ہم کہاں ہیں

ایرانی، تُرک یا عرب اپنی ایرانی، تُرک یا عرب تاریخ پر فخر کرتے ہیں۔ جبکہ ہم بجائے تاریخِ پاکستان کے مسلمانوں کی تاریخ پر فخر کرتے ہیں۔ اس پر عربوں کا جواب ہوتا ہے کہ یہ تو ہماری تاریخ ہے تُم کدھر سے آگئے؟ ہم پاکستانی ہونے پر فخر نہیں کرتے ؟ ہمارے پاس پنجابی، سندھی، بلوچ، پختون، سرائیکی، کشمیری، اُردو کلچر تو ہے لیکن پاکستانی کلچر کیا ہے ، یہ بڑا مشکل سوال ہے۔ اس کا جواب شاید آپ کے پاس ہو۔

Published by

ظفر جعفری

Geologist and Petroleum engineer

4 thoughts on “ہم کہاں ہیں”

  1. اسلام علیکم سائھیو
    بڑی مدت بعد بلاگ پر کچھ لکھا دیکھا جو خوشی کا باعث ہے ۔
    محترم بھائی پاکستان کا کلچر انتہائی خوبصورت ہے کہ وہ ان تمام کلچروں سے مل کر بنا ہے جن کا آپ نے نام لکھا ۔لیکن ہم نے ان کلچروں کو چھوڑ کر اس میں انگریزی کلچر کو ٹھونس دیا اور اس کو بد نما بنا دیا ۔اگر ہم اپنی ان روایات سے جڑے رہتے جو ہمارے حسین کلچر کا حصہ تھیں تو شاید آج ہم اس اخلاقی تنزلی کا شکار نہ ہوتے جس کا شاخسانہ ہم ہر خبر میں دیکھ اور سن رہے ہیں ۔
    جواب مشکل ہے لیکن نا ممکن نہیں ۔
    اگر ہم اپنی روایات کو پھر سے اپنا لیں تو کسی کو ہمارے لئے برا سوچنے کا موقعہ نہیں ملے گا ۔اس کے لئے آپ کو صرف اپنے ماضی میں جانے کی ضرورت ہے جہاں ہمارے بڑوں کی شان ہی الگ تھی جو ہم نے بھلا دی ہے ۔وہ بھی ان ہی تمام کلچر کا مجموعہ تھی جس کا حسن سارے جہاں‌میں تھا ۔
    میں نے تبصرھ کر کے اپنا حصہ ڈال دیا آپ سب سے بھی گزارش ہے کہ بلاگ کو پھر سے آباد کریں ۔
    آپ سب جہاں بھی ہیں اللہ آپ کو خوش رکھے اتنی فرصت ضرور نکالیں کہ اس صفحے کو پھر سے زندہ کر دیں‌۔
    دعا گو
    عالم آرا

  2. جعفر بھائ اسلام علیکم
    بہت دنوں بعد بلاگ پر آنے اور لکھنے کا موقعہ ملا ھے
    آپ درست کہتے ھیں
    ابھی ایک خبر نے مجھے بھی بہت افسردہ کیا ھے
    جنت مکانی محسن پاکستان مصطفی علی ھمدانی مرحوم و مغفور کے لیے غیر شائستہ زبان استعمال کی گی ھے ھم اسکی شدت سے مذمت کرتے ھیں
    آزادی کا اعلان سنانے والے عظیم انسان جناب مصطفی ھمدانی صاحب کی اھمیت و احترام تو ھر ایک پر فرض ھے یہ لوگ ایک فرد نیہں ادارہ ھیں ،، ایسے ادارے جنکی تشکیل میں صدیوں لگتی ھیں انھوں نے ریڈیو پاکستان کے لیے جو بے لوث خدمات سرانجام دیں
    مگر ھم تو محسن کو بھولنے والی قوم ھیں نہ اپنی تاریخ کی حفاظت کرتے ھیں کوئ جب بھی چاھے کسی کے اشارے پر ھماری تاریخ میں ترممیم کردیتاھے
    کیا تاریخ ھمارا یہ جرم معاف کریگی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *