نعت

نعت

مری شان کعبہ، مری جاں مدینہ
وہاں پر مرا دل، وہاں پر سفینہ

خدا کا کرم ہے یہ درسِ محمد
سکھا ہمیں زندگی کا قرینہ

مزہ پھر بھی آیا ہے جنت کا مجھکو
جُھلستی ہوئ دھوپ شہرِ مدینہ

کروڑوں دُرود و سلام اُن کے اوپر
جنہوں نے سکھایا مجھے مر کے جینا

گنہ گار تھا ، ہے یہ ظرفِ محمد
بلایا ظفر کو بھی شہرِ مدینہ

Published by

ظفر جعفری

Geologist and Petroleum engineer

11 thoughts on “نعت”

  1. میں سجدہ واں کرتا اگر جانتا میں
    جہاں پر گرا آپ کا تھا پسینہ

  2. زلف سلجھائ تو اُلجھ میں گیا
    اس سے راہِ فرار کیسے ملے

    زلفِ سنوار دوں پل میں
    یہ مجھے اختیار کیسے ملے

  3. زیرِ پا میرے آسمان بھی ہو
    یہ مجھے اختیار کیسے ملے

  4. چیروں بڑھکر میں ڈھال سورج کی
    یہ مجھے اختیار ،کیسے ملے

  5. عمر بھر ڈھو ن ڈتا رہا جسکو
    وہ دلِ بیقرار ،کیسے ملے

  6. چیردوں بڑھ کے ڈھال سورج کی
    یہ مجھے اختیار ، کیسے ملے

  7. یہی ورد شام وسحر میرے آقا
    مدینہ، مدینہ ،مدینہ، مدینہ

    نبیوں میں افضل ہیں شاہِ مدینہ
    وہی حرفِ آخر ،وہی چشمِ بینہ

  8. میں سجدہ واں کرتا اگر جانتا میں
    جہاں بھی گرا آپ کا تھا پسینہ

    تو کر میری خواہش یہ پوری خدایا
    رہوں میں وہاں پر جہاں ہے مدینہ

  9. گلہ اپنوں سے ہوتا ہے شکایت اپنے کرتے ہیں
    شکایت جو نہیں کرتے وہ اپنے ہو نہیں سکتے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *