مسلمانوں میں مفاہمت

جسقدر سعودی عرب ماضی میں پاکستان کی مالی مدد کرتا رہا ہے اس کے پیشِ نظر پاکستان کو اس بات کا اختیار نہیں ہے کہ وہ اسوقت جبکہ سعودی بادشاہت دباؤ میں ہے اس کی مدد نہ کرے۔ اپنے محسن کی مدد کرنا یقیناً ہمارا فرض ہے۔ لیکن اتحادِ بینالمسلمین کی ہمیں سخت ضرورت ہے۔ ترکی اور پاکستان اس وقت اس پوزیشن میں ہیں کہ یہ دونوں طاقتور ممالک اس وقت ملکر سعودی عرب اور ایران کے مابین ایک متحرک اور پُر عزم ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کروائیں۔ سعودی عرب کو سب سے بڑا ڈر اپنے آئل کا ہے۔ انکی آئل فیلڈز جنوبی عراق سے جُڑی ہوئ ہیں جہاں کے عوام سعودی بادشاہوں سے خوش نہیں ہیں۔ ان پر سعودی بادشاہوں نے ہمیشہ ظلم ہی کیا ہے۔ تُرک بھی ان بادشاہوں سے نالاں رہے ہیں کیونکہ انہوں نے انگریزوں سے ملکر خلافتِ عثمانیہ کو ختم کروادیا اورخود بادشاہ بن بیٹھے۔ بہرکیف ترکوں نے اس وقت بڑا دل کرکے اتحادِ بینالمسلمین کا بیڑہ اُٹھایا ہے۔ پاکستان مسلمانوں کا سب سے زیادہ طاقتور ملک ہے۔ ترکی اور پاکستان اسوقت ملکر ایران اور سعودی عرب کو گلے ملواسکتے ہیں۔ یہ مسلمانوں پر سب سے بڑا احسان ہوگا ۔ ایرن کو یہ یقین دہانی کروانے کی ضرورت ہے کہ وہ ان بادشاہتوں میں کوئ ماخلت نہیں کریگا ۔ جبکہ سعودی بادشاہوں کو بھی دوسرے مسالک میں مداخلت سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔

Published by

ظفر جعفری

Geologist and Petroleum engineer

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *