محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کے حکم کی تعمیل میں اپنے سفرحجاز کے تاثرات

بسم اللہ الرحمن الرحیم
بسم اللہ توکلت علی اللہ ولاحول ولاقوۃ الا بااللہ العلی العظیم
لبیک اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَۃَ لَکَ وَ الْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَک

ترجمہ :حاضر ہوں اے اﷲ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں۔بے شک حمد تیرے ہی لائق ہے ساری نعمتیں تیری ہی دی ہوئی ہیں بادشاہی تیری ہی ہے اورتیرا کوئی شریک نہیں۔
اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا
حج و عمرہ کرنے والا
اللہ تبارک وتعالی کے مہمان ھوتے ھیں
اللہ پاک جب انکو اپنے گھر میں اپنے پاک پاکیزہ گھر میں آنے کی سعادت
عطا فرماتا ھے تو خود بخود راہ کی مشکلیں آسان ھوجاتیں ھیں
اللہ پاک کے گھر کے زائرین جو کچھہ صدق دل سے نیک نیتی سے اللہ تعالی سے طلب فرماتے ھیں
اللہ پاک جو ھماری شہ رگ سے بھی قریب ترین ھے ھم کو عطا کرتا ھے
وہ بے آسرا کو
کسی مدد طلب کرنے والوں کو کبھی مایوس نیہں کرتا ھے
کیونکہ عمرہ یا حج تو خالص اللہ کی خوشنودی کی خاطر کیا جاتا ھے تو جیسے ھی زائر ارادہ کرتا ھے اللہ پاک اسباب سفر بھی غیب سے میہا کردیتے ھیں
25 صفر کو ایک مجلس کے آختتام پر میں نے دعا کی اور ارادہ کیا کہ اللہ پاک امسال بھی سال گذشتہ کی طرح مجھے اپنے گھر آنے کی توفیق عطا فرماۓ اور باربار مجھے وھاں آنے اور پہچانے کے اسباب میہا کردے آمین ثم آمین
جانے قبولیت کی کونسی گھڑی تھی کہ سال گذشتہ کی طرح
اس بار بھی ھرکام معجزاتی طور پر پورے ھونے لگے
زاد سفر
ویزہ
آفس سے چھٹی
احرام
احترام سفر
دعاۓ سفر
اللہ پاک میں کیسے شکریہ ادا کروں
اللہ پاک اس عنایت پر میں کیسے اپنے رب کا شکریہ ادا کروں
اس بار تو سراسر معجزہ ھی تھا مکہ مشرفہ ومدینہ منورہ جانے کا خواب پھر تعبیر میں ڈھل رھا تھا
جیسے ھی سفر کی تیاریاں مکمل ھويئں
میرے پاوں تلے زمین کی جگہ نرم بادل آگیے قدم زمین پر نیہں کیہں اور تھے
میں اپنی خوش بختی پر نازاں
خوشی و مسرت سے منا جات پڑھنے لگی
میں چلی میں مدینے چلی
میرے ھمراہ بادصبا بھی چلی
بیکلی مجھکو لیکر مدینہ چلی
چوم لوں میں مدینے کی ھرایک گلی
لیکر دامن میں سب کی دعايئں چلی
میں مدینے چلی
میرے سارے کام اتنی آسانی سے ھوتے چلے گے جیسے درجنوں لوگ میری مدد کررھے ھیں اور واقعی اللہ پاک غیب سے مدد فراھم کرتے ھیں
میرے ساتھہ امی کی دعايئں بھی تو تھیں
گو میں نے سال گذشتہ ان کے ساتھہ عمرہ کرتے ھوۓ کہا تھا
اب ھم دنوں یہاں آۓ تو ساتہھ ھی آئنگے
مگر امی امسال طبعیت کی خرابی کی بناء پر میرے ساتھہ نہ آسکیں
میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا
امی کا میری جان سے پیاری والدہ کا
میری دینا کی سب سے قیمیتی شے میری ماں کا بھی عمرہ ادا کرونگی
مجھے دعاوں میں لطف و سرور ملنے لگا میرا دل بس اڑکر مکہ ومدینہ پہنچنے کا خواب دیکھنے لگا
بحمداللہ
اللہ کا لاکھوں بار شکرھے کہ راقمہ اس سے قبل بھی کئی بار حج اور عمرے کی سعادت حاصل کرچکی ھے مگر ھربار ایک نئی کیفیت سے دوچار ھوتی ھوں
میں نے سفر نامہ حجاز لکھنے کا ارادہ تو سال گذشتہ کیا تھا
مگر اپنی ازلی کاھلی کی بناء پر اس بامقصد تحریر کو التوآء میں ڈالتی رھی اس خوف سے کہ میری تحریر میں ابھی پختگی نیہں آ‎ ئ ھے
نہ اتنی استعداد نہ اتنی قابلیت
نہ
کوئ لیاقت
نہ اتنا علم مجھے میری کم علمی اور کم مائيگی کا احساس بھی سفرنامے کو لکھنے میں آڑے آتا رھا کہ ابھی میں اپنی ان روحانی کیفیت کو رقم کرنے کے قابل نیہں ھوئ ھوں مگر آج
میں نے اپنے مرشد ومشفق من محب گرامی محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کی اپنے سفرنامے کے بارے میں ایک تحریر پڑھی تو بے آختیار قلم اٹھایا اور لکھنا شروع کردیا ھے محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کی ممنون ھوں کہ انکے حکم کی تعمیل کررھی ھوں آگر آپکا خلوص اور ڈاکٹر نگہت نسیم جیسی میری مسیحاء اور غم گسار کی محبت اور تعاون نہ ھوتا تو میں کھبی بھی ایک لفظ لکھنے کے قابل نہ ھوسکتی تھی میں اس حسن توجہ کے لیے اپنے ان کشادہ قلب اور فراخ دل دوستوں کی ممنون و متشکر ھوں
اس سفر نامے میں میرے 2012 کے دو عمرے اور 2013 کا عمرے اور اسکی تفصیل وکیفیت شامل ھیں

عمرے کی غرض سے 21 مارچ 2013 کی دوپہر کو گھر
سے چلی اپنا اسباب سفر کم اور دوسرں کو آرام دہ سفر اور تمام مشکلات سے محفوظ رکھنے کی دعا کے ساتھہ نماز پڑھی اور دعاۓ سفر بھی پڑھ کر اپنے آپکو اللہ کی حفظ وامان میں دینے کی دعا پڑھ کر اپنے آپ پر پھونکی
یوں
اللہ کی مدد الانبیاء کے قدموں کی مٹی کی خوشبو اھل بیت کی خوشی اور خوشنودی کا خیال بھی پیش نظر رھا اس کائنات کا سب سے معتبر و مقدس ترین مقام حرمین شریفین کی رونق و مہک کو اپنی روح و دل میں بسا کر
اکیلے پن کے ھر احساس کو مٹا کر ایک نئے حوصلے اور شوق ووارفتگی کے ساتھہ اسباب سفر میں دعاوں کو احتیاط سے رکھا کہ یہ سفر میں قدم قدم پر کام آتی ھیں
امی کی
بہنوں بھايئوں عالمی آخبار کے بہت نایاب اچھے اور خالص دوست احباب
کولیگز مہربانوں کی دعاوں کے ساۓ تلے ھم مدینے چلے
حسب معمول اپنے ساتھہ کافی تعداد میں کھانے پینے کی اشیاء اور منرل واٹر کی بہت ساری بوتلیں بھی ساتھہ تھیں تاکہ دوران سفر اگر کسی کو ضرورت پڑے تو کسی کے کام آجاۓ گی سنتے ھیں کہ مسافروں کی دعا رد نیہں ھوتی ھے
بس ایک دعا ایک خواھش بھی ھم رکاب ھوگی
کاش میرا تعلق ایک ایسے قبیلے سے ھوتا جو تاقیامت زائرین کو پانی پلاتا رھتا
کاش میں ھر ایک کے کام آسکتی
کاش میری ھر سانس کسی زائرہ کے کام آسکے
جاری ھے

102 Responses to “محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کے حکم کی تعمیل میں اپنے سفرحجاز کے تاثرات”

  1. شاھین رضوی says:

    رجب کی 27 ویں شب کو یہ روح پرور واقعہ پیش آیا معراج کمالِ معجزاتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اسی واقعے نے انسان کو اسمان کی تسخیر کا سبق دیا اور فضاء کو تسخیر کرنے کا جذبہ مہمیز کیا

    آختر شام کی آئ ھے فلک سے اواز
    سجدہ کرتی ھے سحر جس کو وہ رات ائ ھے
    رہ یک گام ھے ھمت کے لیے عرش بریں
    کہہ رھی ھے مسلمان سے یہ آج کی شب
    اللہ تبارک و تعالی کا لاکھہ احسان و لاکھوں واری شکر ھے کہ
    اس خالق و کونین نے مجھہ عاصی کو یہ توفیق عطا فرمائ
    اس بات پر اپنے رب کا کتنا ھی شکر ادا کروں کم ھے
    آج مدینہ المنورہ کا احوال تمام ھوا
    اب انشا اللہ مکہ کا احوال بیان ھوگا
    شب معراج فرشتوں کا قصیدہ سنتے
    نور کے لہجے میں اوصاف حمیدہ سنتے
    اے خوشا ھوتے جو نعلین سے مس زرہ اگر
    ھم بھی جبريئل سے اقا کا قصیدہ سنتے
    محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کی خوبصورت رباعی شب المعراج کے پرنور موقعہ پر

  2. شاھین رضوی says:

    تھی جبیں تر وہ ندامت کا پسینہ نکلا
    ھم جیسے موت سمجتھے تھے وہ جینا نکلا
    در پہ اقا کے جو پہنچے تو یہ محسوس ھوا
    دیکھو جنت سے حسیں شہر مدینہ نکلا
    محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کے قلم کا معجزہ

Leave a Reply