تا رکینِ وطن، اس صدی کا المیہ ،،مجھے میرے گھر میں رہنے دو

آج صبح سی بی سی نیوز میں ایک دلخراش مووی د یکھی،، بہت ننھا سا ایک خوش پوش بچّہ ساحل ِ سمندر پر اوندھا پڑا ہے اور سمندر کی لہریں بے نیازی سے سے اس کے اوپر سے گزر رہی ہیں اور پھر کچھ حکومتی مدد گار آتے ہیں اور اس فرشتے کی ننھے سے جسد کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا لے جاتے ہیں
یہ شام سے براستہ سمندر یورپ جانے والے ایک خاندان کا بچّہ ہے جو سمندر ہی میں اجل کا شکار ہو گیا ،،دنیا کے سامنے آج ایک سوال ہے
کیا میں اپنے گھر میں نہیں رہ سکتا تھا؟
زائرہ بجّو
مسی ساگا
کینیڈا

Published by

زائرہ بجو

i'm from Pakistan Karachi , now a days live in Mississauga Ontario Canada

4 thoughts on “تا رکینِ وطن، اس صدی کا المیہ ،،مجھے میرے گھر میں رہنے دو”

  1. ایک دو نہیں ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن سمندری ہجرت میں ہیں اب تک ہزاروں سمندر برد ہو چکے ہیں ،
    انسانی اسمگلر جس کشتی کے زریعہ سودا کرتے ہیں اس میں 20 افراد کی گنجائش میں کم سے کم ستّر افراد کو جانوروں کی طرح ٹھونس کر ضرورتمندوں کی مطلوبہ جگہ کے بجائے کسی اور جگہ بنا ملاّح کے چھوڑ دیتے ہیں ۔۔

    اور پھرکہانیا ں جنم لیتی ہیں ،،مردہ مسافروں کی،یہ ننھا مسافر بھی شام کی ابتر صورتحال سے گھبرا کر نکلنے والے ایک خاندان کا حصّہ تھا جو اپنے ایک اور ننھّے ساتھی کے ہمراہ سمندر کے پانیوں میں ڈوب گیا ،، اس کی ننھی سی لاش تیر کر دنیا کو دکھا گئ جنگ ظالم ہے چاہے وہ کی جائے یا مسلّط کی جائے

  2. اس وقت صورتحال انتہائ سنگین ہے جبکہ تباہ کن جنگ نے جنگ زدہ علاقوں میں انسانیت کا چہرہمخدوش کر دیا ہےلاکھوں لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر دیار غیر کا رخ کر رہے ہیں جہاں راستہ ان کے لئے ہولناک اور پر خطر ہے

  3. نو سو برس اپنی جائے پیدائش میں رہنے کے بعد ہم یقیناً اپنے گھر میں نہ رہ سکے اور خانہ بدوش بن گئے۔

    عمرِ عزیز کٹ گئ جوششِ اضطراب میں
    رات تو ہوگئ یہاں دیکھئے ہو سَحَر کہاں

  4. میں اور میرے بچے خود کو خانہ بدوش اسلئے کہتے ہیں۔ کہ پانچ برس کے سن میں میں جان بچاکر1948 میں آگرہ سے کراچی آیا۔پھر 1964 لندن، 1967 میں کیلگری، 1968 میں پٹس برگ، 1972 میں کولمبس، 1977 میں کینٹکی، 1980 میں اوکلاھوما سٹی، 1990 میں اسلام آباد، 1994 میں کیلگری، 1995 میں ہیوسٹن اور پھر 1995 ہی میں اوکلاہوما سٹی آگیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *