا۔ ہجرت کے ساتويں سال آنحضرت محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے مسجد نبوي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ميں توسيع فرمائي اور اس طرح اس کا کل رقبہ دو ہزار چار سو پچھتر مربع ميٹر ہوگيا۔

    تاحال موجودہ رقبہ بڑھ کر چار لاکھ پانچ سو مربع ميٹرہوگيا ہے جہاں بيک وقت سات لاکھ سات ہزار نمازيوں کي گنجائش موجود ہے۔

    مثال کے طور پر حضور اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے زمانئہ مبارک ميں موجود مسجد نبوي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي محراب کو اصل شکل میں برقرار رکھا گيا اور اس وقت کے بنائے گئے ستونوں کو نئي اور جديد تکنيک کي مدد سے اصل صورت ميں برقرار رکھتے ہوئے نئے تعمير شدہ حصوں سے جوڑا گيا تاکہ مسجد نبوي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي خوبصورتي ميں مزيد اضافہ ہوسکے۔

    حفاظتی سائبان

    خانہ کعبہ اور مسجد نبوي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے نگراں اور سعودي عرب کے فرمارواں شاہ عبداللہ بن عبدالعزيز کے حکم پر مسجد نبوي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي توسیع کا کام مکمل کياگيا۔ تعمير و توسيع کے اس مرحلے ميں اس بات کا بھي پورا خيال رکھا گيا کہ مسجد ميں آنے والے نمازيوں کو دھوپ اور بارش کے اثرات سے محفوظ رکھا جاسکے تاکہ وہ آرام سے اپني عبادات انجام ديں سکيں۔ اس لئے مسجد نبوي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے بیرونی حصے ميں پہلے سے موجود اڑسٹھ سائبانوں (چھتريوں) کي تعداد کو بڑھا کر ايک سو بياسي کرديا گيا۔ ان سائبانوں کو جديد طرز کے مطابق بنايا گيا ہے جس کے ذرئعے بارش کے پانی کی نکاسی، روشنی اور خودکار طریقے سے کھلنے اور بند ہونے کی سہولت موجود ہے۔

    مسجد نبوي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ميں بنائے گئے سائبان کو دو مختلف اونچائيوں پر بنايا گيا تاکہ اوپر والے سائبان(چھتري) سے نيچے والے سائبان کو ڈھانپا جاسکيں۔ ان سائبان(چھتريوں) کي خاص بات يہ ہے کہ يہ خود کار نظام کے تحت کھلتي اور بند ہوتي ہيں۔ بند ہونے پر تمام سائبانوں کي مجموعي اونچائي اکيس ميٹر ہے۔ جبکہ تمام سائبان (چھتري) ايک لاکھ چواليس ہزار مربع ميٹر کے رقبے کو ڈھانپتے ہیں۔ ان سائبانوں کے سائے ميں دو لاکھ عبادت گزار دن میں کسی بھی وقت پرسکون انداز سے اپني عبادات کي ادائيگي کرسکتے ہيں۔

    مسجد النبوی میں داخلے کے بہت سارے راستے ھیں
    باب اسلام
    باب الصدیق
    باب الرحمہ
    باب الملک سعود
    باب عمر
    باب عبدالمجید
    باب عثمان
    باب الملک عبدالعزيز
    باب النساء
    باب الجبریئل
    باب جبريئل سے ھی جنت البقییع کا راستہ قریب پڑتا ھے جنت البقیع کا قبرستان عہد رسالمتاب کے زمانے سے قائم ھے
    اھل ایمان و عاشقان پیغمبر اسلام کے دل ھمشیہ مدینے کی زیارت کو ترستے رھتے ھیں
    آدب و آداب کو مدنظر رکھنا پڑتا ھے
    مدینہ ایک ایسا شہر ھے جو ھر زائر کے دل میں بسا رھتا ھے
    مدینہ ایک باکمال و پرجمال شہر ھے
    مدینہ زمین پر بارکت و فضلت کا گہوارہ ھے
    مدینہ علم و آدب کا قرینہ سکھاتا ھے

    مرگیۓ ھم اگر مدینے میں
    پھر مزہ ھے دوبارہ جینے میں
    شاھین رضوی
    جاری ھے

  15. عالم آرا نے کہا ہے:
    March 16, 2013 بوقت 4:19 pm

    قول الله سبحانه وتعالى: ((إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا))[الأحزاب:56] صدق الله العظيم
    یہاں فرشتے آتے ھیں
    اللہ جانے کس کی شکل میں آتے ھیں
    انسان آتے ھیں
    رحمان کے ماننے والے آتے ھیں

    جہاں اب صرف مسلمان ھی آتے ھیں
    جہاں صرف عاشقان رسول اکرام آتے ھیں
    جہاں صرف متوالے آتے ھیں
    جہاں صرف صوفی و اولالیا تے ھیں
    یہاں ایک نماز کا ّثواب و اجر بے شمار ھے
    یہاں آنا بھی مبارک ھے
    یہاں جینا بھی مبارک ھے
    یہاں مرنا بھی مبارک

    اسلام علیکم ساتھیو
    بہن شاھین حیدر رضوی اللہ کرے زور بیاں اور زیادہ اللہ آپ کو سلامت اور ہمیشہ خوش رکھے آمین
    اللہ آپ کی ایک ایک کاوش کو قبول فرمائے آمین
    عالم آرا

  16. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    March 20, 2013 بوقت 6:41 am

    اچھی بہن عالم آراء سلامت رھیں
    آپ کی ھر مشکل کو اللہ پاک آسان فرماۓ آمین ثم آمین
    سچ پوچھیں تو یہ جو کچھہ لکھا جارھا ھے آپ سب کی محبت کا اعجاز ھے
    میری عزيز ھمشیرہ دعاوں کی مجھے ھمشیہ ضرورت رھے گی آپکی دعایئں میرا قیمتی آثاثہ ھیں مجھے اّپ سب کے تبصروں کا شدت سے انتظار رھے گا تاکہ جب میں اپنے سفر نامہ کو کتابی شکل میں لاوں تو اس میں میرے ساتھہ آپ سب بھی شامل رھیں
    اللہ کرے میرا لکھا ھوا کوئ لفظ
    کوئ سطر
    کوئ فقرہ
    کوئ جملہ
    کوئ دعا
    کوئ مناجات
    کوئ اچھوتا احساس
    کوئ یاد
    کوئ بات
    کوئ انسو
    کوئ فریاد
    شوق اور وارفتگی کی کوئ ساعت
    دیار مقدسہ میں گذری ھوئ ایک گھڑی
    کسی کے دل پر اثر انگیز ھوجاۓ
    یہ تو سوچ بچار سے اگے کی چیز ھے
    میں تو صرف خالی قلم ھاتھوں میں لیے بیھٹی رھتی اور زندگی بھر صرف سوچتی رھتی
    اور اس قلبی تسکین سے سراسر محروم رھتی جو آج سفر نامہ حجاز لکھتے ھوۓ مجھے میسر ھے
    اس نمعت پر میں جتنا بھی شکر ادا کروں کم ھے
    اور میں آپ سے وعدہ کرتی ھوں کسی انتہائ ضروری کام کی وجہ سے اس سفر نامہ کو قلم بند کرنے میں تاخیر تو ھوسکتی ھے مگر میں اسکو مکمل شکل میں آپکی خدمت میں پیش کرونگی انشا اللہ
    کھبی کچھہ لکھنے کے قابل نہ رھتی اگر مجھے عالمی آخبار کا سہارا اور مدد نہ ملتی
    اللہ پاک آپ سب کے طفیل مجھے اچھے اور نیک عمل کی توفیق عطا فرماۓ آمین ثم آمین
    دراصل میں جو بھی لکھہ رھی ھوں
    اسکا سارا کریڈیٹ محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب
    اورھماری بہت ھی قابل احترام اورعزيز ترین بہن ڈاکٹر نگہت نسیم کو جاتا ھے
    اجرکم اللہ

  17. عالم آرا نے کہا ہے:
    March 21, 2013 بوقت 4:17 pm

    اسلام علیکم بہن شاھین حیدر رضوی
    اللہ اآپ کی خواہش کو جلد از جلد پورا فرمائے اور اآپ کی کتاب جلد مکمل ہو آمین
    اس کا اعتراف میں بھی کرتی ہوں کہ عالمی اخبار کے زریعے ہمیں اپنے خیالات اپنی بات اور اپنی سوچ کو ایک دوسرے سے بانٹنے کی جو اآزادی ہے وہ ہمارے لئے ایک نعمت ہی ہے ۔اور اس کا سارا اعزاز جناب صفدر ھمدانی صاحب اوربہن نگہت نسیم کو جاتا ہے ، اللہ ان کی کاوشوں کو بھی قبول فرمائے ، اور ہمیں ایک دوسرے کے لئے دعا کرنے اور خلوص بانٹنے کی توفیق بھی حاصل رہے آمین
    بس ایک ہی دعا ہے کہ اللہ ہمارے وطن عزیز پر کرم کر دے اور ہم سب کو ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور اخوت کے جزبے سے جوڑے رکھے ۔ دلوں کی کدورتوں کو دور فرما کر ہمیں خلوص اور محبت کی نعمت سے نواز دے ۔آمین
    اس سفر میں کتنا سکون ملا اور آپ کی تحریر نے کس طرح مجھے اپنے ساتھ شامل رکھا اس کا اظہار میرے الفاظ نہیں کر سکتے ، بس دعا ہے کہ اللہ آپ کو ہمیشہ اپنی امان میں رکھے ۔اور آپ کی خوبصورت تحریریں ہم پڑھتے رہیں ۔
    اللہ ہماری ایک دوسرے کے حق میں کی گئیں دعاؤں کو شرف قبولیت بخشے اور ہمیں جسمانی اور روحانی صحت عطا فرمائے آمین
    عالم آرا
    وینکور

  18. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    March 25, 2013 بوقت 12:11 pm

    اچھی بہن عالم آراء اسلام علیکم
    اللہ پاک آپکی پرخلوص دعاوں کو شرف قبولیت عطا فرماۓ آمین ثم آمین
    اللہ تعالی ھمارے پیارے وطن کی حفاظت فرماۓ آمین ثم آمین
    ملک میں امن وامان قائم رھے آمین ثم آمین
    لوگوں کی جان ومال سلامت رھے آمین ثم آمین
    اور پاکستان کو اور بے گناہ پاکستانیوں کو نقصان پہچانے والوں کو اللہ پاک دینا میں عبرت ناک سزايئں دے تاکہ کوئ پاکستان کو بری نظر دیکھنے سے پہلے 1000 بار سوچے
    آپکی دعايئں پاکستان کے لیے مضبوط حصار ھے
    میرے اللہ
    میرے مالک
    میرے خالق
    میرے معبود
    میرے پالنے والے
    پاکستان کو تاقیامت قائم ودايم رکھنا
    آمین ثم آمین

  19. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    March 25, 2013 بوقت 1:17 pm

    مسجد النبوی کے فرش کو عرش پر فضلیت حاصل ھے
    یہاں لاکھوں پیغمبران حق گذرے ھیں
    یہاں اللہ تعالی کے سب سےمحبوب نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آخری آرام گاہ ھے
    جہاں مکہ المشرفہ کی طرح دن کے ھر حصے میں انسانوں اور ملائک کا آنا جانا لگا رھتا ھے
    میں تو ایک ھجوم میں حیران و پریشان کیہں گم سم کھڑی رہ گی تھی
    میں نے سوچا تھا کہ اس مبارک حصے میں داخل ھوتے ھی جہاں جہاں ممکن ھو کسی کو تکلیف دیئۓ بغیر میں نماز پڑھنے کی کوشش کرونگی
    مگر ریاض الجنتہ کے جس محدود سے حصے میں خواتین کو جانے کی اجازت تھی وھاں اتنا ھجوم تھا کہ لمحہ بھر میں عرب و عجعم افریقہ و مشرق بعید کی خواتین آپکو روندتی ھو‏ئ گذر جاتیں ھیں کتنی بوڑھی خواتین کو میں نے درد سے بےحال روتے دیکھا
    اسی لیے میں نے کوشش کی کہ آپنے ساتھہ آنے والی خوایتن کی میں خود حفاظت کرونگی میری کوشش ھوگی کہ وہ زیادہ عبادت کریں
    سکون اور اس اطمیعان کے ساتھہ کہ میں انکے آگے ڈھال بنی کھڑی ھوئ ھوں

    میں اتنے ھجو م میں بھی بڑے آرام سے کھڑی ھوکر دعا واذکار کرتی رھی مریم صبا اور تنظیم اطمیعنان سے ریاض الجنتہ میں نماز ادا کرکے اب مسجد کے مختلف گوشوں میں قضا عمری ادا کررھی تھیں اور میں ديگر عمر رسیدہ خواتین کی مدد کے ساتھہ اپنی تسبحات بھی پڑھ رھی تھی
    نماز میں بھی بہت مزہ آرھا تھا
    ھم سے ایسی کوئ نماز کب پڑھی گی تھی کہ دل و جاں پر لرزا طاری تھا
    خوف تھا
    کچھہ شوق تھا
    عقیدت سے لبریز دل ونظر اور بے چین روح تھی
    اور بارش میں بھیگ جانے والی لکڑی کی طرح اھستہ آھستہ جلتا موم کی طرح پھگھلتا دل تھا

    میں بار بار آنکھوں کے سمندر میں ڈوب رھی تھی
    میرا سفینہ حیات ڈگمگا رھا تھا
    میں نہ خشکی پر تھی
    نہ پانی پر
    نہ میں زمین پر تھی نہ سجادہ پر
    دینا کے مختلف ممالک سے آئ خواتین کو دیکھہ کر حیران ھورھی تھی کہ جو سب کو دھکا دیکر آگے بڑھ رھی تھیں کچھہ خواتین تو واقعی مارنے پیٹنے کے فن میں خاصی ماھر لگ رھی تھیں کیونکہ میری گناہگار آنکھوں نے دیکھا تھا کہ جس کو کہنی مار دی وہ بس ھاتھہ پکڑکر رہ گی
    جس کے پاوں کو کچل دیا اسکی چیخ میر ےکانوں میں گونجتی رھی
    جس کے عباء کو کھنچ لیا وہ بیچاری بس اپنی سانس کی بحالی کا انتظار کرتی رھی
    میں نے دن کا پیشتر وقت وھیں گذرا
    ایک نماز ظہر کا وقت ھونے والا تھا مسجد نبوی کے اس گوشے کو خواتین سے خالی کروانا تھا
    ایک بار پھر سلام و دعا و مناجات و تسبح پڑھتے سرکو جھکاۓ روضہ رسول پاک کی جالیوں کو حسرت سے دیکھتے ھوۓ واپس آگۓ
    میں باربار ایک بڑی محترم بی بی کو سلام کرکے انکی عظمت کے واقعات کو دل میں دھرارھی تھی
    اسلام علیکم یا خدتجہ الکبری
    اسلام علیکم یا ام فاطمیہ زھراسیدہ النساء العالمین
    دین اسلام جس بی بی کا مقروض
    اسلام جس بی بی کا مقروض
    وہ جو شہزادی مدینہ تھیں
    جو رسول انام کی اولین شریک حیات تھیں
    جنکی دولت اسلام کو بچانے کے لیے کام آئ
    جو مشکلوں اور آزمائشوں میں لمحہ بہ لمحہ رسول کریم کے ھمراہ رھی تھیں
    میرے پاوں تلے مسجد النبوی کے سرخ قیمتی قالین تھے
    بیش قیمت سقف
    سونے کے ستون
    بہترین اسلامی خطاطی کے نمونوں سے سجی دیواریں
    یہاں کی پاکیزگی اور معطر فضايئں روح کو شاد کام کررھی تھیں
    یہ سعادت کیا کم تھی کہ ھم شہر النبی میں ھیں

    عبادت میں بہت ھی لطف آرھا تھا تھا
    مجھے مدینے میں بار بار شہزادی کوینن اور مادر فاطمہ زھراء علیہ اسلام کی یاد آرھی تھی
    میرا دل ان پاک فظرت شہزادیوں کی محبت وعقیدت میں مگن ھوچکا تھا
    یہ صرف میری ھی کیفیت نہ تھی
    میں نے روضہ مبارکہ کے اند ر باھر اردگرد سبھتی کو تڑپ کر روتے گڑگڑاتے دیکھا
    یہ کیفیت تو ھر آنے والی کی ھوتی ھے یہ ھر موسم میں ھر
    عہد میں انسان یہاں آکر ورطہ حیرت میں گرفتار ھوجاتا ھے
    کس جگہ پر شکر کروں
    کس طرح شکر کروں
    کیسے اپنے خالق ومالک کی بارگاء میں اپنے گناھوں کی توبہ کروں
    کہاں سر کو جھکاوں کہاں سلام پیش کروں
    اسلام علیکم یا رسول اللہ
    اسلام علیکم یا رسول اللہ
    اسلام علیکم
    یا حبیب اللہ
    اسلام علیکم
    یا شافع روزمحشر
    روز قیامت ھماری شفاعت فرمايئۓ گا
    ھمکو اپنی شفاعت سے محروم نہ رکھیے گا
    میرے پیروں سے جان نکل رھی تھی میں شائد گر رھی تھی یا گر چکی تھی ایک بڑا ھجوم مجھے روندھنے کے لیے تیزی سے آگے بڑھ رھا تھا
    یا اللہ میری مدد فرمايئۓ
    جاری ھے

  20. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    March 26, 2013 بوقت 7:13 am

    میں بہت صبح سویرے بیدار ھوئ تھی اور اپنی ساتھی خواتین دوستوں کا انتظار کرتے مسجد النبوی کے ایک ستون سے ٹیک لگا کر بیھٹی اور وھیں غافل ھوچکی تھی سو چکی تھی مرچکی تھی نیید بھی تو موت کی طرح ھوتی ھے نیند کو موت الصغیر کیہتے ھیں مجھے بھی موت آگی تھی اسی موت جس میں بیداری کا امکان تھا
    یہ نیند کی اسی قسم تھی جو سولی پر بھی آسکتی تھی
    میں نے خواب دیکھا کہ ایک بہت بڑا ھجوم ھے جو مجھے روندھتا ھوا گذر نے والا ھے اور اسی وقت ظہر کی اذان سروع ھوگی

    میں خواب اور بیداری کی کیفیت میں اذان کی آواز سن کر دعايئں مانگتی ھوئ باھر نکلی کہ مجھے نیند نے اپنی گرفت میں لے لیا تھا اب وضو کرنا بہت ضروری تھا
    میں باھر جارھی تھی تاکہ جلد از جلد وضو کرکے نماز میں شامل ھوسکوں
    میں نے اپنی عمرے کی ساتھی دوستوں کو اپنے موبايئل سے پیغام بھیج دیا تھا
    کہ نماز کے بعد باب علی ابن ابو طالب کے باھر ملنا ھے اور پھر ایک ساتھہ ھی ھوٹل جانا ھے
    کھانا بھی ساتھہ ھی کھانا ھے اور پریشان مت ھونا
    میں ٹھیک ھوں
    میں نے اپنی حالت پر غور کیا
    ميں دینا کے بہت متبرک مقام پر کھڑی تھی مگر میرا دل اقبال کے اس شعر کی تفسر بنا ھوا تھا
    تیرا دل تو ھے صنم آشنا
    تھجے کیا ملے گا نماز میں
    یہ دینا کے جھمیلے کہاں ھمارا ھاتھہ چھوڑ تے ھیں
    میں نے بہت تیزي سے تقریبا بھاگتے ھوۓ پہلے زیر زمین بنے
    وضو خانے سے وضو کیا پھر تیز رفتاری سے اوپر آئ اور باھر لگے کولرز سے پانی لیکر خوب اچھی طرح زم زم کے پانی کو بھی ھاتھوں اور چہرے پر لگایا
    میری ساری تھکن
    دور ھوچکی تھی
    میں بہت تروتازہ محسوس کررھی تھی
    اپنے گناھوں کی توبہ کرتے اپنے عزيزوں کو امی کو اپنے دوستوں کو یاد کرتے ھوۓ انکے لیے دعايئں کرتے ھوۓ
    اب پوری دلجمعی سے نماز کی تیاری کرتے ھوۓ
    دعا مانگ رھی تھی

    ربنا آتنا فى الدنيا حسنة و فى الآخرة حسنة و قنا عذاب النار ۔

    پروردگار ہميں دنيا ميں بھى نيکى عطا فرما اور آخرت ميں بھي،اور ہميں جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھنا

    ربنا اننا آمنا فاغفرلنا ذنوبنا وقنا عذاب النار۔

    پالنے والے ہم ايمان لے آئے ہيں ہمارے گناہوں کو معاف کر دے اور ہميں جہنم سے بچا لے۔

    ربنا فاغفر لنا ذنوبنا وکفر عنا سيئاتنا و توفنا مع الابرار۔

    پالنے والے ہمارے گناہوں کو معاف فرما، ہم سے ہمارى برائيوں کو دور کردے اور ہميں نيک بندوں کے ساتھ محشور فرما۔

    ربنا آمنا فاکتبنا مع الشاہدين ۔

    پالنے والے ہم ايمان لے آئے ہيں لہذا ہمارا نام بھى تصدیق کرنے والوں ميں لکھ لے۔

    ربنا لاتجعلنا مع القوم الظالمين۔

    پالنے والے ہميں ظالموں کے ساتھ قرار نہ دينا۔

    ربنا افرغ علينا صبراً و توفنا مسلمين

    پالنے والے ہميں بہت زيادہ صبر عطا فرما اور ہميں مسلمان دنيا سے اٹھا۔

    ربنا و تقبل دعاء۔

    پالنے والے ميرى دعا کو قبول فرما۔

    ربنا آتنا من لدنک رحمة و ہييٴ لنا من امرنا رشداً۔

    پالنے والے ہميں اپنى رحمت عطا فرما اور ہمارے کام ميں کاميابى کا سامان فراہم کردے۔

    ربنا آمنا فاغفر لنا وارحمنا وانت خيرالراحمين۔

    پالنے والے ہم ايمان لے آئے ہيں،اب ہميں معاف فرما اور ہمارے اوپر رحم کر اور تو تو رحم کرنے والوں ميں سب سے بہتر ہے۔
    اے میرے رب ھم کو نیکی اور سچائ کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرماء
    آذان و اقامت صوم وصلاۃ
    آیات قرانی کی قراۃ وسماعت
    پوری توجہ سے نماز ادا کرنے کی سعادت کم ھی مسیر آتی ھے
    مجھے تو ھر بھولی ھوئ چیز نماز کے دوران ھی یاد آتی ھے
    کھبی سورّ ۃ بھول گی
    کھبی رکعت بھول گی
    کھبی سجدہ بھول گی
    کھبی رکوع بھول گی
    کھبی خود کو بھول گی
    کھبی سبکو بھول گی
    کبھی بدمزگی سے نماز ادا کی
    کھبی بہت ھی اھمتام سے یہ فرض سر انجام دیا
    اللہ میری توبہ و استغفار کو قبول فرماۓ آمین ثم آمین
    نمآز مسلمانوں کے لیے اللہ کی طرف مکمل طور سے متوجہ ھونے کا عمل ھے
    نماز سکون قلب فراھم کرتی ھے

    بارگاہ پروردگار میں اپنے رب کی رحمت و برکت کے لیے مکمل خشوع اور خضوع کے ساتھ نماز ی ادايئگی بھلا کس کا نصیب بنتی ھے
    کائنات کی ہر مخلوق اپنے اپنےطور طریقے سے حسبِ حال بارگاہِ خداوندی میں صلوٰۃ و تسبیح اور تحمید میں مصروف نظر آتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

    أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَO

    النور، 24 : 41

    ’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ (سب) اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں اور پرندے (بھی فضاؤں میں) پر پھیلائے ہوئے (اسی کی تسبیح کرتے ہیں)، ہر ایک (اللہ کے حضور) اپنی نماز اور اپنی تسبیح کو جانتا ہے، اور اللہ ان کاموں سے خوب آگاہ ہے جو وہ انجام دیتے ہیںo‘‘

    لفظ صلوٰۃ کے متعدد معانی میں سے ایک معنی کسی چیز کو آگ کی تپش میں رکھ کر سیدھا کرنا بھی ہے۔
    مجھے کھبی نماز میں حضوری نصیب نیہں ھوئ
    کھبی مکمل دھیان سے نماز ادا نیہں کی
    نماز میں جو سکون و قرار ھے وہ کسی اور عمل میں کہاں
    نماز بری باتوں سے روکتی ھے

    نماز اللہ سے قریب کرتی ھے
    نماز اللہ اور بندے کے درمیان ایک مضبوط رشتہ بنا تی ھے
    نماز اللہ تعالی کی وحدانیت کی تصدیق ھے
    نماز شر سے بچاتی ھے
    نماز بھلائ کی طرف بلاتی ھے
    نماز کا دروازہ قلب مسلم میں کھلتا ھے

    مسجد النبوی میں ظہر کی نماز کے
    لیے صفیں بنی ھوئ تھیں
    لاکھوں کاھجوم
    نماز کی تیاری واھتمام جاری تھا کوئ جاء نماز بچھا رھا تھا
    کوئ مسجد کے اندر جانے کی جگاڑ میں تھا
    کوئ دھوپ سے بچنے کے لیے سايہ تلاش کررھا تھا
    کوئ اپنے بھیٹنے کے لیے مناسب جگہ تلاش کررھاتھا
    عزض خواتین کے حصے میں نماز کی تیاریاں پورے خوش و خروش سے جاری تھیں میں عموما مسجد البنوی کے اندر ھی نماز پڑھتی تھی
    مگر اس وقت وضو کرنے کی وجہ سے اندر جانا ممکن نہ تھا مجھے باھر ھی نماز کی ادايئگی کرنا تھی مگر باھر بہت ھی شور تھا
    خواتین کے حصے میں بہت شور ھوتا ھے بچون کا شور
    بچوں کی ماوں کا شور
    عموما باھر بچوں والی خواتین کی تعداد زیادہ ھوتی ھے اسی لیے
    بچوں والی خواتین کی کوشش ھوتی ھے کہ وہ باھر ھی نماز پڑھ سکیں
    کیونکہ بچے تو کیہں کے بھی ھوں
    ایک جیسے ھی ھوتے ھیں
    شرارتی
    معصوم
    بے فکر
    یہ جس جگہ بھی ھوں
    رونق اور خوشی کا سبب بنتے ھیں
    مال اور اولاد دیناوی زندگی رونق ھیں
    بچوں کے دم سے
    ھر گھر میں
    ھرجگہ رونق و زینت ھوتی ھے
    بچے چاھے عربی ھوں
    یا عجمی
    ھندوستانی ھوں
    یا پاکستانی
    مشرق بعید سے تعلق ھو
    یا مشرق وسطی سے
    سبھی ایک جیسے ھوتے ھیں
    شکل وصورت مختلف سہی
    مگر کارنامے ایک جیسے ھی ھوتے ھیں
    بھاگ دوڑ
    بے فکری اور شرارتیں
    چیخ پکار
    اس وقت صحن مسجد میں بھی یہی سماں تھا
    نماز شروع ھوچکی تھی میں نے بھی مسجد کے اندر نیہں باھر ھی نماز پڑھی بہت تیز دھوپ تھی
    میرے اندر کے سارے آھنی وسوسے
    دھوپ میں پگھل رھے تھے
    میرا دل بھی تپش اور محبت کے کی گرمی سے موم ھورھا تھا
    میرا دل مدینے منورہ کا عاشق
    میرا دل مدینے کا تمنائ
    میرا دل مدینے کا سودائ

    میں سجدے میں گی تو اپنے اوپر اختیار ھی نیہں رھا
    ظہر کی نماز مختصر ھوتی ھے
    نماز جلدی ختم ھوگی
    مگر مجھے وھاں سے اٹھنا اچھا نیہں لگا
    میری ساتھی خواتین نماز کی ادايئگی کے بعد مجھے ڈھونڈتی ھوئ باب علی ابن ابی طالب کے باھر میری منتظر تھیں
    اب وہ میرے سر پر کھڑی میرا انتظار کررھی تھیں
    کہ میں نماز سے فارغ ھوجاوں تو سب ملکر کھانا کھا کر آرام کریں اور پھر عصر میں واپس آیئں
    میری دوست نے شفقت سے میری کمر پر ھاتھہ پھیرا
    چلو عصر میں دوبارہ آنا ھے
    پھر دیر ھوجاۓ گی
    اللہ تمھاری عبادتوں کو قبول فرماۓ
    چلو اٹھو
    بہت دھوپ ھے اور فرش بھی گرم ھے
    میں نے سجدے سے سراٹھایا
    سارے ھی لوگ جاچکے تھے صحن میں شور تھا اور خواتین کا رخ بیرونی خروج گاھوں کی طرف تھا
    میں نے مریم اور صبا سے درخواست کی کہ مجھے عصر تک یہں رھنے دو
    میرا دل کچھہ کھانے کو نیہں چاہ رھا ھے
    میں یہاں بیھٹنا چاھتی تھی
    تادیر عبادت کرنا اور تسبح پڑھنا چاھتی تھی
    اپنے والدین عزيز اقارب
    بہنوں
    بھایئوں
    دوستوں کی طرف سے
    محبوب رب العالمین کی خدمت میں سبکا دورد و سلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاھتی تھی
    اھل مدینہ کتنے خوش قسمت ھیں
    میں یہ تین دن مدینہ میں ایسے گذارنا چاھتی تھی کہ زندگی بھر انکی چاشنی کو یاد کرکے مسرور ھوتی رھوں روح کو سرشار کرتی رھوں
    میرے عمرے کے ساتھی مجھے وھاں میری رضا سے چھوڑ کر جاچکے تھے اور میں ایک خاص ستون کو دیکھنا اور چھونا چاھتی تھی
    میں مسجد کے ایک ایک حصے کی زیارت کرنا جاھتی تھی ‘
    پورے حضور کے ساتھہ

    جاری ھے

  21. آصف احمد بھٹی نے کہا ہے:
    March 27, 2013 بوقت 10:14 am

    السلام علیکم
    شاہین آپی ۔ آپ اس مبارک سفر کے روداد لکھ رہی ہیں ، گویا ہر ہر لمحہ کو جاویداں کر رہی ہیں ، اللہ اس مقدس تحریر کو ہم سب مسلمانوں کی ہدایت اور بخشش کا سبب بنا دے ۔ آمین ۔
    مدینۃ النبی میں گزرے ہر ہر لمحے کا روحانی سرور پھر سے رگ و پے میں مہکنے لگا ہے ، مسجد نبوی ، روضہ رسول حتی کے شہر نبی کی ہواؤں میں جو سکون ، راحت اور لذت محسوس ہوتی رہی ہے وہ پھر مچلنے لگی ہے ، آپ نے درست فرمایا ، ہم خیجی ممالک میں رہنے والوں پر اللہ کی خاص رحمت ہے ہمیں باقی لوگوں کے مقابلے میں حاضری کے نسبتا زیادہ مواقع میسر ہوتے ہیں ۔
    لکھتی رہیے ، اور مدینے کے بلاد آمین میں گزرے پانچ دنوں کا احوال بھی رقم کیجئے ۔ بہت شکریہ ۔
    آصف احمد بھٹی

  22. آصف احمد بھٹی نے کہا ہے:
    March 27, 2013 بوقت 10:16 am

    شاہین آپی !
    آپ کا انداز تحریر بہت دلکش ہے ، میں جیسے جیسے پڑھ رہا ہوں ، مزہ بھی آ رہا ہے اور کچھ عجیب سے مگر نہایت خوشگوار کیفیت بھی طاری ہوتی جا رہی ہے ۔
    آصف احمد بھٹی

  23. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    March 30, 2013 بوقت 2:04 pm

    آصف بھائ عزت افزائ و حوصلہ افزائ کا شکریہ اچھے بھائ خوش رھو ‘سلامت رھو اللہ پاک تمھارے علم میں رزق میں برکت اور اضافت فرماۓ آمین ثم آمین

    اس بار مکمل طور پر سفر نامہ حجاز عالمی آخبار میں شا‏يع ھوگا انشا اللہ
    میں بھی دوبارہ زندہ ھو رھی ھوں
    میری تھکن بھی یہ سفر نامہ اتار رھا ھے
    میری اوپر جمی کائ بھی اور گرد غبار بھی صاف ھورھا ھے
    میں اس سفر نامہ کو لکھتے ھوۓ اس وقت جن جن واقعات و کیفیات سے ھوچار ھورھی ھوں اللہ جانتا ھے کہ اس کو تحریر کرنے کی سکت نیہں رکھتی ھوں
    آصف میرے آچھے بھائ
    اس بار مدینہ المنورہ میں بہت سکون و اطمعینان کے چند دن بسر کیے ھمارے ساتھہ ایسے ھم سفر تھے جو دن و رات ھر لمحے سلام و زیارت کے مشتاق تھے
    اسی لیے اس بار خوب معلومات میں اضافہ بھی ھوا
    بہت ساری اسی نامعلوم چیزوں کے بارے میں بھی بھی کافی علم حاصل ھوا جن سے میں اس سے قبل محروم و لاعلم تھی
    مدینہ المنورہ شہر آگہی بھی ھے
    شہر زندگی بھی ھے
    شہر پر نور بھی ھے
    شہر بھرپور بھی ھے
    شہر الانبیاء المرسلین بھی ھے
    شہر نور و عطر بھی ھے
    شہر قلب کبیر بھی ھے
    شہر آرام گاہ نبی اکرام صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم بھی ھے
    شہر انسان کامل بھی ھے
    شہر انسان اعظم بھی ھے
    شہر آخلاق بھی ھے
    شہر اخلاص بھی ھے
    شہر پر مجھے کھبی جنت کا گماں ھوتا ھے
    شہر پر مجھے کھبی آسمان اعلی کا گمان ھوتا ھے
    شہر میں کھبی چلتے ھوۓ بشر پر فرشتوں کا گمان ھوتا ھے
    اے بار الہی ھم کو باربار
    اس شہر پاک و طیب میں بار بار آنے کی توفیق عطا فرماء آمین ثم آمین

    جاری ھے

  24. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    March 31, 2013 بوقت 12:32 am

    جزاک اللہ شاہین۔قلم راہوار کی طرح چل رہا ہے اور مجھ جیسا فقیر اپکے ساتھ ساتھ محو سفر ہے۔یہی لکھنے والے کامیابی ہے۔اللہ،اسکا نبی اور اسکی ال اس قلمی مشقت کو قبول کرے۔ آمین بتصدق معصومین

  25. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 1, 2013 بوقت 2:56 pm

    محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب اسلام علیکم آغائ
    آپکی شاباشی اور حوصلہ افزائ مجھے اور میرے قلم کو نئی طاقت عطا کريگی
    میں آپ کی بہت ممنون ھوں کہ میری تحریروں کو شفقت و محبت کی نظر سے دیکھتے ھیں
    اس خصوصی توجہ کے لیے میں سپاس گذار ھوں

    میں نے اپنے علم اور معلومات میں گراں قدر اضافہ کی نیت سے مدینے منورہ پر کچھہ ریسرچ بھی کی ھیں
    یوں تو صدیوں سے مسلمان زا‏يرین و حجاج و عمرہ مفردہ ادا کرنے والے خوش بخت افراد اپنے احساسات و جذبات کو تحریری شکل میں سفر نامے کی شکل میں ڈھالتے رھے ھیں
    میں تو بس اپنےتاثرات قلم بند کر رھی ھوں
    کچھہ کرم فرماء کا کہنا ھے کہ اگر سفر نامے کو کتابی شکل میں لانا ھے تو عالمی آخبار پر کیوں لکھہ رھی ھو
    میں نے کہا میرے لیے عالمی آخبار میں شا‏يع ھونا اس سفر نامے کو کتابی شکل میں لانے سے بہت بہتر ھے اور اچھا تجربہ ھے اور انشا اللہ میں اس کو کتابی شکل میں لانے کا قوی ارادہ بھی رکھتی ھوں ھوسکتا ھے کہ جون میں یہ کام بھی ھوجاۓ انشا اللہ
    مگر میرا سفر نامہ اس تحریر سے مختلف ھوگا تھوڑا سا
    میرے پاس مکہ ومدینے کی نایاب وقیمتی تصاویر بھی ھیں اور اپنے کمیرے سے کھنچی ھوئ بہت درجنوں تصاویر بھی ھیں اور ساتھہ ساتہھ میں اللہ تعلی کے اسماۓ الحسنی پر بھی کام کررھی ھوں اور یہ باتیں یہاں تحریر کرنا مقصد بھی یہ ھے کہ آپکی قیمتی آرآہ میرے لیے بہت معنی رکھتی ھیں اور ایک بہت اھم بات کہ

    اپنے اس روحانی سفری تاثرات کو یہاں قلم بند کرتے ھوۓ
    جس خوشی و مسرت سے میرا دل دوچار ھوتا ھے اس نعمت پر میں اپنے رب کی شکرگذار ھوں

    میں ایک لفظ لکھتی ھوں
    میں ایک سطر تحریر کرتی ھوں
    اور پھر گھنٹوں میری روح وھیں پر منجمد ھوجاتی ھے
    کبھی طائر خیال مجھے ایسے ایسے مناظر بھی دیکھاتا ھے کہ میں سرشاری کے خمار میں مبتلا ھوجاتی ھوں
    کھبی دیکھتی ھوں کہ
    میں مسجد نبوی کے باھر بھیکاری بن جاتی ھوں کھبی گناہ گار کبھی عفو کی طالب
    کھبی توبہ کرتی
    کھبی روتی ھوں بے چین پھرتی ھوں
    کھبی لگتا ھے کہ مسجد النبوی کے گوشے گوشے کو چوم کر صدیوں پہلے کا سفر کرنا چاھتی ھوں
    مجھے شہر مدینے کی خوبصورتی اور جمال نے جکڑ لیا ھے مجھے اس خاک سے نسبت ھے
    یہ خاک میرا بھی حوالہ ھے
    اس خاک سے الفت میرا ایمان بھی ھے
    میں اس شہر کے زرے زرے پر قربان
    یہ شہر جو اسلام کا گہوارہ بھی ھے
    تہنذیب وتمدن کا نگینہ بھی ھے
    کشتی حیات کا سفینہ بھی ھے
    اس شہر پر نور سے کوئ ناکام و ناتمام نیہں جاتا ھے
    کوئ خالی ھاتھہ نیہں جاتا ھے
    کوئ مایوس نیہں جاتا ھے
    یہاں آکر سب کو قرار ملتا ھے
    یہاں آکر ایمان تازہ ھوتا ھے
    یہاں کی ھوایئں جسم و جاں سے مایوسی کی گرد کو صاف کرکے لمحہ بھر میں ایک نیا انسان بنا دیتی ھیں

    اگلی اقساط کو تحریر کرنے سے پہلے اپنے علم اور معلومات میں گراں قدر اضافہ کی نیت سے ميں نے مدینے منورہ پر کچھہ ریسرچ بھی کی ھیں

  26. آصف احمد بھٹی نے کہا ہے:
    April 2, 2013 بوقت 11:15 am

    السلام علیکم
    آپی اگلی اقساط کا شدت سے انتظار ہے ۔
    آصف احمد بھٹی

  27. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 4, 2013 بوقت 1:02 pm

    سویا ھوا نصیب جگایا ھے آپ نے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
    زرے کو آفتاب بنا یا ھے آپ نے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
    عرب کے معنی ھیں صحراء اور بے اب وگیاہ زمین اور اللہ تعالی نے اسی زمین پر خصوصی عنایت فرمائ
    عالم عرب اپنے محل و وقوع کے اعتبار سے بھی ممتازو منفرد ھے
    جزیرہ نماۓ عرب پرانی دینا کے تمام معلوم براعظموں کے مرکز میں واقع ھے
    ایام جاھلت کی رذیل عادتیں اپنی جگہ مگر وھاں ایسے آخلاق فاضلہ بھی پاۓ جاتے تھے کہ انسان ششدر رہ جاتا تھا
    کرم
    وفاۓ عہد
    خودداری
    عزت النفس
    حلم
    بردیاری
    ضیافہ
    ادب کی تعظیم شا‏ئد یہی وہ قیمتی اخلاق و معدن تھے جنکی وجہ سے اھل عرب کو بنی نوع انسان کی قیادت و رسالت کی ذمہ داری نھبانے کا اھل سمجھا گیا
    الحمداللہ

    خالق کا ‏ئنات نے دینا کے سب سے برگذیرہ بنی اور اپنے محبوب کی خلقت کے لیے اپنے مبارک مدن کو منتخب کیا جزیرہ العرب پر آفتاب اسلام کی پرنور شعاعیں ضو فگن ھويئں اور ظلمات کی تاریکی میں نور محمدی کا آفتاب طلوع ھوا

    اپکی ولادت باسعادت مکہ میں ھوئ مگر مدینے میں آپ نے آپنی حیات مبارکہ کا زیادہ وقت گذارہ

    مدینہ المنورہ میرے پاک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پاک و بابرکت و منور و روشن و پر نور شہر ھے
    سرکار دوعالم
    سرور کائنات جو اللہ تبارک وتعالی کے محبوب ترین بنی ھیں
    آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نا م بھی بغیر درود و سلام کے نیہں لے سکتے ھیں
    آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سراج المنیر
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی الرحمہ
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حبیب الرحمن
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سید المرسلین

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الرؤوف الرحیم

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم المصطفی، المجتبی،

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صاحب التاج والمعراج،
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم المصدوق، الامین

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صاحب الوسیلۃ والدرجۃ الرفیعۃ
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الرسول الاعظم

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الصادق
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صاحب مقام محمود

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احمد و ابو القاسم و ابو طیب
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دینا کی تمام مذھبی شخصیات میں سب سے زیادہ چاھنے جانے والی شخصیت ھیں
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات محترم و مبارکہ کا احترام دنیا کا ھر ذی شعور انسان کرتا ھے
    ھمارے پاک نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم جو ایسے نبی و مرسل و مرشد و القائد ھیں جن کی تعلیم کردہ راھوں پر چل کر دینا کامیابی اور کامرانی کے جادواں راستے پر گامزن ھوسکتی ھے

    بلغَ العُلا بكمالہِ
    ، کشفت الدّجى بجمالہِ
    ، حسُنت جميع خصالہِ
    صلّو عليہ و آلہِ .

  28. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    April 6, 2013 بوقت 9:59 am

    ماشااللہ۔جزاک اللہ۔ بہت احتیاط اور بہت خوبصورتی سے سفر آگے کی طرف بڑھ رہا ہے۔لکھنے والے کی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ پڑھنے والے کو مزید جاننے کی خواہش ہوتی ہے۔ شاہین جی کبھی سوچو کہ کروڑوں لوگ اس شہر کا سفر کر کے آتے ہیں لیکن کتنے ہیں جنکو اللہ اور اسکا حبیب اس شہر کے حالات اور زائرین کی قلبی کیفیات لکھنے کی اجازت دیتا ہے؟ اور پھر ان لکھنے والوں میں سے کتنے مزید چنیدہ ہیں جنکے لکھے کو پڑھنے والے نصیب ہوتے ہیں۔ مبارک ہو کہ آپ چنیدہ اہل قلم اور قہل فکر میں سے ہیں

  29. جعفر حسین نے کہا ہے:
    April 8, 2013 بوقت 8:45 am

    سبحان اللہ کیا خوبصورت سفر نامہ ہے ، ایک ایک لفظ مدینہ کی جانب کھینچے لیے جارہا ہے پل پل مدینہ کی صدائین آرہی ہیں انتہائی روحانیت محسوس ہو رہی ہے
    مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے میں ابھی بھی مدینے ہی میں ہوں حالانکہ مجھے حجازِ مقدس سے آئے ہوئے بھی دس ماہ ہو چکے ہیں میں جون 2012 میں مدینے میں تھا
    شاہین آپی آپ نے مجھے میرے احساسات یاد دلا دیے ھماری بھی یہی کیفیت ہوئی تھی اور خاص کر جب پہلی مرتبہ مدینے کی زیارت کا شرف حاصل ہو تو پھر تو خواہشات کے انبار ہوتے ہیں جن کو پورا ہو جانا کسی معجزہ سے کم نہیں۔
    ——————–
    میں باربار چند نمازیں پڑھ کر بیقراری سے چلنے لگتی تھی میرا دل چاہ کہ میں ساری مسجد میں سجدہ کرنے کی سعادت حاصل کروں
    میں چپے چپے کی زیارت کروں
    میں جگہ جگہ زیارت پڑھو
    کیہں نوحہ پڑھوں
    کیہں نعت پڑھوں
    کیہں نماز پڑھوں کیہں شکرادا کرو
    کیہں گريئہ کروں
    کیہں پرسہ دوں
    کیہں دعا کروں
    کیہں دعا لوں
    کیہں کسی کی مدد کروں
    —————-
    کاش مدینے میں ایسا ہو سکتا
    ھم اپنی تمام تر سعی کے بعد بھی ایسا نہیں کرسکے
    نہ روضہٗ رسول (ص) کی زیارت کرسکے (بس دور سے دیکھا جاسکتا ہے )
    نہ روضہٗ رسول (ص) کی جالی کو بوسہ دے سکے
    نہ کہیں نعت پڑھ سکے
    نہ کہیں نوحہ پڑھ سکے
    نہ کہیں گریہٗ کر سکے
    نہ کہیں پرسہٗ سکے
    نہ کہیں دستِ دعا اٹھا سکے
    ہاں اتنا ضرور ہوا کہ
    جنت البقیع میں معصومین علیہ السلام کی مسمار شدہ اور ویران مزارات کی زیارت قریب سے ہوگئی
    ھم دل ہی دل میں روتے رہے
    آنسو بہاتے رہے
    غم و اندوہ کے سمندر میں غوطہ زن رہے
    گریہ کرنا تو دور کی بات ہے آہ بھی نہ بھر سکتے تھے
    اس مقدس سر زمیں پر آج بھی قبضہ ہے
    جب ھمارے کانوں میں آوازیں آتی تھیں
    ہذا بدعت ! بدعت ہے ، شرک ہے
    دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا شرک ہے
    مجھے عرب کے بدو یاد آجاتے ہیں
    کس طرح اللہ کے محبوب کو
    شافعِ محشر کو
    رحمت العالمین کو
    خاتم النبیاٗ کو
    امام الانبیاٗ کو
    تنگ کیا جاتا تھا
    ستایا جاتا تھا
    آج بھی ایے ہی لوگوں کا قبضہ ہے
    اس مقدس سر زمین پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شائد ھماری یہ باتیں کسی کی دل آزاری کا باعث بنیں لیکن یہ تلخ حقیقت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  30. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 8, 2013 بوقت 3:08 pm

    محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب سلامت باشد آ‏غائ
    یہ کم فہم اور کم علم اس تاخیر کے لیے دونوں ھاتھوں کو جوڑ کر معافی مانگتی ھے جو دیر و تاخیر ھو جاتی ھے
    سچ پوچھیں تو اسکا سارا کریڈیٹ وسارا ثواب آپکو میری بہت ھی عزیز بہن اور عمدہ او ربہترین تاثیر میں عجوہ کھجور جسیی میھٹی اور سب کے دلوں کو وڈھارس و آرام بہم پہچانے والی دوست ڈاکٹر نگہت نسیم کو جاتا ھے
    جو مجھے فرش سے اٹھا کر عرش پر پہنچا دیتے ھیں
    میرے ھاتھوں میں اکثر ڈاکٹر نگہت نسیم کا ھاتھہ ھوتا ھے
    نرم ملا‏يم دوستی اور اخلاص کے عطر میں ڈوبا ھوا
    اللہ پاک آپ دونوں کو اجر عظیم عطا فرماۓ میرے قلم کو متحرک کرنے میں آپ دونوں کا بہت بڑا حصہ ھے
    اور یقین کریں میں اسی وقت قلم اٹھاتی ھوں جب مجھے احساس ھو کے میری عزيزدوست اب میرے ھمراہ ھے
    میرے لکھے ھوۓ لفظوں کو پڑھتے ھوۓ
    میرے قلم کو رواں دواں رکھنے میں اس احساس نے بڑا کمال کیا ھے
    آپ درست کہہ رھے ھیں کہ
    کروڑوں لوگ اس شہر کا سفر کر کے آتے ہیں لیکن کتنے ہیں جنکو اللہ اور اسکا حبیب اس شہر کے حالات اور زائرین کی قلبی کیفیات لکھنے کی اجازت دیتا ہے
    مجھے یقین ھے کہ وہ کڑورں زائر کھبی بھی شہر نبی کو فراموش نیہں کرسکتے ھیں
    شہر نبی پھر زا‏ئرین کے دلوں میں آباد ھوجاتا ھے
    شہر نبی کی خوشبو انکے ھمراہ رھتی ھے
    اذان کی اوآز بھی کھبی جدا نیہں ھوتی ھے

  31. شاھین رضوی نے کہا ہے:
    April 8, 2013 بوقت 9:20 pm

    عزیز اچھے بھائ جعفر حسین پاک پروردگار آپکو ھمشیہ خوش و خوش حال رکھے اور تمام اماکن مقدسہ و مبارکہ کی زیارت پر جانےاورجی بھرکر مکمل اطمیعنان اور بھرپور متوجگی کے ساتھہ تمام تر عبادات و مناجات و تسبحات پڑھنے کی سعادت ملے اور باربار ملے اللہ پاک اپکی ھر دعا کو شرف قبولیت بخشے آمین ثم آمین
    چلیے ھم سب مل کر مسجد النبوی میں باادب بڑے آداب و وقار کے ساتھہ باوضو ھوکر درود وسلام کے تحائف لیکر دربار رسالت ماـب میں اشکبار آنکھوں سے براۓ تعظیم سر کو جھکاۓ حاضری کا شرف حاصل کرتے ھیں
    یہاں آکر تو فرشتوں بھی کبھی بشکل بشر بصد افتخار کسی کو آب حیات عطا کرتے ھیں
    کسی زائر کو حیات نو کی بشارت دیتے ھیں
    یہ عجب ساحرانہ کشش رکھنے والا شہر ھے
    یہاں آکر انسان بدل جاتا ھے اسکے اطوار بدل جاتے ھیں
    نشت و برخاست کے انداز بدل جاتے ھیں
    آتش مزاجی نرمی و گداز میں ڈھل جاتی ھے
    ھاتھوں میں کشکول لیے
    کوئ کاسہ محبت اٹھاۓ سرکار دوعالم کے در سے خیرات کا طالب ھوتا ھے
    یہاں امیر بھی فقیر بن جاتا ھے
    یہاں دل ٹہر جاتا ھے
    بنض حیات رک جاتی ھے
    کہ کائنات کے مالک و خالق کے محبوب کا دربار ھے
    کھبی اس سر زمین پر
    بہشت بریں کا گماں ھوتا ھے
    کھبی یہ جگہ جنت الفردوس کا ٹکڑا لگتی ھے
    کھبی کہکشاں کی جاوداں شاھراہ لگتی ھے
    کھبی کسی مقام پر خلد کا گماں ھوتا ھے
    کبھی یّثرب عرش سے اونچا نظر آتا ھے
    کبھی سر ژمین عالم کا مدن افتخار لگتا ھے
    کیا بتاوں کہ مدینہ مجھے کیا لگتا ھے
    میں مسجد النبوی کے کسی ستون مبارکہ سے لگی کھڑی تھی
    مجھے اس ستون سے اسطوانہ رسول کی خوشبو آرھی تھی
    مجھےان مقدس در و دیوار سے اٹھتی ھو‏ئ عود و عنبر کی مہک نے مدھوش کردیا تھا
    میرے قدم رک رک جاتے میں ٹہر جاتی کہ اس وقت جس جگہ میں کھڑی ھوں
    یہاں جن وملائک کا بھی انا جانا لگا رھتا تھا
    صدیوں پہلے یہاں آلانبیاء والمرسلین بھی تشریف لاۓ تھے
    مسجد النبوی میں دست رسالت ماب کا نور
    اور یہاں انکی خوبشو و یادگار باقی تھی
    میں نے گہری سانس لی اور کلمہ طیبہ پڑھتی ھوئ ستونوں کو چھوتی چومتی جھومتی اگے کی طرف بڑھنے لگی میں طابہ و طیبہ جیسے شہر میں واقع دینا کی بہت محترم و مقدس مسجد میں نقش کی گی دعاوں کو پڑھتی تویہ و ذنوب کے لیے استفغفار اور کھبی سلام دورد پڑھتی روتی بلکتی اپنی سیاہ عباء سے اپنا چہرہ اور اپنی کیفیت چھپاۓ روضہ النبی کے ھر روح پرور منظر کو اپنے قلب و نظر میں محفوظ کرتی چلی جارھی تھی مجھے باربار ایسا محسوس ھورھا تھا کہ جیسے میرے علاوہ یہاں لاکھوں زائرین ھیں جن کی کم نظری کی شکایت دور ھوچکی ھوگی
    ھر انسو بینائ کو جلا دے رھا تھا
    اشک بہائ کی رسم ھور ھی تھی
    گريئہ طغیانی میں تبدیل ھورھاتھا
    سر کشی عاجزی میں بدل گی تھی

    ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم
    میرے پاوں میں گہری چوٹ لگی ھوئ تھی مگر اب درد کا نام و نشان نہ تھا
    شہر مدنیہ زخموں کو مندمل کرنے والا شہر ھے
    شفایابی و کامیابی کی کلید ھے
    روضہ رسول پر حاضری دیکر بار ائ تو وقت نے مجھے پھر اپنے اھنی گرفت میں لے لیا
    میری نظروں کے سامنے ایک بار پھر وھی چودہ سو سال پرانی نورانی بستی آگی

  32. شاھین رضوی نے کہا ہے:
    April 8, 2013 بوقت 11:25 pm

    میں شہر معجزات میں تھی جو لمحہ با لمحہ اپنی شکل وصورت بدلتا ھے اپنا چولا بدلتا ھے اپنا انداز بدلتا ھے

    دن ميں وھاں کی شان کچھہ اور طرح کی ھوتی ھے
    اور رات میں اس سرژمین کا نقشہ کچھہ اور طرح کا ھوتا ھے دن کی روشنی میں بھی درجنوں چاند ستاروں کو قربان ھوتے دیکھا
    اور رات کو کہکشاں کو زمین کا بوسہ لیتے دیکھا
    بس روشنی تاحد نظر
    تابندگی تاحد فکر
    میں اپنے ساتھہ آنے والے خواتین کو بتا رھی تھی کہ میں نے مسجد النبوی میں کہاں کہاں نماژ و سلام کا شرف حاصل کیا تھا
    میں نے کچھہ جگہوں پر اشارہ کرکے کہا کہ براۓ مہربانی اس جگہ نماژ پڑھنے کی سعادت ضرور حاصل کرلیں اللہ جانے آنے والے برسوں میں بد عت کے نام پر کن کن چیزوں پر پابندی کے امکانات ھیں
    بہت سارے مقامات کو پس دیوار دیکھہ کر مجھے بھی بہت افسوس ھوا
    دینا کی ھر قوم اپنے مذھبی ورثے اور تبرکات کی خاص حفاظت کرتی ھے اسکو آنے والی نسلوں کے لے بچاتی ھے
    یہ تو الانباء والمرسلین کی زمین ھے
    خلقت کے روز اول سے لیکر رو ز محشر تک قائم رھنے والی زمین اور اس پر بنے آثار و برکات اور قدم مبارکہ کےبابرکت نشانات
    کوپلکوں سے صاف کروں
    مجھے تو پیدل چلتے یہ خیال ھی ملول کردیتا کہ مسجد النبوی کے کشادہ صحن
    کاوہ کونسا حصہ ھوگا جہاں سے شب وروز ھمارے پیارے نبی کریم نماز کی ادايئگی کے لیے گذرتے ھونگے
    باادب
    سرتسلیم خم رکھو
    ابراھیم علیہ اسلام کا حرم مکہ
    اور ھمارے نبی پاک کا حرم مدینہ المنورہ
    کہاں کہاں اللہ پاک کے محبوب پاک نبی نے سفر کیا ھوگا
    کہاں کہاں خیمے لگتے ھونگے
    کہاں کہاں قیام کیا ھوگا
    آج بھی کیسے کیسے قطب و ابدال متقی وپرھیز گار اولیا اللہ اس سرزمین پر حفاظت کے لیے بیھٹے ھیں

    ، بادشاہ سلامت کا اقبال ھمشیہ بلند رھے وہ ھر تاریخی روثے کو مٹا رھے ھیں ھر نشانی کے ارد گرد لوھے کی جالی لگا دی گی ھے
    چودہ سو سال میں یہ شہر پرنور کس قدر تبدیل ھوا ھوگا میں تو 15 سال قبل جب پہلی بار مدینہ ائ تو ریاض الجنہ کی زیارت بھی کی تھی اور میں ایک بڑے ھجوم کے ھمراہ جب باب جبريئل سے روضہ مبارکہ کی سبز جالیوں کو پکڑ کر کتنی دیر وھاں گونگی اور بہری بنی کھڑی کی کھڑی رہ گی تھی
    گونگی بہری تو 2013 میں بھی ھوئ تھی
    مگر اب وھاں جانے کی اجازت نیہں ھے
    خاص کر عوتیں تو ایک معیبوب شے سمجھا جاتا ھے انکو
    حرم النبی کی کشادگی دیکھہ کر تعمیر و ترقی دیکھہ کر دل خوش بھی ھوتا ھے اور غم زدہ بھی
    حرم کو دیکھا تو خوشی ھوئ
    پھر جنت البقعع کو دیکھنا چاھا تو افسوس ھوا
    ھر قبر کی نشانی کو معدوم کردیا گیا ھے
    ھر قبر کو ھاتھہ برابر کردیا ھے
    ھر قبر کو بے نام کردیا گیا ھے
    اب میں جنت البقع کے پاس بھی جارھی تھی
    میں تو زیارت کیے بغیر اور زیارت پڑھے بغیر ھرگز وھاں سے اٹھنے والی نہ تھی میرا جوش دیکھہ کر ایک آدھ لوگوں کو بھی جوش چڑھ گیا

  33. عالم آرا نے کہا ہے:
    April 9, 2013 بوقت 4:22 pm

    اسلام علیکم ساتھیو
    بھن شاھین حیدر رضوی اللھ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے آمین
    بہت روح پرور تا ثرات ہیں جنہیں پڑھ کر دل جزبات سے لبریز ہو گیا اور یہ تڑپ اور بڑھ گئی کہ میں بھی پھر ان تمام نورانی مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں انشاء اللہ
    جزاک اللہ خیر
    ھر انسو بینائ کو جلا دے رھا تھا
    اشک بہائ کی رسم ھور ھی تھی
    گريئہ طغیانی میں تبدیل ھورھاتھا
    سر کشی عاجزی میں بدل گی تھی

    ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم
    میرے پاوں میں گہری چوٹ لگی ھوئ تھی مگر اب درد کا نام و نشان نہ تھا
    شہر مدنیہ زخموں کو مندمل کرنے والا شہر ھے
    شفایابی و کامیابی کی کلید ھے
    روضہ رسول پر حاضری دیکر بار ائ تو وقت نے مجھے پھر اپنے اھنی گرفت میں لے لیا
    میری نظروں کے سامنے ایک بار پھر وھی چودہ سو سال پرانی نورانی بستی آگی

    اللہ کرے اظہار بیان اور زیادہ ۔اللہ آپ کی ہر دعا کو قبول فرمائے اور ہم سب کو توبہ کی توفیق اور اسوءہ رسول پر چلنے کی توفیق عطا کر دے آمین

    دکھا دے یا الٰہی وہ مدینہ کیسی بستی ہے
    جہاں پر رات دن مولا تیری رحمت برستی ہے

    عالم آرا
    وینکور

  34. شاھین رضوی نے کہا ہے:
    April 9, 2013 بوقت 11:48 pm

    دینا میں بہت سارے ایسے مقام ھیں جہاں پہچنا ھی کسی مومن و مسلم کی سب سے بڑی خواھش و خواب ھوتا ھے میری نگاھوں کا
    مقصود و مطلوب

    مکہ المکرمہ
    مدینہ المنورہ
    کربلا
    نجف اشرف
    شام
    ایران
    مشہد
    مسجد جمکران
    دمشق
    قدس
    قلسطین
    مسجد اقصی
    ان
    تاریخی ممالک
    اور منتخب شہروں میں جانے کی خواھش
    مجھے ھمہ وقت بیکل وبیقرار رکھتی ھے
    ان شہروں ‘
    میں واقع قبرستانوں میں عرش کے چاند ستارے مدفون ومنور ھيں

    مکہ کا قبرستان
    مدینہ المنورہ میں جنت البقیع
    وادی سلام عراق کا قبرستان
    نجف اشرف کا قبرستان جو رقبے کے
    لحاظ
    سے
    سب سے بڑا قبرستا ن ھے
    یہاں پانچ ملین
    تاریخی ومذھبی شخصیات
    مدفون ھیں

    ھر مسلمان کے دل میں ان شہروںا ور ملکوں ميں جانے کی خواھش بہت گہری اور پختہ ھوتی ھے
    کچھہ بخت آور ان مقدس شہروں میں
    جاتے ھیں کھبی نہ واپس آنے کا عہد کرکے جاتے ھیں
    ان پر اللہ تعالی اپنی خاص عنایت کرتا ھے انکا کوئ عمل کوئ نیکی پالنے والے کو اتنی پسند آجاتی ھے کہ کہ اللہ تعالی کے حکم کے مطابق موت کا فرشتہ انکی روح ایک ایسے مقا م پر قبض کرتا ھے جہاں حساب وکتاب گنا ہ ثواب کی سزا وجزا اور
    کسی کھاتے کے بغیر ھی انکو اس زمین کے ھمراہ جنت الفردوس میں پہنچا دیا جاۓ گا
    جو اپنے رب کے عشق و عبادت میں
    ڈوب جاتے ھیں انکے لیے ابدی زندگی اور ابدی انعامات منجانب اللہ ھوتے ھیں

    کائنات کا سب سے پہلا سانحہ
    ھابیل و قابیل کی لڑائ تھی
    اور پہلا قتل ھابیل کاتھا
    قابیل بھائ کو مار کر قاتل ٹہرا
    اور دینا میں سب سے پہلی قبر بھی ھابیل کی تھی
    کائنات کی پہلی قبر ھابیل کی تھی
    مجھے پہلے قبرستان سے بہت ڈر لگتا تھا

    مگر جب میرے جنت مکانی
    والد مرحوم و مغفور سید علی رضا رضوی کا انتقال ھوا تو اس کے بعد مجھےکھبی بھی قبرستان سے ڈر نیہں لگا
    مجھے
    پتہ چلا کہ قبرستان تو انسان کی آخری پناہ گاہ ھے

    قبرستان عبرت کی جگہ ھے

    قبرستان تو ھر مسلمان کا آخری ٹھکانہ ھے اور ایک ایسے سفر کی ابتداء اور آغاز کا محطہ جو نیک عاقبت والوں کو خالق کائنات کے نزدیک اور قریب کردیتی ھے
    اور جو ھم سے پہلے وھاں جاچکے ھیں
    اللہ تعالی سے انکی مغفرت کی دعا مانگتے ھوۓ میں نے اھل قبور کو سلام کیا
    اے میرے رب
    اے میرے معبود
    ھم کو وقت ارتحال کلمہ پڑھنے کی توفیق عطا فرماء
    ھم گناہ گاروں کو نیکوکار بنے کی توفیق عطا فرماء ھم کو ھر برائ سے محفوظ رکھنا
    میں جنت البقیع سے بہت دور تھی مگر طائر خیال مجھے اس بقیعہ بہشتی سے نزدیک تر لیکر جارھا تھا
    آج سے کئی سال قبل میں نے کویت سے مدینہ انے والے قافلے کے ساتھہ اس قبرستان کو بہت قریب سے دیکھا تھا
    اور قبر ستان کی جالیوں سے زیارت بھی کی تھی مجلس بھی ھوئ تھی اور ذاکر اھل بیت نے یہاں مجلس بھی پڑھی تھی
    عموما قبرستانوں ميں وحشت و خوف کا ماحول ھوتا ھے اور ڈر سا لگتا ھے مگر جنت البقیع میں آپکی کیفیت بہت مختلف ھوجاتی ھے
    یہاں خوف کے بجاۓ ایک عجیب سی افسردگی آپ کے ھمراہ ھوتی ھے دل کشیدہ ھوجاتا ھے اور حزن و ملال آپکا ھاتھہ تھام لیتا ھے
    اس قبرستان ھی کچھہ ایسی پاک و پاکیزہ ھستیوں کا مدفن و قیام ھے کہ انکا خیال آتا ھی اور انکا نام ھی زائرین کو آبدیدہ کردیتا ھے
    ھر سال وھاں نت نئی پابندیاں لگ جاتیں ھیں
    زائرین پر سختیاں اور پابندیاں دل کو خون کے آنسو بہانے پر مجبور کر دیتی ھیں
    یہاں کا زرہ زرہ آہ فغاں کرتا محسوس ھوتا ھے
    یہاں چند بہت بلند مقام ھستیوں کی قبور مبارکہ ھین

    خواتین کے لیے
    تا دیر زیارت کے لیے بھی رکنے کی سہولت ختم کردی گی ھے

    یہاں بیت الاحزان بھی ھے اسی لیے آنکھوں سے اشک جاری ھوجا تے ھیں
    کیسی کیسی نورانی و منور ھستیاں یہاں مدفون ھیں
    سرور کائنات کے اجداد
    امہات المومنین و مومنات جسی بلند مقام شخصیات اور
    اھل بیت علیہ سلام کی قبور مبارکہ بھی اسی احاطے میں موجود ھیں جہاں نظر اور فکر بڑی آسانی سے پہنچ جاتی ھے
    مدینہ المنورہ میں واقع یہ قبرستان بھی بہت قدیم ترین ھے
    اور یہاں ایسی ایسی ھستیاں مدفون ھیں کہ جن کا نام بھی صلواۃ کے بغیر نیہں لے سکتے ھیں

  35. شاھین رضوی نے کہا ہے:
    April 10, 2013 بوقت 1:00 am

    جنت البقیع کے مرکزی دروازے کی طرف نظریں جماۓ گم سم کھڑی تھی

    گو کہ میں اس مدخل مبارکہ سے بہت دور تھی مگر مجھے یہاں آستاں بوسی کی خواھش لیکر آئ تھی
    میرےبايئں ھاتھہ پر میری نظروں کے سامنے صدیوں پرانا نور اور مغفرت کی خوش خبری کی دمکتی کہکشاں سے مزین قبرستان تھا
    اور میرے پیش نظر دوسری جانب روضہ شافع محشر اپنی پوری تجلی اور وقار کے ساتھہ چودھويں کے چاند سے زیادہ منور آنکھوں کو خیرہ کررھا تھا
    اس شہر خاموشیاں نے اپنے بطن میں کیسے کیسے گوھر نایاب و بے مثال آسودگان خاک مبارک ھستیوں کو اپنے محفوظ وپر امان سینے میں چھپا رکھا تھا
    مجھے وھاں کھڑے رھنے کی چند ساعت کی مہلت مل جاۓ میرا تجسس میری جستجو
    میری کاوش و کوشش تو یہی تھی کہ میں وھاں مدفون چاند ستاروں کی روشنی سے اپنے حجرے افکار کو منور کرلوں
    میں لمحہ بھر کے لیے خود سے جدا ھوچکی تھی میں سرراھا منہ چھپاۓ کھڑی طلوع شمس کے منظر کی ساری سرخی کو اپنی آنکھون مین سمیٹ چکی تھی
    سیدہ مادر علی ابن ابی طالب جنابہ حضرت فاطمعہ بنت اسد
    سرور کائنات کی صاحبزادیوں کی قبور مبارکہ
    نواسہ رسول مقبول شہزادہ حضرت امام حسن سبز قبا ء علیہ اسلام

    رسول اللہ کے چچا
    امام حضرت باقر علیہ اسلام
    امام حضرت جعفر علیہ اسلام
    حضرت عقیل ابن ابی طالب
    شہزادی کو نیین بی بی قاطمعہ زھرہ علیہا اسلام
    اور ديگر اصحاب واقارب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
    اپنے اپنے وقتوں کے مشاھیر بھی یہان مدفون تھے
    ھم تادیر وھاں کھڑے دعا پڑھتے رھے
    تبرک کی تقیسم کے بعد ھم سب بہت آھستہ چلتے ھوۓ

    مسجد النبوی کی جانب چلنے لگے
    میرے ساتھہ ایک مسلہ یہ بھی تھا کہ آنسو کسی طور رک نیہں رھے تھے
    میں باربار اپنے آنسووں کو صاف کرتی مگر دل اور دماغ دونوں ھی اپنے پیارے بنی کے مصآئب انکی آل مبارکہ پر گذرے والے مظالم کو یاد کرکے باربار آیدیدگی سے اشکباری کے مراحل میں داخل ھوجاتا

    اللہ تعالی نے اپنے پاک و ومصطفی نبی کو دینا کا سب سے پرنور چہرہ عطا کیااور آپکے نام میں ایسی کشش رکھی جو ھر صاحب ایمان کے سینے کو پاکیزہ ومعطر کردیتی ھے

    یہ ایمان کا شہر ھے
    اس شہر پر اللہ کا خاص احسان و کرم ھے

    آپ عرب وعجم کے سردار ھیں
    جبريئل الامین آپکے خادم ھیں
    اور کائنات کی سب سے نایاب سواری براق
    معراج آپکا سفر
    سدرہ المنتہی آپکا مقام اور قاب وقوسین قرب الہی آپکا مطوب و مقصود
    اپ گناہ گاروں کی شفاعت کرنے والے
    آپ تمام جہانوں کے لیے رحمت وبا‏عث برکت ھیں
    لاکھوں دورد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر

  36. شاھین رضوی نے کہا ہے:
    April 10, 2013 بوقت 1:30 am

    آچھی بہن عالم آراء خوش رھیں
    اللہ پاک آپکے پر آثر اور پاکیزہ قلم سے نکلے ھر لفظ کو سند مقبول خاص عام عطا فرماۓ آمین ثم آمین
    اس وقت مجھے نیہں معلوم کہ کیا وقت ھوا ھے شا‏د تین بجے ھیں صبح کے مگر مجھے کوئ تھکن محسوس نیہں ھورھی
    آج تو تقریبا میں نے ساری رات ھی لکھا ھے اور جو بھی لکھا ھے
    وہ صرف آپکے لیے لکھا ھے
    میں یہ سفری تاثرات کو اس بار ضرور مکمل کرونگی اور کوشش کرونگی ایک آدھ رات ساری رات جاگ کر بھی لکھنے کا کام کرلونگی دراصل میں کافی دنوں سے صرف 3 یا ساڑے تین گھنٹے ھی سو پا رھی ھوں
    اور میرا آپ سے پچھلے سال سے وعدہ تھا کہ میں عالمی آخبار میں اپنا سفر نامہ حجاز قلم بند کرونگی تو گویا آپ سبکی محبت و پیار ھی اس سفرنامہ کو لکھنے کا سبب بنی ھے
    میرا قلم آپ جیسے محبان علم و فکر کی داد وتحسین کی وجہ سے رواں ھوگیا ھے
    آپکی تحریر کردہ سطور نے مجھے زمین سے اٹھا کر عرش پر پہنچا دیا ھے
    اپکی محبت ھی میرے قلم کی روشنائ

    مجھے علی الصبح کام پر جانا ھے میری 3 دن جنرل موٹر ز کی طرف سے ٹرنینگ بھی ھے جو صبح سے لیکر شام تک جاری رھے گی
    یہ آپکی شفقت و محبت ھی ھے کہ
    میری
    تحریر کو سراھتی ھیں

    اور آپکی ستائش
    میرے قلم کے لیے روشنائ سے بھی زیادہ اھم ھے

  37. عالم آرا نے کہا ہے:
    April 10, 2013 بوقت 5:04 pm

    اسلام علیکم ساتھیو
    سدا سکھی اور سلامت رہو بہن شاھین ۔میں نے تو اپنے جزبات کی ترجمانی کی جو میرے دل میں تھا وہ ہی لکھا ۔
    اللہ آپ کو اس سفر کے لکھنے کا اجر عظیم عطا فرمائے ۔اور آپ کی کاوش کے ایک ایک لمحے کو قبول فرمائے ۔آمین
    میرے لئے بھی دعا کیجئے گا میں بھی اپنی ایک کتاب پر کام کر رہی ہوں ۔خواہش ہے کہ جلدی پوری کر لوں انشا ء اللہ
    پیاری بہن یہ سب صدقئہ جاریہ ہے جو ہمیں دنیا سے جانے کے بعد بھی فائدہ پہنچاتا رہے گا انشا ء اللہ کہ اچھا علم چھوڑ جانا بہ ذات خود ایک نیکی ہے ۔اور اللہ رب العذت جس سے چاہے یہ کام لے لے ۔
    اللہ ہم سب کی خطاؤں کو معاف فرمائے ہمیں توبہ کی توفیق عطا کرے اور ہماری توبہ کو قبول کرے اور ہم سے اچھے کام کرالے جو ہمیں آخرت میں بھی نافع ہوں آمین
    آپ کے جزبات کے لئےجزاک اللہ خیر اور آپ کی کامیابی کے لئے دعا
    عالم آرا

  38. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 15, 2013 بوقت 2:30 pm

    بہت اچھی بہن عالم آراء اسلام علیکم
    بہن اللہ پاک آپکو اپ کے نیک ارادوں میں کامیاب و کامرانی عطا فرماۓ آمین ثم آمین
    بہت جلد آپکی کتاب بھی اشاعت کے مراحل طے کریگی
    اور پھر ھم سب ھر ایک دوسال کے بعد دینا میں کسی ایک مقام پر یکجاء ھوکر اپنے ساتھی کاتب کی حوصلہ افزائ کے ساتھہ محبت اور آخوت کے ایک لازوال رشتے میں بندھ جايئنکے
    آپکی دعايئہ کلمات کا شکريئہ
    جزاک اللہ خیر
    اس درجہ خلوص ومحبت لطف عنایت کے لیے میں آپکی سپاس گذار ھوں
    ایک پھر ممنون و متشکر ھوں خانم عالم آراء

  39. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 15, 2013 بوقت 2:34 pm

    نہ عروج دے نہ زوال دے
    میری زیست کو اعتدال دے
    جو میں کرسکو تیرا حق ادا
    وھی شعر و فکر کو خیال دے

  40. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 15, 2013 بوقت 2:58 pm

    180ھزار میٹر مربع پر بنا ھوا جنت البقع
    میرا خیال و دھیان پتہ نیہں کس وقت اس حاجز کو عبور کر گیا جو مجھہ جیسے لوگوں کو روکنے کے لیے بنائ گی تھی
    پختہ روش
    دور دور تک بس بے نام نشان پتھر اور کیہں کبوتر بیٹھے ھوۓ تھے
    نہ کوئ کتبہ
    نہ کوئ تاریخ
    نہ یہ درج کہ یہاں کونسی جلیل القدر ھستی مدفون ھے
    جنت البقع کو دوختوں والا باغ بھی کہتے ھیں
    مجھے ایک درخت بھی نظر نیہں آیا
    میں بہت احترام سے
    ایسے چل رھی تھی جیسے زمین پر مدفون کسی ستارے پر میرا قدم نہ پڑ جاۓ
    میرا دل خوف ومحبت سے سمہا ھوا تھا
    میرے لیےشہزادی خاتون جنت حضرت بی بی فاطمعہ زھرآ کا نام کائنات کا مثالی نام ھے
    مجھے علم تھا کہ اسی احاطے میں انکی قبر مبارک بھی موجود ھے
    3 شوال سے قبل قبروں کی باآسانی نشاندھی کی جاسکتی تھی
    مگر جو کچھہ 3 شوال کو ھوا وہ کسی اھل دل سے مخفی نیہں ھے
    مکہ اور مدینہ کے تاریخی قبرستانوں سے ساری قبور مبارکہ کی نشانی مٹا دی گی
    میں نے تصور میں بی بی ام البنین کی قبر کو تلاش کیا اور انکے بہادر پسران کا پرسہ دیا
    میں نے انکی قبر پرنور کے پائنتی بپیھٹکر بہت آنسو بھی بہاۓ
    میری آہ و فغاں پر کون پابندی لگا سکتا تھا
    میں تادیر ان بلند مقام ھستیوں کی قبور مبارکہ کو نظر بھر کر دیکھتی اور انکو اپنی نظروں میں بساۓ
    تا غروب شمس وھاں کی خاک کی خاک کو سرمہ چشم بنا کر دورد وسلام پڑھتی رھی یہاں تک کہ میرا خیال مجھے وھاں سے واپس لے آیا

  41. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 20, 2013 بوقت 9:28 am

    کھلا ھو جیسے بہشت بریں کا باب کوئ
    سجا گیا ھو ھتیلی پہ آفتاب کوئ

    میں ھنوز جنت البقیع کے باھر کھڑی تھی
    میرے ھاتھوں پر مٹی تھی
    مدینے المنورہ کی خاک
    جنت البقیع کی تراب
    میرے لیے وہ مٹی کسی گوھر نایاب سے زیادہ بیش بہا تھی
    اس سرزمین پر کائنات کے
    سب سے افضل ترین نوری بشر کے
    نعلین شریف کے نشا ن تھے
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارکہ کے نقش مقدسہ موجود تھے
    مجھے باربار رونا آجاتا تھا
    شائد اس لیے مدینہ المنورہ میں اس مقام پر میرے پاک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی غم زدہ ھوۓ تھے
    اے ھمارے رب
    عرش عظیم کے مالک و مختار
    ھماری طرف ھمہ وقت متوجہ رھنے والے رب
    اے خوب حکمت والے رب
    اے توبہ قبول کرنے والے رب
    صبر کرنے والوں کو عزيز رکھنے والے رب
    ھماری دعاوں کو مناجات کو قبول کرنے والے
    رب
    زبردست حکمت رکھنے والے معبود
    اے مشکلات و مصائب سے نجات دلانے والے رحیم و کریم رب عرش عظیم

    ھمارے دلوں میں سرور کائنات کی محبت وعقیدت کے جذبات کو ھمشیہ توانا اور مضبوط رکھنا
    اطاعت الہی سر تسلیم خم کرنے اور اتباع رسول پر چلنے کی توفیق میں آضافہ فرماء آمین ثم آمین
    اے ھمارے رب ھم گناہ گاروں کو اطاعت و عبادت کی طرف مائل کردے آمین ثم آمین
    اے ھمارے رب ھم پر توبہ کے دورازے کھول دے تاکہ
    ھمارے قلوب توبہ و ندامت کی مائل ھوجايئں آمین
    میں نے ایک بار پھر خاک مدینہ کو کسی قیمتی مدن کی طرح اپنی مٹھی میں چھپا لیا
    یہی وہ مقام ھے جو شہزادی کونین کی گذر گاہ تھی
    یہاں کیسی کیسی سوگوار ساعتوں کی کسک دل کو مائل بکا ء کرتی ھے
    یہاں رونا محبت و سنت کی پہچان ھے
    یہاں آنسو بہانا محبت و عقیدت کی نشانی ھے
    شہزادی کائنات نے اس مقام پر گریئہ اور بکا ء کیا تھا
    اس مقام پر اھل بیت نے اپنے پیاروں کا پرسہ لیا تھا
    یہی مقام ھے جہاں ھمارے امام دوئم کا جنازہ تیروں سے چھلنی کیا گیا تھا
    وا مصیبتہ
    انا اللہ مع الصابرین
    مدینہ المنورہ اور
    مسجد النبوی میں گذری ھرساعت ھر لمحہ ھر گھڑی کی کیفیت مختلف ھوتی ھے
    اذان سن کر عجیب سی حالت ھوجاتی تھی دل تشکر کے جذبات سے لبریز
    موذن کی بلند آھنگی اور خوبصورت لحن و لہجہ جیسے آذان بلال حبشی کی صوت اذان ھو
    وہ بلال جبشی جو امیہ بن خلف کے زرخرید غلام تھے جب موذن رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیغمبر اسلام کی دعوت پر اسلام قبول کرلیا تو ان پر مالک کی سختیاں بہت بڑھ گیئں
    درپہر میں گرم پھتروں پر لٹا دیتا تھا یہاں تک کہ حضرت بلال حبشی کا سارا جسم دھوپ کی تمازت وتپش سے جلنے لگتا تھا مگر انکا صبر دیکھیے کہ بہت ھی خاموشی سے ھر ظلم وستم سہتے رھے
    اس قدر ظلم و ستم سہہنے کا انعام یہ ملا کہ حضرت بلال کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سید الموذن کہتے تھے
    الہی یہ تیرے پر اسرار بندے
    مسجد النبوی کا موذن شائد حضرت بلال حبشی سے محبت کرنے والے قبیلے سے تعلق رکھتا تھا
    اسکی آواز کا سوز اور لحن سنکر ماشا اللہ سبحان اللہ کہہتے ھوۓ لوگ مسجد کی طرف رواں دواں تھے
    مدینہ المنورہ اور مکہ ميں

    اذان کی آواز سنکر لوگ کاروبار زندگی معطل کردیتے ھیں
    دوکانوں کو کسی نگران کے بغیر چھوڑدیا جاتا ھے
    ھر طرح کے نفع و نقصان سے بے نیاز
    نہ چوری کا خوف نہ لوٹ مار کا ڈر
    اللہ اکبر
    اللہ اکبر
    اللہ سب سےبڑا ھے
    اللہ سب سے بڑا ھے
    میں گواھی دیتا ھوں
    کہ کوئ معبود نیہں سواۓ اللہ کے
    لوگ دور دور سے اذان کی آواز سنتے ھی بے تابہ مسجد کی طرف رخ کرتے
    نماز میں عجلت و پہلی فرصت میں نماز پڑھنے کا بے حساب اجر ھے
    بے حد ثواب ھے
    بے انتہا انعام واکرام ھے
    اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
    میں اپنے سفری رفیقوں کے ھمراہ صحن مسجد کی کشادگی اور وسعت پر رشک کرتی جگہ جگہ درود وسلام پڑھتی
    نماز کے لیے جگہ منتخب رکے وضو کرنے چلی گی
    مجھے باربار وضو کرنا اچھا لگتا
    ایک تو وضو کے لیے آب زم زم سے وضو کی سہولت موجود تھی
    دوسرے وضو کرتے ھی چشتی و توانائ آجاتی
    جہاں تھک جاتے وھیں زمین پر بیھٹہ جاتے ھمارا ارادہ یہی تھا کہ عشاء کی نماز کے بعد کھانا کھا کر ھی ھوٹل جايئنگے دوسرے دن ھمکو مدینے المنورہ کے اطراف میں موجود زیارات پر جانا تھا اور انکو نوٹس والی کاپی میں تفصیل سے لکھنا بھی تھا

  42. عالم آرا نے کہا ہے:
    April 21, 2013 بوقت 4:00 pm

    اسلام علیکم ساتھیو
    بہن شاھین رضوی دل آپ کے اس مبارک سفر کے ساتھ ساتھ روشنی اور تقویت حاصل کر رہا ہے ۔اللہ آپ کی تحریر کو اور روانی عطا کرے امین

    نہ عروج دے نہ زوال دے
    میری زیست کو اعتدال دے
    جو میں کرسکو تیرا حق ادا
    وھی شعر و فکر کو خیال دے
    بہت خوبصورت اشعار ہیں اور ہمارے دل کی آواز بھی ۔
    خوش رہئے ۔
    عالم آرا

  43. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 22, 2013 بوقت 11:30 am

    رات کے کھانے کے بعد ھم لوگ ھوٹل چلے گیے
    تھوڑی دیر ھی ھوٹل میں رکے ھونگے کہ میری ایک سفری رفیقہ مجھے جاگتا دیکھہ کر بستر پر بیھٹہ گیئں
    تھوڑی دیر آرام کرلیں

    آرام کا کیا ھے وہ تو گھڑی بھر کے آرام کے بعد بھی مل جاتا ھے مگر یہاں آکر اس وقت سونا اچھا نیہں لگ رھا ھے
    میں نے آھستہ سے کہا اللہ جانے پھر کب آنا نصیب ھو
    میرا دل چاھتا ھے جتنی دیر مدینے میں ھوں گنبد خضراء پیش نظر رھے

    آگے آرام ھی آرام ھے
    خاتون جلدی سے
    بولیں
    چلیے آپکے ساتھہ تو ویسے بھی مجھے بہت اچھا لگتا ھے ھر جگہ باآسانی جانا نصیب ھوجاتا ھے

    اگر آپ مسجد البنی جانا چاھتی ھیں تو میں بھی
    آپکے ساتھہ چلونگی
    مجھے ریاض الجنتہ کی زیارت بھی آپکی وجہ ھی مسیر آئ ھے اور وھاں نماز پڑھنے کی سعادت تو صرف اور صرف آپکی وجہ سے ھی ممکن ھوئ تھی
    یہ تو آپکے نصیب میں تھا ناں
    میں نے انکو تیاری کا کہہ کرکے جلدی سے عباء پہنی مسجد النبوی کی طرف چلنے لگی
    میں انکی محبت وشفقت کا جواب گرم جوشی سے دیا اور ان سے بہت نرمی سے کہا
    آپکی وجہ سے مجھے بھی یہ اعزآز ملا ھے
    آپ سب اللہ اور اس کے محبوب ترین پاک بنی کے زائرین ھیں
    کاش میں اس قابل ھوتی کہ سبکی خدمت کرتی
    ایک ایک خاتون کا ھاتھہ پکڑ کرکے اسکو ریاض الجنتہ لیکر جاتی ھجوم سے بچاتی نماز کے لیے جگہ نباتی اور اسکے اردگرد دیوار بن جاتی جب تک وہ نماز ادا کرتی
    میں پہرہ داری کرتی اس کو ھجوم سے محفوظ رکھتی اور اسکی دعا لیتی
    کہ مکہ و مدینہ واقع عالم اسلام کی ان دو بڑی مساجد میں عبادات ودعا کا اجر وثواب بہت زیادہ ھے
    یہاں فرش پر بھٹنے والوں کا مرتبہ اللہ کے نزدیک عرش کی نورانی مخلوق جیسا ھوجاتا ھے
    کیونکہ یہاں بہشتی مخلوق آتی جاتی رھتی ھے
    بہشت کے اٹھہ دروازے ھیں ایک دروازہ منبر رسول انام کے پاس بھی ھے شا‏ئد اسی دروازے سے جنت کی ھوا آتی ھے جو مشام جاں میں بس جاتی ھے جب جب گنبد خضراء کا تصور کریں بادصبا آپکے پاس سے گذرتی ھے اور آپکو بہشتی احساس سے روشناس کرتی ھے
    ان معطر ومعنبر ھواوں میں فضاوں میں سانس لینا کتنی بڑی سعادت ھے

    یہاں تک آنا ھی کتنی بڑي حوش نصیبی ھے
    یہاں آکر اپنے مقدر پر رشک آتا ھے

    مدینہ المنورہ بڑی بابرکت جگہ ھے
    یہاں حضور پاک کے جسد مبارکہ کی بہشتی مہک پھیلی ھوئ ھے

    مولاي صلي وسلم دائما ابدا
    على حبيبك خير الخلق كلهم

    محمد سيد الكونين والثقلين
    والفريقين من عرب ومن عجم

    یہاں نبی پاک نے اپنے ھاتھوں سے کجھور کے درخت لگاۓ تھے
    اس لیے یہاں کے پھلوں میں برکت و بہت ھی ذائقہ ھے
    مدینہ المنورہ میں جنت کے پہاڑ ھیں جبل الاحد بھی جنت کا ایک پہاڑ ھے
    مسجد قبا بھی ے
    مدائن صالح بھی ھیں
    مسجد سلمان فارسی بھی مدینے میں ھی ھے
    یہاں محلہ بنی ھاشم ھے
    یہاں رسول انام کا بیت المقدسہ ھے
    یہاں قبر نبی کریم ھے
    جنت البقیع میں ا‏ئمہ اکرام مدفون ھیں
    یہاں زائر اجر و ثواب کی خاطر آتے ھیں
    خوشنودی رب کی وجہ سے آتے ھیں شافع روز مشحر کی رضا کے لیے آتے ھیں
    مدینہ امن وامان کا مرکز ھے
    مدینہ گوشہ عافیت و سکون ھے
    مدینہ المنورہ بحشش و شفاعت کا محور ھے
    اللہ پاک نے اھل مدینہ کو ھر بیماری اور وباء سے اپنے حفظ وامان میں رکھا ھوا
    یہ شہر سرور کائنات ھے
    یہ خاتم النبین کا مسکن و مدفن ھے

    یہاں کوئ زرہ بھر نیکی کرے تو اسکا اجر عظیم ھے
    یہاں رسول ھاشمی و مطلبی کے لیل و نہار گذرے
    مدینہ المنورہ شہر الایمان ھے
    مدینہ المنورہ دارالابرار بھی ھے
    مرکز انوار و تجلیات بھی ھے
    مدینہ المنورہ دارالخیر بھی ھے
    شہر النبی عقیدتوں کا مرکز ھے
    شہر سرور کائنات افضل مکان فی ارض اللہ

  44. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 24, 2013 بوقت 1:45 pm

    مجھے ٹھیک سے اندازہ نیہں کہ وہ رات کا کونسا پہر تھا اور ھم کتنی دیر گم سم گنبد خضراء کے سامنے بیھٹے رھے تھے اگر قریب جانے کی کوشش کرتے تو ایک دم کوئ نہ کوئ شرطہ آجاتا کہ یہاں کھڑا ھونا حرام ھے فرش پر بھی تادیر بیھٹنے کی اجازت نیہں ھے 11 یا 12 بجے کے بعد تو باقاعدگی سے صحن النبوی میں بیھٹنے والوں کو اٹھانے کے لیے مسلسل گشت ھوتا رھتا ھے
    میں اور مریم وھیں کافی دیر سے گنبد خضراء کو نظرو فکر ودل ودماغ کا مرکز بناۓ وھیں موجود تھے
    ناگاہ میری نظر گنبد خضراء کے اس سبز نمایاں حصے پر پڑی
    اور میں نے مریم کی توجہ اس طرف مبذول کرائ اور ھمارے قریب بیٹھی ایک عربی فیملی نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ کسی وقت یہ روشندان ھوگا جس کو بند کردیا گیا ھوگا ‘
    مریم نے کیہں پڑھا تھا کہ ———
    ایک مرتبہ مدینہ میں کسی انسان نے گنبد خضرا کو معاذ الله شہید کرنے کا ارادہ کیا اور وہ اس مقام پر اس بد ارادے سے پہنچا مگر ایک تیز بجلی کی کوند نے اس انسان کو موت کے گھاٹ اتر دیا اور جب اسکی لاش وہاں سے ہٹائی جانے لگی تو ایسا نہ ہوسکا – پھر ایک بزرگ شخص کے خواب میں یہ آیا کہ اس انسان کی اس ہی مقام پر قبر بنا دی جایے تا کہ یہ سب کے لیے عبرت کو پاعت بن جاتے اور آیندہ کوئی اسی جرات دوبارہ نہ کر سکے – اسکے بعد اس انسان کی وہیں قبر بنا دی گیئ اور اس پر سبز رنگ کر دیا گیا ھے -(و الله عالم
    با الصواب )
    مگر میرادل یہ بات ماننے کو تیار نہ تھا
    ضرور اس میں کوئ خاص پیغام یا بہت خاص بات ھے جو یہ ابھرا ھوا حصہ ھے اسکو اتنی ھائ لائٹ ملتی ھے اور سھبی اس بات پر غور کرتے نظر آتے ھیں

    کوئ کہتا ھے ہ کہ رسول الله صلی الللہ علیہ وسلم کےوصال مبارک کے بعد ایک مرتبہ جب مدینہ میں قحط پڑا تو صحابہ اکرام اماں بی بی عائشہ کی خدمات میں حاضر ہوے اور مدینہ کی خشک سالی سے لوگوں کی پریشانی کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا – ” رسول الله صلی الللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک اور آسمان کے درمیان جو روضۂ اقدس کی چھت حائل ہے اسمیں ایک سوراخ بنادو – ” نوگوں نے اسوقت کی چھت جو کھجور کی ٹہنیوں سے بنی تھی اسمیں ایک روشن دان سا بنادیا -اور پھر مدینہ میں خوب بارش ہوئی – اور آج کے گنبد خضرا پر جو یہ ابھار ہے یہ اسی روشندان کی نشان دیہی کرتا ہے -(و الله عالم با الصواب )-

    -
    گنبد خضرا کی تعمیر تو ١٢٣٣ ہجری میں ہوئی – ظاہر ہے یہ صحابہ کے دور کے بہت بعد کی بات ہے – لیکن اس سبز گنبد سے پہلے تین اورگنبد روضہ مبارک پر بنے جو کبھی بھی شہید نیہں کیۓ گئے بلکہ ایک کے اوپر دوسرا گنبد بنتا گیا – سب سے پہلا گنبد ٦٧٨ ہجری میں تعمیر ہوا جسے ” قبہ الرزاق ” کہا جاتا تھا – اس کے بعد ایک نیلا گنبد اس پر تعمیر ہوا پھر تیسرا ایک سفید گنبد تعمیر ہوا اور اسکے بعد موجودہ سبزگنبد تعمیر ہوا-

  45. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 25, 2013 بوقت 7:28 am

    کرہ ارض پر موجود ھر مسلمان کی طرح مجھے بھی اللہ سے
    اس کے محبوب بنی سے
    قرآن سے
    اسلام سے
    اھل بیت سے
    امہات مومنین و مومنات سے
    سے بہت پیار ھے
    مجھے بھی مکہ و مدینہ سے بہت عقیدت ھے
    مجھے بھی گنبد خضراء سے الفت وانسیت ھے
    میں دینا کے بے مثال شہر مدینہ المنورہ
    شہر رسول میں
    دار الھجرہ میں
    شہر مبارکہ
    شہر بہاراں
    شہر منورہ میں
    شہر فروزاں میں
    شہر محروسہ میں
    بلد رسول انام
    جو تسکین و راحت جاں بھی ھے
    جو گوشہ سکون وعافیت بھی ھے
    جو بخشش وشفاعت کا محور ومرکز بھی ھے
    وہ شہر جو خوشبوۓ محبوب کردگار سے مشکبار ھے
    شہر مدینہ کے بام ودر معطر ومعنبر ھیں
    سہر النبی جس میں روشنی اور نور ھر مقام ومکان سے ھویدا ھے
    رات کے اس پہر جیسے عرش سے چاند ستارے کہکشاں صحن مدینہ میں جلوہ فگن تھے
    اتنی جگمگاھٹ
    اتنی چمک کہ آنکھوں کو تاب نظارہ نہ تھا
    میں دورد وسلام وتحیات کے تحائف لائ تھی
    میں اپنے عالمی آخبار کے دوستوں کے نام سے
    وہ تحائف شافع روزمحشر کے دربار میں پہنچار ھی تھی
    میں نے اپنی اچھی بہن
    عالم آراء کی نعت بھی وھیں بیھٹکر قرات کی تھی
    مجھے دربار النبی میں حاضری کے وقت بہت رونا آیا
    اور میرے جیسے بہت سارے دیوانے ایسے تھے
    جن کا نطق کلام کرنے
    کچھہ کہنے سے قاصر تھا
    مگر دل تھا کہ اس خوش بختی پر نازاں وفرحاں
    اور آنکھیوں سے اشکوں کے دریا رواں دواں تھے
    اشکوں سے بھری آنکھوں
    کے سامنے نور اور روشنی سے جگمگاتا روضہ مبارک تھا
    مگر میرا تصور مجھے ایسے زمان و مکان مین لے کر جارھا تھا
    حہاں طائر خیال کے پر جلتے ھیں
    تخیل کے صحن
    میں بہت سارے جگنو
    ستاروں کی طرح جگمگانے لگے تھے
    اپنے اولین دور میں مسجد النبوی کی دیوار دودھ اور مٹی سے نبائ گی تھی
    اس کی چھت کجھور کی چھال وڈھال سے بنائ گی تھی
    کھجور کے ستون
    بہت سادگی سے مسجد کی تعمیر کی گی تھی

    آج یہ مسجد دینا کی عظیم اور خوبصورت و بے مثال مساجد میں دوسرے نمبر پر ھے
    اس کی دن و رات صفائ وپاکیزگی کے لیے
    3000 ھزار اسٹاف پر مستمل عملہ ھے جو دن و رات اسکی صفائ و ستھرائ پر مامور ھے
    مسجد البنوی کسی بیش بہا گوھر کی طرح ھے
    جس کی قدر و منزلیت میں ھرگھڑی اضافہ ھورھا ھے
    مسجد النبوی کے قلب میں عمارت کا سب سے اھم ترین حصہ روضہ مبارک ھے

    یہاں نبض حیات رک جاتی ھے

    ھجرت مدینہ کے فوار بعد اس مسجد کی تعمیر کا حکم ملا تھا

  46. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 29, 2013 بوقت 8:45 am

    لاکھوں دودر و سلام تحیات آپ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ پر
    و الصلاة و السلام على سيدنا محمد و آله الطيبين الطاهرين

    اللھم صل علٰی محمد و علٰی آل محمد
    اللھم صل علٰی محمد و علٰی آل محمد
    اللھم صل علٰی محمد و علٰی آل محمد

    یہ سرزمین ھی معجز نما ھے
    یہاں اللہ کے سب سے محبوب و برگزیدہ نبی کا مرقد و مدفن ومبارکہ ھے
    آپ ساری دینا کے لیے رحمت
    آپ ساری دینا کے لیے برکت
    آپ ساری دینا کے لیے شفاعت
    آپ سراپا سعادت
    آپ کا وجود پاک راحت و برکت
    آپ کا نام ھی باعث نجات
    یا سیدی
    یا رسول اللہ
    اے خالق و مالک کے محبوب
    مقام محمود پر فائز
    یا سید البشر
    آپ ساری کائنات میں بعد از خدا
    سب سے برتر و افضل
    آپ کا مقام سب سے اعلی وارفع
    آپ ساری دنیاوی تاریخ کے سب سے پسندیدہ
    سب سے بے مثال
    سب سے کامل ترین
    سب سے بہترین
    سب سے بلند ترین
    سب سے کامل ترین
    ساری انسانیت کے لیے رحمت العالمین
    آپ سراج المنیر
    آپ الروف
    آپ صادق و کامل
    آپ ھادی الوری
    آپ بوستان جناں
    آپ صاحب معجزات
    آپ صاحب کرامات
    آپ صاحب کتاب
    آپ صاحب شریعت
    آپ ابراھیم علیہ اسلام کی دعا
    آپ عیسی علیہ اسلام کی بشارت
    آپ اپنی والدہ کا خواب
    آپ کے ظہور کے بعد آپ کا خاندان
    آپ کا قبیلہ
    آپ کا شہر
    آپکا وطن سب سرسبز اور معاشی طور پر خوش حال ھوگۓ
    آپ کی شخصیت دنیا کی سب سےلائق و قابل تعظیم صد احترام و محترم و منفرد و بے مثال
    آپ کی سچائ و دیانت داری صدق و امانت داری کے دشمن اسلام بھی معترف
    یہ میرے نوٹس ھیں
    کیہں میں نے گوگل سرچ سے بھی مدد لی ھے
    یہ میرے صرف ایک سفر کے تاثرات نیہں ھیں بلکہ میں جتنی بار بھی سرزمین حجاز گی اپنے ساتھہ سفری قلم و کاپی کے ساتھہ ھی گی
    ابھی میں نے اپنی یاداشت سے ھی لکھا ھے
    ابھی تو پورا سفر باقی ھے
    میں اس تحریر کو لکھتے ھوۓ جیسے زندہ ھورھی ھوں
    مجھہ پر کسی وقت یہ سفر نامہ تحریر کرتے ھوۓ عجیب سی کیفیت طاری ھوجاتی ھے خصوصا اب جو کچھہ میں لکھنے جارھی ھوں اور
    جن واقعات کو لکھنے کے لیے یہ تہمید باندھ رھی ھوں

  47. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 29, 2013 بوقت 9:00 am

    أعوذ بالله ا من الشيطان الرجيم،
    بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين والصلاة والسلام على محمّد وآله الطيبين الطاهرين، اللهم صلّ على محمّد وآل محمّد
    ھم مسلمان اپنے عظیم و کامل ترین سرور کائنات کے بارے میں جو کجھہ لکھتے ھیں وہ جذیہ تو ھے حذیہ محبت وعقیدت ان سے ھمارا
    مذھبی
    جذباتی
    قلبی
    نطری
    فکری
    روحانی
    تعلق بھی ھم سے متقاضی ھے کہ انکی ثنا کرسکیں
    ھم کم علم اتنے
    ھم کم قلم اتنے
    ھم کم فکر اتنے
    ھم کم فہم اتنے
    کہ ھم اپنی ان برگزیدہ ھستیوں کی تعریف و توصیف اس طرح نیہں کرپاتے جیسے کہ
    اللہ پاک
    اور اللہ سبحان وتعالی کا
    سب سے اشرف ترین
    نبی پاک حق رکھتے ھیں
    مگر دیکیھے کہ ھمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ میں ایسی پاکیزگی اور تقدس اور کشش تھی
    معجزات تھے کہ غیر مسلم بھی انکی تعریف کرتے ھوۓ
    انکو کائنات کا اشرف ترین بشر و نبی تسلیم کرتے ھیں
    چاھے وہ عیسائ ھوں
    چاھے وہ یہودی ھوں
    چاھے وہ کفار ھوں
    چاھے وہ مشرکین ھوں
    سب میرے پاک نبی کو سب سے افضل و سب سے اعلی ھی تسلیم کرتے ھیں

    مائیکل ہارٹ
    نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب
    The Hundred
    میں دنیا کے ان سو عظیم ترین آدمیوں کا ذکر کیا ہے
    جنہوں نے دنیا کی تشکیل میں بڑا کردار ادا کیا۔
    اس نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سب سے پہلے شمار پر رکھا ہے
    ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ھی صرف نسل انسانی میں سیّدالبشرکہنے کے لائق ہیں
    تھامس کارلائیل نے 1840 میں کہا کہ ”میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتاہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ ان کی طبیعت میں نام ونمود اور ریا کا شائبہ تک نہ تھا ۔
    ہم انہی صفات کے بدلے میں آپ کی خدمت میں ہدیہً اخلاص پیش کرتے ہیں
    “۔ فرانس کا شہنشاہ نپولین بوناپارٹ کہتاہے
    ” محمد دراصل سروراعظم تھے
    ۔ جارج برناڈشا لکھتا ہے
    موجودہ انسانی مصائب سے نجات ملنے کی واحد صورت یہی ہے کہ محمد اس دنیا کے رہنما بنیں “۔
    گاندھی لکھتا ہے کہ ” بانی اسلام نے اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دی جس نے انسان کو سچائی کا راستہ دکھایا اور برابری کی تعلیم دی ۔ میں اسلام کا جتنا مطالعہ کرتاہوں اتنا مجھے یقین راسخ ہوجاتاہے کہ یہ مذہب تلوار سے نہیں پھیلا “
    ۔ جرمنی کا مشہور ادیب شاعر اور ڈرامہ نگار ”گوئٹے “ حضور کا مداح اور عاشق تھا ۔اپنی تخلیق ”دیوانِ مغربی“میں گوئٹے نے حضور اقدس کی بارگاہ میں جگہ جگہ عشق محمد کا اظہار کیا ہے اور ان کے قدموں میں عقیدت کے پھول نچھاور کئے ہیں
    ۔ فرانس کے محقق ڈی لمرٹائن نے اپنی کتاب ”تاریخِ ترکی“ میں انسانی عظمت کے لئے جو معیار قائم کیا اس ضمن میں فاضل تاریخ دان لکھتاہے ” اگر انسانی عظمت کو ناپنے کے لئے تین شرائط اہم ہیں جن میں (۱) ۔ مقصد کی بلندی ، (۲) ۔ وسائل کی کمی، (۳)۔حیرت انگیر نتائج ۔ تو اس معیار پر جدید تاریخ کی کو ن سی شخصیت محمد سے ہمسری کا دعویٰ کرسکتی ہے “
    ۔ فرانسیسی مصنف دی لمرتین لکھتاہے ” فلسفی ، مبلغ ، پیغمبر ، قانون سا ز ، سپاہ سالار، ذہنو ں کا فاتح ، دانائی کے عقائد برپا کرنے والا ، بت پرستی سے پاک معاشرہ تشکیل دینے والا ۔ بیسیوں ریاستوں کو ایک روحانی سلطنت میں متحد کرنے والا….وہ محمد ہیں ….جہاں تک انسانی عظمت کے معیار کا تعلق ہے ہم پوچھ سکتے ہیں کہ ان معیاروں پر پورا اُترنے والا محمد سے بھی کوئی برتر ہوسکتا ہے “۔؟ ڈاکٹر شیلے پیغمبر آخرالزماں کی ابدیت اور لاثانیت کا اقرار کرتے ہوئے لکھتے ہیں ” محمد گزشتہ اور موجودہ لوگوں میں سب سے اکمل اور افضل تھے اور آئندہ ان کا مثال پیدا ہونا محال اور قطعاً غیر ممکن ہے“۔ [
    ھم کتنے خوش نصیب ھیں
    کہ ھم کو خیر الامت
    امت محمدی کا لقب ملا ھے
    دینا میں یہ اعزآز مسلمانوں کو ھی ملا ھے
    کاش ھم سب اللہ اور اس کے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خوشنودی اور رضا حاصل کرسکیں
    کاش ھم سے ھمارا رب راضی و خوش رھے
    کاش ھم سرکار دوعالم کی رضا حاصل کرسکیں
    کاش ھم ایک اچھے سچے مسلمان بن سکیں
    کاش ھم ایک اچھے انسان بن سکیں
    کاش ھم ایمان دار بن سکیں
    کاش ھم درگذر کرنے والے بن سکیں
    کاش ھم اپنے عمل و کردار سے اسلام والے بن سکیں

    میں مسجد النبوی کے قلب میں واقع کائنات کے بہت ارفع و اعلی مقام پر باآدب کھڑی تھی
    ھماری جانیں آپ پر قربان اللہ کے پیارے نبی
    آپ نے ھم کو انسان بنایا
    آپ نے ھم کو اھل ایمان بنایا
    آپ نے ھم کو اندھیروں سے نکالا
    آپ نے روشنی کا راستہ دکھایا

    آپ کا نام دل کو تقویت دیتا ھے
    آپ پر کائنات کا زرہ ورہ دورد و سلام پڑھتا ھے
    آپ حیرالبشر ھیں
    آپ کشتی نجات ھیں
    آپ سفینہ الخیر ھیں

    میری سفری کاپی میںقبر مبارکہ کی ایک تصویر بھی ھے
    مگر میری ضدی اور ریسرچ پر مائل طبعیت اس بات کو تسلیم نیہں کرتی کہ یہ تصاویر اس حجرہ مبارکہ کی ھیں جہاں رسول پاک کی قبر مبارکہ موجود ھے
    مجھے علم ھے اور میں نے پڑھا ھے کہ کافی زمانہ پہلے ھی قبر رسول کے اردگرد سیہ پلائ ھوئ چاردیواری قائم کردی گی ھے اور یہ واقعہ کیمرہ کی ایجاد سے پہلے کی بات ھے
    دشمنان دین و اسلام نے
    دشنمان خدا اور رسول نے
    یہود وکفار ومشرکین نے
    جسد مبارکہ کو سرقہ کرنے کی 4 بار ناپاک کوشش کی ھیں

  48. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 29, 2013 بوقت 12:46 pm

    واحسن منک لم ترقط عینی ِِ
    واجمل منک لم تلد النساءِِ
    خلقت مبرءاََ من کل عیب
    کاَنک قد خلقت کما تشاءِِ

    آپ ﷺ سے حسین تر کوئی دیکھا نہیں گیا
    آپ ﷺ سا جمیل بھی کسی ماں نے نہیں جنا
    ہر عیب سے بری آپ ﷺ کو پیدا کیا گیا
    گویا آپ ﷺ کو ویسا ہی تخلیق کیا گیا جیسا آپﷺ نے چاہا

  49. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 29, 2013 بوقت 12:46 pm

    شیخ سعدی شیرازی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا

    بلغ العلےٰ بکمالہٖ
    کشفَ الدُجیٰ بجمالہٖ
    حسُنت جمیعُ خِصالہٖ
    صلو علیہ و آلہٖ

  50. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 29, 2013 بوقت 12:47 pm

    پہنچے بلندیوں پہ ، وہ ﷺ اپنے کمال سے
    چھٹ گئے اندھیرے آپ ﷺ کے حسن و جمال سے
    آپ کی سبھی عادات مبارکہ اور سنتیں بہت پیاری ہیں
    آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کی آل پر سلام ہو

  51. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 29, 2013 بوقت 12:48 pm

    یا صاحب الجمال و یا سید البشر
    من وجہک المنیر لقد نور القمر
    لا یمکن الثناء کما کان حقہ
    بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

    ترجمہ

    اے صاحب الجما لﷺ اور اے انسانوں کے سردار ﷺ
    آپ ﷺ کے رخِ انور سے چاند چمک اٹھا
    آپ ﷺ کی ثنا کا حق ادا کرنا ممکن ہی نہیں
    قصہ مختصر یہ کہ خدا کے بعد آپ ﷺ ہی بزرگ ہیں

  52. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 29, 2013 بوقت 12:48 pm

    وہ دانائے سُبل،ختم الرُّسل مولائے کل جس نے
    غبار راہ کو بخشا فروغِ وادئ سینا
    نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
    وہی قرآن’ وہی فرقاں’ وہی یٰسیں’ وہی طٰہٰ

  53. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    April 29, 2013 بوقت 6:06 pm

    کیا خیال ہے شاہین مزاج رضوی کہ اسے اردو ادب کا سفر حجاز کا پہلا منظوم یعنی آزاد نظم کا سفر نامہ بنا لیا جائے؟ شرط فقط نیت ہے اسباب وہ خود پیدا کریں گے.انشااللہ

  54. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 30, 2013 بوقت 7:32 am

    محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب سلامت باشد اغائ
    میں سب سے پہلے اپنے مالک و خالق
    پاک پروردگار کا شکر ادا کرتی ھوں
    اپنے معبود حقیقی کا شکر ادا کرتی ھوں
    کائنات کے پیدا کرنے والے بنانے والے رب کردگار کا شکر ادا کرتی ھوں

    سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم

    الحمد لله على نعمة الاسلام والعقل بصیرت و سماعت

    ربنا لك الحمد والشكر
    الحمد لله على کل شئ

    الحمد والشكر لك يارب ,
    تعالو كلنا نحمد ربنا الحمد والشكر لك يارب
    , تعالو كلنا نحمد ربنا تعالو كلنا نحمد الف شكر لك يارب بسم الله الرحمن
    اللہ پاک کا شکر ھے
    ھماری زبان قاصر ھے
    ھمارے پاس لفظ نیہں ھیں
    کہ اپنے پاک پروردگار کی نعمتوں کا شکرادا کرسکیں
    ھم اپنے خالق کا دن میں ھزار وں بار بھی شکرادا کریں تو کم ھے
    یا اللہ
    تیرا احسان ھے
    تیرا شکر ھے
    تیرا شکر ھے
    تیرا شکر ھے
    ھر نعمت پر
    ھر آسانی پر
    ھر آزمائش پر
    ھر آسائش پر
    ھمکو زندگی دی
    دین اسلام ھماری پہچان
    قران ھمارا رھبر
    اور اس نعمت پر کیسے شکرکروں کہ
    اللہ اور اسکے رسول کی محبت ھمارے لہو میں برق کی طرح دوڑتی ھے

    اللہ پاک ھم کو صیح معنوں میں شکرگذار وعبادت گذار بندوں میں شامل کردے آمین ثم آمین

  55. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 30, 2013 بوقت 7:50 am

    اللهم لك الحمد ولك الشكر نحمدك يارب ياكريم ياعظيم يامنان
    اللهم لك الحمد ولك الشكر نحمدك يارب ذوالجلال و اکرام
    اللهم لك الحمد ولك الشكر نحمدك يارب الرحمن و الرحیم
    اللهم لك الحمد ولك الشكر نحمدك يارب ياكريم ياعظيم
    اللهم لك الحمد ولك الشكر نحمدك يارب الواحد الصمد القادر المقتدر
    اللهم لك الحمد ولك الشكر نحمدك يارب الملك القدوس
    اللهم لك الحمد ولك الشكر نحمدك يارب للطيف الخبير الحليم العظيم الغفور
    اللهم لك الحمد ولك الشكر نحمدك يارب المتكبر الخالق البارىء المصور الغفار
    اللهم لك الحمد ولك الشكر نحمدك يارب الشكور العلي الكبير الحفيظ
    اللهم لك الحمد ولك الشكر نحمدك يارب المقدم المؤخر الاول الاخر الظاهرالمقسط الجامع الغني المغني المعطي
    المانع الضار النافع النور الهادي

  56. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 30, 2013 بوقت 7:52 am

    لغت میں شکرکے معنی، “ذھن میں نعمت کے تصور کرنے اور گفتار و کردار میں اس کے اظھا کرنے کے ھیں۔” خدا کی نعمتوں کا شکرواجب ھونے کے سلسلے میں چند نکات کی جانب توجھ کرنا ضروری ھے۔

    ۱۔ منعم کے لئے شکر کا واجب ھونا ایک فطری اور باطنی امر ھے۔ یعنی ھر انسان اپنی عقل اور فطرت کی طرف رجوع کرکے یھ سمجھه لیتا ھے کھ جس نے اس کی کوئی خدمت کی ھو یا کوئی نعمت عطا کی ھو، اس کے لے اس کا شکریھ ادا کرنا چاھئے۔ ورنھ عقل اس کو سزا کا مستحق قرار دیتی ھے۔ اسی تصور کو مد نظر رکھه کر، جب انسان یھ سمجھتا ھے کھ ایک مطلق اور لا ثانی طاقت نے بے شمار مادی اور معنوی نعمتیں اس سے عطا کی ھیں، تو وه ضروری جانتا ھے کھ اس لا یزال قدرت کو پھچان کر اس کا شکریھ ادا کرے۔ پس نعمت کا شکر بجالانا اس سے پھلے کھ شرعی واجب ھو ایک عقلی واجب ھے ۔

    ۲۔ اگرچھ خداوند متعال بندوں کی شکر گزاری سے بے نیاز ھے، لیکن بندوں کی مصلحت اور منفعت کیلئے نیز مادی ، معنوی ، دنیاوی و اخروی نتائج کے لئے جو انسان کی شان اور مقام کے ھمراه ھوتے ھیں ، انھیں شکر گزاری کی دعوت دی ھے۔ قرآن کریم میں شکر گزاروں کی نعمتوں میں اضافھ کرنے کی خوشخبری کے بعد کفران نعمت کو عذاب الھی کا سبب جانا ھے۔

    ۳۔ شکر گزاری انسان کے لئے عظیم برکاتِ الھی ،اور تمام سعادتوں کی جڑھے، جو دن بھ دن انسان کو خدا سے نزدیک کرتا هے اور بندوں کے اپنے خدا کے ساتھه عشق و محبت کی بنیادوں کو مضبوط کرتا ھے۔ اس لحاظ سے خدا کے بے نیاز ھونے کے باوجود بھی شکر گزاری حکمت اور مصلحت کے تحت بندوں کے لئے ضروری اور واجب جانی گئ ھے۔

    ۴۔ بے شک کوئی بھی خدا کی نعمتوں کا شکر بجا نھیں لاسکتا ، اور انسان کا سب سے بڑا شکر، خدا کے سامنے اس کی نعمتوں پر شکر گزاری کے زریعه ناتوانی کا اظھار کرنا اور اپنے عذر و تقصیر کو خدا کےحضور میں لے جانا ھے۔
    تفصیلی جوابات

    لغت میں شکر “ذھن میں نعمت کا تصور کرنے اور قول اور عمل میں اس کے اظھار کرنے کو کھتے ھیں”[1] ۔ اس سوال کےجواب میں کھ نعمت کا شکر کیوں واجب ھے کچھه نکات کی جانب توجھ کرنا ضروری ھے ۔

    ۱۔ منعِم ( نعمت دینے والے) کا شکر بجا لانا ایک باطنی اور فطری چیز ھے۔ انسان اپنی عقل اور فطرت کی جانب رجوع کرکے اس حقیقت کو سمجھه لیتا ھے کھ جس نے بھی اسے کوئی نعمت عطا کی ھو یا کوئی خدمت انجام دی ھو ( اگر چھ وه خدمت اور نعمت چھوٹی ھی ھو ) بے خیال نھ رھے اور کسی بھی طرح اس کا شکریھ بجا لائے اور اس کی قدردانی کرے، ورنھ عقل کی جانب سے وه سزا کے قابل ھوگا اور عقلاء اس کی مذمت کریں گے ، اور اسے حیوانوں سےپست تر جانیں گے۔ کیونکھ بھت سے حیوانوں میں شکر گزاری کی خصلت واضح ھے اسی حکم عقل کے مطابق جب انسان توجھ کرتا ھے کھ ایک لاثانی قدرت نے وجود کے سرمایھ اور دیگر بڑی قیمتی اور بے شمار مادی اور معنوی نعمتیں اس کو عطا کی ھیں تو وه اپنے اوپر فرض جانتا ھے کھ اس ولی نعمت کے لئے بے خیال نھ رھے اور جھان تک اس کے لئے ممکن ھو اس کی نعمتوں کا شکریھ کرکے ، اس کی کرامت ، عظمت اور بزرگی کےمقابلے میں اپنا سر خم کرے اور اس کا شکر ادا کرے۔ اس طرح کی ذھنیت ھر انسان میں فطری طور پر موجود ھے جو ھر ایک پر اپنے مُنعِم کا پھچاننا واجب کرتا ھے، کیونکھ پھچان کے مرحلے کے بعد ھی قدردانی اور شکر گزاری ممکن ھوتی ھے ۔ [2]

    ۲۔ شکر گزاری کے فلسفھ سے آگاھی، ھمیں نعمات الھی پر شکر گزاری کے واجب ھونے کی ھدایت کرتی ھے:

    ممکن ھے کھ انسانوں کو بھی ان نعمتوں کے مقابلے میں جو وه دوسروں کو عطا کرتے ھیں شکر گزاری کی توقع رھتی ھوگی ، لیکن بے شک جو خدا ھر چیز سے بے نیاز ھے اگر پورا عالم اس کا انکار کرے تو اس کے کبریائی دامن میں ذره برابر فرق بھی نھیں آتا۔ اس کو بندوں کی شکر گزاری کی ضرورت ھی نھیں ھے۔ لیکن اپنی بےنیازی کے باوجود بھی بندوں کے اوپر، مصلحت اور حکمت کے مطابق شکر گزاری کو واجب قراردیا ھے اور قرآن کریم میں شکرگزاروں کو خوشخبری دی ھے اور نا شُکرے افراد کی طرف بے توجهی کرکے ارشاد کرتا ھے : “جو خدا کا شکر کرے گا وه اپنے ھی فائدے کے لئے شکر کرتا ھے اور جس نے ناشکری کی تو خدا تو بھر حال قابل حمد و ثنا ھے”۔ [3]

    نعمت کی نا شکری کو شدید کا باعث جانتا ھے اور فرماتا ھے ” اور اگر تم ناشکری کرو گے توبے شک میرا عذاب شدید ھے ” [4]

    اگرچھ خداوند متعال اس سے عظیم ھے کھ ناشُکرے افرادکو محروم کرے، لیکن ناشکری خود بخود بعض چیزوں سے محروم ھونے کا سبب بنتی ھے جیسے نعمت کا زائل ھونا ، خیر کا اٹھه جانا ،نیز احسان ، شجاعت ، ایثار کے ختم ھونے کا سبب نا شکری هی بنتی ھے اور منعم کی شکر گزاری کے نتائج بے شک عظیم ھیں اور ھر انسان کو اس کی شان اور منزلت کے مطابق عطا ھوتے ھیں۔

    پس شکر گزاری کے مسئلے پر اتنی تاکید کرنے کا فائده خود انسان کو ھوتا ھے اور اگر اس کے فلسفے کے بارے میں غور کریں تو اس کا واجب ھونا بھی واضح ھوتا ھے:

    اولا ) جو فرد یا قوم خدا کی نعمتوں کی قدر کرتی ھے چاھے شکر گزاری ان کے دل میں ھو یا زبان اور عمل میں، وه یھ ثابت کرتی ھے کھ وه نعمت حاصل کرنے کے قابل ھیں۔ خداوند متعال کا کام بھی ھمیشھ حکمت کے مطابق ھوتا ھے خدا بغیر کسی وجھ کے نھ کسی سے نعمت لیتا ھے اور نھ کسی کو نعمت عطا کرتا ھے۔ آیات اور روایات اسلامی میں شکر نعمت کے دائمی اور زیاده ھونے کا سبب جانا گیا ھے اور حدیث میں حضرت امیر المؤمنین علیھ السلام فرماتے ھیں: ” شکر کا فائده ، نعمت کا زیاده ھونا ھے” [5]

    ثانیا ) جب انسان کے اندر شکر گزاری کی روح پرورش پاتی ھے تو خالق کی شکر گزاری سے مخلوق کی شکر گزاری تک پھنچتی ھے اور مخلوق کی خدمت اور تکلیف کے مقابلے میں شکر گزاری اور شکریھ اداکرنے سے انسان کی استعداد کھلنے لگتی ھے اور اس کے جوھر وجود کی صلاحیتیں پروان چڑھتی ھیں۔ اور نتیجھ کے طورپر سماج اور صاحبان نعمت میں خیر اور نیک کام انجام دینے کے لئے ان کے ارادے دوگنے ھوتے ھیں۔

    ثالثا ) خالق کی شکر گزاری ، اس کی معرفت کے دروازوں کو کھولتی ھے اور خالق سے انسان کے رابطھ کو مضبوط بناتی ھے۔ شکر گزاری منعم اور نعمت کی معرفت کا سبب بنتی ھے اور یھ معرفت روز بھ روز خدا کے ساتھه بندوں کے رابطے کو بھی مضبوط کرتی ھے۔ اور اس کے عشق کی آگ کو دلوں میں بھڑکاتی ھے ۔

    ۳۔ بے شک کسی فرد میں پوری نعمتوں پر شکر کرنے کی طاقت نھیں ھے کیونکھ فکر،عقل،زبان،ھاتھه، پاؤں،وغیره کی شکر گزاری کی توفیق کھ جس کے ذریعے انسان دلی، زبانی ، اورعملی شکر بجالاتا ھے، یھ سب خدا کی نعمتوں کے ذریعے سے ھے اوریھ توفیق جب شکر گزاری کی راه میں قرار دی جائے تو وه ایک اور نعمت ھے جس پر ایک اور شکر کرنے کی ضرورت ھے اسی وجھ سے جیسا کھ اسلامی روایات میں اشاره ھوا ھے انسان کا سب سے بڑا شکر نعمتوں کے مقابلے میں خدا کا شکر بجالانے میں ناتوانی کا اظھار ھے اور حق تعالی کے حضور گناه اور تقصیر کا اظھار کرنا ھے۔ ورنھ خد کی خداوندی کا حق کوئی بھی ادا نھیں کرسکتا ھے۔ [6]

    نتیجھ یھ کھ : شکر گزاری نھ صرف فطری اور باطنی امر ھے بلکھ انسان کی تمام سعادتوں اور عظیم الھی برکات کا سرچشمھ ھے جو دن بھ دن انسان کو خدا سے نزدیک کرتا ھے اور خدا کے ساتھه بندوں کے عشق و محبت کو مضبوط بناتا ھے اور تقوی اور پرھیز گاری کا عامل ، رستگاری اور سعادت کی جانب راستھ اور ذات خدا کے مقابلے میں انسان کی بندگی اور عبودیت کی معرفت کے لئے ایک نورانیت ھے اسی لئے خداوند متعال کے بے نیاز ھونے کے باجود حکمت اورمصلحت کے عنوان سے شکر گزاری بندوں پر ضروری اور واجب قرار دی گئ ھے۔

    گوگل سرچ سے مدد لی ھے

  57. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 30, 2013 بوقت 12:29 pm

    اللہ کا شکر ھے
    کہ آپ لوگوں کی علمی صحبت نے سنورا ھے
    مجھہ کم فہم اور کم علم کو آپ جیسے مستند و معتبر اساتذہ پڑھتے ھيں
    اللہ تعالی کو شکر پسند ھے
    اللہ کا شکر ھر مرض کی دوا بھی ھے اور دعا بھی ھے
    مجھے اللہ تعالی سے کچھہ مانگنا ھوتا ھے
    کچھہ
    طلب کرنا ھوتا ھے
    کوئ دعا کرنی ھوتی ھے
    کوئ شکوہ کرنا ھوتا ھے
    کسی کی شکایت کرنی ھوتی ھے
    کسی کی تعریف کرنی ھوتی ھے
    کسی کے لیے مدد طلب کرنی ھوتی ھے
    اکثر اللہ میاں کا شکرادا کرنا ھوتا ھے تو بس

    تو میں شکرانے کی تسبح شروع کردیتی ھوں
    اج میں بہت ھی خوش ھوں
    ایک تو محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کی تعریف اور حوصلہ افزائ نے
    جیسے مجھہ جیسے کم پرواز پرندے کو بال وپر عطا کردیۓ
    کچھہ آپ سبکی توجہ اور شفقت و انسیت نے سارے ملال مٹادیئۓ
    چلیے اب نیے عزم سے سفر نامہ حجاز لکھا جاۓ گا
    تھوڑی دیر کے لے جو سفرنامہ میں شکرنامہ کے جاں فزاء لمحات میسر آۓ ھیں
    تو یہ بھی بہت بڑي نعمت ھے
    اور تم اللہ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاوگے
    اللہ کی تعریف اور شکر کرنے کو ھزار سال کی عمر ملے تو بھی کم ھے

  58. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 30, 2013 بوقت 12:54 pm

    میرے دوستوں
    میرے قلمی اور قلبی رفیقوں
    میرے علمی اور ادبی شناوروں
    میرے محسنوں
    میرے عزيز بھايئوں اور عزيز تر بہنوں
    میں تو صرف ایک بات جانتی ھوں
    کہ کھبی آپ سرگوشی میں یا دل ھی دل میں
    اپنے رب کو شدت سے یاد کرتے ھیں
    تو وہ آپکی بات سنتا ھے
    اور اپنا جواب بھی کسی طور آپ تک پہنچاتا ھے

    اللّهُـمَّ عافِـني في بَدَنـي ،
    اللّهُـمَّ عافِـني في سَمْـعي ،
    اللّهُـمَّ عافِـني في بَصَـري ،
    لا إلهَ إلاّ أَنْـتَ یا رب العرش العظیم اللّهُـمَّ تقبل دعائنا

    اللہ پاک شکر ھے کہ دینا میں اپنے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بابرکت وجود کی وجہ سے پوری کائنات میں اجالا کردیا
    خدا خود میر مجلس بود اندر لامکاں خسرو
    محمد شمع محفل بود شب جاۓ کہ من بودم

    اے خسرو، لا مکاں میں خدا خود میرِ مجلس تھا اور حضرت محمد اس محفل کی شمع تھے، کل رات کہ جہاں میں تھا۔
    لاکھوں دودر حضرت محمدمصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور لاکھوں سلام
    آل رسالتماب پر

  59. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 30, 2013 بوقت 2:23 pm

    چلیں پھر سے اپنے اپنے ھاتھوں پر سورج چاند ستارے سجا تے ھیں
    اپنے پیارے نبی کی مدحت و نعت کہتے ھیں
    اپنے قلم کو زم زم و کوثر کی نہروں سے پاک کرکے شان رسالت ماب بیان کرتے ھیں
    اپنے پیارے نبی کی شان میں سنہرے لفظوں سے لکھتے ھیں
    اپنے اعلی اور ارفع نبی پاک تعریف کرنے سے ھم لاکھہ قاصر وعاجز سہی
    مگر رب کی بارگاہ شرف میں وہ لفظ بڑے معتبر ٹہرتے ھیں جس میں اللہ کے محبوب نبی کی شان و توصیف بیان کی جاتی ھے
    میرا گیان دھیان مجھے پھر مسجد النبوی لیکر چلا ھے
    جہاں سید الکونین
    صاحب تاج و معراج کی
    محبوب رب کردگار کی
    شافع روز محشر کی
    عرب و عجم کے بادشاہ کی
    مشرق و مغرب کے سرکار دوعالم کی
    آفتاب رسالت ماب کی خوشبو
    جو مشک و عنبر سے بھی زیادہ دلکش و دلنشین ھے
    جو ھر دیناوی مہک سے زیادہ مسرور کن ھے
    اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک کی برکت سے مکہ المشرفہ کو مدینہ المنورہ کو اور ساری دینا کو سرسبزی اور شادابی ملی ھے ؛ہ سب آپ حضور پاک کی ذات مبارکہ کا اعجاز ھے
    باد صبا میرا ھاتھہ تھامے مجھے مدینے کی زیارت پر لے جارھی ھے
    میرا دل صحن مجسد النبوی میں ھی رہ جانے کی دعا کررھا ھے
    میں وھیں رھنا چاھتی ھوں
    وھیں جینا چاھتی ھوں
    میں وھیں اپنے آقا کے شہر میں دفن ھونا چاھتی ھوں
    مریم اور صبا مجھے شہر مدینہ کی زیارت کے لیے لے جانا چاھتی تھیں
    اور میں ان سے التجاء کررھی ھوں
    کہ تھوڑی دیر مجھے ان بابرکت اور پر ایمان مناظر میں رھنے دو
    مجھے یہاں سے مث لے جاو
    مجھے مدینے کی مٹی میں مل جانے دو
    مریم مجھے یاد دلا رھی ھے
    کہ سفر نامے کے لیے مدینے کے قابل دید مقامات پر جانا بہت ضروری ھے
    میں اشکبار آنکھوں سے اسکو دیکھتی ھوں
    اور روتے ھوۓ کہتی ھوں
    کہ مدینہ تو سارا کا سارا ھی قابل دید ھے

  60. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    April 30, 2013 بوقت 2:51 pm

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (( وإنك لعلى خلق عظيم ))
    یہ اللہ سجان و تعالی کے کلمات ھیں اور
    ان کلمات سے بڑھ کر اللہ کے پیارے رسول کی مدحت تعریف کون کر سکتا ھے

  61. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    May 2, 2013 بوقت 12:44 am

    چلیں پھر سے اپنے اپنے ھاتھوں پر سورج چاند ستارے سجا تے ھیں
    اپنے پیارے نبی کی مدحت و نعت کہتے ھیں
    اپنے قلم کو زم زم و کوثر کی نہروں سے پاک کرکے شان رسالت ماب بیان کرتے ھیں
    اپنے پیارے نبی کی شان میں سنہرے لفظوں سے لکھتے ھیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ماشااللہ کیسی احتیاط ہے شان نبی بیان کرنے میں

  62. سیّدہ زائرہ عابدی نے کہا ہے:
    May 5, 2013 بوقت 5:11 pm

    ڈئیر شاہین تمھاری روحانی وجد آفریں تحریر کا حق دا کرنا میرے اختیار میں تو ہئے ہی نہیں بس چند لفظوں کا نزرانہ پیش خدمت ہئے
    پروردگار عالم تمھاری ان نیک توفیقات میں اضافہ فرمائے اور روز محشر چہاردہ معصومین کی بارگاہ سے اس تحریر کا حقیقی انعام پاؤ آمین
    تحریر تمھاری ہئے کہ بس پھول کھلے ہیں
    جیسے کہ یہ باران گہر لعل یمنی ہیں
    لفظوں کے سمن زار سےگلشن ہئے بنایا
    ہر سطر کو ہیروں سے جواہر سے سجایا
    ہر سمت یہاں غنچہء امّید کھلے ہیں

    پلکوں سے چنوں سجدہ ءدیدار میں جا کر
    ارمان میرے دل کے یہ کہتے ہیں جنوں میں

    دعاگو زائرہ بجّو

  63. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 6, 2013 بوقت 8:20 am

    رب اشرح لی صدری
    ویسر لی امری
    دو جہانوں کے رب اپنے نبی حضرت موسی علیہ اسلام کی عقدہ کشائ کرنے والے
    میرے نطق کو کمال عطا کردے تاکہ میں سردار نبی کی تعریف کرسکوں
    مجھے اپنے فضل وکرم سے وہ ھنر عطا کردے
    جب جب میں تیرے پاک ومحبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم مبارکہ کو آنکھوں سےلگاوں
    مجھے روشنی مل جاۓ مجھے تازگی مل جاۓ
    مجھے ھمت و حوصلہ مل جاۓ
    میرے رب
    مجھے طاقت گفتار عطا کردے
    مجھے اتنی توفیق عطا فرماء کہ میں بعد ازخدا کائنات کے سب سے افضل ترین پاک نبی صی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت و توصیف بیان کرسکوں
    اے آدم علیہ اسلام کے رب مجھے
    اے مغرب و مشرق کے پاک پروردگار
    حضرت ادریس علیہ اسلام کے خالق
    حضرت ھود علیہ اسلام کے پیدا کرنے والے
    حضرت صالح علیہ اسلام کے مالک و مختار
    حضرت ابراھیم علیہ اسلام کو خلق کرنے والے
    حضرت اسماعیل علیہ اسلام کے رب
    حضرت یعقوب علیہ اسلام کی تخلیق کرنے والے
    حضرت یوسف علیہ اسلام کو جمیل نبانے والے
    حضرت ایوب علیہ اسلام کو صبر کی دولت عطا کرنے والے
    حضرت شعیب کی مدد کرنے والے رب
    حضرت موسی علیہ اسلام کو امداد بہم پہچانے والے
    حضرت ھارون کو مشیر بنانے والے ذوالجلال واکرام
    حضرت داود علیہ اسلام کو معجزے عطا کرنے والے
    حضرت یونس علیہ اسلام کی مشکل آسان کرنے والے
    حضرت زکریا علیہ اسلام کو طاقت عطا کرنے والے پاک پرودگار
    حضرت یحیی و حضرت عیسی کو ان گنت معجزات عطا کرنے والے بڑی عظمتوں والے رب
    مجھے رحمت دوعالم
    سرکار پرنور
    نبی برحق
    شافع روزمحشر
    مخزن حکمت
    بحر سخاوت
    فخر رسالت
    شمع صداقت
    نور ھدایت
    اطہر و طاھر
    معدن برکت
    چشمہ رحمت
    کے لیے نعت کہنے کا سلیقہ عطا کردے آمین ثم آمین

  64. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 6, 2013 بوقت 1:01 pm

    میرے ھر درد کا درماں ھے مدینہ یا رب

    میں مدینے منورہ جیسی معطر و پاکیزہ و پرنور جگہ پر تھی
    زمانہ حالی میں مدینہ منورہ اور مکہ المشرفہ کے بہت سارے نایاب و نادر آثار و مقام کو معدوم کردیا گیا ھے
    اپنی جگہ یہ بہت بڑا المیہ ھے
    دینا بھر میں ساری قومیں اپنے ورثہ اور اثار مقدسہ کی حفاظت کرتی ھیں مگر یہاں ھر یادگار کو مٹا یا جارھا ھے
    اور جو مٹا نیہں سکتے وھاں جانے کی پابندی لگائ جارھی ھے
    چند سال پہلے جہاں میں بغیر روک ٹوک کے گی تھی اب وھاں جانے کی ممانعت تھی

    مگر جذبات و احساسات کو بھی کوئ پابند کرسکا ھے
    کبھی خوشبو کو مقید کیا جاسکتا ھے

    کبھی سچائ کو پابند رسن کیا جاسکتا ھے
    میں نے بہت بار ارادہ کیا کہ جب مشرک وکفار ھمارے پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک سرقہ کرنے کی نیت سے آرھے تھے
    ان واقعات کو قلم بند کرتے ھوۓ دل خون کے آنسو روتا
    میں عجب دکھہ بھری کیفیت کا شکار ھوجاتی ھوں
    آہ دشمنان خدا و رسول
    دشمنان دین و اسلام اتنے شیطانی و کریہہ القلب ھیں کہ کسی رسل و الانبیاء کو بھی تکلیف پہنچا سکتے ھیں
    ایسے لوگوں پر بے شمار لعنت

    مجھے یقین ھے کہ اور یہ

    بات تو سو فیصد درست ھے کہ اب تاقیامت کوئ بھی میرے پیارے نبی کے جسد مبارکہ تک نیہں پہنچ سکتا ھے انکو ھاتھہ نیہں لگا سکتا

    میں روضہ مبارکہ کے قریب ھی تھی
    جہاں مفرب کی سمت سر مبارک ھے
    جہرہ مبارک قبلہ کی طرف
    اور پاۓ مبارک مشرق کی طرف
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیناوی تاريخ کے سب سے محبوب ترین
    کامیاب ترین
    بلند ترین
    کامل ترین سب سے اھم ترین
    شخصیت ھیں
    ساری دینا کے لیے رحمت
    برکت
    شفاعت
    آپ مقام محمدد پر فائز
    آپ سید السادات
    آپ فخر موجودات
    آپ صادق و آلامین
    آپکی نبوت عرش و فرش پر

    آپ جس راستے سے گذرے اسے کہکشاں بنایا
    آپ پر لاکھوں سلام

  65. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 6, 2013 بوقت 2:51 pm

    تحریر تمھاری ہئے کہ بس پھول کھلے ہیں
    جیسے کہ یہ باران گہر لعل یمنی ہیں
    لفظوں کے سمن زار سےگلشن ہئے بنایا
    ہر سطر کو ہیروں سے جواہر سے سجایا
    ہر سمت یہاں غنچہء امّید کھلے ہیں

    پلکوں سے چنوں سجدہ ءدیدار میں جا کر
    ارمان میرے دل کے یہ کہتے ہیں جنوں میں
    خواھر عزيز ڈيئر زائرہ بجو
    اسلام علیکم
    خوش رھیں اور مالک کردگار آپکی توفیقات میں آضافہ فرماۓ آمین ثم آمین
    مجھےسفر نامہ حجاز لکھتے ھوۓ احساس ھوا کہ تعریف اور حوصلہ افزائ کتنی ھمت بڑھاتی ھے
    میری طرح کی کم فہم حریم کی فکری پرواز کتنے اسمانوں پر پہنچتاتی ھے
    میں اس لطف وکرم پر آپکی سپاس گذار ھوں
    اجر عند اللہ
    یہ پورا سفر نامہ آپ سب دوستوں کے نام گرامی سے منسوب ھے
    مجھے ھمہ وقت یہ دھیان رھتا ھے کہ لکھتے ھوۓ کوئ کوتاھی نہ ھوجاۓ
    کیہں کسل و غفلت مجھے لمحہ بھر کےلیے غافل نہ کردے

    میرے خواب سب سے جدا سہی
    میری خواھشیں بھی الگ سہی
    میری حسرتوں کی زمین پر
    یہ جو جاء بجا پھول کھل گئیے ھیں
    وہ سارے پھول انکی خوشبو اور سرسبزی صرف آپ سب کی وجہ سے ھے
    اس روحانی سفر میں آپ سب کا ساتھہ ھی مجھے اونچی آڑان و پرواز کی طرف مائل کیئے رھتا ھے
    سلامت رھیں
    مولا آپ سب کو سلامت رکھیں آمین ثم آمین

  66. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 6, 2013 بوقت 3:06 pm

    و رفعنا لک ذکرک
    اور ھم نے آپ کا ذکر بلند کردیا
    حضور عالی مقام سرور کائنات کی تعریف خود خالق کردگار فرما رھا ھے
    اسم ممحد دل کا اجالا

  67. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 7, 2013 بوقت 9:01 am

    مدینہ شہر النبی

    مدینہ المنورہ ایسی سرزمین انجم و خورشید جہاں شرماۓ
    جہاں بہشتی پھولوں کی خوشبو ماند پڑ جاۓ
    جہاں باد صبا بھی عجب سلیقے اور قرینے سے چلے
    جہاں ھر زائر شاد و آباد رھے
    جہاں گناہ گار نیکیو کار بن جايئں
    جہاں ملا‏ئک خدام بن جايئں
    جہاں قدموں سے نیہں گھٹنوں کے بل چلنے کی خواھش دل کو بے چین کردے
    جہاں کی خاک کو پلکوں سے چومنے کی شدید خواھش دل کا دامن پکڑ لے
    میں مدینہ کا نام لکھوں
    تو جنت کی خوشبو اور رب کی رحمتیں برکتیں میرے ھمراہ ھوں
    میں اپنے پاک نبی کا ذکر کروں تو اس کےبعد میری زبان سے صرف سچ ھی نکلے اور للسان پر صبح و شام صرف ذکر خدا اور رسول رھے آمین ثم آمین

    رب ذوالجلال و اکرام سے رحمت و فضل طلب کرتے ھوۓ
    دعا کروں کہ کوئ ایسا لفظ عطا کردے جو میرے بے جان لفظوں میں قوت ایمانی بھر دے
    جو مجھے اللہ کے شکر گذار بندوں کی فہرست میں شامل کردے
    ھرحال میں صابر و شاکر رھنے کا وصف عطا کردے
    ھر ایک کی مدد کرنے کی توفیق عطا کردے
    آمین ثم آمین

    مدینے کے شام و سحر کا حسن بیان کرنے کے لیے جو خدادا صلاحتیں درکار ھیں میں ان سے سراسر محروم ھوں
    میں ایک لفظ لکھنے ایک مناسب سطر لکھنے کو
    کسی جذبے کو لفظوں ميں ڈھالنے کے لیے کافی دیر تک سر جھکاۓ بھٹی رھتی ھوں

    اللہ پاک مجھے معجز بیانی عطا تاکہ میں رحمت اللعالمین
    حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم طبیب القلوب کی ثنا پاک بیان کرسکوں

  68. سیّدہ زائرہ عابدی نے کہا ہے:
    May 9, 2013 بوقت 2:26 am

    مدینے کی گلیوں میں کھو جاؤں میں
    آ پ کا در ملے اور مر جاؤں میں

    جب شوق جنوں کو قوّ ت پرواز مل جائے تو حسرتیں اس طرح بھی بول اٹھتی ہیں

    ان نا تمام حسرتوں کو پورا کرنا یا نا کرنا اس ملک کون مکاں کے اختیار میں ہوتا ہئے

  69. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 9, 2013 بوقت 3:02 pm

    مدینے کی گلیوں میں کھو جاؤں میں
    آ پ کا در ملے اور مر جاؤں میں
    جزاک اللہ زائرہ بجو
    بیاں میں کیسے کروں شان مدینہ لوگو
    مدینہ شہر محبت و شہادت ھے
    یہاں آکر یہ احساس ھوتا کہ ھم کتنے بخت آور ھیں
    ھم اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہر میں ھیں
    جہاں لاکھوں الانبیاء والمرسلین تشریف لاۓ
    جہاں دینا کا مکمل ترین کامل بشر بصورت آفتاب طلوع ھوا
    جہاں سے انسانیت و ایمان کی کرنیں دینا کے ھرگوشے میں پھیلیں
    اس شہر میں اطمعنان و استقرار ھے
    یہ شہر نودارات ھے

    اس شہر پرجمال نے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ھے
    اس شہر بے مثال نے ھمارے پیارے نبی کی خوشبو اور جسد اطہر کی حفاظت کی ھے
    مانگنے والوں کو یہاں ھر نعمت ملتی ھے
    اس شہر میں سکون قلب کی دولت ملتی ھے
    شہر مدینہ میں برکت و رحمت ملتی ھے
    شہر مدینہ احترام و عقیدت کا شہر ھے
    یہ ھمارے پاک نبی کا پسندیدہ شہر ھے
    یہاں سرور کائنات کا گھر بھی تھا اور روضہ مبارکہ بھی ھے
    یہاں ھر گھڑی نور کی بارش ھوتی ھے
    جس طرح حضرت ابراھیم نے مکہ کو حرم بنایا تھا
    اسی طرح ھمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس شہر مدینہ سے اتنا پیار تھا کہ ھمارے پاک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہر مدینہ المنورہ کو اپنا حرم بنایا
    یہ شہر ھمارے پاک نبی کی دعاوں کا ثمر ھے
    یہاں رھنے والوں پر
    یہاں آنے والوں پر
    اللہ کی رحمت و برکت بھی برستی ھے
    یہاں کے لوگ بڑی محبت اور اپنائيت سے ھر زائر کا استقبال کرتے ھیں
    یہاں کے رزق میں بڑي برکت ھے
    یہاں کے تاجر بہت خوش حال و با ثروت ھیں
    یہ اھل الخیر و اھل المحبہ کا شہر ھے
    یہ شہر دعاۓ نبی ھے
    ھمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دعا کی تھی
    کہ اے اللہ اھل مدینہ کے پیمانوں میں برکت عطا کر
    مدینہ شہر جبرئیل علیہ اسلام بھی ھے
    مدینہ مقام نزول وحی بھی ھے
    مدینہ منورہ نور روشنی برکتوں رحمتوں اور فضلتوں کا شہر مبارکہ ھے
    یہ پورے عالم کا محور و مرکز ثانی ھے
    یہ شہر دینا کے ھر شہر سے زیادہ خوبصورت اور روح پرور ھے
    اس شہر میں داخل ھوتے ھی روح وجد میں آجاتی ھے
    پاک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیار کرنے والے اس شہر میں ادب و احترام وعقیدت سے قدم رکھتے ھیں
    یہ پاک شہر اس لحاظ سے برتر و اعلی ھے
    کہ یہاں زمین کے ایک خطہ کو جنت کا خطہ کہا گیا ھے
    مدینہ المنورہ میں آکر اس جنتی زمین کی زیارت کرنا بھی ھر ایک کے نصیب میں کہاں
    جو بانصیب وھاں جاتے ھیں انکے جسم وھاں سے واپس آتے ھیں مگر روح وھیں رہ جاتی ھے
    یہاںاوقات صوم و صلاۃ میں صبا اپنے دامن میں خوشبوۓ محمدی کا بیش قیمت عطر زائرین پر نچھاور کرتی ھے

  70. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 11, 2013 بوقت 3:07 pm

    مجھے آج مکہ المشرفہ پر بنے والی وہ فلم یاد آرھی ھے
    جو میں نے اپنے بیٹوں جیسے بھائ سید صفدر رضا رضوی کی ھمراھی میں کویت میں دیکھی تھی آئ مکس فلم اپنی بہترین ٹیکنیک کے ساتھہ

    جرنی ٹو مکہ
    جس کا ترجمہ
    ابن بطوطہ کے تعاقب میں کیا گیا تھا
    یہ مراکش کے معروف مورخ اور مسلمان بہادر سیاح
    ابو محمد ان بطوطہ نے اپنے شمالی افریقہ سے مکہ کے سفر کی روداد تھی ابن بطوطہ نے اس سفر نامہ کو غریب الامصار اور عجائب اسفار
    کے عنوان سے تحریر کرکے خوب شہرت پائ تھی
    اس روحانی سفر کی روداد اور فلم کا ھر منظر اتنا حقیقت سے قریب تر تھا
    کہ ھم بھی درجنوں مشتاقان زیارات حرم کے ھمراہ بڑی شوق اور وارفتگی کے ساتھہ
    اس سفر میں برھنہ پاء شریک ھوگۓ صحرا کی خاک آڑے آتی
    نہ کوئ اور ڈر راہ میں حائل ھوتا
    بس ایک جنون و شدت وعقیدت ھی سرمايہ حیات ھوتی
    ایک سفید اسپ وفا دار
    پانی کی چھا گل
    بہت سارا حوصلہ
    اللہ پاک
    اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت

    آج بھی میں اس مرد مومن کی روح کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ پڑھتے ھوۓ دعا کررھی ھوں
    ھمارے دلوں میں ایمان کی شمع روشن کردے
    یا اللہ ھمکو اپنے محبوب بنی کی شفاعت سے محروم نہ کرنا آمین

  71. شاھین رضوی نے کہا ہے:
    May 12, 2013 بوقت 11:57 pm

    مدینہ المنورہ میں عجب ساحرانہ کشش ھے
    ھر انسان یہاں آکر اس شہر صفاء اور شہر کرامات میں آکر گم سم ھوجاتا ھے
    یہاں سرکار دوعالم کا دربار ھے
    یہآں ساجدین و راکعین کا قبلہ و کعبہ ھے
    میں کیا
    اور میری بساط کیا کہ میں شہر النبی کے جمال وکمال کا احوال بیاں کرسکوں
    مجھے اس بات کی شدید شرمندگی اور اعتراف ھے کہ میرا عمل بہت قلیل ھے
    میری نظر میں وہ وسعت و کشادگی نیہں
    میری تحریر میں کوئ خاص بات نیہں ھے
    میرے قلم میں وہ کمال نیہں ھے کہ ميں شہر مدینہ کی عظمت و فضلت کے ساتھہ
    مقام محمود پر فائز اپنے پاک نبی کی نعت و ثنا کو بیان کرنے کا حق ادا کرسکوں
    تاجدار حرم
    بادشاہ کرم
    مرکز و فکر و فہم

    آپ انوار کل

    آپ کا نام زبان پر آتے ھی نطق میں عجب شیرنی اور حلاوت گھل جاتی ھے
    آپ محور فہم و فراست
    آپ مصدر ایمان و ایقان
    اپکی محبت
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عقیدت و عظمت
    بزرگی اور فضلت یثرب کا نام لکھتے پڑھتے بولتے سوچتے دل و دماغ کی ناقبل بیان کیفت ھوتی ھے
    مدینہ المنورہ شہر تتہذیب وتمدن ھے
    یہاں زمینی اور اسمانی مخلوق دن رات پیارے نبی پر سلام و دورد پڑھتی ھے

    یہآں ھر زائر کی انکھوں میں شوق و اشتیاق کا سرمہ لگا رھتا ھے
    یہاں نطق و سماعت بصیرت وبصارت کونوید نو کی
    تازگی ملتی ھے
    یہاں ھر کوئ سحر زدہ
    یہاں ذھن اور روح میں اجالا پیدا ھوتا ھے

    عشق الہی سے سرشار دل علم و عرفان کے کسی سیارے تک پہنچ جاتے ھیں

  72. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 13, 2013 بوقت 6:41 am

    قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
    دہر میں اسم ِ محمد سے اجالا کر دے

    ” عشق ایک مقناطیسی کشش ہے جو کسی کو کسی کی جانب سے ایذا پانا، وصال سے سیر ہونا ، اس کی ہستی میں اپنی ہستی کو گم کر دینا یہ سب عشق و محبت کے کرشمے ہیں۔“

    عاشقی چیست؟ بگو بندہ جاناں بودن
    دل بدست دگرے دا دن و حیراں بودن

    اور جب یہ تعلق یا کشش سیدنا محمد مصطفی سے ہو تو پھر کیا کہنا ۔ ان کی ہستی تو ایک بحر ذخار کے مانند ہے جس کی موجوجیں آسمان کو چھوتی ہیں۔ جس کی تعلیمات محبت ، اخوت، مساوات اور رواداری کا درس دیتی ہیں ۔ جو لوگوں کو حیات نو عطا کرتی ہیں۔ اُس کے اخلاق کے بارے میں خود اللہ فرماتے ہیں کہ،

    ”’ اے حبیب بے شک تو اخلاق کے بلند درجے پر ہے۔“

    جن کو نبوت سے پہلے امین اور صادق کے خطاب دئیے گئے رشک کی بات ہے کہ اقبال کو اس عظیم بندے سے عشق تھا اور اس آفتاب کے نور سے اقبال کی شاعری منور ہے۔

    می ندانی عشق و مستی از کجا ست؟
    ایں شعاع افتاب مصطفی ست

    گوگل سرچ

  73. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 13, 2013 بوقت 9:04 am

    میں کتنی کوشش و کاوش کررھی ھوں کہ اس سفر نامے کو اور آگے بڑھاوں
    مگر کیا کروں
    میں ابھی تک میرا دل ودماغ مدینہ کے درو بام کی کشش ثقل سے باھر نیہں نکلے ھیں
    میں ابھی تک
    مسجد النبوی کے محراب ومنبر اور صحن کے گوشے گوشے کو سرمہ چشم بنانے کی خواھش میں ایک ایک ستون سے لپٹی رو رھی ھوں

    جہاں جہاں پاۓ اقدس کے نقش مبارکہ ھیں انکو اپنی پلکوں سے چوم رھی ھوں
    جہاں جہاں آپ تشریف فرماء ھوۓ
    وھاں کی نایاب خوشبو سے روح کو شاداں و فرحان کررھی ھوں
    میں خیالوں میں خوابوں میں ابھی تک مدینے المنورہ میں گذرے شب و روز کو یاد کرتی ھوں
    میری روح ابھی تک شہر خوش رنگ کے جلوے میں گم ھے
    جو شہر جاوداں ھے
    حو شہر نگاراں ھے
    یہ اس خوبصورت شہر کا کرشمہ ھے
    کہ یہاں آنے والوں کے چہروں پر روشنی اور نور کا عکس ھوتا ھے
    ھر زائر و زائرہ کا چہرہ مثل چہل چراغ جگمگاتا ھے
    یہ سب دربار رسالت ما ب کی زیارت کا اعجاز ھے
    سب کی نگاھوں میں بسی شہر کرامت و عظمت کی تصویر ھی سرمايئہ حیات بن جاتی ھے
    ھمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت ھمارے ایمان کا جزو
    ھر مسلمان کے دل میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت اور سب کی زبان پر آپ کا نام گرامی باعث خیر و برکت و شفاعت ھے
    دینا میں کسی نبی
    پیغمبر کی
    کسی مرسلین کی
    کسی رسول کی اتنی تعریف نیہں کی گی جتنی ھمارے پیارے نبی کی تعریف وتوصیف کی گی
    دارین کی سب سے بہترین شخصیت ھمارے پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ھے
    نہ ھمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی کو یہ شرف ملا ھے اور نہ کسی اور کو ملے گا
    اس مقام خاص پر صرف اللہ پاک کے محبوب نبی کا نام کندہ ھے
    جو ساتوں آسمانوں کی سیر کرکے آۓ
    جو اللہ کے مقرب ترین نبی ھیں
    جو روز اول سے روز آلاخر تک جمال وکمال میں سب سے محترم و ممتاز
    دربار رسالت ماب میں زمینی اور آسمانی مخلوق شب و روز دودر و سلام کے تحائف لیکر پہنچتی ھے
    مسجد النبوی کے قلب میں جنت کا ایک ٹکڑا ھے
    یہاں ریاض الجنتہ ھے یہاں کا گوشہ گوشہ جنت الفردوس بریں ھے

  74. شاھین رضوی نے کہا ہے:
    May 13, 2013 بوقت 8:52 pm

    عشاء کی نماز کے بعد جنت البقع کے قریب سے گذرے ھوۓ ھم لوگ فاتحہ پڑھتے ھوۓ
    شیرینی تقسیم کرتے اپنے ھوٹل آگيے ھم 4 حواتین آنے جانے کے لیے زیادہ تر ٹیکسی استعمال کرتے تھے حالانکہ ھمارے ساتہھ آۓ سارے لوگ یہ فاصلہ پیدل چلتے ھوۓ طے کرتے تھے تقریبا ایک کیلو میٹر کا فاصلہ تھا مگر میں نے یہ بات نوٹ کی تھی کہ وہ پیدل آتے تھے تو وہ سب تھک کر چور ھوجاتے تھے اور کھانے کے فوار بعد ھی تھکن کے باعث سو جاتے تھے جبکہ ھم لوگ مدینہ اور مکہ ھر جگہ ھی پیدل کے بجاۓ تھوڑی سے فاصلے کے لیے بھی ٹیکسی ھی استمعال کرتے تھے اور اپنی انرجی کو عبادت یا کسی اور مفید کام کے لیے اسٹور کر لیتے تھے اسکی وجہ یہ تھی میں اپنی رواں عربی کی وجہ سے اور بہت جلد راستے وغیرہ سمجہ انے والی خوبی سے فائدہ اٹھاتی تھی اور میں اپنے ساتھہ کمرے میں رھنے والی خواتین کے ساتھہ دن یا رات کسی بھی وقت زیارات یا عبادات کے لیے بڑے مزے سے اتے جاتے تھے ھمارے قافلے میں ایک خاتون بہت ھی پریشان تیھں کہ ان سے اتنی دور پیدل نیہں چلا جاتا تھا ور وہ عربی نہ جاننے کی وجہ سے خود ٹیکسی وغیرہ پر آتے جاتے ڈرتی تھیں
    ھم کھبی کھبار انکی درحواست پر انکو اپے ساتھہ لیکر اجاتے تھے مگر پھر ھم کو ٹیکسی کے بحاۓ بڑی گاڑی سے انا پڑتا تھا یہ بات تو یونہی برسیبل تذکرہ اگی ھے بہرحال ایک انجانے ملک میں اگر اّپ وھاں کی زبان جانتے ھیں
    راستوں سے واقف ھیں تو بہت سارے مسائل حل ھوجاتے ھیں

    آج ھم روز کی طرح تادیر مسجد النبوی کے ایک خاص حصے میں بہت تھوڑی دیر کے لیے بیٹھے تھے یہ
    وہ جگہ تھی جہاں سے جبريئل آلامین تشریف لاتے تھے صد افسوس کہ اب
    ھم خواتین کو ایک خاص مقام سے اگۓ جانے بیٹھنے کی اجازت نیہن ھے
    مگر اپکا دل تو کوئ تاویل تسلیم نیہں کرتا ھے
    اس را ت جلدی جانے کاسبب ایک تو دوسرے دن علی الصباح بعد از نماز و زیارت کے مدینے میں واقع بہت سارے مقامات و اماکن دیکھنے کے لیے جانے کی خوشی بھی تھی اور اسکی تیاری بھی کرنی تھی اور اس رات کو ھماری ایک دوست کی طرف سے ایک پاکستانی ھوٹل میں ضیافت بھی تھی ورنہ ھم لوگ مدینہ اور مکہ میں بہت ھی سادہ سا کھانا کھاتے تھے تاکہ طبیعت جو مرچ مصالحے والے کھانوں سے بھاری ھوجاتی ھے اس سے محفوظ رھا جاسکے البتہ ھم لوگ صبح کا ناشتہ نماز کی ادائيگی کے بعد تھوڑا ھیوی کرلیتے تھے مدینہ میں ان دنوں تو ایک بار پھر حرمین مین وسعت اور کشادگی کا بہت ھی بڑا کام جاری ھے اس وجہ سے بہت سارے بازار اور وہ پاکستانی ھوٹل جو مدینہ میں بہت ھی قریب تھے ھم لوگ وھیں کھانا کھاتے تھے اب وہ ھوٹل تعمیرات کی وجہ سے ختم کردے گیۓ تھے مگر ھم نے ایک ادھ اچھا پاکستانی ھوٹل پھر بھی تلاش ھی کرلیا تھا
    جہاں ھم عربی کھانا ھی کھاتے تھے
    جیسے سعودی عرب میں بہترین باسمتی چاول اور گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑوں سے سے تیار کردہ بہت ھی مقبول ڈش مندی بہت ھی رغبت و شوق سے کھائ جاتی ھے کویت میں وھی ڈش مجبوس کہلاتی ھے اور ھمارے ھاں پلاو کہتے تھے
    تعمیرات کے اس سلسلے کے بعد بہت ساری تبدیلی آۓ گی
    بہرحال یہ تو وہ مقدس اماکن ھیں جہاں ھمارے پیارے نبی کے قدموں کی برکت کی وجہ سے ثمرات بہشت بھی یاآسانی مل جاتے ھیں جیسے ھمارا مھٹیا اور رسیلا پھل بلکہ شہنشاہ ثمرات اور جنت کا میوہ یعنی آم بھی بغیر موسم کے مل گیا
    زائرین اپنے ساتھہ بڑی تعداد میں تبرکات بھی لیکر جاتے ھیں جس میں مکہ و مدینے کی خوش ذا‏ئقہ کھجوریں تسبحات اب زم زم
    جاءنمازیں حجاب میوہ جات سفر میں کام آنے والی سوغات
    اس بات کا بہت ھی زیادہ فائدہ تو سعودیہ کو ھوگا کہ حرمین میں وسعت کے بعد پہلے سے بھی بہت زیادہ تعداد میں فرزندان توحید اپنے اپنے اھل خانہ کے ساتھہ وھاں آسکتے ھیں اللہ تعالی نے اس ملک کو بڑی دولت اور برکت عطا کی ھے جو صرف اور صرف ھمارے پیارے نبی کی ذات بابرکت کی وجہ سے ھے
    اور اللہ تعالی نے اس زمین کو ھر طرح کی نعمتوں سے سرفراز کیا ھے
    مجھے اس سفر میں ایک صاحب بتا رھے تھے کہ ابھی سعودیہ میں سونے کے بہت بڑے ذاخائر نکلنا ھیں
    ھماری تو ایک ھی دعا ھے کہ اللہ پاک سارے مسلمان ممالک کو بہترین سہولتیں او ربرکتیں عطا فرما ہ
    اور خاص کر ھمارے پیارے وطن پاکستان میں امن وامان تعمیر و ترقی کا سلسلہ شروع ھوجاۓ امین ثم آمین
    اچھا موسم
    اچھی جگہ
    اجھی سہولت
    و برکتیں
    اچھے لوگوں کا سفر میں ساتھہ بھی بہت بڑی نعمت ھوتی ھے

    اللہ کا شکر تھا کہ فروری 2013 کا عمرہ و زیارات بہت ھی خوشگوار موسم میں ادا کی گی ھم اس بات پر بھی بار بار اللہ سبحان وتعالی کا شکر ادا کرتے رھے
    اور ھر اس اسانی اور سہولت پر بھی جو ھم کو مسیر تھی اور ان نعتموں پر بھی اپنے رب کا شکر ادا کرتے رھے جو ھمارے نصیب میں نہ تھیں میں نے ھمشیہ یہ بات نوٹ کی ھے کہ شکر کرنے سے پریشانی اور مشکلیں آسان ھوجاتیں ھیں
    اور زندگی بوجھہ کے بجاۓ ایک بیش بہا نعمت لگتی ھے

  75. شاھین رضوی نے کہا ہے:
    May 13, 2013 بوقت 9:22 pm

    اللہ کا شکر ھے جتنی بار اللہ پاک نے مجھے اپنے گھر انے کی اجازت مرحمت فرما‎ ئ
    میں ھمشیہ بس کے ذریعے ھی سعودیہ ائ
    مجھے پتہ ھے کہ اتنا لمبا سفر بس ميں آسان نیہں ھوتا ھے
    اپ کے پاوں سوج جاتے تھے
    بس کی سیٹ بھی اکثر ارام دہ نیہں ھوتی ھے اکثر لوگ کمر درد مین مبتلا ھوجاتے ھیں
    مگر میں اللہ کو حاضر و ناظر جان کر کہتی ھوں کہ مجھے کھبی ایسی تکلیف نیہں ھوئ
    میرا شوق وجنون تو مجھے کویت سے سعودیہ پیدل چل کر انے پر تیار کرتا
    اور میں شوق زیارات میں وھاں گھٹنوں کے بل چلتی ھوئ جانا چاھتی ھوں
    میں اپنے خالق ومالک کے دربار میں
    مین محسن انسانیت
    محسن کائنات
    محسن عرش و فرش اپنے پیارے نبی کے دربار میں ایسے داخل ھونا چاھتی ھوں کہ میلوں صدیوں تک پیدل چلنے کی وجہ سے
    جسم لہو لہان ھو مگر روح کی پاکیزگی او رتروتازگی برقرار رھے
    مجھہ پر ایسے اسفار کے دوران ایک انتہا‎ئ روح پرور سرشاری کی کیفیت طاری ھوجاتی ھے
    مجھے پتہ ھی نیہں ھوتا کہ کس وقت اتنا فاصلہ طے کرلیا یہ سوچ ھمہ وقت ساۓ کی طرح ساتھہ رھتی ھے
    ھر لمحہ
    ھر موسم میں
    اداسی کی طویل گھڑیوں ميں
    خوشی کے مختصر لمحات میں یہ کیفیات ھمشیہ سر سبز رھنے والے صندل کے جنگلوں کی طرح تروتازہ رھتی ھے
    یہاں کویت میں سارے لوگ چھٹیوں میں کسی نہ کسی یورپی ملک یا دیگر ممالک جانے کی تیاری کرتے ھیں اور میں ھمشیہ صرف اور صرف مکہ اور مدینہ جانے کے لیے ھمہ وقت تیار رھتی ھوں
    تاکہ سارے زائرین کی خدمت کروں
    خوب خوب دعايئں لوں
    اللہ تعالی کے مہانوں کی خدمت کروں
    اور اللہ تعالی کے ساتھہ روحانی تجارت کروں
    کہ یہ سارے اللہ تعالی کے مہمان ھیں
    اور اللہ تعالی اپنے گھر انے والے مہمانوں کی خدمت کرنے والوں کو بے تحاشا اجر عطا فرماتا ھے
    اور میں اپنے تین اسفار مدینہ و مکہ میں اپنی بہت پیاری دوست
    اپنی محسن اور مددگار
    اپنی قابل احترام بہن
    اپنی بہت کشادہ قلب سہیلی
    ڈاکٹر نگہت نسیم کے لیے بھی ان گنت دعاوں کے چراغ طاق حرم میں جلا کر آتی ھوں
    آپ سب کی ترقی
    درازی عمری
    خوشیوں
    خیر و برکت
    رزق میں برکت کی دعاوں کے چراغ مسجد النبوی کے ھر طاق میں جلا کر آتی ھوں
    اللہ پاک اپ سب کے لیے مانگی ھر دعا کو شرف قبولیت بخشنے والا ھے
    انشا اللہ ھم سب کی ھر دعا قبول ھوگی الہی امین ثم آمین
    مجھے یاد آیا کہ بوسینا سے ایک مسلمان 6 ھزار کیلو میٹر کا فاصلہ پیدل طے کرکے 314 دن ميں حج کے لیے آیا تھا
    حرمین شریفین کی طرف ھر پاک دل متوجہ و بیقرار رھتا ھے
    یہ امن و سلامتی کے شہر ھیں
    دینا میں سب سے پہلا میثاق بھی مدنیے میں ھی تحریر ھوا تھا
    مدینہ سلامتی او رخیر کا شہر ھے

  76. شاھین رضوی نے کہا ہے:
    May 13, 2013 بوقت 9:49 pm

    میں نے جب سے یہ سفر نامہ عالمی آخبار میں تحریر کرنا شرو ع کیا ھے
    میرے لیل و نہار بدل گیۓ ھیں
    میں صبح پونے سات بجے گھر سے افس کے لیے نکلتی ھوں
    اور میں اپنے لنچ بریک میں جو کہ ایک گھنٹے کا ھوتا ھے اس میں بھی آرام کرنے کے بجاۓ
    اس وقت بھی اکثر کسی بلاگ میں تبصرہ یا لکھنے پڑھنے کا کوئ کام کرکے اپنی تھکن اتار تی ھوں
    اکثر سوچتے ھی سوچتے وقت صحرائ ریت کی طرح میرے ھاتھوں کی گرفت سے نکل جاتا ھے
    گھر آتے آتے دن کی روشنی رات کی گھبیرتا میں بدل جاتی ھے
    تھکن کو نظر انداز کرکے میں اپنے لیپ ٹاپ کی سیوا کرتی ھوں پھر اللہ پاک سے دعا کرتی ھوں
    کہ میری تحریر کو میرے اس بیمار لیپ ٹاپ سے محفوظ رکھنا
    ایسا بہت بار ھوا ھے
    اور کل رات بھی یہی ھوا کہ میں نے جب ایک طویل تحریر کو لکھنے کے بعد تبصرہ ارسال کریں والے مربعے کو کلک کیا تو ایکدم ھی وہ میری بہت ھی محنت سے لکھی تحریر غا‏ئب ھوگی
    اور چونکہ ابھی تک یاد اشت کے سہارے ھی یہ تحریر چل رھی ھے اور جو کچھہ لکھتی ھوں تو اسکو یاد رکھنے کی کوشش میں بھول بھی جانے کا عارضہ لاحق ھوچکا ھے
    تو مجھے لکھتے ھوۓ اس کو سیو کرنے کا خیال ھی نیہں رھتا ھے
    بس صرف ایک بات پر ایمان و یقین ھے کہ اللہ پاک کسی کی سچی محنت کو ضائع نیہں کرتا
    ایک تحریر کسی غلطی کی وجہ سے ختم ھوگی تو اللہ ضرور اس نیت کا اجر عطا کریگا جس نیت و صدق دل سف وہ تحریر لکھی گی تھی
    میں نے سوچا کہ ایسی نیند سے بہتر ھے کہ رات کے اس پہر اس تحریر کو مکمل کیا جاۓ
    اب نیند نے بھی مجھے پریشان کرنا چھوڑ دیا ھے میں صبح صرف دو گھنٹوں کی نیند کے بعد بھی اپنے آپ کو غیر معولی طورپر تروتازہ محسوس کرتی ھوں
    اللہ کا شکر ھے
    اس نے آپکی سب کی دعاوں کے طیفل مجھہ کم علم کو اپنے پاک نبی کا نام لکھنے کا آذن عطا فرمايا
    سفرنامہ تحریر کرتے ھوۓ میری روح مجھے باربار پھر مدینہ او رمکہ لیکر جانے پر بضد ھے

    اور مجھے پتہ ھے کہ اس بار اگر اللہ تعالی نے مجھے اپنے دربار خاص میں انے کی اجازت مرحمت فرمائ تو میرے ساتھہ یہ سفرنامہ کتابی شکل میں ھوگا
    اور میں اسکو مدینے اور مکہ کی لايبریری میں رکھہ کر اونگی
    اسکا انتساب آپ سب کے نام ھوگا
    میرے اس سفر میں آپ سب بھی تو شامل ھیں
    ھم ایک ھی قبلیے کے افراد ھیں
    ھم کو خواب زندہ رکھتے ھیں
    ھم کو خواب زندہ رکھتے ھیں

  77. شاھین رضوی نے کہا ہے:
    May 13, 2013 بوقت 10:27 pm

    آپ سب سے خاص المتاس ودرخواست ھے
    کہ میری تحریروں میں اکثر آپکو بے ربطگی ملتی ھے اس کے لیے محھے معاف کیجیے گا
    میں پوری طرح موضوع سے انصاف کرنا چاھتی ھوں مکر طائر خیال میرا ھاتھہ پکڑ کر مجھے کیہں اور لے جاتا ھے میرا خیال کھبی مجھے جبل التوبہ جہاں حضرت آدم علیہ اسلام کی تویہ قبول ھوئ تھی
    کبھی جبل طور جہاں حضرت موسی نے اللہ تعالی سے کلام کا شرف حاصل کیا تھا
    مدینہ تیری نگاھوں کا نور تھا گویا
    ترے لیے تو یہ صحرا بھی طور تھا گویا
    کبھی جبل الاحد کہ اس پہاڑ پر ھمارے پیارے نبی کے پاۓ مبارکہ کی خوشبو پھیلی ھوئ ھے کیونکہ اس پہاڑ کف بارے میں حضور کریم نے فرمایا تھا
    کہ یہ ایک پہاڑ ھے جو ھم کو بہت عزيز رکھتا ھے
    اور ھم اس کو بہت عزیز رکھتے ھیں
    غار حراء کہ آپ سرور کائنات وھاں اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے میرا دھیان مجھے
    بلندیوں کی طرف لے جاتا ھے پہاڑ دراصل زمین کا بوچھہ اٹھاۓ ھوۓ ھیں
    آ
    یہ سارے پہاڑ بلندی پر عبادت خانے کی شکل آختیار کر لیتے ھیں
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنے برسوں تک غار حراء میں سب سے پوشیدہ رہ کر عبادت کیا کرتے تھےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گویائ میں جمال تھا اپکی خاموشی میں جلال تھا اور روۓ مبارک چاند کا ٹکڑا تھا
    مدینہ المنورہ اپنی خوش گوار و پاکیزہ آب وھوا کی وجہ سے مومنوں کا دل پسند شہر ھے

  78. شاھین رضوی نے کہا ہے:
    May 13, 2013 بوقت 11:17 pm

    ھم سب مدینے کی منور و دل کش صبح شہر النبی میں واقع مساجد اور تاریخی مقامات کی زیارات کے لیے بڑي اور آرام دہ بس میں بٹھیہ چکے تھے
    مدینے میں سورج طلوع ھوچکا تھا مدینے المنورہ ميں واقع مسجد النبی کے قلب مين واقع ایک خاص متبرک مقام پر جو رشک افتاب و ماھتاب فروزاں ھے اسکی روشنی سارے عالم کو منور کرتی ھے
    مدینے ایک یسا شہر ھے جہاں تاریکی اور ظلمات بھی ڈر کر بھاگ جاتے ھیں
    ھم سب نہیایت شوق سے مدینے کی شاھراھوں کو دیکھہ رھے تھے مدنیے کے درودیوار کے حسن کو اپنی نظروں میں مقید کررھے تھے
    مسجد النبوی کے قریب ھی
    مسجد الغمامہ ھے اس کو
    مسجد العید بھی کہتے ھیں
    مسجد النبوی کے قریب ھی واقع ھے
    اس مسجد مين بارش کی دعا مانگی گی تھی
    جیسے بارش میں گرد و غبار
    مایوسی افسردگی
    سب دھل جاتا ھے بارش کا ھر قطرہ انسان کو مسرتوں سے ھمکنار کرتا ھے ایسی ھی روحانی مسرت سے ھم اس مسجد میں نماز کی ادائيگی کے دوران روچار ھوۓ
    اس مسجد میں ھمارے سرکار اعلی مقام سرور کائنات نے عید کی نماز ادا کی تھی اسی لیے اس مسجد کو ایک سے زا‏ئد اسماء سے پکارا اور یاد کیا جاتا ھے
    اس کے بعد دوسری مسجد جس میں تحیات المسجد کی رکعتین ادا کی گی وہ

    مسجد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہا کے نام سے منسوب ایک بہت ھی خوبصورت مسجد تھی

    مسجد علی میں بھی وھیں فرا‏ئض انجام دیئے گیے یعنی دو رکعت نماز پڑھی اور تادیر دعا يئں بھی مانگی
    کہتے ھیں کہ یہ مسجد اسی جگہ تعمیر کی گی ھے جہآں مولاۓ کائنات کا گھر تھا
    مسجد عمررضی اللہ تعالی عنہا سفید رنگ کی نہایت حوبصورت مسجد تھی یہاں بھی دورکعت نماز ادا کی گی
    اسی مسجد کے قریب مسجد بلال واقع ھے
    نماز کے بعد سارے حضرات کھجوروں کی ھول سیل مارکیٹ کی طرف چلے گیۓ
    جہاں کی حوش شکل وخوش فا‏ئدہ کھجوریں مدینے کے دیگر اسواق سے کم اور بہت مناسب قیمت پربڑي تعداد میں خریدی گیئں
    خریداری چاھیے کجھور کی شکل میں تبرک کی ھو
    یا کوئ اور مناسبت ھو
    خریداری کرتے ھوۓ مرد حضرات بہت خوش تھے
    کافی بڑی مقدار میں یہاں سے سارے قافلے والوں نے کھجوروں کی خریداری کی
    ھم سب بھی اس دوران بس مين بیھٹہ کر کھجوریں کھاتے رھے
    یہ بات تو سب کو پتہ ھے کہ کھجوریں انرجی کا خزانہ ھیں
    یہ فوار ھی بدن میں چستی اور توانائ بھر دیتی ھیں
    جن لوگوں کو شوگر کا مرض تھا میں نے ایک آدھ کھجوریں انکو بھی زبردستی کھلايئں
    اور اس دلیل کے ساتھہ کے یہ ھمارے پیارے نبی کے شہر کی خاص اب وھوا میں پکنے والی کھجوریں ھیں
    اور یہ انسان کو کبھی نقصان نیہں پہنچا سکتی ھیں
    اس کے بس فوائد ھی فوائد ھیں
    کاش ھم کھجوروں پر اور تحقیق کریں اور انکو کسی قیمتی مدن کی طرح دواوں میں شامل کریں
    شربت اور مقویات میں شامل کریں
    اور اس کے غیر معمولی فوائد سے استفادہ کریں

  79. شاھین رضوی نے کہا ہے:
    May 14, 2013 بوقت 12:00 am

    انسان کتنی صدیوں سے کجھوریں سے بے شمار فوائد حاصل کر رھا ھے
    کھجور کا ذکر قران میں بھی ھے
    ھمارے پیارے نبی کھجور اور تربوز ایک ساتھہ کھاتے تھے
    کھجور میں فائبر ھوتا ھے
    یہ ویٹ لوز کرنے والوں کے لیے آیئڈیل پھل بھی ھے اور کھانا بھی
    میں کھجور کو اووٹس میل میں شامل کرکے مزیدار سا ناشتہ بناتی ھون کھجور میں کیلشیم
    پوٹاشیم
    میگنشیم
    ائرن وٹامنز بھی ھوتے ھیں
    اور میں جب بھی اللہ توفیق عطا فرماتا ھے اپنے گھر انے کا اذن عطا کرتا ھے تو میں اپنے ساتھہ بڑی مقدار میں کھجور ضرور رکھتی ھوں
    یہ آپکی بھوک میں کمی کرتی ھے
    کھجور کھانا سنت بھی ھے
    کھجور کھان رحت بھی ھے
    کھجور کھان صحت بھی ھے
    چند دن کھجور کھايئۓ اور اس کے حیران کن فوائد سے مستفید ھویئۓ

    یہ خون پیدا کرتی ہے

    مقوی جگر و معدہ ہے ـ بدن کو فربہ کرتی ہے ـفوری انرجی کے لیے بہترین ھے
    فالج ، لقوہ اور امراض باردہ میں بے حد مفید ہے
    جلی ہوئی کھجور زخمون سے خون بہنے کو روکتی ہے اور زخم جلدی بھرتی ہے ــ خشک کھجور کو جلا کر رکھ لیتے ہیں اور بوقت ضرورت استعمال کرتے ہیں
    کھجور کا تازہ پھل سل ودق کے لئے مفید ہوتا ہے ـ
    گھٹلی کھجور کو رگڑ کر استعمال کرنے دست آنے بند ہوجاتے ہیں
    کھجور گردے اور کمر کو طاقت دیتی ہے اور ریاح ، ورم کو تحلیل کرتی ہے ـ
    ب
    خشک کھانسی اور دمے میں کھجور کا استعمال انتہائی مفید ہے
    اگر دوبلے پتلے لوگ چاہیں کہ موٹے ہو جائیں تو ایک پاؤ کھجور پندرہ روز تک کھا کر بعد میں دودھ پئیں ، ان شاء اللہ صحت مند ہو جائیں گئے ـ

    ھم مدینے المنور ہ کے اطراف کی زیارتوں کا احوال بتاتے کہاں سے کہاں نکل گیے
    بہرحال کجھور ایک بہترین غذا ھے
    ھمارے پیارے نبی سفر میں اپنے ساتھہ کھجور ضرور رکھتے تھے
    اور بہت شوق سے تناول فرماتے تھے اور مدینے کی کھجوریں تو ویسے بھی اپنی کوالٹی کی وجہ سے سارے مسلم ممالک میں بہت مشہور ھیں

    ھمارے قافلے والے کھجورین خرید کر اپنے اپنی خریدی ھوئ کھجوروں کو ایک محفوظ مقام پر رکھہ کر ایک بار پھر تسبح و دعا میں مشغول ھوچکے تھے

    اب ھماری بس جبل الاحد کی طرف جارھی تھی
    اسلام کی دوسری جنگ الاحد پہاڑ کے مقام پر لڑی گی
    یہاں حضور اعلی مقام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عزیز عمو حضرت حمزہ کا مدفن بھی ھے
    جبل الاحد کے بارے میں سنا ھے کہ یہ پہاڑ جنت کا ایک ٹکڑا ھے
    مسجد القبلتین بڑی سادگی مگر بڑی ھی خوبصورتی سے تعمیر کی گی ھے
    یہ پرانے طرز تعمیر پر بنائ گی مسجد ھے اسلام کی تاريخ کی وہ مسجد جہاں سے قبلہ تبدیل کرنے کا حکم ایا تھا
    سفید رنگ کی مسجد القبلتین
    کہ اسی مسجد میں جب کا سارے مسلمان اپنے پاک نبی کے ھمراہ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رھے تھے تو ایک بار نماز کے دوران ھی قبلہ تبدیل کرنے کا حکم آیا

  80. شاھین رضوی نے کہا ہے:
    May 14, 2013 بوقت 12:15 am

    مدینہ المنورہ کی شان تو مسجد النبوی اور روضہ مبارکہ ھے مگر مدینے کی اور بھی مساجد ھیں جن کو خصوصی مقام حاصل ھے
    ھر شہر اور ھر ابادی میں مسجد کی تعمیر کا حکم ھمارے پیارے نبی نے خود دیا تھا
    اور شہر النبی میں بھی بہت مشہور مساجد ھیں جن میں نماز کی ادائيگی کا بہت اجر وثواب ھے

    مساجد جو اللہ کا گھر ھیں
    مساجد جو امن وامن والی جگہ کہی جاتی ھے
    جو مسجد میں پناہ لیتا ھے وہ امان پاتا ھے
    اللہ کا گھر کسی بھی سرژمین اور کسی بھی شہر میں ھو اس مین نماز پڑھنا عین ثواب و سعادت ھے
    تو ھم لوگ بھی مختلف مساجد میں بطور زائر بھی بطور عبادت گذآر بھی وھاں کا حسن انتظام دیکھہ کر خوش ھو رھے تھے
    ھم کتنے خوش نصیب تھے کہ ھم کو اتنے ارام و اطمعینان سے عبادت کے مواقع مسیر تھے
    ھمارے وطن میں تو لوگ مساجد میں نماژ ادا کرتے ھوۓ ڈرتے ھیں
    کیہں دھشت گردی کا شکار نہ ھوجايئں
    کیہں کسی خود کش حملہ میں مر نہ جایئں
    شیطان صفت لوگوں نے مسجد کو خوف کی جگہ بنا دیا ھے مگر مضبوط ایمان والے اپنی جان ھتیلی پر رکھہ کر اللہ کے گھروں میں عبادت کی شمع روشن کرتے ھیں

  81. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 14, 2013 بوقت 9:21 am

    ھمارے پیارے نبی کا دیدار کرنے والا شہر مبارک مدنیہ المنورہ
    ھمارے پاک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پرنور چہرہ اقدس سے نور روشنی اور نورانی کرنین کشید کرنے والا شہر مدینہ اسی لیے
    منوررھتا ھے
    کہ اس شہر جمال کو سرور کائنات کے رخ زیبا کی زیارت کا شرف ملا ھے
    اس لیے یہاں کی ھر شے میں انکھوں کو خیرہ کرنے والا حسن ھے
    دن و رات کے ھر لمحے میں یہاں خیر وبرکات کی بارش برستی ھے
    ھم سب مدینے میں قائم مساجد کی زیارات کرتے اور میں تو زیادہ تر اپنے سفری نوٹ بھی تحریر کرتی جارھی تھی
    اور میں نے اپنی ایک دوست سے بھی درخواست کی تھی کہ وہ بھی اپنے پاس اور ساتھہ نوٹس بنا کر رکھے
    امام بخاری کا گھر
    مسجد بخاری
    وہ مقام جہاں آںحضرت کی اونٹنی قصوی رک گی تھی یہ مقام حضرت ایوب انصاری کے گھر کے قریب ھی ھے
    مدینہ میں بہت سارے کنویں بھی دیکھے
    وہ کنوآں جہاں خاتم النبین کی انگشتری گر گی تھی
    وہ کنوآں جو حضرت عثمان غنی نے خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا تھا
    وہ کنواں جس کے پانی سے ھمارے اقا و شافع روز محشر کے جسد مبارکہ و طاھرہ کو غسل دیا گیا تھا
    غزوہ خندق کے مقام پر سات عدد مساجد تعیمر کی گیئں تھیں

    ھم نے مساجد میں تحیات المسجد کی دو رکعت نماژيں پڑھیں
    مسجد جمعہ مسجد النبوی کے جنوب میں واقع ھے
    مسجد عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ
    مسجد الشہداء
    مسجد ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ
    مسجد بلال رضی اللہ تعالی عنہ
    مسجد قباء اس کی تعمیر کا خشت اول ھمارے پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا تھا اور یہ مسجد النبوی سے تقریبا 3 کیلو میٹر کے فاصلے پر ھے
    مسجد الشمس اس مسجد میں مولاۓ کائنات کی نماز اس وجہ سے قضا ھوئ تھی کہ ھمارے آقا انکے زانوۓ مبارک پر سر رکھے سو رھے تھے اور آپ نے حضور صلی اللہ وسلم کو جگانا منا سب نہ سمجھا
    اور جب آپ بیدار ھوۓ تو سارا ماجرہ جاننے کے بعد سورج کو حکم دیا کہ دوبارہ طلوع ھوجاۓ اور سورج آپکے حکم پر دوبارہ لوٹ آیا

    مسجد عمر رضی اللہ تعالی عنہ
    مسجد علی علیہ اسلام
    مسجد القبلتین اس مسجد میں نماز کی ادايئگی کے دوران تبدیل قبلہ کے احکام آۓ کہ اب کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز کی ادائ کی جاۓ گی تغیر و تبدیل قبلہ سے قبل مسلمان یروشلم میں واقع القدس شریف کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے
    مسجد مسترہ
    مساجد کی رونق نمازیوں سے ھوتی ھیں
    اور ھم کو ھر مساجد میں نمازیوں کی کثیر تعداد ملی انکی وجہ سے مساجد اور بھی خوبصورت نظر آرھی تھیں
    دینا بھر میں بلین کے قریب مسلمان دن میں پانچ بار کعبہ المشرفہ کی جانب منہ کرکے نماز پڑھتے ھیں
    نمآز اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا کا سب سے بہترین طریقہ ھے

    نماز سے قلب کی طہارت ھوتی ھے
    نماز سے دل کو تقویت ملتی ھے

    نماز مومن کی شان ھے

  82. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 14, 2013 بوقت 9:48 am

    نماز مومن ومسلم کو اللہ سے قریب کرتی ھے
    اور اللہ کا قرب قسمت والوں کو نصیب ھوتا ھے
    اللہ کا قرب عام لوگوں کو اولیا اور اللہ کے مقرب ترین بزرگوں کی فہرست میں شامل کردیتا ھے
    نماز صرف
    چہرے اور نفس کی طہارت کا باعث نیہں ھوتی بلکہ روح کو بھی سرشار کرتی ھے
    نماز جنت میں جانے والے ھر دروازے کی کنجی ھے
    پانچ وقتوں کی نماز سے اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کی جاسکتی ھے

    ھمار پیارے نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے اسلام اور دیگر مذاہب کے مابین نماز کو حد فاصل قرار دے کر نماز کی اہمیت کو واضح فرما دیا
    کیونکہ دنیا و عقبیٰ کی کامیابی اور کامرانی کا سرچشمہ نماز ہی ہے
    ۔ ارشادِ الٰہی {قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ فِيْ صَلَاتِھِمْ خَاشِعُوْنَ}
    ’’مومن لوگ فلاح پاچکے ہیں
    وہ(مومن)جن کی نمازیں خشوع و خضوع کےساتھ ادا کی گئیں۔‘‘
    نماز انسان کو صداقت و شرافت،
    صبر و قناعت، تسلیم و رضا، حلم و بردباری،
    تواضع و انکساری، عدل وانصاف، وفاشعاری
    احسان مندی جیسے مکارمِ اخلاق سے آراستہ و پیراستہ کرتی ہے

    {إنَّ الصَّلٰوۃ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِ}’’بے شک نماز برے کاموں اور فحاشی سے روکتی ہے

    أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ.
    ’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے
    وہ (سب) اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں اور پرندے (بھی فضاؤں میں) پر پھیلائے ہوئے
    (اسی کی تسبیح کرتے ہیں)، ہر ایک (اللہ کے حضور) اپنی نماز اور اپنی تسبیح کو جانتا ہے۔‘

    قرآنِ حکیم میں 92 مقامات پر نماز کا ذکر آیا ہے۔ اور متعدد مقامات پر صیغہ امر کے ساتھ (صریحاً) نماز کا حکم وارد ہوا ہے۔ چندآیات ملاحظہ ہوں :

    1. وَأَقِيمُواْ الصَّلاَةَ وَآتُواْ الزَّكَاةَ وَارْكَعُواْ مَعَ الرَّاكِعِينَO

    (البقره، 2 : 43)

    اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ۔

    اﷲ عزوجل نے اپنے نہایت برگزیدہ پیغمبرحضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا :

    وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ وَكَانَ عِندَ رَبِّهِ مَرْضِيًّاO

    ’’اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے اور وہ اپنے رب کے حضور مقامِ مرضیّہ پر (فائز) تھے (یعنی ان کا رب ان سے راضی تھا)‘‘

    خشوع نماز کا مغز ہے

    مومن کا شعار صرف نمازی ہونا ہی نہیں بلکہ نماز میں خشوع اختیار کرنا ضروری ہے کیونکہ خشوع نماز کا مغز ہے اور اس کے بغیر اقامتِ صلوٰۃ کا تصور بھی ممکن نہیں۔ اور اگر نماز میں آداب کی رعایت اور لحاظ نہ ہو تو پھر مثال یوں ہوگی جیسے کسی کی آنکھیں تو ہوں لیکن بصارت نہ ہو، کان تو ہوں مگر سماعت نہ ہو لہٰذا نماز کی روح یہ ہے کہ ابتدا سے آخر تک خشوع کا غلبہ ہو اور حضورِ قلب قائم رہے کیونکہ دل کو اﷲ تعالیٰ کی طرف متوجہ رکھنا اور اﷲ تعالیٰ کی تعظیم و ہیبت کی کیفیات کو اپنے اوپر طاری رکھنا ہی نماز کا اصل مقصد ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا :

    وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي

  83. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 16, 2013 بوقت 8:20 am

    الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف المرسلين، وعلى آله وصحبه أجمعين
    ھمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر لاکھوں دورد و سلام
    اّپکی اعلی نسبی پر لاکھوں دورد و سلام
    آپکا حسب و نسب بھی سب سے اعلی و ارفع
    آپ اپنے تعارف میں ارشاد فرماۓ ھیں
    أنا محمد بن عبد الله
    بن عبد المطلب
    بن هاشم
    بن عبد مناف
    بن قصي
    بن كلاب
    بن مرة
    بن كعب
    بن لؤي
    بن غالب
    بن فهر
    بن مالك
    بن النضر
    بن كنانة
    بن خزيم
    بن مدركة
    بن إلياس
    بن مضر
    بن نزار
    بن معد
    بن عدنان
    بن أد
    بن أود
    بن الهميسع
    بن يشجب
    بن نبت
    بن جميل
    بن قيدار
    بن إسماعيل
    بن إبراهيم
    بن تارح
    بن ناحور
    بن أشوع
    بن أرعوش
    بن فالخ
    بن عابر
    وهو هو والنبي صلى الله عليه وسلم
    بن شالخ بن ارفخشد بن سام بن نوح بن لمك بن متوشلخ بن أخنوخ وهو إدريس بن أزد بن قينان بن أنوش بن شيث بن آدم .
    مصطفی جان رحمت پر لاکھوں دورد و سلام

  84. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    May 16, 2013 بوقت 12:15 pm

    جزاک اللہ۔سبحان اللہ۔ سفر حجاز مسافر حجاز کے قلم سے ایک الگ انداز سے آگے بڑھ رہا ہے۔اجرکم اللہ

  85. سید اکمل حسین نے کہا ہے:
    May 18, 2013 بوقت 4:13 pm

    ماشا اللہ خوب سے خوب تر سفر کیا آپ نے شاہیں رضوی صاحبہ خدا اس سعی کو قبول کرے اور جس انداز سے اپ سفر نامہ تحریر کر رہی ہیں اگر اس کو کتابی شکل دی جاءے تو ایک عمدہ کام ہو گا اور سفر حجاز پر جانے والے کےلءے رہنما ءے مستبقل بھی ہو گا یہ کام تو کسی مُلا نے بھی نہیں کیا بہت سے افراد سفر حجاز پر جاتے ہیں مگر صرف اور صرف کاروبار کے لءے جزاک اللہ اپ نے تو قلم کے نوک پر سفر حجاز کروا دیا ہے خوب سلامت رہیں۔

  86. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 19, 2013 بوقت 7:08 am

    محترم المقام جناب صفدر ھمدانی آپ جیسے بلند پایہ صاحب قلم مستند اور معتبر اساتذہ کے قلم سے نکلے یہ الفاظ تو میرے لیے بہت بڑي سند ھے اور میرے لیے اوکسیجن کی طرح حیات نو بھی ھے جزاک اللہ
    محنت تو میں ابھی بھی کررھی ھوں
    مگر اب بھرپور متوجگی کے ساتھہ لکھونگی
    ھر اس احساس کو احاطہ تحریر میں لاونگی جو میں نے ان خوبصورت و بابرکت شہروں میں محسوس کیا
    مگر پھر میں سوچتی ھوں میں خوشبوۓ زلف سرور کائنات کو کس طرح لفظوں میں محفوظ کرونگی اور وہ لفظ کہاں سے لاونگی مجھے ڈھونڈنے سے بھی وہ لغت حسن وجمال نیہں ملتی جو مجھے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے رخ تابان و شاداں کے بے نظیر و بے مثال حسن وجمال کو بیان کرنے میں مدد فراھم کریگی
    اللہ تعالی باب علم و شہر علم کے در سے لفظوں کی خیرات عطا کردے آمین ثم آمین

  87. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 19, 2013 بوقت 7:40 am

    برادر عزيزی سید اکمل حسین اسلام علیکم خوش رھیے سلامت رھیں
    میری تو ان دنوں بس ایک ھی دعا ھے جو میں سوتے جاگتے مانگتی ھوں
    کہ اللہ پاک مجھے نیکی اور سچائ کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ آور میں کوئ ایسا کام کرجاوں کہ مرنے کے بعد لوگ مجھے اچھے لفظوں سے یاد کریں شاید یہ سفر نامہ کتابی شکل میں آۓ گا تو میرے نام کو مرنے کےبعد زندہ رکھے گا
    آپ نے میری ھمت افزائ کی ھے تو میری بھی آپ سے ایک خواھش ھے ایک درخواست ھے ایک التماس ھے
    انشا اللہ اس سفر نامہ کا سرورق آپ ھی بنايئنگے
    اور انشا اللہ جون میں محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کویت تشریف لارھے ھیں تو انشا اللہ تعالی پھر آپ سے گفتگو بھی ھوگی
    آپ کی حوصلہ افزائ نے شاھین کوقلمی پرواز کے لیے بال وپر عطا کردیۓ ھیں
    جزاک اللہ
    جزاک اللہ
    ممنون ھوں برادر عزيزی

  88. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 19, 2013 بوقت 8:21 am

    شان مدینہ المنورہ بیان کرنے کے لیے جو علمی قابلپیت درکار ھے میں اس سے سراسر محروم ھوں
    مگر دل و دماغ عشق محمدی سے معمور ھے جب پاک نبی کا نام لیکر ھاتھوں کو آنکھوں سے مس کرتی ھوں تو پھر بہت دور تک روشنی کے جگنو میرے ھمراہ رھتے ھیں
    یہ روشنی کبھی چہل چراغ بنتی ھے
    یہ روشنی کھبی قندیل بنتی ھے
    یہ روشنی میرےاندر بھی اجال دیتی ھے
    مدینہ شہر خوش رنگ و خوش صفات ھے
    مدینہ المنورہ روشن نظر وفکر لوگوں کا شہر ھے
    مدینہ النمورہ قرنوں سے علوم کا گہوارہ ھے
    مدینہ النمورہ ایمان افروز شہر ھے
    یہ شہر صدیوں سے تہذیب و تمدن کا شہر ھے
    مدنیہ المنورہ دینا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ھے
    ایسے مقدس شہر جن کی شہرت ھر زمانہ و ھر صدی
    ھر قرن میں پاک نبی سے نسبت کی وجہ سے محترم رھی ھے
    یہ ھمارے پیارے نبی کے اخلاق حمیدہ کی برکت کی وجہ سے ایک مثالی و بہترین مدن بن گیا
    ھمارے پیارے نبی صلی اللہ
    علیہ وآلہ وسلم کے حلم و زھد و تقوی کی وجہ سے
    عرب کے وحشی درندے آدمیوں کو صفا قلب انسان بنادیا ھے
    آپ نے انسا نیت کو ظلمات سے نکال کر ایمان و اسلام کی روشنی کا سورج زمین پر آگایا
    آپ نے صدیوں سے لڑنے والے قبائل کو امن وسلامتی کی نوید سنائ
    الف سلام و صلاۃ علیک یا حبیب اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم
    آپکے بابرکت وجود کی بدولت کفر و شرک کی تاریکی دور ھوئ
    مدینہ جو عالم کا ایک گم نام شہر تھا آپ کے بابرکت وجود کی بدولت عالم میں سارے شہروں کا نگینہ بن گیا
    مدینہ شہر مدینہ سے شہر مدینہ المنورہ بن گیا
    ایک ایسی سرژمین جہاں چاند ستارے کہکشاں سبھی زمین کے اس خطہ مبارکہ پر ھمہ وقت نثار ھونے کو تیار رھتے ھیں
    یہاں کوثر و تسنیم کی نہروں کی روانی ھے
    یہاں آب ژم ژم سے وضو کرنے کی سہولت و سعادت موجود ھے
    یہاں دو رکعت نماز ادا کرنے کا بے حد اجر وثواب ھے
    اس شہر کی حفاظت فرشتے کرتے ھیں
    یہاں سید الملایئک حضرت جبریئل تشریف فرماتے ھیں
    مدینہ شہر رحمت العالمین ھے
    شہر شفاعت ھے

  89. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 20, 2013 بوقت 7:43 am

    حسبی ربی جل اللہ مافی قلبی غیر اللہ
    نور محمد صلی اللہ لاالہ الا اللہ
    اول و آلاخر ھے اللہ ظاھر و باطن ھے اللہ
    حافظ و ناصر ھے اللہ لا الہ الا اللہ
    حسن عقیدت و محبت کا تقا ضہ ھے کہ دل میں حب اللہ وحب محبوب رب العالمین لہو میں روانی سے گردش کرتی رھے
    جیسے اللہ تعالی کا نام لینے سے نیکیوں کا سلسلہ شروع ھوجاتا ھے اسی طرح محبوب رب کونین کا اسم گرامی ادا کرنے سے نیکیوں کے بحر اذکار رواں ھوجاتے ھیں
    اللہ تعالی اور اس کے خاتم النبین کا تذکرہ کرتے ھوۓ زبان میں شیرینی گھل جاتی ھے
    ایسی حالت میں انسان اگر اپنے اوپر غور کرے تو وہ اسی عبادت و ذکر کے ھموار راستے پر چل کر اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرلیتا ھے
    دراصل اللہ تعالی کا ذکر اسکی انگنت نعمتوں کا شکر
    رب عرش العظیم کی تسبح و تہلیل
    راحت و آرام اور نعمت کی فراوانی میں شکر
    تکلیف و پریشانی میں صبر و شکر
    مومن کی پہچان ھے
    کہ اسکو خوشی منجانب اللہ ملتی ھے تو شکر پروردگار ادا کرتا ھے
    مومن کو تکلیف پہنچتی ھے تو اللہ کا شکر ادا کرتا ھے
    اللہ تعالی نے ھماری راہ نمائ کے لیے بہترین الابنیاء و مرسلین و خاتم النبین کو خلق کیا
    بہترین کتاب عطا کی
    بہترین دین عطا کیا
    بہترین ھدایت عطا کی
    ھم کو بہترین امت کی خلعت عطا کی
    ھم کو پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت و عقیدت سے سرشار دل و دماغ عطا کیا
    ان تمام تر نعمت ھاۓ دارین پر جنتا بھی شکر ادا کیا جاۓ کم ھے
    واقعی اللہ کا شکر ادا کرنے کو عمر خضر درکار ھے
    کہ دنیاوی زندگی کا ھرلمحہ اللہ کا شکر ادا کرنے گذرنے کا لطف ھی کچھہ اور ھے
    اللہ تعالی شکر ادا کرنے والوں کی نعمتوں میں اضافہ کرتا ھے
    میں شہر مدینہ المنورہ میں اپنا خالی دامن پھلاۓ کھڑی تھی
    میں وھاں خیرات ونعمات کے حصول کے لیے اپنا کشکول پھیلاۓ کھڑی تھی
    مدنیہ المنورہ میں اللہ کی رحمت وبرکت کا نزول ھمہ وقت جاری رھتا ھے
    فرشتے اس شہر مبارکہ کی حفاظت کے لیے شب و روز حارس بننے میں فخر ومباھات کرتے ھیں
    اسی مدینہ میں ایسے بھی گھر تھے ایسے بھی بیوت الشرف تھے کہ فرشتوں کا سردار روح الامین اس گھر کا دربان بننے میں فخر کرتا
    اس شہر بے مثال کی فیوض و برکات کا کیا کہنا
    یہاں آکر انسان گم سم ھوجاتا ھے
    یہاں آکر عاصی بھی تا‏ئب ھوجاتا ھے
    انسان ھمشیہ عمردرازی کی دعا کرتا ھے مگر مدینہ المنورہ میں آکر انسان مرجانے کی خواھش کرتا ھے
    مدینہ منورہ کیسا فسوں بھرا شہر ھے

  90. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 21, 2013 بوقت 8:34 am

    لاکھوں دورد وسلام ھمارے پیارے نبی پاک پر
    لعل گہر بھی ھیں نثار طیبہ کی خاک پاک پر
    مسجد النبوی میں خواتین کے داخلے کے اوقات کار
    صبح اشراق و الفجر سے لیکر نماژ ظہر تک خواتین مسجد میں ٹہر سکتی ھیں اور اس دوران میں خواتین روضہ مبارکہ کے قریب سے زیارت بھی کرسکتی ھیں

    صلاۃ ظہر سے صلاۃ عصر تک خواتین مسجد النبوی میں نماز کی ادائیگی کے بعد ذکر وسلام و تسبح وتہلیل کر سکتی ھیں
    عشا کی نماز سے رات 12 بجے تک
    عموما دیکھا گیا ھے کہ خواتین مسجد النبوی میں آتے ھی نماز کے بعد قرآن کی تلاوت کرتی ھیں تسبج یا کوئ دعا کی کتاب ھاتھوں میں لیے بیھٹی رھتی ھیں یا اکثر تھکن کے با‏عث وھیں سو جاتی ھیں
    میں نے بہت کم خواتین کو دیکھا ھے جو مسجد کی طرز تعمیر یا مسجد کے حسن و جمال کی طرف متوجہ ھوتیں ھیں
    مسجد البنوی کا گوشہ گوشہ قابل دید ھے
    مجسد النبوی کے درودیوار کی خوبصورتی دیکھہ کر انسان گم سم رہ جاتا ھے
    مسجد کی منقش چھت جو خود کار نظام کے تحت کھلتی ھے تو ایک دم سے روشنی بڑي بے تابی سے اندر داخل ھوجاتی ھے لگتا ھے جیسے ھزاروں فرشتوں نے شہاب ثاقب کو چھت سے مسجد النبوی کے اندر اجال دیا ھو
    یہاں آتے ھی سورج کی ھر کرن آفتاب وماھتاب بن جاتی ھے
    یہاں ھر نعمت کی کثرت ھے

    مسجد میں صفائ بہت ھی منظم طریقے سے کی جاتی ھے
    یہاں پینے کے لیے آب زم زم بھی موجود ھے
    بہت ٹھنڈا اور برکت والا پانی جو جسم وجاں کے لیے اکسیر بھی ھے
    جو تشنہ لب زائرین کے لیے آب بقا بھی ھے اور آب حیات بھی آب شفا بھی اور آب بہشت بھی
    اس پانی میں آپکو کوثر و تسنیم کی لطاقت و تازکی ملے گی
    خواتین کی بڑي تعداد روضہ مبارکہ کی زیارت کے لیے بیقرار نظر آتی ھے اور وھاں پہچنا اور وھاں جاکر نماز کی ادائيگی بھی جوے شیر لانے اور پانے سے کم نیہں ھے
    وہ مقام جو عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ کا مرکز ھوتاھے
    مصلیٰ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

    مسجد النبوی کی جس محراب میں موذن و امام نماژ و اذان کی ادائیگی کرتے ھیں محراب عثمانی کہلاتی ہے۔ یہ محراب مصلیٰ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
    سے چند قدموں آگے کی جانب ہے۔
    ھمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام پر کھڑے ھو کر نماز پڑھایا کرتے تھے۔ مصلیٰ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک نہایت خوبصورت محراب اس طرح بنائی گئی ہے کہ وہاں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والا شخص جب سجدہ کرتا ہے تو اس کی پیشانی عین اس جگہ ٹکراتی ہے جہاں ھمارے پاک بنی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدمیں مبارک ہو ا کرتے تھے اور اس مقام کو اب محراب کی دیوار سے ڈھانپ دیا گیا ہے اللہ اس مقام کی فضلتیں سبحان اللہ
    وہ کتنے خوش نصبیب ھیں جن کو یہ شرف عظیم ملا کہ انکو محراب النبی میں نماز کی آدائیگی کا خوش نصبیب موقع ملا اور ظاھر ھے کہ خواتین وھاں تک نیہں جاسکتی ھیں تو یہ انعاما ت صرف حضرات کو ھی ملتا ھے

  91. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 21, 2013 بوقت 8:59 am

    مسجد النبوی تو خود بہشت بریں ھے
    حنت الفردوس ھے
    کوئ آسمانی عبادت گاہ ھے
    کوئ صدیوں پرانی مقدس جگہ ھے

    ریاض الجنتہ مسجد النبوی کا نہایت ہی متبرک مقام ہے اور اس بہشتی مقام پر قریب قریب مصلیٰ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، منبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
    ، چبوترہ صفہ،
    محراب تہجد
    اور چھہ انتہائی تاریخی ستون موجود ھیں
    مسجد النبوی میں ایک بہت ھی خاص جگہ ریاض الجنتہ ھے اور یہ وہ جگہ ھے جو کعبہ کے بعد سب سے محترم اور بےمثال مقام ھے
    ریاض الجنتہ سے مراد جنت کا باغ ہے۔ گویا یہ بہشت کا باغ ھے جس نے اس باغ بہشت کا نظارہ کیا گویا اس نے جنت کا نظارہ کیا
    روضہ اقدس کی مغربی جدار سے متصل مصلیٰ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک کا ایک چھوٹا سا قطعہ ارضی ریاض الجنتہ کہلاتا ہے۔

    یہ دراصل وہ مقام مبارکہ ھے ہےجہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دیناوی زندگی میں اسلام کے بعد ھر روز کم ازکم پانچ بار صلوۃ الفرض کی امامت کرنے اس قطعہ پر چلتے ہوئے مصلیٰ مبارک تک پہنچا کرتے تھے
    ۔ اللہ تعالیٰ کو با ربار اپنے محبوب کے پیروں تلے آنے والے اس خطہ سے اتنی محبت ہے کہ آپ نے اسے جنت کا باغ قرار دیا۔
    مسجدالنبوی شریف کا یہ ٹکڑا اس وقت حاجیوں اور زائرین کی توجہ مر کز بنا رہتا ہے۔ہرحاجی یا زائر کی خواہش ہو تی ہے
    کہ یہاں صلوٰ ۃ الفرض یا کم از کم صلوٰۃ النفل ادا کر کے جنت کے باغ میں نماز ادا کرنے کا اعزاز حاصل کرے۔ریاض الجنتہ کیونکہ پوری مسجد النبوی کا سب سے متبرک حصہ ہے لہٰذا اس کی تزئین و آرائش بالکل مختلف انداز میں کی گئی ہے تا کہ زائرین کو اس حصہ کو شناخت کرنے میں کوئی دشواری نہ ہو اس خطہ کے تمام ستون بھی پوری مسجد میں موجود ستونوں سے قطعی مختلف ہیں۔

    چبوترہ صفہ
    مسجد نبوی میں اگر باب جبرائیل سے داخل ھوں تو بہت قریب ھی دو متوازی چبوترے نظر آتے ہیں
    ان کے ارد گرد سنہری جالی
    لگی ہوئی ہے۔اسی مقام کو صفہ چبوترے کا نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ عربی میں صفہ در حقیقت چبوترے کو کہتے ہیں
    اللہ کا شکر و احسان ھے کہ مجھے کئی سال پہلے مسجد النبوی میں واقع اس چبوترے پر نماز کی آدائيگی اور تادیر وھاں بھٹنے کا شرف بھی ملا ھے اب وھاں ریگزین کی عارضی دیوار کھڑی کردی گی ھے اور وھاں خواتین کا جانا تقریبا ناممکن ھے

    خواتین بہت زیادہ شور کرتیں ھیں اور ان مقام مقدسہ تک پہچنے کے لیے بہت زیادہ دھکم پیل بھی کرتیں ھیں
    اسی لیے ان پر بہت زیادہ سختیاں کی جاتیں ھیں
    اور جو یہاں آکر سختی برداشت کرتا ھے اس پر اللہ کا خاص کرم ھوتاھے
    یہ صابروں کی بہشت ھے

  92. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    May 21, 2013 بوقت 11:32 am

    حسن عقیدت و محبت کا تقا ضہ ھے کہ دل میں حب اللہ وحب محبوب رب العالمین لہو میں روانی سے گردش کرتی رھے
    جیسے اللہ تعالی کا نام لینے سے نیکیوں کا سلسلہ شروع ھوجاتا ھے اسی طرح محبوب رب کونین کا اسم گرامی ادا کرنے سے نیکیوں کے بحر اذکار رواں ھوجاتے ھیں
    اللہ تعالی اور اس کے خاتم النبین کا تذکرہ کرتے ھوۓ زبان میں شیرینی گھل جاتی ھے
    …………………….
    واہ واہ
    اللہ اکبر

  93. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 21, 2013 بوقت 1:16 pm

    محترم المقام آغائ جناب صفدر ھمدانی صاحب اسلام علیکم
    اس حسن توجہ کے لیے سپاس گذار ھوں
    اللہ پاک آپ کو بحق خامس آل عباء صحت تندرستی عمر خضر عطا فرماۓ آمین ثم آمین

  94. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 21, 2013 بوقت 1:32 pm

    ارض وسماء کو رب نے
    اپنے پیارے نبی
    حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے بنایا
    جب عرش سے ژمین پر
    نور رسول آیا
    ظلمت کدے کو گویا
    ماھتاب سے سجایا
    جس راستے سے گذرے اسے
    کہکشاں بنایا

    خوشبو مہک اٹھی تھی ماحول جگمگایا
    ذکر نبی کچھہ ایسے لب پر ھمارے آیا
    صلی اللہ کا نعرہ جبریئل نے لگایا

    شاھین رضوی

    رسول اکرم صلى الله عليه وسلم کی اتباع ، اطاعت اور محبت کے علاوہ، وہ حقوق جو اﷲ تعالیٰ نے آپ کی امت پر مشروع کیا ہے ، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ آپ صلى الله عليه وسلم پر درود وسلام بھیجیں ، جیسا کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :

    اِنَّ اﷲ َ وَمَلَآئِکَتَہ یُصَلُّو نَ عَلَی النَّبِیِّ ےيآ اَےّيہَا الَّذِينَ آمَنُو ا صَلُّو ا عَلَیہِ وَسَلِّمُو ا تَسلِیمًا الاحزاب : 56

    اللہ اور اسکے فرشتے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شب و روز ھر ساعت ھر گھری درود و سلام بھیجتے ہیں اس لئیے اے ایمان والوں تم بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پہ .درود و سلام بھجتے رھو

  95. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    May 21, 2013 بوقت 10:59 pm

    شاہین عزیزم.تحفہ دعا کے لیئے سپاس گزار ہوں

  96. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 25, 2013 بوقت 2:57 pm

    یا محمد نورمجسم یا حبیبی یا مولائ
    تصویر کمال محبت تنویر جمال خدائ
    مدینہ المنورہ جو سارے شہروں کا سردار شہر ھے
    مجھے بھی ھر کلمہ گو مسلمان کی طرح اس شہر سے بہت بہت بہت محبت وعقیدت ھے
    جب میں سال گذشتہ دوبار عمرے کے لیے آئ تو اس دوران بہت ساری اسیی جگہہوں پر جانے کا اتفاق ھوا جن سے ھماری قلبی اور روحانی طور پربہت گہری نسبت و وابستگی تھی

    ھمارے گھر میں ھر نوچندی جمعرات کو جناب سیدہ کی کہالی سنی جاتی تھی مجھےبجّپن سے یہ مجعزہ یاد تھا اور شادی سے قبل میں ھی تقریبا ھر نوچندی جمعرات کو یہ مجعزہ بیان کرتی تھی اور اس واقعہ سے مجھے بہت ھی عقیدت تھی
    برسوں بعد جب میں عمرے کے لیےمکہ جانے سے قبل مدینہ المنورہ بغرض زیارات آئ تو مجھے اس مقام کی زیارت کا بھی موقعہ ملا جہاں پاک بی بی کی آمد اور انکے مجعزے ک سنکر بہت سارے یہودی مرد و زن کا مسلمان ھوۓ تھے
    میں بہت دیر تک اس مقام پر کھڑی رھی جہاں ایک لڑکیوں کا مدرسہ قائم ھے
    سبجان اللہ سیرت فاطمہ ایک ایسی روشن قندیل کہ آج بھی دینا انکے نقش قدم پر چلنے میں فخر محسوس کرتی ھے
    انکی زندگی کا ھر گوشہ منور و پاکیزہ تھا اور تاقیامت رھے گا
    مجھے بارھا خواب میں بی بی کی زیارت کا شرف ملا ھے
    وہ نقاب پوش معظمہ جو اپنے لعل کا پرسہ لینے ھر جگہ آتی ھیں

    انکی کمر شدت مصائب سے جھک چکی تھی ایک ھاتھہ میں عصاء اور دوسرے ھاتھہ میں اپنے دونوں بچوں کا ھاتھہ تھام کر چلتی تھیں

    وہ مظلوم بی بی جو اٹھارہ برس کی عمر میں مصائب کی کثرت کی وجہ سے عصا لیکر چلتی تھیں
    جو روز بیت الحزن نامی امام بارگاہ میں اپنے بابا اور مادر گرامی کو یاد کرکے روتی تھیں
    آج بھی اھل محبت و عقیدت جنت البقع کے پاس سے گذرے ھوۓ یا مرد حضرات جن کو وھاں جانے کی آزادی و اجازت ھے انکی آنکھوں میں آنسو آجاتے ھیں
    کہ یہاں رونا آل بیت سے محبت کی پہان ھے
    یہاں بیت البکاء ھے

  97. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    May 30, 2013 بوقت 3:35 pm

    کا

    میں مدینہ المنورہ کی سکون آفریں معطر فضاوں میں روتے شکر ادا کرتی اپنے رب کی بارگاہ میں سر بسجود تھی
    میرا دل رک رھا تھا
    پاک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہر مبارک سے رخصت کی گھڑی آگی تھی
    مدینہ المنورہ جیسی جنت سے جانے کا کس کا دل چاھتا ھے
    کون خشک آنکھوں سے اس شہر منور کو الوداع کہتا ھے
    کاش میں مسجد البنوی کے بیرونی فرش کا وہ حصہ ھوتی اور پھر ھر زا‏ئر اس انیٹ پر پاوں رکھہ کر گذرتا
    کاش میں حرم مدنی میں اڑنے والے کبوتر ھوتی
    کاش میں آھوۓ حرم ھوتی
    کاش میں کوئ ابابیل ھوتی
    مگرمیں تو بال وپر سے محروم ایک ایسی روح تھی جو ھربار یہاں اس تمنا کے ساتھہ آتی تھی کہ اب یہاں سے نیہں جاونگی
    مگر موت بھی تو اپنے وقت پر ھی آتی ھے

  98. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    June 4, 2013 بوقت 12:35 pm

    مدینہ المنورہ ھمارے دلوں میں بسا ھوا شہر ھے
    دل و نظر سے ھمشیہ قریب تر
    آج ھم اس شہر کرامت سے رخصت ھو رھے تھے
    اور ھم سب ایک دوسرے سے اپنے آنسو چھپاۓ ھر منظر کو اپنی آنکھوں میں بسنانا چاھتے تھے
    دعا کرتے کہ یہاں پھر آنا نصیب ھو
    دعا کرتے کہ یہاں آکر پھر یہاں سے جانا نصیب نہ ھو
    بھلا

    بہشت سے کون واپس جانا چاھتا ھے
    یہ تو ایسی جنت تھی کہ یہاں کیے گیے ھر اچھے اعمال و پابندی صلاۃ کا اجر ھزار گنا

    اپنی آنکھوں میں اس شہر خوش نظر کی تصاویر بساۓ
    سب صاف ستھرے اجلے اجلے
    ایک عجب سا ملال اور اداسی
    اور ایک پرجوش امید بھی یکایک دامن دل کو مضبوطی سے پکڑے ساتھہ ھی چلی
    مریم کہہ رھی تھی
    میں ساری دینا کو بتانا چاھتی
    کہ اس شہر مبارکہ کا
    در رسالتماب کا فقیربھی
    بادشاھوں سے زیادہ غنی ھے

    گنبد خضرا اپنی پوری آب وتاب سے جگمگا رھا ھے

  99. شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
    June 4, 2013 بوقت 2:43 pm

    ھم سب اقاۓ نام دار خیر المرسلین کی بارگاہ میں دورد و سلام کے نذرانے پیش کرکے اب اگلے اھم ترین مرحلے کی فکر میں مبتلا ھو گیۓ تھے

    مریم نے کہا کہ سنا ھے رونے سے انسان کی عمر طویل ھوتی ھے اور جس حساب سے آپ روتی ھیں تو اس طرح آپ دینا کی معمر ترین خاتون کا اعزاز ضرور حاصل کرنیگی
    رونا تو سنت ھے
    ھر الانبیا و مرسلین نے گرئیہ کیا
    بیت الاحزان کی ابتداء تو حضرت یعقوب علیہ اسلام نے رکھی تھی
    جہاں وہ اپنے بیٹے کے فراق میں روتے تھے
    رونا تو زندگی کی علامت ھے
    رونا محبت و انس کی پہچان ھے
    جب انسان بے یاور ومدگار ھوجاتا ھے تو بے ساختہ آنسو نکل پڑتے ھیں
    عجب ھے ان آنسووں کا قصہ
    عجب کہانی ھے آنسووں کی
    انسان غم میں بھی روتا ھے
    انسان خوشی میں بھی روتا ھے
    میں نے کیہں پڑھا تھا

    رونے سے Stress ميں کمي ھوتی ھے

    ان بے ساختہ نکل جانے والے آنسووں ميںکچھہ ایسے مادے پائے جاتے ہيں
    جس سے انسان ميں ذہني دباو ميں کمي آتي ہے

    : ہائي بلڈ پريشر، ہارٹ اٹيک
    السر،
    نروس بريک ڈاون، ميگرين، شوگر، ڈپريشن آنسووں سے ان جذباتی بیماریوں کا بھی علاج کیا جا سکتا ھے

    میں نے ایک روضہ رسول پر ایک آبدیدہ زائرہ کے آنسو بھی اپنے رومال میں محفوظ کیے تھے
    وہ آنسو جو حب محبوب کردگار میں بہے اسکو تو محفوظ کرنا چاھیے
    روتے ھو ے مدینہ المنورہ کو الوداع کیا
    ھم کو اپنے احرام کی تیاری بھی کرنی تھی
    ھم سب کو مدینے ھی سے احرام باندھنا تھا
    میں اپنی ساتھیوں کی مدد کررھی تھی
    کہ اب ھمارے پاس کن چیزوں کا ھونا لازمی ھے
    سبھی اپنے احرام ساتھہ لاۓ تھے اور جو چیزیں کم تھیں وہ ھم نے مدینہ ھی سے خرید لی تھیں
    میں نے ھمشیہ ان اماکن مقدسہ پر اسکارف دوپٹہ
    حجاب کے نیچے ھمشیہ ٹوپی پہنی
    اس سے آپ کے سرکے بال کھبی نظر نیہں آتے

  100. شاھین رضوی نے کہا ہے:
    June 7, 2013 بوقت 11:57 pm

    احرام کی تیاریآں مکمل ھوچکی تھیں سب کو اب مدینہ ھی سے احرام پہنکر بس میں بھٹنا تھا میرا دل تو چاھتا تھا کہ جیسے ھزاروں دیوانے مدینہ آکر غا‏ئب ھوجاتے ھیں میں بھی کسی ایسے گوشے یا کونے یا خفیہ مقام ومکان میں چھپ جاوں جہاں کسی کی نظر نہ ّپڑے
    اور میں بس مدینہ کی خاک میں رل مل جاوں
    دشت نجد میں کہیں میرا مدفن بنے
    حجاز کی خاک میں میری لحد بنے
    میں صرف ایسا سوچ ھی سکتی ھے مگر اس دن مدنیہ سے روانگی کے وقت مجھے ایسا ھی لگا جیسے میرا دل اور دماغ وھیں مدینہ المنورہ میں رہ گیا ھے اور مدینہ چھوڑے کا غم مجھے افسردہ اور غم زدہ کرگیا ھے میں ساتھہ ساتھہ
    یہ بھی سوچ رھی تھی کہ جب میرے آقا علیہ اسلام نے اس جہان فانی کے باشندوں کو اھل زمین کو الوداع کہا ھوگا تو اھل مدینہ کی غم سے کیا حالت و کیفیت ھوئ ھوگی

    فراق النبی میں اھل محبت نے کتنے آنسو بہاۓ ھونگے
    پاک نبی کی محبت تو ھر مسلمان کا سب سے قیمتی اثاثہ ھے
    ھم سب کے طیب و طاھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
    جو امت مسلمہ ھی کے نیہں بلکہ ساری کائنات کے سب سے اعلی و ارفع و بلند پایہ قا‏ئد و راہ نماتھے
    صادق و پاکیزہ ایسے کہ دشمن بھی آپکی ایمانداری کا لوھا مانتا

    آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیغمبرانہ حیات کو دو ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ھے
    اپکی مکی زندگی کے تقریبا 12 سال
    آپکی مدننی زندگی کے 10 سالوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود
    تمام تر خوبیوں اور کمالات کا جامع تھا
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
    دور بینی ،
    حسن فراست

    ، ّ پختگی فکر
    ، حق پسندی کا بلند مینارہ تھے

    اپکی تحریک ھے تہذیب کی روشن کتاب
    آپ نے لایا سما جی اور معاشی انقلاب
    جس کے پرتو نے کیا ملت کو چندے افتاب
    زندگی کے سامنے ھے زندگی کا انتساب
    انتساب زندگی ھے یا ردا ھے نور کی
    مرحبا صلی علیہ اے ائنہ اے روشنی

    کوئ بھی سائل کبھی لوٹا نیہں ھے خالی ھاتھہ
    وقت چاھے دن کا ھو یا ھوچکی ھو آدھی رات
    بخش دینے پر سدا امادہ رھتی ھے وہ ذات
    لوگ اس در سے اٹھے دامن میں لیکر کائنات
    اس کو کہتے ھیں سخاوت ایسے ھوتے ھیں سخی
    مرحبا صلی علیہ اے ائنہ اے روشنی

    آپ کے ھر نقش پاء میں ھے نہاں اک معجزہ
    خامشی اک معجزہ ، طرز بیاں اک معجزہ
    آپ کا صرف یقین کیا ، ھے گماں اک معجزہ
    آپکی یہ مختصر عمر رواں اک معجزہ
    روح کے دامن تک ا پہنچی ضیاۓ شمبنمی
    مرحبا صلی علیہ اے آئنہ اے زندگی
    آپ کی ذات بابرکت کی وجہ سے مدینہ اج بھی منورہ تھا
    جہاں جہاں آپکے قدم مبارک پہنچے وھاں کے آثار و برکات آج بھی آھل دل محسوس کرتے ھیں
    اپ روزاولال و آلاخر تک کے لیے نبی اخر الزمان بنکر آۓ تھے
    آپ خاتم النبین کی خلعت فاخرانہ و شاھانہ پہنکر آۓ
    آپ کی وجہ سے شہر مدینہ کو ایک مقام خاص مسیر آیا
    آپ صلی اللہ علیہ واۂہ وسلم نے فرمايا
    مدینہ میری ھجر ت و سکونت کا مقام ھے
    مدینہ کو شہر ایمان بھی کہا گیا ھے
    مدینہ المنورہ کی پاک گلیوں کے اطراف میں فرشتے اسکی پاسبانی کرتے ھیں مدینہ المنورہ کی
    نکہت و نور کی قضايئں میں رحمت و برکت و نور کی بارش میں زائرین جب ایک پاکیزہ احساس لیکر کسی سجل ساعت میں
    ان پاکیزہ گھڑیوں کو یاد کرتا ھے تو وہ مبارک ساعتیں شبستان خیال میں اجالا کرتی ھیں

    آج شب معراج بھی ھے سال گذشت
    میں نے یہ شب روضہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے گذاری تھی خاص کر میری نگاھوں کا مرکز و محور باب جبريئل علیہ اسلام تھا
    آج بھی شب معراج کی پاکیزہ گھڑی میں جب میں رات کے اس پہر مدینہ النمورہ میں گذاری ھوئ ساعتوں کو رقم کررھی ھوں
    مکہ اور`مدینہ یہ وہ دو نورانی اور بہشتی شہر ھیں جہاں رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی ربانی آتی تھی
    یہاں رات ودن عرشی مخلوق کا ھجوم رھتا ھے
    اور آج تو وہ خوبصورت نورانی اور ضیا بخش رات ھے
    جب ھمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت تبلیغ ابھی جاری تھی کیہں کوئ میرے اقا پر ظلم کرتا تھا
    کیہں کو‏ئ میرے اقا کے زخموں پر مرھم رکھتا تھا
    کیہں کوئ کامیابی ملتی تھی
    کیہں دل برداشتہ ھوتے تھے
    کسی لمحے آل مطلب دلجوئ کرتے بس ایسی ھی کشمکش کے دوران شب المعراج کا واقعہ پیش آیا
    ھمارے پیارے بنی اپنے جسم مبارک سمیت اپنی آسمانی سورای براق پر سوار ھوۓ اور حضرت جبریئل علیہ اسلام کی معیت میں مسجد الحرام سے بیت المقدس تک سیر کرائ
    اسی پاکیزہ و بابرکت رات آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بیت المقدس سے عرش پر لے جایا گیا
    اپ جب عرش پر تشریف لے گیے تو ھر اسمان پر آپکی ملاقات مختلف الانبیاء و المرسلین سے کرائ گی

    آپ کی سب سے پہلے عرش پر حضرت آدم علیہ اسلام سے ملاقات کرائ گی
    آپکی دوسرے عرش پر حضرت یحیی بن ذکریا اور حضرت عیسی بن مریم سے ملاقات کرائ گی
    تیسرے آسمان پر آپکی ملاقات حضرت یوسف سے ھوئ
    چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ اسلام سے ملاقات ھوئ
    پانچویں آسمان پر آپکی ملاقات ھارون بن عمران سے ملاقات ھوئ
    آپکی چھٹے آسمان پر حضرت موسی بن عمران سے ملاقات ھوئ
    اس کے بعد آپکو ساتویں آسمان پر لے جایا گیا
    جہاں آپکی ملاقات حضرت ابراھیم سے ھوئ آپ نے انکو سلام کیا
    سارے الانبیاء نے آپکو مبارک باد دی آپکی نبوت کا اقرار کیا
    اس کے بعد آپ کو سدرۃ المنتہی تک لے جایا گیا
    پھر آپکے لیے بیت المعور کو ظاھر کیا گیا
    پھر اللہ سبحان وتعالی کے دویار میں پہچایا گیا
    آپ اللہ تعالی کے اتنے قریب تھے کہ دوکمانوں کا فاصلہ رہ گیا تھا
    اس وقت اللہ تعالی نے وحی فرمائ اور 50 وقت کی نمازيں فرض کیں
    پھر آپ حضرت موسی کے پاس سے گذرے تو انھوں نے پو چھا کہ اپکو اللہ تعالی نے کس چیز کا حکم دیا
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پچاس نمازوں کا
    حضرت موسی نے فرمایآ تمھاری امت اس کی طاقت نیہں رکھتی
    اپنے پروردگار کے پاس جايئے اور نمازوں میں تخفیف کا سوال کیجیے
    یہاں تک کہ اللہ تعالی نے صرف پانچ نمازیں باقی رکھیں
    شق الصدر کا واقعہ بھی اسی شب پیش آيا

  101. شاھین رضوی نے کہا ہے:
    June 8, 2013 بوقت 12:30 am

    رجب کی 27 ویں شب کو یہ روح پرور واقعہ پیش آیا معراج کمالِ معجزاتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اسی واقعے نے انسان کو اسمان کی تسخیر کا سبق دیا اور فضاء کو تسخیر کرنے کا جذبہ مہمیز کیا

    آختر شام کی آئ ھے فلک سے اواز
    سجدہ کرتی ھے سحر جس کو وہ رات ائ ھے
    رہ یک گام ھے ھمت کے لیے عرش بریں
    کہہ رھی ھے مسلمان سے یہ آج کی شب
    اللہ تبارک و تعالی کا لاکھہ احسان و لاکھوں واری شکر ھے کہ
    اس خالق و کونین نے مجھہ عاصی کو یہ توفیق عطا فرمائ
    اس بات پر اپنے رب کا کتنا ھی شکر ادا کروں کم ھے
    آج مدینہ المنورہ کا احوال تمام ھوا
    اب انشا اللہ مکہ کا احوال بیان ھوگا
    شب معراج فرشتوں کا قصیدہ سنتے
    نور کے لہجے میں اوصاف حمیدہ سنتے
    اے خوشا ھوتے جو نعلین سے مس زرہ اگر
    ھم بھی جبريئل سے اقا کا قصیدہ سنتے
    محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کی خوبصورت رباعی شب المعراج کے پرنور موقعہ پر

  102. شاھین رضوی نے کہا ہے:
    June 8, 2013 بوقت 1:05 am

    تھی جبیں تر وہ ندامت کا پسینہ نکلا
    ھم جیسے موت سمجتھے تھے وہ جینا نکلا
    در پہ اقا کے جو پہنچے تو یہ محسوس ھوا
    دیکھو جنت سے حسیں شہر مدینہ نکلا
    محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کے قلم کا معجزہ

جواب لکھیں




مضامین (آر ایس ایس) اور تبصرے (آر ایس ایس).
 عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل: رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں